پریشان ہونا چھوڑئیے۔ ایک تعارف


اگر آپ کو شدید بخار ہو تو دنیا کی تمام نعمتیں آپ کے لئے بے معنی ہوجاتی ہیں۔بہترین سے بہترین کھانا بے لذت اور مشروب بد ذائقہ لگنے لگتا ہے۔ ارد گرد کے حسین مناظر بدنما لگتے،پرکشش آسائشیں بے معنی ہوجاتیں اور تمام دلچسپیوں سے بے زاری ہوجاتی ہے۔ اگر بخار کا مناسب علاج نہ کیا جائے تو اس سے کئی مزید جسمانی اور نفسیاتی بیماریاں جنم لیتی ہیں جو آپ کو آہستہ آہستہ موت کے دہانے تک بھی لے جاسکتی ہیں۔
بالکل یہی معاملہ نفسیاتی بیماریوں کا ہے۔اگر آپ کسی شدید ذہنی پریشانی کا شکار ہوجائیں تو کم و بیش یہی نتائج نکلتے ہیں۔آپ ٹینشن کے باعث کھانے پینے کی خواہش میں کمی محسوس کرتے، سکون سے محروم ہوجاتے،خوشیوں کو نظر انداز کرتے اور مایوسی و نامیدی کا شکار ہوجاتے ہیں۔اس ذہنی بیماری کے نتیجےمیں کئی جسمانی اور نفسیاتی بیماریاں حملہ آور ہوتی رہتی ہیں جن کا بروقت تدارک نہ کیا جائے تو نتیجہ یا تو ایک انتہائی تکلیف دہ زندگی کی صورت میں نکلتا ہے یا پھر اس کا انجام ایک تکلیف دہ موت ہے ۔
آج کے دور میں لوگ بالعموم بے شمار مسائل کا شکار ہیں۔ غیر ترقی یافتہ ممالک میں بے روزگاری، لوڈ شیڈنگ، مہنگائی ، لوٹ مار، قتل وغارت گری اور اس طرح کے دیگر مسائل نے لوگوں کا جینا محال کردیا ہے۔ دوسری جانب ترقی یافتہ ملکوں کے شہری بے راہ روی، خاندان کی ٹوٹ پھوٹ، معاشی خوف، بے مقصد یت اور کئی نفسیاتی عوارض سے پریشان ہیں۔ ان پریشانیوں میں نوجوان اور بوڑھا ، امیر اور غریب، مزدو رو آجر ، پڑھا لکھا اور جاہل ، عورت اور مرد سب مبتلا ہیں۔ان میں سے ہر شخص اپنی پریشانیوں سے نجات حاصل کرکے ایک صحت مند شخص بننا چاہتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ اس میں سکون، اعتماد، پرامیدی اور امنگ پیدا ہو۔وہ بھی شوگر، ہارٹ، السر، تیزابیت ، سر کا درد، بلڈ پریشر ، گٹھیا اور تھائی رائیڈ جیسی کئی ممکنہ جسمانی بیماریوں سے دور رہے ۔وہ بھی خود کو نفرت، غصہ، ٹینشن، بے چینی وگھبراہٹ، خوف، تکان اور دیگر نفسیاتی و ذہنی امراض سے نجات حاصل کرے۔وہ بھی صبح کو تازگی کو انجوائے کرے، رات کی تاریکی سے لطف اٹھائے ، پرندوں کی نغمگی سے مسحور ہو اور نیند کی حسین وادی میں کھوجائے ۔
ایک پرسکون اور پریشانیوں سے مبر ا شخصیت کو صرف یہ دنیاوی فائدے ہی نہیں ملتے بلکہ اس سے اس کی اخروی زندگی بھی پروان چڑھتی ہے۔ ایک نفسیاتی طور پر مضبوط شخص اپنے رب کے احکامات سے روگردانی نہیں کرتا، وہ مضبوط قوت ارادی سے عبادات اور معاملات میں پابندی برقرار رکھتا ، نفس کی ناجائز خواہشات کا قلع قمع کرتااور شیطان کی چالاکیوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتا ہے۔
آج سے ہم اپنے بلاگ پر نفسیات نامی سیکشن کا اضافہ کررہے ہیں ۔اس سیکشن کا مقصد آپ کو پریشانیوں سے نجات فراہم کرکے ایک پرسکون، خوشیوں اور توانائی سے بھرپور زندگی سے روشناس کرانا ہے ۔ اس سیکشن کی ابتدا ہم ڈیل کارنیگی کی شہرہ آفاق کتاب ” پریشان ہونا چھوڑئیے اور جینا شروع کریں” سے کررہے ہیں۔اس کتاب کا اصل نام ہے
How to stop worrying and start living
اس کتاب میں ڈیل کارنیگی نے پرسکون زندگی کے کچھ اصول بیان کئے ہیں ۔ اس تحریر میں انہی اصولوں کو استعمال کرتے ہوئے ہم آپ کو راہنمائی فراہم کریں گے۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ ہم ہر اصول پر قسط وار آرٹیکلز اور کیس اسٹڈی شائع کریں گے ۔ ان مضامین میں آپ کو پریشانیوں سے نجات کے اصول اپنانے کا طریقہ کار اور مشقیں بتائی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی آپ کی ای میل کے ذریعے مسلسل راہنمائی کی جائے گی۔
چنانچہ آپ سے گذارش ہے کہ ان مختصر مضامین اور کیسز کو غور سے پڑھیں بلکہ دو سے تین مرتبہ پڑھیں ۔پھر ان میں بیان کردہ اصولوں پر عمل درآمد کریں۔ کسی بھی مشکل یا الجھن کی صورت میں درج ذیل ای میل پر رابطہ کریں۔
aqilkhans@gmail.com
https://aqilkhans.wordpress.com

از پروفیسر محمد عقیل

9 responses to this post.

  1. Posted by Junaid on 25/01/2016 at 3:03 صبح

    Me buht preshan

    جواب دیں

  2. بہت عمدہ۔۔۔۔ ڈیل کارنیگی کی تحریریں ہمیشہ قارئین پر ایک یقینی اثر چھوڑتی ہیں۔
    لیکن میرے خیال میں ایک مسلمان کے لیے جو عملی زندگی میں چاق و چوبند ہے۔ پریشانیوں سے نمٹنے کا ایک طریقہ ہمیشہ سے کارگر رہا ہے اور وہ یہ کہ ناگہانی مصیبتوں اور آفتوں اور ہر اس چیز پر جس پر اسکا بس نا چلے اسے اللہ تعالیٰ کے سپرد کردے۔ اس طرزعمل کے حیرت انگیز نتائج ہوتے ہیں۔ اکثر اوقات پریشانیاں دور ہوجاتی ہیں اور اگر دور نا بھی ہوں تو ذہن انکا اثر اس طرح قبول نہیں کرتا۔

    جواب دیں

    • محترم جواد صاحب
      السلام علیکم
      آپ کی تجویز و تبصرے کا شکریہ۔ ایک مومن کو نفسیاتی مسائل کے حل کے لئے خود کو اللہ کے سپرد کردینا چاہئے۔ اس کے لئے اس بلاگ پر تزکیہ نفس کے حوالے سے کئی تحاریر موجود ہیں جن میں توکل ، تفویض ، رضا، صبر، شکر وغیرہ پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ دراصل ڈیل کارنیگی یا دیگر سیکیولر نفسیات دانوں کی اپروچ اسلامی تعلیمات ہی کی ایکسٹینشن ہے۔ پھر آپ نے وہ بات تو سنی ہوگی کے حکمت مومن کا کھویا ہویا ہوا خزانہ ہے چناچہ وہ جہاں سے پائے اسے حاصل کرلے۔

      جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s