ایک مجلس میں تین طلاقیں اور اس کا شرعی حل


طلاق کا مسئلہ ہماری سوسائٹی میں ایک متنازعہ لیکن اہم مسئلہ ہے۔ فقہی اختلافات کی بنا پر ایک عام آدمی کنفیوز ہے کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں تین ہی کاؤنٹ ہوتی ہیں یا ایک۔ اس پریشانی میں جب ایک شخص غصےکے عالم میں تین طلاقیں دے بیٹھتا ہے تو اس کے پاس تین حل ہوتے ہیں۔ ایک حل تو یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کے لئےعلحیدگی اختیار کرلے جو کہ ایک میچیور اور بال بچے دار شادی شدہ جوڑے کے لئے مشکل کام ہے۔ دوسرا حل فقہا حلالہ تجویز کرتے ہیں جسکی شناعت اور قباحت پر سب متفق ہیں اور یہ شریف لوگوں کے لئے کوئی آسان کام نہیں۔ تیسرا حل یہ کہ مسلک تبدیل کرکے اہل حدیث علماء سے رجوع کرلیا جائے جو یقینی طور پر مفاد پرستی کی ایک علامت ہے۔
حافظ صلاح الدین ہوسف کی یہ کتاب ایک انہتائی بیلنس نقطہ نظر پیش کرتی اور ایک عام آدمی کو درست اور متوازن طریقے پر رائے قائم کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ ہر شادی شدہ مردو و عورت کے لئے مفید ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت میں مشکل سے نبرد
آزما ہوا جاسکے۔

ایک مجلس مین تین طلاقیں اور اس کا شرعی حل

Advertisements

5 responses to this post.

  1. Posted by Muhammad F Alavi on 02/02/2015 at 6:41 صبح

    تین طلاق بیک وقت دینا خلاف قرآن ہے، نیز تین طلاقیں قرآن میں مذکور نہیں. قرآن میں الطلاق مرتان کہاگیا ہے ، اور فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ کا تعلق تیسری طلاق سے ہے ہی نہیں جب تیسری طلاق کا ذکر قرآن نے کیا ہی نہیں تو حلالہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، فان طلقھا فلاتحل لہ کا عطف الطلاق مرتان پر نہیں بلکہ فیما افتدت بہ پر ہے، جب معطوف علیہ قریب میں موجود ہے تو بہت پیچھے الطلاق مرتان کو معطوف علیہ ماننا قواعد عربیت کے صریحاً خلاف ہے اس لیئے فان طلقھا فلاتحل لہ میں وہ طلاق مراد ہے جس میں فیما افتدت بہ ہو اور وہ ہے طلاق خلع ، صرف اس ایک میں حلالہ ہوگا تین طلاق میں حلالہ کا سوال ہی نہیں اس لیے کہ قرآن یا شریعت میں تین طلاق کا تصور ہی نہیں، تین طلاق کی جتنی بھی احادیث ذکر کی جاتی ہیں وہ یا تو مضطرب ہیں ، ضعیف ہیں اور کچھ وضعی ہیں اس لیئے وہ کتاب اللہ کے معارف نہیں ہو سکتیں اور حلالہ کے لیے فقہاء کی طرف سے جماع یا خلوت کی شرط لگانا بھی خلاف قرآن ہے کیونکہ قرآن نے نہ جماع کو شرط قراردیا اور نہ خلوت کو لہذا زوج ثانی سے نکاح کے بعد دخول سے پہلے طلاق لے لینا حلالہ کے لیئے کافی ہے اس سلسلہ میں جو روایت پیش کی جاتی ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے کا ذائقہ چکھنا ہوگا یہ بناوٹی ہے بہرحال حلالہ کا تعلق مطلقہ مختلعہ بالمال سے ہے نہ کہ طلاق ثلاث سے ، اگر طلاق ثلاثہ میں آپ حلالہ کو لازمی قرار دیتے ہیں تو یہ خلاف قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ انصاف کے بھی خلاف ہے کہ طلاقیں دینے کا جرم تو مرد نے کیا ہے اور حلالہ کی شکل میں سزا دی جارہی ہے عورت کو تو کہاں گیا لاتزر وازرة وزر اخري . قران نے صرف دو طلاقیں ذکر کیں دونوں رجعی ہیں اب اگر کوئی تین کہے یا ہزار وہ ایک ہی واقع ہوگی اور رجعی ہوگی، حضرت عمرنے جو تین نافذ کیں نہ وہ قرآن کا حکم تھا نہ سنت رسول تھی بلکہ ان کا اجتہاد تھا اور کسی کا بھی اجتہاد پیغمبر کے علاوہ ہمارے لیے نہ حجت ہے اور نہ واجب الاتباع ہے –

    جواب دیں

  2. Posted by بنیاد پرست on 20/09/2012 at 11:56 صبح

    حضور اس میں آپ اپنے تیسرے پؤائنٹ اھلحدیث علما کی طرف ھی رجوع کروا رھے ہیں، کیونکہ مصنف ‘غیر مقلد بنام اھلحدیث’ عالم ہی ہیں.‏‎ ‎:-)‎
    ویسے قرآن کی آیت ‘الطلاق مراتان’ سے تین طلاق کے تین ھونے پر امت کا اجماع ھے، جس کے مطابق اس عورت سے دوبارہ شادی اک ھی صورت میں ھو سکتی ہے وہ یہ کہ اس عورت کی شادی غیر مشروط طریقے سے کسی دوسرے شخص سے ہو پھر یا وہ شخص اسے اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا مرجاۓ، پھر پہلے شخص کے لیے یۂ عورت جائز ھوگی، جیسا کہ قرآن میں اللہ نے فرمایا ‘فلا تحل لہ حتی تنکح زوج غیرہ’.
    طلاق اک ناپسندیدہ فعل ہے اس لیے شریعت نے دوبارہ رجوع کے لیے اتنی سخت شرائط رکھ دیں تاکہ لوگ طلاق دینے سے پہلے سوچیں اور اس سے بچیں. بہت سے لوگ یہود کی طرح حیلہ کرتے ھوۓ عورت کی اک دن کے لیے کسی مذد کے ساتھ اس شرط پر شادی کرواتے ہیں کہ وہ اس عورت کے ساتھ مباثرت کیے بغیر طلاق دے دے گا، یہی حلالہ کی وہ شکل ھے جس پر حدیث میں لعنت کی گئی ہے.

    جواب دیں

  3. 3طلاق اور ایک نشست۔۔۔۔۔۔۔
    بہترین

    دیکھتے ہیں

    جواب دیں

  4. اس کا سادہ حل ہے کہ قرآن سے رجوع کیا جائے۔ جو طلاق کے عمل کو کئی ماہ تک محیط کر دیتا ہے۔ سیرت رسول ﷺ کو دیکھا جائے جب تین طلاقیں ایک ہی نشست میں نہیں گنی جاتی تھیں، خاص طور پر غصے کی حالت میں۔ اور طلاق دینی ہو تو ایک دی جائے، تاکہ بعد میں رجوع کا اختیار رہے۔ جہاں تک میرا ناقص علم ہے ایک طلاق علیحدگی کے لیے اتنی ہی موثر ہوتی ہے جتنی تین طلاقیں۔ غلط ہوں تو تصحیح فرمائیے گا۔

    جواب دیں

    • جناب شاکر عزیز صاحب
      السلام علیکم
      آپ نے درست کہا کہ طلاق دینے کا طریقہ قرآن میں مذکور ہے لیکن لوگ اس کو فالو نہیں کرتے اور ایک نشست میں تین طلاقیں دے دیتے ہیں۔ چنانچہ اس کا حل کیا ہے؟ اسی موضوع پر یہ کتاب ہے۔ اگر آپ اسے پڑھیں گے تو آپ کے سوالات کا جواب مل جائے گا

      جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s