پریشا ن ہونا چھوڑئیے۔ اصول نمبر۳:پریشانیوں کے نقصانات پہچانیں

پریشا ن ہونا چھوڑئیے ،جینا شروع کیجئے
اصول نمبر۳۔پریشانیوں کے نقصانات پہچانیں
کیس اسٹڈی:
” غزالی کو پریشان ہونے کی عادت ورثے میں ملی تھی۔ مالی اعتبار سے وہ اچھی پوزیشن میں تھا، تعلیم بھی مناسب تھی، گھر بار، ملازمت، اولاد، بیوی غرض وہ سب کچھ حاصل تھا جو ایک اچھی زندگی گذارنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ لیکن چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہوجانا اس کی مستقل صفت بن چکی تھی۔کبھی اسے یہ اندیشہ ہوتا کہ ملازمت ختم ہوگئی تو کیا ہوگا؟۔ کبھی وہ بچوں کے مستقبل کے خودساختہ مسائل کوسوچتاتو کبھی باہر نکلنے پر اسے ایکسیڈنٹ کا خوف ستانے لگتا۔ اس کے دوست احباب اسے سمجھاتے کہ یہ سب سوچیں وہم ہیں اور ان کو خود پر حاوی کرنا فضول ہے۔لیکن اسے اس طرح کی زندگی کی عادت ہوگئی تھی کیونکہ اس طرز زندگی میں خود کو اوپر اٹھانے کے لئے محنت نہیں کرنی پڑتی۔
لیکن وہ بھول گیا تھا کہ ان تفکرات کی ایک قیمت ہوتی ہے۔آہستہ آہستہ اس کے چڑچڑے پن کی بنا پر بیوی اور بچے اس دور ہونے لگے، خوف کا یہ عالم ہوا کہ رات کو اچانک آنکھ کھل جاتی اور پھر نیند غائب ہوجاتی، دفتری معاملات الٹ پلٹ ہونے لگے۔ ان سب باتوں کے علاوہ صحت کی خرابی بھی ظاہر ہوگئی۔ شوگر ، بلڈ پریشر اور ڈپریشن جیسی بیماریوں نے حملہ کردیا جبکہ ڈاکٹروں نے دل کی کمزوری کا بھی عندیہ دے دیا۔
اب اس کی خود ساختہ پریشانیاں حقیقی مسائل میں تبدیل چکی تھیں۔ وہ ان سب سے پیچھا چھڑانا چاہتا تھا لیکن کئی دہائیوں سے جن مسئلوں کو وہ پال پوس کر بڑا کرتا رہا وہ اب طاقتور ہوچکے تھے اور انہیں جڑ سے نکالنا مشکل تر تھا۔ بہر حال ایک دن ایک اور مہلک بیماری حملہ آور ہوئی۔ بلڈ پریشر کے ایک جاندار حملے نے اس کے دائیں حصے کو مفلوج کرڈالا۔ وہ آج اپنے پلنگ پر بیٹھا یہ سوچتا رہتا ہے کہ وہ اگر جانتا کہ ان پریشانیوں کو پالنےکی کیا قیمت ہے تو ان کا ابتدا میں ہی قلع قمع کردیتا لیکن آج ان پریشانیوں نے اس کا کام تمام کردیا”۔

وضاحت:
جدید میڈیکل ریسرچ سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ خوف، بے چینی، اضطراب اور پریشانیاں بے شمار بیماریوں کا سبب بنتی ہیں۔Nervous Stomach Trouble کے مصنف ڈاکٹر جوزف لکھتے ہیں کہ ہمیں کھانے پینے کی بد پرہیزی کی بنا پر معدے کے السر کا اتنا خدشہ نہیں ہوتا جتنا غم ، فکر اور ٹینشن کی بنا پر ہوتا ہے۔
ہمارے تفکرات ، خوف، مایوسی، تھکان محرومی وغیرہ بے شمار نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں کی جانب آہستہ آہستہ دھکیلتے ہیں۔ ان بیماریوں میں بلڈ پریشر، امراض قلب، تھائیرائیڈ ، شوگر اورگٹھیا جیسی مہلک اور تکلیف دہ بیماریاں شامل ہیں۔ان جسمانی بیماریوں کے علاوہ یہ پریشانیاں ہماری ازدواجی زندگی کی ناکامی، سوشل لائف کی بربادی، نفرت و کدورت،غصہ و انتقام، افسردگی و ڈپریشن جیسی مصیبتوں کا سبب بھی بنتی ہیں۔
لوگ اکثر یہ کہتے ہیں کہ اگر ان تفکرات سے نجات حاصل کرلی جائے تو زندگی میں ترقی ممکن نہیں ۔ یہی فکر اور ٹینشن ہے جو ایک طالب علم کو پاس کرواتی، ایک ملازمت پیشہ شخص کی ترقی کا سبب بنتی اور ایک کاروباری فرد کی کامیابی کا ضامن ہوتی اور ایک خاتون خانہ کو بہتر مستقبل کی ضمانت دیتی ہے۔ چنانچہ ان تفکرات سے اگر نجات حاصل کرلی جائے تو ترقی کا یہ سفر رک جائے گا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری زندگی میں بے شمار مسائل اور ان گنت پریشانیاں ہوتی ہیں۔لیکن کیرئیر میں کامیابی اور زندگی کے مجموعی ارتقاء کے میں توازن کا ہونا ضروری ہے۔ایک شخص جوانی کے قیمتی لمحات ، صحت اور سوشل لائف غرض سب کچھ داؤ پر لگاکر ایک بہت بڑا بزنس مین یا ایک اعلیٰ عہدے کا حامل بن جاتا ہے ۔لیکن جب وہ دنیا کی ساری نعمتیں اور آسائشیں اپنے گرد جمع کرکے دنیا کے سامنے ایک کامیاب انسان بن کر کھڑا ہوتا ہے تو اس کا باطن ناکامی کاثبوت دے رہا ہوتا ہے۔ وہ شخص بیماری کے سبب نارمل اور میٹھا کھانا کھانے سے محروم ہوجاتا ہے، وہ وقت کی کمی کے سبب اپنے ارد گرد کی آسائشوں کو انجوائے ہی نہیں کر پاتا، وہ اپنی اولاد کے ساتھ کھیلنے کے قابل نہیں ہوتا، وہ اپنی بیوی کو مطلوبہ وقت دینے سے قاصر ہوتا ہے، وہ اپنی دولت کا خطیر حصہ علاج کی نظر کردیتا اور اکثر اوقات وہ اپنی اوسط عمر سے پہلے ہی اس دنیا سے کوچ کرجاتا ہے۔ اس کی زندگی کی خوشیوں کو اگر گنا جائے تو وہ شاید مجموعی طور پر ایک کسان کی خوشیوں سے بھی کم نکلیں گی۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ اس نے ٹوٹل سکسیس مینجمنٹ
Success Management Total کی بجائے زندگی کے محض ایک یا دو پہلوؤں پر ہی ساری توانائی صرف کردی اور منہ کی کھائی۔ چنانچہ وہ شخص کسی طور کامیاب قرار نہیں دیا جاسکتا جو تفکرات اور پریشانیوں کے بیماریوں میں گرفتار ہوجائے اور اس سبب زندگی کی نعمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے خواہ وہ کتنے ہی بڑے عہدے پر فائز کیوں نہ ہو۔
اس ضمن میں جو دوسرا پہلو قابل غور ہے وہ یہ کہ تفکرات تو بے شمار ہیں لیکن ان میں سے کچھ مسائل تو حقیقی ہوتے ہیں جبکہ اکثر مسائل فرضی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پرایک غریب آدمی کے لئے یہ سوچنا کہ آج رات کھانے کا بندوبست کس طرح کرنا ہے ، یہ ایک حقیقی مسئلہ ہے۔ لیکن اسی غریب آدمی کا یہ سوچنا غیر حقیقی ہے کہ اگر کل صبح زلزلہ آگیا تو کیا ہوگا۔ اسی طرح کچھ پریشانیوں کا حل ہمارے اختیار میں ہوتا ہے جبکہ اکثر مسائل لاینحل ہوتے ہیں۔ جیسے گھر میں اگر پانی نہیں ہے تو یہ مسئلہ قابل حل ہے اور اس پر آرام سے نہیں بیٹھا جاسکتا۔ لیکن دوسرے جانب لوڈ شیڈنگ کا کوئی انفرادی حل نہیں چنانچہ اس ماحول میں خود کو ایڈجسٹ کرنا ہی مناسب ہے۔
پریشانیاں اگر حقیقی اور قابل حل ہوں تو ان کا حل تلاش کرکے انہیں ذہن سے نکال دیں۔ اگر یہ مسئلے غیر حقیقی یا ناقابل حل ہیں تو انہیں پہلے ہی سے ذہن سے نکال دیں۔ یعنی کسی بھی صور ت میں پریشانی کو زیادہ عرصے دل میں نہ رکھیں ۔ اور اگر رکھیں تو پھر ان کی قیمت چکانے کے لئے بھی تیار ہوجائیں۔
اسائنمنٹ
۱۔ اپنی زندگی کا جائزہ لیں اور ان پریشانیوں کی لسٹ بنائیں جو غیر حقیقی ہیں ۔ پھر انہیں ذہن سے نکال دیں کیونکہ وہ غیر حقیقی ہیں۔
۲۔ ان تفکرات کی لسٹ تیار کریں جو ناقابل حل ہیں لیکن پھر بھی وہ آپ کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔
۳۔اپنے ارد گرد لوگوں کو جائزہ لیں اوران لوگوں کی بیماریاں تحریر کریں جو تفکرات کی بنا پر ان میں مبتلا ہوئے۔
۴۔ اگر آُ پ بھی پریشانیوں کی بنا پر کسی بیماری کا شکار ہیں تو اس کا نام لکھیں اور اس سے نبٹنے کی حکمت عملی تیار کریں۔
۵۔ آپ تحریر کریں کہ آپ کی زندگی کا مقصد کسی ایک پہلو میں کامیابی ہے یا ٹوٹل سکسیس مینجمنٹ؟ ٹوٹل سکسیس مینجمنٹ کے تصور کو واضح کریں۔
از پروفیسر محمد عقیل
aqilkhans@gmail.com
https://aqilkhans.wordpress.com

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s