رمضان اور توبہ


رمضان میں لوگ عبادت کی کثرت کیا کرتے ہیں۔ یہ ایک اچھی بات ہے۔ مگر رمضان کا حقیقی شعور جس شخص کو حاصل ہوگا وہ کثرتِ عبادت سے پہلے کثرتِ استغفار اور توبہ سے اپنے عمل کا آغاز کرے گا۔ کیونکہ توبہ ہی نیکی کی زندگی کا درست نقطۂ آغاز ہے۔
روزے کاقانون یہ ہے کہ انسان صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک کھانا پینا چھوڑ دے اور تعلقِ زن و شو سے باز رہے۔ یہ ایک انتہائی سخت پابندی ہے۔ بدقسمتی سے لوگ اس پابندی کو اختیار تو کرتے ہیں، مگر اس کی اصل روح سے ناواقف رہتے ہیں۔ اس قانون کی اصل روح یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو اپنے رب کی اطاعت کا اتنا پابند بنالے کہ وہ تعمیلِ ارشاد میں اپنی بنیادی ضروریات تک کو چھوڑ ڈالے۔
روزے کی حالت میں جب جب بھوک اسے بے حال کرے اور وہ پھر بھی کھانے پینے کی چیزوں کی طرف نظر اٹھاکر نہ دیکھے۔ پیاس کی شدت گلے میں کانٹے ڈالے تب بھی وہ پانی اور مشروبات کی طرف مڑ کر نہ دیکھے تو انسان کو سوچنا چاہیے کہ وہ کیا کررہا ہے اور کیوں کررہا ہے؟ جب انسان اس شعور کے ساتھ روزہ رکھے گا تو اسے لازماً احساس ہوگا کہ اس نے رب کی رضا کی خاطر اتنے مشکل کام تو کرلیے۔ باقی جو کچھ وہ کہتا ہے، اس کی پابندی کرنا اس سے کہیں ہلکا اور آسان کام ہے۔ یہ احساس اسے آمادہ کرے گا کہ وہ اپنی زندگی کا جائزہ لے۔ یہ دیکھے کہ کن کن مواقع پر اس سے رب کی نافرمانی کا ارتکاب ہورہا ہے۔ ان کو چھوڑنے کا عزم کرے۔ پھر سچے دل سے رب سے توبہ کرے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگے۔
لوگ روزے میں کثرتِ عبادت کی طرف توجہ دیتے ہیں حالانکہ پہلے انھیں کثرتِ استغفار اور توبہ کی طرف توجہ دینا چاہیے۔ اس کے بعد ہی کثرتِ عبادت انسان کو کچھ فائدہ دیتی ہے۔ روزہ اور ارادہ
ہر روزے دار یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ روزہ ایک مضبوط ارادے کے بغیر نہیں رکھا جاسکتا۔ روزے کی حالت میں انسان صبحِ صادق سے غروبِ آفتاب تک بھوکا پیاسا رہتا ہے۔ یہ کیفیت اپنے اندر بیک وقت تین چیزیں رکھتی ہے۔ پہلی یہ کہ انسان اپنی پسند اور خواہش کی چیزوں سے رک جاتا ہے۔ بھوک میں پیاز اور چٹنی بھی انسان کو لذیذ کھانوں سے بڑھ کر محسوس ہوتی ہیں، مگر روزے دار خود پر قابو رکھتاہے اور ہر طرح کا کھانا اور مشروبات دسترس میں ہونے کے باوجود ان سے خود کو روکتا ہے۔ یہ مضبوط ارادے کے بغیر ممکن نہیں۔
دوسری چیز ضرورت ہے۔ کھانا پینا انسان کی بنیادی ضرورت ہے جس کے بغیر وہ نقاہت محسوس کرتا اور معمولات کی انجام دہی میں اسے مشکل پیش آنے لگتی ہے۔ مگر روزے دار اپنی قوتِ ارادی کو استعمال کرکے نقاہت جھیل کر بھی خود کو کھانے پینے سے دور رکھتا ہے۔ تیسری اور سب سے بڑی چیز وہ تکلیف اور اذیت ہے جو بھوک اور پیاس کو برداشت کرنے سے ہوتی ہے۔ مگر ایک دفعہ پھر روزے دار اپنے ارادے کی مضبوطی کی بنا پر موسم اور بھوک و پیاس کی مشقت اٹھاکر بھی ایک ماہ تک روزے کی عبادت پر ڈٹا رہتا ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ایک ماہ تک اپنی خواہشات، ضروریات اور سخت مشقتوں کے سامنے ڈٹ جانے والا یہ روزے دار رمضان کے فوراً بعد اپنی اس مضبوط قوت ارادی کو بھول جاتا ہے۔ وہ معمولی نوعیت کے گناہ، خواہشات، شیطانی ترغیبات کا شکار ہوجاتا ہے۔ تاہم اگر ایک روزے دار رمضان کے مہینے میں یہ فیصلہ کرلے کہ جس قوتِ ارادی کے بل پر اس نے روزے کی مشقت کو جھیلا ہے، اس کو استعمال کرکے وہ رمضان اور اس کے بعد ہر گناہ چھوڑ دے گا تو بلاشبہ انسان کی قوتِ ارادی کے لیے یہ ایک معمولی بات ہے۔ اگر رمضان میں یہ بات کسی کو حاصل ہوگئی تو بلاشبہ رمضان میں اس نے جنت کی کامیابی یقینی طور پر حاصل کرلی۔
By Rehan Ahmed Yousfi

Advertisements

One response to this post.

  1. May Allah bless you. The problem with the Muslims of this sub-continent is that people neither have been guided properly nor r interested to increase their knowledge in Islam by either reading the Glorious Quran or the Prophets’ sayings that they may learn the significance of the month of fasting. The masses have been thought wrongly that this is the only month where if you do good one will have multiple benefits throughout the year irrespective of whatever he/ she does the whole year.

    جواب

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s