مختلف ممالک کے سفرنامے جلد اول

مولانا وحیدالدین خان ہندستان کے ایک مشہور عالم ہیں۔ انہوں نے اسلام کی دعوت جدید اسلوب میں پیش کرنے کا بیڑا اٹھایا اور اسے انتہائی خوش اسلوبی سے منزل مقصود تک پہنچانے کی سعی کی۔ آپ نے دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کیا اور ان اسفار کو آسان، سادہ اور دعوتی اسلوب میں قلم بند بھی کیا۔ درج ذیل لنکس مولانا کے انہی سفر ناموں پر مشتمل ہیں۔ آُ پ کے یہ اسفار یورپ ، امریکہ، آسٹریلیا، عرب ممالک اور دیگر مقامات کے ہیں۔ مولانا مختلف ممالک کے کلچر، تہذیب اور رسم و رواج بھی بڑی خوبصورتی سے قاری کے سامنے بیان کرتے ہیں۔
آج کے جدید دور کے مسلمان کے لئے انہیں پڑھنا خاصا مفید ہے۔ انکی مدد سے ایک جدید ذہن میں اٹھنے والے بے شمار سوالات کا جواب بھی ملتا ہےاور
مسلمانوں کی حالت زار پر ایک راہنمائی بھی۔

بیرون ممالک سفرنامے حصہ ۱

بیرون ممالک کے سفرنامے حصہ ۲

بیرون ممالک سفر نامے حصہ ۳

بیرون ممالک سفر نامے حصہ ۴

بیرون ممالک سفرنامے حصہ ۵

بیرون ممالک سفرنامے حصہ ۶

بیرون ممالک سفرنامے حصہ ۷

بیرون ملک سفر نامے حصہ ۸

بیرون ممالک سفرنامے حصہ ۹

بیرون ممالک سفرنامے حصہ ۱۰

بیرون ملک سفرنامے حصہ ۱۱

بیرون ملک سفرنامے حصہ ۱۲

بیرون ملک سفرنامے حصہ ۱۳

بیرون ملک سفرنامے حصہ ۱۴

5 responses to this post.

  1. اسلام کی دعوت جدید اسلوب JAZAK ALLAH

    جواب دیں

  2. نہایت مایوسی ہوئی انکے سفر ناموں کا پہلا حصہ پڑھ کر جس میں وہ بار بار سیاسی اسلام اور دعوتی اسلام کی تفریق کرتے نظر آرہے ہیں۔ جناب اگر سیاسی اسلام ایسی ہی کوئی ہلکی چیز ہوتی تو مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کے قیام اور طاقت کے حصول کے فوراً بعد ہی کفر کے اماموں سے جنگ کا سلسلہ نا شروع کردیتے۔
    جناب اعلائے کلمۃ اللہ امت پر واجب ہے۔ یہ دین کا تقاضا ہے۔ دین اسلام غلبہ کا تْاضا کرتا ہے۔ اسی لیے اس امت کو یہ شرف عطا کیا گیا ہے کہ اسکی ایک جماعت قیامت تک مصروف جہاد رہے گی۔ اس امت کا یہ افتخار ہے کہ یہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور غلط باتوں سے روکتے ہیں۔ جابر حکمران کے سامے کلمہ حق کہنا سب سے افضل جہاد قرار دیا گیا ہے۔ مگر افسوس مولانا وحید الدین خان صاحب پر کہ وہ دیگر اکابرین کی طرح آج تک سیاسی اور دعوتی اسلام کے فرق سے باہر ہی نہیں نکل سکے۔
    جناب ۱۴۰۰ سالہ تاریخ میں صرف دعوت سے کونسا تیر چل گیا ہے جو آئندہ الگ معاملہ ہوجائے گا۔
    حج کے بعد مسلمانوں کے سب سے بڑے اجماعات پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہوتے ہیں ۔ تبلیغی جماعت لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو دعوت کے کام پر لگا چکی ہے۔ اسکا معاشرہ اور اسکے چلن پر کیا اثر پڑا ہے؟
    آج تبلیغی جماعت میں بڑے بڑے قوم پرست، جہاد سے نفرت کرنے والےاور فاسق سیاستدانوں کے مداح پائے جاتے ہیں۔ سیاسی امور پر بولنا انکے یہاں ممنوع ہے لہذا دین کے غلبہ کا خواب دیکھنا بھی ممنوع ٹہرا۔ کیا یہی دعوتی اسلام کا مطمع نظر ہے؟
    جناب آپ مانیں یا نا مانیں دعوتی اگر کڑوڑوں کی تعداد میں ہوں تب بھی بھوسے کے ڈھیر سے زیادہ قیمتی نہیں ہونگے۔

    جواب دیں

    • محترم جواد صاحب
      السلام علیکم
      مولانا وحیدالدین خان کے سفرنامے پر آپ کی تنقید پڑھی اور خاصا لطف آیا۔ دراصل امت میں اس وقت دو گروہ پائے جاتے ہیں ایک گروہ اسلام کے نفاذ کے لئے سیاسی جدوجہد کو ناگذیر سمجھتا جبکہ دوسرا اسے قبل از وقت قرار دیتا ہے۔ مولان کا تعلق دوسرے گروہ اور آپ کا پہلے گروہ سے ہے۔ اگر آپ مولانا پر یہ تنقید کرتے ہیں کہ تبلیغی جماعت اور اس جیسی غیر سیاسی جماعتیں کوئی انقلاب برپا نہیں کرپائیں تو مولان بھی آ پ پر یہ تنقید کرتے ہیں کہ گذشتہ سو دیڑھ سو سال کی جدو جہد کے باوجود دنیا بھر میں سیاسی اسلام کی حامی جماعتیں بھی کچھ نہ کرپائیں۔ اگر آپ مولاناکے مزید سفرنامے پڑھیں تو ان کے آرگومینٹ کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ ۔ اس کے بعد آپ کو اختلاف کا پورا حق حاصل ہے

      جواب دیں

    • محترم پروفیسر عقیل صاحب،
      یہ بھی ایک غلط فہمی کہ سیاسی اسلامی جدوجہد بے ثمر رہی ہے۔ ترکی کے ایک وزیر اعظم کو دین سے محبت کے جرم میں پھانسی کی سزا ہوئی۔ جس کے بعد ترکی میں اسلام پسندوں نے دعوت اور تبلیغ کو نہیں اپنایا بلکہ ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ کفر اور الحاد کا گڑھ آج امت مسلمہ کی پیشوائی کرنے جا رہا ہے۔ ۔ مصر میں اگر اخوان المسلمین کی سو سال سے زیادہ کی سیاسی جدوجہد نا کرتی تو آج مصر میں حسنی مبارک کا کوئی بیٹا یا اسی کے نظریات رکھنے والا ساتھی اقتدار پر قابض ہوتا۔ اسی اخوان المسلمین کا حمایت یافتہ شخص کامیاب نا ہوتا۔ یہ اخوان المسلمین اور اسکی سیاسی جدوجہد ہے کہ پوری عرب دنیا حکمرانی کے لیے اخوان المسلمین یا دیگر دینی سیاسی جماعتوں کی طرف دیکھتی ہے۔ فلسطین میں یاسر عرفات اور اسکی جماعت کے ہوتے ہوئے حماس کی فتح اور اسکی سیاسی مقبولیت اس بات کا بڑا ثبوت ہے ۔ آج اگر شام میں تبدیلی آتی ہے تو یقین جانیے کہ بعث پارٹی یا کسی لادین قوم پرست برسراقتدار نہیں آئیں گے بلکہ وہ لوگ آئیں گے جو دین کی سیاسی بسیرت رکھتے ہونگے۔
      سیاست دین کا لازمی جزو ہے جسکی وجہ سے علامہ اقبال کہنے پر مجبور کیا کہ :
      جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
      جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

      اس میں ایک باریک سا نکتہ ہے اور وہ یہ کہ جب مسلمان سیاست کے دروازوں کو دین کے لیے بند کرلیتا ہے یا بند سمجھنا شروع کردیتا ہے تو گویا اللہ کے حکم کی بجائے فسق و فجورکی حکمرانی اور حدود اللہ کی پامالی کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کردیتا ہے ۔ اب چاہے اسکے نام کے ساتھ کتنے ہی القابات لگے ہوں یا کیسے کیسے مدرسوں کی پیشوائی کا اعزاز رکھتا ہو وہ رفتہ رفتہ اسی فسق و فجور کا حصہ بن جاتا ہے۔

      جواب دیں

  3. Posted by Sabir Ansari on 12/09/2012 at 11:21 صبح

    thank you and salaam to you. m s ansari.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s