۔پریشا ن ہونا چھوڑئیے۔اصول نمبر۵:خود کو مصروف رکھیں


پریشا ن ہونا چھوڑئیے ،جینا شروع کیجئے
اصول نمبر۵۔خود کو مصروف رکھیں
کیس اسٹڈی:
"وہ بڑی افسردگی سے اپنی داستان الم دوست کو سنا رہا تھا۔اس نے ایک لمحے کے لئے توقف کیا اور پھر اپنی بات جاری رکھی۔” میرا ایک سات سالہ بیٹا اور پانچ سالہ بیٹی تھی ۔ ان سے میں بے حد محبت کرتا تھا۔ اچانک میری بیٹی کو ڈنگی بخار نے آلیا اور کچھ ہی عرصے وہ اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے چلی گئی۔ اس کی موت کے بعد اللہ نے ہمیں ایک اور بچی سے نوازا لیکن پانچ دنوں کے اندر وہ بھی چٹ پٹ ہوگئی۔یہ دونوں نقصان میرے لئے ناقابل تلافی اور ناقابل برداشت تھے۔میرا امن و سکون رخصت ہوچکا تھا۔ مجھے نہ رات کو نیند آتی نہ دن میں آرام۔ بھوک پیاس کا احساس ختم ہوچکا تھا۔ڈاکٹروں کے چکر لگائے تو کسی نے سکون آور ادویات تجویز کیں تو کسی نے سیرو تفریح کا مشورہ دیا لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔مجھے یوں محسوس ہوتا کہ میرا جسم شکنجے میں جکڑ دیا گیا ہو اور وہ شکنجہ سخت سے سخت تر ہورہا ہو۔ شب و روز اسی رنج و الم کی کیفیت میں گذررہے تھے کہ ایک دوپہر میرا بیٹا میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا کہ میں اس کے لئے ایک کشتی بنادوں۔میں اپنی پریشانیوں میں غلطاں تھا اور کسی کام کے موڈ میں نہیں تھا۔ لیکن بیٹا بھی دھن کا پکا تھا۔ اس کے مسلسل اصرار نے مجھے کشتی بنانے پر آمادہ کر ہی لیا۔مجھے اس کے لئے کشتی بنانے میں تین گھنٹے لگے، جب کشتی مکمل ہوگئی تو مجھے احساس ہوا کہ یہ تین گھنٹے جو میں نے کشتی بنانے میں صرف کئے وہ انتہائی انمول تھے۔گذشتہ کئی ماہ کے دوران یہی تین گھنٹے مجھے ملے تھے کہ جن کے دوران میرا ذہن تفکرات اور پریشانیوں سے آزاد رہا اور مجھے کچھ سکون میسر آیا۔اب مجھ پر یہ بھید کھل چکا تھا کہ اگر پریشانی، رن اور الم سے بچنا ہے تو خود کو مصروف رکھنا پڑے گا۔چنانچہ میں گھر ، دفتر اور دوست احباب میں مصروف رہنے کے لئے ایک منصوبہ بند ی کی۔ آج میں اتنا مصروف ہوں کہ میرے پاس پریشان ہونے کے لئے کوئی وقت نہیں”۔(ڈیل کارنیگی کی کتاب سے ماخوذ)
وضاحت
ہماری اکثر پریشانیوں اور غموں کا سبب فارغ اوقات میں بیٹھ کر اوٹ پٹانگ سوچوں کو ذہن میں جگہ دینا ہے۔ فراغت میں کبھی آفس کی پریشانی یاد آتی ہے تو کبھی گھر کو کوئی مسئلہ۔مردوں کے برعکس خواتین کو اکثر اپنی ساس یا بہو سے متعلق سوچیں آتی ہیں جس سے ان زندگی اجیرن ہوجاتی ہے ۔ذہن میں آنے والی یہ سوچیں اگر اس قابل ہیں کہ انہیں حل کی جائے تو کوئی بے وقوف ہی ہوگا جو انہیں ٹالنے کا مشورہ دے گا۔لیکن اگر یہ سوچیں اس نوعیت کی ہیں کہ آُپ ان کو حل کرنے کے لئے فی الوقت کچھ نہیں کرسکتے یا پھر یہ سوچیں ان مسئلوں پر مبنی ہیں جن کو حل ہی نہیں کیا جاسکتا تو ایسی صورت میں ان سے چھٹکارا پانا لازمی ہے۔ یہ لایعنی سوچیں اور ناقابل حل پریشانیاں اگر ذہن میں پلتی رہیں تو یہ آہستہ آہستہ دماغ کے کونوں کھدروں میں جگہ بنالیتی ہیں۔ ان کی مثال کھٹملوں کی سی ہے جو چا رپائی کے ایک ایک انگ میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ اسی پر بس نہیں بلکہ اگر ان کا قلع قمع نہ کیا جائے تو یہ انڈے بچے دے کر اپنی نسل کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی دیتے ہیں۔
ان سوچوں سے نجات کا ایک طریقہ یہ ہے کہ خود کو مصروف رکھا جائے اور غیر ضروری فراغت سے گریز کیا جائے۔ ایک پروفیسر جیمز ایل مرسل کیا خوب کہتے ہیں
"جب آپ مصروف ہوتے ہیں تب پریشانیاں اور تفکرات آپ پر حملہ آور نہیں ہوتے لیکن جب آپ کام کاج کے اوقات اپنے اختتام کو پہنچتے ہیں اس وقت آپ کا ذہن بالکل اسی طرح ہوتا ہے جیسے ایک موٹر فارغ چل رہی ہو اور اس کی توانائی کہیں استعمال نہ ہو۔ ایسی صورت میں یہ موٹر اپنے ہی پرزے جلا دے گی کیونکہ وہ بنا کسی لوڈ کے چل رہی ہے۔ یہی حال حال ایک فارغ ذہن کا ہے۔ اس لئے پریشانیوں اور تفکرات سے نجات کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ذہن کی موٹر کو کسی تعمیری کام میں مصروف رکھا جائے۔ اتنا مصروف کہ یہ سوچنے کا بھی وقت نہ ہو کہ آپ خوش ہوں یا ناخوش”۔
مصروفیت کے لئے چند اہم نکات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ پہلی بات یہ کہ مصروفیت اس نوعیت کی ہو کہ اس سے آپ کا ذہن اور جسم دونوں استعمال میں آئیں۔ مثال کے طور پر اگر ایک عورت خود کو کپڑے تہہ کرنے میں مصروف کرے تو یہ نہایت آسان کام ہے اور اس دوران اس کا دماغ مسلسل سوچوں میں غلطاں رہ سکتا ہے۔
اسی طرح مصروفیت مثبت اور تعمیری ہو۔ مثال کے طور پر گھنٹوں بلا مقصد ٹی وی دیکھنا خود کو تھکانے کے مترادف ہے۔ اسی طرح کسی لڑائی جھگڑے میں خود کو مصروف کرنا بھی کوئی مناسب تدبیر نہیں۔ مصروفیت میں یہ بھی دیکھا جائے کہ اس سے کسی قسم کا ذہنی یا جسمانی نقصان تو وابستہ نہیں۔
مثبت مصروفیات میں امور شامل ہیں ان میں کسی کے کام آجانا، کسی کھیل کود میں حصہ لینا، کسی سماجی سرگرمی کا حصہ بننا، کسی تحریر کالکھنا، اولاد ، بیوی یا شوہر کو وقت دینا، ماں باپ سے نیک سلوک کرنا، رشتے داروں کے مسائل نبٹانا، محلے کے اجتماعی مفاد میں اقدام کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بے شمار سرگرمیاں ہیں جو آپ اپنے ذوق کے مطابق منتخب کرسکتے ہیں۔
اسائنمنٹ

۱۔ آپ جائزہ لیں کہ شب و روز میں کتنے گھنٹے آپ فارغ رہتے ہیں؟ پھر فراغت میں آنے والی پریشانیوں کی فہرست بنائیں۔
۲۔ یہ دیکھیں کہ آپ کس طرح اپنی فراغت کو مثبت سرگرمیوں میں تبدیل کرسکتے ہیں؟
۳۔ اگر آپ پہلے ہی سے ایک مصروف زندگی گذارتے ہیں تو تحریر کریں کہ آپ اپنی مصروفیت کو مزید مثبت کس طرح بناسکتے ہیں۔
از پروفیسر محمد عقیل
aqilkhans@gmail.com
https://aqilkhans.wordpress.com

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s