حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ

حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے چھ سال چھوٹے تھے۔ عام فیل کے چھ برس بعد۵۷۶ء میں مکہ میں پیدا ہوئے ۔ والد کا نام عفان،دادا کا ابو العاص ، اورپڑدادا کا امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف تھا۔پانچویں پشت عبدمناف پر ان کا نسب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے شجرے سے جا ملتا ہے۔آپ کا شجرۂ مبارکہ یہ ہے،محمد بن عبد اﷲ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف ۔حضرت عثمان کی والدہ اروی بنت کریز کو قبول اسلام کی سعادت حاصل ہوئی، نانی ام حکم بیضا بنت عبدالمطلب آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی سگی پھوپھی تھیں۔ زمانۂ جاہلیت کی جنگوں میں قریش کا قومی علم ’عقاب‘ ان کے خاندان بنو امیہ کے پاس رہتا تھا۔
حضرت عثمان رضی اﷲعنہ نے زمانۂ جاہلیت ہی میں لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا۔ بڑے سلیم الفطرت تھے ،جاہلیت کی کسی برائی سے دامن آلودہ نہ ہوا۔ جوان ہونے پر قریش کے دوسرے معززین کی طرح تجارت کو اپنا پیشہ بنایاپھرعمر بھر سوتی کپڑے کا کاروبار کرتے رہے ۔ شرافت ، امانت اور راست باز ی کی وجہ سے ان کا کاروبار خوب چمکا۔ایک ممتاز اور دولت مند تاجر ہونے کی وجہ سے ’غنی‘کے لقب سے مشہور ہو گئے۔عثمان ۳۴ برس کے تھے کہ اﷲ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ کی بعثت ہوئی۔ابوبکررضی اﷲ عنہ پہلے مرد مومن تھے۔ انھوں نے اپنے تمام قریبی ساتھیوں کو دین حق قبول کرنے کی دعوت دی۔ حضرت عثمان انھی کی دعوت پرمسلمان ہوئے۔ انھوں نے عثمان سے کہا:تم سمجھ دار اوردور اندیش آدمی ہو ،سچ اور جھوٹ میں تمیز کر سکتے ہو ۔کیا یہ بت جنھیں ہماری قوم پوجتی ہے بے جان پتھر نہیں جو سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں۔انھوں نے کہا ،ہاں ایسی ہی بات ہے۔تب ابوبکر نے کہا ،تمہاری خالہ سعدیہ بنت کریزسچ کہتی ہے ، محمد بن عبداﷲ، اﷲ کے رسول ہیں،کیا اچھا نہیں کہ تم ان کے پاس چلو؟چنانچہ عثمان اورطلحہ بن عبیداﷲ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے انھیں قرآن سنایااور اسلامی حقوق و فرائض سے متعارف کیاتویہ فوراًایمان لے آئے ۔عثمان فرماتے ہیں ،میں اسلام لانے والا چوتھا شخص تھا۔ان کے چچا حکم بن ابوالعاص نے انھیں رسیوں سے باندھ دیا اور کہا ،جب تک تم یہ نیا دین ترک نہ کرو گے ،میں تمہیں ہر گز نہ چھوڑوں گا۔عثمان نے ثابت قدمی دکھائی تو حکم کو چھوڑنا پڑا۔
جلد ہی نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی رقیہ کی شادی ان سے کر دی۔حضرت عثمان نے اسلام لانے کے بعد بھی تجارت جاری رکھی۔جب اہل مکہ نے مکہ میں مسلمانوں کی زندگی تنگ کردی تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ ان کی ایذاؤں سے بچنے کے لیے حبشہ کو ہجرت کر جائیں۔ بعثت کے پانچویں سال ۱۱ مسلمانوں کاپہلا قافلہ حبشہ روانہ ہوا، عثمان اوران کی اہلیہ رقیہ اس میں شامل تھے۔ شاید بنوامیہ کا اپنے قبیلے کے مسلمانوں سے برتاؤ زیادہ سخت تھا یا دختر رسو ل کی سلامتی کا خیال غالب تھا کہ عثمان جلد ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔رسول اﷲ صلی علیہ وسلم نے فرمایا ،عثمان اور رقیہ ،لوط علیہ السلام کے بعد اﷲ کی طرف ہجرت کرنے والے پہلے اشخاص ہیں۔ قیام حبشہ کے دوران ہی میں ان کے صاحب زادے عبد اﷲ پیدا ہوئے ۔
اپنی دوسری ہجرت ،ہجرت مدینہ کے بعدسیدنا عثمان حضرت حسان بن ثابت کے بھائی اوس کے گھر قیام پذیر ہوئے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان دونوں کے بیچ مواخات قائم فرمائی۔اس وجہ سے دونوں گھرانوں میں گہری محبت ویگانگت پیدا ہو گئی۔ پھر جب آپ نے مہاجرین کو اس نئے شہرمیں گھر بنانے کے لیے زمین کے قطعات دیے تو اپنے گھر کے بالمقابل عثمان کا گھر تجویز کیا ۔دونوں گھروں کے دروازے آمنے سامنے کھلتے تھے۔آپ کے چند دوسرے صحابہ کے ساتھ عثمان رضی اﷲ عنہ کو بھی کاتب وحی مقرر فرمایا۔ اس کے علاوہ، وہ آپ کے معتمد (سیکرٹری) کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ جنگ بدر سے پہلے انھوں نے کسی غزوہ میں شرکت نہ کی تھی،بدرکا موقع آیاتو ان کی اہلیہ بیمار پڑ گئیں۔ لشکر کی روانگی کے وقت مرض کی شدت بڑھ گئی تو آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے انھیں عیادت کے لیے رکنے کا حکم دیا۔رقیہ جانبر نہ ہو سکیں،انھوں نے۲ھ میں اسی روز وفات پائی جس دن زید بن حارثہ فتح کی خوش خبری لے کر مدینہ پہنچے ۔آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے عثمان کو غزوۂ بدر میں شریک تصور فرمایا اورانھیں مال غنیمت کا پورا حصہ عطا کیا۔وہ اپنی اہلیہ کی وفات سے بہت رنجیدہ تھے۔نبی صلی اﷲ علیہ وسلم جانتے تھے کہ انھوں نے مرحومہ کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا تھا،اس لیے آپ نے اپنی دوسری صاحب زادی ام کلثوم بھی ان کے نکاح میں دے دیں ۔اﷲ کی مرضی کہ ام کلثوم بھی جلد وفات پاگئیں ،عثمان اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ سلم دونوں بہت غم زدہ تھے ۔اپنے داماد کو تسلی دیتے ہوئے آپ نے فرمایا:’’اگر ہماری تیسری بیٹی ہوتی تو ہم اسے بھی تمہاری زوجیت میں دے دیتے۔‘‘
ختم المرسلین صلی اﷲ علیہ وسلم کی دو دختران سے عقد کا شرف حاصل ہونے کی وجہ سے عثمان کو ذوالنورین کا لقب ملا۔حضرت علی فرماتے ہیں ، انھیں ملاء اعلی میں بھی ذو النورین کے نام سے پکارا جاتا ہے۔زمانۂ جاہلیت میں وہ ابو عمر وکی کنیت سے مشہور تھے ،جب رقیہ بنت رسول اﷲ سے عبداﷲ پیدا ہوئے تو ابو عبداﷲ کنیت کرنے لگے ، ۴ھ میں جب عبداﷲ کی عمر ۶ سال تھی،ان کی آنکھوں پر مرغ نے ٹھونگا مارا۔وہ ایسے بیمار ہوئے کہ چل بسے ۔ان کی وفات کے بعد بھی یہی کنیت برقرار رہی۔ گمان غالب ہے کہ سیدہ رقیہ اور سیدہ ام کلثوم کے ہوتے ہوئے کوئی اور عورت عثمان کی زوجہ نہ بنی۔تاہم زمانہْ جاہلیت میں اور دختران رسو ل کی وفات کے بعدجو خواتین حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ سے رشت�ۂازدواج میں منسلک ہوئیں ،ان کے نام یہ ہیں:فاختہ بنت غزوان جن سے عبداﷲ (اصغر) نے جنم لیا۔ام عمرو بنت جندب جن سے عمرو،خالد،ابان ،عمراور مریم پیدا ہوئے۔فاطمہ بنت ولید ،ان سے ولید ،سعید اور ام سعید کی ولادت ہوئی۔ ام بنین بنت عیینہ جنھوں نے عبد المالک کو جنم دیا۔رملہ بنت شیبہ سے عائشہ ،ام ابان اور ام عمرو پیدا ہوئے۔ نائلہ بنت فرافصہ جن سے مریم کی ولادت ہوئی۔ یہی نائلہ حضرت عثمان کے آخری وقت ان کے پاس تھیں۔ ان ۱۵ بچوں کے علاوہ ام بنین بھی حضرت عثمان کی دختر تھیں جو ایک ام ولد سے متولد ہوئیں۔
اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عثمان کا مال اسلام کے لیے وقف ہو گیا اور ان کی سخاوت مسلمانوں کے کام آنے لگی۔وہ رفاہی کاموں میں پیش پیش تھے اور غزوات کے موقع پر دل کھول کر خرچ کرتے۔ مدینۂ منورہ میں پینے کے پانی کی قلت ہوئی توایک یہودی اپنے کنویں’بئر رومہ‘ کا میٹھا پانی منہ مانگے داموں فروخت کرنے لگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ترغیب دی، ’’کون ’ بئررومہ‘ خرید کراس کا ڈول مسلمانوں کے ڈول میں شامل کرے گا کہ اس بدلے میں اسے جنت میں اس سے بہترمل جائے؟‘‘(ترمذی:۲۷۰۳)عثمان یہودی کے پاس گئے ، وہ پورا کنواں بیچنے پر آمادہ نہ ہوتو انھوں نے ۱۲ ہزار درہم کے بدلے میں نصف کنواں خرید لیا۔ایک دن یہودی اسے استعمال کرتا ، دوسرے دن وہ عثمان کے توسط سے مسلمانوں کے تصرف میں ہوتا۔ اپنی باری پر مسلمان دو دن کا پانی ایک بار ہی نکال لیتے ۔اس سے یہودی تنگ آ گیا اور۸ ہزار درہم لے کر باقی نصف بھی دے دیا۔اب یہ کلی طور پرعامۃ المسلمین کے لیے وقف تھا۔ بعد میں انھوں نے اور بھی کئی کنویں کھدواکر مسلمانوں کے لیے وقف کیے، مثلاً بئر سائب، بئر عامر اور بئر اریس ۔بئراریس وہی کنواں ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی جو یکے بعد دیگر ابوبکر،عمر کے ہاتھوں کی زینت بنی، عثمان کے ہاتھ سے گر پڑی تھی۔ کنویں کا سارا پانی نکال دیا گیا، لیکن انگوٹھی نہیں ملی۔ عہد نبوی میں نمازیوں کی کثرت کے باعث جب مسجد نبوی کی توسیع کی ضرورت پیش آئی توآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:کون فلاں قطعۂ زمین خریدکر اسے مسجد میں شامل کرے گا کہ بدلے میں اسے جنت میں اس سے بہتر گھر دے دیاجائے؟‘‘(ترمذی:۲۷۰۳) حضرت عثمان نے زمین کا وہ ٹکڑا خرید کر مسجد کے لیے وقف کر دیا۔
جنگ بدر کے ایک سال بعد غزوۂ احد کا موقع آیا تو حضرت عثمان مسلمانوں کے برابر شریک ہوئے۔صبح مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی پھر پاسا مشرکین کے حق میں پلٹ گیا ۔اسی اثنا میں یہ افواہ پھیل گئی کہ حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔اس خبر نے مسلمانوں کے حوصلے پست کر دیے،ان میں سے کئی میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نکلے ۔عثما ن بھی ان میں شامل تھے۔کچھ ہی دیر میں جب معلوم ہو گیا کہ یہ اطلاع جھوٹی تھی تو ان میں سے اکثر پلٹ آئے اور اپنے نبی کا دفاع کیا۔ عثمان نہ لوٹے تھے،جب وہ خلیفہ بنے تو کسی نے انھیں اس بات پر عار دلائی۔انھوں نے جواب دیا،تم مجھے کیسے برا بھلا کہہ سکتے ہو جب کہ اﷲ نے مجھے معاف کر دیا ہے۔:اَِنّ الَِّذْینَ تَوَلَّوْٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓمِنْکمْ ےَوَََْْْْْٓمَ اآْتَقَی اآْجَآْعاِن،ِ اّنمَا اسْتَزَلّہْٓمْ الشّےَطانِْ بَبآْضِ مَا کَسَبْوْٓا وَلَقَدْٓ عَفَا اﷲْ عَنْہْٓمْٓ،ِ انَّ اﷲَ غَفْوْٓر حَِلْٓےْم۔ تم میں سے جو دو لشکروں کے بھڑنے کے دن پیٹھ پھیر گئے ، انھیں شیطان نے ان کے بعض اعمال کی وجہ سے پھسلا دیا ۔اﷲ نے انھیں معاف کر دیاہے، بے شک اﷲ بخشنے والا اور بردبار ہے۔(سورۂ آل عمران:۱۵۵)
عثمان رضی اﷲ عنہ خندق اورخیبرکی جنگوں میں شامل ہوئے،وہ فتح مکہ میں شامل رہے اور حنین ،طائف اور تبوک کے غزوات میں بھی حصہ لیا ،تاہم وہ حمزہ،علی، زبیر،سعداور خالد کی طرح اگلی صفوں میں لڑنے والے مرد میدان نہ تھے۔ فوج کی درمیانی صفوں میں شامل رہتے،جنگ میں آگے آگے نہ ہوتے تو پیچھے بھی نہ رہتے۔اصلاً جنگ جو نہ تھے، لیکن ہرجہاد میں شامل ہوتے رہے ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جب غزوۂ ذات الرقاع اورغزوۂ بنی غطفان میں تشریف لے گئے تو حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کو مدینہ کاقائم مقام امیر مقرر فرمایا۔ ذی قعد ۶ھ میں رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم ۱۴۰۰صحابہ کے جلو میں عمرہ کرنے کے لیے مکہ روانہ ہوئے۔جب آ پ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو معلوم ہواقریش مسلمانوں کو روکنے کے لیے آمادہ بہ جنگ ہیں۔آپ جنگ کے مقصد سے نہیں ،بلکہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے تشریف لائے تھے ۔ یہ بات واضح کرنے کے لیے آپ نے حضرت عمر کو سفیر بنا کر مکہ بھیجنا چاہا۔انھوں نے کہا :قریش میرے جانی دشمن ہیں ،میری بات ہر گز نہ سنیں گے ۔اس کام کے لیے عثمان زیادہ موزوں ہیں کیونکہ ان کی یہاں زیادہ عزت کی جاتی ہے۔عثمان مکہ پہنچے تو عثمان بن سعیدنے انھیں اپنی پناہ میں لے لیا ۔انھوں نے بہت کوشش کی کہ قریش مسلمانوں کے طواف و عمرہ میں حائل نہ ہوں ۔اس کام میں انھیں دیر لگ گئی ،اسی اثنا میں افواہ پھیل گئی کہ قریش نے ان کو شہید کر دیا ہے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بہت فکر مند ہوئے اور فرمایا :جب تک ہم ان لوگوں سے جنگ نہ کر لیں،یہیں رہیں گے۔یہ کہہ کرآپ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے صحابہ سے جان لڑا دینے کی بیعت لی ۔فرمان خداوندی: لَقَدْٓ رَضِیَ اﷲْ عَنِ الْآْومِنےِْٓنَ اِآْ ےْباَےِعْوْٓنَکَ تَحْٓتَ الشَّجَرَۃِ۔ ’’ اﷲ مومنوں سے راضی ہو گیا، جب وہ درخت کے نیچے تمہاری بیعت کر رہے تھے ‘‘(سورۂ فتح :۱۸) کی رعایت سے یہ بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہے۔اس موقع پر رسول اﷲ صلی علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور فرمایا: ہذہ لعثمان، یہ عثمان کا ہاتھ ہے ۔پھر آپ نے اس طرح بیعت لی گویا عثمان خودموجود ہیں ،کچھ ہی دیر بعد عثمان پلٹ آئے تو قریش سے بات چیت کے بعدصلح حدیبیہ کا مشہور معاہدہ طے پایا۔
غزوۂ تبوک کا موقع آیا تو سخت قحط سالی تھی ۔اسلامی لشکربے سر وسامان تھا،اسی لیے اسے ’’جیش عسرت ‘‘ کا نام دیا گیا۔ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے دعوت عام دی،جو جیش عسرت کے لیے سامان مہیا کرے گا ،اسے بدلے میں جنت ملے گی ۔(بخاری :فضائل اصحاب النبی)اس موقع پر حضرت عثمان نے سامان حرب سے لدے ہوئے ۹۵۰ اونٹ اور۵۰ گھوڑے خدمت نبوی میں پیش کیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اس فیاضی سے اس قدر خوش ہوئے کہ دیناروں کو دست مبارک پر اچھالتے جاتے اور فرماتے: ما ضر عثمان ما عمل بعد ہذا الیوم ، آج کے بعد عثمان کچھ بھی کریں، کوئی عمل انھیں نقصان نہ پہنچائے گا (ترمذی:)
حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ میانہ قد ،خوب رو اورگندم گوں تھے۔ سر کے بال جھڑ چکے تھے جب کہ ڈاڑھی لمبی اور گھنی تھی ، جلد نرم ونازک تھی تاہم چہرے پر چیچک کے کچھ نشان تھے،شانے چوڑے تھے،صاحب ثروت تھے،اس لیے اچھا اور قیمتی لباس زیب تن کرتے، ڈاڑھی سفیدتھی،بالوں پر مہندی بھی لگا لیتے۔انھیں سلسل البول (پیشاب کے قطرے آنا)کی بیماری تھی، اس لیے ہر نماز کے لیے وضو کرتے۔بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے۔موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں:میں نے عثمان رضی اﷲ عنہ کو دیکھا ،وہ زرد لباس پہن کر جمعہ کی نماز پڑھانے آئے،منبر پر بیٹھے تو مؤذن نے اذان شروع کی ،اس دوران میں وہ لوگوں سے گفتگو کرتے رہے ۔ان کی خیریت دریافت کی اوراشیا کا بھاؤ پتا کرتے رہے۔پھر عصا پکڑ کر خطبہ دیا، بیٹھے تو پھر گفتگو شروع کر دی۔
عثمان بہت حیا دار تھے۔ حیا کی وجہ سے ان کی جوانی بے داغ رہی اور وہ مفاخرت سے دور رہے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:عثمان میری امت میں سب سے بڑھ کر اور سچی حیا رکھنے والے ہیں۔(مسنداحمد:۱۳۹۹۰)ان کی حیاکی وجہ سے لوگ بھی ان سے حیا کرتے۔ایک بار نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم سیدہ عائشہؓ کی چادر اوڑھے اپنے بستر پرآرام فرما رہے تھے۔شاید چادر چھوٹی تھی کہ آپ کی ران کا کچھ حصہ ڈھکنے سے رہ گیا۔کسی کام سے حضرت ابو بکر آئے ،آپ اسی حالت میں ان سے ملے۔حضرت عمر نے آکر اجازت مانگی تو آپ اسی طرح استراحت فرماتے رہے ۔اتفاق سے کچھ دیر بعد حضرت عثمان بھی تشریف لے آئے۔ آپ نے اپنے کپڑے درست فرمائے،بدن اچھی طرح ڈھانکا اور پھر ان سے ملاقات فرمائی۔ان کے جانے کے بعد حضرت عائشہ نے دریافت کیا،یا رسول اﷲ!کیا وجہ ہے کہ ابوبکر و عمر آئے تو آپ ان سے ویسے ہی مل لیے جب کہ عثمان کے آنے پر اپنے کپڑوں اور اپنی ہےئت کا خاص طور پر دھیان کیا۔ آپ نے جواب ارشاد کیا، عثمان شرمیلے ہیں۔مجھے اندیشہ ہوا ،اگر اسی حالت میں انھیں آنے دیا تو وہ اپنی بات بھی نہ کر پائیں گے۔کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی شرماتے ہیں۔عثمان تہجد کے لیے اٹھتے تو غلام کو نہ اٹھاتے۔ انھیں کہا گیا ،کسی کومدد کے لیے جگا لیاکریں تو جواب دیا ،رات ان کے آرام کے لیے ہوتی ہے۔
اپنے شرمیلے پن کی وجہ سے عثمان لمبی گفتگو نہ کرتے تھے۔وہ بحث و جدل سے بھی دور رہتے ۔البتہ کوئی فیصلہ کر لیتے تو اس پر ڈٹے رہتے اورانھیں اس سے ہٹانا مشکل ہوتا۔انتہائی مال دار ہونے کے باوجود ان کا نرم خو ،رحم دل اور سخی ہونااسی فطری حیا کا نتیجہ تھا۔وہ اپنے کنبے اور قبیلے کی ضرورتوں کا خیال رکھتے تھے ، اس لیے عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے۔ وہ جاہلیت اور اسلام دونوں میں لوگوں کو کھلے دل سے قرض دیتے رہے۔مضاربت کے لیے رقوم بھی فراہم کر دیتے۔
حضرت عثمان اپنے رشتہ داروں سے بے حد شفقت کرتے۔ یہ ان کے مزاج کا حصہ تھی۔فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے قریش کے لیے عام معافی کا اعلان فرمایا،البتہ چند افراد کا نام لے کر کہا،یہ عام معافی میں شامل نہیں ۔چاہے وہ کعبہ کے پردوں میں چھپے ہوں ، انھیں قتل کر دیا جائے۔ان میں سے ایک حضرت عثمان کا رضاعی بھائی عبداﷲ بن سعد (ابن ابی سرح)تھا جو اپنے دادا ابو سرح کی نسبت سے زیادہ جانا جاتا ہے ۔یہ مسلمان تھا تو وحی کی کتابت کرتا تھا ،پھر مرتد ہو کر مکہ واپس چلا گیا اور مشہور کر دیا کہ وہ وحی میں آمیزش کیا کرتا تھا۔ مسلمان مکہ میں داخل ہوئے تو یہ عثمان کے پاس چلا گیا۔انھوں نے اسے پناہ دی ۔ جب شہر میں امن قائم ہو گیاتو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور اس کے لیے امان طلب کی۔آپ نے طویل خاموشی فرمائی ،پھر امان دے دی۔عثمان کے جانے کے بعد آپ نے اپنے پاس موجود صحابہ سے فرمایا:میں نے اتنی لمبی خاموشی اس لیے اختیار کی کہ تم میں سے کوئی آگے بڑھ کر اس کی گردن اڑا دے۔ دل میں ابن ابی سرح کے بارے میں یہ خواہش ہوتے ہوئے آپ نے حضرت عثمان سے حیا کی او راس دشمن دین کو معاف فرما دیا۔
حضرت عثما ن اصحاب عشرۂ مبشرہ میں شامل تھے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:عثمان!اﷲ نے تمہارے اگلے پچھلے ،ظاہرپوشیدہ اور قیامت تک ہونے والے سب گناہ بخش دیے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انھیں جنت کی بشارت دی اور شہادت کی موت کی پیش گوئی فرمائی۔آپ کا ارشاد ہے:’’ہر نبی کا (جنت میں) ایک ساتھی ہو گا اور میرے رفیق جنت عثمان ہوں گے۔‘‘(ترمذی:۳۶۹۸)
سیدنا عثما ن خلیفۂ اول ابوبکر کی مجلس شوریٰ کے ممتاز رکن ہونے کی حیثیت سے انھیں اپنے مشوروں سے مستفید کرتے رہے ۔عہد صدیقی میں چند دوسرے صحابہ کے ساتھ افتا ان کی بھی ذمہ داری رہی،کاتب کے فرائض بھی انجام د یے ۔شام کے بعد ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے عراق پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو عمر نے ان کی بھرپور تائید کی۔عبدالرحمان بن عوف نے احتیاط سے کام لینے کا مشورہ دیا۔عثمان نے کہا،آپ اس دین کی نصرت کرنے والے اور مسلمانوں پر شفقت کرنے والے ہیں۔جو راے آپ کو درست لگے ،اس پر عمل کر گزریے ،کوئی انگلی نہ اٹھا سکے گا۔انھوں نے خلیفۂ ثانی کے انتخاب کے وقت ابو بکر کی راے کو درست قرار دیا اور کہا ،عمر کا باطن ان کے ظاہر سے اچھا ہے۔
خلافت فاروقی میں بھی عثمان رضی اﷲ عنہ اپنی تجارت جاری رکھنے کے ساتھ مجلس شوریٰ میں ذمہ داریاں نبھاتے رہے ۔عام طور پر ان دونوں اجل صحابیوں میں اتفاق ہوتا، تاہم دو واقعے ایسے تھے جن میں حضرت عثمان کی راے حضرت عمر سے مختلف تھی۔ جب بیت المقدس کے محصورین نے اصرار کیا کہ امیر المومنین خود آ کر ان سے معاہدۂ صلح کریں تو یہ مسئلہ مجلس شوریٰ میں پیش ہوا ۔حضرت عثمان کا مشورہ تھا ،ان کا مطالبہ نہ ماننا بہتر ہے کیونکہ اس سے اہل بیت المقدس پرمسلمانوں کی دھاک بیٹھ جائے گی۔حضرت علی نے کہا،اہل ایمان لڑائی کو طوالت دینے سے عاجز آ جائیں گے۔عمر نے انھی کی راے اختیار کی۔ جب مصر پر یورش کرنے کا مسئلہ پیش ہوا تو حضرت عثمان نے ڈٹ کر مخالفت کی ۔ ان کا خیال تھا ،عمرو بن عاص جنگ میں جلد کود پڑتے ہیں اورانھیں امارت کا شوق بھی ہے ۔اس وجہ سے مسلمان ہلاکت میں پڑ جائیں گے ۔عمر ان کی راے سے متفق نہ تھے ، ا س لیے انھوں نے عمرو کو مصر میں پیش قدمی کرنے کا پورا موقع دیا۔
مطالعۂ مزید:الطبقات الکبری(ابن سعد)، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ(ابن اثیر)، الاصابہ فی تمییز الصحابہ(ابن حجر )، تہذیب الکمال فی اسماء الرجال(یوسف مزی)، عن()،عثمان بن عفان(محمد حسین ہیکل)،اردو دائرۂ معارف اسلامیہ(مقالہ:امین اﷲ وثیر

خلیفۂ دو م حضرت عمر رضی اﷲ عنہ تندرست تھے کہ کچھ اہل ایمان نے انھیں اپنا جانشین مقرر کرنے کا مشورہ دیا ۔ وہ سوچ میں پڑ گئے اور کہا:اگر میں اپنا جانشین خود مقرر کروں تو روا ہو گا، کیونکہ مجھ سے بہتر شخص(ابوبکر رضی اﷲ عنہ)نے ایسا کیا ہے اور اگر ایسا نہیں کرتا تو بھی جائز ہے کیونکہ مجھ سے کہیں زیادہ صاحب فضیلت شخصیت (حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم) نے ایسا کیا ہے ۔ کچھ غور وفکر کے بعد انھیں اندیشہ ہوااگر اس بارے میں اہل ایمان کی راہ نمائی نہ کی گئی تو وہ نزاع میں مبتلا ہو جائیں گے۔ قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعدبھی انھوں نے کسی فرد کو نامزد کرنے کے بجاے عشرۂ مبشرہ میں سے۶ زندہ اصحاب رسول حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زبیر بن عوام ، حضرت طلحہ بن عبید اﷲ،حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبدالرحمان بن عو ف کی مجلس بنانا پسند کیااور ساتویں صاحب بشارت سعیدبن زید کو اپنا چچا زاد ہونے کی وجہ سے شامل نہ کیا۔حضرت عمرنے ان صحابیوں کو ترجیح دینے کی وجہ خود ہی بیان کر دی کہ رسول اﷲ صلی علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوتے وقت ان سے راضی تھے ۔ ان میں سے کسی ایک کومامور کرنا ان کے لیے مشکل ہو گیا یا شاید وہ خیال کر رہے تھے کہ اہل راے کے باہمی مشورہ سے خلیفہ کا انتخاب زیادہ موزوں ہو گا۔انھوں نے اپنے بیٹے عبد اﷲ کووصیت کی ،انتخاب کے وقت موجود رہیں تاہم ان کااس میں کوئی دخل نہ ہو گا۔
نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا عباس بن عبدالمطلب بہت تاخیر سے اس وقت ایمان لائے تھے جب آپ نے فتح کے لیے کوچ کیا۔رخصت ہونے کے بعد وہ بنو ہاشم کو خلافت دلانے کے لیے سرگرم رہے۔ اوائل محرم ۲۴ھ میں بھی جب خلیفۂ ثالث کا انتخاب ہونے لگاتو انھوں نے حضرت علی کو مشورہ دیا کہ ۶ اصحاب کی مجلس انتخاب میں وہ شامل نہ ہوں۔حضرت علی نے یہ کہہ کر انکار کر دیاکہ میں اختلا ف پسند نہیں کرتا۔ ادھربنو امیہ یہ منصب حاصل کرنا چاہتے تھے۔مقررہ مجلس شوریٰ کا اجلاس شروع ہوا ، عمرر ضی ا للہ عنہ کی وصیت کے مطابق ابو طلحہ انصاری اپنے ۵۰ ساتھیوں کو لے کر پہرے پر کھڑے تھے۔پہلے دو دن ارکان شوریٰ کوئی فیصلہ نہ کر پائے تو ابو طلحہ نے انھیں تنبیہ کی کہ وہ ان کو تین دن سے زیادہ مہلت نہ دیں گے۔ اس مرحلے پر عبدالرحما ن بن عوف نے یہ مسئلہ سلجھانے کی کوشش کی۔انھیں معلوم تھا کہ علی وعثمان ہی خلافت کے دو بنیادی حق دار ہیں۔ وہ ان دونوں سے الگ الگ ملے،حضرت علی سے پوچھا ،آپ سبقت الی الاسلام کی وجہ سے خلافت کے اہل ہیں لیکن اگر آپ کو خلافت نہ ملی تو آپ کے خیال میں یہ ذمہ داری کسے اٹھانی چاہیے؟ انھوں نے جواب دیا عثمان کو، پھریہی بات حضرت عثمان سے پوچھی تو انھوں نے حضرت علی کا نام لیا۔اب عبدالرحمان نے چاہا،انتخاب ان دونوں پر موقوف ہو جائے۔ انھوں نے اصحاب شوریٰ سے مطالبہ کیا کہ ان میں سے تین ان تینوں کے حق میں دست بردار ہو جائیں جنھیں وہ خلافت کا زیادہ حق دار سمجھتے ہیں۔ چنانچہ زبیرعلی کے حق میں ، سعد عبدالرحمان کے اور طلحہ عثمان کے حق میں دست بردار ہوگئے ۔ عبدالرحمان اپنے امیدوار نہ ہونے کا اعلان پہلے ہی کر چکے تھے ، اس لیے معاملۂ انتخاب علی وعثمان کے بیچ معلق ہو گیا۔عبدالرحمان کے پاس اپنے ووٹ کے علاوہ سعدکا حق راے دہی بھی آ چکا تھا۔وہ اپنا فیصلہ فوراً صادر کر سکتے تھے تاہم انھوں نے مدینے میں موجود اصحاب رسولﷺ،عمائدین،عوام الناس حتیٰ کہ عورتوں اوربچوں سے مشورہ کرنا ضروری سمجھا۔ان سب کی اکثریت نے عثما ن رضی اللہ عنہ کے حق میں راے دی۔
مورخین نے عثمان رضی اﷲ عنہ کے حق میں زیادہ آرا آنے کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔لوگ عمر رضی اﷲ عنہ کی سختی اور مال سے بے رغبتی دیکھ چکے تھے ۔ علی رضی اﷲ عنہ بھی انھیں بے نیاز نظر آتے تھے اس لیے انھوں نے عثمان رضی اﷲ عنہ کو ترجیح دی۔بنو امیہ تعداد میں بنو ہاشم سے زیادہ تھے اس لیے انھیں عددی برتری حاصل ہو گئی۔حضرت عثمان کی عمر ۷۰ برس سے تجاوز کر چکی تھی جب کہ حضرت علی۶۰ سال سے بھی کم تھے اس لیے مسلمانوں نے انھیں زیادہ معتبر جانا۔ انھیں توقع تھی کہ عمر کے تفاوت کی وجہ سے عثمان رضی اﷲ عنہ کے بعد علی رضی اﷲ عنہ کے خلیفہ بننے کا بہت امکان ہو گا۔تین دنوں کی مہلت کی آخری رات گزرنے والی تھی کہ عبدالرحمان اپنے بھانجے مسور بن مخرمہ کے گھر پہنچے۔علی و عثمان کو وہاں بلایا اور انھیں بتایاکہ اہل ایمان آپ دونوں میں سے ایک کو خلیفہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے ان دونوں سے عہد لیا،جسے وہ خلیفہ مقرر کریں گے، عدل و انصاف سے کام لے گااور جسے یہ ذمہ داری نہ مل پائی، سمع و اطاعت کرے گا۔فجر کے وقت منادی ہوئی کہ لوگ مسجد نبوی میں جمع ہو جائیں۔عوام الناس کے ساتھ انصار و مہاجرین کے زعمااور فوجی کمانڈر موجود تھے۔ نماز کے بعدعبدالرحمان منبر پر چڑھے ،انھوں نے وہ عمامہ پہن رکھا تھا جو نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ان کے سر پر باندھا تھا ۔ان کی دعاطویل ہو گئی تو سعد بن ابی وقاص پکارے، جلد انتخاب خلیفہ کا اعلان کر دیجیے ،مبادا لوگ کسی فتنے میں مبتلا ہو جائیں۔عبدالرحمان بن عوف نے علی کا ہاتھ تھامااور پوچھا، کیا وہ کتاب اﷲ ، سنت رسول اﷲﷺ اور سیرت شیخین ابو بکر و عمر پر عمل کریں گے؟ ان کے اقرار کے بعدکہ وہ اپنے علم کے مطابق مقدور بھر ایسا ہی کریں گے انھوں نے حضرت عثمان سے بھی یہی عہد لیا۔وہ عثمان کا ہاتھ تھامے رہے ،سر آسمان کی طرف بلند کیا اور تین بار کہا،اے اﷲ!سن لے اور گواہ رہ۔میں نے خلافت کی ذمہ داری عثمان کو سونپ دی۔ عبدالرحمان کے بعد ان کے پاس کھڑے علی نے عثمان کے ہاتھ پربیعت کی پھر مسجد میں موجود سب اہل ایمان بیعت کے لیے ٹوٹ پڑے ۔(ابن سعد)ایک روایت کے مطابق حضرت علی نے تاخیرکی اور عبدالرحمان کے پکارنے پر بیعت کے لیے لوٹے۔ (طبری)
بیعت مکمل ہونے کے بعد حضرت عثمان نے منبر پر کھڑے ہو کر حاضرین سے خطاب کیا، لوگو! دنیا دھوکے کا سامان ہے تمھیں شیطان مغرور اﷲ کے بارے میں دھوکے میں مبتلا نہ کرنے پائے۔آخرت طلب کرو،’’باقی رہنے والی نیکیاں ہی تمہارے رب کے ہاں اجر وثواب پانے اور امیدیں قائم کرنے کے لیے بہترین ہیں۔‘‘
خلیفۂ سوم کوپہلا قضیہ عبیداﷲ بن عمر کا پیش آیا جنھوں نے جوش غضب میں ہرمزان، جفینہ اورابو لؤلؤہ فیروز کی چھوٹی بچی لؤلؤہ کو قتل کر ڈالا تھا۔وہ دو مسلمانوں اور ایک ذمی کے قتل کا قصاص ان سے لینا چاہتے تھے۔حضرت علی نے ان کی تائید کی لیکن باقی مسلمانوں نے کہا ،کل عمررضی اﷲ عنہ شہید ہوئے ،آج ان کے بیٹے کو قتل کر دیا جائے؟ عمرو بن عاص نے راے ظاہر کی ،یہ قتل خلیفۂ ثالث کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہو چکے تھے اس لیے ان پر کوئی ذمہ داری نہیں۔ حضرت عثمان یہ مشورہ نہ مانے اور ہرمزان کے بیٹے سے قصاص لینے کو کہا ۔ اس نے معاف کر دیا، جفینہ اورابو لؤلؤہ کی بیٹی کی دیت انھوں نے اپنی جیب سے ادا کر دی۔زیاد بن لبیدنے عثمان رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے کی مذمت میں اشعار کہے تو وہ خود اس کے پاس گئے اور اسے مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے سے روکا۔
لوگوں کے وظائف بڑھانا خلیفۂ سوم کا پہلا فیصلہ تھا۔ بقیہ عطیات برقرار رکھتے ہوئے انھوں نے ہر فوجی کے وظیفے میں۱۰۰ درہم کا اضافہ کیا۔ انھوں نے عبادت گزاروں،اعتکاف کرنے والوں ،مسافروں اور مسکینوں کے لیے مسجد نبوی میں دستر خوان لگوا دیے۔ حضرت عمرکے مقرر کردہ گورنر ان کی وصیت کے مطابق برقرار رکھے گئے۔۲۴ھ خلافت عثمانی کا پہلا سال تھا۔اس سال کئی لوگوں کی نکسیر پھوٹی حتیٰ کہ اسے نکسیر والا سال(سنۃ الرعاف) کہا جانے لگا۔ حضرت عثمان نکسیر پھوٹنے کی وجہ سے حج پر نہ جا سکے ۔ان کی جگہ عبدالرحمان بن عوف امیر حج بنے۔
بحر قزوین کے کنارے واقع شہر آذربیجان ،اس کی بندرگاہ در بند شروان (باب الابواب )اور موقان عہد فاروقی کی آخری فتوحات تھیں ۔یہ علاقے مسلمانوں کے کنٹرول میں آ گئے تو کمانڈر عبدالرحمان بن ربیعہ نے پڑوس کے ترکوں کی جانب پیش قدمی شروع کی۔ترک پہاڑوں میں پناہ لے چکے تھے اور عبدالرحمان راستے میں تھے کہ حضرت عمر کی شہادت کی خبر آ گئی۔ا نھوں نے وہیں رک کرنو منتخب خلیفہ حضرت عثمان کے حکم کا انتظار کرنا مناسب سمجھا۔عہد عثمانی میں ان کی مہم تو سر نہ ہوئی البتہ جب اہل آذربیجان نے ۲۴ھ میں معاہدۂ صلح سے روگردانی کر کے جزیہ دینے سے انکار کیا تو ولیدبن عقبہ نے ان کی سرکوبی کی۔ولید نے عبداﷲ بن شبیل کی قیادت میں ایک لشکر آذربیجان کے پڑوسی شہروں موقان،ببراور طیلسان کی طرف بھی بھیجا۔ یہ علاقے پھر سے زیر نگیں ہو گئے تو ا نھوں نے سلمان بن ربیعہ باہلی کو ارمینیہ روانہ کیا۔یہ شہر حضرت عمر کے دور خلافت میں حضرت خالدبن ولید کے ہاتھوں فتح ہوا تھا اور اب آمادۂ بغاوت تھا۔ بلاذری کے خیال میں سلمان کے بجاے حبیب بن فہری ۶ہزار کا لشکر لے کر اس مہم پرگئے۔ محمد حسین ہیکل نے ان دونوں روایتوں میں یوں موافقت پیداکی ہے، سلمان نے اس شہر کے ایرانی حصے کو جب کہ حبیب نے رومی جانب کوزیر کیا۔ ان سرگرمیوں سے فارغ ہو کر ولیدبن عقبہ موصل پہنچے۔انھیں سیدنا عثمان کا خط موصول ہوا، مجھے معاویہ بن ابو سفیان کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ رومی شام میں موجود مسلمانوں پر حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔یہ خط موصول ہوتے ہی ۸ سے ۱۰ ہزار تک کا لشکر وہاں بھیج دو۔سلمان بن ربیعہ باہلی کی کمان میں یہ جیش شام پہنچا اور وہاں موجود حبیب بن مسلمہ کی فوج سے جا ملا۔ رومیوں کا خیال تھا ،حضرت عمر کی شہادت سے مسلمانوں کا دبدبہ جاتارہا ہے۔جب ا نھوں نے منہ کی کھائی تو آس پاس کے علاقوں پر بھی مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی۔
شام کے محاذ میں پٹنے کے بعد رومیوں کی توجہ مصر کی طرف مرکوز ہوئی۔ انھیں اپنی بحریہ پر اعتماد تھا،وہ جانتے تھے کہ خلافت اسلامیہ کے پاس کوئی بحری طاقت نہیں ہے۔عہد فاروقی میں معاویہ نے بحری بیڑے کی تیاری پر اصرار کیا توحضرت عمر نے عمرو بن عاص سے مشورہ کیا، انھوں نے سمندر کی ہولناکیوں کا ایسا نقشہ کھینچا کہ سمندری فورس بنانے کی اجازت نہ ملی ۔ عمرو نے اہل مصر کو اپنے عقائد پر چلنے کی آزادی دے رکھی تھی۔انھوں نے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ نہ لادا اور اہم مناصب پر مقامی افراد اور مصر رہ جانے والے رومیوں کو فائز کیا ۔ان پالیسیوں سے عام مصری خوش تھے جب کہ باشندگان اسکندریہ ناراض ہوگئے کیونکہ انھیں حاصل امتیازات جاتے رہے تھے۔عمرو کو اس ردعمل کی خبر نہ تھی،انھوں نے اسکندریہ کے محفوظ قلعے مسمار نہ کیے جیسا کہ بعض مصری شہروں میں وہ کر چکے تھے۔ وہاں موجود مسلمان فوجیوں کی نفری بھی ۱ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ ان حالات میں اسکندریہ میں موجود رومیوں نے دار السلطنت قسطنطنیہ میں مقیم شکست خوردہ بازنطینی قیادت سے رابطہ استوار کیا۔ ہرقل کے پوتے شاہ کانسٹنز دوم (Constantine ii )کو معلوم ہوا کہ اس وقت اسکندریہ کی چھاؤنی کم زورہے تو اس نے اس شہر پر سمندر کی جانب سے اچانک حملے کا پروگرام بنا لیا۔مصر کے معزول حکم ران مقوقس کا اس میں کوئی دخل نہ تھا۔ ۲۵ھ(۶۴۵ء) میں جب حضرت عثما ن کو خلافت سنبھالے سوا سال ہو اتھا،رومی کمانڈرمینویل(Manuel) کی سربراہی میں ۳۰۰ سمندری جہازوں کا بیڑاایک بڑی فوج کولے کر چلا۔بڑی رازداری سے اس نے اپنا سفرطے کیااور اسکندریہ اتر کر اس پر قبضہ کر لیا۔زیادہ تر مسلمان سپاہی شہید ہو گئے کچھ نے بھاگ کر جا ن بچائی۔ رومیوں نے زیریں مصر میں بھی غارت گری اور لوٹ مار کی۔
عمرو بن عاص ہی وہ شخص تھے جو اس حملے کا دفاع کر سکتے تھے۔ حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ نے اہل راے کے مشورہ سے ا نھیں ہی مصر سے رومیوں کو نکال پھینکنے کی ذمہ داری سونپی۔ بابلیون کے کمانڈر خارجہ بن حذافہ نے مشورہ دیاکہ اسکندریہ پہنچ کر رومی فوج کو روکا جائے لیکن عمرو نے بابلیون میں رہ کر غنیم کے آنے کا انتظار کیااور اسی دوران میں اپنی فوج منظم کر لی۔رومی نقیوس پہنچے تو وہ۱۵ ہزار کا لشکر لے کر ان کا مقابلہ کرنے نکلے۔قلعۂ بابلیون کے باہر دریا کنارے بڑے زور کا معرکہ ہوا۔عمرو اپنا گھوڑا لے کر اگلی صفوں میں گھس گئے کئی رومیوں کو جہنم واصل کرنے کے بعد ان کا گھوڑا زخمی ہو گیا تووہ پیادہ لڑنے لگے ۔ا نھیں دیکھ کر ان کے سپاہیوں میں بھی جوش کی لہر دوڑ گئی۔ ایک مسلمان حومل نے اپنی شجاعت کا خوب مظاہرہ کیااس نے سخت دو بدو جنگ کے بعد دعوت مبارزت دینے والے رومی کو قتل کیا اور خود بھی شدید زخمی ہوا۔ انجام کار رومیوں کو شکست ہوئی اور وہ واپس اسکندریہ کو دوڑے،انھوں نے جاتے جاتے تمام پل توڑ ے اور بستیاں اجا ڑدیں۔ رومی مظالم سے تنگ آئے ہوئے قبطیوں نے ان پلوں کو جوڑنے میں جیش اسلامی کی مدد کی۔عمرو بن عاص رومی بھگوڑوں کا پیچھا کرتے ہوئے اسکندریہ پہنچے تو وہ قلعہ بند ہوگئے۔انھوں نے منجنیقوں سے پتھر برسانے شروع کیے تو عمرو کو احساس ہوا کہ انھوں نے اسکندریہ کے قلعے برقرار رکھ کر بڑی غلطی کی۔انھوں نے شہر کے مشرقی جانب فوج اتارکر رومی فوج کے باہر نکلنے کے راستے مسدود کر دیے۔تاریخ میں اس محاصرے کی کوئی تفصیل نہیں ملتی یہ کتنا عرصہ جاری رہا اور فتح کے کیا اسباب میسر آئے؟ بس اتنا معلوم ہے کہ قلعوں پر قبضہ ہوا تو زیادہ تر رومی مارے گئے ، اسلامی فوج اسکندریہ کے وسط میں پہنچی تو کوئی فرد بھی مقابلہ کرنے والا نہ تھا۔ ان کی بہت قلیل تعداد فرار ہو کرسمند رمیں لنگر انداز اپنے بحری جہازوں تک پہنچنے میں کامیا ب ہوئی۔عمرو بن عاص نے جس جگہ جنگ سے ہاتھ روکنے کا حکم دیا ،بعد میں وہاں مسجد رحمت تعمیر کی گئی۔ رومیوں کے چلے جانے کے بعد مصر کے مقامی باشندے عمرو کے پاس آئے اور کہا،رومیوں نے ہمارے سب مال مویشی لوٹ لیے ہیں۔انھوں نے حاصل شدہ مال غنیمت ان کے سامنے رکھ دیا اور ثبوت پیش کرنے پر اصل مالک کو اس کی شے لوٹا دی۔
۲۴ھ میں حضرت عثمان نے مغیرہ بن شعبہ کو ہٹا کر سعد بن ابی وقاص کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا۔انھوں نے عمال اور امرا کو خطوط لکھے کہ وہ اپنی رعایا اوراپنے سپاہیوں سے حسن سلوک کریں اور ان کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔ ۲۶ھ میں انھوں نے مسجد حرام میں توسیع کی۔اسی برس جب کہ سعدبن ابی وقاص کو کوفہ کادوبارہ عامل بنے سوا سال ہو چکا تھا کہ عبداﷲ بن مسعود سے ان کا جھگڑا ہو گیا۔ انھوں نے عبداﷲ سے کچھ قرض لے رکھا جو وہ مقررہ مدت میں واپس نہ کر پائے۔حضرت عثمان کو یہ خبر ملی تو وہ ناراض ہوئے اور سعد کو معزول کرکے ولیدبن قبہ کو گورنر بنا دیا۔
حضرت عمر نے اپنے عہد خلافت میں طرابلس (Tripoli)کی فتح کے بعد عمرو بن عاص کو افریقہ میں پیش قدمی سے روک دیا تھا۔دور عثمانی میں جب رومیوں کو مصر سے دوسری بار نکال باہر کیا گیا تو عبداﷲ بن سعد بن ابی سرح نے حضرت عثمان سے افریقہ پر حملہ کرنے کی اجازت مانگی۔۲۷ھ(۶۴۸ء) میں انھیں اجازت ملی تو وہ ۲۰ ہزار کا لشکر لے کر افریقہ روانہ ہوئے۔اس وقت تیونس سے مراکش تک کا سارا علاقہ رومی تسلط میں تھا۔ رومی بادشاہ کانسٹنز دوم (Constantine II) کی طرف سے گریگوری (Gregory) کو یہاں کا گورنر مقرر کیاگیا تھا لیکن اس نے اس وقت عیسائی فرقوں میں جاری نظریاتی کشمکش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بغاوت کردی اور خود بادشاہ بن گیا۔ابن ابی سرح کو روکنے کے لیے وہ اپنی ۲ لاکھ پر مشتمل فوج لے کر دار الحکومت سبیطلہ(Sufetula) سے نکلا ۔کئی روز دونوں فوجیں آمنے سامنے رہیں، چند جھڑپوں کے سوا جنگ کی نوبت نہ آئی ۔اسی اثنا میں عبداﷲ بن زبیر کی کمان میں حضرت عثمان کی بھیجی ہوئی کمک آن پہنچی ، عبد اللہ بن عمر، عبیداﷲ بن عمر، عبدالرحمان بن ابوبکراور عبداﷲ بن عمروجیسے صحابہ اس میں شامل تھے۔ابن زبیر نے ابن ابی سرح کو غائب پایا۔انھیں معلوم ہوا کہ گریگوری (Gregory) نے ان کے سر کی قیمت ۱ لاکھ دینار مقرر کر رکھی ہے اور ان کے قاتل سے اپنی بیٹی بیاہنے کا اعلان کیا ہے تو مشورہ دیا کہ ایسا ہی اعلان عبداﷲ بن سعد بن ابی سرح کی طرف سے بھی کر دیاجائے اور گریگوری کے قاتل کویہاں کا گورنر بنانے کی پیش کش کی جائے۔جنگ شروع ہوئی،کئی روز تک نتیجہ نہ نکلا۔ ایک دن عبد اللہ ا بن زبیرنے اسلامی فوج کے ایک حصے کو خیموں میں آرام کرنے کے لیے چھوڑ دیا۔دوپہر کے بعدلڑائی بند ہوئی ، رومی سپاہی فارغ ہو کر غافل ہوئے ہی تھے کہ ابن زبیر اپنے تازہ دم دستوں کے ساتھ ان پر ٹوٹ پڑے ۔اس اچانک حملے سے وہ سنبھل نہ سکے اورگاجر مولی کی طرح کاٹے جانے لگے۔ میدان جنگ ان کی لاشوں سے پٹ گیا۔ عبداﷲ بن زبیر نے رومی صفوں میں گھس کر گریگوری کو جہنم واصل کیا۔ اس کی بیٹی اسیر ہوئی اور اعلان کے مطابق انھیں کے حصہ میں آئی۔دوسری روایت کے مطابق وہ ایک انصاری کو ملی ۔(ابن اثیر)اب اسلامی فوج کے کمانڈر ابن ابی سرح نے سبیطلہ کا رخ کیا۔ دارالخلافہ پر قبضہ ہوا تو کثرت سے مال غنیمت حاصل ہوا۔ سبیطلہ کے بعد انھوں نے باقی افریقہ بھی زیر کر لیا۔سقو ط افریقہ پر ہر گھڑ سوار کو ۳ ہزار دینار ملے جب کہ پیادہ کے حصے میں ۱ ہزار آئے۔ افریقہ کی مہم پر بھیجتے وقت حضرت عثمان نے ابی سرح سے وعدہ کیا تھا کہ وہ خمس کا پانچواں حصہ بطور انعام انھیں دیں گے۔ جب انھوں نے وعدے کے مطابق ۵/۱ حصہ (کل مال غنیمت کا۲۵/۱) خود رکھ لیا اورباقی ۵ /۴ مدینہ ارسا ل کر دیاتولوگ سخت ناراض ہوئے۔وہ یہ شکایت لے کرعثمان کے پاس پہنچے تو انھوں نے یہ رقم واپس کرنے کا حکم دیا۔ جب انھوں نے مزید کہا ،ہم ان کو اپنا عامل نہیں دیکھنا چاہتے تو انھوں نے ابن ابی سرح کو ہٹا کر ان کی مرضی سے عبداﷲ بن نافع کو افریقہ کا گورنر مقر کر دیا۔ اسلامی حکومت کو اس خطے سے ۱۵ لاکھ (۲۵ لاکھ :بلاذری)دینار سالانہ جزیہ حاصل ہوتا رہا۔حضرت معاویہ کے عہد حکومت میں اہل افریقہ نے بغاوت کی جسے معاویہ بن خدیج نے رفع کیا۔
۲۷ھ عبداﷲ بن سعد بن ابی سرح افریقہ کی جنگ سے لوٹے تو حضرت عثمان نے انھیں مصر کا گورنر متعین کردیا اورعمروبن عاص کو فوج کا کمانڈر رہنے دیا۔ عمرو نے یہ کہہ کراس عہدے سے انکار کردیا،میں وہ گائے نہیں بننا چاہتا جس کے سینگ ایک شخص نے تھام رکھے ہوں اور دوسرا اسے دوہ رہا ہو۔وہ مکہ چلے گئے۔ اگلے سال مصر سے مدینہ پہنچنے والے خراج کی رقم بہت بڑھ گئی توحضرت عثمان نے عمروسے کہا،تمہیں معلوم ہے ،مصر کی اونٹنیوں کا دودھ بڑھ گیا ہے؟عمرو نے ترت جواب دیا ،ہاں! دودھ چھٹائی سے ان کے بچے بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
مطالعۂ مزید:
الطبقات الکبری(ابن سعد)، تاریخ الامم والملوک (طبری)،الکامل فی التاریخ(ابن اثیر)، البدایہ والنہایہ(ابن کثیر)،تاریخ الاسلام(ذہبی)،فتوح البلدان(بلاذری)، عثمان بن عفان (محمد حسین ہیکل)
؂
۷ھ میں فتح افریقہ کے بعد سیدنا عثمانؓ نے عبداﷲ بن نافع بن حصین اور عبداللہ بن نافع بن عبدالقیس نام کے دو جرنیلوں کو بحری راستے سے اندلس روانہ کیا۔آپ نے ان دونوں کو خط تحریر کیاکہ قسطنطینیہ اندلس ہی کی جانب سے فتح ہو گااگر تم فاتح ہوئے تو اجر وثواب میں حصہ دار ہو گے۔ اﷲ نے اس مہم میں جیش اسلامی کو کامیابی دی تاہم اندلس ولید بن عبدالملک کے زمانے میں فتح ہوا۔ابن ابی سرح افریقہ سے رخصت ہوئے توعبداﷲ بن نافع بن عبد القیس وہاں کے عامل مقرر ہوئے۔۲۷ھ میں عثمانؓ بن ابو العاص کے ہاتھوں اصطخر دوبارہ فتح ہو ا اور حضر ت معاویہؓ نے قنسرین پر فوج کشی کی۔
عہد فاروقیؓ میں رومیوں نے سمندر کی جانب سے انطاکیہ پر حملہ کیاتو حضرت معاویہؓ شام کے گورنر تھے ۔ انھوں نے تجویزپیش کی کہ نوزائیدہ اسلامی مملکت سمندری مہمات سر کرنے کے لیے اپنا بحری بیڑا تیار کرے۔حضرت عمرؓاس پر آمادہ نہ ہوئے۔ خلافت عثمانیؓ کی ابتدا میں رومیوں نے دوبارہ بحری حملہ کر کے اسکندریہ کی بندرگاہ اور شہر پر قبضہ کرلیاتوحضرت معاویہؓ نے یہی راے خلیفۂ سوم کے سامنے رکھی ۔ان کی دلیل تھی کہ اسلامی مملکت کی ہزاروں میل لمبی سمندری سرحد کو بحری قوت ہی کے ذریعے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے جزیرۂ قبرص پر فوج کشی کی راے بھی دی جو حمص کے پڑوس میں تھاایک باریک سمندری پٹی ان دونوں شہروں کے بیچ حائل تھی ۔حضرت عثمانؓ کوحضرت معاویہؓ کا مشورہ صائب محسوس ہوالیکن اس وجہ سے متردد تھے کہ حضرت عمرؓ اپنے دور خلافت میں اس مشورے کو رد کر چکے تھے ۔ حضرت معاویہؓ کے اصرار پر انھوں نے اجازت دے دی تاہم شرط رکھی کہ صرف وہی لوگ سمندری فوج میں شامل کیے جائیں جو اپنی مرضی سے آئیں۔حضرت معاویہؓ نے بحری جہاز تیار کرانے شروع کیے تھے کہ عبداﷲ بن سعد بن ابی سرح نے بھی اسکندریہ میں ایک بیڑا کھڑا کر دیا۔
۲۸ھ میں حضرت معاویہ کو توقع سے بڑھ کر رضاکار حاصل ہو گئے تو وہ انھیں لے کر قبرص روانہ ہو گئے۔ان کی اہلیہ فاختہ بنت قرظہ کے علاوہ شام میں مقیم اصحاب رسولﷺ میں سے حضرت ابوذرؓ،حضرت ابو الدرداؓ، حضرتشدادؓ بن اوس، حضرت عبادہؓ بن صامت اور ان کی اہلیہ ام حرامؓ اس لشکر میں شامل تھے۔مروی ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ و سلم کو ایک بار عبادہؓ کے گھر سوئے ۔ آپ ﷺ بیدار ہوئے توہونٹوں پر تبسم تھاپوچھنے پر فرمایا:میری امت کے کچھ لوگ سینۂ سمندر پریوں سوار ہوکر سفر کریں گے جیسے بادشاہ تخت پر متمکن ہوتے ہیں۔ ام حرامؓ نے کہا: دعا فرمائیے اﷲ مجھے بھی ان میں شامل کر دے۔ آپ ﷺنے فرمایا: تم آگے آگے ہو گی۔ جزیر�ۂ قبرص رومی کنٹرول میں تھا لیکن کسی رومی جہاز نے جیش اسلامی کا راستہ نہ روکا۔دشمن کے بے شمار فوجی مارے گئے اور قید ہوئے تو اہل قبرص نے خلافت اسلامی کو ۷ ہزار ۲سو دینار سالانہ جزیہ دینے کا معاہدہ کر کے صلح کر لی ،اتنی ہی رقم وہ رومیوں کے شر سے بچنے کے لیے ان کو دے رہے تھے۔یہ بلاذری کا بیان ہے ۔طبری اور ابن اثیر کہتے ہیں : جنگ قبرص میں مصر سے ابن ابی سرح کے بیڑے نے بھی شرکت کی ۔مصر سے آنے والے بحری جہازوں کی قیادت عبداﷲ بن قیس جاسی نے کی جب کہ عبداﷲبن سعد شامی بیڑے کے امیر تھے۔عبد اﷲ بن قیس نے اپنی بحری مہمات میں کبھی شکست نہ کھائی تھی ۔ عہد اسلامی کے اس پہلے امیر البحر کو رومیوں نے ایک بار اکیلا پایا تو شہید کر دیا۔سفر قبرص سے واپسی پر ام حرامؓ خچر سے گر کرجان بحق ہوئیں انھیں وہیں دفن کر دیا گیا ۔ ۲۸ھ ہی میں نائلہ بن فرافصہ کلبیہ سے حضرت عثمانؓ کی شادی ہوئی جو عیسائیت چھوڑ کر مسلمان ہوئیں تب ولیدؓ بن عقبہ بنو کلب کے عامل تھے انھوں نے یہ نسبت طے کی۔ دوسری روایت کے مطابق سعیدؓ بن عاص نے رشتہ کرایا نائلہ کی بہن ہند بن فرافصہ ان کے عقد میں تھیں۔حضرت عثمانؓ اس شادی سے بہت خوش تھے۔
۹ ۲ھ میں حضرت عثمانؓ نے ابو موسیٰ اشعریؓ کو ہٹا کرایک ۲۵ سالہ نوجوان عبداﷲبن عامر کوبصرہ کا گورنر مقرر کیا،وہ ان کے ماموں زاد تھے۔ انھوں نے خراسان پر عمیر بن عثمان، اور سجستان پر عبداﷲ بن عمیر لیثی کی تقرریاں کیں ،عبیداﷲ بن معمر کو مکران اور عبدالرحمان بن غبیس کو کرمان کی مہمات پر بھیجا۔ اس سال ایران میں معاہدات صلح کی کئی خلاف ورزیاں ہوئیں۔اہل اصطخرکی عہد شکنی پر عبداﷲبن عامر، ابوبرزہؓ اسلمی ،معقلؓ بن یساراور عمرانؓ بن حصین نے قابو پایا۔ عبداﷲنے دارابجرداور جور کی بغاوتوں کو بھی فرو کیا۔ واقدی کے قول کے مطابق ۲۹ھ ہی میں حبیب بن مسلمہ فہری کے ہاتھوں ارمینیا فتح ہوا۔
ربیع الاول ۲۹ھ میں حضرت عثمانؓ نے مسجد نبو ی کو توسیع دی۔ انھوں نے اس کی تعمیر نومیں منقش پتھر استعمال کرنے کا حکم دیا ستون پتھر اورگچ سے بنوائے اور چھت پر سال (ساگوان) کی لکڑی ڈلوائی۔اس طرح مسجد کی لمبائی ۱۶۰ گز اور چوڑائی ۱۰۰ گز ہو گئی،اس کے ۶ دروازے اسی طرح برقرار رکھے گئے جیسے عہد فاروقی میں تھے ۔خلیفۂ ثالث امسال حج پر گئے توپہلی بار منی میں خیمہ لگوایا۔انھوں نے منی و عرفات میں کامل ۴ رکعتیں ادا کیں۔یہ پہلا موقع تھا کہ ان پر سر عام اعتراض ہوا۔ حضرت علیؓ نے کہا: نبی صلی اﷲ علیہ وسلم اور ابوبکرؓ و عمرؓ کا عمل آپ کو معلوم ہے، انھوں نے ۲ رکعتیں ہی ادا کیں ۔حضرت عبدالرحمانؓ بن عوف نے کہا:کیا آپ نے خود ان حضرات کے ساتھ نماز دوگانہ ادا نہیں کی؟حضرت عثمانؓ کا جواب تھا:مجھے کچھ یمنیوں کے بارے میں پتا چلا وہ ۲ رکعتوں ہی کو اصل نماز سمجھنے لگے ہیں پھر میں نے مکہ میں شادی کر رکھی ہے اور طائف میں میرے مال مویشی ہیں۔ حضرت عبدالرحمانؓ بن عوف نے کہا :اس کے باوجود آپ کے لیے یہ حضر نہیں بلکہ سفر ہے۔آخر کار حضرت عثمانؓ نے کہا: ایک راے تھی جو میں نے اختیار کر لی۔حضرت عبداﷲؓ بن مسعود نے کہا: اختلاف کرنا بری بات ہے میں نے تو اپنے ساتھیوں کو ۴ رکعتیں پڑھادی ہیں۔
۳۰ھ میں حضرت عثمانؓ نے ولیدؓ بن عقبہ بن ابی معیط کو کوفہ کی گورنری سے معزول کر دیا اور ان کی جگہ سعیدؓ بن عاص کی تقرری کی۔ حضرت ولیدؓ ۵ سال تک عوام کے محبوب گورنر رہے تھے ، کہا جاتا ہے انھوں نے ابن حیسمان خزاعی کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا تو اہل کوفہ ان کے خلاف سرگرم ہو گئے۔ ان پر الزام لگایا گیاکہ وہ ایک شاعر ابو زبید کے ساتھ مل کر شراب نوشی کرتے ہیں، یہ بھی کہاگیا کہ ا نھوں نے نشے کی حالت میں فجرکی ۴ رکعتیں پڑھا دیں اور پوچھاکیا اور پڑھاؤں؟حضرت ولیدؓ کے بدخواہ حضرت عبداﷲؓ بن مسعود کے پاس گئے تو انھوں نے کہا:جو عیب ہم سے مخفی ہے ،ہمیں اس کا کھوج نہیں لگانا چاہیے۔مدینہ پہنچ کر ابو زینب اور ابو مورع نے ان کے خلاف گواہی دے دی تو حضرت عثمانؓ نے انھیں کوڑے لگانے کا حکم دیا ۔انھوں نے سعیدؓ بن عاص کو نیا گورنر بنایا اور انھیں تلقین کی، اسلام و جہاد کی طرف سبقت کرنے والوں کو ترجیح دو۔
۳۰ھ میں کوفہ کے گورنر سعیدؓ بن عاص نے طبرسان پر فوج کشی کی۔ حضرت حسنؓ و حضرت حسینؓ،عبادلۂ اربعہ (ابن عمرؓ،ابن عباسؓ، ابن عمروؓ بن عاص اور ابن زبیرؓ) اور حذیفہؓ بن یمان ان کے ساتھ تھے۔ قومس سے ہوتے ہوئے وہ جرجان پہنچے اور ۲ لاکھ دینار سالانہ جزیہ کے عوض صلح کی ۔طمیسہ میں انھیں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔شدید لڑائی میں جیش اسلامی نے صلاۃ خو ف ادا کی، حضرت حذیفہؓنے راہ نمائی کی۔ آخر کار قلعۂ شہر میں بند دشمن نے امان چاہی تو حضرت سعیدؓنے کہا کہ وہ ایک آدمی قتل نہ کریں گے، جب دروازہ کھلا تو انھوں نے ایک شخص کو چھوڑ کرسب اہل شہر کو قتل کر دیا۔ اہل جرجان معاہدے کے مطابق جزیہ ادانہ کرتے ،ان کی کاروائیوں سے قومس سے خراسان جانے کا راستہ بھی بند ہو گیا۔ یزید بن مہلب آئے تو حضرت سعیدؓ ہی کی شرائط پر ان سے دوبارہ صلح کی۔انھوں نے بحیرہ اور دہستان کے علاقے بھی زیر کیے۔اسی سال یزدگرد جور سے فرار ہو کر کرمان جا رہا تھا کہ حضرت مجاشعؓ بن مسعود نے ایک دستہ لے کر اس کا پیچھا کیا۔اس نے خراسان کا رخ کر لیا حضرت مجاشعؓ اس کے تعاقب میں تھے کہ برفانی طوفان نے آن لیا۔ان کی تمام فوج ماری گئی ان کے علاوہ محض ایک شخص اور ایک باندی بچنے پائے۔
حذیفہؓ بن یمان رے اور آذربیجان کی جنگوں میں شریک رہے۔ایران و شام کے سفروں میں انھوں نے دیکھاکہ حمص، دمشق ، کوفہ اور بصرہ کے مسلمان مختلف طریقوں سے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اوراپنی قرآت کو بہتر سمجھتے ہیں۔اہل حمص نے مقدادؓ بن عمروسے قرآن سیکھا (جو اسود بن عبد یغوث کا لے پالک ہونے کی وجہ سے مقدادؓ بن اسود کے نام سے جانے جاتے ہیں)جب کہ کوفہ کے رہنے والے عبداﷲؓ بن مسعود کے شاگرد تھے۔ بصریوں نے ابو موسیٰ اشعریؓ سے پڑھا انھوں نے اپنے مصحف کا نام ’’لباب القلوب ‘‘(دلوں کا جوہر)رکھا ہوا تھا۔اپنی دینی کتاب کے بارے میں مسلمانوں کے اس اختلاف سے حضرت حذیفہ سخت پریشان ہوئے۔ انھوں نے کوفہ میں موجود صحابہؓ کواس کے عواقب سے خبردار کیا ،پھر مدینے کا رخ کیا اور اپنی تشویش سیدناعثمانؓ کے سامنے رکھی۔اس سے قبل عہد صدیقیؓمیں ہونے والی جنگ یمامہ میں کثرت سے حفاظ شہید ہوئے تو حضرت ابو بکرؓ کوفکر لاحق ہوئی کہ قرآن کامتن ضائع نہ ہو جائے ۔ان کے حکم پر حضرت زیدؓ بن ثابت نے آیات کویکجا املا کرکے ایک مصحف کی شکل دے دی۔خلیفۂ اولؓ کی وفات کے بعد یہ مصحف حضرت عمرؓ کے پاس آ گیا۔ وہ شہیدہو ئے تو ام المومنین حفصہؓ بنت عمرؓ کی تحویل میں رہا۔حضرت عثمانؓ نے مصحف ان سے منگوا یا،زیدؓ بن ثابت،عبداﷲؓ بن زبیرؓ،سعیدؓ بن عاص اور عبدالرحمانؓ بن حارث سے اس کی نقلیں تیار کرائیں اور تمام بلاد اسلامیہ بھجوا دیں۔انھوں نے وہ مصاحف ضائع کرنے کا حکم بھی دیا جو اصل مصحف کے موافق نہ تھے۔ان کے اس عمل کی سب نے تحسین کی البتہ عبداﷲؓ بن مسعود اور ان کے شاگردوں نے پسند نہ کیا۔
۳۰ھ ہی میں رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم کی انگشتری حضرت عثمانؓ کے ہاتھ سے مدینہ سے ۲ میل(۲،۳ کلو میٹر) دور واقع بئراریس میں گر گئی۔یہ کنواں ایک یہودی اریس کے نام سے منسوب تھا۔ چاندی کی انگوٹھی پر’’ محمد رسول اﷲ‘‘ ۳ سطروں میں نقش تھا۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ اس وقت بنوائی تھی جب اسلام کی سچی دعوت دینے کے لیے جزیرہ نماے عرب سے باہرکے سربراہان مملکت کوخطوط لکھنے کا ارادہ فرمایا۔ آپ ﷺ کو بتایا گیا تھاکہ ملوک عجم مہر لگا خط ہی وصول کرتے ہیں۔ شیخین ابوبکرؓ و عمرؓ سے ہوتی ہوئی یہ حضرت عثمانؓ کے پاس آئی۔ اپنی خلافت کے چھٹے سال انھوں نے مدینہ کے نواح میں مسجد قبا کے قریب واقع بئر اریس کی صفائی کروائی۔وہ منڈیر پر کھڑے انگوٹھی ہاتھ میں گھما رہے تھے کہ کنویں میں جا پڑی ۔ کنویں کا سارا پانی نکال کر انگوٹھی ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی گئی لیکن وہ نہ ملی۔تب امیر المومنینؓ نے چاندی کی ویسی ہی نئی انگوٹھی بنوائی اور اس پر وہی تین سطری عبارت نقش کرائی۔ جب انھیں شہید کیا گیا تو اس انگوٹھی کا بھی سراغ نہ ملا۔
حضرات ابوذرؓ و معاویہؓ میں نزاع بھی امسال ہی پیدا ہوا۔ دونوں اصحابؓ رسول شام میں مقیم تھے۔ابوذرؓ مال جمع کرنے کی وجہ سے عام مسلمانوں پرتنقید کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھاکہ ایک مسلمان کو ایک دن اور رات کے خرچ سے بڑھ کر مال اپنے پاس نہ رکھنا چاہیے زائد مال صدقہ کرنا اس کے لیے واجب ہے۔ دلیل کے طور پر وہ سورۂ توبہ کی یہ آ یت پڑھتے،’’الذین یکنزون الذہب والفضۃ ولا ینفقونہا فی سبیل اﷲ فبشرہم بعذاب الیم‘‘’’جولوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اسے اﷲ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انھیں دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو‘‘(آیت۳۴)۔ان کے خیالات غریب مسلمانوں تک پہنچے تو وہ امرا کی دولت کو اپنا حق سمجھنے لگے ۔حضرت معاویہؓ نے اس صورت حال کی خبر حضرت عثمانؓکو کی۔ انھوں نے حضرت ابوذرؓ کو مدینہ طلب کیا اور کہا:رعایا کو جبراً زاہد بنانا مجھ پر لازم نہیں۔حضرت ابوذرؓ نے کہا:آپ دولت مندوں سے اس وقت تک راضی نہ ہوں جب تک وہ اپنے پڑوسیوں اور اعزہ و اقارب سے حسن سلوک نہ کر لیں۔باتوں باتوں میں وہاں پر موجودکعبؓ احبار سے ان کا جھگڑا ہوگیا ،انھوں نے کعبؓ کا سر پھاڑ ڈالا ۔آخرکارابوذرؓ نے خود کہامجھے مدینہ سے باہر جانے دیجیے کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا تھاکہ’’جب آبادی کوہ سلع تک آ جائے تو تم مدینہ سے چلے جانا۔‘‘ وہ نواحی بستی ربذہ میں آ گئے وہاں ایک مسجد تعمیر کر کے رہنے لگے ۔حضرت عثمانؓ نے روزانہ خرچ مقرر کرنے کے علاوہ انھیں کچھ اونٹ اور خدمت کے لیے دو غلام دیے ۔ یہیں ان کا انتقال ہوا۔
رومی سالاروں کو یقین ہو گیاتھا اگر اسلام کی بحری قوت بڑھتی رہی تو وہ کبھی مصر وشام واپس نہ جا سکیں گے اس لیے انھوں نے یہ نوخیز بحریہ تباہ کرنے کی ٹھانی۔ اپنی بہتر عسکری صلاحیت اور بے شمار جنگی جہازوں پر انھیں بہت بھروسا تھا۔ ۳۱ ھ،۶۵۲ء(یا دوسری روایت کے مطابق۳۴ھ،۶۵۲ء) میں ہرقل کا پوتا کانسٹنز دوم (Constans II) ۵سو سے زائد بحری جہازوں کے بیڑے کی خود قیادت کرتا ہوابحر روم ( mediterranean sea ) کے راستے اسکندریہ روانہ ہوا۔ ادھر گورنرمصر عبدﷲ بن سعد بن ابی سرح ۲ سو جہازوں پر اپنے جنگ آزمودہ سپاہی لے کر نکلے۔اناطولیہ (ترکی)کی قدیم ریاست Lycia کی بندرگاہ فینیکس( Phoenicus ، ترکی کے موجودہ شہر Finike)پر کھلے سمندر میں فوجوں کا سامنا ہوا،رات ہونے کو تھی اور اسلامی بیڑے کے رخ میں تند ہو اچل رہی تھی۔وہ رات رومیوں نے نقارے بجانے اورصیلیب بنانے میں بسرکی جب کہ مسلمان نماز وتلاوت میں مشغول رہے۔ ابن ابی سرح نے کانسٹنز کوزمینی جنگ لڑنے کی پیش کش کی۔ اسے اپنی بحری طاقت پر نازتھا اور وہ اسلامی بیڑا مٹانے کا عزم لے کر آیا تھا اس لیے انکار کر دیا۔ رومی جہازوں کو باندھ کر صف آرا کر دیا گیا۔ مسلمان بھی اپنا بیڑا قریب لا کر لنگرانداز ہوگئے۔سخت جنگ چھڑ گئی سپاہی خنجروں اور تلواروں سے دست و گریباں ہوئے۔دونوں فریقوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ہلاک اور زخمی ہونے والے سپاہی سمندر میں گرتے اور موجیں انھیں ساحل پر لا پھینکتیں اس طرح سمندر خون سے سرخ ہو گیااور ساحل پرلاشوں کے ڈھیر لگ گئے۔ کانسٹنز بھی شدید زخمی ہوا ، بازی ہرتے ہوئے دیکھ کر اس نے بھیس بدلا اور اپنے بچے کچھے فوجیوں اور تباہ حال جہازوں کو لے کر فرار ہوگیا۔ وہ استنبول سے ہوتا ہوا صقلیہ (Sicily) پہنچا تو نصرانی سخت ناراض ہوئے اور اسے حمام میں گھسا کر مار ڈالا۔ مورخین اس معرکے کو جنگ صواری،مستولوں والی جنگ، Battle of the Masts The یا The Battle of Phoenix (Phoenicus)ٍکے نام سے یادکرتے ہیں کیونکہ اس میں بحری جہاز ایک دوسرے سے باندھ دیے گئے تھے حتی کہ یہ جگہ Phoenicusبھی ذات الصواری(مستولوں والی) کے نام سے جانی جانے لگی۔اس جنگ کے بعد رومیوں کی سمندری برتری کا خاتمہ ہو گیا۔انھوں نے پھرمصر و شام پر بحری حملہ کرنے کی کوشش نہ کی۔ عبداﷲ بن ابی سرح نے شکست خوردہ رومیوں کا پیچھا نہ کیا کچھ روز ذات الصواری(Phoenicus)میں قیام کرنے کے بعد وہ مصر لوٹ گئے ۔فرار ہوتے ہوئے دشمن پر کاری ضرب نہ لگانے کی وجہ سے انھیں اور حضرت عثمانؓ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ۔محمد بن ابو حذیفہ اور محمد بن ابوبکرؓ اس کام میں پیش پیش تھے۔
آخری ساسانی (Sassanid)بادشاہ یزدگرد عہد عثمانیؓ میں اپنے انجام کوپہنچا۔۳۱ھ میں وہ مرو سے فرار ہو رہا تھا کہ کچھ ترکوں (یا مرویوں)نے اس پر حملہ کر دیا۔اس کے ساتھی مارے گئے وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔اس نے بھاگ کر ایک چکی بنانے والے کے ہاں پناہ لی ۔رات کو وہ سو یا تو چکی والے نے اسے مار ڈالا تاج شاہی اور جواہرات پر قبضہ کیا اور نعش دریاے مرغاب میں پھینک دی ۔ ترک(یا مروی) پیچھا کرتے ہوئے آئے چکی والے کو ختم کیا اور تمام مال و اسباب چھین کر چلتے بنے۔مرو کے پادری ایلیانے دریا سے بادشاہ کی لاش نکال کر تابوت میں رکھی پھر اسے اصطخرلے جا کر دفن کیا گیا۔کچھ شاہی زیورات حضرت عثمانؓ کے پاس مدینہ پہنچ گئے۔
۳۱ھ میں عبداﷲ بن عامر گورنر بصرہ کے حکم پر احنف بن قیس نے مرورود کا محاصرہ کیا۔وہاں کے باشندوں نے ۱۲ لاکھ دینارسالانہ جزیہ دینے کا معاہدہ کر کے صلح کر لی تو وہ بلخ (طخارستان) کی طرف بڑھے ۔تھوڑی سی لڑائی کے بعد یہ مفتوح ہوا تو انھوں نے اسید کو وہاں کا عامل مقرر کیا جنھوں نے عہد صلح کی تکمیل کی۔امسال طالقان اورفریاب بھی احنف کے ہاتھوں فتح ہوئے۔ دوسری طرف اقرعؓ بن حابس نے جوزجان سر کیا ۔کرمان اور خراسان سپریم کمانڈر عبداﷲ بن عامر نے خود فتح کیے۔ نیشاپور ، سرخس اور طوس بھی ان کے ہاتھ زیر ہوئے۔اسود بن کلثوم نے بیہق پر قبضہ کیا۔سجستان عہد فاروقیؓ میں فتح ہو چکا تھا۔ وہاں کے لوگوں نے عہد شکنی کی تو ربیع بن زیاد حارثی آئے اور انھیں پھر سے صلح پر مجبور کیا۔ربیع نے کرکویہ، زرنج اور سنارودکے باشندگان سے بھی معاہدات کیے۔ ۳۱ھ میں فتوح خراسان مکمل ہونے کے بعد عبداﷲ بن عامر نے نیشاپور سے احرام باندھا اورشکرانے کے لیے عمرہ ادا کرنے روانہ ہوئے۔حضرت عثمانؓ سے ملاقات کے لیے گئے تو انھوں نے ملامت کی اور فرمایا:کاش تم اس وقت کا لحاظ بھی کرتے جس میں لوگ تمہاری خدمات سے محروم رہیں گے۔
خلافت راشدہ کے بابرکت دور میں ہونے والی بے شمار فتوحات کے ساتھ ۳۲ھ(۶۵۳ء )میں اہل ایمان کو ترکوں اورخزروں(Khazars) کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔خزر ایک خانہ بدوش قوم تھی جس نے دوسری صدی عیسوی میں جنوبی قفقاز (South Caucasus)یا ماورائے قفقاز ( Transcaucasia)میں جنم لیا اور پھر زیریں علاقے شمالی قفقاز(North Caucasus )میں منتقل ہو گئی۔۷ویں صدی میں اس نے بحر قزوین (Caspian Sea) اور بحر اسود (Black sea)کے شمالی ساحل سے دریاے والگا(Volga) اوردریاے ڈینیپر (Dnieper) تک کے علاقوں پر اپنا تسلط جما لیا۔آج کل کے یوکرائن، قازقستان، جارجیا،کریمیااور آذربائیجا ن کے علاقے بھی اس کی خاقانی سلطنت (Khaganate)میں شامل تھے،کہا جاتا ہے کہ یہ قوم حزر بن یافث بن نوح ؑ کی اولاد تھی۔
ہونے والی جنگوں میں عجمیوں نے بھاری جانی نقصان اٹھایااور سپاہ اسلام بسا اوقات کوئی جان ضائع کیے بغیر غلبہ پاتی رہی۔ مفتوحین کو خیال ہونے لگاشاید فرشتوں کی طرح مسلمانوں کو موت ہی نہیں آتی اس لیے انھوں نے ان پرموت آزمانے کا منصوبہ بنایا،وہ جھاڑیوں میں چھپ کر بیٹھ گئے جب اہل ایمان کا ایک دستہ وہاں سے گزرا تو ان پر تیروں کی بوچھاڑ کر کے انھیں شہید کر ڈالا۔ اب ان کے حوصلے بڑھے ا ور وہ کسی بڑے حملے کی تیاری کرنے لگے ۔ حضرت عثمانؓ ،عبدالرحمانؓ بن ربیعہ کو خط لکھ چکے تھے کہ رعایاخفیہ تدبیریں کر رہی ہے مسلمانوں کو کسی خطرے میں نہ ڈال دینا لیکن انھوں نے اپنی مہمات بے خطرجاری رکھتے ہوئے بلنجر(بلنزر،حضرت ذوالقرنین ؑ کے تعمیر کردہ بند کے قریب واقع خزر خاقانیت کا دارالخلافہ) کی طرف پیش قدمی کی۔یہاں ترکوں اور خزرسے ان کا سخت مقابلہ ہوا۔ دونوں طرف سے منجنیقوں کا استعمال کیا گیا۔اس پہلی عرب خزر جنگ میں عبدالرحمانؓ اور ان کے بے شمار سپاہیوں نے شہادت پائی۔ اسلامی فوج شکست کھا کر دو حصوں میں بٹ گئی ایک حصہ زیریں شہردربند شروان (Derbent، باب الابواب) کی طرف بھاگا اورحضرت عبدالرحمانؓ کے بھائی حضرت سلمانؓ بن ربیعہ کی قیادت میں آنے والی کمک سے جا ملا،ایک گروہ جس میں حضرت سلمانؓفارسی،حضرت ابوہریرہؓ، علقمہ بن قیس اور خالد بن ربیعہ تھے، خزر ، جیلان اور جرجان میں منتشر ہو گیا۔آخرکارحضرت سلمانؓ بن ربیعہ کے جیش نے فتح پائی اور وہی باب (دربند) کے نئے عامل مقر ر ہوئے۔
مطالعۂ مزید:تاریخ الامم والملوک (طبری)،الکامل فی التاریخ(ابن اثیر)،المنتظم فی تواریخ الملوک والامم(ابن جوزی)، البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)،فتوح البلدان(بلاذری)، عثمان بن عفان(محمد حسین ہیکل) ، معجم البلدان (یاقوت حموی)، Wikipedia

۳۲ھ میں عبداﷲ بن عامر، قیس بن ہیثم کو خراسان کاوالی مقرر کر کے واپس ہوئے تو قارن ۴۰ ہزار کی فوج جمع کر کے طبسین سے خراسان روانہ ہوا۔قیس نے عبداﷲ بن خازم سے مشورہ کیا تو انھوں نے کہامیں یہاں رہ کر انھیں جنگ میں الجھاتا ہوں ،آپ ابن عامر کے پاس جا کر کمک لے آئیں۔قیسں نے ۴ ہزار کی نفری تیار کی ۔کوچ سے پہلے انھوں نے ہدایت جاری کی ہر شخص اپنے نیزے سے روئی یا کپڑے کا ٹکڑا باندھ لے اور اسے گھی یا زیتون کے تیل سے تر کر لے۔ رات ہوئی تو انھوں نے ان فلیتوں (فتیلوں)کو آگ سے روشن کرنے کا حکم دیا ۔نصف شب کے قریب اس لشکر نے قارن کی سوئی ہوئی فوج پر دھاوا بول دیا۔نیند میں مست فوجی ہڑبڑا کر اٹھے تو انھیں اوپر نیچے،آگے پیچھے ہر طرف آگ حرکت کرتی نظر آئی جس سے وہ خوف زدہ ہو گئے۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمان سپاہ نے قارن اور اس کے بہت سے فوجی قتل کر دیے اور بے شمار کو قید کر لیا گیا۔گورنر ابن عامر نے اس فتح سے خوش ہو کرابن خازم کو خراسان کا والی بنا دیا۔
۳۳ھ میں کوفہ کے ایک گروہ نے خلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفان ،گورنر سعید بن عاص اورقبیلۂ قریش کو علانیہ برا بھلا کہنا شروع کیا۔کمیل بن زیاد، اشتر نخعی (مالک بن یزید)، ثابت بن قیس ،علقمہ بن قیس ، جندب بن زہیر،جندب بن کعب ، صعصہ بن صوحان،عروہ بن جعد اور عمرو بن حمق اس میں شامل تھے۔ حضرت سعید نے ان کی خبر حضرت عثمان کو کی تو انھوں نے انھیں حضرت معاویہ کے پاس شام بھیجنے کا حکم دیا۔ حضرت معاویہ نے ان کوتقویٰ کی روش اپنانے کی تلقین کی اور تفرقہ ڈالنے سے منع کیا لیکن وہ ان پر پل پڑے اور ان کی ڈاڑھی اور بال نوچ لیے۔ فتنہ گروں نے حضرت عثمان سے درخواست کی ،انھیں کوفہ واپس بھیج دیا جائے۔واپس آ کر انھوں نے اپنی فتنہ انگیزی جاری رکھی تو امیر المومنین نے حمص بھجوا دیا۔ وہاں کے گورنر خالد بن ولید کے بیٹے عبدالرحمان کے ڈرانے دھمکانے پر انھوں نے اپنی حرکتوں سے باز آنے کا وعدہ کیا ۔انھی کے کہنے پر اشتر مدینہ گیا اور اپنے پورے گروہ کی جانب سے حضرت عثمان سے معافی مانگی۔ وہ واپس پہنچا تو عبدالرحمان نے انھیں ساحل سمندر پر لا بسایا اور ان کی روزی مقرر کر دی۔ اسی سال ایسے ہی ایک گروپ کو بصرہ سے شام اور مصر بھیجا گیا۔
حُکیم بن حبلہ بصرہ کا لٹیرا تھا جو بھیس بدل کر لوگوں کو لوٹتا ۔اس کی شکایت حضرت عثما ن کو پہنچی تو انھوں نے اسے جیل میں ڈالنے کا حکم دیا۔ اہل کتاب میں سے ایک شخص ابن سودا(عبداﷲ بن سبا) کی سرگرمیاں بھی مشکوک تھیں،گورنر بصرہ عبداﷲ بن عامر نے اسے کوفہ سے نکلوا دیا۔ایسا ہی ایک کردار حمران بن ابان تھا،اس نے ایک عورت سے اس کی عدت گزرنے سے پہلے عقد کر لیاتو حضرت عثمان نے فسخ نکاح کے ساتھ اسے سزا دی اور بصرہ بھجوا دیا۔یہاں وہ ابن عامر کی صحبت میں رہنے لگا لیکن جب لایعنی بحثوں میں الجھنے لگا تو انھوں نے اسے شام روانہ کیا۔ کوفہ سے نکالے ہوئے لوگ شام پہنچے تو حضرت معاویہ نے انھیں ایک حویلی میں ٹھہرایااور کہا تم سب حماقت کا شکار ہوئے ہو ۔صعصعہ! تو سب سے بڑا احمق ہے۔تم جو چاہو کرتے رہو لیکن اﷲ کے احکام سے منہ نہ موڑو،امت سے چپکے رہو گے تو کامیاب ہو جاؤ گے ۔ان کے کہنے کا اتنا اثر ہوا کہ وہ نمازوں میں حاضر ہونے لگے ۔
۳۴ھ میں عمال کے اتنے تبادلے ہوئے کہ کوفہ میں کوئی بڑا لیڈر نہ رہا،ان حالات میں فتنہ گروں کو ابھرنے کا موقع مل گیا۔ عامر بن عبداﷲ تمیمی نے سیدنا عثمان سے ملاقات کی اور تمام گورنروں کو معزول کرنے کا مطالبہ کیاتوانھوں نے مشاورت کے لیے گورنروں کو طلب کیا۔عبداﷲ بن عامر نے مشورہ دیا لوگوں کو جہاد میں مشغول رکھیں اس طرح کی سرگرمیوں سے باز آ جائیں گے۔سعیدبن عاص نے کہا فتنہ گروں کے لیڈروں کوختم کر دیا جائے تو یہ خود ہی ختم ہو جائیں گے۔ حضرت معاویہ نے کہا گورنروں اور کمانڈروں پرذمہ داری ڈالیں کہ ان سے نمٹیں۔ ابن ابی سرح کا مشورہ تھا انھیں مال ودولت سے نوازا جائے تو یہ راضی ہو جائیں گے۔ عمرو بن عاص بھی موجود تھے انھوں نے سخت لہجے میں کہاجو بات عوام کو پسند نہ ہو ،اس میں اعتدال سے کام لینا چاہیے اور جب فیصلہ ہو جائے تو اس پر پختگی سے کاربند رہنا چاہیے۔ حضرت عثمان نے ان تمام مشوروں کو تسلیم کر کے ان پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ انھوں نے عطیات تقسیم کیے اور سرحدوں پر فوج جمع کرنے کا حکم دیا۔کوفہ میں یزید بن قیس گورنر سعید بن عاص کو ہٹانے کی مہم شروع کر چکا تھا اس لیے وہاں کے باشندگان نے ان کی قیادت میں لڑنے سے انکار کر دیا۔ مقامی کمانڈر قعقاع نے گرفت کی تو یزیدنے کہاہم حضرت سعید سے استعفا چاہتے ہیں۔اس نے منادی کرائی جو حضرت سعید کو ہٹاکر ابوموسیٰ اشعری کو گورنر بنوانا چاہتا ہے مجھ سے مل جائے پھر مختلف شہروں سے نکالے ہوئے اپنے ساتھیوں کو خط لکھے کہ وہ مصر میں جمع ہوجائیں ۔ عمروبن حریث نے فتنہ پردازوں کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن قعقاع کا خیال تھاتلوار ہی ان کا علاج ہے۔اسی اثنا میں یزید اور اشتر جرعہ (قادسیہ کے قریب ایک جگہ ) پہنچ گئے، یہاں ان کی ملاقات حضرت سعید سے ہوئی تو انھوں نے خوب ہنگامہ کیا۔حضرت سعیدنے جنگ سے اجتناب کیا اور کہایہ مسئلہ حل کرنے کے لیے اتنا کافی تھا کہ تم اپنا کوئی نمائندہ امیر المومنین کے پاس بھیج دیتے۔وہ خود مدینہ پہنچے اور حضرت عثمان کو بتایا کہ اہل کوفہ ابو موسیٰ اشعری کو بطور گورنرواپس لانا چاہتے ہیں۔حضرت عثمان نے فرمایا: ہم ان کی مانگ پوری کیے دیتے ہیں کیونکہ ہم چاہتے ہیں کسی کے پاس کوئی عذر یا حجت نہ رہے۔ انھوں نے اسی مضمون کا خط یزید بن قیس اور اس کے ساتھیوں کو بھی بھیجا۔ ابوموسیٰ تقرری کے بعد کوفہ پہنچے اور لوگوں سے خطاب کیا، آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا اطاعت اور جماعت سے چپکے رہنا۔ انھوں نے نماز پڑھانے سے پہلے ان سے امیرالمومنین عثمان بن عفان کے لیے سمع و طاعت کا وعدہ لیا۔
َٰحضرت عثمان کے خلاف مہم چلانے میں عبداﷲ بن سبا(ابن سودا)نے بھی اہم رول ادا کیا۔ صنعا کا رہنے والا یہ یہودی عہد عثمانی ہی میں ظاہراً مسلمان ہوا۔ پہلے اس نے حجاز،بصرہ، کوفہ اور شام کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔یہاں کامیابی نہ ملی تومصر جاپہنچاجہاں اسے اپنی ضلالت پھیلانے کا موقع مل گیا۔وہ لوگوں سے پوچھتاکیایہ ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں لوٹ کر آئیں گے؟ہاں میں جواب ملنے پر کہتا، تو کیا وجہ ہے کہ حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم جو ان سے افضل ہیں نہ لوٹیں؟پھر کہتاہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے او ر حضرت علی، محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصی ہیں۔اس طرح محمدﷺ خاتم الانبیااور حضرت علی خاتم الاوصیا ہوئے لیکن عثمانؓ نے وص�ئرسولﷺ کا حق چھین لیا ہے ۔ تنقید ہوئی تو اس نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا پرچار کرنا شروع کر دیا،اس کے ساتھ ساتھ حضرت عثمان کے گورنروں پر طعنہ زنی کرتا ۔ کئی مصری اس کے فتنے کا شکار ہو گئے تو اس نے کوفہ و بصرہ میں اپنے ہم خیالوں سے خط وکتابت کر کے خلیف�ۂ ثالث کے خلاف بغاوت میں ساتھ دینے کا وعدہ لیا۔اس کے ساتھیوں نے ہر شہر میں اپنے فسادی ساتھیوں سے مکاتبت کی ،اس طرح سبائی خیالات کی حامل چٹھیاں (پمفلٹ)ہر طرف پہنچ گئیں۔ حضرت عثمان کوان سرگرمیوں کا پتا چلا تو انھوں نے صحابہ کے مشورے سے محمدبن مسلمہ کو کوفہ،اسامہ بن زیدکو بصرہ،عمار بن یاسر کو مصر اور عبداﷲ بن عمرکو شام بھیجا تاکہ وہ ان صوبوں کی صورت حال کا جائزہ لے کر ان کو رپورٹ دیں۔ ان سب کو عوام کی طرف سے کوئی شکایت نہ ملی تاہم اہل مدینہ نے بتایاکچھ لوگوں کو مارا پیٹا گیا اور کچھ کو گالی گلوچ کی گئی ہے۔یہ دیکھتے ہوئے سیدنا عثمان نے ہر شہرمیں خط بھجوا دیے جس کسی کا مجھ پر یا میرے عمال پر کوئی حق نکلتا ہے ایام حج میں دعویٰ کرسکتا ہے ۔ انھوں نے گورنروں سے مشورہ بھی کیا۔گورنربصرہ سعید بن عاص نے حسب سابق افواہیں پھیلانے والے سازشیوں کو قتل کرنے کا سجھاؤ دیا۔ گورنر شام حضرت معاویہ نے نرمی کے ساتھ ساتھ سختی سے کام لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ بوقت رخصت انھوں نے کہاامیر المومنین آپ شام منتقل ہوجائیں تو حالات قابو میں آ جائیں گے۔ حضرت عثمان نے فرمایا:میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پڑوس کسی قیمت پر نہ چھوڑوں گاچاہے میر ی گردن کٹ جائے۔حضرت معاویہ نے شام سے ایک حفاظتی دستہ بھیجنے کی پیش کش کی توجواب ملا کیا میں نب�ئاکرمﷺ کے ہمسایوں اوردار ہجرت و نصرت میں رہنے والوں کو تنگی میں مبتلا کردوں؟آخر کار انھوں نے کہا امیرالمومنین آپ کو قتل کر دیا جائے گا یا آپ سے جنگ کی جائے گی۔ حضرت عثمان نے فرمایا: مجھے اﷲ ہی کافی ہے وہ بہترین کارساز ہے۔اس موقع پر کچھ صحابہ نے عبداﷲ بن خالداور مروان کو عطیات دینے پر اعتراض کیا تو حضرت عثمان نے ان سے مذکورہ رقوم واپس وصول کیں۔
۳۴ھ میں حضرت عثمان کے نکتہ چینوں کی تعداد بڑھ گئی ۔صحابہ میں سے حضرات زید بن ثابت ،ابو اسید ساعدی ،کعب بن مالک اور حسان بن ثابت ان کا دفاع کرتے۔ایک بار معترضین حضرت علی کے پاس آئے اور امیرالمومنین سے بات کرنے کو کہا۔ حضرت علی ،حضرت عثمان کے پاس پہنچے اورکہاجیسے اﷲ کے ہاں امام عادل سے بڑھ کر کوئی صاحب فضیلت نہیں ،اسی طرح غیر منصف حکمران سے زیادہ برا کوئی نہیں ہو سکتا۔ حضرت عثمان نے جواب دیا،علیؓاگر تم میری جگہ ہوتے تو میں تمہیں صلۂ رحمی کرنے پرکبھی ہدف ملامت نہ بناتا۔کیاحضرت عمر نے مغیرہ بن شعبہ کو اپنا رشتہ دار ہوتے ہوئے والی مقرر نہیں کیا تھا؟ حضرت علی نے کہاحضرت عمر جس کو ذمہ داری دیتے اس کے کان بھی کھینچتے جب کہ آپ اپنے رشتہ داروں سے نرمی برتتے ہیں۔حضرت عثمان نے کہا یہ تمہارے رشتہ دار بھی ہیں۔حضرت علی نے جواب دیاہاں!میرا ان سے قریبی رشتہ ہے لیکن دوسرے لوگ ان سے زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔اس پرسیدنا عثمان نے کہاتم جانتے ہو، حضرت عمر نے ساری خلافت حضرت معاویہ کو سونپ رکھی تھی۔حضرت علی نے جواب دیا،آپ کے علم میںیہ بھی ہو گا،معاویہ، عمرسے ان کے غلام یرفا سے بڑھ کر ڈرتے تھے۔ حضرت عثمان نے ا س بات کی تائید کی تو حضرت علی نے کہا حضرت معاویہ آپ سے پوچھے بغیر فیصلہ کرتے ہیں اور لوگوں کو بتاتے ہیں ،یہ امیر المومنین کا حکم ہے پھر آپ اس فیصلے کو تبدیل بھی نہیں کرتے۔ حضرت علی کے جانے کے بعد حضرت عثمان منبر پر چڑھے اور بڑے جوش سے کڑک کر لوگوں سے خطاب کیا،ہر شے کی ایک آفت اور ہر کام کے لیے کوئی مصیبت ہوتی ہے۔اس امت کی آفت عیب جو اور طعنہ زن ہیں،دکھاتے ہیں جو تمہیں بھلالگتا ہے اور جو تم کو پسند نہ ہوچھپا لیتے ہیں۔بخدا تم نے میرے وہ وہ نقص نکالے جو ابن خطاب کے لیے برداشت کرتے رہے۔وہ تمہیں ٹھوکر مارتے،پیٹتے اور برا بھلا کہتے اور تم ان کی بری بھلی بات تسلیم کرتے رہے۔ میں نے تمہارے لیے کندھے جھکا لیے ،ہاتھ اور زبان کو روکے رکھا ،اس لیے مجھ پر زبان درازی کرتے ہو۔ اس موقع پر مروان بن حکم نے کہا آپ چاہیں تو ہم اپنے اور ان کے بیچ تلوار کو فیصلے کا اختیار دے دیں۔حضرت عثمان نے فرمایا:خاموش!تمہارے بولنے کا کیا مطلب ؟ مجھے اپنے ساتھیوں سے بات کرنے دو۔
بصرہ و کوفہ میں سبائی فتنہ گروں کی دال نہ گلی تو انھوں نے مدینہ پر یلغار کرنے کا فیصلہ کیا۔صحابہ کی اولاد میں سے بھی کچھ لوگ ان کے ساتھ تھے۔یہ مصرمیں پروان چڑھے تھے اور ابن ابی سرح کی جنگی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے تھے۔محمد بن ابو بکر اور محمد بن ابو حذیفہ ان میں نمایاں تھے۔رجب ۳۵ھ کوقریباً ۶۰۰ افراد عمرو بن بدیل،عبدالرحمان بن عُدیس،کنانہ بن بشر اورسودان بن حمران کی سربراہی میں مدینہ کے لیے روانہ ہوئے ۔بظاہر عمرہ ،لیکن دراصل امیرالمومنین کے خلاف مہم چلانا ان کا مقصد تھا۔ محمد بن ابو بکر نے اس قافلے میں شمولیت کی جب کہ محمد بن ابو حذیفہ نے مصر میں رہ کر راے عامہ کو متاثر کرنے کا فیصلہ کیا۔ ابن ابی سرح نے حضرت عثمان کو ان کی روانگی کی اطلاع دے دی۔جب وہ مدینہ کے قریب پہنچے تو انھوں نے حضرت علی کی ذمہ داری لگائی کہ ا نھیں مدینہ میں داخل ہونے سے روکیں۔وہ معززین کی ایک جماعت لے کر نکلے،حضرت عمار بن یاسر، حضرت عثمان کے اصراراور حضرت سعد بن ابی وقاص کے کہنے کے باوجود شامل نہ ہوئے ۔حضرت علی نے باغیوں کے تمام اعتراضات کا جواب دیا۔انھوں نے کہا، حضرت عثمان نے اپنے ڈھور ڈنگروں کے لیے نہیں بلکہ بیت المال کے اونٹوں کے لیے چرا گاہ بنائی۔انھوں نے مصحف کے وہ نسخے جلائے جو مختلف فیہ تھے اور متفق علیہ باقی رہنے دیے۔انھوں نے مکہ میں کامل نماز اس لیے ادا کی کیونکہ وہاں ان کا سسرال تھا اور وہ قیام کی نیت رکھتے تھے۔ انھوں نے نو عمر گورنراس لیے مقرر کیے کیونکہ وہ ذی صلاحیت اور عادل تھے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی ۲۰ سالہ عتاب بن اسید کو مکہ کا گورنر اور نوجوان اسامہ بن زید کوسپہ سالار مقرر فرمایا تھا۔سیدنا عثمان نے اگر اپنی قوم بنو امیہ کو ترجیح دی تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بھی اپنی قوم قریش کو باقیوں پر ترجیح دیتے تھے۔حضرت علی نے ان کو خوب ڈانٹااور برا بھلا کہا تو وہ شرمندہ ہوئے اور یہ کہتے ہوئے پلٹ گئے کیا ان کی وجہ سے تم امیر سے جنگ کر رہے ہو؟ان کے جانے کے بعد سیدنا عثمان نے لوگوں سے خطاب کیا اور ان اصحاب سے معذرت جنھیں ان کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچی تھی۔
اہل مصر کی سازشیں ختم نہ ہوئی تھیں۔انھوں نے کوفہ و بصرہ میں اپنے ساتھیوں سے پھر سے مراسلت کی ،کچھ جعلی خط حضرت علی ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کی جانب سے تحریر کیے گئے جن میں قتال پر اکسایا گیا تھا۔ ۲۵ شوال ۳۵ھ کو مصر سے ۶۰۰سے زیادہ اشخاص غافقی بن حرب کی قیادت میں بظاہر حج کے لیے روانہ ہوئے ۔اصل میں یہ ۴ فوجی دستوں میں منظم تھے،عبدالرحمان بن عُدیس،کنانہ بن بشر،سودان بن حمران اور قتیرہ بن فلان کے پاس دستوں کی سربراہی تھی۔ابن سودا(عبداﷲ بن سبا)بھی ان کے ساتھ تھا۔اسی طرح کوفہ سے بھی۶۰۰ افراد پر مشتمل ۴ دستے عمرو بن اصم کی سرکردگی میں نکلے۔دستوں پر زید بن صُوحان ،اشتر نخعی ،زیاد بن نصر اورعبد اﷲ بن اصم مقرر تھے۔بصرہ سے خروج کرنے والی ۴ ٹولیوں کا لیڈر حُرقوص بن زہیر تھا۔ان کی مجموعی تعداد پہلے دونوں گروہوں جتنی تھی۔حُکیم بن حبلہ،ذریح بن عباد،بشر بن شریح اور ابن محرش ٹولی کمانڈر تھے۔ اہل مصر حضرت علی کو بصرہ والے حضرت طلحہ کو اور کوفی حضرت زبیر کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے۔ ایک مقصد ہونے کے باوجود وہ الگ الگ سفر کر رہے تھے ہر ایک کو اپنی کامیابی کا یقین تھا ۔ مدینہ کے قریب آئے توبصری ذو خشب میں ٹھہرے کوفی اعوص میں اترے جب کہ اہل مصر نے ذو المروہ میں قیام کیا۔ پہلے دوآدمیوں نے مدینہ جا کر حضرت علی،حضرت طلحہ،حضرت زبیراور امہات المومنین سے ملاقات کی۔پھر ہر گروپ کا وفد مذکورہ اصحاب رسول ﷺسے ملا، تینوں نے ان کی مدد کرنے سے انکار کیا اور انھیں لعنت ملامت کی۔باغیوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ اپنے شہروں کوواپس جا رہے ہیں اپنی قیام گاہیں چھوڑدیں لیکن پھر پلٹ کرشہر پر حملہ آور ہو گئے۔ انھوں نے حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ کر لیااور اعلان کیا جو مزاحمت نہ کرے گا امن پائے گا۔ایام حج ہونے کی وجہ سے مدینہ پہلے ہی خالی تھا،باقی لوگ بھی گھروں میں بیٹھ گئے۔صحابہ باغیوں کو سمجھاتے رہے لیکن انھوں نے ایک نہ مانی۔ اسی دوران میں حضرت عثمان دوسرے شہروں میں مدد کے لیے خطوط لکھ چکے تھے چنانچہ حضرت معاویہ نے حبیب بن مسلمہ فہری اور ابن ابی سرح نے معاویہ بن حدیج کو بھیجا،کوفہ سے قعقاع بن عمرو آئے۔ باغیوں کے خروج کے بعد پہلا جمعہ آیا تو حضرت عثمان نے خطبہ دیا،او دشمنو! اﷲ سے ڈرو۔اہل مدینہ جانتے ہیں حضرت محمدصلی اﷲ علیہ وسلم کی زبان سے تم پر لعنت کی گئی ہے۔محمد بن مسلمہ تائید کے لیے اٹھے تو حُکیم بن حبلہ نے انھیں بٹھا دیا۔ زید بن ثابت اٹھ ہوئے تو محمد بن ابو قتیرہ ان کی طرف لپکا۔اب تمام باغی اٹھ کھڑے ہوئے اور نمازیوں پر سنگ باری شروع کر دی۔ حضرت عثمان کو بھی پتھر لگا اور وہ بے ہوش کر منبر سے گر پڑے۔ مدینہ پر یورش کے ایک ماہ بعد تک وہ نماز کی امامت کرتے رہے پھر انھیں روک دیا گیا اور غافقی بن حرب نے مصلّا سنبھال لیا۔
مطالعۂ مزید:تاریخ الامم والملوک(طبری)،البدایہ والنہایہ(ابن کثیر

۳۵ھ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مقررکردہ گورنر اور عمال یہ تھے:
مکہ میں عبداﷲ بن حضرمی ،جن کی جگہ خالد بن عاص نے لی۔طائف میں قاسم بن ربیعہ، صنعا میں یعلی بن منیہ،جَنَدمیں عبداﷲ بن ابو ربیعہ اور بصرہ میں عبداﷲ بن عامر۔ایام شورش میں عبداﷲ بن عامر کے بصرہ سے آ جانے کے بعد وہاں کوئی گورنر مقرر نہ کیا جا سکا۔شام میں معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ،قنسرین میں حبیب بن مسلمہ، اردن میں ابو الاعور بن سفیان،فلسطین میں علقمہ بن حکیم اوربحر میں عبداﷲ بن قیس خلافت عثمانی کے نمایندے تھے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمان بن خالد کو حمص میں اپنا نائب مقرر کر رکھا تھا۔ابو موسیٰ اشعری م رضی اللہ عنہ کوفہ کے گورنر اور جابر بن عمرو سواد عراق کے کلکٹر تھے،قعقاع بن عمرو وہاں کے کمانڈر تھے۔ جریربن عبداﷲ قرقیسیا کے ،اشعث بن قیس آذربیجان کے اور عتیبہ بن نہاس حلوان کے عامل تھے۔ماہ پر مالک بن حبیب ، ہمدان پر نسیر،رے پر سعید بن قیس ،اصفہان پر سائب بن اقرع اور ماسبذان پرحبیش عمال مقرر تھے۔عبداﷲ بن سعد بن ابی سرح مصر کے گورنر تھے ، باغیوں کا پیچھا کرتے ہوئے مصر سے نکلے تو محمد بن ابو حذیفہ نے ان کی سیٹ پر قبضہ کر لیا۔عقبہ رضی اللہ عنہ بن عمرو بیت المال کے انچارج جب کہ زید بن ثابترضی اللہ عنہ چیف جسٹس تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ قریش کو مدینہ سے باہر جانے کی اجازت نہ دیتے تھے ۔ انھوں نے یہ کہہ کر انھیں بیرون عرب جہادپر جانے سے بھی روکے رکھا کہ تمھیں غزوات میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا ساتھ دینے کا شرف حاصل ہو چکا ہے۔ان کا خیال تھا ،قریش دوردراز کے علاقوں میں بکھر جائیں گے اور غنائم کی خواہش میں کم زور پڑ جائیں گے البتہ غیر قرشی اہل مکہ کے لیے وہ اس اصول پر عمل نہیں کرتے تھے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد حکومت میں یہ پابندی برقرار نہ رکھی۔ مہاجرین قریش مدینے سے نکل کر ملت اسلامیہ میں ہر سو آباد ہو گئے۔ابن کثیر کہتے ہیں: اجل صحابہ جہاں آبادہوئے ،وہاں کے مقامی لوگ ان کے گرد اکٹھا ہونے لگے۔ اس طرح ہر علاقے میں کسی نہ کسی صحابی کو امتیازی حیثیت حاصل ہو گئی۔وہاں کے لوگ خواہش کرنے لگے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعدہمارے صاحب امیر المومنین بنیں۔
ایک بار حضرت عثمان نے اہل مدینہ کو اکٹھا کر کے پوچھا: تم میں سے کون فے میں ملنے والی اپنی اراضی عراق سے یہاں منتقل کرنا چاتا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اپنی زمینیں ادھرلے آئیں!انھوں نے جواب دیا: انھیں ان لوگوں کو بیچ دو جن کی حجاز میں بھی جائیداد ہے۔لوگ بہت خوش ہوئے۔ اس دورمیں اراضی ادل بدل کرنے کے کئی سودے طے ہوئے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو تلاوت قرآن اور نوافل سے خاص شغف تھا۔نوافل میں لمبی قرآت کرتے۔ حضرت حسان بن ثابت ان کی مدح کرتے ہوئے کہتے ہیں ، یقطّع الیل تسبیحاً و قرآنا۔ وہ رات اﷲ کی تسبیح کرتے اور قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے گزارتے ہیں۔ تہجد کے لیے بیدار ہوتے تو کسی غلام کو نہ جگاتے ۔ انھیں کہا جاتا تو فرماتے:رات ان کے آرام کے لیے ہوتی ہے۔ حضرت عثمان کو لمبے قصائد تو یاد نہ ہوتے تاہم وہ چنداشعارضرور خوبی سے یاد کر لیتے اور سنادیتے تھے۔ زبان کا عمدہ ذوق رکھتے تھے،وہ مختصر جملے جو انھوں نے مختلف خطوط میں تحریر کیے یا اپنے خطبات میں ادا کیے ،ادب عربی کا شہ پارہ قرار دیے جا سکتے ہیں۔
حاطب بن ابو بلتعہ فرماتے ہیں ،میں نے عثمان رضی اﷲ عنہ سے بڑھ کر کامل اور احسن طریقے سے حدیث بیان کرنے والا نہیں دیکھا۔وہ روایت حدیث (کی ذمہ داری)سے خوف کھاتے تھے اس لیے ان کا شمار قلیل الروایت اصحاب رسول میں ہوتا ہے۔ان کی مرویات کی کل تعداد ۱۴۶ ہے جن میں ۳ متفق علیہ ہیں،آٹھ صرف بخاری میں ہیں اورمفردات مسلم پانچ ہیں۔حضرت عثمان نے نب�ئ اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم،حضرت ابوبکراور حضرت عمر سے روایت کی جبکہ ان سے حدیث نقل کرنے والے حضرات یہ ہیں:ان کے صاحب زدگان،عمرو،ابان اور سعید۔ان کے غلام حمران،ہانی، ابو صالح،ابوسہلہ اور ابن وارہ اوران کے چچا زاد مروان بن حکم۔روایت کرنے والے صحابیوں میں عبداﷲ بن مسعود،زید بن ثابت،عمران بن حصین،ابو ہریرہ، عبداﷲ بن عمر،عبداﷲ بن زبیراور عبداﷲبن عباس رضی اللہ عنھم کے نام آتے ہیں۔رواۃ تابعین میں احنف بن قیس ،عبدالرحمان بن ابو ضمرہ،عبدالرحمان بن حارث،سعید بن مسیب،ابووائل،ابو عبدالرحمان سلمی اور محمد بن حنفیہ کے نام شامل ہیں۔
حضرت عثمان مناسک حج کا خوب علم رکھتے تھے،عبداﷲبن عمرکا نمبر ان کے بعد آتا ہے۔ خلافت کے پہلے سال ان کو نکسیر پھوٹی اور آخری سال باغیوں نے ان کے گھر کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ ان دو سالوں کے علاوہ وہ مسلسل ۱۰ سال حج پر جاتے رہے۔ حضرت عمر کی طرح وہ بھی امہات المومنین کو لے جانے کا اہتمام کرتے۔ حج کے موقع پر اپنے گورنروں کے خلاف شکایتیں سنتے اور انہیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی نصیحت کرتے۔
حضرت عثمان کے زمانۂ خلافت میں تجارت ،صنعت اور تمدن کوخوب فروغ ملا۔صحابہ کرام نے مدینہ اور اس کے قرب و جوار میں خوب صورت عمارتیں تعمیر کیں۔ عہد عثمانی میں قدیم بازاروں کے علاوہ نئے بازار بھی قائم کیے گئے، مسافروں کے لیے مہمان خانے بنائے گئے۔ کوفہ میں ابو سمال اسدی کا گھر’ دارِ عقیل‘ اس مقصد کے لیے وقف تھا۔ ہذیل میں حضرت عبداﷲ بن مسعودکا گھر دارِ ضیافت قرار دیا گیا۔ دولت کی فراوانی ہوئی تو مدینہ میں لہو و لعب کو فروغ ہوا۔بے کار لوگ کبوتر بازی اور غلیل بازی کے کھیلوں میں مشغول ہوئے۔اپنی خلافت کے آٹھویں سال حضرت عثمان نے بنو لیث کے ایک شخص کی ڈیوٹی لگائی کہ کبوتروں کے پر کاٹے اورلوگوں کی غلیلیں توڑ ڈالے۔حسن بصری کہتے ہیں:میں نے حضرت عثمان کو خطبہ دیتے ہوئے سنا:انھوں نے حکم دیا: کبوتر ذبح کیے جائیں اور کتوں کو تلف کر دیا جائے۔ خلیفۂ ثالث نے نبیذ پینے پر اسامہ بن خیثمہ کو کوڑے لگوائے۔نشہ پھیلنے لگا تو انھوں نے اس کی روک تھام کے لیے ڈنڈا بردار اہل کا ر متعین کیے۔
حضرت عثمان کی انگوٹھی پر نقش تھا ،آمنت بالذی خلق فسوی ۔میں اس ذات پر ایمان لایا جس نے تخلیق کی اوراسے متناسب ومتوازن بنایا۔
حضرت عثمان کے خلاف خروج میں عجمی سازش صاف نظر آتی ہے ۔وہی لوگ جنھوں نے دوسرے خلیفۂ راشد عمر بن خطاب کی جان لی،خلافت عثمانی میں بھی سرگرم رہے۔انھوں نے مسلمانوں کے معمولی اختلافات کو ہوا دی ،اس طرح وحدت اسلامیہ کی شکست وریخت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ابن کثیر کہتے ہیں :خوارج گورنر مصر عمرو بن عاص کی سختی سے نالاں تھے ۔انھوں نے حضرت عثمان کو پے درپے شکایت کی کہ مصر پر کوئی نرم مزاج حاکم مقرر کیا جائے ۔ تب عثمان نے عمرو سے فوج کی کمان لے لی اور نماز پران کو رہنے دیا۔ عبداﷲ بن ابی سرح فوج کے کمانڈر اور خراج کے کلکٹر مقرر ہو گئے۔ خوارج ہی کی چغلیوں سے ان دونوں راہنماؤں میں رنجش پیدا ہوئی تو خلیفۂ ثالث نے عمرو سے نماز کی امامت بھی لے لی۔اب لوگوں نے تنقید شروع کر دی کہ حضرت عثمان نے کبار صحابہ کو ہٹاکر نااہل لوگوں کو عہدے دے دیے۔ باغیوں کی حضرت عثمان سے ذاتی رنجشیں بھی تھیں۔ ان رنجشوں کو انگیخت کیاگیا تو یہ سب مل کر ان کی خلافت ختم کرنے کے درپے ہو ئے ،یوں خارجیوں کی تشکیل ہوئی۔ کسی نے سعید بن مسیب سے پوچھا: حضرت معاویہ کا ماموں زاد محمد بن ابو حذیفہ حضرت عثمان کے خلاف خروج کرنے والوں میں کیونکر شامل ہوا؟ انہوں نے جواب دیا:وہ یتیم تھا اور اپنے خاندان کے کئی یتیموں کی طرح حضرت عثمان نے اس کی پرورش کی۔بڑا ہوکر اس نے کوئی عہدہ طلب کیا توعثمان (رضی اللہ عنہ )نے کہا: اگرتوقابلیت والاہوتے تو میں تمہیں عامل بنا دیتا۔اس نے کہا :مجھے اجازت دیجیے ،میں روزی کی تلاش میں نکل جاؤں۔حضرت عثمانؓنے ساز و سامان دے کر رخصت کیا۔وہ مصر پہنچا اور اس رنج کی وجہ سے حضرت عثمان کے خلاف بغاوت کرنے والوں سے مل گیا۔سوال کرنے والے نے پوچھا:عمار بن یاسرکا کیا معاملہ تھا؟سعید نے جواب دیا :ابو لہب کے پوتے عباس بن عتبہ اور عمارکے بیچ جھگڑا ہوا۔ عمارنے گالی گلوچ کی ،حضرت عثمان نے دونوں کو سزا دی توعمار ان کے خلاف سر گرم ہو گئے۔ اسی طرح سالم بن عبداﷲ سے محمد بن ابو بکرکے خروج کے بارے میں دریافت کیا گیاتو انھوں نے کہا:یہ سب طمع اور غصے کا نتیجہ تھا ۔ کچھ لوگوں کے کہنے میں آکر محمدبن ابوبکر قرض کے جال میں پھنس گیا۔حضرت عثمان نے قرض خواہوں کو ان کا حق دلایاتو یہ ان کے خلاف ہو گیا۔ایک شخص کعب بن ذو الحبکہ شعبدہ بازی اور نظر کا دھوکا کیا کرتا تھا۔سیدنا عثمان نے اسے شام بھجوا دیا اور کہا: کھیل تماشا چھوڑو ، کوئی سنجیدہ کام کرو۔ ولید کو خط لکھا کہ اسے سزا دی جائے ۔ تعزیر ملنے پر کعب غضب ناک ہوا اور خارجیوں میں شامل ہو گیا۔ ضابی بن حارث نے کسی انصاری سے قرحان نامی کتا عارےۃًلیا ۔ یہ کتا ہرنوں کے شکار میں ماہر تھا ۔ اس نے کتا نہ لوٹایا تو انصاریوں نے زبردستی واپس لے لیا تب ضابی نے ان کی ہجو کر ڈالی۔معاملہ حضرت عثما ن کے سامنے پیش ہواتو انھوں نے اسے سزا دی اور جیل میں ڈال دیا۔وہ جیل ہی میں فوت ہو گیا تو اس کا بیٹا عمیر باغیوں کے ساتھ مل گیا۔
ا صحاب رسول جنھوں نے بے سرو سامانی کی حالت میں بدر واحد کی جنگیں لڑیں۔غزوات میں مشرکوں کے چھکے چھڑا دیے۔عہد فاروقی اور حضرت عثمان کے ابتدائی دور حکومت میں اپنے سے کئی گنا دشمنوں کو زیر کیا،حضرت عثمان کے خلاف بغاوت فرو نہ کر سکے اور ان کی شہادت کو نہ ٹال سکے ؟یہ سوال بظاہر مشکل ہے لیکن اس کا جواب حاصل کیا جا سکتا ہے۔
باغی گروہ دو ہزارفسادیوں پرمشتمل تھاجبکہ اسلامی فوجیں سرحدوں پرہونے کی وجہ سے مدینہ میں مناسب تعداد میں لڑنے والے افرادموجود نہیں ہوتے تھے۔ پھربلوائیوں نے شورش پھیلانے کے لیے ایام حج کا انتخاب کیاجب مدینہ قریباً خالی تھا۔ جو صحابہؓموجود تھے انھوں نے یہ مسئلہ حل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ حضرت عثمان نے ایک بار منبر پر بیٹھ کر شکوے کے انداز میں صحابہ سے کہا:تم نے کم عقل اور جنونی لوگوں کو مجھ پر مسلط کر دیا ہے۔ تم میں سے کوئی جا کر ا ن سے پوچھ گچھ نہیں کر سکتا؟ان کے تین مرتبہ پکارنے پر کسی نے جواب نہ دیاتو حضرت علی اٹھے اورفرمایا:میں جاؤں گا (دوسری روایت کے مطابق حضرت عثمان نے حضرت علی کے گھر جا کر یہ درخواست کی تھی) سعیدبن زید،جبیر بن مطعم،حکیم بن حزام،سعید بن عاص،زید بن ثابت، حسان بن ثابت اور کعب بن مالک ان کے ساتھ جانے والے تیس رکنی وفد میں شامل تھے ۔ان کی باغیوں سے گفتگو بیان کی جا چکی ہے جس کے نتیجے میں معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا۔اصحابہ رسول ﷺ کے گھروں میں بیٹھنے کی دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ان میں سے کچھ کو حضرت عثمان سے شکوے شکایتیں ہوں۔حضرت علی کی چند گفتگوؤں سے ایسا جھلکتا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت علی نے باغیوں کی بغاوت ٹالنے کی حتی المقدور کوشش کی۔ خلیفۂ مظلومؓ کی شہادت کے بعد وہ جائے وقوعہ پرپہنچے تو اپنے صاحب زادوں حسنؓ کے منہ پر اورحسین کے سینے پرتھپڑ مار کر کہا:عثمان کیسے شہید ہو گئے جبکہ تم ان کی حفاظت کے لیے دروازے پر مامور تھے۔انھوں نے پہرے پر متعین حضرت زبیر اور حضرت طلحہ کے بیٹوں کو بھی برابھلا کہا ۔حضرت علی نے ایک بار خطبہ دیتے ہوئے بآواز بلند کہا:لوگو! تم میرے اور عثمان کے اختلافات کے بارے میں بہت باتیں کرتے ہو۔میرے اور ان کے تعلقات کی مثال اﷲ تعالی کے اس فرمان میں دیکھی جا سکتی ہے( جو جنت میں اہل ایمان کے باہمی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا)،’’اور ہم نے ان کے سینوں میں جو میل کھپاٹ تھی نکال دی(اب )اس حال میں ہیں کہ بھائیوں کی طرح خوش خوش تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔ ( سورۂ حجر ،آیت ۴۸) حضرت عثمان کی شہادت پر انھوں نے قسم کھائی کہ وہ نہیں ہنسیں گے حتیٰ کہ عثمان سے جا ملیں۔
ہو سکتا ہے باقی صحابہؓ کے پرے رہنے میں بھی کسی گلہ مندی کو دخل ہو۔ایک روایت ہے کہ عمرو بن عاص کو مصر کی گورنری سے معزولی کا بہت رنج تھا۔ اس لیے وہ بھی سیدنا عثمان کے خلاف مہم میں شریک رہے۔یہ روایت اس لیے درست معلوم نہیں ہوتی کہ انھوں نے متعدد مواقع پر حضرت عثمان کا ساتھ دیا۔ روایتوں کے جھاڑ جھنکار میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ انصار نے سیدنا عثمان کی میت کوجنت البقیع میں دفن کرنے کی مخالفت کی۔ یہ ان بے شمار روایتوں کے برعکس ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ انصار نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان کے انصاری مخالفین میں اسلم بن اوس اور ابو حیہ مازنی کے نام لیے جاتے ہیں۔
باغیوں کے مدینہ پر قبضہ ہونے کی وجہ سے کئی فیصلے بر وقت نہ ہو سکے۔مروی ہے ،سیدنا عثمان نے بلوائیوں کے محاصرے کے دوران میں سیدنا علی کو بلا بھیجا۔ انھوں نے جانے کا قصد کیا تھا کہ ان کے ساتھی ان سے چپک گئے اور جانے نہ دیا۔وہ اپنا سیاہ عمامہ سر سے اتار کر پکارے ، میں عثمان کے قتل پر راضی ہوں، نہ میں نے اس کا مشورہ دیا ہے(طبقات ابن سعد)۔ ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت عثمان نے حضرت علی کو حضرت سعد کے ذریعے سے پیغام بھیجا:اگر آپ آ جائیں تو معاملہ سلجھ سکتا ہے۔وہ ان کے ساتھ چلے تھے کہ اشتر کو خبر ہو گئی ۔وہ چلایا:اگر آپ ان تک پہنچے تو سب کو قتل کر دیا جائے گا۔اس نے اتنا شور مچایاکہ علیؓ رکنے پر مجبور ہو گئے۔مالک اشتر نے اپنے باغی گروہ کو مشورہ بھی دیا :اگر عثمان کو قتل کرنا مقصود ہے تو فوراً یہ کام کر ڈالو (تاریخ دمشق)۔ابن سیرین کہتے ہیں:میرے علم کے مطابق کسی شخص نے بھی حضرت علی کو حضرت عثمان کی شہادت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ حضرت علی خود کہتے ہیں:میں مغلوب ہو گیا تھا، میں کم زور پڑ گیا تھا۔میں نے باغیوں کو منع کیا تھالیکن انھوں نے میری بات نہ مانی۔
کئی صحابہؓ شہر مدینہ چھوڑ کر مضافات چلے گئے تھے۔یہ مشورہ حضرت علی کو بھی دیا گیا تھا ،لیکن وہ نہ مانے۔ ابن کثیر نے یہ سانحہ پیش آنے کی ایک اور وجہ بیان کی ہے۔ وہ یہ کہ صحابہؓکی اکثریت کا خیال تھا،58حضرت عثمان کی شہادت کی نوبت نہیں آئے گی ۔ان کا خیال تھاکہ عثمان ،مروان کو لوگوں کے حوالے کر کے یا خلافت سے دست بردار ہوکر اس قضیے کو نمٹا دیں گے۔وہ سمجھتے تھے کہ باغی ان کو قتل کرنے کی کبھی جسارت نہ کریں گے۔
عقبہ بن عمرو،عبداﷲ بن ابی اوفی اورحنظلہ بن ربیع جیسے صحابیوں نے کوفہ میں رہ کرحضرت عثمان کے حق میں مہم چلائی۔مشہور تابعیوں مسروق،اسود بن یزید اور شریح بن حارث نے ان کا ساتھ دیا۔ یہی کام عمران بن حصین ، انس بن مالک اور ہشام بن عامر نے بصرہ میں انجام دیا۔تابعین میں سے کعب بن سور اور ہرم بن حیان ان کے ساتھ تھے۔شام میں مقیم اصحاب رسولﷺ میں سے عبادہ بن صامت،ابو الدرداور ابو امامہ حضرت عثمان کی حمایت میں پیش پیش تھے ، شریک بن خباشہ،ابومسلم خولانی اور عبدالرحمان بن غنم ان کا ساتھ دے رہے تھے۔مصر میں خارجہ بن حذافہ اور ان کے ساتھیوں نے سید نا عثمان کی بھر پور تائید کی۔
یہ حقیقت بھی بہت تلخ ہے کہ چالیس دن کے محاصرے کے دوران میں باغیوں کے خلاف ایکشن لینے کے لیے کوئی لشکر مدینہ نہ پہنچ پایا۔اس کی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ سیدنا عثمان کا عزم تھا کہ مسلمانوں کے خلاف تلوار اٹھانے سے پرہیز کیا جائے،خصوصاً اہل مدینہ کی خون ریزی ہر گز نہ کی جائے ۔شاید اسی وجہ سے انھوں نے دارالخلافہ سے باہر فوجوں سے مدد طلب بھی کی تو اس پر زور دیا نہ اس کے لیے کوئی پلاننگ کی۔مغیرہ بن شعبہ ایام محاصرہ میں حضرت عثمان کے پاس آئے اور کہا:آپ باہر نکل کر بلوائیوں کا مقابلہ کریں،آپ کے پاس ان سے زیادہ فورس ہے ۔یہ بھی ہو سکتا ہے ،آپ اپنے گھر کے عقب میں ایک دروازہ بنا لیں اوروہاں سے نکل کر مکہ یا شام کو روانہ ہو جائیں۔عثمان نے وہی جواب دیا جو وہ کئی بار دے چکے تھے:میں اپنا دارِ ہجرت قطعاً نہ چھوڑوں گا اور رسول پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کی امت کا خون بہانے والا شخص ہر گز نہیں بنوں گا۔ عبداﷲ بن زبیرنے بھی ملتا جلتا مشورہ دیا۔انھوں نے کہا:عمرے کا احرام باندھ لیں تاکہ آپ کی جان ان کے لیے حرام ہو جائے،شام کو چلے جائیںیا پھر تلوار اٹھا لیں کیونکہ ان باغیوں سے قتال کرنا جائز ہے۔ سیدنا عثمان نے فرمایا:یہ لوگ احرام باندھنے کے بعد بھی میرا خون بہانا جائز سمجھیں گے۔میں خوف زدہ ہو کر شام کو بھاگنا بھی نہیں چاہتااور اﷲ سے اس حال میں ملنا چاہتا ہوں کہ میری وجہ سے کسی کی جان نہ لی گئی ہو ۔
ایک روایت کے مطابق، جس کا ذکر کیا جاچکا ہے ،حضرت معاویہ نے حبیب بن مسلمہ فہری کی کمان میں ۱یک لشکر مدینہ بھیجا،یزید بن شجعہ مقدمہ پر تھے۔ایک ہزار خچر سواروں کے ساتھ گھوڑے اورلدے ہوئے اونٹ بھی چل رہے تھے ۔یہ لشکر خیبر کے قریب پہنچا تھا کہ حضرت عثمان کی شہادت کی خبر آ گئی۔شام سے ایک اور لشکر یزید بن اسد کی قیادت میں وادئ قری تک پہنچ پایا۔مجاشع بن مسعود کی قیادت میں بصرہ سے چلنے والا جیش ربذہ تک آیا تھا کہ اس سانحے کی اطلاع ملی۔سانحۂ شہادت کے بعد نعمان بن بشیر ،حضرت عثمان کی خون آلود قمیص اور ان کی اہلیہ نائلہ کی کٹی ہوئی انگلیاں لے کرمعاویہ کے پاس پہنچے۔ انھوں نے یہ اشیا دمشق کی جامع مسجد میں آویزاں کر دیں اور حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے بدلہ لیے بغیر چین نہ لینے کی قسم کھائی۔
اگر یہ پوچھا جائے کہ بلوائیوں کے نہ ٹلنے کی واحد اور اہم ترین وجہ کیا ہے تو یہی کہا جا ئے گا کہ امیر المومنین نے ان کے خلاف کوئی ایکشن لینے سے منع کر دیا تھا ۔حضرت عثمان آخری وقت تک اپنے پاس موجود لوگوں کو قتال سے باز رہنے کی قسمیں دیتے رہے۔ محمد بن سیرین کی روایت کے مطابق تب ان کے پاس سات سو کے قریب آدمی تھے۔عبداﷲ بن عمر، عبداﷲ بن زبیر، حسن ، حسین اور مروان مزاحمت کرنا چاہتے تھے لیکن حضرت عثمان نے سختی سے رو ک دیا۔انصارِ مدینہ نے پیش کش کی :ہم پھر سے اﷲ کے انصار بن جاتے ہیں۔جواب ملا:قتال نہیں ہو گا۔ابوہریرہ سے فرمایا: اگر تم نے میری خاطر ایک شخص کو بھی قتل کیا تو گویا ساری انسانیت قتل ہو گئی۔سعید بن مسیب کہتے ہیں :جن لوگوں نے سیدنا عثمان کاساتھ چھوڑا، انھیں معذور مانا جا سکتا ہے۔عبداﷲ بن سلام کہتے ہیں:روزِ قیامت عثمان ہی فیصلہ کریں گے ،کس نے انھیں قتل کیا اور کس نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ حضرت علی نے حضرت عثمان کی اہلیہ سے ان کے قاتل کے بارے میں دریافت کیا توانھوں نے کہا: مجھے اس کی پہچان نہیں تاہم انھوں نے محمد بن ابو بکر کی کارروائی سے ان کو آگاہ کیا۔جب حضرت علی نے محمد سے پوچھا تو اس نے جواب دیا:میں عثمان کو قتل کرنے کے ارادے سے گیا تھا لیکن انھوں نے میرے والد کا ذکر کیا تو میں توبہ کر کے لوٹ آیا۔بخدا! میں نے انھیں پکڑا، نہ قتل کیا۔حضرت عائشہ نے کہا:یہ سچ کہتا ہے لیکن اسی نے قاتلوں کی راہنمائی کی۔
طبری کہتے ہیں :حضرت عثمان کے قاتلوں میں سے کوئی طبعی موت نہ مرا۔ان میں سے کچھ پاگل ہوگئے ۔کنانہ بیان کرتے ہیں:میں نے ایک سیاہ فام مصری جبلہ کو، جس نے سب سے پہلے حضرت عثمان سے بدزبانی کی اور انھیں قتل کی دھمکیاں دیں،اس حال میں دیکھا کہ ہاتھ پھیلا کر آہ و زاری کر رہا تھا، میں ہی قاتل ہوں۔ محمد بن ابوبکر کو گدھے کے پیٹ میں ڈال کر گدھے کو آگ لگا دی گئی۔عمیر بن ضابی نے حضرت عثمان کے گال پر اس وقت تھپڑ مارا تھا ،جب وہ خطبۂ جمعہ دے رہے تھے ۔پھر ان کی میت پر حملہ کیا ۔اس کا ہاتھ سوکھ کر لکڑی کی طرح سخت ہو گیاآخر کارحجاج نے اس کی گردن اڑا دی۔حجاج بن یوسف نے کمیل کو بھی مروا دیا۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ خلیفۂ دوم عمر بن خطاب کی حکومت اور خلیفۂ مظلوم سیدنا عثما ن بن عفان کے عہد میں کیا فرق تھا ؟ دشمن کو حضرت عمر پرمنہ اندھیرے چھپ کر وار کرنا پڑا جبکہ حضرت عثمان کے خلاف علانیہ مہم شروع کی گئی اور پھرخروج اورگھیرا ؤ ہوا جو ایک ماہ دس دن جاری رہا۔
ہمارے خیال میں اس کا ایک جواب یہ ہو سکتا ہے کہ حضرت عمر کی طبیعت میں سختی اور کنجوسی تھی۔خلیفہ بننے کے وقت انھوں نے اﷲ سے خود دعا کی:اے اﷲ !میں سخت ہوں،مجھے نرم کر دے۔مجھ میں بخل ہے ، مجھے سخی دل بنا دے۔یہ دعا قبول ہوئی ،وہ اہل ایمان کے حق میں انتہائی نرم اور فیاض ہو گئے جبکہ اپنے شریک اقتدارعمال کے لیے سخت ہی رہے۔اہل ایمان کے مال کی وہ کڑی حفاظت کرتے۔ان کے برعکس سیدنا عثمان نرم دل تھے،مال دار ہونے کی وجہ سے کھلا خرچ کرنے کے عادی تھے۔ خلعت خلافت پہننے پر یہ فیاضی کثرت سے عطیات دینے کی شکل اختیار کرگئی۔کچھ عطیات انھوں نے اپنی جیب سے دیے اور کچھ مالِ خمس میں سے ۔خمس سے دیے جانے والے عطیہ انھوں نے لوگوں کے اعتراض پر واپس لے لیے ۔ مالی معاملات میں حضرت عمر کے پیمانے اتنے کڑے تھے کہ کسی کو انگلی اٹھانے کی جرأت نہ ہوتی تھی جبکہ حضرت عثمان کا طریق کار جائز ہونے کے باوجود اعتراض کا احتمال رکھتا تھا۔کسی قریبی عزیز کو نوازنے پر لا محالہ سوال اٹھ کھڑا ہوتا ۔اسے اپنی خاص جیب سے رقم دی گئی یامسلمانوں کے بیت المال کا مال خرچ کر دیا گیا؟ سیدنا عثمان کے خلاف ایسا کوئی الزام ثابت نہ ہوا لیکن بدخواہوں نے انگلیاں ضروراٹھائیں۔
حضرت عثمان کا اپنے اعزہ واقارب سے محبت رکھنا اور ان کی بھلائی کا خیال رکھنا ایک جائز عمل تھا۔ وہ اس کے علمی دلائل بھی دیتے۔
انھوں نے اپنا ذاتی مال و دولت اور اپنی اراضی بنو امیہ میں بانٹ دی۔ بنو حکم اور بنو عثمان کے ہر فرد کو دس ہزار درہم دیے۔ بنوعاص ،بنو عیص اور بنو حرب کو بھی اسی طرح عطیات دیے۔انھوں نے زمانۂ جاہلیت میں اپنے شریک کار ربیعہ بن حارث کے بیٹے عباس کو ایک لاکھ درہم دلائے۔ یہ سب انھوں نے اپنی جیب سے کیا۔سیدنا عثمان نے اپنے اہل قبیلہ کی طرف اس قدرزیادہ جھکاؤ رکھنے کی وجہ اس طرح بیان کی:وہ غریب اور تنگ دست ہیں اس لیے میں نے ان پر نوازشیں کیں۔کچھ صحابہ نے عبداﷲ بن خالدبن اسیداور مروان کو عطیات دینے پر اعتراض کیا تو حضرت عثمان نے ان سے مذکورہ رقوم واپس لیں۔ ایک طر ف سیدنا عثمان کا یہ قدام ،دوسری جانب حضرت عمرکی اقارب سے ایسی بے رخی کہ اپنے داماد کو سرکاری خزانے سے ایک دھیلا بھی دینے سے انکار کر دیا۔ ان کی اہلیہ ام کلثوم بنت علی نے ملک�ۂ روم کو خوشبوؤں ،ظروف اور عورتوں کی زیب و زینت کا کچھ سامان تحفے میں بھیجاتو جواباً اس نے بھی کچھ تحائف ارسال کیے ،ان میں ایک قیمتی ہار بھی تھا۔حضرت عمر کو معلوم ہوا تو فوراً شوریٰ کا اجلاس طلب کر لیا۔ کچھ اصحاب کا خیال تھا:یہ ہار ام کلثوم ے ہدایا کے جواب میں موصول ہوا ہے اس لیے امیر المومنین اس کی ذمہ داری سے بری ہیں۔دوسروں نے کہا: تحائف مسلمانوں کے ایلچی کے ہاتھ بھیجے گئے، اسی لیے ملکہ نے انھیں اہمیت دی ، پھر جوابی عطیات لانے والا ہرکارہ بھی سرکاری تھا۔ یہ رائے عمرکے من کو بھا گئی، انھوں نے ہار ترت بیت المال میں جمع کرایااور اپنی اہلیہ کو ان کی خرچ کی ہوئی رقم دلا دی۔حضرت عمرکی شدت احتیاط تھی کہ کسی نکتہ چیں کوان پر نکتہ چینی کرنے کی گنجایش ہی نہ ملی۔ سیدنا عثمان اس روش کو کیسے اپنا سکتے تھے ،ان کا مزاج دوسرا تھا او ر وہ شعوری طور پر اتنی سختی کو صحیح بھی نہیں سمجھتے تھے۔ کہتے تھے: میرے دونوں پیش رووں نے احتساب کے نام پر اپنے اوپر اور اپنے متعلقین پر ظلم کیا۔انھوں نے اپنا حصہ چھوڑ رکھا تھا جبکہ میں نے لے کر اقربا میں بانٹ دیا ہے۔ اسے وہ صلۂ رحمی کہتے تھے۔ایک بار فرمایا،عمر ایسا خزیرہ(دودھ ،گوشت اور گھی سے بنا ہو سالن)کھاتے جس میں دودھ ہوتا نہ گوشت۔انھوں نے خود بھی مشقت اٹھائی اور دوسروں کے لیے بھی مشقت کا نمونہ ہی چھوڑا۔عثمان ،سفیدچھنا ہوا آٹا ، عمدہ روٹی اور گوشت کھاتے جبکہ عمر نے چھان کی روٹی اور بوڑھی بکریوں کا گوشت کھانا شعار بنا لیا تھا۔
امکان تھا کہ حضرت عثمان کی فطری حیاامور خلافت کی انجام دہی میں رکاوٹ بنتی، تاہم عمومی طور پر ایسا نہ ہوا۔چند مواقع پر مروان نے ان کی خاموشی یا ہچکچاہٹ سے ضرور فائدہ اٹھایااور آگے بڑھ کر اپنی مرضی سے اقدامات کیے۔ شہادت کے وقت سیدنا عثمان کے خزانچی کے پاس تین کروڑ درہم اور ڈیڑھ لاکھ دینار تھے جو سب لوٹ لیے گئے۔ربذہ کے فارم میں ایک ہزار اونٹ موجود تھے۔ ان کے ترکے میں اس کے علاوہ ۲ لاکھ دینار کی مالیت کے صدقات بھی تھے۔
حضرت عمر اور حضرت عثمان کی سیرتوں کا تقابلی مطالعہ کرتے ہوئے یہ جان لینا چاہیے کہ افراد مختلف طبیعتیں اور الگ الگ مزاج ر کھتے ہیں۔ اسلام نہیں چاہتاکہ ایک طبیعت رکھنے والے کے لیے ترقی کی راہیں کھول دی جائیں اور دوسرے مزاج کے حامل کو اپنے جوہر دکھانے سے روک دیا جائے۔ جب ہر شخص اپنے مزاج اور اپنی سرشت کے مطابق کام کرنے کاموقع پائے گا تولا محالہ اس کے کام پراس کے ذاتی اور طبعی اثرات منعکس ہوں گے ۔ہو سکتا ہے یہ اثرات سرسری اور غیر اہم ہوں تاہم ان سے گہرے اور دوررس نتائج برآمدبھی ہو سکتے ہیں۔پختہ ایمان کے حامل اور اسلام کا گہر اشعور رکھنے والے ان دونوں جلیل القدراصحاب رسول ﷺکے طرز حکومت میں یہی فرق تھا۔حضرت عمر نے اپنی طبیعت کے مطابق امور خلافت سر انجام دیے اور حضرت عثمان نے اپنے مزاج پر رہتے ہوئے کاروبار سلطنت چلایا۔دونوں اصحاب نے ایک ہی نیت سے،ایک ہی مقصد کی خاطر خلافت کی ذمہ داریاں نبھائیں پھر بھی ان کا آپس کا فرق نمایاں ہو کر رہا ۔ایک بارسیدنا عثمان نے اہل ایمان سے کہا:میں نے تم سے نرمی برتی ،تمہارے لیے کندھے بچھائے ،اپنے ہاتھ اور زبان کو تم سے روکے رکھا، اس لیے تم مجھ میں وہ عیب نکالتے ہو اور وہ اعتراض کرتے ہو جو تم عمربن خطاب کے لیے برداشت کرتے رہے کیونکہ وہ تمہیں ٹھوکر مارتے ، پیٹتے اور برا بھلا کہتے تو تم ان کی ہر بات مان لیتے،پسند ہوتی یا نا پسند۔سیدنا عثمان نے اپنے سے پہلے بار خلافت اٹھانے والے صاحبینؓ کی روش پر چلنے کا پیمان باندھا ، اپنے ابتدائی دور میں وہ اس پر کاربند بھی رہے ۔

حضرت عثمان نے اپنے آخری خطبے میں ارشاد فرمایا:دنیا فنا ہو جائے گی اور آخرت باقی رہے گی۔فانی دنیا غرے میں ڈال کر تمہیں ہمیشہ کی زندگی سے غافل نہ کر دے۔غیرت الٰہی سے ڈرو!جماعت سے چپکے رہواور گروہوں میں نہ بٹ جاؤ۔ سیدنا عثمان کی شہادت کے بعد لوگ دوڑتے ہوئے حضرت علی کے پاس آئے اور بیعت خلافت لینے کوکہا ۔انھوں نے کہا، مجھے اﷲ سے حیا آتی ہے،ان لوگوں سے بیعت لے لوں جنھوں نے عثمان کو شہید کر ڈالا اورابھی ان کی تدفین بھی نہیں ہوئی۔جاؤ، اہل بدر سے پوچھو۔جس پر وہ راضی ہوں ،وہی آئندہ خلیفہ ہو سکتا ہے چنانچہ تمام بدری ان کے پاس آن پہنچے اور انھی کی خلافت پراتفاق کیا۔سب سے پہلے طلحہ، سعداور زبیر نے بیعت کی پھر وہ مسجد نبویﷺ پہنچے جہاں باقی صحابہ کی بیعت ہوئی۔مروان اور اس کے اقارب نے بھاگنے کی کی۔ایک روایت کے مطابق بیعت خلیفۂ سوم کی تدفین کے بعد ہوئی۔
مطالعۂ مزید:الطبقات الکبری(ابن سعد)،تاریخ الامم والملوک (طبری)، الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)، تاریخ اسلام(ذہبی)،البدایہ والنہایہ(ابن کثیر)،اردو دائرۂ معارف اسلامیہ(مقالہ:امین اﷲ وثیر

تحریر: وسیم اختر مفتی

Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by شوکت سموں on 22/04/2013 at 8:12 صبح

    مفتی صاحب اللہ جل شانہ آپ پر اپنی رحمتوں کا بے کنار سمندر اس طرح پلٹ دے جس طرح آپ نے خلیفہ سوم سیدنا عثمان غنی رضہ کی پاکیزہ زندگانی اور پاکیزہ کردار کو اوراق پر پلٹ دیا ھے. مجھے تعجب ہے کہ ایسا شخص جو کسی امتی کا خون بھانا نہ چاھتا تھا اس کا خون بھا دیا گیا اور ان کے جسد کی بے حرمتی کی گئی کہ شھادت کہ بعد بھی پتھر برسائے گئے…

    جواب دیں

  2. کمال کی تحریر ہے۔ اس تحریر کی داد نا دینا انتہائی نا انصافی ہوگی۔ اتنی بڑی تاریخ کو اتنے چھوٹے مضمون میں نہایت خوبی اور احتیاط کے ساتھ سمودینا ایک ایسے علم کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں اعلیٰ درجے کی پختگی اور گہرائی ہو۔ میں یہ سمجھ رہا تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہہ کے خلاف خروج پر کچھ باتیں ایسی ہونگی جن سے میں اختلاف کرسکوں گا ۔ مگر تحریر کا کمال یہ تھا کہ کہیں بھی اختلاف کرنے کا موقع نہیں ملا۔
    جزاک اللہ خیر

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s