شب قدر۔قرآن و حدیث میں


القرآن۔
"ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل (کرنا شروع) کیا۔اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ شب قدر؟شبِ قدر (کی عبادت) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اس (رات) فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیں۔یہ (رات) طلوعِ فجر تک (سراسر) سلامتی ہے۔(سورہ القدر ۹۷ : ۱-۵)
احادیث
۱۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب آخری عشرہ آجاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا تہہ بند مضبوط باندھتے (بہت زیادہ مستعد ہو جاتے) رات کو خود جاگتے اور گھر والوں کو بھی جگاتے۔( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1898)
۲۔ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی ایماندار ہو کر، ثواب جان کر شب قدر میں قیام کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 34)
۳۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ لوگوں کو شب قدر بتانے کے لئے نکلے، مگر (اتفاق سے اس وقت) دو مسلمان باہم لڑ رہے تھے، آپ نے فرمایا (کہ اس وقت) میں اس واسطے نکلا تھا کہ تمہیں شب قدر بتادوں، مگر (چونکہ) فلاں فلاں باہم لڑے، اس لئے (اسکی خبر دنیا سے) اٹھالی گئی اور شاید یہی تمہارے حق میں مفید ہو (اب تم شب قدر کو) رمضان کی ستائیسویں اور انتیسویں اور پچیسویں (تاریخوں) میں تلاش کرو۔( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 48)
۴۔ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں خواب دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک ریشمی ٹکڑا ہے اور جنت کے جس حصہ میں بھی جانا چاہتا ہوں وہ مجھے اڑالے جاتا ہے اور میں نے دیکھا کہ گویا دو شخص میرے پاس آئے اور جہنم کی طرف لے جانا چاہا اور ان دونوں سے ایک فرشتہ ملا اور کہا کہ اسے چھوڑ دو اور مجھے کہا کہ ڈرنے کی بات نہیں۔ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میرے خواب میں سے ایک حصہ بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت اچھا آدمی ہے کاش وہ رات کو نماز پڑھتا،چنانچہ عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کو نماز پڑھتے، اور لوگ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنا خواب بیان کرتے کہ شب قدر ماہ رمضان کے آخری عشرے کی ساتویں رات کو ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب آخری عشرے کے متلعق متفق ہوگئے، تم میں سے جو شخص اس کو تلاش کرے تو اسے چاہئے کہ آخری عشرہ میں تلاش کرے۔( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1088)
۵۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے چند لوگوں کو شب قدر خواب میں آخری سات راتوں میں دکھلائی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب آخری سات راتوں میں متفق ہو گئے ہیں، اس لئے جو شخص اس کا تلاش کرنے والا ہے اس کو آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔ (صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1889)
۶۔ عروہ بن زبیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اٹھا لیا پھر آپ کے بعد آپ کی بیویاں بھی اعتکاف کرتی تھیں( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1900
۷۔ حضرت صفیہ زوجہ مطہرہ نے فرمایا کہ وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس وقت ملاقات کو آئیں جب کہ آپ رمضان شریف کے آخری عشرہ میں معتکف تھے اور جب وہ واپس جانے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ اٹھے اور مسجد کے دروازے کے پاس حضرت ام سلمہ کے مکان کے پاس پہنچے تو اس طرف سے دو انصاری گزرے اور آپ کو سلام کہہ کے جلدی سے جانے لگے تو آپ نے فرمایا ٹھہرو سنو! یہ میری بیوی ہیں تو یہ بات ان کو بہت شاق معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگے یا رسول اللہ سبحان اللہ! اس پر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا انسان کی رگوں میں شیطان خون کی طرح دوڑتا پھرتا ہے اور مجھے یہ خوف پیدا ہوا کہ کہیں یہ امر تمہارے دل میں کوئی شبہ پیدا نہ کر دے۔( صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 345
۷۔ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا لیلةالقدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی کمزور ہو یا عاجز ہو تو ہو آخری سات راتوں میں سستی نہ کرے۔( صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 271)
۸۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اتنی ریاضت کرتے تھے کہ اس کے علاوہ اور دنوں میں اتنی ریاضت نہیں کرتے تھے۔( صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 294)
۹۔ طاؤس، ابن عباس سے روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کو تہجد کی نماز پڑھنے کیلئے کھڑے ہوتے تو فرماتے کہ اے میرے اللہ تیرے ہی لئے حمد ہے، تو آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان جو چیزیں ہیں ان کا نگران ہے، تیری ہی لئے حمد ہے تیرے ہی لئے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں پر حکومت ہے، تیرے ہی لئے حمد ہے تو آسمان اور زمین کی روشنی ہے، تیرے ہی لئے حمد ہے تو حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے۔ تیرا قول حق ہے جنت حق ہے، جہنم حق ہے، تمام نبی حق ہیں اور محمد حق ہیں اور قیامت حق ہے، اے میرے اللہ میں نے اپنی گردن تیرے لئے جھکا دی اور میں تجھ پر ایمان لایا تجھی پر میں نے بھروسہ کیا، تیری طرف میں متوجہ ہوا، تیری ہی مدد سے میں نے جھگڑا کیا اور تیری ہی طرف میں نے اپنا مقدمہ پیش کیا، میرے اگلے پچھلے اور ظاہری اور چھپے ہوئے گناہوں کو بخش دے تو ہی آگے اور پیچھے کرنے والا ہے، تو ہی معبود ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں سفیان نے کہا کہ عبدالکریم نے وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ کی زیادتی کے ساتھ روایت کی ہے سفیان نے کہا کہ سلیمان بن ابی مسلم نے اس کو طاؤس سے اور انہوں نے ابن عباس سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کو سنا۔( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1053)
از پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

3 responses to this post.

  1. May Allah bless you. May the Muslims of the sub-continent not only pray but also try to change their life by following the ways of the Prophet of Allah n his (saw) sahabas.

    جواب دیجیے

  2. اس مبارک و مقدس رات کے بارے میں قرآنِ کریم میں ارشادِ خداوندِ قدوس ہے:اِنَّااَنزَلنٰہُ فِی لَیلَةِ القَدرِ۔وَمَااَدرٰکَ مَالَیلَةُ القَدرِ۔لَیلَةُ القَدرِخَیر مِّن اَلفِ شَھرٍتَنَزَّلُ المَلٰئِکَةُ وَالرُّوحُ فِیھَا بِاِذنِ رَبِّھِم مِّن کُلِّ اَمرٍ۔سَلاَم ھِیَ حَتّٰی مَطلَعِ الفَجرِ۔بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں اتارا ہے اور آپ نے کیاجانا کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر!ہزار مہینوں سے بہتر(رات) ہے۔اس (رات) میں فرشتے اور روح (یعنی جبرائیل امین) اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر (خیر) کیلئے اترتے ہیں، یہ (رات) طلوع فجر ہونے تک سراسر سلامتی ہے “۔ (سورةالقدر:آیت 1تا 5)

    {إنَّا أنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ إنَّا کُنَّا مُنْذِرِیْنَ é فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ أمْرٍ حَکِیْمٍéأمْرًا مِنْ عِنْدِنَا إنَّاکُنَّا مُرْسِلِیْنَ}’’یقینا ہم نے اس قرآن کو برکت والی رات میں نازل کیا بے شک ہم ڈرانے والے ہیں ۔ اس رات میں ہرایک مضبوط کام کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ یہ معاملہ ہماری جانب سے ہے اور ہم بھیجنے والے ہیں ۔‘‘ (الدخان:۳۔۵)
    وہ شخص جس کو اس عظیم رات کی معرفت اورحاضری نصیب ہوجائے اور وہ اس رات کو اللہ تعالیٰ کی عبادت وبندگی میں گزاردے توگو یا کہ اس نے تراسی سال اور چار مہینوں سے بھی زیادہ زمانہ عبادت و ریاضت میں گزاردیا ہے اور اس زیادتی کا بھی حقیقی حال معلوم نہیں کہ ہزار مہینوں سے کتنا افضل ہے۔

    اس عظیم الشان رات کی عظمت و فضیلت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل ا ﷲﷺنے ارشاد فرمایا کہ: ”جب شب قدر آتی ہے تو حضرت جبرائیل امین علیہ السلام فرشوں کی جماعت کے ساتھ زمین پر آتے ہیں اور ملائکہ کا یہ گروہ ہر اس بندے کیلئے دعائے مغفرت اور التجائے رحمت کرتا ہے جو کھڑے یا بیٹھے ہوئے اﷲتعالیٰ کے ذکر اور عبادت میں مشغول رہتا ہے۔ جب کہ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ فرشتے ان بندں سے مصافحہ بھی کرتے ہیں“ ۔ کتنا خوش نصیب اور بلند اقبال ہے وہ بندہ! جو اس رات کو اپنے پروردگار کی یادمیں بسرکرتا ہے۔ جبرائیل امین اور فرشتے اس کے ساتھ مصافحہ کرنے کا شرف حاصل کرنے کیلئے آسمان سے اتر کر اس کے پاس آتے ہیں او ر اس کی مغفرت و بخشش کیلئے دعائیں مانگتے ہیں۔(تفسیرضیاءالقرآن: جلد 5صفحہ 620)

    ام المومنین حضر ت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کیلئے خصوصی اہتمام فرماتے تھے اور آپ ﷺکا یہ معمول تھا کہ جب رمضان کاآخری عشرہ شروع ہوتاتھاتوآپ ﷺاپنا تہہ بندمضبوطی سے باندھ لیتے اور راتوں کوذکرخداوندی سے زندہ کرتے اور اپنے اہل وعیال کو بھی عبادت کے لئے جگاتے۔حضر ت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
    کَانَ رَسُولُ اللّٰہِﷺ یَجتَھِدُ فِی العَشرِالاَوَاخِرِمَالَایَجتَھِدُ فِی غَیرِہ۔ رسول اللہﷺ (عبادت الٰہی میں)جتنامجاہدہ( کوشش) اس آخری عشرہ میں فرماتے تھے، کسی دوسرے وقت میں ایسا مجاہدہ نہیں فرماتے تھے۔ (صحیح مسلم،مشکوٰة المصابیح باب لیلة القدر)

    جواب دیجیے

  3. جزاک اللہ! اتنی عمدہ پوسٹ کے لئے شکریہ۔

    جواب دیجیے

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s