پریشا ن ہونا چھوڑئیے۔ اصول نمبر6:۔چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کیجئے۔


پریشا ن ہونا چھوڑئیے ،جینا شروع کیجئے
اصول نمبر۶۔چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کیجئے
کیس اسٹڈی:
وہ جب آفس میں داخل ہوا تو بہت خوش تھا کیونکہ ترقی ہونے کے بعد یہ پہلا دن تھا۔ نیا کمرہ، گھومنے والی کرسی، گھنٹی پر حاضر ہونے والاچپراسی، ٹھنڈک والی مشین ، انٹرکام اور بہت کچھ اس کا منتظر تھا۔ وہ انہی خیالات میں کھویا دفتر میں داخل ہوا۔ وہ توقع کررہا تھا کہ اس کا شاندار استقبال کیا جائے گا۔ لیکن یہ کیا ؟ یہاں تو کچھ بھی نہ ہوا۔ سب لوگ اپنی سیٹ پر بیٹھے تھے اور کسی نے اس کی طرف دیکھا تک نہیں۔ وہ کچھ دیر تو شش و پنج کے عالم میں کھڑا رہا لیکن جب کوئی رسپانس نہ ملا تو اپنے کمرے میں داخل ہوگیا۔ یہ وہی کمرہ تھا جس کے بارے میں وہ تھوڑی دیر قبل تصوراتی دنیا میں کھویا ہوا تھا ۔لیکن دفتری ساتھیوں کے روئیے نے اس کا موڈ خراب کردیا تھا۔ وہ کافی دیر بیٹھ کر یہی سوچتا رہا اوراپنے ساتھیوں کی بے رخی پر ماتم کرتا رہا۔ لیکن اس نے دیکھا کہ اس عمل سے اسے ہی نقصان ہورہا ہے تو اس نے اس خیال کو جھٹک دیا اور اس نئے زندگی کے پہلے دن کو انجوائے کرنے کے لئے تیار ہوگیا”۔
وضاحت:
ہماری زندگی کا بہت تھوڑا حصہ ہمارے اختیار میں ہوتا ہے۔ہمارے ماحول کی لاتعداد چیزیں ہمارے اختیار سے باہر ہوتی ہیں۔ان میں کچھ معاملات بڑے ہوتے ہیں کچھ چھوٹے۔ بڑے معاملات کے نتائج چونکہ سنگین نکلتے ہیں اس لئے ہم انہیں حل کرنے کی پوری کوشش کرتے اور ذہنی طور پر ان سے نبٹنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ لیکن چھوٹے چھوٹے مسائل کو ہم کم اہم سمجھ کر حل نہیں کرتے۔ جب یہ چھوٹے مسائل حل نہیں ہوتے تو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ طاقت ور ہوجاتے اور ہماری شخصِیت کو شکست دینے پر تل جاتے ہیں۔
ان چھوٹے چھوٹے معاملات سے ہمیں روز مرہ واسطہ پڑتا ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں کہیں بھی ہوسکتی ہیں۔ عام طور پر رویوں میں یہ شکایت ہوتی ہے کہ کسی نے سلام نہیں کیا، منہ بنا کر بات کی، خیریت نہیں پوچھی، مہمانداری نہیں کی، تعاون نہیں کیا وغیرہ۔ یہ معمولی باتیں چیزوں کے حوالے بھی ہوتی ہیں جیسے گھر کی بکھری ہوئی چیزیں، دیوار کی دراڑ، لباس کی شکنیں، بد ذائقہ کھانا وغیرہ ہمارا موڈ خراب کردیتے ہیں۔ ماحول میں بھی ان باتوں کا امکان موجود رہتا ہے جیسے ٹریفک جام کی شکایت، لوڈ شیڈنگ، شدید گرمی وغیرہ۔
غرض روزمرہ کی زندگی میں یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہمیں ایک ایسے مچھر کی طرح تنگ کرتی رہتی ہیں جو کان پر آکر بھن بھن کرتا اور بار بار کرتا رہتا ہے۔ ان باتوں کا علاج یہ ہے کہ ان پر کان نہ دھرا جائے، انکے بارے میں سوچ کر ذہنی توانائی کو صرف نہ کیا جائے، ان پر توجہ نہ کی جائے اور ان کو سوچ میں آنے سے پہلے ہی فنا کردیا جائے۔ یہ باتیں اتنی معمولی اور حقیر ہوتی ہیں کہ ان کو ابتدا میں ہی نظر انداز کردینا ضروری ہے۔
زندگی انتہائی مختصر لیکن پریشان کن ہے۔ یہ غیر حقیقی پریشانیاں ہماری زندگی کو مزید مختصر اور زیادہ پریشان کن بنادیتی ہیں۔ ان کو نظر انداز کیجئے اور زندگی کا لطف اٹھائیے۔
اسائنمنٹ:
۱۔ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی فہرست بنائیں جو آپ کو تنگ کرتی ہیں۔
۲۔ ان پریشانیوں پر غور کریں کہ آیا یہ قابل حل ہیں یا نہیں۔
۳۔ اگر یہ قابل حل ہوں تو انہیں حل کرلیں اور اگر نہیں تو انہیں بھول جائیں۔
۴۔ بھولنے کے ایک ہفتے بعد دوبارہ جائزہ لیں کہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں آپ کو دوبارہ تو تنگ نہیں کررہی ہیں؟
پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

2 responses to this post.

  1. السلام علیکم ! آپ کی پریشان ہونا چھوڑیے والی تمام پوسٹس میں نے پڑھیں اور ایک پر عمل کیا ۔۔۔ ابھی اس تحریر کو پڑھ کے خیال آیا ساری باتیں اپنی جگہ درست لیکن مچھر یا مکھی کو نظر انداز کرنا واقعی ہمت کا کام ہوگا 🙂

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s