حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تاریخ پیدایش معلوم نہیں، البتہ ہجرت کے وقت ان کی عمر چالیس سال سے کچھ کم تھی۔ اس حساب سے وہ عام الفیل کے۱۳سال بعداور حرب فجارکے ۴ سال بعد پید ا ہوئے ہوں گے ۔ عیسوی حساب سے ان کا سن پیدایش قریباً ۵۸۱ء بنتا ہے۔ وہ قریش کے قبیلہ بنو عدی سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے عدوی کہلاتے تھے۔یہ قبیلہ بنو ہاشم اور بنو امیہ جیسا مرتبہ نہ رکھتا تھا، البتہ بنو عبد شمس سے ان کا مقابلہ رہتا تھا۔ بنوعدی میں علم و حکمت کا چرچا ہوا تو قبائل میں اٹھنے والے جنگ وامن یا قبائلی مفاخرت کے تنازعات نمٹانے کی ذمہ داری (سفارت مفاخرت)اسے سونپی گئی۔اس موروثی وزارت پر عمر بھی فائز ہوئے۔ رسو ل اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مدینہ میں اسلامی مملکت قائم فرمائی تو انھیں ان کے منصب پر بحال فرمایا۔
عمررضی اللہ عنہ کا شجرۂ نسب یوں ہے: عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزی بن رباح بن عبد اﷲ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لؤی۔عدی نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے آٹھویں جدمرہ بن کعب کے بھائی تھے، اس طرح کعب پر ان کا شجرہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے شجرے سے جا ملتا ہے ۔ بتوں کی پوجا سے کنارہ کشی کرنے والے زید بن عمروبن نفیل بھی بنو عدی سے تعلق رکھتے تھے۔ عمرکے والدخطاب بن نفیل زید بن عمرو بن نفیل کے چچا ہونے کے ساتھ ماں جاے بھائی بھی تھے، اس لیے کہ ان دونوں کی ماں جیداء پہلے نفیل اور پھر ان کے بیٹے عمرو کے نکاح میں رہی۔ جاہلیت میں ایسی شادیاں عام تھیں، قرآن مجید نے انھیں’ زواج مقت ‘(گناہ کی شادی)کا نام دے کر حرام کردیا۔جب زید نے بتوں کی پوجا اور ان کے چڑھاوے چھوڑے اور لوگوں کو بھی ان کی عبادت سے منع کرنے لگے تو خطاب نے ان کی شدید مخالفت کی اورقبیلے کے لوگوں کے ساتھ مل کرانھیں مکہ سے باہر نکال دیا۔ خطاب نے عربوں کی مشہور جنگ حرب فجار میں بھی شرکت کی ۔
خطاب نے کثرت اولاد کی خاطر کئی شادیاں کیں ، ان کی ایک زوجہ حنتمہ بنت ہاشم بن مغیرہ بن عبد اﷲ بن عمر بن مخزوم سے عمر پیدا ہوئے۔ اپنے قبیلے میں ایک ممتاز مقام رکھنے کے باوجود خطاب مال و دولت والے نہ تھے،ایک زمانے میں وہ لکڑیاں ڈھوتے تھے ۔ عمر جوان ہوئے تو وہ بھی مکہ کے نواح ضجنان میں اپنے باپ کے اونٹ چرانے لگے ۔عمر کا قد اتنا لمبا تھا کہ کسی بھی مجمعے میں سب سے ممیز نظر آتے۔رنگ سرخی مائل سفیداور جسم بھرا ہوا تھا۔دائیں اور بائیں،دونوں ہاتھوں سے ایک طرح کام کر لیتے۔ کشتی اور گھڑ سواری کے شوق ان کو شروع سے تھے،دوڑتے گھوڑے پراچک کر بیٹھ جاتے ۔پھر شاعری سننے لگے اورماہر انساب بن گئے ۔ ۲۰ سال کے ہوئے تو حج کے موقع پر منعقد ہونے والے بازارعکاظ کے دنگل کی کشتیوں میں حصہ لینا شروع کیا اور ہر بار جیتتے ،حاجیوں کی اگلی منزل بازار مجنہ کوچ کرنے سے پہلے گھڑدوڑ میں حصہ لیتے اور سب کو پیچھے چھوڑ جاتے۔ کئی سال ان کا یہ معمول رہا ، ایک سال عکاظ وقت پر نہ پہنچ پائے تو معلوم ہواکہ انھوں نے تجارت شروع کر دی ہے اور اپنے قبیلے عدی بن کعب کی روایت پر عمل کرتے ہوئے قریش اور بنو ثقیف کے مابین ہونے والا تجارتی نزاع نمٹانے میں مصروف ہیں ۔ وہاں سے فارغ ہونے پر اپنے سیاہ گھوڑے پر سوار ہو کر عکاظ آئے ، اپنا سامان تجارت فروخت کیا اور اس میں بھی اول رہے۔
عمر نے سختی اور درشتی اپنے والد سے وراثت میں پائی پھر ان کی پہلوانی نے اسے برقرار رکھا ۔خلیفہ بننے کے بعد انھوں نے دعا مانگی:’’ا ے اﷲ، میں سخت ہوں ،مجھے نر م کر دے، میں کمزور ہو ں ،مجھے طاقت دے ، میں بخیل ہوں،مجھے سخی کر دے۔‘‘ اپنے والد کی طرح وہ بھی امیر نہ تھے۔شام و یمن اور ایران و روم کی طرف تجارتی سفر کرنے سے بھی ان کی غربت میں کمی نہ آئی،شاید ان کا مزاج تجارت سے لگا نہ کھاتا تھا۔وہ ان سفروں میں مال کمانے سے زیادہ اپنا علم بڑھانے کی سعی کرتے۔بعثت نبوی کے وقت قریش کے کل ۱۷ آدمی لکھنا پڑھنا جانتے تھے،ان میں ایک عمرتھے۔
محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے اعلان نبوت کیاتو عمر نے شدید رد عمل کا اظہار کیا۔وہ ان قریشیوں میں سے تھے جو صابیوں (اپنے آبائی دین سے نکل جانے والوں )کے سخت خلاف تھے۔ زید بن عمرو،ورقہ بن نوفل ،عثمان بن حویرث اور عبد اﷲ بن جحش جیسے لوگ ان کے نزدیک گردن زدنی تھے، کیونکہ وہ عام لوگوں کو بھٹکا نے کی پوزیشن میں تھے۔ ۲۵ برس کا جوان ہونے کی وجہ سے ان کا آبائی دین سے تعصب حد سے بڑھا ہوا تھا۔بتوں کی پوجا ٰ چھوڑنے کی دعوت ایسی تھی کہ انھوں نے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو خوب برا بھلا کہا اور ان کے قتل کے درپے ہو گئے۔ ان کا ارادہ پختہ تھا کہ بنو ہاشم نے ان کواس عمل کے برے نتائج سے متنبہ کیا تب وہ باز آئے۔مسلمانوں نے حبشہ کوہجرت کی تو ان کا یہ عزم ایک بار پھر عود کر آیا۔ایک بارعمر نے ایک مسلمان ہو جانے والی لونڈی کو اتنا مارا کہ خود تھک کر بے حال ہو گئے،ابوبکروہاں سے گزرے تو انھوں نے اس لونڈی کو خرید کر آزاد کیا۔
مشہور روایت یہ ہے کہ عمر بن خطاب نے بعثت نبوی کے چھٹے سال ہجرت سے ۴ سال قبل ذو الحجہ کے مہینے میں اسلام قبول کیا، تب ۴۵مرداو ر۲۱ عورتیں مسلمان ہوئی تھیں اور عمر۲۷ برس کے تھے۔یہ بھی معلوم ہے کہ اسی وقت حبشہ کو پہلی ہجرت ہوئی جس میں قریباً۹۰ مسلمانوں نے شرکت کی جب کہ ۴۰مسلمان مکہ رہے۔ اس طرح حساب لگایا جائے تو اس وقت کل مسلمانوں کی تعداد ۱۳۰ بنتی ہے۔عمر کے مسلمان ہونے کی وجہ ان کی قومی عصبیت بتائی جاتی ہے،وہ دین قریش پر اسلام کی آمد سے پڑنے والی مصیبت کا ازالہ چاہتے تھے کہ ہجرت حبشہ نے ان میں قریش کے تتر بتر ہونے کاشدید احساس پیدا کر دیا۔ ام عبداﷲ بنت ابو حثمہ سے ان کی جو گفتگو ہوئی، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے بکھرنے پر رنجیدہ تھے۔انھیں اس کا حل یہی سوجھا کہ اسلامی دعوت کے منبع محمدکو(نعوذ باللہ) قتل کر دیں تاکہ قوم پھر متحد ہو جائے۔ابو جہل نے اس پرانھیں۱۰۰ اونٹ اور ۱۰۰۰ اوقیہ چاندی انعام دینے کا وعدہ کیا۔ وہ اپنی تلوار لہراتے ہوئے دار ارقم کو روانہ ہوئے جہاں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) اور مسلمان مجتمع تھے۔راستے میں نعیم بن عبداﷲ ملے ،انھوں نے سمجھایا کہ اگر تم نے محمدکو قتل کیا تو بنو عبد مناف تمھیں جیتا نہ چھوڑیں گے۔تم اپنے گھر کے معاملات کیوں نہیں سدھار لیتے ۔ تمھاری بہن فاطمہ بنت خطاب اور بہنوئی سعید بن زید مسلمان ہو چکے ہیں۔عمرفوراً واپس پلٹے،بہن کے گھر میں حضرت خباب بن ارت سورۂ طہٰ کی تعلیم دے رہے تھے۔ اپنے بہنوئی سے گتھم گتھا ہوئے اور بہن کا سر پھاڑ دیا۔اس سب کے باوجود ان کے ارادے میں کوئی کمی نہ پا کر بالآخر انھوں نے قرآن کا وہ صفحہ مانگا جو وہ پڑھ رہے تھے ۔آیات قرآنی تلاوت کرنے کی دیر تھی کہ ان کی کیفیت بدل گئی اور رونے لگے۔ حضرت خباب نے اس موقعے کا فائدہ اٹھایا اور انھیں آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی وہ دعا سناکر دعوت اسلام دے ڈالی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حال ہی میں فرمائی تھی:’’اے اﷲ ،اسلام کوابوالحکم بن ہشام (ابو جہل) یا عمر بن خطاب کی تائید عطا کر ۔‘‘ عمرنے فی الفور خدمت نبوی میں پیش ہونے کی خواہش کی۔حضرت خباب انھیں کوہ صفا کے قریب ایک گھر میں لے آئے۔ جہاں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور کچھ صحابہ جمع تھے، ان سب کے سامنے عمر نے اسلام قبول کر لیا۔ دوسری روایات کے مطابق جوحضرت عمرنے خود بیان کیں، خانۂ کعبہ میں آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سورۂ حاقہ کی آیات’ انہ لقول رسول کریم و ما ہو بقول شاعر قلیلاً ما تؤمنون ولا بقول کاہن قلیلاً ما تذکرون تنزیل من رب العالمین‘’’بے شک یہ ایک بزرگ فرشتے کا (لایا ہوا) کلام ہے اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں،تم بہت کم ایمان لاتے ہو اور نہ قول ہے کسی کاہن کا ،تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔تمام جہانوں کے رب کی طرف سے اتارا ہوا ہے۔‘‘(۴۰۔۴۳) کی تلاوت سن کر ان کا دل پسیج گیا اور وہ مسلمان ہوگئے۔(مسنداحمد)
جب حضرت عمر کو محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اور اسلام کے سچا ہونے کا یقین ہو گیا تو ان کی قومی عصبیت حق کے لیے عصبیت میں بدل گئی۔انھیں یقین ہو گیا کہ قوم اس نئے دین کے اندر پھر متحد ہو جائے گی۔حضرت عمر کے قبول اسلام پر آمادہ ہو جانے اور ابو جہل کے کفر پر اصرار کرنے کی ظاہری وجوہ یہ ہیں:ابو جہل بنو عبد شمس میں سے ہونے کی وجہ سے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے مخاصمت رکھتا تھا،کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو عبد مناف سے تعلق رکھتے تھے،زمان�ۂ جاہلیت سے ان دونوں قبیلوں میں باہمی مفاخرت کی کشمکش رہی ہے۔ حضرت عمر کے قبیلے بنو عدی اور بنو عبد مناف کے بیچ ایسا تنافس نہ تھا ۔عمررضی اللہ عنہ مسلمان ہوتے ہی اسلام کی تبلیغ پر کمر بستہ ہو گئے۔انھوں نے اپنے اسلام کی خبرفوری طور پرابو جہل کو دی پھر جمیل بن معمر جمحی کو جا کر بتایا جو بات پھیلانے میں مشہور تھا۔اس نے حرم کے باہر کھڑے ہو کر شور مچا دیا کہ عمرصابی ہو گیا، سب لوگ عمر پر پل پڑے اور انھیں پیٹنا شروع کر دیا ۔اس موقع پر عاص بن وائل سہمی نے ان کو بچایا۔اسی نے قریش کو خبر دار کیا کہ اگر تم نے عمر(رضی اللہ عنہ) کو نقصان پہنچانا چاہا تو میں اس کا ساتھ دوں گا۔ حضرت عمر کی ترغیب پر نبی صلی اﷲ علیہ وسلم مسلمانوں کی دو قطاریں بنا کر کعبہ کو روانہ ہوئے ، ایک قطار میں حضرت حمزہ اور دوسری میں حضرت عمر تھے ۔قریش کو ان کے قریب آنے کی جرات نہ ہوئی۔اس طرح مسلمان بیت اﷲ میں علانیہ نمازیں ادا کرنے لگے۔حضرت عبداﷲبن مسعودحضرت عمر کے اسلام کو ایک فتح قرار دیتے ہیں،ان کے مسلمان ہونے کے بعد قریش کے کئی ایسے افراد نے اسلام قبول کیا جو مسلمانوں کو دی جانے والی اذیتوں سے خوف زدہ ہو کر قبول اسلام سے ہچکچا رہے تھے۔
زیادہ عرصہ نہ گزراتھاکہ قریش کی ایذا رسانی پھر بڑھ گئی۔انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کنبے کا مقاطعہ کر کے اسے شعب ابو طالب میں محصور ہونے پر مجبور کر دیا۔تین سال کے اس بائیکاٹ میں رسو ل اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم حرام مہینوں میں مکہ کو اترتے ،باہر سے آئے ہوئے حاجیوں کواپنی دعوت پیش کرتے اور کھانے پینے کی اشیا ذخیرہ کر لیتے ۔یہ محاصرہ ختم ہوا پھرعام حزن گزر ا تو عقبہ کی پہلی اور دوسری بیعتیں ہوئیں ۔حالات کے پیش نظر مسلمان یثرب کو جانے لگے پھر خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذن ہجرت ہوا۔اس تمام عرصے میں حضرت عمر کا کیا کردار رہا، تاریخ اس بارے میںیکسر خاموش ہے ۔گمان ہے ،وہ بھی شدائد برداشت کرتے رہے ہیں۔اس دوران میں ان سے متعلق کوئی واقعہ ذکر نہ ہوا، اس لیے کہ تحمل و برداشت کے اس دور میں ان کی شجاعت و فتوت کا اظہار نہ ہو سکتا تھا۔ حضرت عمر بھی ہجرت کرنے والوں میں شامل ہو گئے، عام خیال ہے ، انھوں نے بھی تمام مسلمانوں کی طرح پوشیدہ طور پر کوچ کیا تاہم حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ وہ مکہ چھوڑنے سے پہلے بیت اﷲ گئے ،طواف کیا اور قریش کو چیلنج کر کے شہر سے نکلے۔(ابن عساکر)یہ بات قرین قیاس نہیں لگتی، اس لیے کہ پیغمبر علیہ السلام کا عام فرمان تھا کہ مسلمان خاموشی سے تنہا یا چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں ہجرت کریں۔قبا پہنچ کر حضرت عمرنے حضرت رفاعہ بن عبد المنذر کے گھر قیام کیا جن کا تعلق قبیلۂ بنو عمرو سے تھا ۔بعدمیں جب نبی صلی اﷲ علیہ وسلم او رحضرت ابو بکر وہاں پہنچے توحضرت عمر آپ کا استقبال کرنے والوں میں شامل تھے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ پہنچے اور مسجد نبوی اوراس سے ملحقہ حجرۂ رسول کی تعمیر میں حصہ لیا۔ آپ کے حکم سے مدینہ میں مواخات قائم ہوئی توعتبان بن مالک خزرجی عمررضی اللہ عنہ کے بھائی بنے۔ اگرچہ حضرت ابوبکر،حضرت معاذ بن عفرااورحضرت عویم بن ساعدہ کے ساتھ عمررضی اللہ عنہ کی مواخات کی روایتیں بھی موجود ہیں، لیکن وہ قوی نہیں۔ انصار و مہاجرین کے اس بھائی چارے نے مشرکوں اور یہودیوں کی عسکری قوت کو گہنا دیا ،یہی وجہ ہے کہ یہود مسلمانوں کے ساتھ پر امن بقاے باہمی کا معاہدہ کرنے پر مجبور ہو گئے۔
مدینہ منورہ میں عمررضی اللہ کی صلاحیتیں بروے کار آنے کے مواقع بھی فراہم ہو گئے۔ یہاں ان کی صفت اجتہاد نمایاں ہوئی۔نماز کے لیے مسلمانوں کو بلانے کا طریقہ سوچنا پڑا تو بگل یا سنکھ کی تجویزیں سامنے آئیں، اگرچہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم انھیں نا پسند کرتے تھے۔ حضرتعمر کی ذمہ داری لگی ،صبح بازار سے دو لکڑیاں لا کرناقوس(سنکھ) بنائیں کہ انھیں خواب آیا ، ناقوس نہ بجاؤ ،بلکہ نماز کے لیے اذان دیا کرو۔روایت ہے کہ حضرت عبداﷲ بن زید کو بھی ایسا ہی خواب آیا ،ایک فرشتے نے ان سے ناقوس خرید لیا اور کلمات اذان تلقین کیے۔یہودیوں کی سازشوں کا توڑ کرنے اور قریش کو مرعوب کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرایا بھیجنے شروع کیے تو حضرت حمزہ،حضرت عبیدہ بن حارث،حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبد اﷲ بن جحش کو امیر مقرر کیا اور عمررضی اللہ عنہ کو مدینہ میں مقیم رکھنا پسند فرمایا ۔ نجران کے عیسائیوں سے عقائد کی بحث چھڑی تو حضرت عمر کی شدید خواہش تھی کہ انھیں فیصلہ کرنے کے لیے بھیجا جائے، کیونکہ یہی سفارت تو ان کا آبائی پیشہ تھا، لیکن پیغمبر علیہ السلام کی نگہ انتخاب ابوعبیدہ بن جراح پرپڑی۔
بدر کے موقع پر آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ سے قریش کے تین گنا بڑے لشکر سے جنگ کرنے یا واپس لوٹ جانے پر مشورہ کیا تو حضرت ابو بکر کی طرح حضرت عمربھی جنگ کا مشورہ دینے والوں میں شامل تھے۔ ان کا آزاد کردہ غلام مہجع بن صالح اس معرکے کا پہلا شہید تھا۔خودانھوں نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو جہنم واصل کیا۔جنگ کے خاتمے پر قریش کے ۷۰افراد مسلمانوں کی قید میں آئے، اکثر یت ان کے سرداروں اور زعما کی تھی۔قیدیوں نے ابو بکررضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ انھیں ویسے ہی یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے جبکہ حضرت عمر کا اصرار تھا کہ اﷲ کے ان دشمنوں کی گردنیں اڑا دی جائیں،جنھوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو جھٹلایا ،انھیں مکہ چھوڑنے پر مجبور کیااورپھر ان سے جنگ و قتال کیا۔آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ سے مشورہ فرمایا تو فیصلہ ہوا کہ فدیہ لے کر قیدیوں کو چھوڑ دیا جائے۔فوراً آسمان سے وحی نازل ہوئی:’تریدون عرض الدنیا واﷲ یرید ا لآخرۃ‘،’’تم دنیا کا مال (فدیہ)چاہتے ہو اور اﷲ آخرت کا مطالبہ کرتا ہے ۔‘‘(الانفال۸:۶۷)اس طرح حضرت عمر کا موقف درست ثابت ہوا۔
سال گزرا تھا کہ قریش بدر کی جنگ کا بدلہ لینے کے لیے احد میں اکٹھے ہوئے۔ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھم نے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو عمامہ اور زرہ پہنائی۔احد میں ابتدائی فتح ہوئی پھر شکست کا سامنا کرناپڑا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کی افواہ پھیلی توتمام اسلامی لشکر منتشر ہوگیا۔ حضرت عمر بھی مایوس ہوکر بیٹھ گئے، لیکن جیسے ہی حقیقت کا پتا چلا فوراً پلٹے اور آپ کا دفاع کرنے والوں میں شامل ہو گئے۔خالد بن ولید پہاڑ کے اوپر سے پیغمبر صلی اﷲ علیہ وسلم پر حملہ کرنا چاہتے تھے، لیکن حضرت عمر اور دوسرے صحابہ نے ان کا حملہ ناکام بنا دیا۔عزوۂ بنی مصطلق کے موقع پر ایک انصاری اور ایک مہاجر کا پانی پر جھگڑا ہو گیا تو عبداﷲ بن ابی نے کہاکہ سر زمین یثرب میں ہمیشہ ہم بر سر اقتدار رہے ہیں ،ہم کیسے گوارا کر سکتے ہیں کہ جو ذلیل ہمارے ہاں پناہ لینے آئے ہیں ہمارے آدمیوں کو طمانچے ماریں ،ہم انھیں مدینہ سے نکال باہر کرتے ہیں ۔’یقولون لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الاعز منہا الاذل‘،’’(منافقین)کہتے ہیں،اگر ہم مدینہ لوٹ کر گئے تو معززترین انتہائی ذلیل کووہاں سے نکال باہر کرے گا۔‘‘(المنافقون۶۳:۸) آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک خبر پہنچی ، حضرت عمر پاس تھے ، انھوں نے آپ کو مشورہ دیاکہ عباد بن بشر کو کہیں کہ ابن ابی کو قتل کر دے۔ آپ نے جواب میں فرمایا: کتنی بری بات ہے ،لوگ کہیں گے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کرا دیتا ہے۔ رئیس المنافقین کی وفات کے بعدنبی صلی اﷲ علیہ وسلم اس کا جنازہ پڑھانے لگے تو عمررضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر اسلام کے خلاف اس کی چلی ہوئی چالیں بیان کرنے لگے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تدفین سے فارغ ہوئے تھے کہ یہ آیات نازل ہوئیں:’ولا تصل علی احد منہم مات ابداً ولا تقم علی قبرہ‘،’’ان (منافقین) میں سے جو مر جائے کبھی اس کی نماز جنازہ نہ پڑھنااور نہ(تدفین کے لیے) اس کی قبر پر کھڑے ہونا ۔‘‘(التوبہ۹:۸۴)یوں عمررضی اللہ عنہ کی رائے پھر صحیح ثابت ہوئی۔
صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اکرم صلی اﷲعلیہ وسلم نے حضرت عمر کو مکہ بھیجناچاہا تاکہ قریش کو مسلمانوں کی آمد کے مقصد اورعمرے کے پرو گرام کے بارے میں بتائیں۔حضرت عمر نے کہاکہ مجھے قریش کی طرف سے اپنی جان کا خطرہ ہے، کیونکہ بنو عدی میں میری حمایت میں اٹھنے والا کوئی نہیں رہا۔عثمان رضی اللہ عنہ اس کام کے لیے موزوں ہیں۔ پھر مسلمانو ں اور قریش میں معاہدۂ صلح ہوا ،حضرت عمر اس معاہدے کی شرائط پر سخت معترض ہوئے۔پہلے حضرت ابو بکر پھر رسو ل اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم کے پاس پہنچے۔ شدید جذباتی کیفیت میں پوچھا:کیا آپ اﷲ کے رسول نہیں؟کیا ہم مسلمان نہیں؟کیا یہ لوگ مشرک نہیں؟ اثبات میں جواب ملنے پر کہا ،تو کس لیے ہمیں دین میں کم تر حیثیت دی جا رہی ہے؟اس پرجب آپ نے فرمایا کہ میں اﷲ کا بندہ اوراس کا رسول ہوں ،اس کے حکم کی خلاف ورزی نہ کروں گا اور وہ مجھے ہر گز ضائع نہ کرے گاتو حضرت عمر خاموش ہوگئے۔یہ واحد موقع تھا جس میں وحی نے حضرت عمر کے موقف کو غلط ثابت کیا۔ بعد میں وہ صدقہ اورصوم و صلوٰۃ کے ذریعے سے اپنی اس جسارت کی معافی مانگتے رہے۔
ہجرت کے بعد اگرچہ کئی سال تک شراب ممنوع نہ ہوئی تھی، لیکن حضرتعمر محسوس کرتے رہے کہ شراب پی کر اپنے ہوش و حواس قائم نہ رکھ سکنا، جن کی بدولت بعض قباحتیں وجود میں آتی ہیں اس لیے شراب نوشی سے اجتناب کرنا ضروری ہے ۔انھوں نے رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:
ےَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَےْسِرِ قُلْ فِےْہِمَآ اِثْمٌ کَبِےْرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ، وَ اِثْمُہُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِہِمَا.(البقرہ۲:۲۱۹)
’’لوگ آپ سے شرا ب اور جوئے (کے حکم)کے بارے میں پوچھتے ہیں۔کہہ دیں ،ان دونوں(کے استعمال ) میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فوائدبھی ہیں اور ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت بڑھا ہواہے۔‘‘
اس میں اگرچہ شراب کی تحریم نہ تھی۔ لیکن اس کا گناہ ہونا واضح کر دیا گیا تھا۔ بعض ایسے مسلمان جو رات کو کثرت شراب نوشی کے عادی تھے، ان کے لیے نماز فجردشوار ہوجاتی ۔عمررضی اللہ عنہ پھر آئے اور شراب کی اس برائی کے بارے میں حکم معلوم کیا، تب یہ آیت اتری:’ےٰایہا الذین آمنوا لا تقربوا الصلاۃ وانتم سکاریٰ حتیٰ تعلموا ما تقولون‘ ’’اے لوگو،جو ایمان لائے ہو،نماز کے قریب نہ پھٹکو جب تم نے نشہ کیا ہو حتیٰ کہ تمھیں معلوم ہو کہ تم کیابول رہے ہو۔‘‘(النسا۴:۴۳) پھر ایک واقعہ ہوا۔ ایک انصاری اور ایک مہاجر شراب پی کر اونٹ کا گوشت کھا رہے تھے کہ کسی بات پران کا جھگڑا ہو گیا۔انصاری نے اونٹ کی ہڈی پکڑی اورمہاجر کے سرپر دے ماری، اس کا سر پھٹ گیا ۔دو قبیلوں میں لڑائی ہوئی تو پھر ایسی صورت حال پیدا ہوئی۔حضرت عمر تیسری مرتبہ یہ قضیہ سامنے لائے کہ شراب تو عقل اور مال کی دشمن ہے ۔اب اﷲ کا حتمی حکم آ گیا :
ےآاَیُّہَا الَّذِےْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَےْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّےْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ. اِنَّمَا ےُرِےْدُ الشَّےْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَےْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَالْمَےْسِرِ وَےَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اﷲِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ فَہَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ.(المائدہ۵:۹۰۔۹۱)
’’اے ایمان لانے والو،بے شک شراب، جوا، بتوں کے تھان اور فال کے تیر یہ سب ناپاک، شیطان کے کام ہیں ،ان (میں سے ہر ایک )سے بچو تاکہ تم فلاح پا سکو۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تم میں دشمنی اور نفرت پیدا کرے اور تمھیں اﷲ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم ان سے باز آؤ گے؟‘‘
عمر رضی اللہ عنہ کو محض عام مسلمانوں کے حالات کی فکر دامن گیر نہ ہوتی تھی، بلکہ وہ خود نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذاتی معاملات میں بھی مفید مشورے پیش کرتے ۔امہات المومنین رات کے وقت قضاے حاجت کو نکلتیں تو حجاب نہ ہونے کی وجہ سے پہچانی جاتیں ۔حضرت عمر نے مشورہ دیا ،آپ کے پاس برے بھلے ہر طرح کے لوگ آتے ہیں، اگر اپنی ازواج کو حجاب کا کہہ دیں تو بہتر ہے۔ ان کے مشورہ دینے کے بعد آےۂ حجاب نازل ہوئی۔ ان کی بیٹی حضرت حفصہ آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی حضرت عائشہ سے زیادہ محبت کا تذکرہ کرتیں توان کو سمجھاتے اسی طرح جب سیدہ ماریہ کے ہاں ابراہیم کی ولادت ہوئی اور نومولود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت کا مرکز بن گیا تو حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ نے دوسری ازواج مطہرات کے ساتھ اتحاد کرکے حالات میں کشیدگی پیدا کر دی، اور معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ آپؐ انھیں چھوڑنے پر آمادہ ہو گئے۔ تب عمر رضی اللہ عنہ نے ان سب کو اﷲ کی ناراضی سے خبر دار کیا۔دوسری طرف انھوں نے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو صلح پر آمادہ کیا۔اہم امور میں دل چسپی رکھنے کی وجہ سے آں حضرت نے انھیں اپنا وزیر قرار دیا۔آپ انھیں ’یا اخی‘(میرا بھائی) کہہ کر بلاتے تو وہ بہت خوش ہوتے۔آپ ہی نے انھیں فاروق کا لقب بھی عطا فرمایا۔
وہ عمر جو سختی اور درشتی میں مشہور تھے، جب رسو ل اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو حواس میں نہ رہے اور کہنے لگے کہ منافق سمجھتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں ۔وہ تو اپنے رب کے پاس گئے ہیں، اسی طرح جیسے موسیٰ بن عمران چالیس راتوں کے لیے گئے تھے اور مردہ کہلانے کے بعد لوٹ آئے تھے۔جب ابوبکر نے کہا کہ جو محمد کی بندگی کرتا تھا ،جان لے کہ محمد وفات پا گئے ہیں، یہ سن کر حضرت عمر گویا ڈھے گئے۔
مطالعۂ مزید:السیرۃ النبویہ (ابن ہشام)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبد البر)،الفاروق عمر (محمد حسین ہیکل )،تاریخ اسلام ( اکبر شاہ خاں نجیب آبادی)،اردو دائرۂ معارف اسلامیہ(پنجاب یونیورسٹی

عمر رضی اﷲ عنہ کو اپنے پیارے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے انتقال کا یقین ہوگیا تو وہ ا س فکر میں مصروف ہو گئے کہ آپ کے بعد ملت اسلامیہ کی کیا صورت ہو گی؟ انھیں علم تھاکہ صرف مسلمانوں کی وحدت ہی انھیںآنے والے فتنوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے، چنانچہ وہ فوراً امین امت ابو عبیدہ بن جراح کے پاس پہنچے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی اجازت چاہی۔ انھوں نے جواب دیا: جب سے تم نے اسلام قبول کیا ہے ، میں نے ایسی نادانی کی بات تم سے نہیں سنی۔ کیاتم میری بیعت کرو گے، جب کہ ثانی اثنین صدیق ہمارے درمیان موجود ہیں؟ ان کی گفتگو جاری تھی کہ انھیں سقیفۂ بنی ساعدہ میں انصار کے اجتماع کی خبر ملی۔ عمر نے فوراً ابو بکر کو بلایا جورسو ل اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین کے انتظام میں مصروف تھے اور یہ تینوں سقیفہ کی طرف چل پڑے ۔ابوبکر نے بڑی نرمی سے انصار کو سمجھایا کہ آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے فرمان کی روشنی میں خلیفہ قریش سے ہونا چاہیے۔ عمر خاموش بیٹھے رہے،جب حباب بن منذر نے انصار و مہاجرین سے دو الگ الگ خلیفہ بنانے کی تجویز پیش کی تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا: نبی صلی اﷲ علیہ وسلم قریش میں سے تھے اور عرب صرف قریش ہی کی خلافت پر راضی ہوں گے ۔ان دونوں میں تلخ کلامی ہوئی تو ابو عبیدہ نے یوں مداخلت کی: اے انصاریو، تم نصرت و حمایت میں سب سے آگے تھے، اب اس حمایت دین کو چھوڑنے اور بدل دینے میں اولیت نہ اختیار کرو۔ان کی اس بات سے انصار نرم پڑے ،ابوبکر نے اتحاد امت کے لیے یہ موقع غنیمت جان کر عمر اور ابو عبیدہ، دونوں کا ہاتھ پکڑا اور انصار کوان میں سے ایک کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی دعوت دی۔ اس مرحلے پر سیدنا عمر ہی نے فیصلہ کن کردار ادا کیا، انھوں نے ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو ہاتھ بڑھانے کو کہا اور یہ کہہ کر ان کی بیعت کر لی کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ ہی کو مسلمانوں کی امامت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ،آپ ہی خلیفۂ رسول ہوں گے۔عمر کے بعد ابو عبیدہ اورانصار کے بشیر بن سعد نے بیعت کی اور پھر تمام مہاجرین و انصار بیعت کے لیے ٹوٹ پڑے۔ یوں خلافت کا یہ قضیہ بخیر وخوبی انجام کو پہنچا۔دوسرے روز عمر نے لوگوں سے معذرت کی کہ مجھے غلط فہمی تھی کہ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود رہیں گے، اس لیے مجھ سے ایسا طرز عمل سرزد ہوا، انھوں نے سب مسلمانوں کو خلیفۂ اول کی بیعت عام کی دعوت دی۔
خلافت کا فیصلہ ہونے کے بعددوسرا اہم مسئلہ جیش اسامہ کو روانہ کرنا تھا۔ اسامہ بن زید نے عمر رضی اﷲ عنہ کی وساطت سے حضرت ابو بکر سے درخواست کی کہ وہ ان کے جیش کو مدینہ بلا لیں تاکہ وہ مشرکین کے خلاف ان کی مدد کرسکے ۔ادھر انصار نے عمر کے ہاتھ خلیفۂ اول کو پیغام بھیجا کہ اگر لشکرضرور بھیجنا ہے تو اسامہ سے زیادہ عمر رکھنے والا جرنیل مقرر کریں۔ عمر یہ دونوں مطالبات لے کر ابو بکر کے پاس پہنچے تو انھوں نے انتہائی سخت جواب دیا کہ اگر مجھے کتے اور بھیڑیے اچک لے جائیں تو بھی اس فیصلے کو رد نہ کروں گا جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کیا ہو۔ اس لشکر میں عمر ایک عام سپاہی کی حیثیت سے شامل تھے،ابو بکر لشکر کو رخصت کرکے واپس لوٹنے لگے تھے کہ انھوں نے اسامہ سے درخواست کی کہ عمر کو میری مدد کے لیے چھوڑ جائیں،ان کی اجازت ہی سے عمر مدینہ آ سکے۔مدینہ کے پڑو س میں رہنے والے قبائل عبس و ذبیان نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تو بھی ان دو جلیل القدر اصحاب رسول کا اختلاف ظاہر ہوا۔ عمر ان لوگوں میں شامل تھے جومانعین زکوٰۃ کے خلاف فوج کشی نہ کرناچاہتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمان ہے: جس نے کلمۂ لا الٰہ کہہ دیا مجھ سے اپنے مال و جان بچا لیے ۔ ابوبکرنے جواب دیا کہ اﷲ کی قسم میں اس شخص سے ضرور قتال کروں گا جس نے نماز اور زکوٰۃ میں فرق کیا، اس لیے کہ یہ دونوں فرائض اس کلمے ہی کا حق ہیں ۔عمر فرماتے ہیں کہ مجھے یہ محسوس ہوا کہ اﷲ نے ابو بکر کو اس بارے میں شرح صدر عطا کیا ہے، میں نے تب جان لیا کہ وہ حق پر ہیں۔مانعین سے نمٹنے کے بعد مرتدین سے جنگ کا مرحلہ آیا تو عمر اور دوسرے اصحاب رسول نے کوئی اعتراض نہ کیا، کیونکہ وہ ابو بکر کی فراست و بصیرت سے آگاہ ہو چکے تھے۔ اسی سلسلے کی جنگ بطاح میں اسلامی فوج کے سپہ سالارخالد بن ولید نے مرتد قبیلے بنو تمیم کے سردار مالک بن نویرہ کو قتل کرنے کے بعد اس کی بیوہ سے شادی کر لی تو اس معرکے میں شریک ایک انصاری صحابی ابوقتادہ اور مالک کا بھائی متمم بن نویرہ مدینہ آئے۔یہ دونوں سیدنا ابوبکر سے ملے اور الزام لگایا کہ مالک کو اسلام قبول کرنے کے بعد قتل کیا گیا اور خالد اس کی بیوی کو زمانۂ جاہلیت سے پسند کرتے تھے۔ ابوبکر نے مالک کی دیت اس کے بھائی کو ادا کی،ابو تمیم کے قیدیوں کو چھوڑنے کاحکم دیا اور ابوقتادہ کی خالد پر طعنہ زنی کو نا پسند کیا۔ابو قتادہ حضرت عمر کے پاس جا پہنچے، سیدنا عمر نے خلیفۂ اول سے مطالبہ کیا کہ وہ خالد سے مالک کاقصاص لیں۔وہ نہ مانے پھر سیدنا عمر نے خالد کی معزولی پراصرار کیا،بات اس وقت ختم ہوئی، جب ابوبکر نے دو ٹوک جواب دیا کہ میں اس تلوار کو میان میں نہ ڈالوں گا جو اﷲ نے کافروں پر سونتی ہے ۔خالد مدینہ آئے تو ابوبکر نے انھیں تنبیہ کر کے مسیلمہ کذاب کی سر کوبی کے لیے روانہ کر دیا ۔جنگ یمامہ کے بعد خالد بن ولید نے بنو حنیفہ کے سردار مجاعہ کی نوجوان بیٹی سے شادی کی تو ابو بکر نے انھیں خط لکھا کہ تمھارے سامنے ۱۲۰۰ مسلمان شہیدہوئے اور تم عورتوں سے نکاح کرتے پھرتے ہو۔ خالد نے خیال ظاہر کیا، اس سرزنش کے پیچھے میرے بھانجے عمر بن خطاب کا ہاتھ ہے۔
یمامہ کی جنگ میں قرآن کے کئی حفاظ شہید ہوئے تو عمر ہی تھے جنھوں نے ابو بکرکو مشورہ دیا کہ قرآن مجید کو مصحف کی شکل میں جمع کیا جائے۔ وہ متردد تھے کہ یہ کام نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہیں کیا تو میں کیسے کروں ؟ عمر نے انھیں دلائل سے قائل کیا۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب زید بن ثابت کے ہاتھوں یہ عظیم فریضہ سر انجام پایا۔ ابوبکر نے مسلمانوں سے عراق کی طرف فوجیں بھیجنے کے بارے میں مشورہ کیا تو کسی نے حوصلہ افزا جواب نہ دیا۔ عمرنے پکار کر کہا: لوگو ، تمھیں کیا ہو گیا ہے ؟رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ تمھیں ایک ایسے کام کی دعوت دے رہے ہیں جس میں تمھاری بقا اور زندگی ہے تب سب جہاد کے لیے آمادہ ہو گئے۔عراق کی جنگ انتہائی اہم تھی ،اس میں فتح ہوئی تو عظیم اسلامی سلطنت کی بنیاد پڑی۔ ابو بکرکے عہد خلافت میں عمر دو سال قاضی رہے، مگر ان کے پاس کوئی قضیہ نہ آیا،یہ اس پاکیزہ دور کی کرامت سے اور عمر کے بے لاگ عدل کی شہرت کی وجہ سے ہوا۔کوئی یہ توقع نہ کر سکتا تھا کہ ان کے سامنے غلط حقائق پیش کر کے یا چرب زبانی سے کام لے کر اپنے حق میں فیصلہ کرا سکتا ہے۔ مر ض الموت میں ابو بکر نے خلیفہ کا انتخاب کرنا ضروری سمجھا، عبد الرحمان بن عوف ، عثمان،سعید بن زیداور دوسرے اصحاب رسول کے مشورے سے انھوں نے عمر بن خطاب کو اپنا جان نشین مقرر کیا، انھوں نے مسجد نبوی میں جھانک کر وہاں موجود لوگوں سے اپنے فیصلے کی تائیدبھی کرائی۔پھر انھوں نے عمر کو بلایا اور عراق و شام میں جنگ جاری رکھنے کی وصیت کی، انھوں نے ان کو حق پر چلنے کی تلقین کی۔
۲۲ جمادی الثانی ۱۳ھ کی رات ابو بکر کی تدفین سے فارغ ہو کرعمر گھر آئے اور اگلے روز ،اپنی خلافت کے پہلے دن کی مصروفیت کے بارے میں سوچنے لگے۔ انھوں نے اﷲ سے صحیح راہ سجھانے کی دعا کی۔فجر کی نماز کے بعدان کی بیعت کا سلسلہ شروع ہوا ،ظہر کے وقت خوب بھیڑ ہو گئی تو وہ منبر پر بیٹھے اور حمد و ثنا اور صلاۃ و سلام کے بعد ابوبکر کے فضائل بیان کیے اور فرمایا کہ لوگو، میں تمھاری طرح کاآدمی ہوں اگر مجھے خلیفۂ رسو ل اﷲ کی حکم عدولی کا خوف نہ ہوتا تو میں تمھاراسر براہ نہ بنتا ۔ انھوں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور دعا کی کہ اے اﷲ ،میں سخت ہوں،مجھے نرم کر دے۔ اے اﷲ، میں کمزور ہوں، مجھے قوت دے دے۔ا ے اﷲ، میں بخل رکھتا ہوں، مجھے سخی دل بنا دے۔پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ مجھے تمھار ا جو معاملہ درپیش ہو گا ،اسے اچھے طریقے سے اور امانت داری سے نمٹانے میں کوئی کسر نہ چھوڑوں گا۔نماز کی امامت سے فارغ ہونے کے بعد انھوں نے حاضرین کو مثنیٰ بن حارثہ کے ساتھ عراق جانے کی دعوت دی۔ لوگوں نے تردد ظاہر کیا، کیونکہ انھیںیاد تھا کہ شام کا معرکہ ابو عبیدہ بن جراح ،عمرو بن عاص اور یزید بن ابو سفیان سے سر نہ ہوا تھا اور خالد بن ولید ہی کی مدد سے اس میں فتح حاصل ہوئی تھی۔عمر نے توقف کیا اور واپس مسجد نبوی کو ہو لیے جہاں لوگ ان کی بیعت کرنے کے منتظر تھے۔عشا کے بعد فراغت ہوئی ،یہ رات بھی انھوں نے سوچتے سوچتے جاگ کر گزاری۔ بیعت اگلے دن بھی مسلسل جاری رہی،ظہر کے وقت انھوں نے سب کو ہدایت کی کہ ارتداد کی جنگوں میں مرتدین کے پکڑے ہوئے قیدی لوٹا دیں۔
بیعت تیسرے روز بھی جاری رہی ،جب لوگ نماز ظہر ادا کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے تو عمر نے ان سے پھر خطاب کیا، مجھے معلوم ہوا ہے کہ لوگ میری سختی سے خوف زدہ ہیں۔ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے غلام اور خادم کی طرح رہا،میں ایک تلوار کی طرح تھا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ سلم اس تلوار کو میان کے اندر کر دیتے۔ ابوبکر خلیفہ بنے تو میں ان کا ساتھی اور مددگار بن گیا، میری سختی ان کی نرمی سے مل جاتی اور وہ مجھے کنٹرول کر لیتے۔ تمھارے معاملات کی ذمہ داری مجھ پر آئی تو میری سختی نرم پڑ گئی ہے ۔اب یہ مسلمانوں پر ظلم و تعدی کرنے والوں کے لیے مخصوص ہو گئی ہے ، دین و سلامتی رکھنے والوں کے لیے میں تم سب سے زیادہ نرم ثابت ہوں گا۔جو کسی پرظلم کرے گا ، میں اس کا رخسار زمین پر رکھ کر اس کے دوسرے رخسار پر اپنا پاؤں رکھ دوں گاحتیٰ کہ وہ حق کا اقرار کرے۔اس کے ساتھ ساتھ امن کے ساتھ رہنے والوں اور نیکی کرنے والوں کے لیے میں اپنے گال زمین پر بچھا دوں گا۔مجھ پر لازم ہے کہ تمھاری آمدن میں سے کوئی نا جائز وصو لی نہ کروں،تمھیں زیادہ وظیفے دوں ،تمھاری سرحدوں کی حفاظت کروں اور تمھیں گھروں سے زیادہ دور نہ رکھوں۔اﷲ کا تقویٰ اختیار کرو اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ پھرعمر نے ظہر کی نماز پڑھائی اور گھر چلے گئے۔لوگ ان کی تقریر سے متاثر ہوئے، البتہ عراق و ایران جانے سے خوف زدہ رہے۔عصر کے وقت مثنیٰ بھی آئے ،انھوں نے کہا کہ لوگو، ہم نے ایران کے بہترین سرحدی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے ،ان شاء اﷲ ہمیں آیندہ بھی فتوحات حاصل ہوں گی۔ پھر عمر گویا ہوئے کہ اﷲ اپنے دین کو غالب کر رہا ہے، وہ اپنے مددگار کو غلبہ عطا کرے گا اور اپنے بندوں کو امتوں کی میراث دے گاتو کہاں ہیں اﷲ کے نیک بندے؟ ابو عبید ثقفی اور سلیط بن قیس بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئے۔ رفتہ رفتہ مدینہ سے ایک ہزار مسلمان جہاد میں شامل ہونے کونکل آئے۔ حضرت عمر مسلمانوں کا یہ اجتماع دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔اب اس دستے کی سربراہی کا مسئلہ تھا جس میں صرف اہل مدینہ شامل تھے، یہ لوگ بنو بکر بن وائل کے مثنیٰ کو قیادت نہیں دینا چاہتے تھے۔ عمر نے پہلے رضاکار ابو عبید کو لشکر کی قیادت سونپی، انھیں اصحاب رسول سے مشورہ کرنے اور جنگ میں جلد بازی سے بچنے کی نصیحت کی پھرلشکر کو فوری طور پر کوچ کرنے کا حکم دیا ۔
حضرت ابو بکر کی وفات کے اگلے روز ہی حضرت عمر نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کو خط لکھا جس میں خلیفہ کی وفات کی خبر کے ساتھ حضرت خالد بن ولید کی معزولی اور ان کی جگہ ابو عبیدہ کو سپہ سالار مقرر کرنے کا فرمان درج تھا۔ انھوں نے یہ نصیحت بھی لکھی کہ مال غنیمت کی امید میں مسلمانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالنا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد کو فوری طور پر معزول کرنا کیوں ضروری سمجھا؟ اہل تاریخ نے اس ضمن میں بہت کلام کیا ہے ۔اصل میں وہ حضرت ابوبکر کے عہدہی میں انھیں ہٹوانا چاہتے تھے، لیکن ان کے بار بار کے مشوروں کو ابو بکر نے رد کیا۔ ابو بکرخالد کے بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشاد ات کو اپنا مطمح نظر بنائے ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد کو سیف اﷲ قرار دیا تھا اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی قرار دی ہوئی تلوار کو میان میں ڈالناابو بکرکے بس میں نہ تھا۔پھر خالد کی کارکردگی ایسی رہی کہ کوئی اس معیار تک نہ پہنچ سکا ۔ان کے بر عکس عمر سخت محاسبہ کرنے والے تھے، اپنے دور خلافت میں انھوں نے اپنے گورنروں اور عمال کا کڑا محاسبہ کیا، لہٰذا ان کے مزاج کے مطابق اس کے سوا کوئی فیصلہ نہ ہو سکتا تھا کہ اپنے سپہ سالار کے کردار پر کوئی داغ دھبہ بھی برداشت نہ کیا جائے اور اسے چلتا کیا جائے۔ خالد کے بارے میں ان کی رائے پہلے سے بنی ہوئی تھی اور اسی پرانھوں نے عمل کر دیا۔ ان کو خالد پریہ اعتراض بھی تھا کہ وہ جنگ میں جلد بازی کرتے ہیں جس سے بے گناہ افراد کی جانوں کو خطرہ رہتا ہے ۔ اس کے برعکس وہ ابو عبیدہ کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے،ان کے پیش نظر بھی آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد رہا جس میں آپ نے ابو عبیدہ کو اس امت کا امین قرار فرمایا تھا ۔ سربراہ مملکت کے لیے اپنی پسند کے ماتحت کے ساتھ کام کرنا آسان ہوتا ہے، وہ اس کی بات یہاں تک کہ اشارے کو سمجھ لیتا ہے یوں امور مملکت نمٹانا آسان ہو جاتا ہے ، یہ امر بھی اس سلسلے میں فیصلہ کن رہا۔
نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے مدینہ میں رہنے والے یہودیوں کے ساتھ باہم امن وسلامتی سے رہنے کے معاہدات فرمائے، لیکن جب انھوں نے بدر و احد کی جنگوں میں مشرکوں کی مدد کر کے ان معاہدوں کی خلاف ورزی کی تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان سے قتال کر کے انھیں مدینہ سے نکال باہر کیا۔ محض خیبر میں کچھ یہودی رہ گئے جو نصف پیداوار دینے کی شرط پر اپنی زمینیں کاشت کرنے کے لیے آزاد تھے۔ نجران کے عیسائیوں سے بھی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جزیہ وصول کرنے کی شرط پر صلح فرمائی۔ خلافت صدیقی میں یہ معاہدے برقرار رہے۔ عمرفاروق خلیفہ بنے تو انھوں نے ان عہود پر نظرثانی کی ضرورت محسوس کی، ان کی دلیل تھی کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ کے آخری دور میں نصیحت فرمائی تھی: جزیرۂ عرب میں دو دین نہ رہنے دیے جائیں۔ (مسند احمد، مسند سیدہ عائشہ) انھوں نے یمن کے گورنر یعلیٰ بن امیہ کو ذمہ داری سونپی کہ نجران کے عیسائیوں میں سے جو اپنے دین پر قائم رہنا چاہتا ہے، اسے حدود عرب سے نکال کر یمن یاجزیرۂ عرب کے نواح میں آباد کردیا جائے۔ مستشرقین نے عمر رضی اﷲ عنہ کے اس اقدا م کو تعصب قرار دیا ہے۔ مسلمان مورخین نے اس کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں جن میں سے بعض درست بھی ہیں، لیکن صحیح وجہ یہ ہے کہ عہدفاروقی میں جزیرہ نماے عرب کی وحدت قائم ہو چکی تھی، اس لیے پیغمبر علیہ السلام کے اس فرمان پر عمل کرنا ممکن ہو گیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ کو تلقین کی کہ اہل نجران کوعیسائیت پر قائم رہنے کی کامل آزادی دی جائے ، ان کی جان ومال کا تحفظ کیا جائے اور انھیں جزیرۂ عرب سے باہر ویسی ہی یا اس سے بہتر زمینیں دی جائیں جس طرح کی وہ حدود عرب میں رکھتے تھے ۔خلیفۂ ثانی کے اس حکم کو گزشتہ صدی کی پروٹسٹنٹ اورکیتھولک عیسائی حکومتوں کے طرز عمل سے کسی طرح مشابہ قرار نہیں دیا جا سکتا جو انھوں نے اپنے اپنے مخالف فرقے کے عیسائیوں کو جلا وطن کرکے، انھیں گوناگوں اذیتیں دے کر اور ان کی جانیں لے کر روا رکھا۔ عیسائیوں کے بعد عمر نے خیبر کے یہودیوں کو بھی جزیرۂ عرب سے باہر آباد ہونے کا حکم دیا تو کسی کو حیرت نہ ہوئی، کیونکہ یہ ان کی اسی پالیسی کا تسلسل تھا۔
مطالعۂ مزید: الکامل فی التاریخ(ابن اثیر)، البدایہ والنہایہ(ابن کثیر)، الفاروق عمر (محمد حسین)، رحمۃ للعالمین (قاضی سلیمان منصور پوری)، تاریخ اسلام (اکبر شاہ خاں نجیب آبادی)

اﷲ تعالیٰ کی مداولۂ ایام کی سنت جاری تھی، اسلام قبول کرنے کے بعد عرب نئے جذبے کے ساتھ ابھر رہے تھے تو ایرانی ا ندر سے کمزور پڑ رہے تھے ۔ شیرویہ بن خسرو پرویز (قباذ دوم۶۲۸ء )نے تخت شاہی پر بیٹھتے ہی اپنے باپ خسروپرویز(خسرو دوم۵۰۹ تا ۶۲۸ء) اور سترہ بھائیوں کو قتل کرادیا تھا اور پھر خود اسے بھی زہر دے کر ماردیا گیا ، اس طرح چار برس کے اندر نو بادشاہ بدلے گئے۔ جب ایرانی بادشاہ گروں نے اردشیر(۶۲۸ء تا ۶۲۹ء ) کے بیٹے شہر یران (۶۲۹ء)کو متفقہ طور پر بادشاہ بنایاتو اسے بھی جنگ بابل میں ایسی شکست ہوئی کہ اس صدمے سے چڑھنے والے بخار نے اس کی جان لے لی۔ پھراس کا بیٹا سابور (۶۲۹ء)راج گدی پر بیٹھا تو وہ بھی محلاتی سازشوں کا شکار ہوا، اسے اس کی بہن آزر می دخت نے قتل کیا۔
خلیفۂ ثانی نے ابو عبید ثقفی کو عراق جانے والے لشکر کی قیادت سونپ کر مثنیٰ بن حارثہ کو اکیلے حیرہ کی طرف روانہ کر دیا تھا۔جب وہ حیرہ پہنچے توکسریٰ (خسرو) کی بیٹی بوران(۶۲۹ء تا ۶۳۱ء) تخت نشین ہو چکی تھی ،ایرانی جرنیل رستم نے آزر می دخت کی فوج کو شکست دے کر اس کا راستہ صاف کیا تھا، اس لیے بوران نے اس کو وزیر اعظم اور ایرانی افواج کا سپہ سالار مقرر کیا ۔مثنیٰ ایران میں ہونے والی اتھل پتھل سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، لیکن وہ اکیلے کچھ نہ کر سکتے تھے۔ادھرابو عبید کو اپنا لشکر تیار کرتے کرتے ایک ماہ لگ گیا، مدینہ سے چلا ہواان کاچار ہزار کا جیش راستے میں شامل ہونے والے دستوں کو ملا کر دس ہزار ہو چکا تھا۔ ان کے عراق پہنچنے پر مثنیٰ خبان جا چکے تھے،انھیں رستم کی فوجی تیاریوں کا علم ہوا تو انھوں نے محفوظ مقام پر جانا بہتر سمجھا ۔ رستم نے مسلمان فوجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دو لشکرتیار کیے تھے،ایک جابان کی قیادت میں حیرہ کو چلا تو دوسرا نرسی کی سالاری میں دجلہ و فرات کے بیچ واقع کسکر کو روانہ ہوا۔نمارق کے مقام پر ابو عبید ثقفی کی سپاہ اور جابان کی فوج میں سخت جنگ ہوئی جس میں جا بان کو شکست ہوئی، وہ اوراس کا کمانڈر مردان شاہ قید ہوئے۔ بوران کو معلوم ہوا تو اس نے جالینوس کی سر کردگی میں نرسی کے لشکر کو کمک بھیج دی۔ابو عبید نے جالینوس سے زیادہ تیز رفتاری اختیار کی اور سقاطیہ کے مقام پر نرسی کے لشکر کوجا لیا۔ لڑائی نے طول پکڑا تو قلب کے کمانڈر مثنیٰ بن حارثہ اپنے دستے کو جدا کر کے چار کوس کا چکر کاٹ کرایرانی لشکر پر عقب سے حملہ آور ہوئے۔اب نرسی نے ثابت قدمی نہ دکھائی، اس کی فوج تتر بتر ہو گئی اوراس نے بہت سا مال غنیمت چھوڑ کر راہ فرار پکڑی۔شکست کی خبر سن کر جالینوس کی فوج نے بارسما(باقشیا) کے مقام پر پڑاؤ ڈال دیا، ابو عبید نے پیش قدمی کر کے اس پر حملہ کیا اور اسے بھی ہزیمت سے دو چار کیا ۔ابو عبید اور مثنیٰ کی فوجی کارروائیوں سے ایرانی حکومت کی مدد کرنے والے زمین دار (دہقان) گھبرا گئے اور انھوں نے اسلامی فوج سے صلح کر لی۔ جنگ سقاطیہ سے حاصل ہونے والے مال غنیمت میں سے خمس عمر کی خدمت میں مدینہ بھیج دیا گیا،خود فوجیوں کو نرسیان نامی کھجور سے بڑھ کر کوئی شے پسند نہ آئی۔
سپہ سالار رستم اسلامی افواج کی کامیابی سے بہت جزبز ہوا ، اس نے اہل دربار کی رائے لی کہ کون سا جرنیل عربوں کا سخت مقابلہ کر کے اپنی شکستوں کا بدلہ لے سکتا ہے؟جواب ملا: بہمن جاذویہ۔ چنانچہ رستم نے تین ہزار سپاہ،تین سو ہاتھی اور کثیر سامان جنگ دے کر بہمن جاذویہ کو روانہ کیا ۔جالینوس پھر ساتھ تھا، آگے چیتے کی کھال کا بنا ہوا خسروی پرچم درفش کاویانی پھڑپھڑ ا رہا تھا۔یہ لشکر دریاے فرات کے کنارے واقع قس ناطف پر مقیم ہوا۔ابو عبید بن مسعود نے دوسرے کنارے پر مروحہ کے مقام پرڈیرا ڈالا۔چند روز کی خاموشی کے بعد باہمی رضامندی سے دریا پر پل تعمیر کیا گیا ۔بہمن نے ابو عبید سے دریافت کیا کہ تم دریا عبور کرو گے یا ہم ادھرآئیں؟ ان کے ساتھیوں نے ایرانیوں کو دریا کے اس پار بلانے کا مشورہ دیا، لیکن ابو عبید نے اسے عزت کا مسئلہ سمجھا،ان کے نزدیک خود پیش قدمی نہ کرنا کم ہمتی تھی ۔وہ حضرت عمر کی نصیحت بھول گئے کہ’’تم مکر و خیانت والی سرزمین کی طرف جا رہے ہو۔اصحاب رسول صلی اﷲ علیہ وسلم سے مشورہ کیے بغیر کوئی قدم نہ اٹھانا‘‘اور سلیط بن قیس رضی اﷲ عنہ کی اس دہائی کو نظر انداز کر دیا کہ ایرانی کیل کانٹے سے لیس ہو کر آئے ہیں ،ان سے دریا کے اس پار مقابلہ کرنا مناسب ہے ۔ ایرانی لشکر اور دریا کے بیچ چھوٹا سا میدان مسلمان فوج سے کھچا کھچ بھر گیا ،یہاں محدود نقل وحرکت ہی ممکن تھی ۔جب ہاتھیوں پر سوار اگلے ایرانی دستو ں نے تیر اندازی شروع کی تو مسلمانوں کے گھوڑے بدک گئے۔ابو عبید نے پیادہ حملہ کرنے کا حکم دیا، اب ہاتھی پیدل فوج کو کچلنے لگے،مسلمان سپاہیوں نے کئی ہاتھیوں کی سونڈیں کاٹیں اور ان کے سواروں کو گرا کر مارا، لیکن تا بہ کے؟خود ابو عبید پر ایک زخمی سفید ہاتھی چڑھ دوڑا اور ان کی پسلیاں توڑ ڈالیں،ان کی شہادت کے بعد ان کے مقرر ہ بنو ثقیف کے چھ آدمیوں نے کمان سنبھالی اور باری باری جام شہادت نوش کیا ۔آٹھویں علم بردار مثنیٰ بن حارثہ ہوئے ،تب تک اسلامی لشکر مائل بہ فرار ہو چکا تھا۔عبداﷲ بن مرثد نے دریا کاپل توڑ ڈالا ،اب لوگ دریا میں گرنے لگے۔مثنیٰ فارسی فوج کے سامنے ڈٹ گئے اور پل دوبارہ تیار کرنے کا حکم دیا۔انھوں نے بچے کھچے فوجیوں کو دریا پار کرنے کا موقع دیا اور خود آخر میں لوٹے۔۹ ہزار مسلمانوں میں سے ۶ ہزار شہید ہو گئے جن میں سلیط بن قیس،عتبہ،عبداﷲ اور ابو امیہ فزاری جیسے صحابہ شامل تھے۔اسلامی فوج نے شکست تو کھائی، ایرانیوں کا بھی کم نقصان نہ ہوا۔ان کے بھی ۶ ہزار جنگجو کھیت رہے اور اتنی ہمت نہ رہی کہ فرار ہوتی ہوئی فوج کا تعاقب کرتے ۔ صرف جابان اور مردان شاہ کچھ فوج لے کر مثنیٰ کے پیچھے الّیس تک آئے ۔یہ پکڑے گئے اوران سب کی گردنیں اڑا دی گئیں۔یہ الم ناک معرکہ جسے جنگ جسر(پل والی جنگ) کا نام دیا گیا، شعبان ۱۳ھ میں پیش آیا۔سب سے پہلے عبداﷲ بن زید مدینہ پہنچے، پھر کچھ اور لوگ گردنیں جھکائے شرمساری سے لوٹے، لیکن زیادہ تر شرمندگی کے مارے مدینہ کے نواحی دیہاتوں میں ٹک گئے۔جنگ میں شامل بنو نجار کے قاری معاذ جب ’ومن یولہم یومئذ دبرہ الا متحر فالقتال او متحیزا الی فءۃ فقد باء بغضب من اﷲ و مأواہ جہنم و بئس المصیر‘ ’’اور جو اس (جنگ کے ) دن ان (کافروں) کو پیٹھ دکھائے گا بغیر اس کے کہ جنگ ہی کے لیے داؤ چل رہا ہو یا کسی (فوجی) گروہ سے ملنا چاہتا ہو ،واقعتاًوہ اﷲ کے غضب کا شکار ہو گا ،جہنم اس کا ٹھکانا ہو گا اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔‘‘ (انفال۸ :۱۶) والی آیت تلاوت کرتے تو رونا شروع کر دیتے۔عمر بن خطاب ان کو تسلی دیتے ، معاذ، نہ روؤ،میں تمھاری فوج ہوں اور تو میری پناہ میں آیا ، میں ہر مسلما ن کی فوج ہوں۔حضرت عمر کا عمل نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے اس قول کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے جو آپ نے غزوۂ موتہ سے بچ کر بھاگ آنے والوں کے بارے میں فرمایا۔ آپ کا ارشاد تھا:’’وہ فرار اختیار کرنے والے نہیں، بلکہ اﷲ نے چاہا تو پلٹ کر حملہ کرنے والے ہوں گے۔‘‘
اب حضرت عمر فاروق نے اہل فارس کا مقابلہ کرنے کے لیے خاص اہتمام کیا اور مثنیٰ کی مدد کے لیے تازہ دم فوج تیار کی۔ سب رضا کار شام جانا چاہتے تھے ،حضرت عمر نے خمس کا ایک چوتھائی دینے کا وعدہ کر کے بنو بجیلہ کو عراق جانے پر راضی کیا۔جنگ جسر سے بچ کر آنے والے بھی ساتھ ہو لیے پھر بنوازد ، بنو کنانہ اور دوسرے کئی قبائل نے شمولیت اختیار کی۔ خود مثنیٰ نے عراق سے نئی بھرتیاں کیں،بنو نمر و تغلب کے نصاریٰ اور عراق میں مقیم عرب ایرانیوں کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہو گئے ۔ ادھر ایران میں اقتدار رستم اور فیرزان میں بٹ چکا تھا، ان دونوں نے عرب میں پروردہ مہران ہمدانی کی قیادت میں ۱۲ ہزار کا لشکر تیار کر کے روانہ کیا، ہاتھی پھر مقدمۂ جیش میں تھے ۔مثنی نے جریربجلی کو جلد پہنچنے کا پیغام بھیجا اور فرات کے کنارے مقام بویب پر چھاؤنی ڈال دی۔دریا پھر دو فوجوں میں حائل تھا،اب کے بار مہران نے مثنیٰ کو دریا کے اس پار آنے کی دعوت دی تو انھوں نے ایرانی لشکر کو دریا عبور کرنے کو کہا۔ایرانیوں نے بویب پہنچ کر اپنی فوج تین صفوں میں ترتیب دی ،ہر صف میں ہاتھی شامل تھے۔مثنیٰ نے اپنے شموس نامی گھوڑے پر سوار ہو کر لشکر کا چکر لگایا ، سپاہیوں کو جوش دلایا اورفرض روزہ کھولنے کا مشورہ دیا۔ابھی انھوں نے حملہ شروع کرنے کے لیے نعرۂ تکبیر بلند کیا تھا کہ ایرانی لشکر مسلمان فوج پر ٹوٹ پڑا۔مسلمان فوج میں شامل بنوعجل کا دستہ اکھڑنے لگا تھا کہ مثنی ٰ نے انھیں عار دلائی ، مسلمانوں کو رسوا نہ کرنا۔پھر وہ گھمسان کے رن میں صفیں چیرتے ہوئے ایرانی سپہ سالار مہران کے سر پر پہنچ گئے ،اس پر ایساشدید حملہ کیا کہ وہ اپنی پوزیشن چھوڑنے پر مجبور ہو گیا ۔ایرانی اپنے کمانڈر ان چیف کو بچانے کے لیے پلٹے تھے کہ مسلمان فوج اس زور سے حملہ آور ہوئی کہ انھیں دریا کی طرف دھکیل دیا۔ جنگ کا پانسہ پلٹا توایرانی بھاگنے کے لیے دریا کے پل کو مڑے،اسی اثنا میں مثنیٰ کے دستوں نے پل توڑ کر انھیں پیچھے سے گھیر لیا ۔وہ مسلمان فوج میں بری طرح گھر گئے ،ایک ایک مسلمان نے دس دس ایرانی مارے، اس لیے جنگ بویب کو دسیوں والی جنگ (یوم الاعشار) بھی کہا جاتا ہے ۔ایک تغلبی عیسائی نے مہران کو قتل کیا۔اگلے روز بھی ایرانیوں کا قتل جاری رہا،ان کے مقتولوں کی تعداد ۱یک لاکھ شمار کی گئی ۔ایرانیوں کی لاشیں وہیں پڑی رہیں ،کوئی انھیں اٹھانے والا نہ تھا۔ایک طویل مدت کے بعد جب کوفہ کی تعمیر ہوئی تو ان کی بچی کھچی ہڈیوں پر مٹی ڈالی گئی ۔مسلمان شہدا کی گنتی صرف ایک سو تھی۔اسلامی فوج نے زندہ بھاگنے والوں کا ساباط تک تعاقب کیا۔یوم بویب رمضان۱۳ھ میں پیش آیا۔اس کے بعد مثنیٰ نے خنافس اور انبار کو فتح کیا،دجلہ پہنچ کر انھوں نے بغداد اور تکریت کو زیر کیا تو عراق کی فتح مکمل ہو گئی۔
اہل فارس کی قسمت کا فیصلہ ہونا ابھی باقی تھا، دارالخلافہ مدائن ان کے پاس تھا ۔ فیرزان اور رستم نے آپس کی لڑائی کو موقوف کیا اورنام کی ملکہ بوران بنت خسرو پرویز (۶۲۹ء تا ۶۳۱ء)کو مشورہ دیا کہ شاہی خاندان کے تمام افراد جمع کر کے کسی مرد کو اقتدار سونپا جائے ۔اس کے بھائی اور پیش رو شیرویہ بن خسرو پرویز (قباذ دوم۶۲۸ء) نے اپنے باپ خسرو پرویز(خسرودوم۵۹۰ ء تا ۶۲۸ء ) اور بھائیوں کو قتل کرایا اور خود بھی ہلاک ہوگیا تو شاہی خاندان کا صرف ایک بچہ، دونوں کا بھتیجا یزدگرد بن شہر یار بن خسرو پرویز بچا،جسے اس کی ماں نے مامووں کے پاس بھیج دیا۔ اس کی عمر ۲۱ سال ہو چکی تھی ، اسے بلا کر دادا کا تخت سونپا گیا اور تمام اعیان سلطنت اس کے معاون بن گئے۔ اقتدار کی کش مکش ختم ہوئی تو ایرانی مسلمانوں سے انتقام لینے کی تیاریاں کرنے لگے۔ مثنیٰ بن حارثہ کو معلوم ہوا تو انھوں نے خلیفۂ ثانی عمر بن خطاب کو لکھ بھیجا کہ ایرانیوں کا جوابی حملہ ہوا تو آس پاس کے زمین دار اور نصاریٰ پھر ان سے جا ملیں گے۔ خط حضرت عمر تک پہنچانہ تھا کہ انھیں اپنا لشکر لے کر ذی قار جانا پڑا، وہ وہاں پہنچ کرخلیفہ کی مدد کا انتظار کرنے لگے۔عمر رضی اﷲ عنہ حج کو روانہ ہو رہے تھے ، انھوں نے خط پڑھ کر کہا :بخدا، میں ایرانی شہنشاہوں کا عرب بادشاہو ں کے ذریعے سے قلع قمع کر دوں گا،پھر مثنیٰ کوپیغام بھیجا کہ ربیعہ و مضر کے سرحدی قبائل کو طلب کر کے اپنی جمعیت مضبوط کرواور خود بھی سرحدوں کے پاس محفوظ علاقے میں آجاؤ۔جب وہ حج سے لوٹے تو مدینہ عراق جانے کے لیے تیار افراد سے بھر چکا تھا، چار ہزار کے اس لشکر کے مقدمہ پر انھوں نے طلحہ کو، میمنہ پر زبیر بن عوام کو اور میسرہ پر عبدالرحمان بن عوف کو مقرر کیا اور خود کمانڈر ان چیف کی جگہ سنبھالی ۔حضرت علی کو اپنا قائم مقام بنا کر مدینہ سے روانہ ہوئے۔ لشکر چشمۂ صرار پہنچا ،اہل لشکر بضد تھے کہ حضرت عمر ہی قیادت کر تے ہوئے ایران جائیں ۔ اسی اثنا میں حضرت عثمان بن عفان آئے اور مشورہ دیا:امیرالمومنین کا خود ایران کوچ کرنا مناسب نہیں، عبدالرحمان بن عوف نے ان کی تائید کی۔ دیگر اکابر صحابہ سے مشورہ کیا گیا تو یہی فیصلہ ہوا کہ حضرت عمر مدینہ میں مقیم رہیں۔ لشکر کی سر براہی کے مشورے جاری تھے کہ نجد سے سعد بن ابی وقاص کا خط موصول ہوا جس میں ایک ہزار سواروں کا دستہ تیار کرنے کی اطلاع دی گئی تھی۔ سب پکار اٹھے ،امارت جیش کے لیے حضرت سعد ہی موزوں ہیں۔ وہ صرارپہنچے تولشکر روانہ ہوا۔حضرت عمر نے حضرت سعد کو نصیحت کی کہ تمھیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ماموں ہونا کسی دھوکے میں نہ ڈال دے ۔اﷲ کے دین میں اعلیٰ اور کم تر ذاتوں والے برابر ہیں۔رسو ل اﷲ جس عمل کو نہ چھوڑتے تھے ،تم بھی اسی سے چپکے رہنا۔لشکر کی روانگی کے بعد بھی حضرت عمر مدینہ آنے والے رضاکاروں کو شمولیت کے لیے بھیجتے رہے۔ لشکر ثعلبہ تک پہنچا تھا کہ مثنیٰ کو اجل نے آن لیا ، جنگ جسر میں انھیں آنے والے زخم بگڑ کر جان لیوا ثابت ہوئے، مرتے وقت انھوں نے بشیر بن خصاصیہ کو اپنی آٹھ ہزار کی فوج کا کمانڈر مقرر کیا ۔مدینہ سے دو ہزار یمنی اور دو ہزار نجدی بہادروں کی کمک آئی،شراف میں بنو اسد کے تین ہزار اور اشعث بن قیس کے دو ہزار ساتھی شامل ہوئے ، مثنیٰ کے آٹھ ہزار فوجی آَ ملے اورشام سے ہاشم بن عتبہ نے آٹھ ہزار کی سپاہ بھیجی تو فوجیوں کی تعداد تینتیس ہزار سے زیادہ ہو گئی ۔لشکر میں بیعت رضوان میں حصہ لینے والے تین سواصحاب رسول اور ستربدری صحابہ شامل تھے،کئی جنگ جو ، خطیب، شاعر اور سردار،جیسے عمرو بن معدی کرب،طلحہ بن خویلد اور اشعث بن قیس بھی اس میں موجود تھے ۔مثنیٰ کے بھائی معنیٰ اپنی قوم بنو بکر بن وائل کی طرف گئے تاکہ انھیں قابوس بن منذر کی دعوت پر خسروی فوج میں شامل ہونے سے روکیں۔
شراف ہی کے مقام پر خلیفۂ ثانی کا قادسیہ کی طرف کوچ کرنے کاحکم موصول ہوا۔انھوں نے مثنیٰ کی وصیت کے مطابق ایسی جگہ مورچے قائم کرنے کی ہدایت کی جہاں آگے ایرانی سر زمین اور پیچھے عرب کے پہاڑ ہوں۔ سعد کا لشکرقادسیہ کو روانہ ہو ا،راستے میں غدیب کے مقام پر ایرانیوں کا بارود خانہ آیا تو اس کا سامان سمیٹ لیا گیا۔قادسیہ پہنچ کر اسلامی فوج کو دو ماہ انتظار کرنا پڑا،ایران کی مقتدر قوتوں میں سے وزیر دفاع رستم حملہ نہ کرنے کے حق میں نہ تھا، لیکن جب فرات کے وسطی علاقے کے لوگوں نے بار بار فوج کی موجودگی سے خبردار کیا تو شاہ یزدگرد نے رستم ہی کو فوج کی کمان دیتے ہوئے قادسیہ جانے کا حکم دیا۔اس نے مدائن سے نکل کر ساباط میں پڑاؤ ڈالا اور وہاں رہ کر سامان حرب سے مکمل آراستہ ڈیڑھ لاکھ فوج اکٹھی کر لی ۔فاروق اعظم نے جنگ سے پیش تر یزدگرد کو اسلام کی دعوت پیش کرنے کے لیے ایک وفد بھیجنے کی ہدایت دی۔چنانچہ نعمان بن مقرن،قیس بن زرارہ، اشعث بن قیس، فرات بن حیان، عاصم بن عمر،عمرو بن معدی کرب،مغیرہ بن شعبہ،معنیٰ بن حارثہ، عطارد بن حاجب، بشیربن ابو رہم، حنظلہ بن ربیع اورعدی بن سہیل پر مشتمل ایک سفارت مدائن پہنچی۔درباری سادہ وضع وقطع والے سفیروں کو دیکھ کر حیران ہو گئے۔یزدگرد نے رسمی سوالات پوچھنے کے بعد کہاکہ تمھار ی قوم ذلیل و احمق سمجھی جاتی تھی ،اب تم ہمارے مقابلے پر اتر آئے ہو۔ہم تمھاری سر کشی کو اپنے عاملوں اور صوبے داروں کے ذریعے سے دور کر دیتے تھے۔نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے کہاکہ ہم دنیا سے شرک و بت پرستی مٹانے آئے ہیں ، جو اسلام قبول نہیں کرتا ،جزیہ ادا کر کے ہماری حفاظت میں آ جائے، ورنہ تلوار ہمار ے اور اس کے درمیان فیصلہ کرے گی ۔ یزدگرد بولا:تم ہمارے ملک پر قبضہ کرنے کی خواہش نہ کرو۔ہم تمھارے غلے اور کپڑے لتے کا انتظام کر کے تم پر کوئی نرم حاکم مقرر کر سکتے ہیں۔اب قیس بن زرارہ آگے بڑھے اور یوں تقریر کی: اﷲ نے ہم پر بڑا فضل کیا کہ اس خراب حالت سے نکالنے کے لیے ہمارے اندر ایک نبی مبعوث کیا۔تمھار ے لیے یہی مناسب ہے کہ اسلام قبول کر لو یا جزیہ دینے پر راضی ہو جاؤ،ورنہ تلوار فیصلہ کرے گی۔یزدگرد آپے سے باہر ہو گیا اوردھمکی دی کہ رستم جلد تم سب کو قادسیہ کی خندق میں دفن کر دے گا پھراس نے مٹی سے بھری ٹوکری منگوائی اور قائد وفد عاصم کے کندھے پر رکھ کر دربار سے باہر نکال دیا۔سعد بن ابی وقاص نے اس مٹی کی ٹوکری کو بھی ایک نیک فال سمجھا ،گویا ملک ایران کی مٹی ان کے قبضے میں آ گئی ہے۔
مطالعۂ مزید:البدایہ والنہایہ(ابن کثیر)، الفاروق عمر (محمد حسین ہیکل )،تاریخ اسلام (اکبر شاہ خاں نجیب آبادی)، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ(جامعۂ پنجاب)۔

سیرت و عہد
جنگ قادسیہ کا ذکر کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ شام کے محاذ کی تفصیلات بیان کی جائیں، اس لیے کہ وہاں کچھ واقعات اس جنگ سے پہلے پیش آئے جب عمر رضی اﷲ عنہ مدینہ میں فوج تشکیل دے رہے تھے ، جب مثنیٰ بن حارثہ نے وفات پائی اور کچھ قریباً اسی زمانے میں جب اسلامی فوجیں قادسیہ میں ایرانیوں کے خلاف صف آرا ہوئیں۔ پھر ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے پہلے شام کے جہاد میں حصہ لیا ا ور بعد ازاں ایران چلے آئے، جیسے خالد بن ولید، ہاشم بن عتبہ اور ابو عبیدہ بن جراح۔
ابو بکر رضی اللہ عنہ کے آخری ایام میں چھڑنے والی جنگ یرموک میں فتح پانے کے بعد نئے کمانڈر ان چیف ابوعبیدہ بن جراح نے خمس مدینہ بھیجا اور خلیفۂ ثانی عمر رضی اﷲ عنہ کو مطلع کیا کہ وہ یرموک بشیر بن سعد حمیری کی نگرانی میں دے کر مرج الصُفّر جار ہے ہیں۔ انھوں نے یہ اطلاع بھی بھیجی کہ یرموک کے شکست خوردہ فِحل میں جمع ہو رہے ہیں،دوسری طرف شاہ روم ہرقل نے حمص سے دمشق کی طرف نئی فوج روانہ کی ہے ۔ ابو عبیدہ نے خلیفہ سے اجازت چاہی کہ اردن کے مقام فِحل پر حملہ کیا جائے یا دمشق کا رخ کیا جائے؟ حضرت عمر نے فوراً پیغام بھیجا ،دمشق پر حملہ کیا جائے جو شام کا قلعہ اور دارا لخلافہ ہے۔ابو عبیدہ نے خط ملتے ہی ابو اعورسُلمی کی قیادت میں دس دستے فِحل بھیج دیے اور خود خالد بن ولید کے ساتھ ایک بڑی فوج لے کر دمشق کو چلے۔فحل کے لوگوں نے اسلامی فوج کی آمد کی خبر سنی تو بحیرۂ طبریہ اور نہر اردن کا پانی کھول دیا۔ مسلمان لشکر کا راستہ کیچڑ سے بھر گیا اوراس کی پیش قدمی رک گئی۔اسے اسی حالت میں رکنا پڑا یہاں تک کہ دمشق کو جانے والی فوج فارغ ہو کر اس کی مدد کو پہنچ گئی۔ادھرابو عبیدہ کا لشکر تیزی سے نہروں، چشموں اورسرسبز وادیوں والی سر زمین عبور کر کے دمشق جا پہنچا، راستے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی ۔دمشق کا نواحی علاقہ غُوطہ خالی ہو چکا تھا ، وہاں کے ساکنان شہر پناہ کے اندر جا چکے تھے۔ موٹے پتھروں سے چنی ہوئی چھ گز بلند فصیل کے گردا گرد تین گز چوڑی خندق کھدی ہوئی تھی اور اس کے کنارے نہر بَرَدی کا پانی جاری تھا۔ شہر کا دفاع کرنے کے لیے کئی منجنیقیں اور سینکڑوں تیر انداز موجود تھے۔ ابوعبیدہ بن جراح کواندازہ ہو گیا کہ فتح پانے کے لیے طویل محاصرہ کرنا ہو گا۔انھوں نے اپنے سپاہیوں کو غوطہ کے خالی گھروں میں قیام کرنے کا حکم دے دیا اور خودہرقل کی طرف سے آنے والی ممکنہ فوجی مدد بے اثرکرنے کی تدبیر کرنے لگَے۔ چنانچہ انھوں نے ذو الکلاع حمیری کی قیادت میں ایک لشکر روانہ کیا جس نے حمص اور دمشق کے راستے میں چھاؤنی ڈال دی، علقمہ بن حکیم اور مسروق عکی کی سربراہی میں دوسرے لشکر نے فلسطین سے دمشق آنے والی کمک کا راستہ کاٹ دیا۔اب وہ قلعے کی طرف بڑھے اورتوما،فرادیس ،کیسان کے دروازوں پرعمرو بن عاص، شرحبیل بن حسنہ اوریزید بن ابو سفیان کی نگرانی میں علیحدہ علیحدہ دستے مقرر کر دیے اور خود جابیہ کی ذمہ داری سنبھالی۔ خالد بن ولید مشرقی دروازے پر تھے ، پاس صلیبا کا بت خانہ تھاجو بعد میں دیر خالد کے نام سے مشہورہو گیا۔ مسلمانوں نے توپیں اور منجنیقیں نصب کر کے قلعے پر حملہ کرنے کی کوشش کی، لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ حاکم شہر نسطاس اورسالار افواج باہان ہرقل کی کمک کے انتظار میں محاصرے کو طول دیتے گئے،مسلمان بھی قلعہ میں داخل ہونے کا راستہ نہ پا سکے۔ادھرحمص سے آنے والی فوج کی ذو الکلاع کے لشکر سے مڈبھیڑ ہوئی ،ایک سخت لڑائی کے بعد رومی فوج کو شکست کھا کر پلٹنا پڑا۔اب محصورین کوموسم سرما کا انتظارتھا، ان کے خیال میں عرب کے صحرائیوں کے لیے سخت سردی برداشت کرنا مشکل تھا ۔ سرماآ کر گزر گیا، بہار آگئی ،چار ماہ (شوال ۱۳ھ، دسمبر۶۳۴ء تاصفر۱۴ھ، اپریل ۶۳۵ء) ہونے کو آئے، ہرقل کی مدد آئی نہ مسلمان محاصرین ٹلے۔ چنانچہ قلعہ بند صلح کی تدبیریں کرنے لگے ۔
خالد بن ولید اپنی مقررہ پوسٹ مشرقی دروازے پر معین رات دن رومیوں کی ٹوہ میں تھے۔انھیں خبر ملی کہ قلعے کو جانے والے راستے پر کسی بڑے کمانڈر کے گھر میں بچے کی ولادت ہوئی ہے، لوگ خوشیاں منا کراور کھا پی کر مدہوش پڑے ہیں ۔انھوں نے رسوں کی سیڑھیاں اور کمندیں تیار کر رکھی تھیں،رات ہوئی تووہ قعقاع بن عمرو ،مذعور بن عدی اور کچھ اور بہادروں کو لے کر نکلے ،مشکیزوں پر بیٹھ کر بَرَدی کو عبور کیا اور فصیل قلعہ پر کمندیں پھینک کر سیڑھیاں نصب کر لیں۔منڈیر پر پہنچ کر سیڑھیاں کھینچ کراندر کو پھینکیں اور قلعے میں اتر گئے، ان کے ساتھیوں نے نعرۂ تکبیر بلند کیاتو فوج بھی نہر پار کر کے مشرقی دروازے کی طرف لپکی ۔دروازے کے اندر اور باہر متعین پہرے داروں اور مسلمان فوجیوں میں مختصر لڑائی ہوئی اور غافل رومی فوجی جلد مغلوب ہو گئے۔سب سے مضبوط اور اہم مشرقی دروازہ کھل گیا تو باقی دروازے رومیوں نے خود کھول دیے اور امیر جیش حضرت ابو عبیدہ بن جراح سے صلح کر لی۔اس معرکے کے ہیرو بھی حضرت خالد ہی رہے،انھیں شہر کے لاٹ پادری (اسقف)اور جاسوسوں کی مدد حاصل رہی۔
مشرق و مغر ب کی تجارت کا سنگم، قدیم دمشق شہری تہذیب کا ایک نمونہ تھا۔جابیہ سے مشرقی دروازے تک جانے والی سیدھی سڑک کے کنارے پر جوشہر کو مشرقی ومغربی حصوں میں منقسم کرتی ،ہر طرح کے تجارتی مراکز تھے۔ بَرَدی بھی شہر کے بیچ میں سے گزرتی ،اس کے دونوں اطراف پر بڑے بڑے باغات پر مشتمل بلند محلات تھے۔دمشق میں رومی فن تعمیر کا نمونہ ،کئی خوب صورت گرجے بھی تھے،ان کے علاوہ یہاں کے پارک ،اسٹیڈیم اور حمام دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے پھر نعمان بن منذر کے محلات خورنق و سدیر کا کیا کہنا ۔بلاذری کہتے ہیں کہ صلح خالد بن ولید اور اسقف دمشق کے درمیان طے پانے والی شرائط پر ہوئی،ان کے مطابق محض جزیہ کی وصولی پر اہالیان شہر کو امان دی گئی۔ واقدی اس پر اضافہ کرتے ہیں کہ جو لوگ اپنے گھر چھوڑ کر انطاکیہ میں ہرقل کی فوج سے جا ملے ،ان کے گھروں پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا۔طبری کا کہنا ہے کہ رومی محاصرے سے عاجز آ گئے تو انھوں نے شہر میں موجود تمام درہم و دینار اور جائداد کا نصف مسلمانوں کو دینے اور جزیہ ادا کرنے کی شرط مان لی ۔ابن کثیر نے اس کی وضاحت یوں کی کہ آدھا شہرحضرت ابو عبیدہ نے بزور جنگ فتح کیا اور آدھا حضرت خالد نے صلح کے ذریعے سے۔اس لیے ان روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔یوحنا معمدان کے کلیسا کا نصف اسی تقسیم کے مطابق مسجد بنایا گیا،بقیہ نصف خرید کر مسجد میں شامل کرنے کے لیے امیر معاویہ اور عبد الملک بن مروان نے اپنے اپنے عہد میں عیسائیوں کو بھاری رقم دینے کی پیش کش کی، لیکن وہ نہ مانے حتیٰ کہ ولید بن عبدالملک نے اسے زبردستی گرا کر مسجد بنا ڈالی ۔پانچویں خلیفۂ راشد عمر بن عبد العزیز کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہوا تو انھوں اسے دوبارہ کلیسا کی شکل دینے کا حکم دیا۔تب فقہاے دمشق نے نصاریٰ کی منت سماجت کی اور غُوطہ کے تمام مفتوحہ گرجے واپس کر کے یہ نصف بھی بچا لیا۔اس ساری تفصیل کے علی الرغم بلاذری کی روایت کثیرالتواترہے اورقرین قیاس بھی۔ اس کے مطابق یوحنا کاکلیسا عبدالملک بن مروان نے نصاریٰ کی رضامندی سے مسجد میں تبدیل کیا ۔فتح دمشق اور معاہدۂ صلح کی رپورٹ حضرت عمر بن خطاب تک پہنچی تو انھوں نے جزیہ کی شرح میں کچھ تبدیلی کی اور گندم، زیتون، شہد اور چربی کی کچھ مقدار کے علاوہ امرا کے لیے چار دینار اور کم آمدنی والوں کے لیے چالیس درہم مقرر کرنے کا حکم دیا۔
جیش خالد عراق سے آ کر شام کی جنگ میں شامل ہوا تھا، اس میں بڑے بڑے جنگ جو شامل تھے ۔فتح دمشق کے بعد حضرت ابو عبیدہ نے شہدا کے عوض نئی بھرتیاں کیں ، ہاشم بن عتبہ کو قیادت سونپی اور عمر رضی اﷲ عنہ کی ہدایت کے مطابق اسے عراق واپس بھیج دیا۔یہ لشکر عام تجارتی راستے سے ذی قار کے لیے روانہ ہوا،اس وقت کسی کو اندازہ نہ تھاکہ یہ قادسیہ کی جنگ میں حصہ لے گا ۔اسی اثنا میں ہرقل اپنی فوج لے کر حمص سے انطاکیہ کوچ کر گیا ۔ ابو عبیدہ کو ان کے ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ اب حمص فتح کیا جائے تاکہ ہرقل اناضول یا قسطنطنیہ پلٹنے پر مجبور ہو۔اگر ایساہو جاتا تو رومی سلطنت کی کمر ٹوٹ جاتی، لیکن انھوں نے یہ سجھاؤ نہ مانا۔ کیونکہ حضرت عمر کا حکم تھا کہ پہلے شام میں رومی فوج کی مکمل سر کوبی کی جائے۔ ابو عبیدہ بن جراح نے یزید بن ابو سفیان کودمشق کی کمان دی اور خود اردن کے مقامات فحل و طبریہ کا رخ کیا، جہاں اسلامی فوجوں کی پیش قدمی رکی ہوئی تھی اور رومی فوج کو وادئ بیسان میں محصور ہوئے پورا موسم سرما گزرچکا تھا۔ بہار کی آمد کے ساتھ کیچڑ خشک ہونا شروع ہو گیا تھا، فحل میں رومی فوجوں کے کمانڈر سقلار بن مخراق نے مسلمانوں پر اچانک حملہ کرنے کی ٹھانی۔اس نے خشک راستہ ڈھونڈ کر رات کے وقت اسلامی فوج پر دھاوا بول دیا۔اردن میں اسلامی افواج کے سالار شرحبیل بن حسنہ غافل نہ تھے ،سخت جنگ ہوئی جو رات بھر اور اگلا پورا دن جاری رہی، اگلی شب رومیوں کی صفیں اکھڑیں اور سقلارکی فوج شکست کھاگئی۔ادھر سے مسلمان سپاہی تیر اندازی کر رہے تھے ،پیچھے کیچڑ تھا ،رومیوں کا اچانک حملہ خود ان کے لیے وبال بن گیا ۔ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن ،اسی ہزار رومی مارے گئے۔ فحل سے فارغ ہونے کے بعد شرحبیل اور عمرو بن عاص بیسان پہنچے ،وہاں کے قلعہ بند بھی صلح پر مجبور ہو گئے۔ آخری مقام طبریہ تھا جہاں ابو اعور سُلمی محاصرہ کیے ہوئے تھے ،وہاں کے سکان نے خودپیش رفت کی، نصف شہر مسلمانوں کے حوالے کیا اورایک دینار اور ایک پیمانہ گندم فی کس جزیہ دینے پر صلح کرلی۔ اب اذرعات، عمان،جرش ،مآب اور بصریٰ کے باشندوں نے بھی یہی روش اختیار کی اور پورا ملک اردن مسلمانوں کا مطیع ہو گیا۔اس تمام کارروائی کی خبر مدینہ میں خلیفۂ ثانی کو بھیج دی گئی۔
عمر رضی اﷲ عنہ میدان جنگ کی ہر خبر دریافت کرتے ، اپنے ایام تجارت میں وہ ایران و عراق کا بڑا حصہ دیکھ چکے تھے، اس لیے مدینہ میں بیٹھ کر ہر جگہ اور ہر مقام کی رہنمائی کرتے گویا وہ خود لشکر لے کے چل رہے ہیں ۔اگر انھیں فوجوں کی پوزیشن سمجھ نہ آتی تو تفصیل طلب کرتے اور اس کے مطابق فیصلہ دیتے۔ اردن سے فارغ ہونے کے بعدحضرت ابوعبیدہ اور حضرت خالدبن ولید حمص کو چلے تو مدینہ منورہ سے حضرت سعد بن ابی وقاص کی سر کردگی میں تیس ہزار کا لشکرروانہ ہو چکا تھا۔یہ حضرت عمر کی ہدایت پرشراف سے قادسیہ پہنچا تو رستم بن فرخ ذاذ مدائن سے ساباط آیا ، اس نے دارالخلافہ سے قادسیہ پہنچنے میں چار ماہ لگا دیے، کیونکہ اسے علم نجوم کی مدد سے اپنی شکست کا پتا چل چکا تھا۔اس دوران میں سعد نجف، فراض اور دوسرے قبائل پر حملے کر کے غلہ، مویشی اورغنیمتیں لاتے رہے۔ ۱ لاکھ۲۰ ہزارافراد اور ۳سو ہاتھیوں کا لشکرہوتے ہوئے، جس کے مقدمہ میں سابور کے فیل سفید سمیت ۳۳ ہاتھی تھے ،رستم عربوں کو لڑائی کیے بغیر ایران سے باہر نکالنا چاہتا تھا ۔اس نے سالار مدمقابل حضرت سعد بن ابی وقاص کو بات چیت کا پیغام بھیجا۔انھوں نے حضرت ربعی بن عامر کو بھیجا۔رستم دیبا و قالین کے فرش بچھائے، سونے کے تخت پر بیٹھا تھا۔ حضرت ربعی نے گھوڑا ایک گاؤ تکیے سے باندھا اور تیر سے قالین چاک کرتے ہوئے تخت پر آن بیٹھے ۔درباریوں نے منع کیا تو انھوں نے خنجر سے قالین کاٹا اور ننگی زمین پر بیٹھ گئے۔ رستم سے کچھ نوک جھوک کے بعدانھو ں نے وہی شرائط دہرائیں جو پہلے یزدگرد کو پیش کی جا چکی تھیں۔رستم کے ساتھی بھڑکے، لیکن اس نے حضرت ربعی کو اچھی طرح رخصت کیا اور اگلے دن حضرت سعد کو پھر صلح کی گفتگو کرنے کا پیغام بھیجا،ان کے دوسرے ایلچی حضرت حذیفہ بن محصن گھوڑے پر سوار ہی تخت کے پاس جا پہنچے۔ انھوں نے بھی اسلام،جزیہ یاقتال کی بات کی تو رستم نے انھیں الوداع کہا ۔تیسرے روز اس کے کہنے پرحضرت مغیرہ بن شعبہ سفیر بن کر آئے،انھیں اس نے لالچ دیا اور دھمکایا ،اس طرح بات ختم ہوگئی۔ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت چلی آ رہی تھی کہ اس طرح کی سفارت کاری تین روز سے زیادہ نہ کی جائے، لہٰذاجنگ کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ ایک رائے ہے کہ رستم اس طرح کچھ وقت ٹالنا چاہتا تھا، اس کا خیال تھاکہ مسلمانوں میں پھوٹ پڑ جائے گی۔ اب رستم نے پوچھا کہ ہم نہر عتیق عبور کریں یا آپ ادھر آئیں گے؟جنگ جسر کا تجربہ ابو عبیدہ کے ذہن میں تھا ، انھوں نے ایرانی فوج کو دوسری طرف آنے کی دعوت دی۔ رات کے اندھیرے میں ایرانیوں نے نہر عتیق کو مٹی ،نرکل اور اپنے فالتوسامان سے پاٹ دیا اور اسی پر سے فوج،ہاتھی اور دوسرا سامان گزرا۔اب دونوں فوجیں ایک فیصلہ کن معرکے کے لیے آمنے سامنے تھیں۔ یزدگرد کو پل پل کی خبر مل رہی تھی،وہ رستم کے برعکس فتح کی امید لگائے ہوئے تھا۔اسے جب معلوم ہوا کہ قائد جیش اسلامی حضرت سعد پر عرق النسا (sciatica، چک) کے دیرینہ مرض نے غلبہ پا لیا ہے ، وہ سیدھابھی نہیں ہو سکتے ،تکیے کا سہارا لے کر مشکل سے کھڑے ہوتے ہیں اور چھت پرسے پرچیاں لکھ کر فوج کو احکام دیتے ہیں تو اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی ۔مسلمانوں میں بھی بعض ایسے تھے جنھوں نے حضرت سعد پر بزدلی کا الزام لگایا ،وہ لوگوں کے کندھوں پر سوار ہو کر باہر آئے،ان کو اپنی بیماری کا یقین دلایا اور الزام تراشی کرنے والوں کو قید کرنے کا حکم دیا،ابو محجن ثقفی انھی میں شا مل تھے۔لوگوں کی تسلی پھر بھی نہ ہوئی تو سعد نے خالد بن عُرفُطہ کونائب مقرر کیااور طبیعت سنبھلتے ہی قیادت سنبھالنے کا وعدہ کیا۔ انھوں نے مغیرہ بن شعبہ ، عاصم بن عمرو، طلیحہ بن خویلد، عمرو بن معدی کرب ،شماخ اور حطےۂ کی ذمہ داری لگائی کہ اپنے خطبوں اور شعر وں سے سپاہیوں کو قتال پر انگیخت کریں۔ادھر رستم کی فوج ایران کا دفاع کرنے کے لیے پوزیشنیں سنبھال چکی تھی۔ جالینوس مقدمہ کی ، ہرمزا ن میمنہ کی اور مہران بن بہرام میسرہ کی کمان سنبھالے ہوئے تھے، رستم قلب میں اور بندران ساقہ پر تھا۔پونے دو لاکھ کے اس لشکر کا تیس ہزار کی مسلم فوج سے مقابلہ تھا جس کے میمنہ پر جریر بن عبداﷲ اور میسرہ پر قیس بن مکشوح تھے ۔
حضرت سعد بن ابی وقاص نے دو بار اﷲاکبر کا نعرہ بلند کیا تو سپاہیوں نے پوزیشنیں سنبھال لیں۔ان کی تیسری تکبیر پرجنگ کا آغاز ہو گیا۔ سب سے پہلے ایرانی شہزادہ ہرمز مبارزت کے لیے نکلا،اسے اس کے مسلمان مدمقابل غالب اسدی نے گرفتار کر لیا۔ عاصم رضی اﷲ عنہ نے رجز پڑھتے ہوئے ایک ایرانی پر حملہ کیا ،وہ بھاگ گیا، لیکن شاہی نان بائی انھیں کھانا لے جاتے ہوئے نظر آگیا ،وہ اسی کوکھانے سمیت پکڑ لائے۔ عمرو بن معدی کرب لوگوں کی ہمت بڑھا رہے تھے، ایک تیر انداز نے ان کی زرہ پر تیر مارا ، انھوں نے اس کی گرد ن کاٹ ڈالی۔ ادھر حضرت سعد نے چوتھی بار نعرۂ تکبیر بلند کیا ،عام جنگ شروع ہو گئی۔بنو بجیلہ اگلی صفوں میں بڑھ چڑھ کر حملے کر رہے تھے، رستم نے۱۳ ہاتھی ان کی طرف ریل دیے ۔وہ ان کو مار ڈالنے کو تھے کہ امیر لشکر حضرت سعد نے ان کی مدد کے لیے پہلے بنو اسد پھر بنو کندہ کو بھیجا، تینوں قبیلوں کی فورس ملی تو بھی بہت جانی نقصان اٹھانے کے بعد ہاتھیوں کو پلٹنے میں کامیابی ہوئی۔ دونوں فوجیں اب گتھم گتھا تھیں،ایران کے جنگی ہاتھی ابھی بھی مسلمانوں کو کچل رہے تھے، سعد بن ابی وقاص نے ان پر تیر اندازی کا حکم دیا۔ اس تواتر سے تیر برسے کہ فیل نشین جواب نہ دے سکے ،وہ پسپا ہوئے تو شمشیر زنوں نے اپنے جوہر دکھائے۔رات ہو گئی تو جنگ قادسیہ کا پہلا دن ’’یوم ارماث‘‘تمام ہوا۔اگلے روز نماز فجر کے بعد شہداکی تدفین اور زخمیوں کی مرہم پٹی کی گئی، اس سے فراغت ہوئی تو صفیں ترتیب دی گئیں،اسی اثنا میں شام سے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کی کمک آنا شروع ہوگئی۔ہاشم بن عتبہ اس کے کمانڈر تھے،سب سے پہلے ایک ہزار پر مشتمل مقدمۃالجیش قادسیہ پہنچا۔ قعقاع بن عمرواس کی سرکردگی کر رہے تھے، انھوں نے آتے ہی حضرت سعد سے مبارزت کی اجازت مانگی۔بہمن جاذویہ ان کے مقابلے پر آیااور ہلاک ہوا، جب ان کے کئی نامی گرامی بہادراس سلسۂ مبارزت میں مارے گئے تو رستم نے عام حملہ کرنے کا حکم دے دیا ۔ہاشم نے اپنی فوج ٹکڑیوں میں بانٹی ہوئی تھی، تھوڑے تھوڑے وقفوں سے ایک حصہ نعرۂ تکبیر بلند کرتا ہوا آتا اور جنگ میں شریک ہو جاتا ۔ایرانی پے درپے کمک آتی دیکھ کر پریشان ہو گئے۔ہاتھیوں کے فتنے سے نمٹنے کے لیے اونٹوں پر بڑی بڑی جھولیں ڈالی گئیں، ایرانی گھوڑے ان سے ہیبت کھانے لگے۔ابو محجن ثقفی جنھیں حضرت سعد نے قید کر رکھا تھا،عرب کے مشہور شاہ سوار تھے۔جنگ کا غوغا بلند ہونے پر وہ بیڑیاں گھسیٹتے ہوئے حضرت سعد کے پاس آئے اور ان سے جنگ میں حصہ لینے کی درخواست کی ۔انھوں نے ڈانٹ دیا تو مثنیٰ بن حارثہ کی بیوہ اور حضرت سعد کی نئی بیوی سلمیٰ کے پاس آئے اور ان سے بیڑیاں کھولنے کی التجا کی اور سعد کی گھوڑی بلقا عارےۃً مانگی ۔انکار پر جب انھوں نے درد بھرے اشعار پڑھے تو سلمیٰ کو ترس آ گیا اور انھیں جنگ میں جانے کی اجازت دے دی۔وہ میدان جنگ میں صفوں کو چیرتے دائیں بائیں گھومے اور دشمن پر کاری ضربیں لگائیں۔حضرت سعد کو یقین نہ آئے کہ میری گھوڑی پر قیدی ابومحجن سوارہے ۔رات کے وقت انھوں نے بلقا کو پسینے میں شرابورپایا تو سلمیٰ نے حقیقت بتا دی۔انھوں نے خوش ہو کر ابو محجن کو آزاد کر دیا ۔ نصف شب تک جاری رہنے والی دست بدست جنگ میں ایک ہزار مسلمان اور دس ہزار ایرانی کام آئے۔صرف قعقاع کے ہاتھوں تیس فارسی لڑاکے جہنم واصل ہوئے۔ایک جوشیلا مسلمان رستم کوقتل کرنے اس کے خیمے تک جا پہنچا، ایرانی فوجی اس پرپل پڑے اور اسے شہید کرڈالا،جنگ کا یہ دوسرادن ’’یوم اغواث ‘‘کہلایا۔
تیسرے روز بھی علی الصبح شہدا کی تدفین ہوئی،زخمیوں کی مرہم پٹی عورتوں کے ذمہ لگائی گئی۔فوجیں جنگ کو تیار تھیں کہ ہاشم بن عتبہ کے بقیہ دستے آ پہنچے ، اس بار بھی وہ ٹکڑیوں کی صورت میں آئے ۔ہر ٹکڑی نعرۂ تکبیر بلند کرتے ہوئے آتی اور لڑنے والی فوج میں شامل ہو جاتی۔ہاشم بن عتبہ اور قیس بن ہبیرہ پہلی ٹکڑی میں تھے۔ ایرانیوں نے کجاوے اور آلات حرب مرمت کر کے ہاتھیوں کو پھر اگلی صفوں میں شامل کیا ہوا تھا۔وہ مسلمان فوج کی ترتیب درہم برہم کرنے لگے تو قعقاع اور عاصم نے مل کر ہاتھیوں کے سرخیل ،فیل سفید کی آنکھ میں تیر مارا پھر تلوارسے اس کا کام تمام کر ڈالا۔ایک اور خارش زدہ ہاتھی بڑھ چڑھ کر حملے کر رہا تھا،بنواسد کے حمال اور ربیل نے اس کی آنکھیں پھوڑیں اور ہونٹ کاٹ ڈالے، وہ تڑپتا ہوا پلٹا اور دھاڑتا ہوا نہر عتیق میں جا گرا ۔رفتہ رفتہ تمام ہاتھی، سواروں کو گراتے ،اپنے لشکر ہی کو نقصان پہنچاتے ہوئے ایسے بھاگے کہ مڑ کر نہ دیکھا۔اسی دوران میں یزدگرد کی بھیجی ہوئی کمک آن پہنچی ۔ ایرانیوں کے حوصلے بلند ہوئے اور وہ پھر لڑنے لگے۔پورا دن جنگ کا بازار گرم رہا۔ غروب آفتاب پر وقفہ ہوا ، لڑائی پھر شروع ہوئی تو رات بھر جاری رہی ۔ رات کے کسی پہرطلیحہ اور عمرو نے نہر کی جانب سے فارسی لشکر کے عقب پر حملہ کیا ،ان کی دیکھا دیکھی قعقاع ،بنو اسد ،نخع ،بجیلہ اور کندہ کے دستے بھی کود پڑے۔ حضرت سعددعا میں مصروف تھے ۔ ۲۴ گھنٹے گزر گئے،جنگ جاری تھی۔چوتھے دن دوپہر کے وقت ایرانیوں کی صفیں اکھڑیں،فیرزان اور ہرمزان میمنہ و میسرہ میں گئے تو لشکر کے قلب تک رسائی آسان ہوئی۔اسی اثنا میں تیز ہوا سے رستم کا خیمہ اکھڑا، وہ خچر پر سوار ہونے لگا تھاکہ ہلال بن علقمہ نے اس پر برچھے کا وار کیا۔ اس کی کمر ٹوٹ گئی اور وہ نہر میں جا گرا،انھوں نے ٹانگیں پکڑ کر اسے باہر نکالا اور اس کا کام تمام کر دیا۔ ضرار بن خطاب نے درفش کاویان پر قبضہ کر لیا۔اب ایرانی پیٹھ پھیر کر بھاگے ، زہرہ بن حویہ،قعقاع اور شرحبیل نے ان کا پیچھا کیا۔ جالینوس مفروروں کو اکٹھا کر رہا تھا،زہرہ نے اسے قتل کیااور اس کے مال واسباب پر قبضہ کر لیا۔جنگ کے تیسرے دن کو ’’یوم عماس‘‘ اورچوتھی رات کو ’’لیلۃ الہریر‘‘ کا نام دیا گیا۔ حضرت سعد نے رستم کا۷۰ ہزار دینار پر مشتمل مال ہلال بن علقمہ کودے دیا ، جالینوس سے ملنے والی غنیمت اس قدر زیادہ تھی کہ انھیں دینے میں تامل ہوا۔سیدنا عمرنے تقسیم غنائم کے اسلامی اصولوں کے مطابق اس کی ساری دولت زہرہ بن حویہ تمیمی کو دینے کا حکم دیا،انھیں عام سپاہیوں سے ۵ سو درہم زیادہ بھی دیے گئے۔ہر گھڑسوار کے حصے ۶ہزاردرہم آئے، پیادہ کو۲ ہزار ملے۔خلیفۂ ثانی کے ارشاد پر خمس بھی یہیں بانٹ دیا گیا۔اس میں سے ہاشم بن عتبہ کے ان فوجیوں کو حصہ دیاگیا جو جنگ قادسیہ میں شامل نہ ہوسکے تھے اور فتح حاصل ہونے کے بعد پہنچے تھے،حفاظ قرآن کو الگ حصہ ملااور عمرو بن معدی کرب اور بشر بن ربیعہ کو ان کی دلیری کا انعام دیا گیا۔
عمر فاروق رضی اﷲ عنہ روز انہ صبح سویرے مدینہ سے باہر نکل جاتے اور قادسیہ کے قاصد کی راہ دیکھتے۔ایک دن وہ نکلے تو دور سے ایک شتر سوار آتا نظر آیا،یہ سعد بن عمیلہ فزاری تھے۔حضرت عمرنے دریافت کیاکہ کہاں سے آتے ہو، انھوں نے قادسیہ میں فتح کی خوش خبری دی۔امیر المومنین نے ان کی اونٹنی کی رکاب پکڑ لی۔وہ جنگ کے حالات سناتے جاتے اور یہ ساتھ دوڑتے جاتے تھے۔ اسی کیفیت میں مدینہ میں داخل ہوئے تو ان کو معلوم ہوا کہ یہ خلیفۂ وقت ہیں تو بہت گھبرائے، لیکن فاروق اعظم نے کہا کہ تم حالات سناتے جاؤ۔مسجد نبوی پہنچ کر انھوں نے لوگوں کو جمع کیا، فتح کی خوش خبری دی اور کہاکہ امر خلافت میری ذمہ داری ہے ،اگر میں اسے اس طرح انجام دوں کہ آپ لوگوں کو گھروں میں اطمینان نصیب ہو تو میری خوش قسمتی ہے۔
جنگ قادسیہ فتح ایران کا اہم باب ہے ۔اس جنگ نے مسلمانوں کے لیے خسروی دربار تک رسائی آسان کر دی،اسی طرح عرب کے بقیہ منتشر قبائل اسلام قبول کرنے پر آمادہ ہو گئے۔
مطالعۂ مزید: تاریخ الاسلام (ذہبی)،البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)،الفاروق عمر (محمد حسین ہیکل )، تاریخ اسلام (اکبر شاہ خاں نجیب آبادی)۔

جنگ قادسیہ کے بعد ایرانی فرار ہو کر بابل اور ایران کے مختلف اطراف میں بکھر گئے۔مسلمان دو ماہ وہیں مقیم رہے،انھوں نے اپنی تکان اتاری اور حضرت سعد بن ابی وقاص نے عرق النسا (sciatica)سے افاقہ پایا۔تب خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق نے انھیں حکم دیا کہ بچوں اور عورتوں کو عتیق میں چھوڑ کر مدائن کوکوچ کریں۔حضرت سعد نے زہرہ بن حویّہ کو مقدمہ کے طور پر آگے بھیجا، وہ حیرہ سے ہوتے ہوئے مدائن کو چلے۔بُرس(بیر نمرود) کے مقام پرانھوں نے ایک ایرانی دستے کوشکست دی، بابل کی راہ پرفیرزان کی فوج کو ہزیمت سے دوچار کیا۔ کوثیّ کے مقام پر شہریار نے ان کی فوج کو للکارا۔یہ وہی مقام ہے جہاں نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قید کیا تھا،وہ قید خانہ ابھی موجودتھا ۔مقابلہ شروع ہوا تو زہرہ نے بنو تمیم کے نائل بن جعشم کو بھیجا۔شہریار انھیں گراکر ان کے سینے پر سوار ہو گیا ، اس کا انگوٹھا ان کے دانتوں تلے آ گیا ، انھوں نے اسے ہی چبا ڈالا ۔اب شہریار نیچے تھا اور نائل اوپر، انھوں نے خنجر نکالا اور اس کا پیٹ چاک کر دیا۔شہریار کی فوج بھاگ نکلی ، حضرت سعد پہنچے تو شہریار کا قیمتی لباس اور ہتھیار نائل کے حوالے کیے۔وہ کچھ دیر کے لیے بابل میں ٹھہرگئے، زہرہ اور ہاشم بن عتبہ نے مدائن کا رخ کیا۔ راستے میں سابقہ ملکۂ ایران بوران بنت کسریٰ کے دستے سے ان کی مڈبھیڑ ہوئی۔اس میں شامل ایرانی روزانہ حلف اٹھاتے تھے کہجب تک زندگی ہے ملک ایران پر زوال نہ آنے دیں گے۔خسرو کا پالتو شیربھی ان کے ساتھ تھا ،ہاشم نے لپک کر وار کیا اور تلوار سے شیر کا کام تمام کر دیا۔ اس دستے نے بھاگ کر بہرہ شیر(بہرسیر) میں پناہ لی۔زہرہ ساباط پہنچے تو وہاں کے باشندوں نے جزیہ ادا کرنے کی شرط پر صلح کر لی۔حضرت سعد کے دستوں نے دجلہ و فرات کے مابین کارروائیاں کر کے ایک لاکھ دہقانوں کو قید ی بنا لیا تھااور ان کے گرد خندقیں کھود دی تھیں۔ان کے سردار شیر زاد نے جزیہ و خراج دینے کی پیش کش کر کے امن کی درخواست کیجو حضرت سعد نے مان لی، عمررضی اﷲ عنہ نے ان کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اب عرب کی سرحد وں سے لے کر دارالخلافہ مدائن تک تمام ایران خلافت اسلامی کے زیر نگیں ہو چکا تھا، ا س لیے انھیں عقب سے حملے کا اندیشہ نہ رہا۔
بابل کے بعد تعمیر ہونے والا ایرانی دارالخلافہ مدائن شان وشوکت میں اس قدیم شہر پر فوقیت رکھتا تھا،دجلہ اسے اس کے جڑواں شہر بہرہ شیر(بہر سیر) سے جدا کرتا تھا۔مدائن کا قدیم یونانی نام طیسفون تھا اوربہرہ شیر سلوقیہ کہلاتا تھا۔ یزد گرد کے اجداد نے ان شہروں پر قبضہ کر کے ان کے نام بدل ڈالے تھے۔بغداد ان دونوں سے ۳۰ کلو میٹر دور شمال میں تھا۔ پیش تر اس کے کہ وہاں کے باشندے دفاع کی کوئی تدبیر کرتے، امیر جیش اسلامی حضرت سعد بن ابی وقاص نے ان شہروں پر جلد حملے کا فیصلہ کر لیا۔وہ فوج لے کر بہرہ شیر پہنچے تو وہاں کے لوگ شہر بند ہو چکے تھے۔انھوں نے منجنیقوں سے سنگ باری کی، لیکن شہر کی مضبوط فصیل پر کوئی اثر نہ ہوا۔بہر سیر دجلہ پر بنے ہوئے ایک پل کے ذریعے سے مدائن سے متصل تھا،وہاں سے غذائی اور فوجی امداد کی آمد کا سلسلہ برابر جاری تھا۔اس لیے محاصرہ طول پکڑتا گیا، ۹ ماہ یا ۱ سال کے اس طویل عرصے میں وقتاً فوقتاً ایرانی جتھے شہر سے باہر نکل کر مسلمانوں پر حملہ کرتے، لیکن مار کھاکر لوٹتے۔ مسلمانوں کی ثابت قدمی دیکھ کر ایرانیوں کا صبر جواب د ے گیا۔انھیں یقین ہو گیا کہ وہ ان کو مغلوب نہ کر سکیں گے۔تب شاہ یزدگرد نے حضرت سعد کو پیغام بھیجا کہ دجلہ کو عرب و عجم کے مابین حد فاصل بنا لیا جائے،دریا کے ادھر والا علاقہ مسلمان لے لیں اوراس طرف کا ایرانیوں کے لیے چھوڑ دیں ۔اس صورت حال میں جبکہ مدائن سامنے تھا اور ایرانیوں کے پاؤں اکھڑ چکے تھے، صلح کا موقع نہ رہا تھا۔اس لیے حضرت سعدنے انکار کا پیغام دے کر ایک ایلچی روانہ کردیا اور فوراً بہرہ شیر(بہر سیر) کا محاصرہ تنگ کر کے اس پر سنگ برسانے کا حکم دیا۔ادھر سے نیزہ چلا نہ تیرتو فصیل پھلانگ کر شہرکا دروازہ کھولا گیا۔شہر میں ایک آدمی کے سوا کوئی نہ تھا،ایرانیوں نے جاتے جاتے دجلہ کا معبر جلا دیا اور کشتیوں کو دریا کے اس پار منتقل کر دیا تھا۔اب پر شور موجیں مارتا ہوا دریاے دجلہ اسلامی فوج کی پیش قدمی کو روکے ہوئے تھا۔اس کے دوسری طرف کسریٰ کا سفید محل (قصر ابیض ) چمک رہا تھا،اسے نوشیرواں نے ۵۵۰ء میں تعمیر کیا تھا۔یزدگرد نے مدائن والا کنارہ مضبوط بنا کر مسلمان فوج کی آمد مستقلاً روکنے کی تدبیریں سوچیں، لیکن کوئی راہ نہ پا کر فرار ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ چنانچہ اس نے اپنے خزانے سمیٹے ،اہل و عیال اور غلاموں باندیوں کا قافلہ تیار کیا اور حلوان کو روانہ ہو گیا۔اب اس پارعزم و ہمت سے محروم ایک قوم تھی جس کا قائد اسے چھوڑچکا تھا،ا سے کامیابی کی کوئی توقع نہ تھی ۔ ادھر ایمان و یقین سے پرمسلمان فتح کے لیے بے تاب تھے۔
سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ دجلہ کے کنارے کھڑے اسے عبور کرنے کی فکر میں تھے۔انھیں ایک ہی ترکیب سوجھی کہ کچھ لوگ دریا پار کر کے دوسرے کنارے تک پہنچیں اورپھر وہ وہاں کھڑے ہوئے ایرانیوں کو ہٹا کر باقی لشکر کو دریا پار کرانے میں مدد دیں۔ ان کی تجویز پرسب سے پہلے عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے لبیک کہا،پھر مزید۶۰۰رضا کارآگے آ گئے۔ ان میں سے ۶۰گھڑ سوارسبقت کرنے کو تیار ہوگئے، پہلے ان کے قائد حضرت عاصم نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈالا پھرباقی سب پانی میں کود پڑے۔یہ’’خطروں میں کودنے والادستہ‘‘ دجلہ کے وسط میں پہنچا توحضرت قعقاع بن عمرو کی سرکردگی میں باقی شہ سواروں نے دریا میں چھلانگیں لگا دیں ،اسے ’’خاموش دستے ‘‘کا نام دیا گیا۔دوسرے کنارے پر کھڑے ایر انی پکار اٹھے ، یہ دیوانے ہیں یا جن؟پھر انھوں نے مسلمانوں کو روکنے کے لیے تیر اندازی شروع کر دی۔حضرت عاصم نے بھی اپنے ساتھیوں کو تیر برسانے کا حکم دیا۔ ان کے تیروں سے کئی ایرانی گھوڑوں کی آنکھیں پھوٹ گئیں تو وہ اپنے سواروں کو دجلہ میں گراتے ہوئے واپس دوڑے۔ حضرت عاصم کا دستہ کنارے پر پہنچا تو تمام ایرانی بھاگ لیے اورجب حضرت قعقعاع اور ان کے ساتھی پار اترے تودریا کا کنارہ خالی تھا۔اب حضرت سعد نے تمام سواروں کو دریا میں کودنے کا حکم دیا۔دجلہ اسلامی لشکر سے بھر گیا ،اس وقت پانی نہیں، ہر طرف گھوڑوں اور گھڑ سواروں کے سر نظر آتے تھے۔ پار سے کشتیاں لا کر پیادوں اور ساز و سامان کو منتقل کیا گیا۔ یوں دجلہ سیل اسلامی کی ایک موج اور’’بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے‘‘ عہد فاروقی کے اس اہم واقعے کی تلمیح بن گیا۔اس سارے معرکے میں محض بنو طے کا ایک شخص شہیدہوا،دجلہ عبور کرتے ہوئے ایک مسلمان کا لکڑی کا پیالہ دریامیں گر گیا ، اسے بھی پکڑ لیا گیا۔اگر ۱۴ویں صدی عیسوی میں تیمور لنگ نے اسی طرح دجلہ عبور نہ کیا ہوتا تو شاید مستشرقین کو یہ واقعہ ماننے میں بھی تامل ہوتا۔
تمام اہل مدائن فرار ہو چکے تھے ، قلعہ بندوں نے جزیہ مانا اور قصر ابیض مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔قائد جیش اسلامی حضرت سعد نے ساسانیوں کے ا س محل میں داخل ہو کر شکرانے کے نفل ادا کیے،بعد ازاں انھوں نے شاہی ایوان کو مسجد میں تبدیل کر دیا۔ اس محل میں ۳۰ کھرب دینار کا خزانہ،تحائف اور آرایش و زیبایش کا سامان تھا۔حضرت سعد نے یزدگرد کو پکڑنے کے لیے ایک فوجی رسالہ روانہ کیا ،بادشاہ تو ان کے ہاتھ نہ آیا، البتہ وہ قافلے کے کچھ افراد اور شاہی خزانہ لے آئے،خسروی تا ج اور خلعتیں بھی ان کے ہاتھ لگیں ۔ اس طرح کے مواقع پر فاتح لشکر کے سپاہی لوٹ مار کرتے ہیں اور اپنی جیبیں خوب بھرتے ہیں، دنیا کو حیرت ہو گی کہ ایسا ایک واقعہ بھی پیش نہ آیا۔حضرت سعد بن ابی وقاص کو کہنا پڑا کہ اگر اﷲ تعالیٰ نے اہل بدر کی فوقیت کا فیصلہ نہ فرمایا ہوتا تو میں کہتا کہ یہ فوجی بھی بدریوں جیسی فضیلت رکھتے ہیں۔جنگ ردہ میں مرتدین کی سربراہی اور پھر ارتداد سے توبہ کرنے والے طلیحہ،عمروبن معدی کرب اور قیس بن مکشوح اس معرکے میں بھی شریک تھے۔جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ نے ان کے بارے میں گواہی دی، میں نے ان جیسا امانت دار نہیں دیکھا۔حضرت سلیمان باہلی مال غنیمت کی تقسیم پر مامور تھے۔ مال غنیمت کا ۵/۴ واں حصہ فوجیوں میں تقسیم کیا گیا۔ ۶۰ ہزار گھڑ سواروں نے اس جہاد میں حصہ لیا تھا ، ہر ایک کے حصے ۱۵ ہزار دینار آئے۔ حضرتسعد نے مدائن کے خالی گھر بھی فوجیوں میں بانٹ دیے ،ان میں سے کچھ نے اپنے با ل بچے حیرہ اور دوسرے شہروں سے لا کر ان گھروں میں بسادیے۔ خمس الگ کرتے ہوئے حضرت سعد نے اہل لشکرکی اجازت سے وہ بیش قیمت ریشمی شاہی قالین بھی اس میں شامل کر دیاجس پر سونے،موتیوں اور جواہرات سے ایران کا نقشہ بنا ہواتھا ۔ بشیر بن خصاصیہ اس مال کو لے کر مدینہ پہنچے۔سیدنا عمر نے حضرت سراقہ بن مالک کو بلا کر کسریٰ کا لباس ،تاج اور کنگن سونپے۔یوں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی وہ پیشین گوئی سچ ثابت ہوئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مدینہ کے وقت فرمائی تھی۔پھر حضرت عمر نے ہاتھ بلند کیے اور دعا کی:اے اﷲ، تو نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نعمتیں نہیں دیں، حالانکہ وہ تمھیں زیادہ محبوب تھے اور تو نے ابو بکر(رضی اللہ عنہ) کو بھی ان سے محروم رکھا،حالانکہ وہ تمھیں مجھ سے زیادہ پیارے تھے۔میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تو نے یہ سب مجھے آزمانے کے لیے دیا ہو۔پھر وہ اتنا روئے کہ ان کے پاس موجود ہر شخص کی آنکھیں پر نم ہو گئیں۔ انھوں نے حضرت عبد الرحمان بن عوف کی ذمہ داری لگائی کہ شام ہونے سے پہلے پہلے ان کے حصے کا مال تقسیم کر دیا جائے۔پھر انھوں نے خمس اہل مدینہ میں تقسیم کیا ، ہر ایک کا حصہ اس کے مقام و مرتبے کے مطابق متعین کیاگیا،جو لوگ موجود نہ تھے ،ان کا حصہ الگ کر دیا گیا ۔اب حضرت عمر فاروق نے قالین کے بارے میں صحابۂ کرام کی رائے لی، اس موقع پر حضرت علی نے خوب حق نصیحت اداکیا۔انھوں نے کہاکہ اگر آپ نے قالین کو اسی شکل میں برقرار رکھا تو کل کلاں کوئی شخص استحقاق کے بغیر ہی اس کا مالک بن بیٹھے گا۔حضرت عمر کی دنیا سے بے رغبتی دیکھیے، اس مشورے سے بہت خوش ہوئے ۔انھوں نے فی الفور اس قیمتی قالین کے کئی ٹکڑے کر کے لوگوں میں بانٹ دیے۔ قالین کی قیمت کا اندازہ اس بات سے لگایاجا سکتا ہے کہ علی رضی اﷲ عنہ کے حصے میں آیا ہوامعمولی ٹکڑا ۲۰ ہزار دینار میں بکا۔
ادھر ایوان کسریٰ میں اذان و اقامت کی آوازیں بلند ہوتیں،حضرت سعد امامت کراتے اور لوگوں کو وعظ کہتے۔ انھوں نے ایرانیوں سے مزید جنگ کرنے کی کوئی پلاننگ نہ کی، کیونکہ خلیفۂ ثانی کی طرف سے ایسا کوئی حکم نہ ملا تھا، البتہ وہ اپنے جاسوسوں کے ذریعے سے ایران کی بھگوڑی قوت مقتدرہ کی کھوج میں رہتے ۔انھیں معلوم ہواکہ یزدگرد حلوان جا رہا تھا کہ ایران کے اطراف و اکناف سے بے شمارفوجی اور جنگ جو اس کے ساتھ آ ملے ہیں۔اس نے مہران کو ان کا کمانڈر مقرر کر کے اس نئی فوج کو مدائن سے ۶۵ کلو میٹر دور جلولا کے قلعہ نما شہر میں بھیج دیا ہے۔ قادسیہ میں مسلمانوں کے ہاتھ ہلاک ہونے والے ایرانی جرنیل رستم کا بھائی خرزادبن فرخ زاد بھی وہاں جنگی تیاریوں میں مشغول ہے۔ اس نے جلولا کے گرد خندق کھدوا کر اس کے گرد لوہے کی خاردار تار نصب کروا دی ہے اورشہر کو آنے والے تمام راستوں پرکانٹے (گوکھرویابھگھڑے کے خار)بچھوا دیے ہیں۔ہر طرح کے ہتھیار اور کیل کانٹے سے لیس ایک نیا لشکر تیار ہواچاہتا ہے ۔ ایرانی اس فوجی اجتماع سے بڑی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص نے حضرت عمر فاروق سے ہدایات مانگیں ۔انھوں نے حکم ارسال کیاکہ ہاشم بن عتبہ ۱۲ ہزار فوج لے کر جلولا روانہ ہوجائیں اور قعقاع بن عمرو کو مقدمہ پر مقرر کیا جائے۔ خلیفۂ ثانی نے میمنہ و میسرہ پر دو بھائیوں حضرت سعد بن مالک اور حضرت عمر بن مالک اور ساقہ پر حضرت عمرو بن مرہ جہنی کی تقرریاں بھی کیں۔یہ صفر ۱۷ھ کا واقعہ ہے ۔ہاشم چوتھے روز جلولا پہنچے تو ایرانیوں کو قلعہ بند پایا۔ انھیں حلوان سے جبکہ مسلمانوں کو مدائن سے کمک پہنچ رہی تھی۔محاصرہ شروع ہواتو اڑھائی ماہ جاری رہا ۔اس دوران میں ایرانی قلعہ سے نکل کر مسلمان محاصرین پر حملہ بھی کرتے، لیکن شکست کھا کر لوٹتے۔تنگ آ کر ایک صبح مہران نے اسلامی فوج پر حملہ کر دیا۔ تیروں ، تلواروں ،نیزوں اور کلہاڑوں سے ہونے والی یہ جنگ عصر تک کسی نتیجے پر پہنچتی نظر نہ آتی تھی۔ نماز قصر ادا کرنے کے بعد حضرت قعقاع نے سپاہیوں کو یک جان ہو کر ایک فیصلہ کن حملہ کرنے کا حکم دیا۔ان کی کمان میں اسلامی فوج نے خندق تک یلغار کر لی تھی کہ اندھیری رات ہو گئی،سپاہی جنگ اگلے دن کے لیے موقوف کرنا چاہتے تھے۔حضرت قعقاع نے حملہ جاری رکھنے کو کہا ۔سخت لڑائی شروع ہوئی تو ایرانی گاجر مولی کی طرح کٹنے لگے۔اس ایک رات میں ایک لاکھ ایرانی کھیت رہے، باقیوں نے حلوان کو راہ فرار اختیار کی جہاں ایران کا شکست خوردہ بادشاہ یزدگرد مقیم تھا ۔ حضرت قعقاع نے ان کا پیچھا کیا ،مہران مارا گیا جبکہ فیرزان جان بچا کر یزدگردتک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔وہ حلوان پہنچے تو معلوم ہواکہ یزدگر د وہاں سے بھی فرار ہو کر رے جا چکا ہے،جاتے ہوئے اس نے خسرو شنوم کی کمان میں ایک فوج وہاں متعین کر دی ہے۔ شنوم نے شہر سے نکل کرحضرت قعقاع کا مقابلہ کیا،مگر اسے شکست کھانی پڑی، اس طرح حضرت قعقاع نے حلوان پر قبضہ کر لیا۔
حضرت سعد بن ابی وقاص نے جلولا اور حلوا ن کی فتح کی خوش خبری دے کر زیاد کو مدینہ روانہ کیا ، مال غنیمت کا خمس ان کے ساتھ تھا ۔ انھوں نے امیر المومنین سے ملک ایران میں مزید پیش قدمی کرنے کی اجازت بھی مانگی۔زیاد شام کے وقت مدینہ پہنچے۔ فاروق اعظم بہت خوش ہوئے،انھوں نے صحابۂ کرام کو جمع کر کے تمام واقعات تفصیل سے سنے۔ پھر مال غنیمت کی نگرانی وحفاظت کرنے کا انتظام کیا اور حکم دیاکہ یہ انبار صحن مسجد میں اسی طرح موجود رہے۔ اگلے دن فجر کے بعد انھوں نے تمام مال و اسباب لوگوں میں تقسیم کیا ۔ جواہرات کے ڈھیر اور کثرت سے موجود بیش قیمت مال غنیمت دیکھ کرسیدنا عمر رو پڑے ۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے کہاکہ امیرالمومنین، یہ تو مقام شکر ہے، آپ رورہے ہیں؟ان کا جوا ب تھا:اﷲ تعالیٰ جس قوم کو دنیا کی دولت عطا فرماتاہے، اس میں رشک و حسد پیدا ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں تفرقہ پڑجاتا ہے ۔مجھ کو اسی تصور نے رلا دیا۔ انھوں نے حضرت سعد کے خط کا جواب بھی ارسال کیاکہ مسلمانوں نے ایران و عراق میں پیہم صعوبتیں برداشت کی ہیں۔ابھی چند روز اپنے لشکر کو آرام کرنے کا موقع دو۔
ادھر اسلامی افواج کے کمانڈران چیف حضرت ابوعبیدہ بن جراح ذو الکلاع میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے،ان کی منزل حمص(امیسا)تھی۔ حمص شام کا ایک شہر اور ضلع ہے ۔یہاں سورج کا مندر تھا جہاں دور دور سے بت پرست پوجا کرنے آتے۔ حمص، انطاکیہ اور بیت المقدس ہی چندبڑے اور مرکزی مقامات رہ گئے تھے۔ جہاں شرک کی حکمرانی تھی۔ حضرت ابوعبیدہ ابھی ذوالکلاع میں تھے کہ قیصر روم ہرقل نے قوذر بطریق(آتش پرستوں کا پجاری) کو ان کا راستہ روکنے بھیجا۔اس کی فوج حمص سے چل کر مرج روم پہنچی تھی کہ قیصر نے اس کی کمک کے لیے شمس بطریق کا دستہ روانہ کیا۔ دونوں بطریقوں(پجاریوں)کی فوج اسلامی فوج سے آ ٹکرائی ۔شمس بطریق حضرت ابو عبیدہ کے ہاتھوں مارا گیا اور رومی پیٹھ پھیر کر واپس حمص بھاگے۔قیصر اپنی فوج کی ہزیمت دیکھ کر الرابا کو کوچ کر گیا۔اب حضرت ابوعبیدہ بن جراح مرج روم سے اپنی فوج لے کر حمص آ ئے،انھوں نے شہر کا محاصرہ کر لیا۔ ہرقل نے بہت کوشش کی کہ باہر رہ کر اہل حمص کو مدد پہنچائے، لیکن اسے کامیابی نہ ہوئی۔ آخر کار اہل حمص مجبور ہو گئے کہ مسلمانوں سے انھی شرائط پر صلح کر لیں جو دمشق والوں نے اپنا شہر مسلمانوں کے حوالے کرتے ہوئے مانی تھیں۔ حمص زیر ہواتو حمص اور قنسرین کے درمیان واقع ایک شہرحمات(حماۃ)پر حملہ کیا گیا،وہاں کے سکان نے بھی جزیہ دینے کی شرط مان کر صلح کر لی۔اب شیرز اور معرہ پر مسلمانوں کا قبضہ ہوا۔ لاذقیہ کے رہنے والے عیسائیوں نے مسلمانوں کا مقابلہ کیا، مگر وہ بھی مغلوب و مفتوح ہوئے پھر سلمیہ مسلمانوں کے قبضے میںآیا۔اس موقع پرحضرت ابو عبیدہ نے حضرت خالد بن ولید کی کمان میں ایک فوج قنسرین روانہ کی۔وہاں ہرقل کا نائب میناس موجودتھا، اس نے حضرت خالدبن ولید کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، لیکن اﷲ کی تلوار سیدناخالدکے آگے اس کی کچھ نہ چلی ۔ وہ قنسرین میں قلعہ بند ہوگیا،مسلمانوں کا محاصرہ کچھ دیر جاری رہا ،انجام کار اہل قنسرین نے ہتھیار ڈال دیے۔حضرت عمر اس فتح سے بہت خوش ہوئے ، انھوں نے حضرت خالد کے اختیارات میں نمایاں اضافہ کر دیا۔
اب حضرت ابوعبیدہ حلب جا رہے تھے ۔ابھی وہاں پہنچے نہ تھے کہ اطلاع آئی کہ قنسرین والے معاہدۂ صلح توڑ کر آمادۂ بغاوت ہو گئے ہیں۔انھوں نے فی الفورایک فوجی دستہ واپس قنسرین روانہ کیا۔ اہل شہرپھر محصور ہوئے اور انجام کار بھاری تاوان دے کرچھوٹے ۔ حضرت ابو عبیدہ حلب سے دور تھے کہ عیاض بن غنم کی سر براہی میں ان کے بھیجے ہوئے مقدمہ نے حلب شہر کا محاصرہ کر لیا۔ حلب کے باشندگان نے بھی اب تک کی شرائط فتح پر صلح کی اور شہر عیاض بن غنم کے سپرد کر دیا۔ صلح نامے پر حضرت ابو عبیدہ کے دستخط ثبت ہوئے۔
مطالعۂ مزید:البدایہ والنہایہ(ابن کثیر)، الفاروق عمر (محمد حسین ہیکل )،تاریخ اسلام (اکبر شاہ خاں نجیب آبادی

سیرت و عہد
انطاکیہ رومی سلطنت کا مشرقی دارالخلافہ تھا،یونانی ، مسیحی اور رومی تمام ادوار میں یہ ایک اہم شہر رہا۔وہاں بے شمار گرجے،بت خانے اور عمارتیں موجود تھیں۔ انطاکیہ کے لوگ ہی تھے جنھوں نے پہلی بار مسیحیوں کا لقب پایا،برنباس نے ان کے بیچ رہ کر اپنی تعلیمات کو فروغ دیا تھا ۔تیسری صدی عیسوی میں اس شہر کی آبادی ۱ لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔ رومی بادشاہ اسے سمندر پار مصری دارالسلطنت اسکندریہ پر ترجیح دیتے تھے۔دریاے ارنط یہیں پر بحر روم میں گرتا تھا، ہر طرف سے سمندری جہاز یہاں پہنچتے ،اس طرح یہ ایک اہم تجارتی منڈی بن گیا تھا۔ اس شہر کو ہر طرف سے بلند فصیلوں نے گھیر رکھا تھا۔شام کی جنگوں کے بعد تمام رومی قوت یہاں مجتمع ہو چکی تھی، قیصر روم ہرقل، البتہ رہا میں مقیم رہا۔ فاروق اعظم اس شہر کی فتح کو بے حد اہمیت دیتے تھے ،وہ اسی جستجو سے حضرت ابو عبیدہ کی مہم کی خبریں معلوم کرتے جس طرح جنگ قادسیہ میں سعد بن ابی وقاص کے بارے میں دریافت کرتے تھے۔ انطاکیہ کی فوج نے شہر سے باہر نکل کر مقابلہ کیا، اسے شکست ہوئی اور شہر مسلمانوں کے محاصرے میں آ گیا۔ انھیں جزیہ دینے اور یہاں سے جلا وطن ہونے کی شرائط مان کر صلح کرنا پڑی، لیکن جلد اس صلح سے مکر گئے۔تب حضرت ابوعبیدہ نے عیاض بن غنم کو ان کی سرکوبی کے لیے بھیجا، انھوں نے انطاکیہ کو زیر کر کے انھی شرطوں پر پھر سے صلح کی۔ادھرحلب میں رومی فوجیں ایک بار پھر جمع تھیں۔ حضرت ابوعبیدہ وہاں پہنچے،ان کی جمعیت کو منتشر کیا پھر قورس اور منبج کو فتح کیا ۔انھوں نے حضرت خالد بن ولید کو مرعش بھیجا، جسے فتح کرنے کے بعد فرات تک ساری شامی سرزمین مسلمانوں کے قبضے میں آ گئی۔اس مرحلے پر یزید بن ابو سفیان نے دمشق سے جا کر بیروت اور اس کے آس پاس کا علاقہ فتح کیا۔اب ہرقل رہا سے نکلا اور قسطنطنیہ کی راہ پکڑی۔ رستے میں ایک بلند گھاٹی پر کھڑا ہوا اور پکارا: سلام اے سوریہ، اب دوبارہ ملنا نہ ہو گا۔ بزنطیہ میں کچھ دن گزار کر وہ قسطنطنیہ میں مقیم ہو گیا،یہ ۶۳۶ء کا سن تھا۔یہ وہی قیصر تھا جس نے صرف ۱۱برس پہلے، ۶۲۵ء میں ایران کو شکست دے کر صلیب اعظم اور اپنا کھویا ہوا علاقہ واپس لیاتھا۔
اس موقع پر بنو غسان کے بادشاہ جبلہ بن ایہم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کو خط لکھا کہ وہ اور اس کی قوم اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں۔پھر وہ اپنے ۵۰۰ اہل خانہ کو لے کر حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے ملاقات کرنے مدینہ پہنچا۔کچھ روز مدینہ میں گزارنے کے بعد وہ اور خلیف�ۂ ثانی عمرہ کرنے بیت اﷲ پہنچے ،دوران طواف میں کسی فزاری نے اس کے پاجامے پر پاؤں رکھ دیا، اس نے پلٹ کر بنو فزارہ سے تعلق رکھنے والے اس شخص کی ناک کاٹ ڈالی ۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص کو راضی کرو، ورنہ قصاص دینے کے لیے تیار ہو جاؤ۔جبلہ نے کہا: کیسا قصاص؟یہ عامی ہے اور میں بادشاہ۔اس نے کہا: میں دوبارہ عیسائی ہو جاتا ہوں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تب تمھیں تلوار کا سامنا کرنا ہو گا۔اس نے ایک رات کی مہلت مانگی اور اسی رات اپنے ہم سفروں کو لے کر شام روانہ ہو گیا ۔پھر وہ ہرقل کے پاس قسطنطنیہ گیا اور نصرانی مذہب اختیار کر لیا۔
مدائن کے شمال میں واقع تکریت کے شہر میں ایک ایرانی صوبے دار نے رومی فوجوں سے مدد لی اور ایاد،تغلب اورنمر کے عیسائی عرب قبائل کو اپنے ساتھ ملا لیا تو خلیفۂ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عبداﷲ بن معتم کو ۵ ہزار کا لشکر دے کر وہاں بھیجا۔ ۴۰ دن شہر کا محاصرہ جاری رہا، اس دوران میں عبداﷲ نے ان عرب عیسائیوں کو اسلام کی دعوت دی اور انھیں مسلمانوں کے برابر حقوق دینے کا وعدہ کر کے اپنے ساتھ ملا لیا۔شہر بند ہونے کا کوئی فائدہ نہ ہواتو رومیوں نے عقبی دروازے سے کشتیوں میں بیٹھ کر شہر سے فرار ہونے کا ارادہ کیا۔ مسلمانوں کو ان کے ارادے کی خبر ہو چکی تھی، انھو ں نے فوراً ان پر حملہ کر دیا۔ وہ بڑے دروازے کی طرف پلٹے تو عرب عیسائی ان پر پل پڑے۔دشمن کے اکثر فوجی مارے گئے اور تکریت فتح ہو گیا۔اب عبداﷲ نے ربعی بن افکل کو موصل کی مہم پر بھیجا۔انھوں نے وہاں پہنچ کر نینوا اور موصل ، دونوں قلعوں کا محاصرہ کر لیا ۔زیادہ دیر نہ گزری کہ یہاں کے رہنے والوں نے جزیہ دینے کی شرط پر صلح کر لی۔ تکریت سے ہر سوار کو ۳ ہزار درہم اور پیادہ کو ۱ہزار درہم مال غنیمت حاصل ہوا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص کو فرات کے کنارے پر واقع ایک اور شہرہیت میں فوجوں کے اجتماع کا پتا چلا تو خلیفۂ ثانی کے حکم پرعمروبن مالک کی کمان میں ایک لشکر وہاں بھیجا ۔انھوں نے دیکھا کہ اہل شہر قلعہ بند ہیں اورفصیل کے باہر خندق کھدی ہوئی ہے تو وہ حارث بن یزید کو وہاں چھوڑ کر قرقیسیا پہنچے اور اسے زیر کیا۔ان کے پیچھے ہیت والوں نے ہتھیار ڈال دیے اور شہر مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔اب ایران وعراق کے سرحدی شہر ماسبذان میں ایران کی فوجی قوتیں جمع تھیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص نے ضرار بن خطاب کی سربراہی میں ایک لشکر وہاں بھیجا ، ماسبذان کے میدان میں ان کی ایرانی فوجوں سے مڈبھیڑ ہوئی۔ انھیں شکست دینے کے بعد ضرار نے ماسبذان شہر پر قبضہ کیا ،وہاں کے باشندگان شہر خالی کر کے پہاڑوں پر جا چکے تھے۔ انھوں نے ان کو جزیہ ادا کر کے اطمینان سے اپنے گھروں میں واپس آنے پر آمادہ کیا۔اسی اثنا میں امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب کی طرف سے جنوبی عراق کے لیے مقرر کردہ کمانڈر عتبہ بن غزوان کئی ہفتوں کی سخت جنگ کے بعد بصرہ کے قریب واقع ابلّہ کی بندر گاہ فتح کر چکے تھے۔وہاں کے ساکنان فرار ہو کر دست میسان پہنچے تو انھوں نے اس پر بھی قبضہ کر لیا۔اس فتح کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عتبہ کو مدینہ طلب کیا، کیونکہ انھیں خیال ہوا کہ میری سپاہ دنیا کی حرص کرنے لگی ہے۔عتبہ، مجاشع بن مسعود کو اپنا نائب بنا کر آئے تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کو سرزنش کی کہ صحاب�ئ رسول یا قریشی کے ہوتے کسی دوسرے کو امارت نہ دی جائے ، انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو امیر جیش مقرر کرنے کا حکم دیا ۔
سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ نے عراق سے آنے والے فوجیوں کی صحتیں خراب ہوتی دیکھیں تو اس کا سبب دریافت کیا۔ انھیں بتایا گیاکہ وہاں کی آب و ہوا عربوں کو موافق نہیں۔ ادھرحذیفہ بن یمان نے مدائن سے رپورٹ بھیجی، مسلمان فوجیوں کے پیٹ ساتھ لگ گئے ہیں، بازووں اور ٹانگوں سے گوشت اتر گیا ہے اوران کے رنگ سیاہ ہوگئے ہیں۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے ہدایت بھیجی کہ یہاں کے لوگوں کو وہی آب و ہواموافق ہو گی جو ان کے اونٹوں کے لیے سازگار ہو ۔انھیں دریاؤں سے دور ان خشک سرزمینوں میں آباد کرو، جہاں پینے کے چشمے بھی ہوں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص نے عبداﷲ بن معتم اور قعقاع کوایسی جگہ کے انتخاب کی ذمہ داری سونپی ۔ادھر مدینہ کے اہل رائے نے کوفہ کا مقام تجویز کیا جوفرات کے قریب ہونے کے باوجود صحر اسے دور نہیں ۔۱۴ہجری میں مدائن سے حضرت سعد آئے ،سب سے بلند جگہ کی نشان دہی کر کے وہاں مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا۔خسروی محلات سے حاصل شدہ سنگ مرمر کے ستونوں سے مسجد کی دو سو ہاتھ بلند چھت کھڑی کی گئی۔ ایک خندق کھود کر مسجد کی حدود مقرر کی گئیں۔ حضرت سعد نے بازار بنانے کے لیے مسجد کے گردا گردایک تیر کی مار کے برابر کھلا میدان چھوڑنے کا حکم دیا۔ایک ایرانی معمار نے مسجد کے پڑوس میں ایران کے شاہی محلات میں استعمال ہونے والی اینٹوں سے ’’ قصر سعد ‘‘ تعمیر کیا ، بیت المال بھی یہیں تھا۔اس کے پاس فوجیوں کی کالونی بن گئی ، ہر قبیلے نے اپنے لیے جگہ مقرر کر کے خیمے لگا لیے۔اب حضرت سعد نے امیر المومنین کو مطلع کیا کہ میں نے حیرہ و فرات کے بیچ کوفہ میں قیام کر لیا ہے ۔مسلمان کوفہ و مدائن میں سے جس شہر میں رہنا چاہیں، رہ سکتے ہیں۔کوفہ میں کچھ عرصہ گزرا تو فوجیوں کی صحتیں بحال ہوگئیں، انھوں نے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے نرکل کے گھر بنانے کی اجازت چاہی ۔ جب یہ گھر بن گئے تو ان میں آگ لگ گئی، اب خلیفہ سے اینٹوں کے گھر تعمیر کرنے کی اجازت چاہی گئی، انھیں اجازت مل گئی، لیکن فاروق اعظم نے حکم دیاکہ ۳ کمروں سے زیادہ نہ بنائے جائیں اور اونچی عمارتیں کھڑی نہ کی جائیں۔ جب فتنہ پردازوں نے انھیں شکایت ارسال کی کہ حضرت سعد نماز صحیح طور پر ادا نہیں کرتے،انھوں نے اپنے نام پرایک محل بنایا ہے،اس کے باہر ایک الگ دروازہ بنا کر اس پر پردہ لٹکا دیا ہے تو انھوں نے محمد بن مسلمہ کو تحقیقات کے لیے بھیجا ۔انھیںیہ دروازہ جلانے کا حکم تھا، جبکہ حضرت سعد کو ہدایت تھی کہ اس قصر کو خالی کر کے بیت المال کے قریب کسی کمرے میں مقیم ہو جاؤ، جہاں عام لوگوں کو روکنے کے لیے الگ دروازہ نہ ہو ۔ محمد بن مسلمہ کوفہ پہنچے تو الزامات درست نہ پا کر لوٹ آئے۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے بھی حضرت سعد کو بے قصور مان لیا۔ کوفہ کے بعد۱۸ہجری میں بصرہ کی تعمیر ہوئی، اس کے لیے ابلّہ کے قریب دجلہ و فرات کے ڈیلٹا کا انتخاب کیا گیا، یہیں سے یہ دونوں دریا خلیج فارس میں گرتے ہیں ۔بلاذری کے خیال میں عتبہ بن غزوان نے ۱۴ہجری میں کوفہ آباد ہونے سے پہلے امیر المومنین سے یہاں شہر بسانے کی اجازت چاہی۔
خلیفۂ ثانی حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی پالیسی تھی کہ ایران و عراق کی مفتوحہ زمینیں کسانوں کے پاس رہیں، چاہے وہ اسلامی غلبے کے وقت اپنی زمینوں پر موجود رہے ہوں یا جنگ سے ڈر کر بھاگ گئے ہوں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص نے ان کسانوں کو ذمی قرار دیا۔عوام الناس کی جائدادوں کے بر عکس شاہی زمینیں اور جنگ میں حصہ لینے والے دہقانوں اور امراکی زمینیں خلافت اسلامی کی ملکیت قرار دی گئیں، البتہ ان پر کام کرنے والے عراقی انھی سے غلہ حاصل کرتے۔ خراج، جزیہ اور ان زمینوں سے حاصل ہونے والی آمدن سے فوجیوں ، ان کے اہل خانہ اور دفاع کی دوسری ضروریات پوری کی جاتیں۔فوجیوں کی خواہش تھی کہ مفتوحہ زمینیں بانٹ کران کی ملک میں دے دی جائیں ۔ عمر رضی اﷲ عنہ کا جواب تھا: اگر تمھاری طرف سے باہم قتل و غارت کااندیشہ نہ ہو تاتو ہم ایسا کر گزرتے۔ مزیدبرآں ان کا یہ خیال تھا کہ فوجی اگر زمین داری میں لگ گئے تو اسلامی فوج کی ہےئت متاثرہو گی۔ ابھی ایران و روم سے کشمکش اپنے انجام کو نہ پہنچی تھی،ویسے بھی کوئی مملکت فوج کے بغیر نہیں چل سکتی۔اب اہل بصرہ نے شکایت کی: اے امیرالمومنین، کوفہ والے میٹھے پانی اور گھنے باغات سے مستفید ہو رہے ہیں، ہم کھارے سمندر اور بیابان کے بیچ ایک شور زمین میں آ پڑے ہیں، جہاں کھیتی ہے نہ مال،ہماری عورتیں پانی بھرنے چھ چھ میل دورجاتی ہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے گورنر کوفہ حضرت ابو موسیٰ اشعری کو ہدایت کی کہ بصرہ سے ۱۸ میل دور شمال میں بہتے ہوئے دجلہ سے نہر کھود کر بصرہ لائی جائے۔ انھوں نے باقی قابل زراعت زمین تک آب رسانی کا حکم بھی دیا۔ عراق میں موجودایرانی انجینئروں نے جنگ کے دوران میں تباہ ہونے والی عمارتوں اور پلوں کوازسرنو تعمیر کیا ۔
جب اسلامی افواج کے سر براہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ حماص اور انطاکیہ کی مہموں کی سرکردگی کر رہے تھے، حضرت عمرو بن عاص اور حضرت شرحبیل بن حسنہ فلسطین میں رومی قوتوں کا سامنا کر رہے تھے۔ہر طرح کے آلات حرب سے لیس یہ ایک بھاری فوج تھی ،اس کی کمان ایک بڑے رومی جرنیل ارطبون (Tribunus)یا اطربون کے پاس تھی، جس نے رملہ ، ایلیا، غزہ اور نابلس میں بڑی بڑی نفریاں متعین کر رکھی تھیں۔ حضرت عمرو بن عاص نے حضرت عمررضی اﷲ عنہ کو مطلع کیاکہ اگر ہم اس لشکر کے ایک حصے پر حملہ کرتے ہیں تو یہ تمام اطراف سے یکجا ہو کر ہم پر حملہ آور ہو گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے معاویہ بن ابوسفیان کو قیساریہ فتح کرنے کی ہدایت کی۔ یہ سمندر کے پاس ایک قلعہ نما شہر تھا ،یہاں بے شمار رومی فوجیں متعین تھیں اور سمندر کی طرف سے آنے والی کمک یہیں سے ہو کر آتی۔ معاویہ قیساریہ پہنچے اور قلعے کا محاصرہ کر لیا ۔ایک طویل محاصرے کے بعد رومی فوج مقابلے کے لیے نکلی اور ۸۰ ہزار جانوں کا نذرانہ دے کر بھاگ نکلی۔اس کے بعدمسلمانوں نے غزہ کو زیر کیا۔ اس دوران میں ارطبون (اطربون) کی فوج نے اجنادین کی طرف حرکت شروع کی تو حضرت عمرو بن عاص نے اسے روکنے کے لیے علقمہ بن حکیم اور مسروق عکی کو ایلیا اور ابوایوب مالکی کو رملہ بھیجا ۔اس کے ساتھ انھوں نے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے مدد طلب کی۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے فرما یا: ہم روم کے ارطبون (اطربون)کی طرف عرب کا ارطبون بھیجیں گے۔ حضرت عمرو بن عاص نے ان کی طرف سے آنے والی کمک کا کچھ حصہ ایلیااور رملہ بھیج دیا اور باقی تمام فوج لے کر اجنادین کا رخ کیا، وہاں رومی خندقیں کھود کر قلعہ میں مامون بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت عمرو بن عاص نے داخلے کے لیے حیلے سے کام لیا۔ پہلے صلح کی بات چیت کے لیے ایلچی بھیجے، لیکن جب ان سے اندرون کے بارے میں تسلی بخش معلومات نہ ملیں تو خودبھیس بدل کر قلعہ میں گئے۔ ارطبون(اطربون) کو شک ہو گیا کہ اسلامی فوج کا سپہ سالار خود یہاں موجود ہے، اس نے اپنے خصوصی دستے کے ایک سپاہی کو حکم دیا کہ انھیں قلعہ سے واپس جاتے ہوئے قتل کر ڈالے۔ حضرت عمرو بن عاص کو اس کے ارادے کا فوراً احساس ہو گیا، انھوں نے ارطبون سے کہا: میں حضرت عمر بن خطاب کے ۱۰ خاص آدمیوں میں شامل ہوں جو انھوں نے اس جرنیل کے ساتھ بھیجے ہیں ۔میں اپنے باقی ساتھیوں کو بلا کر لاتا ہوں،اگر وہ بھی متفق ہوگئے تو تمام لشکر ہمارے سمجھوتے پر عمل پیرا ہو جائے گا۔ یوں وہ جان بچاکر نکلے،اب ان کا جنگی منصوبہ بھی تیار تھا۔ یہاں یرموک جیسی شدیدجنگ ہوئی اور طرفین کا بہت جانی نقصان ہوا۔مسلمان ثابت قدمی سے ڈٹے ہوئے تھے، لیکن رومیوں کا حال مختلف تھا۔ ایک دن جنگ میں وقفہ ہوا تو رومی کمانڈر ارطبون (اطربون)نے اپنی فوج پرتھکن کے آثار دیکھے، سپاہی پریشاں صف تھے۔ وہ گھسٹتا ہوا پیچھے کو مڑا، اس کا رخ بیت المقدس (ایلیا) کی جانب تھا ۔ علقمہ اور مسروق نے اسے فوراً راستہ دے دیا تو وہ بیت المقدس میں داخل ہو گیا۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے رفح، سبسطیہ، نابلس، عمواس اور یافا کے علاقوں پر قبضہ کر کے ارطبون کی سمندر کی طرف واپسی کی راہیں مسدود کر دیں۔ اب ایلیا اور رملہ دو مقامات رہ گئے تھے، جہاں مسلمان رومی افواج کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ایلیا(بیت المقدس) قدیم زمانے سے ایک مضبوط قلعہ تھا، اس لیے مختلف اور متضاد روایتوں میں سے ایک یہی روایت قرین قیاس لگتی ہے کہ اسے فتح کرنے کے لیے مسلمانوں کو ایک طویل محاصرہ کرنا پڑا۔ حضرت خالد بن ولید اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح اس محاصرے میں شریک نہ تھے، اس لیے کہ وہ عین اس وقت (۱۵ھ، ۶۳۶ء) حمص اور انطاکیہ کی جنگوں میں مشغول تھے۔ بیت المقدس کے باسیوں کو یقین تھا کہ دوسرے شہروں کی طرح یہ شہربھی ہمارے ہاتھ سے جاتا رہے گا۔ اسی لیے وہاں کے لاٹ پادری صفرنیوس نے صلیب اعظم اور قیمتی مذہبی نوادرات سمندر کے راستے قسطنطنیہ کے بڑے گرجے ایا صوفیا میں رکھنے کے لیے بھیج دیے۔
محاصرے نے طول کھینچا تو حضرت عمرو بن عاص نے امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب کو خط لکھا کہ مجھے ایک دشوارملک میں مشقتوں سے بھر پور جنگ کا سامنا ہے۔اس سے پہلے ارطبون براہ راست حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو یہ دھمکی آمیز چٹھی ارسال کر چکا تھاکہ لوٹ جاؤ ،ورنہ شکست کا سامنا کرنا ہوگا۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے مسجد نبوی میں موجود اہل رائے کو حضرت عمرو بن عاص کاخط سنایا اور ایلیا جانے کے بارے میں مشورہ کیا۔سیدنا عثمان رضی اﷲ عنہ نے مدینہ ہی میں موجود رہنے کاسجھاؤ دیا، جبکہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے کہا: بیت المقدس جانا بہتر ہے ،اس سے وہاں پر موجودمسلمان مطمئن ہوجائیں گے۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اسی رائے پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا ،پہلے انھوں نے ایک لشکر بیت المقدس روانہ کیا پھر حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کر کے خود عازم سفر ہوئے۔ان کے بیت المقدس (ایلیا) پہنچنے سے قبل ارطبون مصر کو کھسک چکا تھا اوربوڑھا پادری صفرنیوس شہر ان کے حوالے کرنے کو تیار تھا۔فاروق اعظم مدینہ سے جابیہ پہنچے ،یزید بن ابوسفیان، حضرت خالد بن ولید اور حضرت ابوعبیدہ بن جراح ان سے ملاقات کرنے آئے۔ انھوں نے ان ا صحاب رسول کو ریشمی لبا س پہنے دیکھا تو ان کی آنکھوں میں خون اتر آیا، گھوڑے سے اترے اور پتھر مار کر چلائے: تم اس ہےئت میں میرا استقبال کرنے آئے ہو۔ عذر پیش کیاگیا کہ امیرالمومنین، یہ تو جنگ میں استعمال ہونے والی ایرانی قبائیں ہیں،اس وقت ہم پوری طرح اسلحے سے لیس ہیں تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا غصہ فرو ہوا، پھر انھوں نے ان سے صلاح مشورہ کیا ۔ وہ جابیہ ہی میں تھے کہ صفرنیوس کے ایلچی ان سے معاہدۂ صلح کرنے آئے ۔اس صلح نامے میں تحریر تھا: ایلیا میں رہنے والوں کو جان ومال کی امان دی جاتی ہے، ان کے گرجوں کو گرایا جائے گانہ ان کی صلیبوں کو منہدم کیا جائے گا، ان کے مذہبی معاملات میں کوئی زبردستی نہ ہو گی،انھیں جزیہ دینا ہو گا، یہ رومیوں کو اپنے شہر سے نکال دیں گے، جو ان کے ساتھ رہے گا، اسے بھی امان حاصل ہوگی۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے معاہدے پر دستخط کیے اور حضرت خالد بن ولید، حضرت عمرو بن عاص، حضرت عبدالرحمن بن عوف اور معاویہ بن ابوسفیان نے گواہی دی۔
ایلیا کے بعد رملہ اور لدکے رہنے والوں نے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے ساتھ معاہدات صلح کیے۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے علقمہ بن حکیم کو رملہ کا اور علقمہ بن مجرز کو ایلیا کا عامل مقرر کیا۔پھر وہ حضرت عمرو بن عاص اور حضرت شرحبیل بن حسنہ کی معیت میں بیت المقدس کو روانہ ہوئے۔کچھ روایات کے مطابق حضرت ابو عبیدہ اور حضرت خالد بھی ان کے ساتھ تھے۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ اونٹ پر سوار تھے ، ایک غلام آپ کا ہم رکاب تھا ، دونوں باری بار ی اونٹ پر سوار ہوتے ۔ جب وہ بیت المقدس پہنچے تو غلام سوار تھا اور حضرت عمر رضی اﷲ عنہ مہار پکڑے ہوئے تھے۔ صفرنیوس اور دوسرے عمائدین شہر نے باہر نکل کر ان کا استقبال کیا۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ فوری طور پر محراب داؤد پہنچے، وہاں آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ ادا کیا۔ رات انھوں نے شکرانے کے نفل ادا کرنے میں گزاری اوراپنے ساتھیوں کو فجرکی نماز پڑھانے کے بعد صفرنیوس کے ساتھ شہر کے آثار دیکھے۔وہ کنیسۂ قیامت میں تھے کہ ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ صفرنیوس نے انھیں وہیں پر نماز ادا کرنے کی دعوت دی، لیکن حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے معذرت کرلی۔ انھوں نے کنیسۂ قسطنطین کے دروازے پر بھی نماز نہ پڑھی، جہاں ان کے لیے چادر بچھائی گئی تھی ۔وہ گرجوں سے دور ہیکل سلیمانی کی چٹان صخر�ۂ یعقوب کے پاس آئے اور وہاں نماز ادا کی، بعد میں اسی جگہ مسلمانوں نے مسجد اقصیٰ تعمیر کی۔ عیسائیوں کی عبادت گا ہوں میں نماز پڑھنے سے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اس لیے اجتناب کیا کہ مسلمان انھیں مساجد میں نہ تبدیل کر ڈالیں۔ اگرچہ انھوں نے کنیسۂ مہد میں نماز پڑھ لی، لیکن بعد میں یہ تحریر لکھ کر دی: یہ گرجا نصاریٰ کا ہے ، بیک وقت ایک سے زیادہ مسلمان اس میں داخل نہ ہوں گے۔مشہور روایت کے مطابق بیت المقدس ۱۵ھ میں فتح ہوا ، کچھ مورخین ۱۶ہجری کا سن بتاتے ہیں۔ بیت المقدس سے واپسی پر حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کچھ دن جابیہ میں رہے۔ جب وہ مدینہ پہنچے تو حضرت علی اور دوسرے اصحاب رسول رضی اﷲ عنہم نے ان کا استقبال کیا۔
مطالعۂ مزید:تاریخ الامم والملوک(طبری)،البدایہ والنہایہ(ابن کثیر)، الفاروق عمر (محمد حسین ہیکل )،تاریخ اسلام (اکبر شاہ خاں نجیب آبادی

سیرت و عہد
مفرور شاہ روم ہرقل اپنے دار الحکومت سے دور جنگ سے نچنت ہو کر اطمینان کا ایک سال گزار چکاتھا ۔ عراق و شام اور دجلہ و فرات کے بیچ واقع الجزیرہ(Mesopotamia) اس وقت تک فتح نہ ہوا تھا۔یہاں کے عیسائیوں نے اس سے خط کتابت کی کہ اگر وہ سمندر کی جانب سے مسلمانوں پر حملہ آور ہو تو وہ زمینی راستوں سے اس کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔اب تک ہونے والی زمینی لڑائیوں میں روم کابحری بیڑا مکمل طورپر محفوظ رہا تھا،ہرقل کو معلوم تھا کہ مسلمان سمندر سے گھبراتے ہیں ، وہ یہ بھی سمجھتا تھا کہ شام کی سرحدیں ابھی بھی عیسائیوں کے لیے محفوظ ہیں۔ دوسری طرف شمالی شام میں عرب عیسائی اسلامی چھاؤنیوں میں بدامنی پھیلا کر مسلمانوں کو پریشان کر سکتے ہیں۔ ان امکانات کوپیش نظر رکھتے ہوئے اس نے ۱۷ھ میں اپنے جنگی بیڑے کو فوج اور اسلحے سے لیس کر کے اسکندریہ سے انطاکیہ کو روانہ کر دیا۔ دوسری جانب الجزیرہ کے قبائل کالشکر حمص کو چل پڑا۔ امیر افواج اسلامی ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے یہ اطلاعات سنیں تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مشاورت کے لیے قنسرین سے طلب کر لیا۔ دونوں نے شام کے شمالی شہر حمص(امیسا) میں فوجیں مجتمع کرکے دشمن کا مقابلہ کرنے پر اتفاق کیا۔ ہرقل کے بحری جہاز انطاکیہ پہنچے تووہاں کے شہریو ں نے اپنے دروازے کھول کر آنے والی فوج کا استقبال کیا۔اب ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ حمص میں محصور ہو گئے تھے، انھیں صحرا اور سمندر، دونوں جانب سے آنے والے لشکر وں نے گھیر لیا تھا۔ انھو ں نے امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مشورہ طلب کیا ،وہاں پر موجود تمام کمانڈر قلعہ بند ہو کر دارالخلافہ سے کمک کی آمد کا انتظار کرنے کے حق میں تھے ۔اکیلے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ دشمن کا مقابلہ کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ عمررضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ قعقاع بن عمر کی سر کردگی میں ایک لشکر فوراًابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی مدد کے لیے بھیج دیاجائے، چنانچہ وہ ۴ ہزارتجربہ کار فوجیوں کو لے کر کوفہ سے حمص روانہ ہو گئے۔ خلیفۂ ثانی نے سہیل بن عدی کو الجزیرہ ،عبداﷲ بن غسان کو نصیبین اور ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو ربیعہ وتنوخ کے قبائل کی سرکوبی کے لیے بھیجنے کا حکم بھی دیا۔ انھوں نے عیاض بن غنم کو اس پوری مہم کا انچارج مقرر کیااور خود مدینہ سے حمص روانہ ہو گئے۔ الجزیرہ (Mesopotamia)کے باشندگان کو ہیت ،قرقیسااور موصل کا انجام یاد تھا، وہ گھبرا کر واپس پلٹ گئے ۔۳۰ ہزار کا یہ لشکرچھٹا تو صرف ہرقل کی سربراہی میں آنے والی رومی فوج کا سامنا کرنا باقی رہ گیا۔ ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا کہ میدان جنگ میں رومیو ں کو پوزیشنیں سنبھالنے کا موقع ہی نہ دیا جائے اور ان پر اچانک حملہ کر دیا جائے ۔ مسلمان حمص کے قلعوں سے نکل کر ان پریک لخت ٹوٹ پڑے تو وہ گھبرا گئے، ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور مغلوب ہو گئے۔ قعقاع رضی اللہ عنہ کی کمک تین دن کے بعد پہنچی، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جابیہ یا تبوک کے قریبی مقام سرغ تک آ پائے تھے ۔وہ مدینہ لوٹ گئے ،انھوں نے کوفہ سے آنے والی فوج کو مال غنیمت میں سے حصہ دینے کی ہدایت کی۔
ادھرسہیل بن عدی نے رقہ اور رہا کے رہنے والوں کو، عبداﷲ بن عتبہ نے اہل نصیبین کو اور ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ نے بنو تغلب کو معاہدات صلح کرنے پر مجبور کر دیا۔ عیاض، سہیل اور عبداﷲ کی ایک مشترکہ کارروائی میں حران والوں نے بھی جزیہ دینا قبول کر لیا۔ بنو ایادالجزیرہ سے بھاگ کر ہرقل کے کنٹرول والے علاقے میں چلے گئے تھے۔ عمررضی اللہ عنہ نے ہرقل کو خط لکھا کہ انھیں فوراً لوٹایا جائے، چنانچہ ان میں سے ۴ ہزار واپس آئے اور اسلامی اقتدار کے تحت رہنا قبول کیا۔ بنو تغلب کے لوگ مسلمان نہ ہونا چاہتے تھے ،وہ اداے جزیہ سے انکار بھی کر رہے تھے۔ ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کا معاملہ طے نہ ہوا توان کا ایک وفدمدینہ آیا۔انھوں نے عمر رضی اﷲ عنہ سے مطالبہ کیا کہ جزیہ یا خراج کا نام لے کر انھیں بدکایا نہ جائے، صدقہ کے نام سے چاہے دگنی وصولی کر لی جائے۔ علی رضی اﷲ عنہ نے رائے دی کہ ان سے حاصل ہونے والے ٹیکس کو صدقہ کا نام دینے میں کوئی حرج نہیں ۔یہ نزاع ختم ہواتو عمر رضی اللہ عنہ نے ولیدرضی اللہ عنہ کو معزول کر کے فرات بن حیان کو ان کاامیر مقرر کر دیا۔بعد کے معرکوں میں ان تغلبی عیسائیوں نے اسلامی حکومت کا بہت ساتھ دیا۔
خالدبن ولید رضی اللہ عنہ قنسرین لوٹے تو ان کے پاس بے شمار مال غنیمت اور جنگی قیدی تھے۔لوگ ان کے پاس عطیات کے لیے آنے لگے، کندہ کے امیر اشعث بن قیس بھی ان میں شامل تھے۔خالدرضی اللہ عنہ نے ان کو ۱۰ہزار درہم دیے،انھوں نے کسی شاعر کو انعام سے بھی نوازا۔ یہ خبریں امیر المومنین تک پہنچیں، اس سے پہلے انھیں معلوم ہوا تھا کہ خالدرضی اللہ عنہ ارمینیہ کے مقام آمد پر ایک حمام میں گئے اور شراب ملی ہوئی بوٹی جسم پر مل کر نہائے۔ جب عمررضی اللہ عنہ نے بازپرس کی توخالدرضی اللہ عنہ کا جواب تھا: یہ ایک صابن ہے جس کی تیاری میں شراب اپنی صفات کھو دیتی ہے۔ عمررضی اللہ عنہ مطمئن نہ ہوئے تھے۔ اس بار انھوں نے افواج اسلامی کے امیر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو حکم بھیجا کہ خالدرضی اللہ عنہ کو بلا کر ان کا عمامہ اتار لیا جائے، اس کی ٹوپی نکال کر کپڑے سے ان کے ہاتھ پشت پرباندھ دیے جائیں اور ۱۰ ہزار درہموں کا حساب لیا جائے ۔ پھر قنسرین کی کمان ان سے واپس لے لی جائے، کیونکہ اگر انھوں نے یہ رقم اپنے مال سے عطیہ کی ہے تو اسراف ہوا اوراگر غزوۂ روم سے حاصل ہونے والے اموال سے دی ہے تو خیانت ٹھہری ۔ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ یہ حکم سن کر مبہوت ہو گئے، تاہم انھوں نے خالد رضی اللہ عنہ کو مسجد میں طلب کر کے منبر کے سامنے کھڑا کیا، بلال رضی اﷲ عنہ اور عمررضی اللہ عنہ کے ایلچی نے انھیں باندھا، پھر اس ایلچی نے ۱۰ ہزار کی بابت سوال کیا ۔بار بار کے استفسار پرخالد رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ میرا ما ل تھا۔وہ اپنی ہتک پر رنجیدہ تھے۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ منبر سے اترے ، خالدرضی اللہ عنہ سے معذرت کی اور کہا: یہ سب امتثال امر خلیفہ میں تھا۔انھوں نے معزولی کا حکم کچھ عرصہ چھپائے رکھا۔ اسی دوران میں عمر رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ خالدرضی اللہ عنہ کو ان کے عہدے پر بحال کر دیا جائے۔انھوں نے یہ درخواست نہ مانی،اس کے بجائے عزل کا حکم براہ راست خالدرضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ خالدرضی اللہ عنہ نے اہل قنسرین کو الوداعی خطاب کیا اور حمص چلے گئے ، وہاں سے مدینہ کی راہ لی۔ جب وہ عمررضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے توبتایا کہ یہ انعام میں نے اس مال میں سے دیا جو جنگوں میں میرے حصے میں آیا یا غنیمت کے طور پر مجھے ملا، آپ حساب کر لیں اور ۶۰ ہزار درہم سے زائد رقم بیت المال میں جمع کرلیں۔عمر رضی اللہ عنہ نے جب ان کے اثاثوں کی چھان بین کی تو ۸۰ ہزار درہم (یا ۷ ہزار دینار) بنے، فالتو ۲۰ ہزار درہم بیت المال میں جمع کر لیے گئے۔اس کے ساتھ ہی انھوں نے خالد رضی اللہ عنہ کے بری الذمہ ہونے کے خطوط تمام اسلامی سلطنت میں بھیج دیے۔ خالدرضی اللہ عنہ کے لیے فوج سے دور حالت امن میں زندگی گزارنا بہت مشکل تھا ، اسے وہ عورتوں والی زندگی سمجھتے تھے۔ ۴ برس اسی طرح گزرگئے ،ان کا آخری وقت آیا توانھیں میدان جنگ کے بجائے بستر پر مرنے کا بہت قلق تھا۔ عمررضی اللہ عنہ نے ان کے ترکے میں ایک گھوڑا ،ایک غلام اور کچھ اسلحہ دیکھ کر کہا: ابو سلیمان(خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ ) کے بارے میں ہمارا گمان غلط تھا۔
۱۷ہجری میں نئی اسلامی سلطنت کو دو بڑی قدرتی آ فات کا سامنا کرنا پڑا۔۹ ماہ جاری رہنے والا قحط عام، جس نے شمالی و جنوبی تمام عرب کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔اس عرصے میں بارش کا ایک قطرہ نہ ٹپکا، جبکہ پہلے سے موجود تمام کھیتی سوکھ سڑ کر راکھ ہو گئی، اکثر بھیڑ بکریاں ہلاک ہوئیں اور دودھ دینے والے جانوروں کا دودھ خشک ہو گیا۔ہوا چلتی تو ہر طرف راکھ اڑنے لگتی، اس سال کا نام ’’عام الرمادہ‘‘ (راکھ والا سال) اسی لیے پڑا۔جو جانور بچ گئے ، ان کا گوشت سوکھ کر کھانے کے قابل نہ رہا۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ لوگوں نے چوہوں کے بل کھود کر ان کی جمع شدہ خوراک حاصل کی۔ قحط شروع ہوا تو شہر مدینہ کے حالات اچھے تھے، لوگوں نے اپنی زرخیز زمینوں سے حاصل ہونے والا غلہ ذخیرہ کر رکھا تھا۔ صحراؤں کے رہنے والے، البتہ ابتدا ہی سے مصیبتوں کا شکار ہو گئے۔وہ شکایتیں لے کر امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آنے لگے۔ان کی مدد کرتے کرتے آخر کار مدینہ کے ذخائر بھی ختم ہوگئے ۔ اس زمانۂ قحط میں بھی امیر المومنین کا طرز عمل مثالی اور قابل تقلیدتھا۔ان کے اس عمل اوران کے اخلاص کی وجہ سے لوگ ان کے ساتھ رہے۔جیسے انھوں نے مسلمانوں کا خیال رکھا ،ویسے ہی مسلمانوں نے اپنے امیر کا پاس کیا۔ ایک بار انھیں گھی سے چپڑی ہوئی روٹی دی گئی، انھوں نے ایک بدو کو ساتھ شریک کیا۔ بدولقمے کے ساتھ چکنائی بھی کھینچ کر اپنی طرف کر لیتا۔عمررضی اللہ عنہ کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ جب سے قحط ہوا ہے، میں نے گھی اور زیتون خود کھایا ہے نہ کسی کو کھاتے دیکھا ہے ۔انھوں نے قسم کھائی کہ جب تک قحط لوگوں سے ختم نہیں ہوتا، گوشت کھاؤں گا نہ گھی چکھوں گا۔ان کا غلام بازار سے ۴۰ درہم کا گھی اور دودھ لے آیا تو انھوں نے فوری طور پر صدقہ کرنے کا حکم دیا۔پھر کہا: مجھے رعایا کا خیال کیسے ہو سکتا ہے جب تک ان کو آنے والی تکلیف مجھے بھی لاحق نہ ہو۔ان کا رنگ سرخی مائل سفید تھا، لیکن عام الرمادہ میںیہ سیاہ پڑ گیا۔لوگ کہنے لگے: اگر قحط ختم نہ ہوا تو عمررضی اللہ عنہ ہی چل بسیں گے۔
امیر المومنین نے عمروبن عاص رضی اللہ عنہ کو فلسطین سے، معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما اور ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو شام سے اور سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو عراق سے مدینہ غلہ بھیجنے کی ہدایت کی۔ سب سے پہلے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے غلہ سے لدے ہوئے ۴ ہزار اونٹ بھیجے، جو عمررضی اللہ عنہ نے خود مدینہ کے مضافات میں تقسیم کیے۔ انھوں نے ان کے بدلے میں ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو ۴ ہزار درہم بھی ادا کیے ۔ پھر عمروبن عاص رضی اللہ عنہ نے ۲۰ بحری جہاز اور ایک ہزار اونٹ بھیجے جن پرآٹا اور گھی لدا ہوا تھا۔معاویہ رضی اللہ عنہ نے ۳ ہزار اور سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار اونٹ آٹا بھیجا۔ کپڑوں کے ۵ ہزار جوڑے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اور ۳ہزار عبائیں ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے بھیجیں۔سارے غلے کی تقسیم سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے اپنی نگرانی میں کرائی۔وہ دارالخلافہ میں ثرید بنواتے، اونٹوں کا گوشت پکواتے اور خودلوگوں کے ساتھ مل کر کھاتے۔ایک بار ان کے ساتھ دستر خوان پر کھانے والوں کا شمار کیا گیا تو ۷ ہزار آدمی ہوئے، اسی روز جن عورتوں ،بچوں اور بیماروں کو گھروں میں کھانامہیا کیا گیا ، ان کی تعداد ۴۰ ہزار تھی ۔رفتہ رفتہ یہ تعداد بڑھ کر علی الترتیب ۱۰ ہزار اور۵۰ ہزار ہو گئی۔ آٹا اور گھی لوگوں کے گھروں میں بھی فراہم کیا جاتا۔
حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے ان اقدامات کے با وجود زمانۂ قحط میں کئی امراض پھیل گئے۔ کئی چل بسے اور بہت بیمار پڑ گئے۔مریضوں کا علاج معالجہ اور مردوں کی تجہیز و تکفین عمررضی اللہ عنہ خود کراتے۔مادی وسائل کو بروے کار لانے کے ساتھ وہ شب بھر دعا و آہ وزاری میں مشغول رہتے، اﷲ کے حضور گڑگڑاتے کہ امت میرے ہاتھوں ہلاک نہ ہو جائے۔پھر انھوں نے نماز استسقا پڑھائی ، رو رو کر بارش کی دعا مانگی ۔عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ ان کے داہنے ہاتھ کھڑے تھے،عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا واسطہ بھی دیا۔اﷲ نے ان کی دعا قبول کی ، خوب مینہ برسا اور کھیتیاں ہری بھری ہو گئیں۔ اب عمررضی اللہ عنہ نے مدینہ میں جم جانے والے بدووں کو شہر چھوڑنے کی ہدایت کی ۔ان کا خیال تھا کہ وہ شہری زندگی کے خوگر ہو گئے تو اپنے دیہاتوں میں واپس جا نہ پائیں گے۔ تمام عرصۂ قحط میں خلیفۂ ثانی کی ہدایت رہی کہ کسی علاقے پر حملہ نہ کیا جائے، البتہ اپنے دفاع کی پوری تیاری رکھی جائے۔اس سال انھوں نے زکوٰۃ بھی اکٹھی نہ کی ۔ قحط ختم ہوا تو انھوں نے اپنے عاملین کو ۲ برس کی زکوٰۃ لینے کا حکم دیا ۔ایک عام الرمادہ کی اور دوسری اگلے برس کی۔انھوں نے ہدایت کی کہ ایک حصہ فوری طور پر ضرورت مندو ں میں بانٹ دیا جائے اور دوسرا بیت المال میں جمع کرایا جائے۔
عہد فاروقی میں آنے و الی دوسری بڑی آفت بیت المقدس اور رملہ کے بیچ واقع عمواس نامی بستی میں پھوٹنے والی طاعون کی وبا تھی، جسے اسی نسبت سے ’’طاعون عمواس‘‘ کہا جاتا ہے۔ ۱۷ہجری کے اواخر یا ۱۸ہجری کی ابتدا میں یہ وبائی مرض عمواس سے شروع ہو کر شام و عراق کے پورے درمیانی علاقے میں پھیل گیااور ایک ماہ جاری رہا۔ایک دفعہ اس وبا کی شدت کم ہو گئی، لیکن اس نے پھر عود کیا ۔ مجموعی طور پر اس نے ۲۵ ہزارمسلمان مردوں، عورتوں ، شہریوں اور فوجیوں کی جانیں لیں۔ معرکۂ الجزیرہ کے سلسلے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سرغ یا جابیہ تک پہنچ کر مدینہ واپس لوٹنے کی وجہ یہی وبا تھی۔ انھوں نے طاعون کی خبر سن کر مہاجرین و انصار سے مشاورت کی تو کچھ نے کہا کہ آپ جس کام سے آئے ہیں ، اسے پورا کیے بغیر نہ لوٹیں۔ دوسروں نے مشورہ دیا کہ کبار اصحاب رسول کووبا کے خطرے میں ڈالنا مناسب نہیں۔ جب انھوں نے واپسی کا فیصلہ کر لیا تو ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا اﷲ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں؟ عمررضی اللہ عنہ کا جواب تھا: ہاں، ہم اﷲ کی ایک تقدیر سے اس کی دوسری تقدیر کی طرف فرار ہو رہے ہیں۔
گر زیک تقدیر خوں گردد جگر
خواہ از حق حکم تقدیر دگر
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ فرمان نبوی سنا کر عمر رضی اللہ عنہ کے موقف کی تائید کی: ’اذا سمعتم بارض قوم فلا تقدموا علیہ،فاذا وقع بارض انتم فیہا فلا تخرجوا منہا فراراً منہ‘ ’’جب تم کسی قوم کی سر زمین میں طاعون پھیلنے کی خبر سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب یہ اس جگہ پھوٹے جہاں تم موجود ہو تو اس سے فرار کی خاطر وہاں سے نہ نکلو۔‘‘ (بخاری، رقم ۵۷۳۰) خلیفۂ ثانی ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے بہت محبت کرتے تھے حتیٰ کہ اپنے بعد انھی کو خلیفہ مقرر کرنا چاہتے تھے، اس لیے انھیں ملاقات کے بہانے مدینہ بلایا۔وہ بھی سمجھ گئے کہ عمررضی اللہ عنہ مجھے شام سے نکالنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے لکھ بھیجا: مجھے آپ کے ضروری کام کا پتا چل گیا ہے ،میں اپنی فوج چھوڑ کر نہیں آسکتا تاآنکہ اﷲ ہماری تقدیر کا فیصلہ کر دے ۔اب عمررضی اللہ عنہ نے فوج کو اترائی سے نکال کر بلند مقام پر لانے کی نصیحت کی، لیکن تب تک وہ طاعون میں مبتلا ہو چکے تھے ،انھوں نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے کہا کہ فوج کو لے کر جابیہ کی طرف کوچ کریں۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے آئے، کچھ افاقہ ہوا توانھوں نے فوج سے خطاب کرتے ہوئے کہا: یہ بیمار ی تم پر اﷲ کی رحمت نازل کرنے کا باعث بنے گی۔ان کے انتقال کے بعد معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کوان کا جا نشین بنایا گیا، معاذ رضی اللہ عنہ اور ان کا بیٹا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بھی طاعون سے فوت ہوگئے تو عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کمانڈر بنے۔وہ عمررضی اللہ عنہ کی ہدایت پر فوج کو پہاڑوں پر لے گئے تو طاعون کا زور ٹوٹ گیا۔ اس مرض کا شکار ہونے والوں میں یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما، سہیل بن عمر و،حارث بن ہشام اور عتبہ بن سہیل بھی شامل تھے۔حارث بن ہشام کے ساتھ شام جانے والے ان کے ۷۰ اہل خانہ میں صرف ۴ بچ پائے۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ۴۰ بیٹوں نے اس وبا میں جان دی۔ رومی لشکراس وبا کے دوران میں مسلمانوں پر حملہ کرتا تو اس کا مقابلہ مشکل ہوتا، لیکن ہرقل خود طاعون سے خوف زدہ تھا،اس نے حملے کی جرأت نہ کی۔ پھر جب یہ وبا شام سے عراق منتقل ہوئی اور وہاں بھی بہت تباہی مچائی تو یزدگرد نے بھی عراق واپس لینے کی کوئی جستجو نہ کی۔
وبا ختم ہونے کے بعد عمر رضی اﷲ عنہ علی رضی اﷲ عنہ کو مدینہ میں اپنا قائم مقام مقرر کرکے شام پہنچے اور وہ تمام شامی علاقہ دیکھا جہاں طاعون نے قیمتی جانیں لے لی تھیں۔ انھوں نے حمص، دمشق اور شام کی سرحدوں کے انتظامی معاملات نمٹائے۔پھروبا میں وفات پانے والوں کے مسائل میراث سلجھائے، کیونکہ ان کی وجہ سے کئی پیچیدگیاں پیدا ہو رہی تھیں۔ پہلے وہ معاویہ رضی اﷲ عنہ کو دمشق کا اور شرحبیل بن حسنہ کو اردن کا گورنر مقرر کر چکے تھے،اب شرحبیل کو ہٹا کر تمام صوبہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے ماتحت کر دیا، اس لیے کہ ان کے خیال میں وہ زیادہ سیاسی بصیرت رکھتے تھے۔ ان کے اس اقدام نے تاریخ اسلامی پر گہرا اثر ڈالا۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طویل گورنری میں جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں بھی جاری رہی، بنو امیہ کا رسوخ بڑھ گیا۔ بالآخر مکمل اقتدار انھی کے پاس آگیا اور اسلامی دارالخلافہ مدینہ سے دمشق منتقل ہو گیا۔دورہ مکمل ہونے کے بعد خلیفۂ ثانی جابیہ پہنچے ، بلال رضی اﷲ عنہ ان کے ساتھ تھے۔ نماز کا وقت ہوا تو لوگوں نے اصرار کیا کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان دیں۔کئی سالوں کے بعد بلال رضی اللہ عنہ کی آواز بلند ہوئی تو عمررضی اللہ عنہ ہچکیاں لے کر رونے لگے، خود بلال رضی اللہ عنہ کی ڈاڑھی آنسووں سے تر ہو گئی۔ بیت المقدس کے قریب شام کی سر زمین میں یہ بلال رضی اللہ عنہ کی پہلی اور آخری اذان تھی۔یہ جزیرۂ عرب سے باہر عمررضی اللہ عنہ کا آخری دورہ تھا۔ مدینہ میں کچھ دیر قیام کرنے کے بعد وہ حج کے لیے روانہ ہوئے۔
طاعون عمواس پھوٹنے کا صحیح سبب معلوم نہیں،متاخرین اہل تاریخ کا خیال ہے کہ عراق و شام کی جنگوں میں بے شمار لوگ مارے گئے، جن کی میتوں کو صحیح طرح دفنایا نہ جا سکا۔ان انسانی اجسام کے گلنے سڑنے سے جراثیم کی بھر مار ہوئی تو طاعون کا جرثومہ (pasturella pestis) لوگوں پر حاوی ہونے میں کامیاب ہو گیا۔مورخین متقدمین کہتے ہیں کہ شام میں مقیم کچھ مسلمان شراب پینے لگے تھے۔قائد جیش اسلامی ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ان کو منع کرتے تو وہ اس کی حلت کی تاویلیں کرتے۔ انھوں نے امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو مطلع کیا ۔عمررضی اللہ عنہ نے مدینہ میں موجود اصحاب رائے کو اکٹھا کر کے فیصلہ لیا۔ قرآن کے الفاظ، ’ فَہَلْ اَنْتُمْ مُنْتَہُوْنَ‘، ’’تو کیا تم شراب نوشی سے بازآؤ گے؟‘‘ (سورۂ مائدہ۵:۹۱) کے پیش نظر سب نے شراب کے حرام ہونے پر اجماع کیا ۔عمر رضی اللہ عنہ نے حکم بھیج دیا کہ جو شراب کو حلال سمجھتا ہے ، اسے قتل کر دیا جائے اور جو حرام سمجھ کر پیتا ہے ،اسے ۸۰ درے مارے جائیں اور فاسق ٹھہرایا جائے۔ یہ حد خلیفۂ اول ابو بکررضی اللہ عنہ نے نافذ نہ کی تھی، لیکن اس فاروقی اجماع کے بعد اسے بھی حدوداﷲ میں شمار کیا جانے لگا۔ ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے اس فیصلے پر عمل کرنے کے ساتھ یہ بد دعا بھی کی: اے اہل شام ، تمھاری تنبیہ کے لیے کوئی بڑا حادثہ ہونا چاہیے، تب طاعون پھوٹا۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بہت رقیق القلب تھے، باور نہیں کیا جا سکتا کہ انھوں نے ایسی بد دعا کی ہوپھر چند مسلمانوں کی شراب نوشی کی سزا پورے اسلامی معاشرے کو دینا بھی قرین انصاف نہیں تھا۔
مطالعۂ مزید: تاریخ الامم و الملوک (طبری)، البدایہ و النہایہ (ابن کثیر)، الفاروق عمر (محمد حسین ہیکل)، تاریخ اسلام (اکبر شاہ خاں نجیب آبادی)

سیرت و عہد
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خواہش تھی کہ قیصر و کسریٰ اور مصر وشام کے حکام جنگ کیے بغیر دعوت اسلام قبول کر لیں۔ خلیفۂ ثانی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی چاہتے تھے کہ عراق و ایران میں دور تک گھسنے (invasion) کی کارروائیاں نہ کی جائیں۔فتح مدائن کے بعد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے پہاڑوں کے اس پار ایرانیوں کا پیچھا کرنے کی اجازت مانگی تو عمررضی اللہ عنہ نے خط لکھا: میری خواہش ہے کہ صحراے عرب اور ایرانی سلسلہ ہاے کوہ کے بیچ کوئی بند ہو ،وہ ہم تک پہنچ پائیں نہ ہم ان پر حملہ کریں۔میرے خیال میں مسلمانوں کی سلامتی غنائم پر فوقیت رکھتی ہے۔ لیکن اس خطے میں پے درپے ہونے والے واقعات کی وجہ سے عمررضی اللہ عنہ اپنی پالیسی پر عمل پیرانہ ہوسکے۔یہ ایرانی ہی تھے جن کی مسلسل عہد شکنیوں کی وجہ سے فتح ایران مکمل ہوئی ،اگر وہ سیدنا عمررضی اللہ عنہ سے کیے ہوئے معاہدات پر قائم رہتے تو امکان غالب تھا کہ ایران کے ایک بڑے حصے پر یزدگرد کی بادشاہت برقرار ہوتی۔
جنگ قادسیہ میں شکست کھانے کے بعد شاہ یزدگرد حلوان پھر رے کی طرف فرار ہوا جبکہ جنرل ہرمزان موت کے منہ سے بچنے کے بعد جنوب مشرقی عراق کے شہر اہواز (صوبۂ اہواز یا خوزستان کے صدر مقام) میں جا بسا۔ مسلمانوں نے ایران کے اطراف میں بکھر جانے والے ان سورماؤں کا پیچھا نہ کیا اور اپنی توجہ عراق کی طرف مرکوز کر دی تو ایرانیوں کو خیال ہوا کہ مسلمان ان سے خوف زدہ ہو کر پیش قدمی کرنے سے رک گئے ہیں۔اہل اہواز جوابی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے میں پیش پیش تھے،وہ پہلے بھی صلح کا معاہدہ کر کے توڑ چکے تھے ۔ ادھر بصر ہ کے گورنر بدلتے رہے، عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہ عتبہ بن غزوان کے ہاتھوں دوبارہ زیر ہواتو وہ گورنر بنے ۔ان کی وفات کے بعد مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ان کی جگہ لی۔ بصرہ میں موجود ایک صحابی ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے ان پر بنو ہلال کی ام جمیل سے زنا کا الزام لگایا توعمررضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو معزول کر کے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو بصرہ کا گورنر مقرر کر دیا۔مغیرہ رضی اللہ عنہ کا مقدمہ مدینہ میں خلیفہ کی عدالت میں پیش ہوا، لیکن چوتھے گواہ کے مضطرب ہونے کی وجہ سے تہمت ثابت نہ ہوسکی۔ انھی دنوں میں بحرین کے گورنر علاء بن حضرمی نے خلیفہ سے اجازت لیے بغیر بحری جہازوں کے ذریعے خلیج فارس کوعبور کیا اوررستے کے مقامات زیر کرتے ہوئے شہر اصطخرفتح کرنے کی ٹھانی۔ سمندری جنگ کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے اپنی پشت کو محفوظ نہ کیا۔ایرانیوں نے ان کی واپسی کا راستہ کاٹ دیا تو وہ محصور ہو گئے۔ تب عمر رضی اﷲ عنہ نے بصرہ و کوفہ سے دستے بھیج کر انھیں چھڑا یااوران کو گورنری سے ہٹا کر عراق میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ما تحت کر دیا۔ اہواز کے اہل سیاست نے ان تبدیلیوں سے تاثر لیا کہ اب مسلمان امرا اقتدار کی جنگ میں الجھ کر کمزور ہو جائیں گے ۔ان کا مشاہدہ تھا کہ اقتدار کی کشمکش میں شریک ایرانی اراکین سلطنت موقع پاتے ہی اپنے ساتھیوں کوکچل دیتے تھے ،اس طرح انھیں اوپر آنے کا موقع مل جاتاتھا۔یہ سوچ کر کہ اسلامی حکومت میں بھی ایسا کھیل کھیلا جائے گا، وہ کھلم کھلا عہد شکنی پر اتر آئے،انھوں نے سابق گورنر مغیرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ طے کیا ہوا جزیہ دینے سے انکار کر دیا۔
اہوازمیں پناہ لینے کے بعد ہرمزان نے میسان اور دست میسان میں موجود مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔عتبہ بن غزوان نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کمک حاصل کرنے کے بعدسُلمی بن قین رضی اللہ عنہ اور حرملہ بن مریطہ رضی اللہ عنہ کو ان دونوں شہرو ں کی حفاظت کے لیے بھیجا۔ یہ دونوں بنو حنظلہ سے تعلق رکھتے تھے، انھوں نے بنو وائل و کلیب (بنو عم) کے لوگوں سے مدد لی جو ان کے چچیرے تھے اور ما قبل اسلام سے صوبۂ اہواز(خوزستان) میں آباد تھے۔ ایک رات جب ہرمزان نہر تیری اور دلث کے مابین تھا ، بنووائل و بنو کلیب نے ان دونوں شہروں پر قبضہ کیا اور سُلمی اورحرملہ نے اسے جا لیا۔ بہت جانی نقصان اٹھانے کے بعد ہرمزان اپنی فوج لے کر واپس اہواز شہرکو بھاگ گیا اور صلح کی درخواست کی ۔ دریاے دجیل (دجلۂ کودک)اسلامی ا فواج اور ہرمزان کے مقبوضہ اہواز کے بیچ میں فاصل بن گیا ۔غالب وائلی کو مناذر کا اور کلیب بن وائل کو نہر تیری کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔ فتح کے بعدعتبہ اور سُلمیرضی اللہ عنہ ایک وفد لے کر عمررضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور خمس ان کے حوالے کیا۔ احنف بن قیس نے بصرہ میں مقیم مسلمانوں کی پریشاں حالی کی شکایت کی۔ انھوں نے کہا: ہم زمین شور میں جا پڑے ہیں، ایک طرف بیابان ہے اوردوسری طرف کھارا سمندر۔ سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے خسروی خاندان سے حاصل ہونے والے مال فے کا ایک حصہ اہل بصرہ کے لیے مختص کیا اور عتبہ کو حکم دیا کہ بصرہ کے معاملات احنف کے مشورے سے چلائے جائیں۔ابن کثیرکے بیان کے مطابق بصرہ سے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بھی ایک لشکر اہواز بھیجا تھا۔ بلاذری کا کہنا ہے کہ نہر تیری ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اور مناذر ان کے مقرر کردہ کماندار ربیع بن زیاد نے فتح کیا ۔
ادھر ہرمزان اور غالب و کلیب میں سرحد کے تعین میں اختلاف ہو گیا۔ سُلمی رضی اللہ عنہ اور حرملہ رضی اللہ عنہ نے معاملہ نبٹانے کی کوشش کی تو ہرمزان نے ان کی ثالثی نہ مانی۔ اس نے کردوں کو ملا کر اچھی خاصی قوت فراہم کر لی تھی، اس لیے معاہدہ توڑ کر مقابلے پر اتر آیا۔سُلمی نے عتبہ سے اور عتبہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے مدد چاہی۔انھوں نے حرقوص بن زہیر سعدی رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں کمک بھیجی۔ ہرمزان او رحرقوص رضی اللہ عنہ کی افواج کے بیچ میں سوق اہوازکا پل تھا۔ ہرمزان کی دعوت پر مسلمانوں نے پل عبور کیا۔ سوق اہوازکے باہر لڑائی ہوئی۔ ہرمزان کو شکست ہوئی اور وہ را م ہرمز کی طرف بھاگا۔ حرقوص رضی اللہ عنہ نے جزء بن معاویہ کو اس کا پیچھا کرنے کے لیے بھیجا، وہ شغر تک گئے، لیکن ہرمزان ان کے ہاتھ نہ آیا۔ انھوں نے قریبی شہر دورق کا رخ کر لیا،یہاں کے باشندے شہر چھوڑ کر بھاگ گئے ،پھر جزیہ دینے پر آمادہ ہوئے اور واپس آ بسے۔عمر رضی اﷲ عنہ نے صلح کی اجازت دینے کے ساتھ شہرمیں نہر کھودنے اور بے آباد زمین کو آباد کرنے کی ہدایت کی۔ دوسر ی طرف حرقوص رضی اللہ عنہ نے اہواز کے باشندگان پرجزیہ عائدکیا اور خمس خلیفۂ ثانی کی خدمت میں مدینہ بھیج دیا۔انھوں نے اہواز کے پہاڑ پر اپنی قیام گاہ بنائی۔ عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ لوگوں کو ان کے پاس آنے جانے میں دشواری پیش آتی ہے توانھوں نے فوراً نیچے اتر آنے کی ہدایت کی۔ جب مقابلے کا چارہ نہ رہا تو ہرمزان نے بھی صلح کا خط لکھا، عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی درخواست قبول کر لی۔
یزدگرد اس وقت مرو یا اصطخر میں مقیم تھا، اس نے دیکھا کہ ایرانی جنگ جومختلف اور متفرق معرکوں میں اسلامی افواج کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کررہے ہیں تو انھیں ہدایت کی کہ ایک متحدہ فوج تشکیل دے کر مسلمانوں کا راستہ رو کیں۔ حرقوص رضی اللہ عنہ ،جزء اورسُلمی کواس کی تیاریوں کی اطلاع پہنچی تو امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کومطلع کیا۔ انھوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ نعمان بن مقرّ ن کی قیادت میں ایک بڑا لشکر فوراًاہواز بھیج دیا جائے۔ عمررضی اللہ عنہ نے چند دلیروں کے نام بھی تجویز کیے۔پھر ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو بھی حکم بھیجا کہ سہل بن عدی رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں ایک فوج بھیجی جائے جس میں براء بن مالک رضی اللہ عنہ، مجزاہ بن ثور اورعرفجہ بن ہرثمہ شامل ہوں۔ ہرمزان نے سبقت کی اوراربک کے مقام پر نعمان بن مقرّن کے لشکر کو روک لیا ، ایک سخت جنگ کے بعداسے شکست ہوئی تو واپس رام ہرمز کو پلٹا، پھر شوستر(تستر)جا کر قلعہ بند ہو گیا۔ نعمان نے رام ہرمز پر قبضہ کیا اور اہل ایذج سے مصالحت کر لی۔ سہلرضی اللہ عنہ بصرہ سے چلے تھے، ان کو ہرمزان کی قلعہ بندی کا پتا چلا تو وہ بھی شوستر (تستر) پہنچ گئے۔ اب سلمی، حرملہ، حرقوص اور جزء کی سربراہی میں دستے شوستر (تستر) کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ یزدگرد کی دعوت پر اطراف ایران سے آنے والے فوجیوں کا ایک بڑا لشکر شہر میں جمع ہو چکا تھا۔ مسلمان فوجیوں نے فصیل شہر پھلانگنے کی کوشش کی، لیکن کامیاب نہ ہوئے۔ کوفہ وبصرہ کے سالار ابو سبرہ نے امیر المومنین سے مدد مانگی تو انھوں نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کوایک نیا لشکر لے کر خود شوستر(تستر ) جانے کی ہدایت کی۔ انھوں نے عماربن یاسررضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں کوفہ سے کمک بھی بھیجی۔محاصرے کو کئی ماہ گزر چکے تھے،ہرمزان نے شہر سے باہر نکل کر دوبدو لڑائی کا فیصلہ کر لیا،اسے فتح کا یقین تھا۔ اس کی دعوت مبارزت پر براء بن مالک (انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بھائی) نکلے، لیکن شہید ہو گئے پھر مجزاہ بن ثور نے شہادت پائی۔اس کے بعد لڑائی رک گئی اور کوئی ایرانی آگے نہ آیا۔ ایک دن گزر گیا اور دوسری صبح طلوع ہوئی۔ اسی اثنا میں ایک ایرانی چھپتا ہوا آیا اور ابوموسیٰرضی اللہ عنہ سے پناہ طلب کی۔انھوں نے یہ شرط رکھی کہ وہ شہر میں داخل ہونے کا کوئی راستہ بتائے۔اس نے بتایا کہ جس نہری راستے کے ذریعے دریاے دجیل سے شہر کو پانی سپلائی کیا جاتا ہے، وہاں سے شہر میں گھسا جا سکتا ہے۔ اشرس بن عوف اس شخص کے ساتھ گئے، انھوں نے غلاموں کا بھیس بنایا ہوا تھا۔ایرانی نے انھیں شہر کے راستے سمجھا دیے اور ہرمزان کا پتا بتایا۔ اب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اشرس کے ساتھ ۴۰ کمانڈو بھیجے،۲۰۰ مہم جو ان کے پیچھے پیچھے تھے۔ ظلمت شب میں انھوں نے پہرے داروں کو قتل کر کے فصیل پر قبضہ کرلیا۔دروازے کھل گئے او ر شہ سوار داخل ہوئے۔ ہرمزان فرار ہو کر قلعے میں جا گھسا ۔ اپنے آپ کو حوالے کرنے کے لیے اس نے یہ شرط لگائی کہ عمر رضی اﷲ عنہ خود اس کے بارے میں فیصلہ کریں۔ شرط مانی گئی تو اس نے ہتھیار ڈالے۔ اس کا خوزستان اور جنوبی ایران کی حکمرانی کا خواب چور چورہو چکا تھا۔اسے باندھ دیا گیا ،قائدجیش ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور احنف بن قیس کی معیت میں اس کوعمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں روانہ کیا۔اب شہریوں کی طرف سے کوئی مزاحمت نہ تھی۔ سقوط کے بعد خمس مدینہ ارسال کیاگیا ، گھڑ سوار کو تین ہزار درہم ملے جبکہ پیادہ کے حصے میں ایک ہزار آئے۔
شوستر سے چند میل دور مغرب میں واقع سوس (شوش یاشوشان) کے شہر میں ہرمزان کا بھائی شہریار حاکم تھا۔ محاصرۂ شوستر (تستر) کے دوران میں اہل سوس کی ابوسبرہ کی فوج سے کئی جھڑپیں ہو چکی تھیں، ان میں مسلمانوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔چنانچہ شوستر (تستر) سے فارغ ہونے کے بعد ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سوس کا رخ کیا۔ ایک طویل محاصرے کے بعد جب شہر والوں کا غلہ ختم ہو گیا تو انھوں نے ہتھیار ڈالے۔ دہقان سوس(امیر شوش) نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اپنے ۱۰۰ اہل خانہ کی جان بخشی کا وعدہ لیا تھا،شومئی قسمت کہ اپنا نام لینے کا اسے خیال نہ رہا۔ابو موسیٰرضی اللہ عنہ نے اس کی گردن اڑانے کا حکم دے دیا۔ شہر فتح کرنے کے بعدمعلوم ہوا کہ یہاں پر اﷲ کے نبی دانیال علیہ السلام کی قبرہے ۔ان کا جسد کھلا نظر آتا ہے اور لوگ ان سے بارش کی دعائیں مانگتے ہیں۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کو مطلع کیا ،انھوں نے جثۂ مبارک کو کفن پہنا کرقبر بند کرنے کا حکم دیا۔ یہ قبر آج بھی موجود ہے ، انیسویں صدی میں اس پر مزار تعمیر کیا گیا۔ فتح سوس (شوش) کے بعد ایرانی شاہ سوار سیاہ اور اس کے ساتھیوں نے اسلام قبول کیا، سیاہ نے اپنے لیے عطیات کا مطالبہ کیا۔ عمررضی اللہ عنہ کی اجازت سے ۶ سرداروں کو ۲۵۰۰ اور ۱۰۰ افراد کو ۲۰۰۰ دینار دے دیے گئے۔ سوس کے بعد جندیٰ سابور کا محاصرہ ہوا ، اسلامی فوج میں شامل ایک غلام نے ازخودشہر والوں کو امان کا پروانہ لکھ بھیجا۔خلیفۂ دوم رضی اللہ عنہ نے اس کی منظوری دے دی۔
انس رضی اللہ عنہ اور احنف مدینہ کے قریب پہنچے توانھوں نے ہرمزان کو اس کا سونے سے جڑاؤ کیا ہوا دیبا کا لباس پہنا یا، موتیوں اور جواہرات سے مزین تاج( آزین) سر پررکھا اور خالص سونے سے بنا ہوا، موتیوں اور یاقوت سے مرصع عصا ہاتھ میں تھما دیا۔ عمررضی اللہ عنہ اپنے گھر میں نہ تھے، انھیں بتایاگیا کہ وہ اہل کوفہ کے ایک وفد سے ملنے مسجد نبوی گئے ہیں۔ وہاں بھی نہ ملے تو مدینہ کے کچھ لڑکوں سے معلوم ہوا،کوفی وفد واپس ہوا تو انھوں نے چغہ اتار کر سر تلے دابا اور مسجد کے دائیں کنارے سو گئے۔ ہرمزان انھیں اس حالت میں سویادیکھ کر ششدر رہ گیا۔ اس نے پوچھا: ان کا ایوان کیا ہوااور دربان کہاں ہیں؟ عمررضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو ہرمزان کو فوراً اس کی ہےئت سے پہچان لیا۔ انھوں نے اﷲ کا شکر ادا کیا کہ اس جیسے لوگ اسلام کے مطیع ہو گئے ہیں،انھوں نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ اس جاہ سے دھوکا نہ کھا جائیں ۔ امیر المومنین نے ہرمزان سے اس وقت تک گفتگو کرنے سے انکار کر دیا جب تک وہ اپنی شاہانہ وضع نہیں بدلتا۔ انھوں نے بار باراس سے اس کی عہد شکنی کا سبب پوچھا۔اس نے عمررضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں غصہ دیکھا تو کہا: مجھے ڈر ہے کہ آپ مجھے قتل کر ادیں گے۔ اس نے پانی منگوایا، مٹی کے پیالے میں پانی دیا گیا تو پینے سے انکار کردیا ۔دوسرا پیالہ آیا تو اس نے کانپتے ہاتھوں سے پیالہ تھام کر کہا: مجھے پانی پیتے ہوئے مروا دیا جائے گا۔ عمررضی اللہ عنہ نے اس کو تسلی دی کہ تمھارے پانی پینے تک تمھیں کچھ نہ کہا جائے گا۔ ہرمزان نے پیالہ انڈیلا اور پانی گرا دیا۔ عمررضی اللہ عنہ نے پانی دوبارہ لانے کا حکم دیاتو اس نے کہا: اب میں پانی نہ پیوں گا، مجھے تو امان چاہیے تھی۔ عمررضی اللہ عنہ کو غصہ آ گیا۔ انھوں نے کہا: میں تمھیں مار ڈالو ں گا۔ ہرمزان نے کہا: آپ مجھے امان دے چکے ہیں۔ عمررضی اللہ عنہ نے کہا: تم جھوٹ بولتے ہو۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ، احنف بن قیس اور دوسرے حاضرین نے اس کے امان میں آنے کی تائید کی تو وہ خاموش ہو گئے اور کہا: ہرمزان، تو نے مجھے دھوکا دیا ہے۔ بخدا، میں صرف مسلمان ہی سے دھوکا کھاتا ہوں۔ تب ہرمزان مسلمان ہوگیا اور مدینے میں مقیم ہو گیا۔ امیرالمومنین نے اس کے لیے ۲ ہزار درہم وظیفہ مقرر کیا۔وہ عمر کے ساتھ ساتھ رہتا اور وہ بھی اس سے مشورہ طلب کرتے۔جب خلیفۂ ثانی کی شہاد ت ہوئی تو ہرمزان ہی پران کے قتل کی سازش رچانے کا الزام لگا۔ عبیداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اسی بنا پر اسے اور اس کے ساتھی جفینہ کو قتل کیا۔
سیدنا عمر کو بہت تجسس تھا کہ ایرانی مسلمانوں سے کیے ہوئے معاہدات کا پاس کیوں نہیں کرتے؟بار بار ان کی طرف سے عہد شکنی کیوں ہوتی ہے؟ان کا خیال تھا کہ شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ مسلمان اہل کار ذمیوں سے اچھا سلوک نہ کرتے ہوں۔ شوستر (تستر)سے آنے والے وفد نے اس خیال کی شدت سے نفی کی۔احنف بن قیس نے کہا: آپ نے ہمیں ملک ایران میں مزید پیش قدمی سے روک رکھا ہے جبکہ ایرانی بادشاہ یزدگرد اپنی قوم میں موجود ہے اور انھیں ہمارے خلاف اکساتا رہتا ہے ۔آپ اجازت دیں ،ہم آگے بڑھ کر اس کا رہا سہا اقتدار بھی ختم کر ڈالیں۔ایرانیوں کو کسی جانب سے امید نہ رہے گی تب ہی ان کا جوش مزاحمت سرد پڑے گا ۔ہر مزان نے بھی اس بات کی تائید کی تو عمر رضی اللہ عنہ کو اطمینان ہو گیا۔
ادھر نہاوند میں اکٹھے ہونے والے ایرانی سردارجو اپنی پے در پے شکستوں کے اسباب پر غور کر رہے تھے، اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران کی مرکزی حاکمیت کمزورہونے سے اس کی افواج بھی کمزورپڑ گئی ہیں۔ سب نے مل کر یزدگرد کو دعوت دی کہ وہ ایران کی شاہی روایات کا امین ہونے کی وجہ سے اپنی ا فواج کی قیادت خودکرے۔اس نے یہ دعوت بخوشی قبول کرلی۔ شاہ مدائن سے فرار ہونے کے بعد در بدر کی ٹھوکریں کھا چکا تھا،وہ حلوان سے رے آیا ،وہاں سے اصفہان پہنچا، پھر اصطخر۔ اس کے بعد مرواس کی پناہ گاہ رہی ۔ اس نے ایران کے گوشے گوشے میں موجود فوجی قوت نہاوند منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ اس طرح ۱۵ لاکھ کی فوج نہاوند میں اکٹھی ہو گئی، فیرزان ان کی قیادت کر رہا تھا۔ اب خلیفۂ ثانی کے لیے ممکن نہ تھا کہ پیش قدمی سے گریزکرنے کی پالیسی بر قرار رکھتے، انھوں نے فتوحات عجم کو وسعت دینے کا فیصلہ کر لیا۔
اسی اثنا میں کوفہ کے لوگ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے خلاف طرح طرح کی شکایتیں دارالخلافہ ارسال کر رہے تھے۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ وہ تو نماز بھی خوب نہیں پڑھاتے۔ اس مہم میں جراح بن سنان پیش پیش تھا۔ مدینہ میں ان کا وفد حضرت عمررضی اللہ عنہ سے ملا تو انھوں نے محمد مسلمہ کو تحقیقات کے لیے کوفہ بھیجا۔ محمد، سعد اور جراح مدینہ پہنچے، سعد رضی اللہ عنہ کے خلاف کوئی الزام ثابت نہ ہو سکا تھا پھر بھی سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے انھیں معزول کرنا بہتر سمجھا۔ انھوں نے کوفہ میں سعدرضی اللہ عنہ کے قائم مقام امیرعبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان رضی اللہ عنہ کی تقرری برقرار رکھی۔ عبداﷲ رضی اللہ عنہ نے اطلاع بھیجی کہ فیرزان اپنی فوج لے کر ہمدان جا رہا ہے، اس کی منزل حلوان ہے۔ عمررضی اللہ عنہ نے نماز پڑھانے کے بعد لوگوں سے مشورہ کیا کہ کیا میں خودقیادت کرتے ہوئے اسلامی فوج عراق لے جاؤں؟ کچھ لوگوں نے اثبات میں جواب دیا، تاہم علی رضی اﷲ عنہ نے کہا: آپ نے اسلامی سلطنت کو ایک لڑی میں پرو رکھا ہے۔ عجمی آپ کومیدان جنگ میں پا کرختم کرنے کی کوشش کریں گے، اگر یہ لڑی بکھرگئی تو دوبارہ کبھی اکٹھی نہ ہوسکے گی۔ آپ اہل کوفہ کو خط لکھیں کہ وہ اس مہم میں شریک ہوں اور اہل بصرہ ان کے ساتھ تعاون کریں۔ مزید مشاورت کے بعد نعمان بن مقرّن رضی اللہ عنہ کو کمانڈرمقرر کرنے کا فیصلہ ہوا

سیرت و عہد
حضرت نعمان مانعین زکوٰۃ کے خلاف مہم میں حضرت ابو بکر کے میمنہ میں شامل تھے اور عراق کی تمام جنگوں میں حضرت خالد بن ولید کے ساتھ ساتھ رہے تھے۔ وہ قادسیہ اور خوزستان میں بہادری کے جوہر دکھا چکے تھے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص نے انھیں کسکر کا عامل مقرر کیا تو انھوں نے حضرت عمر کو شکایت بھیجی کہ مجھے خراج کی وصولی کا کلکٹر بنا دیا گیا ہے، حالانکہ میں جہاد کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت عمر نے ان کے پروانۂ تقرری میں لکھا کہ کفار عجم مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے نہاوند میں جمع ہو گئے ہیں۔یہ خط ملتے ہی ماہ روانہ ہو جاؤ۔اہل کوفہ تمھارا ساتھ دیں گے۔ ماہ میں اپنی فوجیں منظم کرنے کے بعد فیرزان کا مقابلہ کرنے نکل پڑنا۔انھوں نے وال�ئکوفہ حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان کو علیحدہ خط لکھا، حضرت نعمان کا ساتھ دینے کے لیے کوفہ سے بڑی تعداد میں لوگ جمع کر لوجو حضرت حذیفہ بن یمان کی کمان میں ماہ جائیں۔ جنگ نہاوند میں حضرت نعمان کو کوئی حادثہ پیش آئے تو حضرت حذیفہ ان کی جگہ لیں اور حضرت حذیفہ کے نہ ہونے کی صورت میں حضرت نُعیم بن مقرن کمان سنبھالیں۔ ایک روایت کے مطابق انھوں نے حضرت جریر بن عبداﷲاور حضرت مغیرہ بن شعبہ سمیت سات آدمیوں کے نام لیے۔ یہ خط سائب بن اقرع کے ہاتھ بھیجا گیا، حضرت عمر نے پیش آمدہ معرکے میں سائب کومال فے کی وصولی کا انچارج بھی مقرر کیا۔ ایک مکتوب حضرت ابو موسیٰ اشعری کو بھی ارسال کیا کہ بصرہ سے کمک لے کر ماہ پہنچو۔ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق نے سلمیٰ بن قین، حضرت حرملہ بن مریطہ اور ایران میں موجود دوسرے کمانڈروں کو ہدا یت کی کہ اپنی اپنی جگہ ایرانیوں کو الجھائے رکھوتاکہ ان کی طرف سے نہاوند مدد نہ پہنچ سکے ۔
تینوں اطراف سے فوجیں آ گئیں تو جیش نعمان رضی اللہ عنہ مکمل ہوا، اگلا مرحلہ حلوان تھا۔ یہاں آ کر حضرت نعمان نے نہاوند پہنچنے والے راستوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ضروری سمجھا۔ انھوں نے حضرت طلیحہ بن خویلد، حضرت عمرو بن معدیکرب اور حضرت عمرو بن ابو سلمیٰ کوبھیجا۔ تینوں کی اطلاع تھی کہ رستہ صاف ہے اوراس میں کوئی فوجی سرگرمی نہیں۔ ا ب جیش نے کوچ کیااور اپنی منزل نہاوند پہنچا، حضرت نعمان نے قلعے کے پاس پڑاؤ ڈالا۔ ڈیڑھ لاکھ کا لشکر رکھتے ہوئے بھی فیرزان نے مسلمانوں کی ۳۰ ہزار نفوس پرمشتمل فوج سے بات چیت ضروری سمجھی۔وہ قادسیہ کا مفرور تھا اور اسلامی فوج کی شجاعت آزما چکا تھا۔اس کے کہنے پر حضرت مغیرہ بن شعبہ کوبھیجا گیا۔ فیرزان تاج پہنے طلائی کرسی پربیٹھا ہوا تھا۔چمک دار بھالے اور نیزے لیے کئی گارڈ اسے گھیر ے ہوئے تھے۔ اس نے حضرت مغیرہ کو دھمکی دی کہ اگر تم نے فوج کشی ترک نہ کی تو ہم کسی کو زندہ نہ چھوڑیں گے۔ وہ اطمینان سے بولے: رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد ہمیں فتح ونصرت ہی حاصل ہوتی رہی ہے، ہم تمھیں مغلوب کر کے رہیں گے یا اسی سرزمین میں جان دے دیں گے۔ حضرت مغیرہ واپس حضرت نعمان کے پاس آئے اور انھیں رپورٹ دی۔ اب جنگ کا مرحلہ شروع ہوا ،پہلے دودن کوئی فوج غلبہ حاصل نہ کر سکی۔ نہاوند کے قلعہ کے باہر آہنی خار نصب تھے ، بیچ بیچ میں کچھ راستے چھوڑے گئے تھے۔ایرانی ان راستوں سے نکلتے اور مسلمان فوجیوں کو لوٹ مار کر واپس چلے جاتے ۔جب مسلمان ان پر جوابی حملہ نہ کرپاتے تو مضطرب ہو جاتے۔ حضرت نعمان بن مقرن نے اپنے لشکر کے آزمودہ کار جرنیلوں سے مشورہ کیا۔ حضرت عمرو بن معدیکرب نے پے درپے حملے کرنے کا مشورہ دیا، ان کے خیال میں ایرانی اسی طرح قلعے سے باہرآ سکتے تھے۔ حضرت طلیحہ بن خویلد نے کہا: ہم حیلہ کر کے ایرانیوں کو میدان جنگ میں لاسکتے ہیں ۔اسی رائے پر عمل کرنے کا فیصلہ ہوااور ذمہ داری حضرت قعقاع کو دی گئی۔ وہ علی الصبح کچھ فوج لے کر نکلے اور شہر پر تیراندازی شروع کردی پھر فصیل پھلانگنے کی کو شش بھی کی۔پہرے دار انھیں روکنے کی کوشش کرتے تو ان کے ساتھی بڑھ بڑھ کرحملہ کرتے۔ پہرے پر مامور ایرانیوں نے جب چند مٹھی بھرمسلمانوں ہی کواس مہم میں مصروف پایا توان کا پیچھا کرتے ہوئے فصیل اور اس کے گرد بچھے خاردار حصار سے باہرنکل آئے۔ حضرت قعقاع نے کچھ دیر جم کر مقابلہ کیا پھر اپنا دستہ لے کر بھاگ نکلے۔ جب وہ اتنی دور نکل آئے کہ ان کا تعاقب کرنے والے ایرانی فوجیوں کا پیچھے کی طرف دھیان نہ رہا تو کثیر تعداد میں مسلمان فوجیوں نے فصیل کے پاس پوزیشنیں سنبھال لیں۔فیرزان نے سپاہ اسلامی کی پسپائی کی خبر سنی تواس پرکاری ضرب لگانے کے لیے اپنی تمام فوج شہر سے باہر نکال لایا۔ شہر کے دروازے پر چند پہرے دار ہی رہ گئے تھے۔ حضرت قعقاع نے کافی دور جا کر اپنے دستے کو روکااورواپس اسلامی فوج سے آ ملے۔ حضرت نعمان نے ہدایت جاری کی کہ سورج ڈھلنے سے پہلے ایرانیوں سے جنگ نہ چھیڑی جائے، لیکن ایرانی فوج زوال سے قبل ہی آ کر مقابلے پرکھڑی ہو گئی۔ان کی جانب سے تیر چلا کر کچھ مسلمانوں کو زخمی کیا گیا تو بھی انھوں نے لڑائی شروع کرنے کی اجازت نہ دی۔ زوال کے وقت نعمان رضی اللہ عنہ اپنے سیاہ گھوڑے پر سوار ہو کر فوج کے تمام رسالوں میں گئے اور جوانوں کی ہمت بندھائی ۔انھوں نے ہدایت دی کہ میری پہلی تکبیرپر چست ہو جانا، دوسری پراسلحہ بند اور جب میں تیسری دفعہ اﷲ اکبر کا نعرہ لگاؤں تودشمن پر ٹوٹ پڑنا۔ جوں ہی ان کا نعرہ بلند ہوا ،سپاہیوں نے دھاوا بول دیا،وہ عقاب کی سی تیزی سے ایرانیوں پروار کرتے رہے۔ ایرانیوں کے کشتوں کے پشتے لگ گئے، لیکن انھوں نے بھی سخت جوابی حملے کیے ،فوجیوں کی للکاروں کے ساتھ تلواروں کے تلواروں سے ٹکرانے کا شوربرپا ہو گیا۔ سورج ڈوبنے کوآ گیا ،اس قدر ایرانی مارے گئے کہ میدان جنگ ان کے خون سے لتھڑ گیا۔ حضرت نعمان اسلامی پرچم تھامے ہوئے دشمن کے قلب میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان کا گھوڑا پھسلا، وہ گرے تھے کہ ایک تیر ان کے پہلو میں آن لگا۔ان کے بھائی حضرت نُعیم نے ان کے جسم کو کپڑے سے ڈھانک دیا اور پرچم حضرت عمر کی ہدایت کے مطابق حذیفہ رضی اللہ عنہ کو تھما دیا۔اندھیرا چھا چکا تھا اور جنگ کا بازار گرم تھا۔ حضرت حذیفہ فوج کی کمان کرتے رہے اور کسی کو خبرنہ ہوئی۔ رات گئے ایرانی پسپا ہوئے ، ان کے اپنے بچھائے ہوئے خاروں نے ان کی واپسی کی راہ مسدود کر دی۔ اس طرح ا ن کے فوجی کثرت سے مارے گئے،کچھ مسلمانوں کے ہاتھوں، لیکن زیادہ تر قلعے کے گرد کھدی گہری خندق میں گرنے سے ہلاک ہوئے۔ اہل تاریخ کا کہنا ہے کہ مقتولوں کی تعداد ا لاکھ ۲۰ ہزار تھی۔
اس مرحلے پر فیرزان نے اپنی فوج کو چھوڑااور گھوڑادوڑاتے ہوئے اکیلے ہی ہمدان کی راہ پکڑی۔ حضرت نُعیم نے اسے جاتے ہوئے دیکھ لیا اورقعقاع کو اس کا پیچھا کرنے کو کہا۔فیرزان بھاگتا ہوا درۂ ہمدان جا پہنچا ،آگے سے شہد سے لدے ہوئے خچروں اورگدھوں کا قافلہ آ رہا تھا۔وہ گھوڑے سے اتر آیا اورپہاڑوں میں چھپنے کی کوشش کی، لیکن حضرت قعقاع نے اسے جا لیا اور جہنم رسید کیا۔ اس واقعے کی وجہ سے اس درے کو درۂ شہد کہا جانے لگا۔ کچھ اور بھگوڑوں نے بھی ہمدان میں پناہ لی ۔مسلمانوں نے ہمدان کا محاصرہ کر لیا تو شہر کے باشندگان اور پناہ گیر صلح پر مجبورہوگئے۔نہاوندفتح ہونے کے بعد حذیفہ نے ہر سوار کو ۶ ہزار اور پیادہ کو ۲ ہزار درہم حصہ دیا۔ انھوں نے باہر رہ کر فوج کی مدد کرنے والوں کوبھی عطیات دیے اورباقی غنائم حضرت عمر کے مقرر کردہ مُحصّل سائب کے حوالے کیے ۔ اس موقع پر پارسی آتش کدے کا والی ہرند حذیفہ کے پاس آیا ۔اس نے قیمتی جواہرات کے دوصندوق اس شرط پردینے کی پیش کش کی کہ اسے امان دے دی جائے۔ یہ شاہ ایران نے اپنے برے وقت کے لیے اس کے پاس رکھوائے ہوئے تھے۔اہل جیش صندوق پاکر بہت خوش ہوئے، لیکن سب نے فیصلہ کیا کہ مال غنیمت میں ملنے والا حصہ ہی ہمارے لیے کافی ہے ۔یہ صندوق امیر المومنین حضرت عمر فاروق کے ذاتی حصے کے طورپر رکھ لیے جائیں۔
مدینہ میں عمر رضی اﷲ عنہ کو نہاوند ہی کی فکرتھی، راتوں کواٹھ اٹھ کروہ فتح کی دعائیں مانگتے۔حذیفہ خوش خبری سنانے کے لیے طریف بن سہم کوبھیج چکے تھے ، مال فے اورخسروی صندوق لے کر سائب بعد میں روانہ ہوئے۔ نصرت کی خبر سن کر امیر المومنین سجدے میں گرپڑے۔ پھرانھوں نے حضرت نعمان کے بارے میں استفسار کیا۔ان کی شہادت کاپتا چلا تو اتنا روئے کہ ہچکی بندھ گئی۔ باقی شہدا کے بارے میں بھی فرداًفرداًاستفسار کیا، رات کا وقت تھا ، خمس مسجد نبوی میں رکھوا کر حضرت عمر نے حضرت عبدالرحمان بن عوف اور حضرت عبداﷲ بن ارقم کو نگرانی کے لیے مقرر کیا۔ جب وہ گھر پہنچے توجواہرات کے صندوق ان کے سپرد کیے گئے اور بتایاگیا کہ یہ غازیوں کی خواہش کے مطابق خاص آپ کے لیے رکھے گئے ہیں ۔سائب کوفہ پہنچے ہی تھے کہ حضرت عمر کے قاصد نے آن لیا، وہ فوراً ہی مدینہ پلٹ آئے۔خلیفۂ ثانی نے کہا: تیرا بھلا ہو! رات بھر خواب میں فرشتے مجھے ان صندوقوں کی طرف گھسیٹ گھسیٹ کر لے جاتے رہے۔یہ آگ سے بھڑک رہے تھے اور وہ مجھے ان سے داغنا چاہتے تھے۔ میں نے ان سے وعدہ کیا کہ میں انھیں مسلمانوں میں بانٹ دوں گا۔ انھیں دور لے جاؤ اور بیچ کر رقم مسلمانوں کے عطیات میں شامل کر دو۔سائب بن اقرع نے ان صندوقوں کے جواہرات کوفہ کی مسجد میں فروخت کے لیے رکھے ،عمرو بن حریث مخزومی نے ۲۰ لاکھ درہم میں خرید لیے اور۴۰لاکھ درہم میں و اپس ایرانیوں کو فروخت کر دیے۔طبری کی روایت کے مطابق سیدنا عمر نے انھیں فاتح نہاوند حذیفہ کے پاس واپس بھجوادیا اور انھوں نے ۴۰ لاکھ میں بیچ کر ہر گھڑ سوار کو ۴ ہزار درہم اضافی حصہ دے دیا۔
تمام اہل اسلام فتح نہاوندسے بے حد خوش تھے بالخصوص اہل کوفہ کی خوشی کا ٹھکانا نہ تھا۔انھوں نے اسے ’’فتح الفتوح‘‘ کا نام دیا۔حقیقت یہی ہے کہ ایرانیوں کے پاؤں اکھڑ چکے تھے،سقوط نہاوند کے بعدانھیں ان کے اپنے وطن ہی میں جاے قرار نہ مل سکی۔ امیر المومنین عمر رضی اﷲ عنہ بھی بے حد خوش تھے ، انھوں نے اس جنگ میں بہادری کے جوہر دکھانے والوں کو مزیددو دو ہزاردرہم عطا کیے۔ طبری کے خیال میں یہ معرکہ ا۲ھ میں جبکہ دوسری روایت کے مطابق ۹اھ میں پیش آیا۔ ابوموسیٰ اشعری نہاوند سے واپس ہوئے تو دینور میں پڑاؤ ڈالا ،پانچویں دن مختصر جنگ ہوئی اور وہاں کے رہنے والوں نے صلح کر لی۔پھر انھوں نے سیروان کو زیر کیا۔صیمرہ کے باشندے حضرت ابوموسیٰ کے مقرر کردہ عامل کوجزیہ و خراج دینے پر آمادہ ہوئے اور حضرت حذیفہ بن یمان نے ماہ کے حاکم دنبار سے صلح کا معاہدہ کیا۔
جنگ نہاوند کے بعد امیر المومنین عمر رضی اﷲ عنہ نے ایران میں موجود اسلامی افواج کی تنظیم نو کی۔انھوں نے احنف بن قیس کو خراسان کا کمانڈر مقرر کیا ، مجاشع بن مسعود کی تقرری اردشیر اور سابور کے لیے اورعثمان بن ابو العاص کی اصطخرکے لیے کی، ساریہ بن زُنیم کودرابجرد بھیجا۔خلیفۂ دوم نے حضرت سہیل بن عدی کو کرمان کا علم دیا، عاصم بن عمروکو سجستان اور حکم بن عمرو کومکران کے پرچم عطا کیے ۔ اسی اثنا میں یزدگرد رے سے اصفہان جا پہنچا اور وہاں کے لوگوں کوجنگ پر اکسانے لگا۔ حضرت عمر نے حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان اور حضرت نعمان بن مقرن کے لشکر اصفہان روانہ کر دیے۔ ان کی خواہش تھی کہ یزدگرد قید ہو جائے تاکہ ایران کے محاذ پر جنگ کا خاتمہ ہو۔ حضرت عبداللہ بن عبداللہ ابن عتبان کی فوج کو اصفہان کے باہر ایک بڑے ایرانی لشکر کا سامنا کرنا پڑا۔اس کے سپہ سالار استندار نے کوئی مہلت دیے بغیر جنگ چھیڑ دی۔ اس کی توقع کے برعکس بھاری تعداد میں ایرانی مرنے لگے تو ایک بوڑھا ایرانی سورما شہریار بن جاذویہ جو مقدمے کی کمان سنبھالے ہوئے تھا، آگے بڑھا اور مبارزت کے لیے للکارا۔ عبداﷲ بن ورقا نکلے اور اسے جہنم رسید کیا۔ اس کی ہلاکت کے بعد ایرانی مضطرب ہو کرپلٹے اور اصفہان کے شاہی محلات جیّ کی فصیل میں پناہ لی، یزدگرد کرمان کو بھاگ گیا۔ حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان نے جیّ کا محاصرہ کر لیا۔پہلے ایرانی قلعے سے باہر نکل کر مسلمانوں پر حملے کرتے رہے، پھر تنگ آ کر ایک فیصلہ کن معرکے کے لیے صف آرا ہوئے۔ جنگ سے پہلے اصفہانیوں کا سالار فاذوستان عبداﷲ کے پاس آیا اور کہا: اپنے ساتھیوں کا خون کرنے سے بہتر ہے ہم دوبدو مقابلہ کر لیں۔ جوبچ گیا ، غالب آ جائے گا۔ کچھ دیردونوں میں زور آزمائی ہوئی تھی کہ فاذوستان بولا: تجھ جیسے دلیر سے لڑنے کے بجائے میں محض ایک شرط پراصفہان تمھارے حوالے کرنے کو تیار ہوں،ہم میں سے جو اصفہان چھوڑ کر جانا چاہتا ہے، اسے نہ روکو۔اس طرح اصفہانی اہل ذمہ میں شامل ہو گئے ،صرف ۳۰ آدمی ایسے تھے جنھوں نے کرما ن جانا پسند کیا۔
دوسری طرف بحر قزوین (کشرین)کے جنوب میں واقع شہروں کے حکمران قادسیہ میں جہنم واصل ہونے والے جرنیل رستم کے بھائی اسفندیار کی قیادت میں اکٹھے ہو گئے اورمسلمانوں کی رے کی جانب پیش قدمی روکنے کی پیش بندی کرنے لگے ۔اہل ہمدان کو ان کے گٹھ جوڑ کا پتا چلا تو وہ بھی خلافت اسلامی سے کیا ہوا معاہدۂ صلح توڑ کر ان کے ساتھ مل گئے۔ حضرت عمر نے حضرت نُعیم بن مقرن کو حکم دیا کہ جلد از جلد ہمدان پہنچو اور وہاں کے باشندوں کو ایسا سبق سکھاؤ کہ پھر کوئی عہد شکنی کی جرأت نہ کرے۔ اہل ہمدان جب ان کے محاصرے میں آ گئے تو صلح کی درخواستیں کرنے لگے۔ حضرت نُعیم نے صلح قبول کر لی، انھوں نے عروہ بن زیدکو فتح کی بشارت دے کر مدینہ بھیجا ۔ حضرت عمر نے سجدۂ شکرادا کیا۔جب انھیں معلوم ہوا کہ واج رودکے مقام پرتین اطراف سے حرکت کر کے ایرانی قوتوں نے ڈیرا ڈال دیا ہے،دیلم سے مُوتا ،رے سے زبندی(زینبی) اور آذر بائیجان سے اسفندیار اپنا اپنالشکر لے کر پہنچ چکے ہیں تو فوراً حضرت نُعیم کو خط لکھا کہ ہمدان پر اپنا نائب مقرر کر کے رے کی جانب کوچ کرو اور اہل فارس کی جمعیت کا مقابلہ کرو۔ چنانچہ حضرت نُعیم نے یزید بن قیس کووالئ ہمدان مقرر کیا اور ۲ا ہزار کا جیش لے کرواج رود پہنچے۔ وہ اپنے جاسوسوں کے ذریعے معلومات حاصل کرکے چلے تھے، لیکن ایرانیوں نے میدان جنگ میں ان کی فوج اترتے ہی دھاوا بول دیا ۔جنگ نہاوند کی مانند سخت لڑائی ہوئی، تاہم شام ہونے تک ایرانی شکست کھا چکے تھے، شاہ دیلم مُوتا اس جنگ میں مارا گیا۔جنگ میں شریک رے کی فوج نے بھی شکست کھائی، لیکن شہر رے کا فیصلہ ہونا ابھی باقی تھا۔ بہرام کا پوتا سیاوخش وہاں کا حکمران تھا۔ اسے یقین تھا کہ واج رود کے بعد مسلمان میری حکومت کے درپے ہوں گے۔اس نے دنباوند ،طبرستان ، قُومس اورجرجان سے فوجی مدد طلب کر رکھی تھی۔ جیش نُعیم سے کئی گنا زیادہ فوجی قوت اکٹھی ہو گئی تو وہ رے میں قلعہ بند ہو گیا۔ اسے یقین تھا کہ اسلام کے سپاہی اس پر غالب نہ آ سکیں گے ۔رے کے بڑے آتش کدے اور اس کے گرد قائم معبدوں کی وجہ سے تمام مجوسی اس شہر کی حفاظت کومذہبی فرض سمجھتے تھے۔سیاوخش نے واج رود میں ہزیمت اٹھانے کے بعد زبندی(زینبی )کو سخت برا بھلا کہا تھا اور اسے اس کے منصب سے معزول کر دیا تھا۔ وہ آزردہ ہوکر حضرت نُعیم سے آملا۔ جبل رے کے دامن میں جنگ شروع ہوئی ،پہلا د ن سخت گزرا اورکوئی فوج برتری حاصل نہ کر سکی۔زبندی (زینبی) نے حضرت نُعیم کو مشورہ دیا کہ آپ ایرانیوں کو جنگ میں الجھائے رکھیں اور میں خفیہ راستے سے شہر کے اندر داخل ہوتا ہوں۔ انھوں نے اپنے بھتیجے منذر بن عمرو کی قیادت میں کچھ گھڑ سوار زبندی(زینبی)کے ساتھ بھیجے اور خود رات بھررے کا دفاع کرنے والی فوج پر تیر اندازی کرتے رہے۔فوج اندرون شہر کا دھیان نہ رکھ سکی۔ فجر کے وقت شہرکے اندر تکبیر کے نعرے بلند ہوئے تو رے والوں کویقین ہو گیا کہ ہم گھر گئے ہیں۔ ان پرآخری اور فیصلہ کن حملہ ہوا، کئی کھیت رہے اور کئی گھائل ہوئے ،باقیوں نے ہتھیار ڈال دیے ۔ مسلمانوں کو رے سے معرکۂ مدائن جتنا مال فے حاصل ہوا۔ حضرت نُعیم نے فوجی تنصیبات اور قلعوں کو مسمار کرا کرقدیم شہر کے پڑوس میں ایک نیا شہر بسانے کا حکم دیا۔انھوں نے زبندی (زینبی) کو حاکم رے مقرر کیا۔ فتح کی خوش خبری کے ساتھ خمس امیر المومنین کی خدمت میں ارسال کر دیاگیا۔ یوں آل بہرام کا خاتمہ ہوا ،رے کی عظمت و شوکت اسلامی ادوارمیں بھی برقرار رہی تا آنکہ منگولوں نے اسے تاراج کیا ،تب اس کے شمال مغرب میں واقع تہران کو دار الخلافہ بنالیا گیا۔اس کے کھنڈرات اس کے شان دار ماضی کا پتا دیتے ہیں۔واقدی کا کہنا ہے کہ ہمدان و رے کے معرکے۲۲ھ میں پیش آئے جبکہ سیف کے خیال میں ان کا سن وقوع۹اھ ہے۔
سقوط رے کے بعد آس پاس کے علاقوں کی مزاحمت ختم ہوگئی ۔اہل دنباوندرے والوں کا ساتھ دے کر ہزیمت اٹھا چکے تھے اس لیے ۲ لاکھ درہم سالانہ جزیہ کا اقرار کر کے حضرت نُعیم کے ساتھ صلح کر لی۔ حضرت عمرنے ان کے بھائی سویدبن مقرن کو قُومس بھیجاتو کوئی مقابلے کے لیے نہ نکلا۔ سوید یہاں سے بسطام پہنچے اور شاہ جرجان کو خط لکھا کہ صلح کر لو یا اسلامی افواج کا سامنا کرو۔اس نے صلح میں خیر سمجھی۔ طبرستان کے بادشاہ نے دیکھا کہ مسلمان جنوب اور مشرق دونوں طرف سے اس کے سر پر آن پہنچے ہیں تو اس نے بھی جزیہ دینا قبول کیا۔اسی اثنا میں خلیفۂ ثانی نے حضرت عتبہ بن فرقداور حضرت بکیر بن عبداﷲ کو آذربائیجان کی مہم کے لیے مامور کیا۔ پہلے بکیر فوج لے کر چلے ،ان کا مقابلہ اسفند یار سے ہوا جو واج رود میں ہزیمت اٹھانے کے بعد اپنے لشکرکے ساتھ واپس جا رہا تھا ۔ اس نے ایک زوردار جنگ کے بعد شکست کھائی اورقید ہوا۔ سماک بن خرشہ(ابو دجانہ)کی قیادت میں حضرت نُعیم کی بھیجی ہوئی کمک بعد میں پہنچی۔ ادھرعتبہ کی سپاہ نے اسفند یار کے بھائی بہرام کی فوج کو مار بھگایاتو آذربائیجان کا پہاڑی اور میدانی تمام علاقہ مفتوح ہوگیا۔اب امیر المومنین نے حضرت عتبہ کو آذربائیجان کا گورنر مقرر کیا، انھوں ہی نے اسفندیار کے ساتھ صلح کامعاہدہ طے کیا۔عمر نے بکیر کو آذربائیجان سے آگے بحر قزوین پر واقع باب الابواب (دربندشروان) نامی بندرگاہ کی طرف جانے کا حکم دیا جہاں شاہ ارمینیاشہربراز کی حکومت تھی ۔ان کی ہدایت پر حضرت ابو موسیٰ اشعری نے بھی سراقہ بن عمرو کی کمان میں ایک لشکر اس طرف بھیجا، عبدالرحمان بن ربیعہ سالارمقدمہ تھے۔ شہر برازنے عبدالرحما ن سے رابطہ کر کے صلح کی درخواست کی۔انھوں نے سراقہ کے پاس بھیج دیا، جنھوں نے بغیرجنگ کیے دربند (باب الابواب) کا زیر ہونا منظور کر لیا۔معاہدہ میں طے پایا،جو اسلامی فوج کے ساتھ مل کر دشمن کا مقابلہ کرے گا، اس سے جزیہ ساقط ہو جائے گا ۔یہ شق منظوری کے لیے حضرت عمر کے پاس پہنچی توانھوں نے تحسین کے ساتھ اجازت دے دی۔ اب سراقہ نے کچھ دستے ارمینیا کی پہاڑی بستیوں میں بھیجے، اہل موقان کے علاوہ سب جزیہ ادا کرنے پر آمادہ ہوئے۔بکیر نے شہر کا محاصرہ کر لیا تو انھیں بھی صلح کرنا پڑی۔اسی دوران میں سراقہ نے وفات پائی اور کمان عبدالرحمن بن ربیعہ کے ہاتھ آئی۔ان کا ارادہ ترکستان پر فوج کشی کا تھا کہ خلیفۂ دوم عمر رضی اﷲ عنہ کی شہادت کی خبر آ گئی، چنانچہ یہ مہم عہد عثمانی میں سر ہوئی۔
مطالعۂ مزید:البدایہ والنہایہ(ابن کثیر)،تاریخ الاسلام (ذہبی)،الفاروق عمر(محمد حسین ہیکل)

سیرت و عہد
عہد فاروقی میں سر کی جانے والی شمالی ایران کی مہمات کا ذکر کیا جا چکا ہے ۔ اسی عرصے میں سیدنا عمر کے مقرر کردہ سالار اصطخر حضرت عثمان بن ابو العاص کی فوج نے بحری جہازوں کے ذریعے سے خلیج فارس کو عبور کیا اور جزیرۂ ایزکاوان پر قبضہ کر لیا۔پھر حضرت عثمان نے توّج پہنچ کر اسے گھیرے میں لے لیا۔ مجاشع بن مسعودان سے پہلے بصرہ کی جانب سے آ کر محاصرہ کیے بیٹھے تھے۔ اہل توّج کو علاء بن حضرمی کی یورش روکنے کا تجربہ تھا ،اسی غرے میں انھوں نے دہرے محاصرے کو طول دیا ۔ ایک سخت لڑائی میں ان کے بے شمار جنگ جو مارے گئے تو یہ شہر مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔مجاشع یہاں سے سابور اور اردشیر روانہ ہوئے اور ان دونوں شہروں کو فتح کیا۔ حضرت عثمان بن ابو العاص نے اپنا لشکر لے کر ایران کے قدیم دارالحکومت اصطخر کا رخ کیا۔ہربز نے اپنے مقدس شہر کا دفاع کرنے کے لیے تمام قوتیں جمع کر لیں، جہاں مجوسیوں کے دیوتا اناہید کا آتش کدہ اورساسانی بادشاہوں کے مقبرے تھے۔وہ فوج لے کرشہر سے باہر جو ر کے قصبے تک آیا،جیش عثمان نے غلبہ پایا تو بھاگ کرشہر میں واپس چلا گیااور قلعہ بند ہو گیا۔محاصرہ طویل ہونے پر شہر والے عاجز آ گئے اورانھوں نے دروازے کھول دیے۔ کچھ قتل و غارت اور لوٹ مار ہوئی، شہری فرار بھی ہوئے، لیکن حضرتعثمان نے انھیں جزیہ دینے پر راضی کرلیا، ہربز بھی لوٹ آیا۔ حضرت عثمان کو جب پتا چلا کہ کچھ فوجیوں نے مال غنیمت تقسیم ہونے سے قبل ہی اس پر قبضہ کر لیا ہے تو کھڑے ہو کر خطبہ دیا: دین میں سب سے پہلے امانت کا فقدان ہوتا ہے ،اس کے ضائع ہو جانے کے بعد روز بروزکچھ نہ کچھ کھویا رہتا ہے۔ تمام مال اپنی تحویل میں لے کر انھوں نے فوجیوں کے حصے بانٹے اور خمس مدینہ ارسال کر دیا۔ حضرت عمر نے ان کی کارکردگی سے خوش ہو کر انھیں بحرین کا گورنر مقرر کردیا۔
اصطخرایک شان دار ماضی رکھتا تھا، اس شہر کو سیاسی و مذہبی تفوق حاصل تھا۔وہاں کے باشندگا ن کو اپنی کھوئی ہوئی حیثیت رہ رہ کر یاد آتی تھی، اس لیے شاہ کرمان شہرک کے اکسانے پرجلد ہی بغاوت پرآمادہ ہو گئے۔ انھوں نے حضرت عثمان بن ابو العاص سے کیا ہوا معاہدہ توڑااور شہرک کے جھنڈے تلے جمع ہو کرتوّج شہر میں قلعہ بند ہو گئے۔ شہرک نے سابور، اردشیراور دوسرے شہروں پر غارت گری کر کے کافی ساز وسامان اکٹھا کر لیا تھا۔ حضرت عثمان کے بھائی حکم بن عاص کو اس کی سرکوبی کی ذمہ داری ملی۔کئی روز جاری رہنے والی سخت جنگ میں شہرک کے لشکر کو شکست ہوئی،خود وہ اوراس کا بیٹا بھی مارے گئے۔ خلیفۂ ثالث حضرت عثمان کے زمانے میں بھی اہل اصطخرنے عہد شکنی کی، تاہم تجدید صلح کرنے پر مجبور ہوئے۔ بلاذری کے کہنے کے مطابق اس مرحلے پر حضرت عمر کے فرمان پر ابوموسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ حضرت عثمان سے آ ملے اور ان دونوں نے ارّجان ، شیراز اور سینیر کے مقامات فتح کیے۔ پھر حضرت عثمان نے درابجرد اور فسا شہروں کے رہنے والوں سے معاہدات صلح کیے۔طبری کے خیال میں درابجرد اور فسا کے شہر ساریہ بن زنیم نے فتح کیے ۔وہ ان شہروں کا محاصرہ کیے بیٹھے تھے کہ ایرانیوں کو کمک آن پہنچی۔اسی رات عمر رضی اﷲ عنہ نے خواب میں اسلامی فوج کی پوزیشن ملاحظہ کی۔ انھوں نے دیکھا کہ اگر فوج صحرا میں بیٹھی رہی تو ایرانیوں اور کردوں کے گھیرے میں آ جائے گی اور اگر اس نے پہاڑ کو پیچھے رکھ کر اپنی صف بندی کر لی تو محض ایک جانب سے ہونے والے حملے کو روکنا ہو گا۔انھوں نے نماز کے بعد خطبہ دیا اور لوگوں کو ا س بات کی اطلاع دی ۔دوران خطبہ میں وہ چلائے: اے ساریہ بن زُنیم، پہاڑ کی جانب ہو جاؤ۔ پھر کہا: اﷲ کی فوجیں بے شمار ہیں،ہوسکتا ہے ان میں سے کوئی یہ بات وہاں تک پہنچا دے۔عین اسی وقت ساریہ دامن کوہ میںآ گئے۔اسلامی فوج اپنی پشت محفوظ ہونے کی وجہ سے بے جگری سے لڑی اور ایرانیوں کو شکست سے دوچارکیا۔ مال غنیمت میں جواہرات سے بھرا ایک صندوق ملا جسے ساریہ نے فتح کی خوش خبری کے ساتھ حضرت عمر کی خدمت میں بھیج دیا۔ انھوں نے وہ صندوق فوجیوں میں تقسیم کرنے کے لیے واپس بھیج دیا۔ روایت ہے کہ اہل مدینہ نے ساریہ کے ایلچی سے دریافت کیا کہ کیا انھوں نے جنگ کے دن حضرت عمر کی بات سنی تھی؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں، ہم نے ’یاسارےۃ ،الجبل ،الجبل‘ (اے ساریہ، پہاڑ کو ہو جاؤ، پہاڑ کو ڈھال بنالو)کے الفاظ سنے تھے۔
حضرت عثمان بن ابوالعاص اپنی مہمات میں مصروف تھے کہ حکم بن عمرو تغلبی نے مکران فتح کیا۔ انھوں نے مال غنیمت کے ساتھ ہاتھی بھی مدینہ بھیج دیے ۔امیر المومنین نے ہاتھی بیچ کر ان کی قیمت غازیوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا ۔ ادھر حضرت سہیل بن عدی نے کرمان کو زیر کیا،ان کے حملے کے وقت یزدگرد وہیں تھا ،اس نے بھاگ کر خراسان کی راہ لی ۔اسے وہاں جاے قرارملنے کی امیدتھی، کیونکہ خراسان وسجستان بصرہ و کوفہ سے کافی مسافت پر تھے اورابھی وہاں جنگ کی آگ نہ بھڑکی تھی۔ اس کی توقع پوری نہ ہوئی ، یہ دونوں صوبے بھی خلافت اسلامیہ کی عمل داری میں آ کر رہے۔ سجستان کے لیے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے مقررکردہ کمانڈر عاصم بن عمرو سجستان پہنچے تو وہاں کے باشندے اپنے دارالخلافہ بزرنگ میں قلعہ بند ہو گئے ۔جب محاصرہ تنگ ہوا تو اس شرط پر صلح کر لی کہ ان کی کھیتیاں انھی کے پاس رہنے د ی جائیں۔
سالار خراسان احنف بن قیس طبسین کے راستے سے خراسان پہنچے تو یزدگرد مرو شاہجان میں تھا۔ کسی مزاحمت کا سامنا کیے بغیر وہ ہرات پہنچے اور بے شمار قلعوں اور اونچی فصیلوں والے اس شہر کو فتح کیا۔وہاں کچھ فوج چھوڑ کر وہ نیشاپور اور سرخس کی جانب بڑھے۔ان کاارادہ تھا کہ مرو شاہجان جاکریزدگرد کو گرفتار کیا جائے، لیکن وہ بھنک پا کر قریبی شہر مرورود نکل گیا۔جب وہ وہاں پہنچے تو شاہ نے بلخ کا رخ کیا۔ احنف نے بلخ پر قبضہ کر کے حضرت ربعی بن عامر کو وہاں کا عامل مقرر کیا۔اب یزدگرد ایران کے سرحدی دریا کوعبور کر کے سمرقند جا پہنچا، اس نے خاقان ترک (شاہ تاتار) سے مدد طلب کی۔خاقان نے خیال کیا کہ مسلمانوں کاایران پر قبضہ کرنے کے بعد اس پر حملے کا ارادہ ہے، اس نے ایک بڑی فوج ترتیب دی اور اسلامی فوج کا مقابلہ کرنے مرورود تک چلا آیا۔امیر المومنین عمربن خطاب تک احنف کی کامیابیوں کی اطلاع پہنچی توانھوں نے ان کو سرحدی دریا عبور کرنے سے منع کر دیا، کیونکہ وہ تاتاریوں (ترکوں)اور منگولوں کے ساتھ کوئی جنگ چھیڑنا نہیں چاہتے تھے۔احنف نے اپنی فوج مرو رود کی پہاڑیوں کے سامنے لا کھڑی کی، دریاے مرورود تاتاری فوج اور ان کے بیچ حائل تھا۔کئی دن دونوں لشکر آمنے سامنے پڑے رہے ،مسلمانوں نے جنگ کی ابتدا کی نہ دریا عبور کرنے کی کوشش کی ۔اس دوران میں ترکوں کی طرف سے مبارزت کرنے والے تین سوار احنف کے ہاتھوں مارے گئے۔جب خاقان کویقین ہو گیا کہ مسلمان اس سے بھڑنانہیں چاہتے توواپس اپنی سرزمین کو لوٹ گیا۔
مرو شاہجا ن کے محاصرے کے دوران میں یزدگرد چھپا یاہوا خزانہ سمیٹ کر اپنے خاص مصاحبوں کے ساتھ پڑوسی ملک ترکستان یا چین کو فرار ہو رہا تھاکہ اس کی رعایا اس پر پل پڑی اور خزانہ اس سے چھین لیا۔جب احنف سے ان کی صلح ہوئی توانھوں نے یہ خزانہ ان کے حوالے کر دیا۔خمس مدینہ بھیجے جانے کے بعد ہر سپاہی کو اس قدر وافر حصہ ملا جوجنگ قادسیہ میں ملنے والی غنیمت کے برابر تھا۔ غنائم تقسیم کرنے کے بعدعمر رضی اﷲ عنہ نے خطبہ دیا: اﷲ تعالیٰ نے تمھیں ایرانیوں کی سرزمین او ر ان کے مال ودولت کا مالک بنا دیاہے، کیونکہ وہ جانچنا چاہتا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو۔
۶اھ میں بیت المقدس کی فتح کے بعد حضرت عمرو بن عاص برابر سیدنا عمر بن خطاب کو مشورہ دیتے رہے کہ مصر زیر کرنے کا یہ بہترین موقع ہے، کیونکہ وہاں کے لوگوں میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ ایک طرف بازنطینی حکمران ہرقل (Heraclius) نے ان پر سیاسی تسلط جمایا ہوا ہے، دوسری جانب اسی کے حکم سے عیسائی کیتھولک پیشوا کائرس (Cyrus) مصریوں کا عقیدہ بدلنے کے لیے ان پر جبر و تعذیب کے پہاڑ ڈھا رہا ہے۔۶۲۹ء میں ہرقل جب مصر آیا تو اس نے کائرس (Cyrus) کو ذمہ داری دی کہ وہ مصر میں Monophysitism (حضرت عیسیٰ ؑ کاواحد الوہی فطرت رکھنا) کے عقیدے کو فروغ دے۔ وہاں کے عیسائی Miaphysitism (حضرت عیسیٰ ؑ کی ذات کاایک ہی وقت میں بشری اورالوہی فطرتوں سے مرکب ہونا)کو مانتے تھے۔جابیہ میں ابن عاص سے ملاقات کے بعد حضرت عمرمدینہ واپس چلے گئے، پھر اسی زمانے میں خلافت اسلامیہ میں قحط پڑا اور طاعون کی وبا پھیل گئی، اس لیے ان کی تجویز پر عمل نہ ہو سکا۔ ۸اھ (۶۳۹ء) میں عمرو بن عاص قیساریہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے کہ انھیں مصر میں آگے بڑھنے کی اجازت مل گئی۔ حضرت عمر نے اہل رائے سے مشورہ کرنے کے بعد لکھا تھا کہ انھی لوگوں کو اس مہم میں شامل کرنا جو اپنی مرضی سے شامل ہونا چاہیں۔ حضرت عمرو معاویہ کوقیساریہ میں نائب مقرر کر کے ۴ ہزار فوج لے کر چل پڑے اورساتھ ہی مدینہ سے کمک طلب کی۔اسی اثنا میں وہاں وہ صحابہ سرگرم ہو چکے تھے جو اس مہم کو نوزائیدہ اسلامی مملکت کے لیے پر خطر سمجھتے تھے۔ سیدنا عثمان ان میں پیش پیش تھے، وہ حضرت عمرو بن عاص پر ذاتی اعتراضات بھی کرتے تھے۔ ان کے اصرار پر حضرت عمر نے دوسرا خط لکھا کہ اگر تم مصرمیں داخل ہو چکے ہو تو اپنی منزل تک بڑھتے جاؤ اور اگر وہاں نہیں پہنچ پائے تو واپس لوٹ جاؤ۔وہ رفح اور عریش کے مابین ایک مصری قصبے میں داخل ہو چکے تھے، اس لیے پیش قدمی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ انھیں کسی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا، کیونکہ مصر کے رومی حکمران مقوقس کی پلاننگ تھی کہ یہ قلیل التعدادلشکر اتنی دور چلا جائے جہاں اس تک مددآنا ممکن نہ ہو۔ حضرت عمرو بن عاص ۰۰ا کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کر کے فرماآن پہنچے جہاں ایک مضبوط قلعہ تھا۔اہل شہر نے دروازے بند کر لیے اور حضرت عمرو نے محاصرہ ڈال دیا، انھیں اپنی فتح کا پورایقین تھا۔ مشہور روایت ہے ،یہ محاصرہ ایک ماہ جاری رہا ، کچھ ابتدائی جھڑپوں کے بعد حضرت عمروکو شان دار فتح حاصل ہوئی۔ مقریزی اور دوسرے مورخین کا خیال ہے کہ یہ کامیابی فرما کے قبطیوں کے مرہون منت تھی، لیکن حقیقت میں ان کی مدد اتنی ہی تھی کہ انھوں نے مسلمانوں کو شہر کے بارے میں معلومات مہیا کیں۔ دوسری وجہ یہ رہی کہ اہل فرما کومصر کے بادشاہ مقوقس کی جانب سے کوئی کمک نہ پہنچی۔ حضرت عمرو نے قلعہ مسمار کرا دیا اور قریبی بندرگاہ میں کھڑے جہاز جلا ڈالے تاکہ مصریوں کو مزید کارروائی کا موقع نہ ملے۔فتح کے بعدکچھ مقامی بدو ان کی فوج میں شامل ہو گئے۔اب وہ ایک لمبا سفر طے کر کے بلبیس کے شہر پہنچے جہاں وہ ایک ماہ مقیم رہے۔ اس دوران میں مقوقس نے انھیں لوٹ جانے کی پیش کش کی۔ عمرو نے جواب دیا: ہم تمھیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتے ہیں،دوسری صورت میں تم جانتے ہو، کہ ہم ہی غالب آئیں گے۔ رومی جرنیل اطربون (Tribunus) نے مقابلہ کرنے کی ٹھانی،وہ ۲ا ہزار کی فوج لے کر نکلااور راتوں رات مسلم فوج پر اچانک حملہ کر دیا۔ حضرت عمرو تیار تھے، شدید جنگ کے بعد اطربون مارا گیااور ا ہزار جانوں کا نذرانہ دے کر اس کی فوج بھی تتر بتر ہو گئی۔
ابھی مدینہ کی طرف سے کمک کی آمد نہ ہوئی تھی، حضرت عمرو صحرا کے کنار ے چلتے چلتے ام دنین تک آ گئے۔ دریاے نیل پر واقع اس قصبے کے جنوب میں مصر کے دو قدیم شہر بابلیون اور منف تھے۔ حضرت عمرو بن عاص نے امیر المومنین کو مدد بھیجنے کے لیے دوبارہ خط لکھا اور سپاہیوں کو امید دلائی کہ کمک آیا چاہتی ہے۔سب سے پہلے ام دنین کے قلعے کے پہرے داروں نے مسلم فوج آتے ہوئے دیکھی تو مرعوب ہو گئے۔ مدد آئی تو حضرت عمرو نے پوری فوج یکجا کر کے ایک ہلہ بولا اور قلعے پر قبضہ کر لیا۔ اب انھوں نے کشتیوں پر دریاے نیل کو عبور کیا ،جیزہ کے اہرام کے پاس سے گزرتے ہوئے صحرا میں مارچ کرنا شروع کر دیا،ان کا رخ فیوم کی طرف تھا۔انھیں مقامی بدوؤں نے خبر دی کہ حنّا نام کا ایک سالار کھجوروں اورجھاڑیوں کی اوٹ میں اپنا دستہ چھپاتے چھپاتے ان کی طرف آ رہا ہے۔ حضرت عمرو نے رخ بدلا اور ایک چکر کاٹ کر اس دستے پر حملہ کیا اور اسے ملیا میٹ کر دیا۔اہل فیوم حنّا کے انجام سے بہت رنجیدہ ہوئے،وہاں کے رومی حکمران نے اس کی لاش حنوط کر کے ہرقل کے پاس قسطنطینیہ بھیج دی۔ہرقل نے حضرت عمرو کی فوج کچلنے کے لیے ایک مقامی لشکربھیجنے کا حکم دیا، لیکن حضرت عمرو صحرا سے باہر نہ نکلے تو وہ لشکر لوٹ گیا۔
اسی اثنا میں حضرت عمرو بن عاص کو اطلاع ملی، امیرالمومنین نے ان کی طرف مزید کمک روانہ کی ہے جو فرما اور بلبیس کے اسی راستے سے بابلیون کے قلعوں تک پہنچے گی جہاں سے وہ خود آئے تھے ۔وہ آگے بڑھ کر اس فوج کا استقبال کرنا چاہتے تھے۔ انھیں اندیشہ تھا کہ رومی اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالیں گے۔ ان کو دریاے نیل عبور کرنا تھا،فیوم سے آنے والی رومی فوج بھی راستے میں حائل تھی۔ مورخین حیران ہیں انھوں نے نیل کیسے پارکیا، فیومی لشکر کو کیسے چکمہ دیا اور عین شمس (Heliopolis) پہنچ گئے۔ ۸ہزار نفوس پرمشتمل اس فوج میں حضرت زبیر بن عوام، عبادہ بن صامت، مقداد بن اسود اور مسلمہ بن مخلد جیسے جلیل القدر صحابہ موجود تھے۔ سیدنا عمر نے زبیر کو قائد جیش مقرر کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ کیا تم مصر کی گورنری لینا چاہتے ہو؟ انھوں نے جواب دیا، میں حضرت عمرو بن عاص کا ساتھ دوں گا، ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالوں گا۔ جیش زبیر کے آنے سے حضرت عمرو کی فوج بڑھ کر ۵ ا ہزار ہو گئی توانھیں یقین ہوا کہ مصر کی قسمت کا فیصلہ ہونے کی گھڑی آ گئی ہے۔ انھوں نے عین شمس (Heliopolis) کے ٹیلوں پر فوج کو ترتیب دیا۔ یہ جگہ بلندتھی، اس لیے ا س کا دفاع کرناآسان تھا۔ وافر پانی ہونے کی وجہ سے سبزے اور غلے کی بہتات تھی۔ حضرت عمروکی خواہش تھی کہ رومی فوج قلعۂ بابلیون سے باہر نکل کر میدان میں مقابلہ کرے ۔یہ تمنا جلد پوری ہوئی ، رومی سپہ سالار تھیوڈر نے اپنے جرنیلوں سے مشورہ کے بعد قلعے سے باہر آنے کا فیصلہ کیا۔ حضرت عمرو نے یہ خبرسن کرراتوں رات۰۰ ۵سپاہی پہاڑ کے پیچھے بنووائل کے غار میں چھپادیے اور ۵۰۰ خارجہ بن حذافہ کی سربراہی میں ام دنین بھیج دیے۔صبح سویرے وہ عین شمس کے ٹیلوں سے اتر کر کھلے میدان میں آگئے۔ رومی فوج بھی پوری تیاری کے ساتھ باہرنکلی اور لڑائی شروع ہوئی۔ گھمسان کا رن پڑا تھا کہ بنو وائل کے غار میں چھپا ہوارسالہ باہر نکلا اور رومی فوج کے پچھلے دستوں پر ٹوٹ پڑا۔رومیوں کی صفیں منتشر ہو گئیں اور انھوں نے گھبرا کربائیں جانب ام دنین کا رخ کیا ۔عین اسی وقت ام دنین میں چھپے ہوئے مسلم سوار نکل آئے اور ان پر تلواریں آزمانا شروع کر دیں۔رومیوں کو ایسے لگا، جیسے ان پر تین لشکر حملہ آور ہو گئے ہیں۔اسی گھبراہٹ میں ان میں سے اکثر مارے گئے، باقی فرار ہو کر قلعے میں جا چھپے ،کچھ کشتیوں میں بیٹھ کر نیل میں جاگھسے۔جنگ ختم ہونے کے بعداسلامی فوج نے ام دنین پر دوبارہ حملہ کیا اور وہاں چھپے ہوئے رومیوں کو نکال باہر کیا۔ عین شمس کے فیصلہ کن معرکے کے بعد حضرت عمرو بن عاص نے قدیم شہر مصر پر بغیر کشت و خون کیے قبضہ کر لیا۔ فیوم میں موجود رومی نقیوس کی طرف بھاگ گئے تھے، اس لیے حضرت عمرو دریاے نیل پار کر کے صحرا میں پہنچے اورفیوم کو اپنے کنٹرول میں لیا۔ انھوں نے جنوبی ڈیلٹا میں بھی فوج بھیجی اور اثریب اور منوف پر قبضہ کیا۔جو رومی اہل کار قابو آئے ،انھیں ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا دی گئیں۔باقی بچ جانے والوں پرا س قدر خوف طاری ہوا کہ وہ ٹولیوں کی صورت میں اسکندریہ کوچ کر گئے۔
کثیر تعداد میں رومی سپاہ بابلیون کے قلعے میں پناہ لیے ہوئی تھی،ان میں شاہ مصرمقوقس بھی تھا۔دریاے نیل کے کنارے پر واقع اس قلعے کے بڑے گیٹ تک بحری جہازوں کی آمد ورفت ممکن تھی۔قلعے کے اندر پانی کے کنویں اورغلے کے کھیت کثرت سے تھے۔اس کے چاروں اطراف ایک گہری خندق کھدی ہوئی تھی جسے ایک متحرک پل کے ذریعے عبور کیا جاتا تھا ۔اہل قلعہ اس پل کی حرکت کنٹرول کرتے تھے۔ادھر دریاے نیل میں پانی چڑھ آیا،یہ وہ طغیانی تھی جو اس دریا میں ہر سال آتی تھی ۔ان حالات میں حضرت عمرو بن عاص نے قلعۂ بابلیون (Babylon Fortess)کا محاصرہ کیا۔ رومی فوج منجنیقوں سے حملہ کرتی تو مسلمان پتھروں اور تیروں سے جواب دیتے۔ایک ماہ گزر گیا،مسلمانوں کے حوصلے میں کوئی کمی نہ آئی۔ شاہ مقوقس نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ ابھی نیل کا پانی اترنے میں قریباً ایک مہینا اور لگے گا تب کہیں نقیوس یا اسکندریہ سے کمک آ سکے گی ، کیوں نہ ان عرب بدوؤں کو مال و دولت کا لالچ دے کر رخصت کر دیا جائے۔ اس نے اس سفارت کاری کو سالار بابلیون اعیرج (جارج) سے خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا ۔رات گئے مقوقس اور اس کے خاص درباری کشتی پر بیٹھ کر قلعے سے جزیرۂ روضہ چلے گئے اور وہاں سے حضرت عمرو بن عاص کو خط لکھا۔
مطالعۂ مزید:البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)،الکامل فی التاریخ(ابن اثیر)،الفاروق عمر(محمد حسین ہیکل)، (Wikipedia) Muslim Conquest of Egypt

۱
سیرت و عہد
بابلیون کا پادری مقوقس کا خط لے کر حضرت عمرو کے پاس پہنچا۔ اس میں لکھا تھا: تم نے ایک مختصر فوج کے ساتھ ہمارے ملک پر حملہ کر رکھا ہے ،دوسری طرف رومیوں کی اسلحہ سے لیس ایک بڑی فوج بھی تم سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ چند معتبر آدمی ہمارے پاس بھیج دو تاکہ جنگ وجدال سے پہلے ہم آپس میں بات چیت کر کے معاملات سلجھا سکیں۔ حضرت عمرو نے پادری کی سربراہی میں آنے والے وفد کو دو دن روک کر رکھا اور یہ جواب بھیجا کہ ہمارا قضیہ تین صور توں ہی میں حل ہو سکتا ہے: ایک یہ کہ تم اسلام قبول کر کے ہمارے بھائی بن جاؤ، دوسری یہ کہ اگر اسلام نہ لانا چاہو تو جزیہ دے کر ہمارے زیرنگیں ہو جاؤ،تیسری صورت یہ ہے کہ ہم تمھارے ساتھ جہاد جاری رکھیں حتیٰ کہ اﷲ ہمارے مابین فیصلہ کر دے۔ مقوقس نے پھرمذاکرات کی دعوت دی تو سیدنا عمرو بن عاص نے ۰ا افراد کا ایک وفد اس کی طرف روانہ کیا۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ عنہ ان میں شامل تھے،ان کا سیاہ رنگ اور بھاری بھرکم جسم دیکھ کر مقوقس بولا: اس مشکی کو پرے ہٹاؤ اور کوئی دوسرا آدمی مجھ سے بات کرے۔ سب نے ایک آواز ہو کر کہا: انھی کا جواب ہماری راے ہوگی۔عبادہ نے دنیا سے بے رغبتی اور شوق شہادت کااظہار کیا تو مقوقس کو سمجھ نہ آیا۔ اس نے کہا: ہمیں احساس ہے کہ تم مشقت میں پڑے ہوئے ہو، اس لیے ہم تمھارے ساتھ صلح کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ تمھارا ہر سپاہی ہم سے ۲ دینار لے لے، تمھارے سالار کے لیے ہم ۰۰ادینار اور خلیفہ کے لیے ۰۰۰ا دینار مقرر کرتے ہیں ۔ یہ رقم لو اور روم کی افواج قاہرہ کے ہاتھوں پٹنے سے بچ جاؤ۔ عبادہ نے رومی جتھے کاذکر حقارت سے کیااور یہ آیت پڑھی: ’کَمْ مِّنْ فِءَۃٍ قَلِےْلَۃٍ غَلَبَتْ فِءَۃً کَثِےْرَۃً بِاِذْنِ اﷲِ وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِےْنَ‘، ’’کتنے ہی تھوڑی تعداد رکھنے والے گروہ تھے جو اﷲ کے حکم سے بڑے گروہوں پر غالب آ گئے اور اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ (البقرہ۲: ۲۴۹)۔ انھوں نے حضرت عمرو کی ہدایت کے مطابق یہ پیش کش دہرائی: اسلام قبول کر لو،جزیہ دو یا جنگ کے لیے تیار ہو جاؤاور رخصت ہولیے۔ مقوقس اور اس کے درباری بھی پل عبور کر کے قلعہ واپس چلے گئے۔خود تو و ہ مسلمانوں سے صلح کرنا چاہتا تھا،لیکن اس کے جرنیل مائل بہ جنگ رہے۔ تین دن کے بعد رومی فوج قلعے سے نکلی اور اسلامی فوج پر اچانک حملہ کر دیا۔مسلمان غافل نہ تھے ،سخت لڑائی ہوئی۔ رومیوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑااوروہ پھر قلعہ میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ اس موقع پر مقوقس نے قوم کو صلح پر آمادہ کر لیا اور حضرت عمرو بن عاص سے امان طلب کی۔ صلح کا ایک معاہدہ تیار کیا گیا جس کی رو سے ہر مصری پر ۲دینار جزیہ عائد کیا گیا، بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کو چھوٹ دی گئی ، مصر کی اراضی ، مال مویشیوں اور کنیسوں پر مصریوں کا حق تسلیم کیا گیا۔
مقوقس اس معاہدے کی منظوری لینے کے لیے ہرقل کے پاس پہنچا۔ یہ بازنطینی بادشاہ دمشق اور بیت المقدس میں مسلمانوں سے شکست کھا چکا تھا ،اس کے باوجود حیران تھا کہ ۲ا ہزار کی قلیل مسلم فوج نے مضبوط قلعوں میں محفوظ رومی فوجوں کو زیر کر لیا ہے ۔اس نے سارا الزام مقوقس پر دھر دیا اوراسے بزدل قرار دے کر ذلت کے ساتھ نکال باہر کیا۔ بابلیون میں صلح ختم ہونے کی اطلاع محرم ۲۰ھ(دسمبر ۶۴۰) میں پہنچی۔تب دریاے نیل میں طغیانی ختم ہو چکی تھی، قلعے میں موجود فوج کی تعداد کم ہو چکی تھی او ر اسے کہیں سے کمک پہنچ نہ پائی تھی۔ قلعے کے گرد کھدی خندق کا پانی خشک ہوا تو رومیوں نے اس میں آہنی خار ڈلوا دیے، اس طرح اسلامی فوج کی پیش قدمی مشکل ہو گئی تاہم فریقین کی جانب سے تیر اندازی اور سنگ باری ہوتی رہی۔رومی جب بھی قلعے سے نکلنے کی کوشش کرتے، مسلمانوں کی یورش سے واپس ہونے پر مجبور ہو جاتے۔موسم بہار گزر گیا ،۷ ماہ کے طویل محاصرے سے مسلمان تھک چکے تھے، قلعے کے اندر بھی کئی امراض پھوٹ پڑے تھے۔ربیع الاول ۲۰ھ( مارچ ا۶۴) میں، جبکہ دریاے نیل خشک ہو چکا تھا ،ہرقل کی موت کی خبر پہنچی۔مقوقس کو رسوا کرنے کے بعد اسے بخار نے آن لیا تھا۔ اسی مہینے کی ایک رات حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ نے قلعۂ بابلیون کی بیرونی خندق پھلانگ کر دیوار کے ساتھ سیڑھی لگائی اور اندر اتر گئے۔ کچھ سپاہی ان کے ساتھ تھے، انھوں نے قلعے کادروازہ کھول دیا ، اس طرح اس پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔قبطی رومیوں کے مظالم سے تنگ آئے ہوئے تھے، ان کے کئی افراد نے اسلام قبول کرلیا اور امور سلطنت میں اسلامی حکومت کے معاون بن گئے۔ اب حضرت عمرو بن عاص اس انتظار میں تھے کہ کب امیر المومنین عمر بن خطاب ان کو مصر کی آخری مہم فتح اسکندریہ کی اجازت دیتے ہیں۔ انھوں نے قلعہ اور جزیرۂ روضہ کے مابین اور جزیرہ اور جیزہ کے مابین کشتیوں کے پل بنوادیے تاکہ دریاے نیل کو آسانی سے عبور کیا جا سکے۔ سیدنا عمر جانتے تھے کہ تین ماہ بعددریا پھر چڑھ آئے گا ،تب اسکندریہ جانا ممکن نہ ہوگا۔انھوں نے اذن سفر دے دیا تو حضرت عمرو نے بابلیون میں مسلم چھاؤنی قائم کر کے حضرت خارجہ بن حذافہ کو اس کا انچارج مقرر کیااور خوداپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔
ادھر ہرقل (Heraclius)کی موت کے بعدرومی دارالسلطنت قسطنطنیہ میں اقتدار کی کش مکش شروع ہوگئی تھی۔ ہرقل کی دوسری بیوی مارٹینا (Martina) سریر سلطنت پر اپنے بیٹے ہریقلونس (Heraklonas)کوبٹھاناچاہتی تھی، جبکہ ہرقل اپنی وصیت میں اپنی پہلی بیوی فیبیہ یوڈوکیا (Fabia Eudokia) کے بیٹے قسطنطین ثالث (Constantine III) اور ہریقلونس، دونوں کو سلطنت کا وارث قرار دے چکا تھا۔ اپنے باپ کی وفات کے۴ماہ بعد ہی قسطنطین دق (Tuberculosis) میں مبتلا ہو کر چل بسا تو اس کی سوتیلی ماں مارٹیناپراسے زہر دینے کا الزام لگایا گیا۔ ہرقل کا پوتا اور قسطنطین کا بیٹا قنسطانس ثانی (Constans II) ملکہ کے خلاف مہم میں پیش پیش تھا۔ اسے اپنے چچا ہریقلونس کے ساتھ شریک اقتدار کیا گیا تو یہ کشاکش اختتام کو پہنچی۔ تبھی وہ مسیحی وفد مصر روانہ کیا گیا جو قسطنطین نے مرنے سے پہلے ترتیب دیا تھا۔ رومن کیتھولک چرچ کا متنازع پیشوا کائرس (Cyrus) اس کا سربراہ تھا، کئی پادری اور ایک بڑی فوج اس کے ساتھ تھی۔ اس مذہبی مہم میں حصہ لینے والے رمضان ۲۰ھ (ستمبر ا۶۴) میں ایک بڑے بحری بیڑے کے ذریعے سے مصری دارالخلافہ پہنچے تو مصر کے نجات دہندہ کے طور پر ان کا استقبال کیا گیا۔ الفریڈ بٹلر (Alfred Butler) کا خیال ہے کہ کائرس مسلمانوں سے صلح کا ارادہ رکھتا تھا،کیونکہ اسے اپنی فتح کی امید نہ تھی اور وہ صلح ہی میں عیسائی مذہب کا فائدہ سمجھتا تھا۔
اسلامی فوج نے جمادی الاولیٰ ۲۰ھ ( مئی ا۶۴) میں فاتح مصر حضرت عمرو بن عاص کی سربراہی میں بابلیون سے نکل کر دریاے نیل کے بائیں کنارے پر اپنا سفر شروع کیا۔قبطی سرداروں کی ایک جماعت حضرت عمرو کے ساتھ تھی، انھی کے گائیڈ فوج کی راہ نمائی کر رہے تھے۔ حضرت ابن عاص کا ارادہ تھا کہ دائیں کنارے پر واقع قلعۂ نقیوس پرقبضہ کیا جائے، قبل اس کے کہ وہ دریاے نیل عبور کرتے، طرنوط کے مقام پر ان کی رومیو ں سے مڈبھیڑ ہو گئی۔ ایک مختصر جنگ کے بعد دشمن فوج نے شکست کھائی۔ نقیوس کے عامل کی حکمت عملی تھی کہ اسلامی فوج کو دریاے نیل کی داہنی نہر پار کرنے سے روکا جائے، اس لیے وہ اپنی فوج کشتیوں پرسوار کرا کے شہرسے باہر نکل آ یا۔سیدناعمرو نے رومی فوج کو کشتیوں سے اترنے کا موقع ہی نہ دیا۔ حاکم نقیوس کویوں لگا، جیسے مسلمان نہر میں گھس کر اسے آن لیں گے ۔ اس نے تیزی سے اپنے جہاز کا رخ اسکندریہ کی طرف موڑ دیا۔فوجیوں نے اپنے سالار کو بھاگتے دیکھا تو ان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے،ان میں سے زیادہ تر مارے گئے ۔ مسلمان شہر نقیوس میں نچنت داخل ہو گئے۔قدیم مصری مورخ حنا نقیوسی اور اس کی متابعت میں Butler کا یہ الزام کہ اسلامی فوج نے گھروں اور کنیسوں میں داخل ہو کر عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کیا، کسی طرح درست نہیں۔ اسلامی آداب حرب، ہتھیار ڈالنے والوں ، عورتوں اور بچوں پر ہاتھ اٹھانے سے سختی سے منع کرتے ہیں۔ ایسا کرنا مسلمانوں کا کبھی شیوہ نہیں رہا اورعہد فاروقی میں ایسا ہونا تو ناممکن تھا کیونکہ سیدنا عمر اپنے عمال کی چھوٹی سی غلطی کا بھی سخت اور کڑا محاسبہ کرتے تھے۔
حضرت عمرو نے شریک بن سمی کی قیادت میں ایک دستہ اسکندریہ فرار ہونے والوں کے تعاقب میں بھیجا۔ جب انھوں نے دیکھا کہ وہ اپنے تھوڑے سے فوجیوں کے ساتھ اتنے بھگوڑوں پر غلبہ نہیں پا سکتے تو ایک ٹیلے پر پنا ہ لی اور مالک بن ناعمہ کوکمک لانے کے لیے نقیوس بھیجا۔رومیوں کواطلاع ملی کہ اسلامی فوج کو مدد آ رہی ہے تو وہ پھر سے فرار ہو گئے۔ اب پورا لشکر اس ٹیلے پر آن پہنچا جسے اب ’’کوم شریک ‘‘ (شریک کا ٹیلہ) کہا جاتا ہے۔اسی اثنا میں اطلاع ملی کہ ایک رومی پلٹن سُلطیس کے مقام پرجمع ہے۔ حضرت عمرو نے بھی اپنے جیش کے ساتھ سُلطیس کا رخ کیا۔ یہاں سخت لڑائی ہوئی، رومی فوج شکست کھا کر بھاگی تو دمنہور سمیت راستے کے کسی مقام پر نہ ٹھہری اور سیدھا اسکندریہ کے پاس کریون کے قلعوں میں جا پناہ لی۔اسکندریہ میں موجود رومی کمانڈر ان چیف تھیوڈرشہر اسکندریہ کو محفوظ رکھنے کے لیے فوج کے ساتھ کریون کے قلعہ میں منتقل ہو گیا۔اسے اطمینان تھا کہ قلعے کی مضبوط دیواریں مسلمانوں کی یورش روک لیں گی۔ اسلامی فوج کے کچھ افراد پچھلے معرکوں میں کام آ گئے تھے ،کچھ کو مفتوحہ شہروں کی حفاظت کے لیے چھوڑ دیا گیا، اس طرح اس کی اصل ۵اہزار کی نفری برقرارنہ رہی تھی۔ تاریخ کے اوراق مزید فوج کی آمد کے ذکر سے خالی ہیں، تاہم محمد حسین ہیکل نے گمان کیا ہے کہ بصرہ و کوفہ اور شام کی چھاؤنیوں سے کچھ کمک ضرور پہنچی ہو گی اور ۲۰ ہزار کے قریب نفری کریون پہنچی ہو گی ۔کریون میں جنگ کا بازار گرم ہوا،کئی دن گزرنے کے بعد بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ مسلمانوں نے بڑی دلیری دکھائی، تب بھی رومی فوج کا پلڑا بھاری نظر آتاتھا۔ حالات ایسے تھے کہ حضرت عمرو بن عاص کو صلوٰۃ خوف پڑھانا پڑی۔ اسی جنگ میں ان کے بیٹے حضرت عبداﷲ بن عمرو شہید ہوئے۔ کہیں تیرہویں چودھویں دن رومی دفاع کمزور پڑا اور قلعۂ کریون مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔
فتح کے بعد حضرت عمرو بن عاص نے کریون میں قیام نہ کیا، وہ جیش اسلامی لے کر فوراً اسکندریہ پہنچے، لیکن شہر کے دروازے ان پر وا نہ ہوئے، الٹا شہرپناہ پرسے منجنیقیں پتھر برسانے لگیں۔اسکندریہ ایک محفوظ شہر تھا ، اس کے شمال میں بحیرۂ روم موجیں مار رہا تھا،جنوب میں جھیل مریوط تھی اور مغرب میں نہرثعبان بہ رہی تھی۔ اس جزیرہ نما کو صرف مشرق کی طرف سے رسائی ہو سکتی تھی، جہاں بلند و بالا قلعوں کی فصیلیں راستہ روکے کھڑی تھیں۔اسلامی فوج ادھر ہی سے آئی تھی۔ اسکندریہ کی بندرگاہ اور تمام ساحلی مقامات رومی کنٹرول میں تھے، اس لیے محصوروں کو سمندر کی طرف سے ہر طرح کی مدد پہنچ رہی تھی۔ ۵۰ ہزار رومی شہر کی حفاظت پر مامور تھے۔ حضرت عمرو نے اپنی فوج کو منجنیقوں کی مار سے دور ٹھہراد یا۔قصر فاروس کے باہر فوج کو قیام کیے ۲ ماہ گزر گئے اور طرفین کی جانب سے کوئی جنبش نہ ہوئی۔ جب اسلامی لشکر حرکت کرکے مقس تک آیاتو جھیل کی طرف سے ایک رومی دستہ نکلا اور ۲ا مسلمانوں کو شہید کرکے واپس لوٹ گیا، چھوٹی موٹی جھڑپیں بعدمیں بھی ہوتی رہیں۔ حضرت عمرو نے اسکندریہ میں رہتے ہوئے مفتوحہ علاقوں پر اپنا تسلط برقرار رکھا۔ انھوں نے اپنی دھاک بٹھانے کے لیے کئی بار اپنے دستوں کو اطراف کے شہروں میں بھیجا۔ساڑھے چار ماہ گزر گئے ،محاصرہ لمبا اور بے ثمر ہو گیا تو مدینہ میں امیر المومنین عمر بن خطاب مضطرب ہو گئے۔ انھیں یہ فکر کھائے جا رہا تھا کہ کہیں ان کی فوج عیش دنیا میں پڑ کرسست نہ ہوگئی ہو۔انھوں نے حضرت ابن عاص کو خط لکھا کہ اﷲ تعالیٰ اسی قوم کی مدد کرتا ہے جو نیک نیت ہو۔ لوگوں کو صدق نیت اور صبر کے ساتھ جہاد کرنے پرانگیخت کرو۔ بروز جمعہ زوال کے وقت سب یک جان ہو کر حملہ کردو۔ حضرت عمرو بن عاص بھی سوچ میں پڑے ہوئے تھے کہ شہر کو کیسے زیر کیاجائے۔ انھوں نے سپاہیوں کو حضرت عمر کا خط سنایا اور ۲ رکعت نفل اداکرکے اﷲ سے فتح کی دعا مانگنے کی تلقین کی۔ پھر خیال آیا کہ صحابہ ہی میں سے کوئی یہ مرحلہ سر کر سکتا ہے۔ چنانچہ حضرت عبادہ بن صامت کو بلاکر کمان سونپی ۔ایک ہی روز کی سخت لڑائی کے بعد مسلمان شہر اسکندریہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔ چند انفرادی واقعات کے سوا اس جنگ (ا۲ھ)کی کوئی تفصیل ہم تک نہیں پہنچی۔ اسکندریہ کے مرمریں ستون ،عالی شان معابد و کنائس ،شاہی محلات اور شان دار سڑکیں دیکھنے والوں کو مبہوت کررہی تھیں۔ مسلم مورخین کے بر عکس اے جے بٹلر (A J Butler) کا کہنا ہے: اسکندریہ کے محاصرے کے دوران میں اطراف کو جانے والی مہمات کی حضرت عمر و بن عاص خودکمان کرتے رہے ۔ایک بار وہ بابلیون میں تھے کہ کائرس (Cyrus) ان کے پاس پہنچا اور صلح کی پیش کش کی۔اسکندریہ کے باشندوں کو معلوم ہوا توسخت ملامت کی اور اسے مارنے کے درپے ہوئے، لیکن اس نے اپنی مذہبی سیادت کی بنا پرانھیں قائل کر لیا اور جزیے کی پہلی قسط اور کچھ اضافی سونا جمع کر کے خود حضرت عمرو کے حوالے کیا۔ بٹلر کے اس اختراع ذہنی کی کوئی تاریخی سند نہیں پائی جاتی۔ حضرت عمرو بن عاص نے حضرت معاویہ بن حدیج کوفتح کی بشارت دے کر مدینہ بھیجا۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے فوراً اذان دلائی، اہل ایمان کو جمع کر کے خوش خبری سنائی اور نماز شکرانہ ادا کی۔
شکست کے بعد رومی سمندر کی طرف سے فرار ہو گئے،کچھ سرزمین مصر میں پھیل گئے۔مقوقس نے اسکندریہ نہ چھوڑا، وہ اپنے محل میں مقیم رہا ،ربیع الاول ا۲ھ (مارچ ۶۴۲) میں یہیں فوت ہوا اور اسی شہر میں دفن ہوا۔سقوط اسکندریہ کے بعد مصر کے اکثر شہروں کے دروازے مسلمانوں کے لیے کھل گئے ۔بحیرۂ روم کے ساحل کے قریب واقع شہروں اخنا، بلہیب، برلس، دمیاط اور تنیس میں رومی چھاؤنیاں تھیں، اس لیے مسلمانوں کے قبضے میں نہ آئے۔ حضرت عمرو نے کچھ دستے ان کی طرف بھیجے تو وہاں کے باشندگان نے مصالحت کر لی۔ صرف اہل تنّیس نے مزاحمت دکھائی اور بزور جنگ زیر ہوئے۔ برقہ اور طرابلس میں بھی رومی فوجیں موجود تھیں جو جیش اسلامی پر حملہ کرنے کے لیے مناسب موقع کے انتظار میں تھیں۔ حضرت ابن عاص خود فوج لے کر وہاں گئے ، سکان برقہ نے جلد صلح کر لی، رومیوں کی ایک کثیر تعداد نے اسلام قبول کر لیا اورباقیوں نے ۳اہزار دینار سالانہ جزیہ دینا مانا۔اب (۲۲ ھ میں) حضرت عمرو کا رخ طرابلس کے ساحلی شہر کی طرف تھا۔وہاں کے باشندگان قلعہ بند ہو کر سمندر کی جانب سے مدد آنے کا انتظار کرنے لگے، کئی ہفتے گزر گئے، ان کو کمک نہ آئی۔اسی اثنا میں مسلمانوں کو اطلاع ملی کہ سمندر کی جانب شہرکے گرد کوئی فصیل نہیں۔ان کی ایک جماعت اس طرف گئی اور نعرۂ تکبیربلند کیا ،رومی شتابی سے جہازوں پر بیٹھ کر فرار ہو گئے۔ طرابلس کا دروازہ کھل گیا اور اسلامی فوج حضرت عمرو کی سربراہی میں اندر داخل ہو گئی۔
اس مرحلے پر جبکہ مصر کاملاً اسلامی سلطنت کاحصہ بن چکا تھا، حضرت عمرو بن عاص نے خلیفۂ ثانی حضرت عمر بن خطاب سے تیونس اور شمالی افریقہ میں پیش قدمی کرنے کی اجازت مانگی۔ان کی طرف سے انکار ہوا تووہ واپس برقہ آئے، جہاں بربر قبائل نے ان سے معاہدۂ صلح کیا۔وہ مصر کی جنوبی سرحدوں کو محفوظ دیکھنا چاہتے تھے، اس لیے حضرت عقبہ بن نافع کی قیادت میں ایک مہم پڑوسی شہر نوبہ کی طرف بھیجی ۔وہاں کے لوگ ماہر تیر انداز تھے،سیدھا آنکھ کی پتلی کا نشانہ لے کر آنکھ پھوڑ دیتے تھے۔سخت قتال کے بعد بھی کوئی نتیجہ نہ نکلاتو سرحدی جھڑپیں جاری رہیں، حتیٰ کہ خلیفۂ ثالث حضرت عثمان کے عہد میں ان سے معاہدۂ صلح طے پایا۔
جنگ و قتال سے فارغ ہونے کے بعد حضرت عمرو نے اہل مصر کے لیے امان عامہ کا اعلان کیا۔انھوں نے تمام ظالمانہ ٹیکس ختم کر دیے اور کہا: کسی کو زبردستی مسلمان نہ بنایا جائے گا۔ایک فوجی جرنیل کے بجاے اب مدبر سیاست دان کا رول ان کے سامنے تھا۔انھوں نے حضرت عمر رضی اﷲعنہ سے اسلامی حکومت کا دارالخلافہ مقرر کرنے کی درخواست کی۔ حضرت عمر نے ایک اصولی حکم دے کر فیصلہ حضرت عمرو پر چھوڑ دیا: میں نہیں چاہتا کہ تم ایسی جگہ ٹھکانا بناؤ، جہاں میرے اور مسلمانوں کے بیچ سردیوں یا گرمیوں میں دریاے نیل حائل ہو جائے۔اس اصول کی روشنی میں حضرت عمرو کوفسطاط سے بہتر کوئی جگہ نظر نہ آئی، یہ فراعنہ کے قدیم دارالحکومت منف اور قلعۂ بابلیون کے قریب دریاے نیل پرواقع تھا ۔یہاں سے مدینہ جانے کے لیے دریاے نیل پار نہیں کرنا پڑتا۔بابلیون کے محاصرے کے دوران میں حضرت عمرو نے یہاں ایک خیمہ (یا فسطاط) نصب کر رکھا تھا ۔جب قلعہ فتح ہو گیا تو انھوں نے خیمہ اکھاڑنے کا حکم دیا ۔جب انھیں نظر آیا کہ ایک جنگلی کبوتری نے اس میں انڈے دے رکھے ہیں تو اسے قائم رہنے دیا اورقلعے کی نگرانی کرنے والوں کو بھی ہدایت کی کہ خیمہ نہ اکھاڑا جائے۔ اب حضرت عمرو نے خیمے والی جگہ کو مسجد بنا دیا اور آس پاس مسلمانو ں کو اپنے گھر تعمیر کرنے کا حکم دیا ۔انھوں نے مسجد کے پاس ایک گھر امیر المومنین کے لیے بھی بنوایا اوران کو اطلاع بھیجی۔ حضرت عمر نے جواب بھیجا کہ حجاز میں رہنے والے شخص کا کیا کام کہ وہ مصر میں گھر بنائے؟ اسے مسلمانوں کے بازار میں تبدیل کر دو۔انھوں نے شدید غصے کا ا ظہار کرتے ہوئے کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ مسجد میں جو منبرتم نے بنوایا ہے، وہ مسلمان نمازیوں کی گردنوں سے بھی بلند ہے ،اسے فوراً تڑوا دو۔ تمھارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ کھڑے ہو کر خطبہ دو اور نمازی تمھاری ایڑیوں سے نیچے ہوں۔
حضرت عمرو بن عاص نے لارڈ بشپ بنیامین کو دعوت دی کہ وہ مصر لوٹ آئیں ۔وہ رومی حکام اورکائرس کے مظالم سے تنگ آکر صحرا میں روپوش ہو چکے تھے۔جب وہ اپنے قبطی عقیدت مندوں میں لوٹ آئے توان میں فرحت کی لہر دوڑ گئی۔
مطالعۂ مزید: تاریخ الامم والملوک(طبری) ؛الکامل فی التاریخ(ابن اثیر)؛ فتوح البلدان (بلاذری)؛ الفاروق عمر (محمد حسین ہیکل)؛ تاریخ اسلام (شاہ معین الدین ندوی)؛The Arab Conquest of Egypt and the last thirty years of Roman dominian (Alfred J Butler

سیرت و عہ
د
سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ عمال کونصیحت کرتے کہ حسب و نسب کا لحاظ کیے بغیر سب لوگوں سے ایک جیسا سلوک کرو، رشوت سے بچو اور من مانے فیصلے نہ کرو۔ایک بار لوگوں سے پوچھا: اگر میں اپنے تئیں بہترین شخص کوتمھارا عامل بناؤں پھر اسے انصاف کرنے کا پابند کر دوں تو کیاخیال ہے، میں نے اپنا فرض ادا کر دیا؟ لوگوں نے جواب دیا: ہاں، حضرت عمر نے کہا: ہر گز نہیں !ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا، جب تک میں یہ جانچ نہ لوں کہ آیا اس نے میرے حکم پر عمل بھی کیا ہے؟ خلیفۂ ثانی عمال کا کڑا محاسبہ کرتے تھے ، بعض اوقات محض شبہ کی بنا پر ان کو معزول کر دیتے۔انھوں نے رعایا کے اعتراض پر ایسے حاکم بھی ہٹا دیے جن سے وہ خود مطمئن تھے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص کو کوفے کی گورنری سے الگ کرنا اس کی مثال ہے۔ لوگوں کے الزامات سامنے آنے پر حضرت محمد بن مسلمہ کو تحقیقات کے لیے بھیجا گیا۔ حضرت سعد تمام الزامات سے بری ہو گئے، تاہم حضرت عمرنے انھیں الگ کرنا ہی قرین مصلحت سمجھا۔ انھیں خبر ملی کہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح اپنے اہل خانہ پر کھلا خرچ کرنے لگے ہیں تو فوراً ان کا مشاہرہ کم کر دیا۔ حالات کی تنگی کے باعث اور کم کھانے کی وجہ سے ان کا چہرہ مرجھا گیا، ان کے کپڑے پھٹ گئے ، جیب خالی ہونے کی وجہ سے وہ نئے کپڑے نہ بنوا پائے تو حضرت عمر نے کہا: اﷲ ابوعبیدہ پر رحم کرے !کتنا ہی پاک باز اور صبر والا ہے ۔
خلیفۂ دوم ہر سال حج کے موقع پر اپنے گورنروں کو مکہ طلب کرتے۔ ان سے اور ان کی رعایاسے سوال جواب کرتے تاکہ ان کے کنٹرول والے علاقوں کی صحیح صورت حال کا علم ہو سکے۔وہ ان کے تقرری سے پہلے والے اثاثوں کا ریکارڈ رکھتے ،بعد میں ہونے والے اضافے کو مشتبہ سمجھ کر قبضہ میں لے لیتے اور لوگوں میں بانٹ دیتے، پھر کہتے: ہم نے تمھیں تاجر نہیں عامل مقرر کیا تھا۔ اس سختی کے باوجود عمال فیصلہ کرنے میں آزاد ہوتے، حضرت عمر ان کے کام میں دخل نہ دیتے تھے۔ جب ان کی کوئی شکایت یابے انصافی سامنے آتی تب ہی حرکت میں آتے۔وہ اپنے عامل کا بیان بھی سنتے، اس میں وزن پاتے تو قبول کر لیتے۔گورنر شام حضرت معاویہ بن ابو سفیان پر اعتراض تھا کہ انھوں نے اپنے دروازے پردربان بٹھا رکھے ہیں اور ضرورت مندوں کو باہر کھڑا رکھتے ہیں۔ جب انھوں نے صفائی دی کہ اس علاقے میں دشمنوں کے جاسوس کثرت سے ہیں ،ان سے بچاؤ کے لیے ایسا کرنا پڑا ہے تو وہ خاموش ہو گئے اور کہا: میں تمھیں کوئی حکم دیتا ہوں، نہ روکتا ہوں۔ گورنر حمص حضرت عمیربن سعد نے تمام مال فے اہل حمص پر خرچ کر دیا۔ حضرت عمر نے تحقیق کر لی کہ واقعی ایسا ہوا ہے تو ان کی تعریف کی۔وہ کہا کرتے: میری تمنا ہے کہ مجھے عمیر بن سعد جیسا ایک اور شخص مل جائے تواسے مسلمانوں کی خدمت پر مامور کردوں۔ امیرالمومنین ایک دفعہ ایک بڑی حویلی میں بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے اپنے پاس موجود لوگوں سے کہا: اپنی اپنی خواہشیں بیان کرو۔ ایک نے کہا: میری خواہش ہے کہ یہ گھر درہموں سے بھرا ہوا ہو اور میں سار ے درہم اﷲ کی راہ میں خرچ کر ڈالوں۔ دوسرے کا کہنا تھا: میری آرزو ہے کہ یہ گھر سونے سے بھرا ہو اور میں سارا سونا اﷲ کی خاطر دے ڈالوں۔تیسرے نے اپنا ارمان یوں بیان کیاکہ یہ حویلی موتیوں اور جواہر سے پر ہواور وہ ان کو راہ خدا میں خرچ کر دیں۔ حضرت عمر نے کہا: اور تمنائیں بتاؤ۔ان کا جواب تھا کہ اس سے بڑھ کر کیا تمنا بتائیں؟ اب وہ خود بولے: میرا جی چاہتا ہے کہ یہ مکان ابوعبیدہ بن جراح، معاذ بن جبل اور حذیفہ بن یمان جیسے لوگوں سے بھرا ہو اور میں ان سب کو اﷲ کی اطاعت میں عامل مقر رکر دوں،پھر انھوں نے کچھ مال حضرت حذیفہ کی طرف بھیجا، انھوں نے فوراً اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا، اسی طرح حضرت معاذ اور حضرت ابو عبیدہ کی جانب تھوڑا تھوڑا مال بھیجا تو انھوں نے بھی فوراً بانٹ ڈالا۔
منصب خلافت سنبھالنے کے بعد حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی سختی نرمی میں بدل چکی تھی ۔ ان کے زہد، عدل اور ان کی شفقت پرسب کو بھروسا تھا، تاہم جب انھوں نے درہ پکڑااوراسے بے لاگ چلانا شروع کر دیا،کچھ لوگ ان سے خوف کھانے لگے۔ انھیں اپنے مسائل ان کے سامنے پیش کرنے میں ہچکچاہٹ ہونے لگی۔ اس صورت حال میں حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمان بن عوف اور حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اﷲ عنہم جمع ہوئے، باہمی مشورے سے حضرت عبدالرحمان کو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیجا۔ انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان اصحاب کی مشاورت سے بات کرنے آئے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا: عبدالرحمان، میں لوگوں کے لیے اتنا نرم پڑ گیا کہ مجھے اس نرم رویے سے اﷲ کاخوف آنے لگا، پھر میں سخت ہو گیا، حتیٰ کہ اس سختی کی وجہ سے مجھ پر خشیت الٰہی طاری رہتی ہے۔ مجھے بتاؤ، میں کہاں جاؤں؟ حضرت عبدالرحمان بن عوف روتے ہوئے نکلے اور کہا: ہائے! آپ کے بعد ان مسلمانوں کا کیا حال ہو گا؟
ابتداے خلافت میں حضرت عمر کار قضا تنہا انجام دیتے۔جب امور مملکت نے زیادہ مشغول کر دیا توانھوں نے ہر صوبے کے لیے الگ قاضی کاتقرر کیا،قاضی القضاۃ وہ خود ہی رہے۔ حضرت ابو الدرداء مدینہ کے، حضرت شریح کوفہ کے، حضرت ابو موسیٰ اشعری بصرہ کے اور حضرت قیس بن ابو العاص سہمی مصر کے قاضی مقرر ہوئے۔ یہ سب کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق خود فیصلہ کرتے ۔ان کے بعض فیصلے ضرب المثل بن گئے۔ایک بار حضرت عمر نے کسی سے گھوڑا خریدا،وہ اس کی چال پرکھنے کے لیے اس پرسوار ہی ہوئے تھے کہ وہ گرپڑا اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ انھوں نے گھوڑا لوٹانا چاہا تو وہ شخص نہ مانا۔آخر طے ہوا کہ کسی کو ثالث بنایا جائے ۔بائع کی مرضی سے قاضی شریح سے رجوع کیا گیا۔انھوں نے فیصلہ دیا کہ امیر المومنین، اپنا خریدا ہوا گھوڑا رکھ لیں یا اسی حالت میں واپس کریں، جیسا لیا تھا۔ اس فیصلے کو حضرت عمر نے سراہا، یہی حضرت شریح کوفہ کے منصب قضا پر ۶۰ سال برقرار رہے۔ عہدفاروقی کے اختتام تک امارت اور قضا کلی طور پر الگ الگ ہوگئے۔
حضرت ابو ہریرہ بحرین سے ۵ لاکھ درہم مال غنیمت لائے تو حضرت عمر سوچ میں پڑ گئے، اتنا مال گن کر بانٹیں یا تول کر دیں۔ اس کی حفاظت کا سوال بھی اٹھ کھڑا ہوا، اس سے قبل وہ آنے والا تمام مال فوراًبانٹ دیتے تھے اور بیت المال قریباًخالی رہتا۔فوری تقسیم سے یہ امکان رہتا تھا کہ جو لوگ موقع پرموجود نہ ہوں، فے سے محروم رہ جائیں اور حاضرین زیادہ حصہ لے جائیں۔ ولید بن ہشام اور کچھ اور لوگوں نے مشورہ دیا کہ عجمی ممالک کی طرح دیوان بنالیا جائے ۔فارسی میں دیوان اس رجسٹر کوکہتے ہیں جس میں فوجیوں کے نام، پتے اور ان کی مقررہ تنخواہیں درج ہوتی ہیں، پھر یہ اس دفتر (محکمہ ) کا نام ہو گیا،جہاں امور خزانہ انجام دیے جاتے ہیں۔حضرت عمر نے قریش کے علماے انساب حضرت عقیل بن ابو طالب،حضرت مخرمہ بن نوفل اور حضرت جبیر بن مطعم کو بلا کر ان لوگوں کی فہرستیں مرتب کرنے کا حکم دیا جنھیں وظائف دینا مقصود تھا۔ قریش کے سردار حکیم بن حزام کا خیال تھا کہ وظیفے پانے پر قریش اپنا آبائی پیشہ تجارت چھوڑ دیں گے اور ضرورت پڑنے پر تجارت ان کے لیے مشکل ہو جائے گی۔ یہ اندیشہ امیر المومنین کو بھی تھا، جو کچھ ہی عرصے بعددرست بھی ثابت ہوا جب اسلامی دارالخلافہ مدینہ سے دمشق، پھر بغدادمنتقل ہوا۔ تب وہ چاہتے تھے کہ لوگ جہاد کے لیے فارغ رہیں، اس لیے انھوں نے مفتوحہ اراضی بھی فوجیوں میں نہ بانٹی تاکہ وہ زراعت میں لگ کر جہاد سے غافل نہ ہو جائیں۔ اس مقصد کا لحاظ کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت عمر لوگوں کو کسب معاش پر انگیخت بھی کرتے تھے۔ انھوں نے ایک آدمی کو درویش بنے ہوئے دیکھا تو اسے درہ مار دیا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ جس کے پاس کچھ مال ہو، وہ اسے کام میں لائے اور جس کی اپنی زمین ہو، وہ اسے آباد کرے۔
سیدنا عمر فاروق نے تدوین دیوان اور تقسیم وظائف میں آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے قرابت داری کو محور بنایا۔ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ترین رشتہ داروں کے بھاری وظائف مقرر کیے اوراس ضمن میں جہاد و سبقت کا لحاظ نہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب۲ا ہزار درہم ،پھوپھی حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب ۶ ہزار اور ازواج مطہرات ۰ا ہزار درہم سالانہ پانے لگیں۔ سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا کاوظیفہ ان سے آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی خاص محبت کا لحاظ کرتے ہوئے ۲ا ہزار مقرر کیا گیا۔اس اصول کو ملحوظ رکھنے سے حضرت عمر کا اپنا قبیلہ بنوعدی دور جا پڑا۔اہل قبیلہ ان کے پاس شکایت لے کر پہنچے توانھیں کہا: تم چاہتے ہو کہ میں تمھاری خاطر اپنی نیکیوں سے ہاتھ دھو بیٹھوں۔ ہم نے دنیا و آخرت نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی وجہ سے کمائی ہے، اس لیے انھی کو اور ان کی قوم کو ترجیح دیں گے۔یہ قاعدہ ان کے اپنے قول کے خلاف تھا کہ بخدا، اگر عجمی ایسے عمدہ اعمال بجا لائے جو ہم نہ کر سکے تو وہ روز قیامت ہم سے زیادہ حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے قریب ہوں گے۔ عہد صدیقی میں بھی اس کی نظیر نہ ملتی تھی۔ ایک دفعہ حضرت ابو بکر سے جو سب کو ایک جتنا وظیفہ دیتے تھے، کہا گیا کہ آپ مال کی تقسیم میں اسلام کی طرف سبقت کرنے والوں کو ترجیح کیوں نہیں دیتے؟ انھوں نے جواب دیا: وہ اﷲ کی خاطر ایمان لائے، وہی روز قیامت ان کو پورااور کامل اجر دے گا،اس دنیا میں تو گزارہ چلتا ہے۔کسی معترض نے حضرت ابوبکر کی یہ بات حضرت عمر کے سامنے بیان کی تو انھوں نے جواب دیا: میں ان لوگوں کو جنھوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے جنگ کی ،ان لوگوں کے برابر کیسے کر دوں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ لڑے۔انھوں نے اصحاب بدر کا وظیفہ سب سے بڑھ کر۵ ہزار درہم سالانہ مقرر کیا،مہاجرین حبشہ اور جنگ احدسے صلح حدیبیہ تک کے غزوات میں شامل ہونے والوں کے لیے ۴ ہزار اوراہل بدر کے بیٹوں کے لیے ۲ ہزار درہم کی منظوری دی۔ حسنین رضی اﷲ عنہما اس رقم کے علاوہ مد قرابت سے حصہ بھی پاتے۔ہر اس صحابی کاوظیفہ جو فتح مکہ سے قبل ایمان لایا، ۳ہزار سالانہ تھا۔ قادسیہ اور شام کی جنگوں میں حصہ لینے والوں کو ۲ ہزاراور بعد کے معرکوں کے غازیوں کو ایک ہزار درہم ملتے۔ مدینہ میں بسنے والوں کو ۵۰۰ا، یمن ، شام اور عراق کے باسیوں کو ۳ سو سے ۲ ہزار درہم تک دیے جاتے۔ فتح مکہ کے بعد ایمان لانے والے سرداران قریش حضرت صفوان بن امیہ، حضرت حارث بن ہشام اور حضرت سہیل بن عمرو کو تھوڑی رقم ملی تو انھوں نے پس وپیش کی اور کہا: ہم سے زیادہ کون عزت دار ہے؟ حضرت عمر نے فرمایا: میں نے حسب و نسب نہیں، بلکہ ’سبقت الی الاسلام‘ کی بنا پر وظیفے مقرر کیے ہیں۔ عہد فاروقی میں ہر نومولود کو ایک سو درہم سالانہ دیے جاتے جب وہ بڑا ہوتاتو یہ رقم دگنی ہو جاتی۔ ایک بارانھوں نے آرزو کی کہ اگر مال غنیمت کی بہتات ہوئی تو میں ہر کسی کو ۴ ہزار درہم سالانہ دوں گا، ایک ہزار اس کے اپنے سفر خرچ کے طور پر، ایک ہزار اس کے اہل خانہ کے نان ونفقہ کے لیے، ایک ہزاراسلحہ خریدنے کے لیے اور ایک ہزارگھوڑا خچر رکھنے کے لیے۔ حضرت سالم بن عبداﷲ کہتے ہیں: کوئی شخص ایسا نہ رہا کہ حضرت عمر نے اس کا وظیفہ مقرر نہ کیا ہو۔ حضرت عمر فرماتے تھے: ہر شخص کا اس بیت المال میں حق ہے، اس تک پہنچے یا دبا لیا جائے، خلیفہ بھی عام مسلمان جتنا حصہ لے سکتا ہے۔بسا اوقات مدینہ اور اس کے نواحی قبائل میں وہ خودچل کر جاتے اور ہر فرد کا وظیفہ اس کے ہاتھ میں تھماتے۔ کہتے: میری زندگی رہی توکوہ صنعا میں بکریاں چرانے والے ہر گلہ بان کو اس کی جگہ اس کا حصہ ملا کرے گا۔دوسرے صوبوں اور قبیلوں کے دیوان ان کے گورنروں اور سرداروں کے پاس ہوتے اور وہاں وظائف کی تقسیم ان کے ذمہ ہوتی۔اگر ان کی طرف سے کوئی کوتاہی ہوتی تو فوراً باز پرس کی جاتی۔
مال کی تقسیم میں حضرت عمر رضی اﷲ عنہ پر اعتراضات بھی کیے گئے۔ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کے بیٹے حضرت عمر کا وظیفہ ۴ ہزار درہم تھا۔دوسری زوجہ مطہرہ زینب بنت جحش رضی اﷲ عنہاکے فرزند حضرت محمدنے اعتراض کیا کہ حضرت عمر کو مجھ سے زیادہ درہم دیے جاتے ہیں، حالانکہ ہجرت و جہاد میں ہمارے ماں باپ بھی شامل تھے؟ حضرت عمر نے جواب دیا: اس لیے کہ عمر تم سے زیادہ آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے قریب تھا۔ حضرت اسامہ بن زید کو ۴ ہزار درہم سالانہ دیے جانے پر ان کے اپنے بیٹے حضرت عبداﷲ نے اعتراض اٹھایا کہ میں حضرت اسامہ سے زیادہ غزوات میں حصہ لے چکا ہوں اور مجھے ۳ ہزار درہم ملتے ہیں۔ اس فرق کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ وہ تم سے زیادہ اور اس کا باپ تمھارے باپ سے بڑھ کر آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو محبوب تھا۔
طبری کہتے ہیں: تالیف دیوان اور تعین وظائف کا کام ۵اھ میں ہوا۔ حضرت ابن سعد کے خیال میں ۲۰ھ میں یہ کار خیر انجام پایا، تب تک ایران وعراق اور مصر و شام فتح ہو چکے تھے۔مال غنیمت کے علاوہ جزیہ و خراج بھی فراوانی سے آنے لگے تھے۔
کچھ مسلمانوں نے مال وظائف کو تجارت میں لگایااور خوب نفع کمایا،تاہم ایسے اہل ایمان بھی تھے جو اسے کھڑے کھڑے بانٹ دیتے۔ ام المومنین زینب بنت جحش کو عطیے کی رقم ملی تواس پر کپڑا ڈال دیا، خود اوٹ میں ہو کر حضرت برزہ بنت رافع سے کہا: خوب مٹھیاں بھر لو اور اپنے رشتہ داروں اور یتیموں میں تقسیم کر دو۔ جب کپڑ ا ہٹایا گیا تو کل ۲۵ درہم ان کے لیے بچے، تب انھوں نے دعا کی: اے اﷲ، اگلے سال مجھے حضرت عمر کا وظیفہ نہ ملنے پائے۔ ایسا ہی ہوا، اختتام سال سے پہلے ان کی وفات ہو چکی تھی۔
شعر کی طرف میلان رکھنے کے باوجود حضرت عمررضی اﷲ عنہ فحش اور دروغ پر مبنی شعر کہنے پر شاعروں کی گرفت کرتے تھے۔ حطےۂ گندے اشعار کہتا تھا،مدح و ذم پر آتا تو وہ باتیں کہتا جو اس کے ممدوح یا نشانۂ ہجو کو پتا بھی نہ ہوتیں۔ زبرقان بن بدر کی ہجو کرنے پراس کی شکایت امیرالمومنین کے پاس چلی گئی۔انھوں نے حضرت حسان بن ثابت سے مشورہ کیا۔ جب انھوں نے زبرقان کی شکایت کو درست قرار دیا تو حضرت عمر نے حطےۂ کو جیل میں ڈال دیا۔ اس نے دوبارہ ایسا نہ کرنے کا عہد کیا تو چھوٹا۔سیدنا عثمان رضی اﷲ عنہ کا عہد آیا تو حطےۂ نے پھر سے ہجو شروع کر دی۔ خلیفۂ دوم نے بنو عجلان کی ہجو کرنے والے شاعر کو بھی قیدکیا اور پٹوایا ۔
حضرت عمر کو قرآن کی تلاوت سے بے حد شغف تھا ۔کتنے ہی آنسو انھوں نے تلاوت کرتے اور سنتے بہا دیے۔ وہ غصہ میں ہوتے یا کسی سے انتہائی خفا ہوتے اور وہ قرآن مجیدکی تلاوت شروع کر دیتاتو ان کا تمام غصہ جاتا رہتا ۔
ایک دفعہ حضرت عمر بن خطاب نے حضرت سلمان فارسی سے پوچھا: میں بادشاہ ہوں یا خلیفہ؟ انھوں نے جواب دیا: اگر آپ نے مسلمانوں کے محصولات میں سے ایک درہم بھی نا حق استعمال کر لیاتو خلیفہ نہیں بادشاہ سمجھے جائیں گے۔ یہ سن کر ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔انھوں نے یہی سوال پھراور لوگوں کے سامنے رکھاتو جواب آیا کہ خلیفہ صرف حق سے لیتا ہے اورحق ہی سے دیتا ہے ،آپ کی مثال بھی یہی ہے۔بادشاہوں کی مثال اس کے برعکس ہے ،وہ ظلم و جور کر کے مال حاصل کرتے ہیں اور اسی طرح خرچ کر دیتے ہیں۔
سیدنا عمر فاروق کی کوشش ہوتی کہ اسلامی احکام پر عمل کرنے کے ساتھ ان کی روح کو بھی ملحوظ رکھا جائے، یعنی ان مقاصد کو نہ بھولا جائے جن کی خاطر وہ احکام آئے۔ وہ آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشادات واعمال کا مقصد سمجھ کر اسی کو پانے کی جستجو کرتے۔قریش کے بڑے بڑے سردار وں نے اسلام قبول کیا تو مال زکوٰۃ میں ان کا حصہ مقرر ہوا۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم انھیں عطیات بھی عطا فرماتے ۔ چنانچہ حضرت ابوسفیان، حضرت اقرع بن حابس، حضرت عباس بن مرداس، حضرت صفوان بن امیہ اور حضرت عیینہ بن حصن کوسو سو اونٹ ملتے۔ خلیفۂ اول کے دور میں یہی دستور جاری رہا، حضرت عیینہ اور حضرت اقرع کے مطالبے پر حضرت ابو بکر نے انھیں کچھ جائداد بھی لکھ کر دی۔ ان کی وفات کے بعد وہ ان کا پروانہ لے کر حضرت عمر کے پاس آئے۔انھوں نے اسے پھاڑ دیا اور کہا: اﷲ نے اسلام کو عزت دی اور تم سے بے نیاز کر دیا ہے۔ یہ خیال غلط ہے کہ انھوں نے قرآن مجید کی آیت منسوخ کردی ،حاشا وکلاّ، انھیں اس کا کوئی حق نہ تھا۔انھوں نے محض چند افراد کو عطیات دینے سے انکار کیا،وہ خودبھی مؤلفۃ القلوب (جن کی تالیف قلب کا حکم اﷲ نے دیاہے)کی مد میں سے لوگوں کو رقوم دیتے رہے ۔چنانچہ ہرمزان نے اسلام قبول کیا تو ایک رقم اس کے لیے مختص کی جو کچھ عرصہ تک دی جاتی رہی۔
زمانۂ جاہلیت میں عرب اپنی بیویوں کو طلاق دیتے اور عدت گزرنے سے پہلے ر جوع کر لیتے۔یہ سلسلہ چلتا رہتا تھا، ان کا مقصد ہوتا کہ عورت کو خود بسائیں نہ کسی اور مردسے شادی کے لیے آزاد ہونے دیں۔قرآن مجید نے مردوں کا یہ حق دو طلاقوں میں محدود کردیااور تیسری طلاق کے بعد رجوع کرنے کی آزادی ختم کر دی۔ عہدفاروقی میں عراق و شام کے جنگی قیدیوں میں بے شمار عورتیں بھی مدینہ آئیں توان سے عقد زواج استوار کرنے کے لیے لوگ اپنی بیویوں کو ایک ہی طہر میں تین تین طلاقیں دینے لگے۔ حضرت عمر نے کہا: لوگ اس کام کو ’جوسوچ بچار چاہتا ہے‘ جلدی جلدی کرنے لگے ہیں۔ ہم ان کے عائلی فیصلوں کو نافذ کیوں نہ کر دیں۔چنانچہ وہ اس طرح کی طلاقوں کو لاگو کرتے اور طلاق دینے والے کو درست طریقہ نہ اپنانے پر درے بھی مارتے۔ ابن تیمیہ اور اہل ظاہر کے سوا تمام فقہاے امت نے حضرت عمرکے اسی فتویٰ کو اپنا یا ہے۔ صحابہ اپنا فتویٰ محض ایک راے سمجھ کر دیتے، وہ دوسرے کو حق دیتے کہ اس سے اختلاف کرے۔ کسی شخص نے اپنا کوئی مسئلہ حضرت علی اورحضرت زید بن ثابت کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے اپنی راے دے دی حضرت عمر کو معلوم ہوا تو انھوں نے کہا: یہ قضیہ میرے پاس آتا تو یوں فیصلہ کرتا۔اس آدمی نے کہا: تو پھر رکاوٹ کیاہے ؟قوت نافذہ تو آپ ہی کے پاس ہے۔انھوں نے جواب دیا: اگر کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ہوتی تو میں ایسا ہی کرتا، لیکن میں نے تو اپنی راے بتائی ہے۔ میری راے علی و زید کے فیصلوں کو ختم نہیں کر سکتی۔
خلیفۂ دوم نے نکاح متعہ ممنوع قرار دیا۔انھوں نے ان باندیوں (امہات اولاد)کی فروخت بھی بند کر دی، جن سے اولاد ہوجاتی، حالانکہ عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و عہد صدیقی میں اس کی اجازت تھی۔حضرت عمرنے دادی کے بجاے نانی کے حق میں وراثت کا فیصلہ دیا، کسی انصاری نے اعتراض کیا تو اس سے رجوع کر لیا۔
حضرت ابو بکر نے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کو جمع کر کے فرمایا: تم رسو ل اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی احادیث روایت کرتے ہو اور ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہو۔یہ اختلاف تمھارے بعد بہت بڑھ جائے گا۔ لہٰذا کتاب اﷲ کو بیان کرنے پر اکتفا کرو۔حضرت عمر خلیفہ بنے تو اسی فیصلے کو شدت سے نافذ کیا،حتیٰ کہ حضرت عبداﷲ بن مسعود، حضرت ابو الدرداء اور حضرت ابو مسعود انصاری جیسے کبار صحابہ کو محض کثرت سے احادیث روایت کرنے کے جرم میں جیل میں ڈال دیا۔ حضرت ابو عمرو شیبانی کہتے ہیں: میں ایک سال حضرت ابن مسعود کی مجلس میں بیٹھتا رہا۔ وہ کم ہی ’وقال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم‘ کہتے۔ یہ الفاظ جب کبھی ان کی زبان پر آتے، ان پر کپکپی طاری ہو جاتی۔ حضرت ابو سلمہ نے ایک بار حضرت ابوہریرہ سے پوچھا: آپ حضرت عمر کے زمانے میں بھی اسی طرح احادیث بیان کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا: تب میں ایسا کرتا تو وہ مجھے درہ مارتے۔ خلیفۂ دوم نے حضرت قرظہ بن کعب کو عراق بھیجاتو احادیث بیان کرنے سے روک دیا۔
شیخین ابو بکر و عمرکے زمانے کے قاضی کوئی حدیث سننے پراس کی دلیل طلب کرتے اور حدیث ثابت ہونے پر اسی کے مطابق فیصلہ کرتے۔ ایک دفعہ حضرت عمر کو خیال آیا کہ تمام سنتیں درج کرلی جائیں تاکہ بعد میں کوئی ان میں کمی بیشی نہ کر سکے۔ایک ماہ غور وفکر کرنے کے بعدیہ کہہ کر اس ارادے کو ترک کر دیا کہ کہیں یہ قرآن مجید کے متن سے خلط ملط نہ ہو جائیں۔ اگر وہ یہ فیصلہ نہ کرتے تو حضرت عثمان کی شہادت کے بعدجنگ جمل کے زمانے میں حضرت علی کے خلاف اور ان کے حق میں وضع کی جانے والی بے شمارحدیثیں جنم نہ لیتیں، کیونکہ انھیں پرکھنے کے لیے حضرت عمر کی مرتب کردہ کتاب سامنے ہوتی۔ کئی احادیث فضائل اعمال کو ثابت کرنے کے لیے یا اپنے من مانے عقائدکو بنیاد فراہم کرنے کے لیے گھڑلی گئیں۔ یہ بات ضرور ہے کہ اگر خلیفۂ دوم کی تجویز پر ایسی کتاب لکھ لی گئی ہوتی تولوگ اسے قرآن مجید سے کم اہمیت نہ دیتے، یہی حضرت عمر نہ چاہتے تھے۔
مطالعۂ مزید: الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)،التاریخ الصغیر(امام بخاری)، الاصابہ فی تمییز الصحابہ( ابن حجر)، الفاروق عمر (محمد حسین ہیکل)،اردو دائرۂ معارف اسلامیہ(مقالہ:ڈاکٹر حمید اﷲ

سیرت و عہد
امام المجتہدین سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ نے کبھی نظری (hypothetical) اجتہاد نہ کیا۔ ایک روز عبداﷲ بن مسعود اور ابی بن کعب رضی اﷲ عنہما اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ نماز کے لیے کم ازکم کتنے کپڑوں کی ضرورت ہے؟ایک یا دو؟ عمر منبر پر چڑھے او رسخت تنبیہ کی، آج کے بعد اگر میں نے کسی کو اس طرح کا جدل کرتے سنا تو اسے خوب پیٹوں گا۔ وہ یہ بھی فرمایا کرتے ،آپس میں اختلاف نہ کرو !کیونکہ تمھارااختلاف بعد کی نسلوں میں بڑھ چڑھ کر سامنے آئے گا۔ ابتداے اسلام ہی سے وہ رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم سے فرضی سوالات کرنے والوں کو لعنت ملامت کرتے تھے۔ خود کوئی راے بنانے سے پہلے وہ اجل صحابہ سے مشورہ کرتے حتی ٰکہ غبار چھٹ جاتا اور بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی۔ شاہ ولی اﷲ دہلوی فرماتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ ان کے فتاویٰ مشرق و مغرب ہر سو مانے جاتے ہیں۔ ابن مسعود کا ارشاد ہے ،عمر جس راہ سے گزر جاتے ،ہم اسے سہل اور ہموار پاتے۔
انھوں نے اپنے فیصلوں میں اضطرار(مجبوری ونا چاری)کا اصول بھی مد نظر رکھا۔ایک عور ت زنا کے جرم میں ان کے پاس لائی گئی۔وہ پیاس سے تڑپتی ہوئی ایک چرواہے کے پاس سے گزری اور اس سے پانی مانگا۔چرواہے نے اس شرط پر پانی پلایا کہ وہ اپناآپ اس کے حوالے کر دے۔عمر نے حد نافذ کرنے سے پہلے صحابہ سے مشورہ کیا۔حضرت علی نے راے دی،اسے مجبور کر دیا گیا تھا اس لیے اسے حکم قرآنی ’فمن اضطرّ غیر باغٍ ولا عادٍ فلا اثم علیہ انّ اﷲ غفور رحیم‘ اور جوناچار ہوا،اس حال میں کہ نافرمانی نہیں کی اور حد سے باہر نہ نکلا ،اس پر کوئی گناہ نہیں۔ اﷲ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے (بقرہ :۷۳ا)کی روشنی میں چھوڑ دیا جائے۔ حاطب بن ابو بلتعہ کے غلاموں نے بنو مزینہ کے ایک شخص کا اونٹ چوری کر لیا۔وہ عمر کے پاس لائے گئے تو انھوں نے چوری کا اقرار کر لیا۔عمر نے کہا، مجھے معلوم ہے حاطب اپنے غلاموں سے خوب کام لیتا ہے اور انھیں بھوکا پیاسا رکھتا ہے۔پھر مزنی سے دریافت کیا،تمھاری اونٹنی کی کیا قیمت ہو گی؟اس نے کہا،۴۰۰ درہم۔انھوں نے حاطب کے بیٹے عبدالرحمان سے کہا،اسے ۸۰۰درہم دے دواور حد نافذ نہ کی۔اضطرارکا تعین کرنے میں دو رایں ہو سکتی ہیں۔ عین ممکن ہے، منصف جسے اضطرار سمجھ رہا ہے ،اضطرار ہی نہ ہو۔عام طورپر عورت کو ڈرا دھمکا کر ہی زنا پر راضی کیا جاتا ہے ،اس لیے یہ طے کرلینا کہ کس طرح کی تخویف اضطرار ہے،لازمی امر ہے۔
خلیفۂ ثانی فیصلہ کرتے وقت مدعی اور مدعا علیہ سے ایک جیسا سلوک کرتے ۔ایک یہودی نے حضرت علی کے خلاف دعویٰ کیا تو انھوں نے ان دونوں کو برابر بٹھا دیا۔ فیضلے کے بعد علی سے پوچھا،آپ کو برا تو نہیں لگا؟ انھوں نے کہا ،ہر گز نہیں ۔البتہ آپ نے مجھے میری کنیت ’ابو الحسن‘ سے پکارا تو مجھے اندیشہ ہوا ،کہیں جادۂ انصاف سے ہٹ نہ جائیں کیونکہ کنیت سے پکارنا تعظیم و التفات کی نشانی ہے۔
حضرت عمر کی فقاہت کا بڑا ثبوت ان مسائل میں ان کا اجتہاد ہے جہاں کتاب اﷲ کی نص صریح موجود نہ تھی۔ ایک قضیے میں ترکے کی تقسیم اس طرح ہوئی کہ ماں جایے بھائی کو حصہ مل گیا جب کہ سگے بھائی کے لیے مال ہی نہ بچا۔ بات عمر تک پہنچی تو انھوں نے کہا،یہ انصاف کے منافی ہے اور سگے بھائی کو حصہ دلایا۔ عہد فاروقی میں طاعون کی وبا پھیلی توبے شمار مسلمانوں کی جانیں چلی گئیں۔تب میراث کے مسائل پیداہوئے،ان میں سے کچھ بے حد پیچیدہ تھے۔ عمر خود شام پہنچے ،انھیں یہ قضایا نپٹانے میں کئی ہفتے لگ گئے تاہم تمام فریق ان کے منصفانہ فیصلوں سے مطمئن تھے۔
شام و عراق سے جو غنیمتیں حاصل ہوتی رہیں ،ان کا خمس (۵/ا)امیر المومنین کوبھیجا جاتا جب کہ۵/ ۴حصے فاتح فوجیوں میں بانٹ دیے جاتے۔۸ الاکھ کلو میٹر (ساڑھے تین کروڑ جریب) پر مشتمل عراق کا سرسبز میدانی علاقہ (جسے سواد عراق کہا جاتا ہے ) مسلمانوں کے قبضے میں آیا تو اسے بھی اسی طرح تقسیم کرنے کی تجویز آئی۔عمر رضی اﷲ عنہ نے مخالفت کی ۔ ان کا کہنا تھا،اگر یہ زمین فاتحین میں بانٹ دی گئی تو مسلمانوں کی اگلی نسلوں کے لیے کیا بچے گا؟ حضرت عبدالرحمان بن عوف نے کہا،اراضی بھی مال فے ہے اور اس پر غانمین کا حق ہے۔جہاد میں حصہ لینے والے فوجی بھی سمجھتے تھے ،عمر ان کا حق مار رہے ہیں۔ وہ تب بھی اپنی بات پر مصر رہے تو مشاورت کا فیصلہ ہوا۔ عبدالرحمانبن عوف کی راے بیان ہو چکی ،عثمان،طلحہ اور علی رضی اﷲ عنہم نے عمر کی راے کو ترجیح دی۔ اوس کے پانچ اور خزرج کے پانچ اہل راے سے مشورہ کیا گیا ۔ حضرت عمر سمجھتے تھے ، اراضی تقسیم کرنے سے بہت سے لوگ اس سے محروم ہو جائیں گے، حکومت کی ضرورتیں بقیہ ۵/ا علاقے سے پوری نہ ہو سکیں گی ، باشندگان کے چلے جانے اور فوج کے منتشر ہو جانے کی وجہ سے اسلامی مملکت کی سرحدات کی حفاظت دشوارہو جائے گی اور زمین کے قابضین کو دوسری جگہ کھپانا نا ممکن ہو جائے گا ۔اس لیے انھوں نے اس زمین پر خراج لگانے کی تجویز پیش کی۔ ان کی راے قرآن و سنت کی کسی صریح نص پر مبنی نہ تھی،اس کی بجائے مسلمانوں کی منفعت عامہ ان کے پیش نظر تھی۔ مجلس شوریٰ کی اکثریت نے عمر کے حق میں فیصلہ دے دیاتو عثمان بن حُنیف انصاری کو سواد عراق کا والی مقرر کیا گیا۔ان کے حسن انتظام سے محض کوفہ کا سالانہ خراج ۰ا کروڑ درہم سے زیادہ وصول ہوا۔ شام کی فتح کے موقع پر بھی یہی سوال اٹھا ،تب زبیر بن عوام اور بلال بن رباح نے مفتوحہ اراضی تقسیم کرنے پر زور دیا۔ سیدنا عمر نے اسی استدلال کی بنا پر اسے قابضین کے ہاتھ رہنے دیا۔بے آباد زمین اسلامی حکزمت کی ملکیت ٹھہری۔
عمر رضی اﷲ عنہ کے اجتہادات میں دانش اور پختگی ہونے کے ساتھ غریب رعایا سے ملاطفت جھلکتی تھی ۔وہ اہل ایمان کی نفسانی کم زوریاں دور کرکے ان کے اندرونی خیر کی نشو نما کرناچاہتے تھے۔ ایک رات وہ مدینہ کی گشت پر تھے کہ کسی عورت کو یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا۔
الا سبیل الی خمر فاشربہا
ام ہل سبیل الی نصر بن حجاج
( کوئی طریقہ ہے کہ شراب مل جائے اور میں پی لوں؟یا نصر بن حجاج کو پانے کی کوئی راہ بھی ہے؟)
صبح ہوئی تو عمرنے نصر کاپتا چلا کر اسے اپنے پاس بلا لیا۔وہ خوب صورت بالوں والا ایک خوب رو نوجوان تھا۔ انھوں نے اس کے بال کٹوادیے ،اس کا چہرہ نمایاں ہوا تو وہ اور خوب صورت دکھائی دینے لگا۔ اسے عمامہ باندھا گیا تو اس کا حسن مزید نکھر گیا۔عمرنے کہا ، اب یہ ہمارے ساتھ نہیں رہے گا۔ اس کی ضروریات کا حساب لگا کر اسے کچھ رقم فراہم کی اور بصرہ رخصت کر دیا۔کیا خوب صورت ہونا اس کا جرم تھا کہ اسے جلا وطن کر دیا جاتا؟ لیکن عمر مسلمانوں کے خلیفہ ہونے کے ساتھ ان کے مربی بھی تھے ۔ مدینہ کی عورتوں کو فتنے سے بچانے کے لیے انھوں نے یہ قدم اٹھایا۔ کسی اورشب کاذکر ہے،انھوں نے کچھ خواتین کو باتیں کرتے سنا۔ ایک نے پوچھا،مدینہ میں سب سے زیادہ خوب صورت کون ہے؟دوسری نے جواب دیا،ابوذئب۔عمر نے اس کی بھی طلبی کر لی ، وہ واقعی خوب صورت تھا۔ عمر نے کہا ،اﷲ کی قسم !تم سچ مچ ذئب (عورتوں کا شکارکرنے والا بھیڑیا )ہو۔بات ابو ذئب کی سمجھ میں آ گئی ۔اس نے خود ہی کہا،مجھے بھی بصرہ بھیج دیا جائے۔
ایک رات ایک عورت اپنی بیٹی کو دودھ میں پانی ملانے کو کہہ رہی تھی۔بیٹی نے کہا،اماں !عمر نے اس سے منع کیا ہے۔ ماں نے کہا ،اس ظلمت شب میں عمر کہاں سے آئیں گے؟بیٹی نے کہا،اﷲ تودیکھ رہا ہے۔صبح سویرے عمر نے اپنے بیٹوں کو بلاکر کہا ،تم میں سے کوئی اس لڑکی سے نکاح کرسکتا ہے؟عاصم مان گئے، اسی سنجوگ سے ام عاصم پیدا ہوئیں جوپانچویں خلیفۂ راشد عمربن عبدالعزیز کی ماں ہوئیں۔طلحہ بن عبیداﷲ نے عمر کو رات کے وقت ایک گھر میں جاتے دیکھا ۔وہ کھوج لگانے کے لیے اندر گئے تو ایک معذور بڑھیا پائی ۔اس نے بتایا،یہ شخص میری ضرورتیں پوری کرنے آتا ہے۔طلحہ خود سے یوں ہم کلام ہوئے، تیرا ناس ہو !تو عمر کی لغزشیں ڈھونڈرہا ہے۔
عمرکا دروازہ تھا نہ دربان ۔نماز کے بعد کچھ دیر کے لیے مسجد میں بیٹھ جاتے تاکہ کوئی ضرورت مند ان سے مل سکے۔ ایک دوپہر کونیند محسوس ہوئی تو درخت کے نیچے لیٹ کر سو گئے۔اتفاق سے قیصر روم کا سفیر آیا ،انھیں دار الامارہ میں نہ پایاتو پوچھتا پچھاتا وہاں پہنچ گیا ۔انھیں کسی محافظ کے بغیر یوں تنہا سوئے ہوئے دیکھ کر بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا،میرا آقا ظلم کرتا ہے ،اس لیے پہرے کے بغیر نہیں رہ سکتا۔آپ عدل و انصاف کرتے ہیں ،اس لیے چین کی نیند سو رہے ہیں۔ سفر میں عمر رضی اﷲ عنہ کے لیے کوئی خیمہ نصب نہ کیا جاتا ،کسی درخت پر چادر ڈال کر سایہ کر لیتے، اونٹ کے پالان کا بستر بناتے اور اپنے سامان کے بیگ کو تکیے کے طور پر استعمال کر لیتے۔ سفر حج میں ان کے ۱۶ دینار خرچ ہو گئے تو بیٹے سے کہا،ہم نے بہت اسراف کر لیا۔
امیر المومنین کو ہر وقت اپنی رعایاکی فکر رہتی تھی۔ یہ ان میں حد درجہ پائی جانے والی خشیت الٰہی کا پرتو تھی۔فرماتے تھے، اگر کنار فرات کوئی اونٹ (یا کتا) بھی بھوک سے مر گیا تو مجھے ڈر ہے ،آل عمر سے اس کا حساب لیا جائے گا۔ اپنے گورنروں کی کارکردگی یہ سوالات پوچھ کر جانچتے، کیا وہ بیماروں کی تیمار داری کرتا ہے؟غلاموں کی خبرگیری کرتا ہے؟ کم زور سے حسن سلوک کرتا ہے؟کیا دروازے پربیٹھتا ہے ؟(یعنی دربان تو نہیں مقرر کر رکھا؟)ان میں سے ایک سوال کا جواب بھی ناں میں ہوتا تو وہ گورنر کومعزول کر دیتے۔خلیف�ۂ دوم غیر مسلموں سے شفقت سے پیش آتے۔ مدینہ میں ایک یہودی کو بھیک مانگتے دیکھا توسورۂ توبہ کی آیت ’انما الصدقات للفقراء والمساکین…‘ (۶۰) بلاشبہ صدقات (زکوٰۃ و خیرات) فقیروں، مسکینوں۔ ۔۔ کا حق ہیں ۔‘‘ پڑھی اورکہا ،یہ تو مسکین ہے چنانچہ اس کا روزینہ مقرر کر دیا۔سفر شام کے د وران میں بھی انھوں نے مال زکوٰۃ میں سے کئی غریب نصرانیوں کے وظیفے منظور کیے۔ شام کے ایک یہودی کی زمین ہتھیا کر مسجد بنا لی گئی تھی ۔ امیر المومنین نے مسجد گرا کر زمین اس کے مالک کو واپس دلائی۔ لبنان کے پروفیسر شکری قرداحی کے مطابق ۹۳۳اء تک اس یہودی کے گھر کا لوگوں کوعلم تھا۔ حضرت عمر نے غیرمسلم اہل جزیہ کے تین درجے مقرر کیے ،مال دار ، متوسط اور غریب ۔ سال میں ایک بار لیے جانے والے جزیہ کی مقدار ایک خاندان کے ایک دن کے اخراجات کے مساوی تھی۔عورتیں ،بچے ، بوڑھے، معذور، راہب اور ایک سال تک فوجی خدمت انجام دینے والے غیر مسلم اس سے مستثنیٰ تھے۔عہد رسالت ؐ سے غیر مسلموں سے دہری چنگی (۵222) وصول کی جاتی تھی ۔ سیدنا عمرایک بار جمعے کا خطبہ دے رہے تھے کہ ایک تغلبی نصرانی نے انھیں روک کر چنگی والوں کی کوئی شکایت کی۔انھوں نے ’’نہیں ! ایسا نہیں ہو سکتا‘‘کہہ کر اپنا خطاب جاری رکھا۔ نصرانی کو ان کی بات سمجھ نہ آئی، وہ جز بز ہو کر سرحد پر واپس پہنچا تو عمر کا حکم پہلے سے پہنچ چکا تھا۔
خلیفۂ ثانی نے سکہ سازی سرکاری کنٹرول میں لے لی تھی۔پرانے سکہ ساز ملازمت پر برقرار رکھے گئے ۔حکومت خود بھی سکے ڈھالتی ،لوگ بھی اپنا سونا چاندی لا کر اجرت پر ڈھلائی کرا لیتے۔مغرب کے کئی عجائب گھروں میں اس وقت کے سکے موجود ہیں۔
حضرت عمر رضی اﷲ عنہ قرآن کی تعلیم عام کرنے کے لیے طلبہ کو وظائف دیتے۔کوفہ کی جامع مسجد میں عبداﷲبن مسعود تعلیم دیتے۔انھیں خاص طور پر ہدایت تھی کہ قرآن بنو ہذیل کی طرز کی بجائے قریش کے فصیح لہجے میں پڑھیں۔ مسجد نبوی ؐمیں عقیل بن ابو طالب انساب اور ایام عرب کی تدریس کرتے۔ خلیفۂ دوم نے ابو الاسود دؤلی کو صرف و نحو مدون کرنے کا حکم دیا۔ مہاجرین و انصار کی موجودگی میں ہر عامل سے عہد لیتے ،وہ ترکی گھوڑے پر نہ بیٹھے گا ،چھنا ہوا آٹا نہیں کھائے گا ،باریک کپڑے نہ پہنے گااورلوگوں کی حاجتوں کے آگے دربان نہیں بٹھائے گا۔ وہ ہر فوجی دستے کے ساتھ ترجمان اور طبیب بھیجتے۔
انھوں نے گھوڑوں کی افزائش نسل کی خصوصی ہدایت کی،جانوروں کو خصی کرنے سے منع کیا۔ عمرانھیں منہ پر مارنے اور ان پرحد سے زیادہ بوجھ لادنے سے روکتے۔فوجیوں کوبھیجے جانے والے گھوڑے نقیع کی چراگاہ میں رکھے جاتے اورصدقے کے اونٹوں کے لیے ربذہ اورشرف کے سبزہ زار مخصوص تھے۔
ایک دن سیدنا عمر نہا دھو کرجمعہ کی نماز کو جا رہے تھے کہ ایک گھر کی بالائی منزل کے پرنالے سے گندا پانی ان پر گرا۔ مضرت عامہ کا مداوا کرنے کے لیے انھوں نے یہ پرنالہ اکھڑوا دیا۔یہ گھر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس کا تھا۔جب انھیں معلوم ہوا کہ آپؐ نے اپنے دست مبارک سے اسے نصب فرمایا تھا تو حضرت عباس کو اپنے کندھے پر چڑھا کر اسے دوبارہ ا س کی جگہ لگوایا۔
حضرت عمر نے عورتوں کا مہرکم از کم رکھنے کا مشورہ دیا۔انھوں نے ان کو قبطی سوت سے بنے ہوئے کپڑے (قبطیہ) پہنانے سے منع کیا کیونکہ یہ ململ کی طرح باریک ہوتا تھا۔جسم اگراندر سے نہ جھلکتا تو بھی اس کی ہےئت نمایاں ہو کررہتی۔
خلیفۂ ثانی نے قرضۂ حسنہ دینے کے لیے بیت المال میں ایک الگ شعبہ قائم کیا۔ اس بے سود قرضے سے کوئی کاروبار کرتا تو اس سے نصف منافع لیا جاتا۔اگر خسارہ ہوتا تو وہ صرف اصل زر کا ضامن ہوتا۔اس مد میں خود انھوں نے کئی بار قرض لیا ،جب لوٹانے میں دیر ہوتی تو افسر بیت المال تقاضا کرتا اور انھیں فوراً ادائی کرنا پڑتی ۔وقت وفات سرکاری خزانے کو ان سے ۸۰ ہزار سے زائددرہم مطلوب تھے ۔انھوں نے اپنی اولاد کو وصیت کی ،یہ رقم فوری طور پر جمع کرائی جائے۔ معاقل (دیت و تاوان)کا نظام عہد نبویؐ(ا ھ )سے رائج تھا،عمر نے اس کو وسعت دی۔ کسی شخص سے اتفاقاً قتل ہو جاتا اور اسے خون بہا دینا ہوتا یا کوئی مسلمان دشمن کے ہاتھوں قید ہو جاتا تو اسے فدیہ دے کر چھڑانا ہوتا تو متعلقہ شخص کے غریب ہونے کی صورت میں اس کا قبیلہ یہ خطیر رقم (۰۰ا اونٹ) ادا کرتا۔ عہد فاروقی میں متعلقہ چھاؤنی یا دیوان کے افراد اپنے رفیق کی مدد کو آتے۔
عمر کے داماد نے ان سے سوال کیاتو اسے جھڑک دیا۔ پوچھا گیا،آپ نے اسے رد کیوں کیا؟فرمایا ،اس نے مجھ سے اﷲ کا مال مانگا تھا جس میں میں خیانت نہیں کر سکتا۔ میرا مال مانگا ہوتا تو اور بات ہوتی ۔پھر ۱۰ ہزار درہم اسے بھجوا دیے۔ حضرت عثمان فرماتے تھے ،عمر اﷲ کی رضا کے لیے اپنے اعزہ و اقارب کو محروم رکھتے تھے اور میں رضائے الٰہی کے حصول کے لیے انھیں عطیات دیتا ہوں۔
عمر میں غیرت ایمانی حد درجہ پر تھی۔بشر نامی ایک منافق کا کسی یہودی سے جھگڑا ہوا توان دونوں کا مقدمہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا۔آپؐ نے یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔منافق راضی نہ ہوا ،اس نے کہا ،چلو! عمر بن خطاب کو حکم بناتے ہیں۔یہودی نے ان کو بتایا،ہمارا فیصلہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کر دیا ہے لیکن یہ اس سے مطمئن نہیں۔عمر نے بشر سے پوچھا ،کیا یہی بات ہے؟اس نے اثبات میں جواب دیاتو انھوں نے کہا ،تم یہیں کھڑے رہو، میں ابھی آتا ہوں۔ اندر سے تلوار سونت کر نکلے اور منافق کی گردن اڑا کر کہا،جو اﷲ اور رسولؐ کے فیصلے سے راضی نہ ہو ،میں اس کا یہی فیصلہ کر سکتا ہوں۔ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے ان کا قلبی تعلق اوران کی محبت اس بات سے عیاں ہوتی ہے کہ فرمایا،میں نے کلثوم بنت علی مرتضیٰ سے نکاح کیا ہے حالانکہ مجھے عورتوں کی حاجت نہیں۔اس لیے کہ میرا آپؐسے نسبی تعلق قائم ہو جائے ۔ہو سکتا ہے ،روز قیامت یہ آپؐ کے ارشاد کے مطابق میرے کام آ جائے۔
۱۳ھ میں حضرت عمر خلیفہ بنے،اس سال انھوں نے حضرت عبدالرحمان بن عوف کو اپنی جگہ امیر حج بنا کر بھیجا۔ پھر خلافت کے مسلسل ۱۰ سال وہ لوگوں کے ساتھ حج ادا کرتے رہے۔۲۳ ھ میں اپنے آخری حج میں وہ امہات المومنین کو ساتھ لے کر گئے۔انھوں نے اپنے عہد خلافت میں ۳ عمرے کیے،رجب ۱۷ھ، رجب۲۱ھاور رجب ۲۲ھ میں۔ مقام ابراہیم ؑ بیت اﷲ سے متصل تھا ،انھوں نے اسے ذرا پیچھے کر دیا جہاں یہ آج کل ہے۔ ۲۳ھ کے حج میں وہ منیٰ سے واپس ہوئے تو ریگزار (بطحاِ مکہ) میں ایک جگہ اونٹ کو بٹھایا،ریت کا ٹیلا سا بنا کر اس پر لیٹ گئے اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کی،اے اﷲ!میری عمر زیادہ ہو گئی ہے، قویٰ کمزور پڑ گئے ہیں(یا ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں) اور میری رعایابڑھ گئی ہے ،اس سے پیشتر کہ میں کوئی کمی و کوتاہی کروں مجھے اپنے پاس بلا لے۔ انھوں نے یہ دعا بھی مانگی، اﷲ! میں تیری راہ میں شہید ہونا اور تیرے رسول ؐکے شہر میں دم دینا چاہتا ہوں۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ کا عیسائی غلام ابو لؤل�ؤ ہ فیروز فارسی عصبیت رکھتا تھا ،مدینہ میں ایرانی غلاموں کو دیکھ کراسے دکھ ہوتا۔ایک بار اس نے حضرت عمر کو راستے میں روک لیا اورکہا،مغیرہ سے سفارش کریں کہ میرالگان کم کر دیں۔ انھوں نے پوچھا،لگان ہے کتنا؟اس نے بتایا،۲(یا ۴) درہم یومیہ ۔پھر سوال کیا ،کام کیا کرتے ہو؟ وہ ترکھان، لوہار اور نقش گر تھا اورچکیاں بھی بناتا تھا، آخری کام ہی اس نے بتایااور باقیوں کا ذکرنہ کیا۔عمر نے پوچھا ،کتنے کی چکی بنا لیتے ہو؟اور کتنے کی بیچتے ہو؟ اس کی تفصیل سن کر انھوں نے کہا ،تب تو خراج زیادہ نہیں۔وہ رخصت ہونے لگاتو انھوں نے کہا،ہمیں ہوا سے چلنے والی چکی نہ بنا دو گے؟ اس نے جواب دیا،اگر میں زندہ رہا تو آپ کے لیے ایسی چکی بناؤں گا کہ عالم شرق و غرب میں اس کی مثال دی جایا کرے گی۔عمر نے کہا، اس نے مجھے دھمکی دی ہے۔یہاں سے ابولؤلؤہ ہرمزان اور جفینہ کے پاس پہنچا اور ان سے ایک خنجر مستعار لیا۔ عبدالرحمان بن ابو بکر کا وہاں سے گزر ہوا تو وہ گھبرایا اور خنجر اس کے ہاتھ سے گر گیا تاہم انھیں اس کے عزائم کا اندازہ نہ ہو سکا۔اگلے روز کعب احبار امیر المومنین کے پاس آئے اور کہا ،۳دنوں میں آپ وفات پا جائیں گے۔ انھوں نے پوچھا ،تمھیں کیسے پتا چلا؟کعب نے بتایا، میں نے تورات میں پڑھا ہے ۔عمر حیرت سے بولے ،اﷲ رے!تو نے عمر بن خطاب کا ذکر تورات میں پا لیا؟ انھوں نے کہا ،نام تو نہیں لیکن حلیہ اور صفات آپ ہی کی ہیں۔عمر خاموش ہو گئے اور کوئی رد عمل ظاہر نہ کیا۔جب کعب نے کہا، آپ دعا کریں ،ہو سکتا ہے ، اﷲ آپ کو اور مہلت دے دے تو انھوں نے اﷲ سے التجاکی،مجھے اس حال میں اٹھا لے کہ مجھ میں کوئی وہن ہو نہ نشانۂ ملامت بنوں ۔شہادت سے پہلے انھوں نے خواب دیکھا، ایک سرخ مرغ نے ان کو ٹھونگے مارے ہیں۔انھوں نے ا س کی یہی تعبیر سمجھی کہ کوئی عجمی ان کو قتل کرے گا۔
بدھ ۲۶ ذی الحجہ ۲۳ھ کی فجر ہوئی،سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ نماز پڑھانے مسجد نبویؐ میں آئے۔ابھی صفیں سیدھی نہ ہوئی تھیں کہ ابو لؤلؤہ نے کٹار سے اچانک ان پر حملہ کر دیا۔ اس نے چھ وار کیے،ایک زیر ناف لگا جو مہلک ثابت ہوا ۔ عمر چلائے ،اس کتے کوپکڑو ! اس نے مجھے قتل کر دیا ہے اورقرآن کی آیت’’ وکان امر اﷲ قدراً مقدوراً،اﷲ کا حکم وہ تقدیر ہے جو پوری ہوکر رہتی ہے ‘‘(احزاب ۳۸)پڑھتے ہوئے گر پڑے ۔لوگ اس کی طرف لپکے،اس نے خنجر گھمایا اور ۱۲ مزید افراد کو شدید زحمی کر دیا جن میں سے ۶(یا ۹)اسی موقع پر شہید ہو گئے،باقیوں نے بعد میں جان دی۔عبد اﷲ بن عوف نے اس پر اپنا چغہ ڈال کر اسے قابو کیا۔ گرفت میں آنے سے پہلے وہ اپنے خنجر پر گرا اور اپنی جان بھی لے لی۔ عمر کومعلوم ہوا کہ ان کا قاتل ابو بؤلؤہ ہے تو فرمایا،اﷲ کاشکر ہے ، میں ایسے شخص کے ہاتھوں مارا جا رہا ہوں جس نے اﷲ کے حضور ایک سجدہ بھی نہیں کیا۔وہ کلمۂ لا الہپڑھ کرمیرے خلاف کوئی حجت نہیں پیش کر سکتا۔ اسی ہنگامے میں دن چڑھنے کو تھا کہ انھوں نے عبدالرحمان بن عوف کو بلا کر نماز پڑھانے کو کہا۔عبدالرحمان نے سورۂ عصر اور سورۂ کوثر (یا نصر و عصر ) کی تلاوت کرکے مختصرنماز پڑھائی۔ عمربے ہوش ہو گئے تو انھیں اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔ہوش میں آتے ہی دوبارہ تسلی کی کہ اہل ایمان نماز پڑھ چکے ہیں ؟فرمایا،اس شخص کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں جس نے نماز ضائع کی پھر خود بھی اس حال میں وقت پرنماز ادا کی کہ زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔انھوں نے زندگی کی باقی دو نمازیں بھی انھی کپڑوں میں ادا کیں۔ سب سے پہلے حضرت عبداﷲ بن عباسآئے تو ان سے کہا، منادی کرا کے لوگوں سے پوچھو! کیا یہ قاتلانہ حملہ ان کے مشورے سے ہواہے؟ سب نے اس عمل شنیع سے اﷲ کی پناہ مانگی اور کہا،ہم تو دعا گو ہیں اﷲ ہماری عمر بھی آپ کو لگا دے ۔ اب بنو حارث کا طبیب آیا،اس نے عمر سے مشور ہ کر کے انھیں نبیذ (شربت کھجور) پلائی تووہ زخموں سے باہر نکل آئی، دوسرا طبیب ابو معاویہ سے تھا ،اس نے دودھ دیا تو وہ بھی خارج ہو گیا۔ انھیں بتا دیا گیا، جانبری کی امید نہیں۔رات ہونا بھی مشکل ہے ،جو ضروری کام نمٹانا چاہتے ہیں نمٹا لیں۔انھوں نے لوگوں کواپنے پاس رونے پیٹنے سے منع کر دیا۔میری ماں ہلاک ہو ،اگر اﷲ میری بخشش نہ کرے ۔
خلیفۂ ثانی نے اپنے قرض کے بارے میں پوچھا۔انھیں بتایا گیا،ان کے ذمہ ۸۶ ہزار درہم واجب الادا ہیں تو اپنے بیٹوں کو اپنا مال بیچ کر فوراً قرض اتارنے کی وصیت کی۔ کہا،اگر آل عمر سے ادا نہ ہواتو بنو عدی بن کعب سے لینا، اگر ان سے بھی پورا نہ ہواتو قریش سے وصول کرنا،ان کے بعد کسی سے نہ مانگنا۔ عبداﷲ بن عمر نے ایک ہفتے کے اندر اندر یہ قرضہ چکا دیا۔ایک نصرانی(یا مجوسی)غلام کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرنے کی وجہ سے انھیں اندیشہ ہوا کہ غیرمسلم شہری انتقام کا نشا نہ نہ بن جائیں اس لیے غیر مسلموں سے حسن سلوک کی خاص طور پرتاکید کی۔ابتدائے خلافت میں حضرت عمر نے مرتدین کے جنگی قیدی ان کے کنبوں میں واپس بھیج دیے تھے ۔وقت شہادت بھی وہ بے بس غلاموں کو نہ بھولے ۔انھوں نے اپنے سارے غلام آزادکرنے کا اعلان کرنے کے ساتھ باقی تمام عرب قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم بھی دیا۔ان کا بدل بیت المال سے ادا کیا گیا۔جا نشینی سب سے زیادہ اہمیت رکھتی تھی۔مشاورت کے لیے انھوں نے حضرت عبدالرحمان بن عوف کو بلایاتووہ سمجھے، خلافت مجھے سونپنا چاہتے ہیں۔ کہا،واﷲ !میں اس کام میں نہ پڑوں گا۔ عمرکئی بار کہہ چکے تھے ، اگر ابو عبیدہبن جراح یا ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالمزندہ ہوتے تو انھیں بے دھڑک خلیفہ مقرر کر دیتا۔ حضرت علی کو ترجیح دینے کے باوجودنام زد نہ کیا کیونکہ وہ ان کے سسر تھے۔آخر کار فرمایا، ان ۶ آدمیوں کو بلاؤ جن سے رسول اﷲ صلی علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے راضی تھے۔یہ اصحاب عشرۂ مبشرہ میں سے ۶ حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زبیر بن عوام ، حضرت طلحہ بن عبید اﷲ،حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبدالرحمان بن عوف تھے ۔ عمر نے ان میں سے ساتویں زندہ صحابی سعید بن زید کو اس وجہ سے خارج کر دیا کہ وہ ان کے قبیلہ بنو عدی سے تعلق رکھتے تھے۔حضرت سعد بن ابی وقاص کا نام لیتے ہوئے بطور خاص فرمایا، میں نے انھیں ان کے کسی قصور یا خیانت کی وجہ سے معزول نہ کیا تھا۔ طلحہ اس وقت مدینہ میں موجود نہ تھے۔عمر نے اپنے بیٹے عبد اﷲ کو اس شرط پر شامل کیا کہ وہ منتخب نہ کیے جائیں۔ان کو ہدایت کی، ووٹ برابرہونے کی صورت میں اپنا فیصلہ کن ووٹ اس بزرگ کو دیں جسے عبدالرحمان منتخب کرنا چاہتے ہوں۔خلیفہ کا انتخاب ہونے تک صہیب بن سنان کو امام مقرر کیا۔انھوں نے ابو طلحہ انصاری کواپنا نائب بنا کر حکم دیا،کچھ ساتھیوں کے ساتھ اس گھر کے دروازے پر پہرہ دیناجہاں خلیفہ کا انتخاب ہو رہا ہو۔کسی کو اندر نہ جانے دینا اور مجلس انتخاب کو ۳دن سے زیادہ مہلت نہ دینا۔ اگر کسی نے مسلمانوں کی مرضی کے بغیر ان پر مسلط ہونے کی کوشش کی تو اس کی گردن اڑا دینا۔
عمر نے اپنے جا نشین کو وصیت کی ، مہاجرین کے حقوق کا خیال رکھے، انصار سے اچھا برتاؤ کرے، اپنے رشتہ داروں کو لوگوں کی گردنوں پر سوار نہ کر دے۔ شہریوں سے زیادہ ٹیکس نہ لے،بدوؤں سے حسن سلوک کرے،ان کی زکوٰۃ انھی کے فقرا میں بانٹ دے۔ذمیوں سے کیے ہوئے معاہدے پورا کرے،ان کی حفاظت کرے اور ان پر زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔انھوں نے خواہش کی ،ان کے مقررکردہ گورنر ایک سال تک برقرار رکھے جائیں۔بعد ازاں حضرت عثمان نے اس ہدایت پر عمل کیا۔حضرت عمر نے دادااور کلالہ کی وراثت کے بارے میں اپنی راے شانے کی ایک ہڈی (scapula) پر تحریر کر رکھی تھی۔شاید انھیں اس پر پورا اطمینان نہ تھا اس لیے اپنے بیٹے سے کہہ کر وہ ہڈی منگوائی اور اپنے ہاتھوں سے اپنی تحریر مٹائی۔خلیف�ۂدوم نے عبداﷲ کوام المومنین سیدہ عائشہ کے پاس بھیجا اور فرمایا،ان سے کہنا،عمر سلام کہتا ہے،امیر المومنین نہ بولنا۔پھر ان سے اجازت مانگنا، انھیں ان کے دونوں ساتھیوں محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے ساتھ دفن کرنے کی اجازت دے دی جائے۔حضرت عائشہ اپنے حجرے میں بیٹھی رو رہی تھیں۔ عمر کی درخواست سن کر فرمایا، وہ جگہ میں نے اپنے لیے رکھی تھی لیکن اب عمر کو اپنے پر ترجیح دوں گی۔عمر نے عبداﷲ سے کہا، میری میت جب حجرہْ عائشہ پہنچے تو دوبارہ اذن مانگنا ۔اگر انھوں نے اس وقت منع کر دیا توعام مسلمانوں کے قبرستان میں دفنا دینا۔ انھوں نے میت کو مشک لگانے سے منع کیا۔
آخری لمحات میں حضرت عمر پر خشیت الٰہی پوری طرح غالب آ گئی ۔انھوں نے بار بار کہا،اگر پوری زمین میری ملک ہوتی تو اسے آنے والی ہولناکی کے بدلے فدا کردیتا۔پھر بستر سے ہاتھ بڑھا کر ایک تنکا اٹھایااور کہا،کاش میں یہ تنکا ہی ہوتا اور میری ماں مجھے نہ جنتی۔ عبداﷲ بن عباس نے تسلی دی ،آپ نے کتاب اﷲ کے مطابق فیصلے کیے اورانصاف سے تقسیم کی۔عمر نے فرمایا، اس بات کی شہادت دو۔حاضرین میں سے کسی نے کہا،آپ کو دوزخ کی آگ نہ چھوئے گی۔ انھوں نے اپنے بیٹے عبداﷲ سے کہا،میرا رخسار زمین پر رکھ دو۔انھوں نے پس وپیش کی توانھیں ڈانٹا۔ جب ان کے حکم کے مطابق رخسار زمین سے لگا دیا گیاتو پاؤں رگڑ کر آہ وزاری کی،میری ماں ہلاک ہو اگر اﷲ نے میری بخشش نہ کی۔بار باریہ الفاظ ان کے منہ سے نکل رہے تھے کہ ان کی روح پرواز کر گئی۔
بدھ۲۶ ذی الجحہ(ابن کثیر:ہفتہ) کی شام سیدنا عمر نے جان جان آفرین کے سپرد کی۔جمعرات ۲۷ ذی الحجہ ۲۳ھ (ابن کثیر کے خیال میں اتواریکم محرم ۲۴ھ) کی صبح ان کا جنازہ حجرۂ عائشہ میں لے جایا گیاتو انھوں نے دوبارہ اجازت دی،سلامتی سے آ جائیے۔ حضرت صہے�ۂ بن سنان نے مسجد نبوی ؐ میں نمازجنازہ پڑھائی۔عصا سے عمر کا قد ماپ کر قبر کھودی گئی،حضرت ابو بکر کا سر نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے کندھوں کے برابر تھا،حضرت عمر کا ان کے کندھوں کے برابر رکھا گیا ۔ یوں جگہ تنگ ہو گئی تو حجرے کی دیوار میں نقب لگا کرپاؤں رکھے گئے ۔ولیدبن عبدالملک کے عہد میں یہ دیوار گری توحضرت عمر کا پاؤں نظر آنے لگا۔ حضرت صہیب،حضرت علی،حضرت عثمان،حضرت عبدالرحمان بن عوف اور حضرت عبداﷲ بن عمر نے میت کو قبر میں اتارا۔ طلحہ بن عبیداﷲتدفین میں بھی شامل نہ ہو سکے۔
حضرت عبدالرحمان بن عوف نے آلۂ قتل چھرابتایا جو انھوں نے پہلے ہرمزان اور جفینہ کے پاس دیکھا پھر حضرت عمر کی شہادت کے وقت ابولؤلؤہ کے پاس سے ملا۔ عبدالرحمان بن ابو بکر کے بیان کے مطابق وہ دو دھاری خنجر (کٹار) تھاجو ابولؤلؤہ کے ہاتھ سے اس وقت گرا تھا جب وہ ہرمزان اور جفینہ سے سرگوشیاں کر رہا تھا۔یہی زیادہ مشہور ہے۔ عبید اﷲ بن عمر نے قتل کی سازش میں ان دونوں کی شرکت کا سنا تو گلے میں تلوارلٹکاکر نکل کھڑے ہوئے۔ پہلے ہرمزان کو بلاکر اس پر وار کیا ،اس نے کلمہ پڑھتے ہوئے جان دی پھر پیشانی پر تلوار چلا کر جفینہ کو قتل کیا۔عبید اﷲ نے جوش غضب میں ابو لؤلؤہ کی چھوٹی بچی بھی ماررڈالی جو مسلمان تھی اور کہا،یہ اجنبی فساد کی جڑ ہیں۔ وہ مدینہ میں موجود تمام عجمیوں کو ختم کر دینا چاہتے تھے کہ عبدالرحمان بن عوف اور دوسرے اہل ایمان نے انھیں قابو کر کے قید کر دیا۔ سیدنا عثمان نے خلیفہ بنتے ہی عبیداﷲ کو بلایا ،وہ انھیں قصاص میں قتل کرنا چاہتے تھے کیونکہ انھوں نے دو مسلمانوں اور ایک ذمی کی جان لی تھی۔حضرت علی نے ان کی تائید کی لیکن باقی مسلمانوں نے کہا ،کل عمر شہید ہوئے، آج ان کے بیٹے کو قتل کر دیا جائے؟عمرو بن عاص نے مشورہ دیا،یہ قتل خلیفۂ ثالث کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہو چکے تھے اس لیے ان پر کوئی ذمہ داری نہیں۔پھر بھی حضرت عثمان نے ہرمزان کے بیٹے سے قصاص لینے کو کہا لیکن اس نے معاف کر دیا۔انھوں نے جفینہ اورابو لؤلؤہ کی بیٹی کی دیت اپنی جیب سے ادا کر دی۔
محمد حسین ہیکل کہتے ہیں،محض ابو لؤلؤہ کے خراج کا زیادہ ہونا اور عمر کا اس کی سفارش نہ کرنا ان کی جان لینے کا باعث نہیں ہو سکتا۔ایک ایرانی نے عمر کو قتل کی دھمکی دی ،ایک یہودی نے انھیں تنبیہ کی اور اس سازش کے پس منظر میں ایک اورایرانی اور ایک عیسائی شریک تھے۔اس طرح یہ عمر رضی اﷲ عنہ کو منظر سے ہٹا کر مسلمانوں کی جمعیت منتشر کرنے کا سہ فریقی منصوبہ تھا جو فوری طور پر کامیاب نہ ہوا۔مسلمانوں میں خانہ جنگی ہوئی اور خلافت کا شیرازہ بکھر گیا تو یہ پاےۂ تکمیل کو پہنچا۔
مجلس انتخاب کا اجلاس ہواتو اولاً یہ معلوم کیا گیا کہ کون خلیفہ بننے کی خواہش نہیں رکھتا۔حضرت عثمان اور حضرت علی کے علاوہ باقی چاروں اصحاب رسولؐ یہ منصب نہ چاہتے تھے۔زبیر علی کے اورطلحہ عثمان کے حق میں دست بردار ہو گئے، سعد نے اپنااختیار عبدالرحمان کوسونپ دیاجوخود بھی پیچھے ہٹ چکے تھے۔ انھی کی ذمہ داری لگی کہ وہ عثمان وعلی میں سے ایک کو منتخب کرلیں۔ بنو ہاشم حضرت علی کو خلیفہ بنانے چاہتے تھے جب کہ قریش کی باقی شاخیں چاہتی تھیں ،نبوت و خلافت ایک ہی خاندان میں اکٹھی نہ ہو ں۔عبدالرحمان نے ممکن حد تک سب اہل ایمان سے مشورہ کیا،انفرادی اور اجتماعی طور پر ،پوشیدہ اور علانیہ حتیٰ کہ وہ عورتوں ،بچوں اور مدینہ میں وارد ہونے والے مسافروں کے پاس بھی گئے۔ ایک جم غفیر نے حضرت عثمان کو خلیفہ بنانے کا مشورہ دیاتو انھوں نے بھی یہی فیصلہ کر لیا۔ اعلان کرنے سے پہلے انھوں نے انھوں نے حضرت علی سے پوچھا ،اگر آپ کو خلافت نہ ملی تو آپ کے خیال میں یہ ذمہ داری کسے اٹھانی چاہیے؟ انھوں نے جواب دیا،عثمان کو۔یہی بات انھوں نے حضرت عثمان سے پوچھی تو انھوں نے حضرت علی کا نام لیا۔ انھوں نے ان دونوں سے اقرار لیا کہ وہ منتخب خلیفہ کی پوری اطاعت کریں گے ۔ منبر رسولؐ پر چڑھ کران دونوں سے پھرپوچھا ،کیا وہ کتاب اﷲ ،سنت رسول اﷲؐاورشیخین ابو بکر و عمر کے عمل کے مطابق کام کریں گے؟ان کے اقرار کے بعد عبدالرحمان بن عوف نے حضرت عثمان کا ہاتھ تھاما،آسمان کی طرف سراٹھا کر اﷲ کو گواہ بنایااورکہا، میں نے یہ ذمہ داری عثمان کو سونپ دی ہے۔ بیعت عامہ اس کے بعد ہوئی۔
سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ کی عمر ۶۰ سال ہوئی،۵۳ سے لے کر۶۳ سال تک مختلف اقوال پائے جاتے ہیں۔ان کا دور خلافت ۱۰ سال۵ مہینے ۲۱(دوسرا قول:۱۰ سال ۶ ماہ۴دن) دن رہا۔ انھوں نے زمان�ۂ جاہلیت میں تین شادیاں کیں، (۱) زینب بنت مظعون جن سے عبداﷲ ،عبدالرحمان(اکبر) اور حفصہ پیدا ہوئے۔(۲) ملیکہ بنت جرول جن سے عبیداﷲ اور زید(اصغر)نے جنم لیا۔ملیکہ نے اسلام قبول نہ کیااور نکاح فسخ ہونے کے بعد ابو جہم بن حذیفہ سے شادی کر لی۔ا بن سعدنے ان کا نام کلثوم بنت جرول بتایاہے۔ (۳) قریبہ بنت ابو امیہ جو بے اولاد اور غیرمسلم رہیں۔ بعد میں عبدالرحمان بن ابو بکر کی زوجیت میں آئیں۔ قبول اسلام کے بعد عمر کی۴ شادیاں ہوئیں۔ (۱) ام حکیم بنت حارث جن سے فاطمہ کی ولادت ہوئی۔کہا جاتا ہے ،ان کو طلاق دے دی تھی۔(۲)جمیلہ بنت ثابت جن کا نام نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے عاصیہ سے تبدیل کر کے جمیلہ رکھا تھا۔ان سے عاصم متولد ہوئے۔ انھیں بھی طلاق دے دی (۳) ام کلثوم جو حضرت علی اور سیدہ فاطمۃ زالزہرا کی بیٹی تھیں۔ان سے زید(اکبر) اور رقیہ پیدا ہوئے۔ (۴) عاتکہ بنت زید جو عمر سے پہلے عبداﷲ بن ابوبکر سے اور ان کی شہادت کے بعد زبیر بن عوام سے بیاہی گئیں۔ان سے عیاض متولد ہوئے۔ یمن سے تعلق رکھنے والی لھیّہ ام ولد تھیں،ان سے عبدالرحمان (اوسط) نے جنم لیا۔ عبدالرحمان (اصغر) دوسری ام ولد سے پیدا ہوئے۔ فکیھہ بھی ام ولد تھیں ، ان سے عمر کی سب سے چھوٹی بیٹی زینب کی ولادت ہوئی۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے ام کلثوم بنت ابو بکرکو نکاح کا پیغام بھیجا تو انھوں نے انکار کر دیا اورکہا ، آپ سخت زندگی بسرکرتے ہیں۔وہ حضرت عائشہ کی ترغیب پر بھی آمادہ نہ ہوئیں۔
حضرت عمربالوں پر مہندی لگاتے تھے۔ان کی انگوٹھی پرنقش تھا،کفی بالموت واعظاً یاعمر،اے عمر!موت کا نصیحت گر ہونا ہی کافی ہے۔ کپڑوں پر اکثر و بیشتر چار چار رنگ برنگے پیوند لگے ہوتے۔سائب بن یزید کہتے ہیں ،قحط کے سال میں نے ان کے تہ بند پر ۱۶ پیوند گنے۔ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا،’’اگر میرے بعد نبی آنا ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔‘‘ (ترمذی:۳۶۸۶)کچھ صحابہ کا خیال تھا ،علم کا ۱۰/۹ حصہ عمر کے پاس اور باقی ۱۰/۱ دوسرے لوگوں کے پاس ہے۔ حضرت عائشہ نے کسی کے استفسارپر بتایا ،عمر کو فاروق کا لقب نبی صلی اﷲ علیہ سلم نے عطا فرمایا ۔آپؐکا ارشاد ہے، ’’اﷲ نے عمر کی زبان اوران کے دل پر حق جاری کر دیاہے۔‘‘(ترمذی :۳۶۸۲)آپؐ نے عمر کومخاطب کرکے فرمایا، ’’شیطان تم سے ڈرتا ہے ،عمرؑ !‘‘(ترمذی ۳۶۹۰) ایک دن آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا،’’میرے دو وزیر آسمانوں میں رہتے ہیں اور دو وزیروں کا تعلق زمین سے ہے ۔آسمانی وزیر جبریل و میکائیل اور زمینی ابو بکر وعمر ہیں۔‘‘ (ترمذی:۳۶۸۰،سند میں ضعف ہے )یہ فرمان نبوی ؐ توہرمسلمان نے جمعہ کے خطبات میں سناہو گا، ’’میری امت میں امت کا سب سے بڑھ کرترس کھانے والے ابو بکر ہیں اوران میں اﷲ کے دین کے معاملے میں سب سے زیادہ شدت رکھنے والے عمر ہیں۔‘‘(مسند احمد :۱۳۹۹۰)حذیفہ بن یمان روایت کرتے ہیں ،ہم ایک روز نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپؐنے فرمایا، ’’میں نہیں جانتا ،میں تمھارے ساتھ کتنی دیر رہ پاؤں گا۔ میرے بعد ان دونوں کی پیروی کرنا۔‘‘آپؐ نے ابو بکر و عمر کی طرف اشارہ فرمایا۔ (مسند احمد:۲۳۲۷۶)یہ وہ عمر تھے جنھوں نے غزوۂ تبوک کے موقع پر اپنی آدھی جائیداد دے دی تھی اور خیبر میں زرخیز زمین خرید کر نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے مشورے سے اسے وقف کر دیا تھا۔اسلام لانے کے بعد انھوں نے اپنے قبیلے کے کسی شخص کو حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے قتل کی سازش میں شریک نہ ہونے دیا۔غزوۂ بدر میں بھی ان کے قبیلے کا ایک کافر بھی نہ آیا۔حضرت علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں، ’’میں ابوبکر کے بعد اس امت کے بہترین آدمی کے بارے میں نہ بتاؤں؟فرمایا،وہ عمر ہیں۔ (مسند احمد:۸۳۳) حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ، ’’میں(خواب کے اندر)جنت میں داخل ہواتو ایک محل دیکھا ،پوچھا ،یہ کس کا ہے؟فرشتوں نے بتایا،یہ عمر کاہے۔‘‘(مسلم ۶۱۹۸)
عمر کے چند اقوال : قوت کار اسی میں ہے کہ آج کا کام کل پر نہ ٹالو۔امانت ا س چیز کا نام ہے کہ انسان کا باطن اس کے ظاہر کے خلاف نہ ہو۔اﷲ سے ڈرو! تقویٰ کوشش سے حاصل ہوتا ہے ۔جو اﷲ سے ڈرتا ہے اﷲ اسی کو بچاتا ہے۔ عمر کو معلوم ہوا ،قریش کے کچھ افراد لوگوں سے ملنے جلنے سے کتراتے ہیں تو فرمایا، آپس میں ملاقاتیں کرتے رہو اور اپنی نشستیں عام کر دو۔اسی طرح تمھاری با ہمی الفت برقرار رہ سکتی ہے۔کسی شخص کا ذکر ان کے سامنے یوں ہوا،وہ اتنا صاحب فضل ہے کہ برائی کو جانتا تک نہیں۔ کہا ،تب تو ضرور برائی میں جا پڑے گا۔
مطالعۂ مزید:الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)، تاریخ الامم و الملوک (طبری)، البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)، الاستیعاب فی معرفۃالاصحاب (ابن عبد البر)، ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء (شاہ ولی اﷲ دہلوی)، الفاروق عمر(محمد حسین ہیکل)، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ (مقالہ: ڈاکٹر حمید اﷲ

تحریر: وسیم اختر مفتی

Advertisements

4 responses to this post.

  1. Posted by گمنام on 08/04/2013 at 12:33 صبح

  2. Posted by گمنام on 20/11/2012 at 4:27 شام

    حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہا کی وفات احادیث کی روشنی میں کونسی تاریخ بنتی ہے ؟؟ کیونکہ اس پر شیعہ کو اعتراض ہے ؟

    جواب دیجیے

  3. کافی تفصیلی سوانح پڑھنے کو ملی
    کاش کہ عدل عمر ؓ پھر سے قائم ہو سکے

    جواب دیجیے

  4. Posted by احسان احمد خاں on 08/10/2012 at 11:03 صبح

    ماشاء اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔very nice my dear brother.
    الّھم زِدْ فَزِدْ

    جواب دیجیے

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s