سانحہ کربلا اور تاریخی حقائق


تحریر و تحقیق: محمد مبشر نذیر
سانحہ کربلا، مسلمانوں کی تاریخ کا ایک نہایت ہی سنگین واقعہ ہے۔ اس واقعے میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو مظلومانہ انداز میں شہید کیا گیا اور اس کے بعد امت مسلمہ میں افتراق و انتشار پیدا ہوا۔ اس واقعے سے متعلق بہت سے سوالات ہیں جو تاریخ کے ایک طالب علم کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس سیکشن میں ہم مختلف سوالات کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے: حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اقدام کی اصل نوعیت کیا تھی؟ سانحہ کربلا کیسے وقوع پذیر ہوا؟ سانحہ کربلا کا ذمہ دار کون تھا؟ سانحہ کربلاکے کیا نتائج امت مسلمہ کی تاریخ پر مرتب ہوئے؟ دیگر صحابہ نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ شمولیت اختیار کیوں نہ کی؟ یزید نے قاتلین حسین کو سزا کیوں نہ دی؟ شہادت عثمان کی نسبت شہادت حسین پر زور کیوں دیا گیا؟ وغیرہ وغیرہ۔
حضرت حسن کے اقدام کی اصل نوعیت کیا تھی؟
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اقدام کے بارے میں مسلمانوں کے اندر تین نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں:
1۔ ایک اقلیت کا نظریہ یہ ہے کہ خلافت صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کا حق تھا۔ چونکہ یزید نے اس پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا، اس وجہ سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے حق کے حصول کے لیے اس کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور اس راہ میں جام شہادت نوش کیا۔
2۔ دوسری اقلیت کا نظریہ یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی حیثیت معاذ اللہ ایک باغی کی سی تھی۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں حکم ہے کہ جب ایک خلیفہ کی بیعت ہو جائے تو پھر اس کے خلاف دعوی کرنے والے کو قتل کر دو۔ اس وجہ سے یزیدی افواج نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر کے ایک جائز اقدام کیا۔
3۔ امت کی اکثریت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کوئی بغاوت نہیں کی تھی اور آپ کی شہادت ایک مظلومانہ شہادت ہے۔
پہلا نقطہ نظر کچھ مذہبی دلائل کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس کتاب کا اسکوپ چونکہ صرف تاریخ ہے، اس وجہ سے اس نقطہ نظر پر تبصرہ کی گنجائش اس کتاب میں نہیں ہے۔ ہم نے تقابلی مطالعہ پروگرام کے ماڈیول CS01 میں تفصیل سے اس ضمن میں فریقین کے نقطہ نظر کو ان کے دلائل کے ساتھ نقل کر دیا ہے۔ جو حضرات مطالعہ کرنا چاہیں، وہ وہاں کر سکتے ہیں۔
دوسرے نقطہ نظر پر ہم یہاں گفتگو کرنا چاہیں گے کیونکہ احادیث کے بارے میں تو کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن تاریخی اعتبار سے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا موقف کیا تھا۔ پہلے ہم احادیث نقل کرتے ہیں:
عرفجہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جب آپ لوگ ایک شخص (کی حکومت) پر متفق ہوں اور کوئی آ کر آپ کے اتحاد کو توڑنے کی کوشش کرے یا آپ کی اجتماعیت میں تفرقہ پیدا کرے تو اسے قتل کر دیجیے۔”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اگر (بیک وقت) دو خلفاء کی بیعت کی جائے تو بعد والے کو قتل کر دو۔”
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “آپ پر ایسے امراء مسلط ہوں گے جن کی برائی کو آپ لوگ پہچان بھی لیں گے اور بعض اعمال کی برائی کو سمجھ نہیں پائیں گے۔ جس نے ان کے اعمال بد کو پہچان لیا، وہ بری الذمہ ہو گیا۔ جو نہ پہچان سکا، وہ بھی محفوظ رہا لیکن جو ان امور پر خوش ہوا اور اس نے تابعداری کی (وہ دنیا و آخرت میں ناکام ہوا۔) صحابہ نے عرض کیا: “کیا ہم ایسے حکمرانوں سے جنگ نہ کریں؟” فرمایا: “نہیں۔ جب تک وہ نماز اد اکرتے رہیں۔”(صحیح مسلم، کتاب الامارہ۔ حدیث 1852-1854)
ان احادیث سے واضح ہے کہ اگر مسلمانوں پر ایسے لوگ مسلط ہو جائیں، جن کا کردار قابل تعریف نہ ہو تو ان کے خلاف اس وقت تک بغاوت نہ کریں جب تک کہ وہ اسلام پر قائم رہیں اور اس کی علامت کے طور پر نماز ادا کرنے سے انکار نہ کریں۔ بغاوت کرنے سے منع کرنے کی حکمت یہ ہے کہ بغاوت کی صورت میں ان حکمرانوں کا ظلم بہت پھیل جائے گا۔
ہمارے نزدیک حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر ان احادیث کا اطلاق ایک بہت بڑی جسارت ہے۔ اسی باب میں آگے چل کر ہم اس کی وضاحت کریں گے کہ حضرت حسین نے نہ تو بغاوت کی، نہ ہی مسلمانوں کی اجتماعیت کو توڑنے کی کوشش کی اور نہ ہی ایک خلیفہ کی موجودگی میں اپنی خلافت کا دعوی کیا۔ اس وجہ سے آپ کو باغی قرار دے کر آپ کی مظلومانہ شہادت کو ناجائز قرار دینا، ایک بہت بڑا الزام ہے۔ اس کی تفصیل ہم اگلے سیکشنز میں بیان کریں گے۔
حضرت حسین نے کوفہ کا سفر کیوں کیا؟
طبری، بلاذری اور ابن سعد کی روایتیں اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کوفہ کی باغی تحریک زیر زمین چلی گئی تھی۔ انہوں نے حضرت حسن اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے اتحاد کو دل سے قبول نہ کیا تھا چنانچہ یہ لوگ حضرت حسن کو ترغیب دلاتے رہتے تھے کہ وہ صلح کے معاہدے کو توڑ کر حضرت معاویہ سے دوبارہ جنگ شروع کریں۔ حضرت حسن انہیں جھڑک دیتےتو یہ آ کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے نقطہ نظر پر قائل کرنے کی کوشش کرتے۔ آپ نے بھی حضرت معاویہ کے زمانے میں ان کی کوئی بات قبول نہ کی اور اپنی بیعت پر قائم رہے۔
جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اور یزید نے اقتدار سنبھالا تو گورنر مدینہ ولید بن عتبہ بن ابی سفیان نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلا کر انہیں یہ خبر سنائی اور ان سے بیعت طلب کی۔ حضرت حسین نے فرمایا: “انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ تعالی معاویہ پر رحمت فرمائے اور آپ کے اجر میں اضافہ کرے۔بیعت کا جو سوال آپ نے کیا ہے تو میں پوشیدہ طور پر بیعت کرنے والا نہیں ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو بھی مجھ سے پوشیدہ بیعت نہیں لینی چاہیے بلکہ اعلانیہ لوگوں کے سامنے بیعت لینی چاہیے۔” ولید نے اس بات کو قبول کیا تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب آپ سب لوگوں سے بیعت لیں گے تو ان کے ساتھ مجھ سے بھی لے لیجیے گا۔” ولید ایک عافیت پسند آدمی تھے اور جھگڑے جدال کو پسند نہ کرتے تھے، اس وجہ سے انہوں نے آپ کو جانے کی اجازت دے دی۔( طبری۔ 4/1-140۔ بلاذری ۔ 5/316۔ )
ابو مخنف نے حضرت حسین کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما سے متعلق دو متضاد الفاظ نقل کیے ہیں۔ ایک میں انہیں اس امت کا فرعون قرار دیا گیا ہے اور دوسرے میں آپ کے لیے رحمت کی دعا کی گئی ہے۔ اس کا اندازہ ہم خود لگا سکتے ہیں کہ کون سی بات حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے شایان شان ہے۔
اس کے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کا سفر کیا۔ آپ کے بھائیوں میں سے حضرت محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ نے اس موقع پر آپ کو جو رائے دی، وہ ابو مخنف نے یوں نقل کی ہے:
بھائی جان! تمام مخلوق میں آپ سے بڑھ کر مجھے کوئی محبوب نہیں ہے اور آپ سے بڑھ کر دنیا میں کسی کے لیے بھی خیر خواہی کا کلمہ میرے منہ سے نہ نکلے گا۔ آپ اپنے لوگوں کے ساتھ یزید بن معاویہ سے اور سب شہروں سے جہاں تک ہو سکے ، الگ رہیے۔ اپنے قاصدوں کو لوگوں کے پاس بھیجیے اور ان کے سامنے اپنی دعوت پیش کیجیے۔ اگر وہ آپ کی بیعت کر لیں تو اس پر اللہ کا شکر کیجیے اور اگر لوگ آپ کے علاوہ کسی اور پر متفق ہو جائیں تو اس سے آپ کے دین اور عقل میں اللہ کوئی کمی نہ فرمائے گا اور آپ کے احترام اور فضل میں بھی کوئی کمی واقع نہ ہو گی۔ مجھے خطرہ ہے کہ آپ (بالخصوص عراق کے) ان شہروں میں سے کسی شہر میں داخل ہوں ۔ لوگوں کا ایک گروہ آپ کے پاس آ جائے، پھر ان میں اختلاف پڑ جائے اور دوسرا گروہ آپ کے مخالف آ کھڑا ہو۔ کشت و خون کی نوبت آ جائے تو سب سے پہلے آپ کی طرف برچھیوں کا رخ ہو جائے اور آپ جیسے شخص کا، جو ذاتی اور خاندانی اعتبار سے بہترین ہے، آسانی سے خون بہا دیا جائے اور آپ کے سب اہل و عیال تباہی میں مبتلا ہوں۔
حضرت حسین نے پوچھا: “بھائی! پھر میں کہاں جاؤں؟” محمد نے عرض کیا: “آپ مکہ چلے جائیے۔ وہاں اطمینان حاصل ہو جائے تو ٹھیک ورنہ پھر ریگستانوں اور پہاڑوں میں چلے جائیے۔ ایک مقام کو چھوڑ کر دوسرے پر منتقل ہو جائیے۔ دیکھتے رہیے کہ اونٹ کس طرف بیٹھتا ہے۔ اس وقت آپ رائے قائم کرتے ہوئے تمام امور کو براہ راست دیکھیے اور جو بات عقل کے تقاضوں پر پورا اترے، اسے اختیار کر لیجیے۔ اس سے بڑھ کر مشکل کا سامنا کسی صورت میں نہ ہو گا کہ معاملات کو ٹیڑھے رخ سے آپ کو دکھایا جائے۔” آپ نے فرمایا: “میرے بھائی! آپ نے خیر خواہی اور محبت کی بات کہی ہے۔ امید یہی ہے کہ آپ کی رائے درست اور موافق ہو گی۔
( ایضاً۔ 4/1-142۔ بلاذری 5/317۔ )
واقدی کی روایت کے مطابق حضرت حسین کے علاوہ ابن زبیر رضی اللہ عنہم بھی مدینہ سے نکل آئے تھے۔ راستے میں ان کی ملاقات ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے ہوئی۔ یہ پوچھنے لگے: “کیا خبر ہے۔” انہوں نے جواب دیا: “معاویہ فوت ہو گئے اور یزید کی بیعت لی جا رہی ہے۔” ابن عمر نے ان دونوں سے کہا: “آپ دونوں اللہ سے ڈریے اور مسلمانوں کی اجتماعیت سے علیحدہ نہ ہوں۔” پھر ابن عمر مدینہ چلے آئے اور وہیں ٹھہرے رہے۔ کچھ دن انتظار کیا اور جب تمام شہروں کی بیعت کا حال انہیں معلوم ہوا تو ولید بن عتبہ کے پاس آ کر انہوں نے بھی بیعت کر لی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی۔
( ایضاً ۔ 4/1-144)
تاریخ طبری میں ایک ایسی روایت ملتی ہے جو ہشام کلبی، ابو مخنف اور واقدی تینوں کی سند سے خالی ہے۔ ہم یہی روایت یہاں درج کر رہے ہیں۔ اس کے راوی عمار بن معاویہ الدہنی (d. 133/750) ہیں جو کہ اہل تشیع میں سے اعتدال پسند گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ( ذہبی۔ میزان الاعتدال 5/206۔ راوی نمبر 6011)۔ انہوں نے یہ روایت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پوتے محمد باقر رحمہ اللہ سے نقل کی ہے۔
حدثني زكرياء بن يحيى الضرير، قال: حدثنا أحمد بن جناب المصيصي – ويكنى أبا الوليد – قال: حدثنا خالد بن يزيد بن أسد بن عبد الله القسري، قال: حدثنا عمار الدهني: عمار الدہنی کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر (محمد باقر) سے عرض کیا: “مجھے حسین کی شہادت کا واقعہ اس طرح تفصیل سے سنائیے کہ مجھے محسوس ہو کہ گویا کہ میں وہاں خود موجود ہوں۔ ” انہوں نے فرمایا۔
جب معاویہ فوت ہوئے تو ولید بن عتبہ بن ابی سفیان مدینہ کے گورنر تھے۔ انہوں نے حسین کو بیعت لینے کے لیے پیغام بھیجا۔ انہوں نے فرمایا: “مجھے کچھ مہلت دیجیے۔” ولید نے ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیا اور انہیں مہلت دی۔ اب آپ نکل کر مکہ تشریف لے گئے۔ وہاں اہل کوفہ (کے کچھ لوگ) اور ان کے قاصد یہ پیغام لے کر آئے کہ ہم لوگ آپ پر بھروسہ کیے بیٹھے ہیں اور نماز جمعہ میں کوفہ کے گورنر کے ساتھ شریک نہیں ہوتے۔ آپ ہمارے پاس آ جائیے۔ اس زمانہ میں نعمان بن بشیر کوفہ کے گورنر تھے۔ حسین نے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو بلوایا اور ان سے کہا: “آپ کوفہ روانہ ہو جائیے اور یہ دیکھیے کہ یہ لوگ مجھے کیا لکھ رہے ہیں۔ اگر وہ سچ لکھ رہے ہیں تو پھر میں ان کی طرف چلا جاؤں؟”
مسلم وہاں سے روانہ ہو کر مدینہ میں آئے اور یہاں سے دو راہبروں کو ساتھ لے کر کوفہ کی جانب روانہ ہوئے۔ دونوں راہبر صحرا کی طرف سے چلے ۔ راستے میں ان میں سے ایک پیاس کے مارے فوت ہو گیا۔ مسلم نے حسین کو لکھا: “اس سفر سے مجھے معاف رکھیے۔” حسین نے یہی لکھا کہ آپ کوفہ جائیے۔ مسلم آگے بڑھے اور آخر کار کوفہ پہنچ گئے۔ یہاں انہوں نے ایک شخص ، جس کا نام ابن عوسجہ تھا، کے گھر قیام کیا۔ ان کے آنے کی شہرت اہل کوفہ میں پھیل گئی اور لوگ آ آ کر بیعت کرنے لگے۔ بارہ ہزار آدمیوں نے ان کی بیعت کی۔
یزید کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے کھڑے ہو کر (گورنر کوفہ) نعمان بن بشیر سے کہا: “یا تو آپ کمزور ہیں یا پھر کمزور بنتے ہیں۔ شہر میں فساد پھیل رہا ہے (اور آپ کچھ نہیں کرتے۔) نعمان نے فرمایا: “اگر اللہ کی اطاعت میں میں کمزور سمجھا جاؤں تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں صاحب قوت کہلاؤں۔ میں ایسا شخص نہیں ہوں کہ جس بات پر اللہ نے پردہ ڈال رکھا ہے، اس کا پردہ فاش کروں۔” اس شخص نے ان کی یہ بات یزید کو لکھ بھیجی۔
یزید نے اپنے ایک آزاد کردہ غلام کو بلایا ، جس کا نام سرجون تھا اور وہ اس سے مشورہ کیا کرتا تھا۔ اس نے سرجون کو ساری بات بتلائی۔ اس نے کہا: “اگر معاویہ زندہ ہوتے تو کیا آپ ان کی بات مان لیتے؟” یزید نے کہا: “ہاں۔” اس نے کہا: “پھر میری بات مانیے ۔ کوفہ کے لیے (موجودہ گورنر بصرہ) عبیداللہ بن زیاد سے بہتر کوئی شخص نہیں ہے۔ اسی کو وہاں کی حکومت دے دیجیے۔” اس سے پہلے یزید، ابن زیاد سے ناراض تھا اور اسے بصرہ کی گورنری سے بھی معزول کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اسے لکھ بھیجا: “میں آپ سے خوش ہوں۔ میں نے بصرہ کے ساتھ کوفہ کی گورنری بھی آپ کے سپرد کی۔” ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ مسلم بن عقیل کا پتہ چلایے اور وہ ہاتھ آ جائیں تو انہیں بھی قتل کر دیجیے۔
عبیداللہ بصرہ کے سرکردہ لوگوں کو لے کر سر اور منہ کو لپیٹے کوفہ میں آ پہنچا۔ وہ جس مجمع سے گزرتا تھا، انہیں “السلام علیکم” کہتا تھا۔ جواب میں لوگ اسے “وعلیک السلام اے رسول اللہ کے نواسے” کہتے تھے۔ ان لوگوں کو شبہ تھا کہ تھا کہ یہ حسین بن علی ہیں۔ عبیداللہ گورنر کے محل میں آ پہنچا اور اپنے ایک آزاد کردہ غلام کو بلا کر تین ہزار درہم دیے اور کہا: “جاؤ، اس شخص کا پتہ چلاؤ جس سے اہل کوفہ بیعت کر رہے ہیں۔ اس سے یہی کہنا کہ میں حمص (شام) سے اسی بیعت کے لیے آیا ہوں اور یہ مال اسے دے دینا کہ اس سے اپنی طاقت میں اضافہ کیجیے۔” وہ شخص اسی طرح (مختلف لوگوں کے ذریعے) نرمی سے بات کر کے (باغی تحریک) کا سراغ چلانے کی کوشش کی۔ آخر کار اہل کوفہ میں سے ایک ایسے بوڑھے شخص کے پاس اسے کسی نے پہنچا دیا ، جو بیعت لیا کرتا تھا۔یہ غلام اب اس شخص سے ملا اور ساری بات کہہ دی۔ وہ بوڑھا کہنے لگا: “تمہارے ملنے سے میں خوش بھی ہوا ہوں اور مجھے تکلیف بھی ہوئی ہے۔ میں خوش اس بات سے ہوا ہوں کہ اللہ نے تمہیں ہدایت دی مگر غمگین اس لیے ہوا ہوں کہ ہماری تحریک ابھی مستحکم نہیں ہوئی ہے۔” یہ کہہ کر وہ بوڑھا اس غلام کو اندر لے گیا اور اس سے مال لے لیا اور اس سے بیعت لے لی۔ غلام نے آ کر عبیداللہ کو ساری تفصیل بیان کر دی۔
عبیداللہ جب کوفہ میں آیا تو مسلم (بن عقیل) ابھی جس گھر میں تھے، اسے چھوڑ کر ہانی بن عروہ مرادی کے گھر میں چلے آئے۔ انہوں نے حسین بن علی کو لکھ بھیجا کہ بارہ ہزار کوفیوں نے بیعت کر لی ہے، آپ ضرور تشریف لے آئیے۔ ادھر عبیداللہ نے کوفہ کے سرکردہ لوگوں سے پوچھا: “سب لوگوں کے ساتھ ہانی بن عروہ میرے پاس کیوں نہیں آئے ہیں۔” یہ سن کر محمد بن اشعث اپنی برادری کے لوگوں کے ساتھ ہانی کے پاس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ دروازے کے باہر ہی کھڑے ہیں۔ انہوں نے ان سے کہا: “گورنر نے ابھی آپ کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے آنے میں بہت دیر کر دی ہے۔ آپ کو ان کے پاس جانا چاہیے۔” یہ لوگ اسی طرح اصرار کرتے رہے، آخر ہانی سوار ہو کر ان لوگوں کے ساتھ عبید اللہ کے پاس چلے آئے۔ اس وقت قاضی شریح بھی وہیں موجود تھے۔ ہانی کو دیکھ کر عبیداللہ نے شریح سے کہا: “لیجیے! آنے والا اپنے پاؤں پر چل کر ہمارے پاس آ گیا ہے۔” ہانی نے جب سلام کیا تو عبیداللہ کہنے لگا: “یہ بتائیں کہ مسلم کہاں ہیں؟” ہانی نے کہا: “مجھے کیا معلوم؟”
عبیداللہ نے اپنے غلام کو، جو درہم لے کر گیا تھا، بلایا۔ جب وہ ہانی کے سامنے آیا تو یہ اسے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ کہنے لگے: “گورنر کا اللہ بھلا کرے۔ واللہ! مسلم کو میں نے اپنے گھر میں نہیں بلایا، وہ خود سے آئے اور میری ذمہ داری بن گئے۔” عبیداللہ نے کہا: “انہیں میرے پاس لاؤ۔” وہ بولے: “واللہ! اگر وہ میرے پاؤں کے نیچے بھی چھپے ہوتے تو میں وہاں سے قدم نہ سرکاتا۔” عبیداللہ نے حکم دیا کہ اسے میرے قریب لاؤ۔ جب وہ لوگ ہانی کو اس کے قریب لے گئے تو اس نے ان پر ایسی ضرب لگائی کہ ان کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ ہانی نے ایک سپاہی کی تلوار کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ اسے میان سے نکالیں لیکن لوگوں نے انہیں روک دیا۔ عبیداللہ نے کہا: “تمہارا قتل اب اللہ نے حلال کر دیا ہے۔” یہ کہہ کر قید کا حکم دیا اور محل ہی کی ایک طرف انہیں قید کر دیا گیا۔ ۔۔۔۔۔ (ا س کےبعد طبری نے بیچ میں بطور جملہ معترضہ ایک اور روایت بیان کی ہے۔ پھر دوبارہ عمار الدہنی کے بیان کی طرف واپس آئے ہیں۔)
ہانی اسی حالت میں تھے کہ یہ خبر (ان کے ) قبیلہ مذحج کو پہنچ گئی۔ ابن زیاد کے محل کےد روازے پر ایک شور سا بلند ہوا۔ وہ سن کر پوچھنے لگا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ مذحج کے لوگ ہیں۔ ابن زیاد نے شریح سے کہا: “آپ ان لوگوں کے پاس جائیے اور انہیں بتائیے کہ میں کچھ بات چیت کے لیے ہانی کو صرف قید کیا ہے۔” اس نے اپنے آزاد کردہ غلاموں میں سے ایک کو جاسوسی کے لیے بھیجا کہ دیکھ کر آؤ کہ شریح کیا بات کرتے ہیں؟ شریح کا گزر ہانی کی طر ف سے ہوا تو ہانی نے کہا: “شریح! اللہ سے ڈریے۔ یہ شخص مجھے قتل کرنا چاہتا ہے۔” شریح نے محل کے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا: “انہیں نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں ہے۔ گورنر نے بس کچھ بات چیت کے لیے انہیں روک رکھا ہے۔” سب لوگ کہنے لگے: “شریح صحیح کہہ رہے ہیں۔ تمہارے سردار کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں ہے۔” یہ سن کر سبھی لوگ بکھر گئے۔
دوسری طرف مسلم (بن عقیل) کو جب یہ خبر ملی تو انہوں نے اپنے شعار (خاص کوڈ ورڈز) کا اعلان کروا دیا اور اہل کوفہ میں سے چار ہزار آدمی ان کے پاس جمع ہو گئے۔ اب مسلم نے فوج کے مقدمہ (اگلے حصے) کو آگے بڑھایا، میمنہ و میسرہ (دایاں اور بایاں بازو) کو درست کیا اور خود قلب (درمیانہ حصہ) میں آ کر عبیداللہ کا رخ کیا۔ ادھر عبیداللہ نے اہل کوفہ کے سرکردہ لوگوں کو بلا کر اپنے خاص محل میں جمع کیا۔ مسلم جب محل کے دروازے پر پہنچے تو تمام سردار محل پر چڑھ کر اپنے اپنے برادری والوں کے سامنے آئے اور انہیں سمجھا بجھا کر واپس کرنے لگے۔ اب لوگ مسلم کے پاس سے سرکنے لگے۔ شام ہونے تک پانچ سو آدمی رہ گئے۔ جب رات کا اندھیرا پھیلا تو وہ بھی ساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔ مسلم اکیلے گلیوں میں گھومتے ہوئے ایک مکان کے دروازہ پر بیٹھ گئے۔ ایک عورت نکلی تو اس سے پانی مانگا۔ اس نے پانی لا کر پلایا اور پھر اندر چلی گئی۔ کچھ دیر کے بعد وہ پھر نکلی تو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ کہنے لگی: “اللہ کے بندے! آپ کا بیٹھنا تو مجھے مشکوک لگتا ہے، آپ یہاں سے اٹھ جائیے۔” انہوں نے کہا: “میں مسلم بن عقیل ہوں۔ کیا مجھے پناہ مل سکتی ہے؟” عورت نے کہا: “اندر آ جائیے۔ جگہ ہے۔”
اس عورت کا بیٹا محمد بن اشعث کے ساتھیوں میں سے تھا۔ اسے جب علم ہوا تو اس نے ابن اشعث کو حال سنایا اور اس نے جا کر عبیداللہ کو خبر کی۔ عبیداللہ نے اپنے پولیس چیف عمرو بن حریث مخزومی کو روانہ کیا اور ابن اشعث کے بیٹے عبدالرحمن کو ساتھ کر دیا۔ مسلم کو خبر ہوئی کہ گھر کو سپاہیوں نے گھیر لیا ہے۔ انہوں نے تلوار اٹھا لی اور باہر آ کر لڑنا شروع کر دیا۔ عبدالرحمن نے کہا: “آپ کے لیے امان ہے۔” انہوں نے اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیا اور وہ انہیں لے کر عبیداللہ کے پاس آیا۔ عبیداللہ کے حکم سے محل کی چھت پر انہیں لے گئے اور انہیں قتل کر کے ان کی لاش لوگوں کے سامنے پھینک دی۔ پھر اس کے حکم سے لوگ ہانی کو گھسیٹ کر لے گئے اور سولی پر لٹکا دیا۔
( طبری۔ 4/1-147 to 150 )
(اس کے بعد طبری نے ابو مخنف کی طویل روایتیں بیان کی ہیں اور پھر عمار الدہنی کی روایت کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا ہے۔)
اس بیان سے واقعے کی صورت یہ نکلتی ہے:
1۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے جب گورنر مدینہ نے یزید کی بیعت کا مطالبہ کیا تو انہوں نے مہلت طلب کی اور اس مہلت میں وہ مدینہ سے نکل کر مکہ آ پہنچے۔
2۔ جیسے ہی آپ مکہ پہنچے تو اہل کوفہ کا وفد آپ کے پاس آیا اور انہوں نے بہت سے خطوط لکھ کر آپ کو کوفہ آنے کی دعوت دی۔ کوفہ میں اس وقت انارکی کی سی صورت پیدا ہو گئی تھی اور وہ باغی تحریک، جسے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دبا دیا تھا، دوبارہ کھڑی ہو رہی تھی۔
3۔ آپ نے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل رحمہ اللہ کو بھیجا کہ وہ کوفہ جا کر حالات کا جائزہ لیں۔ انہوں نے وہاں جا کر بیعت لینا شروع کر دی۔ اس دوران کوفہ پر عبیداللہ بن زیاد نے اپنا اقتدار مستحکم کر لیا۔ مسلم بن عقیل نے ایک فوج تیار کی اور گورنر کے محل کا محاصرہ کر لیا لیکن چند ہی گھنٹوں میں یہ فوج تتر بتر ہو گئی اور مسلم بن عقیل کو چھوڑ گئی۔ ابن زیاد نے انہیں گرفتار کروا کے قتل کر دیا۔
اس روایت کی تفصیلات کو درست مان لیا جائے اور یہ فرض کر لیا جائے کہ کسی راوی نے حضرت محمد باقر رحمہ اللہ کے بیان میں اپنی جانب سے کچھ نہیں ملایا ہو گا تو معلوم ہوتا ہے کہ اقدامات کی ابتدا باغی تحریک کی جانب سے ہوئی تھی جنہوں نے گورنر کے محل پر حملہ کا اقدام کیا۔ حضرت مسلم بن عقیل رحمہ اللہ ان باغیوں کی باتوں میں آ گئے اور انہوں نے قبل از وقت اقدام کر ڈالا۔ باغی تو چاہتے ہی یہ تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خاندان سے کوئی “شہید” انہیں ملے جس کے نام کو لے کر وہ اپنی تحریک میں زور پیدا کریں۔ اس وجہ سے وہ عین موقع پر حضرت مسلم کا ساتھ چھوڑ گئے۔
دوسری طرف ابن زیاد نے ضرورت سے زیادہ سخت ری ایکشن ظاہر کیا اور انہیں قتل کروا دیا۔ پھر اس نے ہانی بن عروہ کو بھی نہایت اذیت ناک طریقے سے سولی دی۔ اس کا یہ عمل ایک طرف ظلم تھا اور دوسری طرف اس کے جذباتی پن کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر وہ اس موقع پر اپنے والد زیاد بن ابی سفیان رحمہ اللہ کی حکمت و دانش سے کام لیتا اور معاملات کو نرمی سے سلجھاتا تو بعد کے سانحات پیش نہ آتے۔
مسلم بن عقیل رحمہ اللہ نے اس موقع پر ابن اشعث، جو کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے برادر نسبتی تھے، کے ہاتھ ایک پیغام حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام بھیجا جو طبری نے ابو مخنف کے حوالے سے نقل کیا ہے:
اے اللہ کے بندے! میں سمجھتا ہوں کہ تم مجھے امان تو نہیں دلا سکو گے۔ اتنا سلوک کیا میرے ساتھ کرو گے کہ اپنے کسی آدمی کو میری طرف سے حسین کے پاس بھیج دو۔ وہ آج کل ہی میں تم لوگوں کے پاس آنے کو روانہ ہو چکے ہوں گے اور ان کے اہل بیت بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔ تم جو میری بے تابی دیکھ رہے ہو، محض اسی سبب سے ہے۔ میری طرف سے یہ پیغام ان تک پہنچا دینا کہ: مسلم نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ وہ گرفتار ہو چکے ہیں۔ یہ نہیں چاہتے کہ آپ یہاں آئیں اور قتل کیے جائیں۔ آپ اہل بیت کو لے کر پلٹ جائیے، کوفیوں کے دھوکے میں نہ آئیے۔ یہ وہی لوگ ہیں، جن سے چھٹکارا پانے کے لیے آپ کے والد فوت ہو جانے اور قتل ہو جانے کی تمنا رکھتے تھے۔ اہل کوفہ نے آپ سے بھی جھوٹ بولے اور مجھ سے بھی جھوٹ بولے۔ میری رائے کو جھٹلائیے گا نہیں۔
( ایضاً ۔ 4/1-168)
ابو مخنف کی اس گھر کی گواہی سے معلوم ہوتا ہے کہ کوفہ کی باغی تحریک کے مقاصد کیا تھے۔
حضرت حسین عراق روانہ کیونکر ہوئے؟
حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے جب مکہ میں قیام کیا تو یہاں کے گورنر عمرو بن سعید تھے جو حضرت سعید بن عاص رحمہ اللہ کے بیٹے تھے۔ انہوں نے حضرت حسین سے کوئی بدسلوکی نہ کی بلکہ نرمی کا برتاؤ کیے رکھا۔ اس دوران اہل کوفہ کی باغی تحریک نے آپ کی جانب خطوط کی بھرمار کر دی اور اپنے وفود ان کی جانب بھیجے اور کہا کہ ہم لوگوں نے گورنر حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دی ہے اور آپ بس جلد از جلد یہاں تشریف لے آئیے۔ حضرت حسین کا جو خط ابو مخنف نے نقل کیا ہے، اس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہو کہ آپ کوفہ بغاوت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے۔ خط کے الفاظ یہ ہیں:
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ حسین بن علی کی طرف سے اہل ایمان اور مسلمانوں کی جماعت کے نام۔ ہانی اور سعید آپ لوگوں کے خطوط لے کر میرے پاس آئے۔ آپ کے قاصدوں میں سے یہ دونوں افراد سب سے آخر میں آئے ۔ جو کچھ آپ لوگوں نے لکھا ہے کہ کہا ہے کہ “ہماری راہنمائی کرنے والا کوئی نہیں ہے، آپ آئیے۔ شاید اللہ آپ کے سبب ہمیں حق و ہدایت پر اکٹھا کر دے۔” میں نے اپنے چچا زاد بھائی، جن پر مجھے اعتماد ہے اور وہ میرے اہل خانہ میں سے ہیں، کو آپ کے پاس روانہ کیا ہے۔ میں نے ان سے کہہ دیا ہے کہ آپ لوگوں کا حال اور سب کی رائے وہ مجھے لکھ بھیجیں۔ اگر ان کی تحریر سے بھی یہی بات ثابت ہو گئی کہ آپ کی جماعت کے لوگ اور صاحبان عقل و فضل آپ میں سے اس بات پر متفق الرائے ہیں، جس امر کے لیے آپ کے قاصد میرے پاس آئے ہیں، اور جو مضامین آپ کے خطوط میں میں نے پڑھے ہیں تو میں انشاء اللہ بہت جلد آپ کے پاس چلا آؤں گا۔ اپنی جان کی قسم، قوم کا لیڈر تو وہی ہو سکتا ہے جو قرآن پر عمل کرے، عدل کو قائم کرے، حق کا طرف دار ہو اور اللہ کی ذات پر توکل رکھے۔والسلام۔
(طبری۔ 4/1-151)
اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا کوئی ارادہ بغاوت کا نہ تھا بلکہ آپ صرف اصلاح احوال چاہتے تھے۔ آپ سے متعلق یہ بدگمانی کرنا کہ آپ کوفہ جا کر مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنا چاہتے تھے، بالکل غلط ہے۔
حضرت حسین کی روانگی کے بارے میں مخلصین کا موقف کیا تھا؟
اس کے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے عراق روانگی کا ارادہ کیا تو آپ کے مخلص دوستوں اور رشتے داروں نے آپ کو نہایت ہی اچھے اور مخلصانہ مشورے دیے۔ یہ مشورے ابو مخنف کے حوالے سے طبری نے بھی درج کیے ہیں اور بلاذری نے دیگر راویوں کے حوالے سے انہیں درج کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جو رشتے میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے چچا تھے، مگر عمر میں ان سے کچھ ہی بڑے تھے کے بارے میں طبری نے بیان کیا ہے:
عبداللہ بن عباس نے حسین کی روانگی کا سنا تو ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: “بھائی! لوگوں میں یہ بات مشہور ہو گئی ہے کہ آپ عراق کی طرف روانہ ہونے لگے ہیں۔ مجھے تو بتا دیجیے کہ آپ کا ارادہ کیا ہے؟” انہوں نے کہا: “انشاء اللہ انہی دو دن میں روانگی کا ارادہ ہے۔” انہوں نے کہا: “میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، ایسا نہ کیجیے۔ اللہ آپ پر رحمت فرمائے، مجھے یہ تو بتائیے کہ کیا آپ ان لوگوں میں جا رہے ہیں جنہوں نے اپنے حاکم کو قتل کر کے اپنے شہروں کی ایڈمنسٹریشن سنبھال لی ہے اور اپنے دشمن کو نکال باہر کیا ہے؟ اگر وہ ایسا کر چکے ہیں تو پھر چلے جائیے ۔ اگر ان پر حاکم مسلط ہیں اور اسی کے عہدہ دار شہروں سے خراج وصول کر رہے ہیں اور پھر بھی یہ آپ کو بلا رہے ہیں تو یہ محض آپ کو جنگ چھیڑنے کے لیے بلا رہے ہیں۔ مجھے خوف ہے کہ یہ لوگ آپ کو دھوکہ دیں گے، آپ کو جھٹلائیں گے، آپ کی مخالفت کریں گے، آپ کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور اگر آپ سے پیچھے ہٹ گئے تو پھر یہی لوگ آپ کے خلاف انتہائی سخت حملہ کر دیں گے۔” حسین نے جواب دیا: “میں اللہ سے خیر کا طالب ہوں اور دیکھتا ہوں کہ کیا ہوتا ہے؟”
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب بصرہ کے گورنر تھے تو باغی تحریک کے سرکردہ لوگوں کو نہایت قریب سے دیکھ چکے تھے۔ انہیں اندازہ تھا کہ یہ باغی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو محض اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں، اس وجہ سے انہوں نے نہایت ہی شد و مد سے آپ کو عراق جانے سے روکا۔ اس کے برعکس حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ آپ وہاں جا کر حالات کی اصلاح کر سکتے ہیں۔ اسی دن شام یا اگلے دن صبح ابن عباس پھر آئے اور کہنے لگے:
“بھائی! میں برداشت کرنا چاہتا ہوں مگر مجھے صبر نہیں آتا۔ مجھے اس راستے میں آپ کی ہلاکت اور تباہی کا اندیشہ ہے۔ اہل عراق (کی باغی تحریک) دراصل دغا باز لوگ ہیں۔ ان کے پاس ہرگز نہ جائیے۔ اسی شہر میں ٹھہرے رہیے کہ آپ اہل حجاز کے سردار ہیں۔ اگر اہل عراق آپ کو بلاتے ہیں تو انہیں لکھیے کہ اپنے دشمن سے پہلے اپنا پیچھا چھڑائیں۔ اس کے بعد آپ ان کے پاس چلے آئیں گے۔ اگر آپ کو یہ بات منظور نہیں ہے تو یمن کی طرف چلے جائیے۔ وہاں قلعے ہیں، پہاڑ ہیں اور ایک وسیع ملک ہے۔ آپ کے والد کے ساتھی وہاں موجود ہیں۔ آپ سب سے الگ تھلگ رہ کر ان سے خط و کتاب کیجیے اور قاصد بھیجیے۔ اس طریقہ سے مجھے امید ہے کہ جو بات آپ چاہتے ہیں، امن و عافیت کے ساتھ آپ کو حاصل ہو جائے گی۔ ” حضرت حسین نے جواب دیا: “بھائی! واللہ میں جانتا ہوں کہ آپ خیر خواہ اور شفیق ہیں۔ لیکن میں تو اب روانگی کا مصمم ارادہ کر چکا ہوں۔”
ابن عباس بولے: “اگر جانا ہی ٹھہرا تو خواتین اور بچوں کو ساتھ نہ لے جائیے۔ واللہ! مجھے ڈر ہے کہ کہیں حضرت عثمان کی طرح آپ بھی اپنی خواتین اور بچوں کے سامنے قتل نہ کر دیے جائیں۔” ( ایضاً ۔ 4/1-176)۔
ابو مخنف کو چونکہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے خاص بغض ہے، اس وجہ سے اس نے ان کی ایسی تصویر پیش کی ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ جلد از جلد مکہ سے چلے جائیں۔ لیکن ان کی اپنی ایک روایت میں اس کے خلاف بات نظر آتی ہے جو اس نے عبداللہ بن سلیم اور مذری بن مشمعل سے روایت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں:
ہم لوگ کوفہ سے حج کے لیے نکلے اور مکہ پہنچے۔ آٹھ ذی الحجہ کو ہم حرم شریف میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت حسین اور عبداللہ بن زبیر دن چڑھنے کے وقت حجر اسود اور خانہ کعبہ کے دروازے کے پاس کھڑے ہیں۔ ہم ان کے قریب ہو گئے۔ ہم نے ابن زبیر کو حسین سے کہتے سنا: “اگر آپ چاہیں تو یہاں مقیم رہیں اور اس معاملے کی قیادت سنبھال لیجیے۔ ہم آپ کے مددگار اور خیر خواہ ہوں گے اور آپ کی بیعت کر لیں گے۔ ” حسین نے جواب دیا: “میں نے اپنے والد سے یہ بات سنی ہے کہ ایک دنبہ مکہ کی حرمت کو حلال کر دے گا۔ میں وہ دنبہ نہیں بننا چاہتا ہوں۔” اس پر ابن زبیر نے کہا: “اچھا آپ یہاں رہیے اور حکومت میرے حوالے کر دیجیے۔ میں آپ کی ہر بات مانوں گا اور کوئی بات آپ کی مرضی کے خلاف نہ ہو گی۔ ” حسین نے کہا: “مجھے یہ بھی منظور نہیں۔” پھر یہ دونوں حضرات چپکے چپکے باتیں کرتے رہے کہ ظہر کا وقت ہو گیا اور لوگ منی کی طر ف چلے۔ حسین نے کعبہ کا طواف کیا ، صفا و مروہ کی سعی کی، بال کتروائے اور عمرہ کا احرام کھول دیا۔ پھر آپ کوفہ کی جانب روانہ ہوئے۔ ( ایضاً ۔ 4/1-177)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن زبیر، حضرت حسین رضی اللہ عنہم سے کتنے مخلص تھے۔ حضرت حسین ابھی مقام تنعیم تک پہنچے تھے کہ ان کی ملاقات فرزدق شاعر سے ہوئی جو کہ عراق سے آ رہے تھے۔ انہوں نے بھی آپ کو جانے سے روکا اور کہا: “لوگوں کے دل آپ کے ساتھ اور تلواریں بنو امیہ کے ساتھ ہیں۔” اس کے بعد حضرت حسین کے کزن عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم نے انہیں ایک خط لکھا اور اسے اپنے بیٹوں عون اور محمد کے ہاتھ بھیجا۔ اس خط میں لکھا تھا:
“میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ میرا خط دیکھتے ہی واپس چلے آئیے۔ مجھے ڈر ہے کہ آپ جہاں جا رہے ہیں، وہاں آپ ہلاک نہ ہو جائیں اور اہل بیت کو تباہ نہ کر دیا جائے۔ اگر آپ کو قتل کر دیا گیا تو دنیا میں اندھیرا ہو جائے گا۔ اہل ہدایت کے راہنما اور اہل ایمان کا سہارا آپ ہی کی ذات ہے۔ روانگی میں جلدی نہ کیجیے، اس خط کے پیچھے میں بھی آ رہا ہوں۔ والسلام۔”
عبداللہ بن جعفر، (گورنر مکہ) عمرو بن سعید کے پاس گئے اور ان سے کہا: “حسین کے لیے ایک خط لکھیے، اس میں انہیں امان دینے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک اور احسان کرنے کا وعدہ ہو۔ انہیں لکھیے کہ وہ واپس چلے آئیں۔ شاید انہیں آپ کے خط سے اطمینان ہو جائے اور وہ راستے سے واپس آ جائیں۔” عمرو بن سعید نے کہا: “جو آپ کا جی چاہیے، لکھ کر میرے پاس لے آئیے، میں اس پر مہر لگا دوں گا۔” عبداللہ بن جعفر خط لکھ کر عمرو کے پاس لے آئے اور کہا: “اس پر مہر لگا کر اپنے بھائی یحیی بن سعید کے ہاتھ روانہ کیجیے۔ یحیی کے جانے سے انہیں اطمینان ہو جائے اور وہ سمجھ لیں گے کہ جو آپ نے لکھا ہے، دل سے لکھا ہے۔” عمرو نے ایسا ہی کیا۔ یہ خط لے کر یحیی اور ابن جعفر دونوں حضرت حسین کے پاس پہنچے ۔ یحیی نے انہیں خط دیا اور دونوں نے واپسی پر بھرپور اصرار کیا۔
( ایضاً ۔ 4/1-179)
خود ابو مخنف کی روایات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پہلے گورنر مدینہ اور پھر گورنر مکہ، جو دونوں بنو امیہ سے تعلق رکھتے تھے، نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے کوئی بدسلوکی نہ کی تھی اور یہ لوگ آپ کا بہت احترام کرتے تھے۔ عمرو بن سعید سے جیسے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے خط لکھوا لیا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ حضرت حسین کی کتنی قدر کرتے تھے۔ مروان بن حکم، جن کے بارے میں یہ مشہور کر دیا گیا ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے تھے اور ان کے خلاف سب و شتم کرتے تھے، نے گورنر عراق ابن زیاد کو ایک خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا:
مروان نے ابن زیاد کو یہ خط بھیجا۔ اما بعد: آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ حسین بن علی آپ کی طرف آ رہے ہیں۔ وہ سیدہ فاطمہ کے بیٹے ہیں جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ہیں۔ خدا کی قسم! حسین سے زیادہ کوئی شخص بھی ہمیں محبوب نہیں ہے۔ خبردار! غیض و غضب میں آ کر کوئی ایسا فعل نہ کر بیٹھنا کہ اس کا مداوا نہ ہو سکے اور عام لوگ اسے رہتی دنیا تک بھلا نہ سکیں۔ والسلام۔
( ابن کثیر۔ 11/507)
عمرو بن سعید بن عاص اور مروان بن حکم کے ان خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ بنو امیہ اور آل علی میں دشمنی کی داستانیں، محض داستانیں ہی ہیں اور بنو امیہ کو بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ویسی ہی محبت تھی جیسی ہمیں ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ان مخلص رشتے داروں کی بات کیوں نہ مانی اور اہل کوفہ کے باغیوں پر اعتبار کر کے وہاں کیوں چلے گئے؟ اوپر بیان کردہ خط کو پڑھنے سے اس کی جو وجہ سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کا کوئی ارادہ بغاوت برپا کرنے کا نہ تھا بلکہ آپ ان باغیوں کو کنٹرول کر کے حکومت وقت کے معاملات کی اصلاح کرنا چاہتے تھے۔ حکومت کے رویے سے بھی ظاہر یہی تھا کہ یہ لوگ حضرت حسین کا احترام کر رہے تھے۔ اس سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بھی یہی امید ہو گی کہ آپ کے خلاف کوئی سخت اقدام نہ کیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا ہی ہوتا مگر باغیوں نے یہ نوبت آنے سے پہلے ہی کوفہ میں اقدام بغاوت کر دیا اور پھر مسلم بن عقیل کو چھوڑ کر خود غائب ہو گئے۔ گورنر کوفہ ابن زیاد نے بھی اپنی عجلت پسندی میں نہایت ہی ظالمانہ انداز میں انہیں شہید کر دیا جس سے حالات بگڑتے چلے گئے۔
سانحہ کربلا میں کیا واقعات پیش آئے؟
اس کے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ کوفہ کی جانب چلے۔ اس کے بعد کے واقعات طبری نے عمار الدہنی کے حوالے سے کچھ یوں نقل کیے ہیں:
حسین بن علی کو مسلم بن عقیل کا خط پہنچا تو آپ وہاں سے روانہ ہو کر ابھی اس مقام تک پہنچے تھے جہاں سے قادسیہ تین میل کے فاصلے پر تھا (یعنی ابھی کوفہ سے اسی نوے کلومیٹر دور تھے) کہ حر بن یزید تمیمی سے ملاقات ہوئی۔ حر نے پوچھا: “آپ کہاں جا رہے ہیں؟ فرمایا: ” اسی شہر (کوفہ ) جانے کا ارادہ ہے۔” حر نے عرض کیا: “واپس چلے جائیے۔ وہاں آپ کے لیے خیر کی کوئی امید نہیں ہے۔” یہ سن کر حسین نے واپس جانے کا ارادہ کیا۔ مسلم کے سبھی بھائی آپ کے ساتھ تھے، انہوں نے کہا: “واللہ! جب تک ہم مسلم کا انتقام نہ لے لیں گے یا سب کے سب قتل نہ ہو جائیں گے، واپس نہیں جائیں گے۔” آپ نے کہا: “پھر تمہارے بغیر زندگی کا کیا مزا؟” یہ کہا اور آگے بڑھے۔ جب ابن زیاد کے لشکر کے ہراول دستے کے کچھ سوا ر آپ کو نظر آئے تو آپ کربلا کی طرف مڑے۔ ایک آبادی جو نشیب میں واقع تھی، اسے آپ نے اپنے لشکر کی پشت پر رکھا تاکہ اگر جنگ ہو تو ایک ہی جانب سے ہو۔ آپ وہیں اترے اور اپنے خیمے نصب کر دیے۔ آپ کے ساتھیوں میں پینتالیس سوار اور سو پیادے تھے۔
عمر بن سعد بن ابی وقاص کو عبیداللہ بن زیاد نے رے (موجودہ تہران) کی گورنری دی اور یہ فرمان بھی لکھ دیا اور کہا: “میری جانب سے آپ ان صاحب (حسین) سے جا کر نمٹ لیجیے۔” ابن سعد نے کہا: “مجھے اس کام سے معاف رکھیے۔” ابن زیاد کسی طرح نہ مانا، تو اس نے کہا: “آج رات کی مہلت دیجیے۔” اس نے مہلت دی تو یہ اپنے معاملے میں سوچتے رہے۔ صبح ہوئی تو ابن زیاد کے پاس آئے اور اس کا حکم ماننے پر راضی ہو گئے اور حسین بن علی کی طرف روانہ ہوئے۔ جب یہ ان کے پاس پہنچے تو حسین نے فرمایا: “تین آپشنز میں سے ایک اختیار کر لیجیے۔ (1) یا تو مجھے چھوڑ دیجیے کہ میں جہاں سے آیا ہوں، وہیں چلا جاؤں۔ (2) یا مجھے یزید کے پاس جانے دیجیے۔ (3) یا کسی سرحد کی طرف چلا جانے دیجیے۔” عمر بن سعد نے اس بات کو قبول کر لیا۔
(عمر نے ابن زیاد کو یہ بات لکھ بھیجی تو ) اس نے جواباً لکھا: “وہ جب تک اپنا ہاتھ، ہمارے ہاتھ میں نہ پکڑا دیں، ایسا نہیں ہو سکتا ہے۔” حسین نے فرمایا: “یہ تو کبھی نہیں ہو سکتا۔” اس بات پر لڑائی چھڑ گئی اور حسین کے تمام ساتھی قتل ہو گئے۔ ان میں سترہ اٹھارہ نوجوان ان کے گھر والوں میں سے تھے۔ ایک تیر آ کر ایک بچے کو لگا جو ان کی گود میں تھے۔ حسین ان کا خون پونچھتے جاتے اور کہتے جاتے تھے: “اے اللہ! ہمارا اور ان لوگوں کا تو انصاف فرما۔ انہوں نے ہمیں اس لیے بلایا کہ ہماری مدد کریں گے اور اب ہم لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔” اس کے بعد آپ نے ایک چادر منگوائی ، اسے پھاڑا اور گلے میں پہن لیا۔ پھر تلوار لے کر نکلے، لڑے اور شہید ہو گئے۔ رضی اللہ عنہ ۔ آپ کو بنی مذحج کے ایک شخص نے قتل کیا اور آپ کا سر کاٹ کر ابن زیاد کے پاس لے گیا اور کہا: “میرے اونٹوں کو مال و زر سے بھر دیجیے۔ میں نے جلیل القدر بادشاہ کو قتل کیا ہے، میں نے اسے قتل کیا ہے جس کے ماں باپ بہترین مخلوق تھے اور جو نسب کے اعتبار سے خود بھی بہترین خلق ہے۔”
ابن زیاد نے اس شخص کو حسین کے سر کے ساتھ یزید کے پاس بھیج دیا۔ اس نے حسین کا سر مبارک یزید کے سامنے رکھ دیا۔ اس وقت اس کے پاس ابو برزہ اسلمی بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ چھڑی سے آپ کے لبوں کو کھٹکھٹا رہا تھا اور یہ شعر پڑھ رہا تھا: “ہم نے اپنے پیاروں کو خود قتل کر دیا، انہوں نے بھی ہمارے خلاف سرکشی اور نافرمانی کی تھی۔” ابو برزہ کہنے لگے: “اپنی چھڑی کو ہٹاؤ۔ واللہ! میں نے بار بار دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دہن یہاں رکھ کر بوسہ لیتے تھے۔”
ابن سعد نے حسین کے اہل و عیال کو ابن زیاد کے پاس روانہ کر دیا۔ آپ کے اہل بیت میں خواتین کے ساتھ ایک بیمار لڑکے کے سوا کوئی باقی نہ رہا تھا۔ ابن زیاد نے حکم دیا کہ اسے بھی قتل کر دو۔ زینب یہ سن کر بیمار سے لپٹ گئیں او رکہنے لگیں: “جب تک مجھے بھی قتل نہیں کرو گے، تو اس وقت تک اسے بھی قتل نہ کر سکو گے۔” ابن زیاد کو ترس آ گیا اور وہ اس ارادے سے باز رہا۔ اس نے ان سب کا سامان تیار کروایا اور انہیں سوار کروا کے یزید کے پاس بھیج دیا۔ یہ لوگ جب یزید کے پاس پہنچے تو اس نے اہل شام میں اپنے درباریوں کو جمع کیا۔ اس کے بعد اہل بیت کو دربار میں لایا گیا۔ اہل دربار نے اسے مبارک دی۔ انہی لوگوں میں سے ایک نیلی آنکھوں اور سرخ رنگت والے نے اہل بیت میں سے ایک لڑکی کو دیکھ کر کہا: “امیر المومنین! یہ مجھے دے دیجیے۔” سیدہ زینب نے کہا: “واللہ! نہ یزید کو یہ اختیار حاصل ہے اور نہ تمہیں اور تم اس وقت تک یہ نہیں کر سکتے جب تک کہ جب تک تم دین اسلام سے خارج نہ ہو جاؤ۔ ” یزید نے اس شخص کو روک دیا۔ پھر اس نے ان اہل بیت کو اپنے گھر والوں میں بھیج دیا۔ اس کے بعد ان کی روانگی کا سامان تیار کر کے ان سب کو مدینہ کی طرف روانہ کر دیا۔
جب یہ لوگ مدینہ پہنچے تو بنو عبدالمطلب کی ایک خاتون بکھرے بالوں کے ساتھ سر پر چادر رکھے ان کے استقبال کو نکلیں۔ وہ رو رو کر کہہ رہی تھیں: “لوگو! تم کیا جواب دو گے جب پیغمبر تم سے پوچھیں گے کہ تم نے آخری امت ہو کر میرے بعد میری اولاد اور اہل بیت سے کیا سلوک کیا؟ کچھ لوگ ان میں سے قیدی ہوئے اور کچھ قتل کر کے خاک و خون میں لتھڑا دیے گئے۔ میں نے تمہیں جو ہدایت دی، اس کا بدلہ یہ نہ تھا کہ میرے خاندان کے ساتھ میرے بعد برائی کرو۔”
( طبری۔ 4/1-180-182 )
سانحہ کربلا کا یہ واقعہ جو عمار الدہنی نے حضرت محمد باقر رحمہ اللہ کی طرف منسوب کر کے بیان کیا ہے، ان تفصیلات سے خالی ہے جو ابو مخنف نے روایت کی ہیں۔ ابو مخنف کی روایتیں تاریخ طبری کے مکتبہ مشکاۃ ورژن میں میں 90 صفحات میں پھیلی ہوئی ہیں اور انہوں نے خوب نمک مرچ لگا کر واقعے کو بیان کیا ہے اور اس میں حسب عادت مختلف صحابہ پر چوٹیں بھی کی ہیں جن میں خاص کر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نمایاں ہیں۔ ابو مخنف کی روایات میں بالکل اسی قسم کی جذباتیت پائی جاتی ہے جیسی ہم اپنے زمانے کے واعظوں اور ذاکروں کے بیانات میں دیکھتے ہیں۔ وہ صورتحال کا ایسا نقشہ کھینچتے ہیں کہ گویا اس دور میں خیر بالکل رخصت ہو گئی تھی اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سوا تمام صحابہ و تابعین معاذ اللہ دین کی حمیت و غیرت سے خالی ہو گئے تھے اور انہوں نے غاصب اور ظالم حکمرانوں کو قبول کر لیا تھا۔
ابو مخنف کے مقابلے میں عمار الدہنی کی روایت ان تمام چیزوں سے پاک ہے۔ حضرت محمد باقر بن زین العابدین رحمہما اللہ ایک نہایت ہی قابل اعتماد راوی ہیں۔ آپ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پوتے ہیں اور آپ کے والد ماجد حضرت زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ سانحہ کربلا کے چشم دید گواہ ہیں۔ عمار الدہنی نے آپ سے سن کر یہ واقعہ بیان کیا ہے۔ اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ کسی راوی نے اس واقعے میں اپنی جانب سے کچھ ملاوٹ نہیں کی ہے تو اس بیان سے ہم یہ نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔
1۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ کو چھوڑ کر کوفہ کی جانب چلے۔ جب آپ اس کے قریب پہنچے تو آپ کی ملاقات حر بن یزید سے ہوئی اور حر نے آپ کو کوفہ جانے سے منع کیا۔ اس موقع پر حضرت حسین نے اپنے موقف سے رجوع کر لیا اور واپسی کا ارادہ کیا لیکن مسلم بن عقیل کے بیٹوں نے آگے بڑھنے پر اصرار کیا جس پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں چھوڑنا مناسب نہ سمجھا۔ ابو مخنف کی روایت میں ہے:
عبداللہ اور مذری نامی دو شخص، جن کا تعلق بنو اسد سے تھا، حج کو گئے تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حج سے فارغ ہوئے تو ہمیں اس کے سوا اور کوئی فکر نہ تھی کہ راستہ ہی میں حسین تک پہنچ جائیں اور دیکھیں کہ ان کے ساتھ معاملہ پیش آیا ہے۔ ہم اپنی اونٹنیوں کو دوڑاتے ہوئے چلے (اور بالآخر حضرت حسین رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے۔۔۔۔ ) ہم نے کہا: “ہمیں سچی خبر مل گئی ہے اور ہمارے بنو اسد ہی کے ایک ایسے شخص نے دی ہے جو صائب الرائے ہے اور فضل اور عقل رکھتا ہے۔ اس نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ ابھی کوفہ ہی میں تھا کہ مسلم بن عقیل اور ہانی قتل ہو چکے ہیں۔ اس نے دیکھا کہ ان دونوں کے پاؤں پکڑ کر بازار میں گھسیٹتے ہوئی لایا گیا ہے۔ ” یہ سن کر آپ نے کہا: “انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان دونو ں پر اللہ کی رحمت ہو۔” آپ بار بار یہی کہتے رہے۔
ہم نے عرض کیا: “ہم آپ کو اللہ کی قسم دیتے ہیں کہ اپنی جان اور اپنے اہل بیت کا خیال کیجیے اور اسی جگہ سے واپس چلے جائیے۔ کوفہ میں نہ کوئی آپ کا یار و مددگار ہے اور نہ آپ کے حمایتی ہیں بلکہ ہمیں تو خوف اس بات کا ہے کہ وہ لوگ آپ کی مخالفت کریں گے۔ ” یہ سن کر عقیل بن ابی طالب کے فرزند (مسلم کے بھائی) اٹھ کھڑے ہوئے اور بولے: “واللہ! جب تک ہم بدلہ نہ لیں گے ، اس جگہ سے نہ ہلیں گے یا پھر ہمارا حال بھی وہی ہو جو ہمارے بھائی کا ہوا ہے۔ ” یہ سن کر آپ نے دونوں افراد کی طرف دیکھا اور فرمایا: “ان لوگوں کے بعد زندگی کا کوئی مزہ نہیں۔” ہم سمجھ گئے کہ آپ نے کوفہ کی طرف جانے کا ارادہ کر لیا ہے۔ ہم نے کہا: “اللہ آپ کے لیے بہتری کرے۔ ” آپ نے جواب دیا: “اللہ آپ دونوں پر بھی رحمت فرمائے۔” آپ کے بعض ساتھیوں نے کہا: “کہاں مسلم بن عقیل اور کہاں آپ۔ کوفہ میں آپ جائیں گے تو سب آپ کی طرف دوڑیں گے۔”
( ایضاً ۔ 4/1-187)
2۔ ابن زیاد نے عمر بن سعد کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے مذاکرات کے لیے بھیجا جو کہ حضرت حسین کے قریبی رشتہ دار تھے اور طبری کی روایت کے مطابق مسلم بن عقیل نے انہی کو یہ وصیت کی تھی کہ وہ حضرت حسین تک ان کا پیغام پہنچا دیں کہ اہل کوفہ نے دھوکہ دیا ہے۔ آپ نے عمر سے فرمایا: “تن آپشنز مںح سے ایک اختالر کر لےرف ۔ (1) یا تو مجھے چھوڑ دیےگی کہ مں جہاں سے آیا ہوں، وہں چلا جاؤں۔ (2) یا مجھے یزید کے پاس جانے دیےتا۔ (3) یا کسی سرحد کی طرف چلا جانے دیےاو۔” عمر نے اس بات کو قبول کر لیا مگر ابن زیاد نہ مانا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اسی بات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا بغاوت کا کوئی ارادہ نہ تھا اور اگر کہیں ذہن میں یہ خیال آیا بھی تھا تو اس وقت دور ہو گیا تھا۔ اگر ابن زیاد انہیں یزید کے پا س جانے دیتا تو آپ اپنے تحفظات یزید کے سامنے پیش کر دیتے۔
3۔ ابن زیاد نے اصرار کیا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ پہلے اس کے پاس آ کر اس کے ہاتھ پر یزید کی بیعت کریں۔ حضرت حسین نے اس کے پاس جانا مناسب نہ سمجھا کیونکہ وہ پہلے مسلم بن عقیل کو قتل کر چکا تھا۔ بات بڑھ گئی اور جنگ شروع ہو گئی۔ اس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ آپ کی شہاد ت کے بعد آپ کے اہل و عیال کو ابن زیاد کے پاس لایا گیا جس نے آپ کے سرمبارک سے گستاخی کی۔ پھر ان سب کو یزید کے پاس بھیج دیا گیا۔ یزید کے دربار میں موجود ایک شخص نے اہل بیت کی ایک خاتون پر بری نظر ڈالی تو یزید نے اسے منع کر دیا۔ اس کے بعد اس نے ان سب کو اعزاز و اکرام کے ساتھ مدینہ بھیج دیا۔
حضرت حسین کا منصوبہ کیا تھا؟
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اگر کوفہ کی طرف جا رہے تھے تو آپ کا پلان کیا تھا؟ بالفرض اگر اہل کوفہ آپ کے ساتھ عہد شکنی نہ کرتے تو کیا واقعات پیش آتے؟ تاریخ کی کتب میں ہمیں آپ کے اپنے الفاظ میں آپ کے ارادے کی تفصیلات نہیں ملتی ہیں۔ یہ بعض تجزیہ نگاروں کی محض قیاس آرائی ہی ہے کہ آپ کوفہ کی حکومت سنبھال کر اہل شام کے ساتھ جنگ کرتے۔ طبری میں ہشام کلبی کی ایک روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ جب حر بن یزید کی سرکردگی میں سرکاری فوج نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ جانے سے روکا تو آپ نے اس موقع پر آپ نے اہل کوفہ پر مشتمل اس سرکاری فوج سے ایک خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
قال هشام: حدثني لقيط، عن علي بن الطعان المحاربي: ۔۔ آپ نے حجاج بن مسروق جعفی کو حکم دیا کہ وہ اذان کہیں۔ انہوں نے اذان دی اور اقامت کی باری آئی تو آپ (حضرت حسین) تہبند، چادر اور جوتے پہنے نکلے۔ اللہ تعالی کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: “اے لوگو! میں اللہ عزوجل سے اور آپ سب لوگوں کے سامنے (اپنے آنے کا) سبب بیان کرتا ہوں۔ اس وقت تک میں آپ لوگوں کے پاس نہیں آیا، جب تک آپ لوگوں کے خطوط اور آپ کے قاصد یہ پیغام لے کر میرے پاس نہیں آئے کہ آپ آئیے، ہمارا کوئی حکمران نہیں ہے، شاید آپ کے سبب اللہ تعالی ہم سب لوگوں کو ہدایت پر متفق فرما دے۔ اب اگر آپ اسی بات پر قائم ہیں تو میں آپ کے پاس آ چکا ہوں۔ اگر آپ لوگ مجھ سے ایسا معاہدہ کر لیں جس سے مجھے اطمینان ہو جائے تو میں آپ کے شہر جانے کو تیار ہوں۔ اگر آپ لوگ ایسا نہیں کرتے اور میرا آنا آپ کو ناگوار گزرا ہے تو جہاں سے میں آیا ہوں، وہیں واپس چلا جاتا ہوں۔ ” یہ سن کر سب خاموش رہے۔ آپ نے موذن سے کہا: “اقامت کہیے۔” انہوں نے اقامت کہی تو حسین نے حر سے پوچھا: “آپ لوگ کیا الگ نماز پڑھیں گے؟” انہوں نے کہا: “جی نہیں۔ ہم سب آپ کے ساتھ نماز پڑھیں گے۔” آپ نے سب کو نماز پڑھائی اور اپنے خیمہ میں چلے گئے۔ ۔۔۔
(پھر عصر کے بعد آپ نے ایک خطبہ دیا۔) حر نے آپ سے کہا: “واللہ! مجھے معلوم نہیں ہے کہ وہ کیسے خطوط تھے، جن کا آپ ذکر فرما رہے تھے۔” یہ سن کر آپ نے عقبہ بن سمعان سے کہا: “وہ دونوں تھیلے جن میں لوگوں کے خطوط ہیں، لے آئیے۔” عقبہ دونوں تھیلے لائے جن میں خطوط بھرے ہوئے تھے۔ آپ نے سب کے سامنے لا کر ان خطوط کو بکھیر دیا۔
( ایضاً ۔ 4/1-191)
اس روایت کے الفاظ ” آپ آئے ، ہمارا کوئی حکمران نہںں ہے” سے یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کوفہ کا سفر اسی وجہ سے اختیار کیا کہ وہاں انارکی (عدم حکومت) کی سی کیفیت تھی۔ آپ اس انارکی کو ختم کرنے کے لیے کوفہ تشریف لے جا رہے تھے۔ راستے ہی میں جب آپ پر یہ واضح ہو گیا کہ انارکی کی کیفیت ختم ہو گئی ہے اور وہاں حکومت قائم ہو گئی ہے تو پھر آپ نے اپنی رائے تبدیل کر لی اور واپسی کا عزم کیا۔
ہماری رائے میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ہستی سے یہ بات بہت بعید از قیاس ہے کہ آپ محض اپنے اقتدار کے لیے مسلمانوں میں خانہ جنگی برپا کرتے۔ باغی تحریکوں نے اپنے قتل و غارت کو جسٹی فائی کرنے کے لیے یہ خیال آپ کی جانب منسوب کیا ہے۔ یہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں شدید بدگمانی ہے کہ آپ کے بارے میں ایسا خیال کیا جائے کہ آپ اپنے اقتدار کے لیے مسلمانوں میں پھوٹ ڈلوانا چاہتے تھے۔ آپ کے بارے میں ہم حسن ظن رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا مقصد ایک پریشر گروپ بنا کر حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا تاکہ اصلاح طلب امور کی اصلاح ہو سکے۔
کیا حضرت حسین کی رائے تبدیل ہوئی؟
تاریخی روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے اہل کوفہ کی اصل صورتحال آئی تو ان کی رائے تبدیل ہو گئی۔ یہ بات درست اور قرین قیاس معلوم ہوتی ہے۔ طبری میں ابو مخنف ہی کی روایت میں بنو اسد کے دو افراد کا بیان اس طرح نقل ہوا ہے:
قال أبو مخنف: وأما ما حدثنا به المجالد بن سعيد والصقعب بن زهير الأزدي وغيرهما من المحدثين، فهو ما عليه جماعة المحدثين، قالوا: حضرت حسین نے فرمایا: تین باتوں میں سے ایک بات میرے لیے اختیار کر لیجیے: جہاں سے میں آیا ہوں، وہیں چلا جاؤں۔ یا یہ کہ میں اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں دے دوں اور وہ اپنے اور میرے درمیان جو فیصلہ کر نا چاہے، کر لے یا پھر یہ کیجیے کہ مملکت اسلام کی سرحدوں میں سے کسی سرحد پر مجھے جانے دیجیے۔ میں ان لوگوں جیسا ایک شخص بن کر رہوں گا اور میرا نفع و نقصان ان کے نفع و نقصان کے تابع ہو گا۔
( ایضاً ۔ 4/1-200)
بعینہ یہی بات اوپر عمار الدہنی کی روایت میں گزر چکی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کس درجے میں امن پسند تھے اور آپ کسی صورت میں خونریزی نہ چاہتے تھے۔ ’’سر داد نہ داد دست در دست یزید‘‘ قسم کی باتیں محض باغی تحریکوں کے لٹریچر سے متاثر ہو کر کہی گئی ہیں۔ ان باغی تحریکوں نے اپنی تقویت کے لیے حضرت حسین کی شخصیت کو ایک کٹر اور بے لچک (Adamant) شخص کے طور پر پیش کیا ہے ورنہ آپ حالات کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور اس کے مطابق فیصلہ کرتے تھے۔ جب آپ کو مسلم بن عقیل کی خبر ملی تو آپ نے تمام لوگوں کو اس بات کی اجازت دے دی کہ وہ ان سے الگ ہو کر اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں۔طبری میں ہشام کلبی کی یہ روایت بیان ہوئی ہے:
قال هشام: حدثنا أبو بكر بن عياش عمن أخبره: (حضرت حسین نے فرمایا:) ایک بہت ہی سخت واقعہ کی خبر مجھے پہنچی ہے۔ مسلم بن عقیل، ہانی بن عروہ اور عبداللہ بن بقطر قتل کر دیے گئے ہیں۔ ہمارے شیعوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ آپ لوگوں میں سے جو کوئی جانا چاہے، چلا جائے۔ میں نے اپنی ذمہ داری آپ سے ختم کر دی ہے۔ ” یہ سنتے ہی وہ سب لوگ چلے گئے ۔ کوئی دائیں طرف چلا گیا اور کوئی بائیں جانب۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جو لوگ مدینہ سے آپ کے ساتھ چلے تھے، وہی باقی رہ گئے۔
( ایضاً ۔ 4/1-188)
عمار الدھنی اور ابو مخنف کی روایات میں موجود ہے کہ آپ نے سرکاری افواج کے سامنے تین آپشنز پیش کی تھیں: (1) یا تو مجھے چھوڑ دیےلد کہ مںو جہاں سے آیا ہوں، وہں چلا جاؤں۔ (2) یا مجھے یزید کے پاس جانے دیےعب۔ (3) یا کسی سرحد کی طرف چلا جانے دیےلد۔ ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا کوئی ارادہ بغاوت یا جنگ کا نہ تھا۔
سانحہ کربلا کے ذمہ دار کون لوگ تھے؟
عمار الدہنی کی اوپر بیان کردہ روایت پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے عمر بن سعد کے ساتھ مذاکرات جاری تھے اور آپ یزید کے پاس جانے کے لیے تیار بھی ہو گئے تھے کہ بیچ میں لڑائی چھڑ گئی۔ یہ لڑائی کیسے چھڑی اور اس کا سبب کیا بنا، اس معاملے میں یہ روایت خاموش ہے۔ البتہ اس روایت میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بعض الفاظ ایسے بیان ہوئے ہیں جن سے کچھ اشارہ ملتا ہے کہ اس جنگ کے چھڑنے کے ذمہ دار کون لوگ تھے۔ دوران جنگ آپ نے اللہ تعالی سے فریاد کی: “اے اللہ! ہمارا اور ان لوگوں کا تو انصاف فرما۔ انہوں نے ہمںد اس لے بلایا کہ ہماری مدد کریں گے اور اب ہم لوگوں کو قتل کر رہے ہں ۔”
یہ ایسے الفاظ ہیں جن کے مصداق نہ تو عمر بن سعد ہو سکتے ہیں اور نہ ابن زیاد اور اس کے ساتھی کیونکہ ان لوگوں نے تو آپ کو کوئی خط نہ لکھا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری فوج میں وہ لوگ موجود تھے جنہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھ کر کوفہ بلایا تھا۔ اب انہی لوگوں نے آپ پر حملہ کر کے آپ اور آپ کے ساتھیوں کو شہید کرنا شروع کر دیا تھا۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کےبراہ راست قاتلوں میں جن لوگوں کے نا م آئے ہیں، ان کے بیک گراؤنڈ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ باغی تحریک ہی سے تعلق رکھتے تھے۔ ابو مخنف نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے براہ راست قاتلوں میں عبد الرحمن جعفی، قثم بن عمرو بن یزید الجعفی، صالح بن وہب الیزنی، سنان بن انس نخعی، خولی بن یزید الاصبحی اور ان کے لیڈر شمر بن ذی الجوشن کے نام لکھے ہیں۔ دیگر ذرائع سے ہمیں معلوم نہیں کہ یہی لوگ آپ کے قاتل تھے یا نہیں۔ یہ بات معلوم و معروف ہے کہ شمر ، جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل تھا اور خود ابو مخنف کی روایت کے مطابق یہ جنگ صفین میں زخمی ہوا تھا۔( ایضاً ۔ 3/2-221)۔ سنان بن انس قبیلہ نخع سے تعلق رکھتا تھا اور مالک الاشتر نخعی کا رشتے دار تھا۔ تاہم پھر بھی ہمیں متعین طور پر کسی شخص کا نام نہیں لینا چاہیے کیونکہ ان روایتوں کے سوا ہمارے پاس کوئی اور ثبوت نہیں ہے اور روایات قابل اعتماد نہیں ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باغی تحریک ان لوگوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں پر حملہ کیوں کیا۔ اگر یہ لوگ باغی تحریک سے تعلق رکھتے تھے تو انہیں اس کا فائدہ کیا ہوا؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں اس بات کا خطرہ تھا کہ کہیں ان کا پول نہ کھل جائے۔ ان کے لکھے ہوئے خطوط حضرت حسین رضی اللہ عنہ اگر دکھا دیتے تو پھر حکومت کی جانب سے بھی انہیں غداری کی سزا ملتی۔ سانحہ کے بعد ان خطوط کا کوئی سراغ نہیں ملتا ہے جن کی دو بوریاں بھر کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ ساتھ لائے تھے۔ عین ممکن ہے کہ دوران جنگ ہی ان خطوط کو تلف کر دیا گیا ہو تاکہ ثبوت کو مٹا دیا جائے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ باغی تحریک کو ایک تازہ ترین “ہائی پروفائل شہید” کی تلاش تھی، جس کے نام پر اپنی تحریک کے لوگوں کو مشتعل کیا جا سکے۔ عین ممکن ہے کہ بعض باغیوں کے ذہن میں یہ محرک رہا ہو کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی صورت میں انہیں ایسا شہید مل سکتا ہے۔ لاشوں کی سیاست ہمارے دور ہی کا خاصہ نہیں ہے بلکہ ہر دور میں باغی تحریکیں ایسا کرتی رہی ہیں۔ تاہم یہ بھی ایک ممکنہ تھیوری ہے۔ حقیقت کا علم صرف اللہ تعالی کو ہے اور وہی روز قیامت اسے واضح فرمائے گا۔ روایات کی بنیاد پر متعین طور پر کوئی بات کہنا مشکل ہے۔
سانحہ کربلا میں عمر بن سعد کا کردار کیا تھا؟
عمر بن سعد کے بارے میں طبری وغیرہ میں جتنی روایات بیان ہوئی ہیں، وہ ابو مخنف کے توسط سے ہوئی ہیں، اس وجہ سے ان کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ان روایات سے عمر بن سعد کی دو متضاد تصویریں سامنے آتی ہیں۔ ایک تصویر یہ ہے کہ انہوں نے “رے” کی گورنری کے لالچ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف کاروائی کی اور دوسری تصویر یہ نظر آتی ہے کہ وہ حضرت حسین کے ساتھ مخلص تھے۔ انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے مطالبات کو بھی مان لیا تھا اور جب آپ شہید ہوئے تو اتنا روئے تھے کہ ان کی داڑھی تر ہو گئی تھی۔ اب ان کے دل میں کیا تھا، ہمیں اس معاملے کو اللہ تعالی پر چھوڑ دینا چاہیے۔ جو شخص بھی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ذمہ دار ہو گا ، وہ اللہ تعالی کے ہاں سزا پائے گا۔ روایات کی بنیاد پر ہمیں کسی کے بارے میں رائے قائم نہیں کرنی چاہیے۔
سانحہ کربلا میں ابن زیاد کا کردار کیا تھا؟
ابن زیاد کے بارے میں روایات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اسی نے اپنی افواج کو سختی سے نمٹنے کا حکم دیا تھا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے جب تین آپشنز پیش کیں تو یہ اس پر اڑ گیا تھا کہ آپ پہلے اس کے پاس آ کر اس کے ہاتھ پر بیعت کریں۔ سانحہ کے بعد جب حضرت حسین کے اہل و عیال کو اس کے پاس لے جایا گیا تو اس نے کسی افسوس کا اظہار بھی نہیں کیا اور نہ ہی اپنی افواج سے اس پر پوچھ گچھ کی تھی کہ واقعہ کیوں اور کیسے ہوا؟ نہ ہی اس نے ذمہ داروں کا تعین کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی کاروائی کی۔ اس کے بارے میں اس سے کوئی مختلف بات روایات میں درج نہیں ہے۔ طبری کی بعض روایات میں یہ ہے کہ ابن زیا دکی والدہ مرجانہ ایک نیک خاتون تھیں اور انہوں نے اپنے بیٹے کو بہت لعن طعن کی تھی۔ باقی حقیقت کا علم اللہ تعالی کو ہے کیونکہ ہمارے پاس سوائے ان روایات کے اور کچھ نہیں ہے۔
سانحہ کربلا میں یزید کا کردار کیا تھا؟
سانحہ کربلا میں یزید کے کردار کے بارے میں دو متضاد تھیوریز پیش کی جاتی ہیں اور دونوں کی بنیاد یہی تاریخی روایتیں ہیں: ایک تھیوری تو یہ ہے کہ ابن زیاد نے یزید کے حکم سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر فوج کشی کی اور یزید نے آپ کی شہادت پر خوشی کا اظہار کیا۔ یہ تمام کی تمام روایات ابو مخنف نے بیان کی ہیں۔ دوسری تھیوری یہ ہے کہ یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ ابن زیاد نے اپنی طرف سے سختی کی۔ پھر باغی تحریک کے جو لوگ فوج میں شامل تھے، ان کے اقدام کے نتیجے میں یہ حادثہ رونما ہوا۔ یزید کو اس کی جب اطلاع ملی تو اس نے افسوس کا اظہار کیا تاہم اس نے ان قاتلین کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔
تاریخ طبری میں ابو مخنف ہی کی بیان کردہ بعض روایات موجود ہیں، جن سے اس دوسری تھیوری کی تائید ہوتی ہے۔ ابو مخنف کے بیان کے مطابق ابن زیاد نے جب مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروہ کے قتل کی خبر یزید کو بھیجی تو یزید نے کوفہ کی بغاوت پر قابو پا لینے پر ابن زیاد کی تعریف کی لیکن حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے متعلق لکھا:
قال أبو مخنف: عن أبي جناب يحيى بن أبي حية الكلبي: ۔۔۔۔ مجھے اطلاع ملی ہے کہ حسین بن علی عراق کی جانب روانہ ہوئے ہیں۔ سرحدی چوکیوں پر نگران مقرر کر دیجیے۔ جن کے بارے میں شک ہو، انہیں حراست میں لے لیجیے اور جس پر کوئی الزام ہو، اسے گرفتار کر لیجیے۔ لیکن جو خود آپ لوگوں سے جنگ نہ کرے، اس سے آپ بھی جنگ نہ کیجیے۔ جو بھی واقعہ پیش آئے، اس کی مجھے اطلاع دیجیے۔ والسلام۔
( ایضاً ۔ 4/1-173)
سانحہ کربلا کے بعد یزید اور اس کے اہل خاندان کا طرز عمل ابو مخنف نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی پوتی سیدہ فاطمہ رحمہا اللہ کے حوالے سے کچھ یوں بیان کیا ہے۔
قال أبو مخنف، عن الحارث بن كعب، عن فاطمة بنت علي: یزید نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے کہا: “نعمان! ان لوگوں کی روانگی کا سامان، جیسا مناسب ہو ، کر دیجیے۔ اور ان کے ساتھ اہل شام میں سے کسی ایسے شخص کو بھیجیے جو امانت دار اور نیک کردار ہو۔ اس کے ساتھ کچھ سوار اور خدمت گار بھیج دیجیے کہ ان سب کو مدینہ پہنچا دے۔ اس کے بعد اس نے خواتین کے لیے حکم دیا کہ انہیں علیحدہ مکان میں ٹھہرایا جائے اور اس میں ضرورت کی سب چیزیں موجود ہوں۔ ان کے بھائی علی بن حسین (رحمہ اللہ ) اسی مکان میں رہیں جس میں وہ سب لوگ ابھی تک رہ رہے ہیں۔ اس کے بعد یہ سب لوگ (خواتین) اس گھر سے یزید کے گھر میں گئیں تو آل معاویہ میں سے کوئی خاتون ایسی نہ تھی جو حسین (رضی اللہ عنہ) کے لیے روتی اور نوحہ کرتی ہوئی ان کے پاس نہ آئی ہو۔ غرض سب نے وہاں پر سوگ منایا۔
یزید صبح و شام کھانے کے وقت علی بن حسین کو بھی بلا لیا کرتا تھا۔ ۔۔۔ جب ان لوگوں نے روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو یزید نے علی بن حسین کو بلا بھیجا اور ان سے کہا: “اللہ مرجانہ کے بیٹے (ابن زیاد) پر لعنت کرے۔ واللہ اگر حسین میرے پاس آتے، تو مجھ سے جو مطالبہ کرتے، میں وہی کرتا۔ ان کو ہلاک ہونے سے جس طرح ممکن ہوتا بچا لیتا خواہ اس کے لیے میری اولاد میں سے کوئی مارا جاتا۔ لیکن اللہ کو یہی منظور تھا، جو آپ نے دیکھا۔ آپ کو جس چیز کی ضرورت ہو، مجھے بتائیے اور میرے پاس لکھ کر بھیج دیجیے۔ پھر یزید نے سب کو کپڑے دیے اور اس قافلے (کے لیڈروں) کو ان لوگوں کے بارے میں خاص تاکید کی۔
( ایضاً ۔ 4/1-237)
بلاذری نے اس ضمن میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کےبھائی محمد بن علی رحمہ اللہ کا یہ واقعہ بیان کیا ہے:
حدثني أبو مسعود الكوفي عن عوانة قال: یزید نے ابن حنفیہ کو ملاقات کے لیے بلایا اور اپنے پاس بٹھا کر ان سے کہا: “حسین کی شہادت پر اللہ مجھے اور آپ کو بدلہ دے۔ واللہ! حسین کا نقصان جتنا بھاری آپ کے لیے ہے، اتنا ہی میرے لیے بھی ہے۔ ان کی شہادت سے جتنی اذیت آپ کو ہوئی ہے، اتنی ہی کو بھی ہوئی ہے۔ اگر ان کا معاملہ میرے سپرد ہوتا اور میں دیکھتا کہ ان کی موت کو اپنی انگلیاں کاٹ کر اور اپنی آنکھیں دے کر بھی ٹال سکتا ہوں تو بلا مبالغہ دونوں ہی ان کے لیے قربان کر دیتا، اگرچہ انہوں نے میرے ساتھ بڑی زیادتی کی تھی اور خونی رشتہ کو ٹھکرایا تھا
(یعنی اہل عراق کی دعوت پر وہاں چلے گئے تھے۔)
آپ کو معلوم ہوگا کہ ہم عوام کے سامنے حسین (کے اقدام) پر تنقید کرتے ہیں لیکن واللہ یہ اس لیے نہیں کہ عوام میں حضرت علی کے خاندان کو عزت و حرمت حاصل نہ ہو بلکہ ہم لوگوں کو اس سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حکومت و خلافت میں ہم کسی حریف کو برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔ ”
یہ سن کر ابن حنفیہ نے کہا: “اللہ آپ کا بھلا کرے اور حسین پر رحم فرمائے اور ان کی خطاؤں کو معاف کرے۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ ہمارے نقصان کو اپنا نقصان اور ہماری محرومی کو اپنی محرومی سمجھتے ہیں۔ حسین اس بات کے ہرگز مستحق نہیں ہیں کہ آپ ان پر تنقید کریں یا ان کی مذمت کریں۔ امیر المومنین! میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ حسین کے بارے میں ایسی بات نہ کہیے جو مجھے ناگوار گزرے۔” یزید نے جواب دیا: “میرے چچا زاد بھائی! میں حسین کے متعلق کوئی ایسی بات نہ کہوں گا جس سے آپ کا دل دکھے۔ ”
اس کے بعد یزید نے ان سے ان کے قرض کے بارے میں پوچھا۔ محمد بن علی نے فرمایا: ’’مجھ پر کوئی قرض نہیں ہے۔‘‘ یزید نے اپنے بیٹے خالد بن یزید سے کہا: ’’میرے بیٹے! آپ کے چچا کم ظرفی، ملامت اور جھوٹ سے بہت دور ہیں۔ اگر ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو کہہ دیتا کہ مجھ پر فلاں فلاں کا قرض ہے۔‘‘ پھر یزید نے حکم جاری کیا کہ انہیں تین لاکھ درہم دیے جائیں جو انہوں نے قبول کر لیے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہیں پانچ لاکھ درہم کیش اور ایک لاکھ کا سامان دیا۔
یزید ابن حنفیہ کے ساتھ بیٹھتا تھا اور ان سے فقہ اور قرآن سے متعلق سوالات کرتا تھا۔ جب انہیں الوداع کرنے کا وقت آیا تو اس نے ان سے کہا: ’’ابو القاسم! اگر آپ نے میرے اخلاق میں کوئی برائی دیکھی ہو تو بتائیے، میں اسے دور کر دوں گا۔ اور آپ جس چیز کی طرف اشارہ کریں گے، اسے درست کر دوں گا۔‘‘ ابن حنفیہ نے فرمایا: ’’واللہ! میں نے اپنی وسعت کے مطابق کوئی ایسی برائی نہیں دیکھی جس سے آپ نے لوگوں کو روکا نہ ہو او راس معاملے میں اللہ کے حق کے بارے میں بتایا نہ ہو۔ یہ اہل علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کے لیے حق بات کو واضح کریں اور اسے نہ چھپائیں۔ میں نے آپ میں خیر کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا ہے۔‘‘( بلاذری۔ انساب الاشراف ۔ 3/470۔ باب: محمد بن حنفیہ)
ابو مخنف سے روایا ت کا جو دوسرا گروپ مروی ہے، ان کے مطابق شہادت حسین پر یزید خوش ہوا اور اس میں اس کی رضا شامل تھی۔ اس کے برعکس انہی ابو مخنف کی اوپر بیان کردہ روایات سے اس کے برعکس تصویر سامنے آتی ہے کہ یزید کو سانحہ کربلا کا شدید افسوس ہوا اور وہ اس نے اس سانحے پر غم کا ظہار کیا۔ اب یہ شخص کی اپنی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ ابو مخنف کی روایات میں سے کن روایات کو قبول کرتا ہے۔ اتنی صدیوں بعد کسی کا دل چیر کر نہیں دیکھا جا سکتا ہےکہ اس کے دل میں کیا ہے۔
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یزید اس سانحہ میں ملوث نہیں تھا تو اس نے ابن زیاد اور سانحہ کربلا کے دیگر ذمہ داروں کو سزا کیوں نہیں دی؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ ایک تحقیقاتی ٹیم بناتا جس میں ایسے دیانت دار لوگ ہوتے جن پر امت کو کامل اعتماد ہوتا۔ یہ لوگ سانحہ کربلا کی تحقیقات کرتے اور جو لوگ اس میں ملوث تھے، انہیں قرار واقعی سزا دی جاتی۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا کتب تاریخ کے صفحات میں کوئی جواب نہیں ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ یزید کی ایسی بھیانک غلطی تھی جس کے نتیجے میں اس کا نہ تو اقتدار قائم رہ سکا اور اس کے مخالفین نے اس کے اس اقدام کو بنیاد بنا کر اس پر لعن طعن کا وہ سلسلہ شروع کیا جو اب تک جاری ہے۔خود یزید کو سانحہ کربلا کی وجہ سے سخت نقصان ہوا۔ اس کی اب تک جو رہی سہی ساکھ تھی، وہ بالکل ہی ختم ہو گئی اور لوگ اس سے نفرت کرنے لگے۔ طبری ہی کی ایک روایت سے اندازہ ہوتا ہے کہ یزید کو اس نقصان کا اندازہ ہو گیا تھا اور وہ ابن زیاد سے سخت نفرت کرنے لگا تھا۔
قال أبو جعفر: وحدثني أبو عبيدة معمر بن المثنى أن يونس بن حبيب الجرمي حدثه، قال: تھوڑے ہی دن بعد وہ (یزید) پشیمان ہوا اور اکثر کہا کرتا تھا: “اگر میں ذرا تکلیف گوارا کرتا اور حسین کو اپنے ہی گھر میں رکھتا، جو وہ چاہتے، انہیں اس کا اختیار دے دیتا۔ اس لیے کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی تھی اور ان کے حق اور قرابت کی رعایت تھی۔ اگر میری حکومت کی اس میں سبکی بھی ہو جاتی تو اس میں کیا حرج تھا۔ اللہ ابن مرجانہ (ابن زیاد) پر لعنت کرے کہ اس نے انہیں لڑنے پر مجبور کیا۔ وہ تو یہ کہتے تھے کہ مجھے واپس چلا جانے دو یا (مجھے یزید کے پاس بھیج دو) تاکہ میں اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں دے دوں یا مسلمانوں کی سرحدوں میں سے کسی سرحد کی طرف مجھے نکل جانے دو۔ وہاں اللہ عزوجل میری حفاظت کرے گا۔ یہ بات بھی اس نے نہ مانی اور اس سے بھی انکار کر دیا۔ ان کو کوفہ کی طرف واپس لایا اور قتل کر دیا۔ اس واقعہ سے اس نے مسلمانوں کے دلوں میں میرا بغض بھر دیا اور میری عداوت کا بیج بویا۔ اب نیک ہوں یا بد، سب مجھ سے اس بات پر بغض رکھتے ہیں کہ میں نے حسین کو قتل کیا۔ لوگ اسے بہت بڑا واقعہ سمجھتے ہیں۔ مجھے ابن مرجانہ سے کیا غرض ہے؟ اللہ اس پر لعنت کرے اور اس پر اپنا غضب نازل کرے۔
( طبری۔ 4/1-270)
اسی روایت کے کچھ بعد بیان ہے کہ یزید کے مرنے کے بعد ابن زیاد نے ایک خطبہ دیا اور اس کی مذمت بھی کی۔ وہ جانتا تھا کہ یزید اس کے ساتھ بہت برا پیش آنے والا ہے اور اس وجہ سے اس سے خائف تھا۔ ممکن ہے کہ یزید اگر کچھ عرصہ اور زندہ رہتا تو ابن زیاد کے خلاف کاروائی بھی کر ڈالتا لیکن بہرحال اب بہت دیر ہو چکی تھی اور شہادت حسین رضی اللہ عنہ کا جو نقصان اسے پہنچنا تھا، وہ پہنچ چکا تھا۔
سانحہ کربلا میں باغی تحریک کا کردار کیا تھا؟
سانحہ کربلا میں کوفہ کی باغی تحریک کا کردار نمایاں ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ آنے کی دعوت دی اور خطوط کا تانتا باندھ دیا۔ اس کے بعد انہوں نے مسلم بن عقیل رحمہ اللہ کو بغاوت پر اکسایا اور پھر عین محاصرے کی حالت میں ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ اس بات کا غالب امکان ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو براہ راست شہید کرنے والوں میں وہ لوگ شامل تھے جو باغی تحریک سے متعلق تھے۔ ان میں شمر بن ذی الجوشن کا نام نمایاں ہے جو جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل تھا۔ حضرت حسین نے اپنی شہادت سے کچھ دیر پہلے جو دعا فرمائی، اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو شہید کرنے والے یہی لوگ تھے۔ “اے اللہ! ہمارا اور ان لوگوں کا تو انصاف فرما۔ انہوں نے ہمںب اس لےد بلایا کہ ہماری مدد کریں گے اور اب ہم لوگوں کو قتل کر رہے ہں ۔”
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے نتائج پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس شہادت سے یزید کو تو کوئی فائدہ نہ پہنچا البتہ باغی تحریک کی پانچوں انگلیاں گھی میں آ گئیں۔ انہوں نے حضرت حسین کے نام کو خوب کیش کروایا اور چار سال کی تیاری کر کے آپ کے نام پر ایک زبردست بغاوت اٹھائی۔ جیسا کہ ہم باغی تحریکوں کے لائف سائیکل میں بیان کر چکے ہیں کہ یہ لوگ “شہیدوں” کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ ان کا نام استعمال کر کر کے لوگوں کے جذبات بھڑکا سکیں۔ اور پھر اگر شہید حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے درجے کا شخص ہو تو کیا کہنے۔ یہی وجہ ہے کہ باغیوں نے پہلے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس آنے کی ترغیب دی، پھر جب آپ کوفہ کی طرف تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا۔ اس کے بعد جب آپ شہید ہو گئے تو آپ کے نام کو خوب استعمال کر کے اگلی نسلوں کے جذبات بھڑکائے اور پے در پے بغاوتیں اٹھائیں۔ تاہم اللہ تعالی نے ان کے تمام منصوبوں کو ناکام کر دیا اور ان کی کوئی بغاوت بھی کامیاب نہ ہو سکی۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بعد یہی معاملہ اس باغی تحریک نے آپ کے پوتے جناب زید بن علی رحمہما اللہ اور ان کے کزن نفس الزکیہ علیہ الرحمۃ کے ساتھ کیا۔
حضرت عثمان اور حضرت حسین کی شہادتوں میں کیا مناسبت تھی؟
حضرت عثمان اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی شہادتوں میں بہت سے پہلو مشترک ہیں۔ سب سے پہلے یہ تقابل حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کیا تھا جس وقت انہوں نے حضرت حسین کو عراق جانے سے روکا تھا۔ آپ نے فرمایا تھا: “اگر جانا ہی ٹھہرا تو خواتن اور بچوں کو ساتھ نہ لے جائےح۔ واللہ! مجھے ڈر ہے کہ کہںھ حضرت عثمان کی طرح آپ بھی اپنی خواتنل اور بچوں کے سامنے قتل نہ کر دیے جائںس۔” حضرت ابن عباس کی یہ پیش گوئی پوری ہوئی اور حضرت حسین کو بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کی طرح ان کے اہل و عیال کے سامنے شہید کیا گیا۔ حضرت عثمان کی شہادت سے کچھ ہی دیر پہلے جس آخری شخص نے آپ سے ملاقات کی تھی، وہ حضرت حسین ہی تھے۔
ان دونوں بزرگوں کی شہادتوں میں یہ پہلو بھی مشترک ہے کہ دونوں ہی کو نہایت مظلومیت کے ساتھ شہید کیا گیا۔ جیسے حضرت عثمان کے ساتھ حسن و حسین سمیت چند ہی ساتھی تھے جبکہ ان کے مخالفین ہزاروں کی تعداد میں تھے، ویسے ہی حضرت حسین کے ساتھ بھی چند ہی ساتھی تھے اور ان کے مخالفین بھی ہزاروں کی تعداد میں تھے۔
حضرت عثمان اور حسین رضی اللہ عنہما کی شہادتوں میں دوسری مناسبت یہ ہے کہ دونوں ہی باغی تحریک کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ تیسری مناسبت یہ ہے کہ جیسے قاتلین عثمان اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے ، ویسے ہی قاتلین حسین بھی خائب و خاسر رہے۔ حضرت عثمان کے قاتلوں کا مقصد یہ تھا کہ وہ اقتدار پر قابض ہو جائیں اور کسی کٹھ پتلی خلیفہ کے پردے میں اپنا اقتدار قائم کر سکیں۔ حضرت علی، حسن اور معاویہ رضی اللہ عنہم نے ان کی یہ خواہش پوری نہ ہونے دی۔ بالکل اسی طرح قاتلین حسین کا مقصد یہ تھا کہ آپ کو شہید کر کے وہ یزید سے کچھ انعام و اکرام حاصل کریں۔ یزید نے ان کی یہ خواہش پوری نہ کی۔ جیسے قاتلین عثمان کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما نے چن چن کر گرفتار کیا اور پھر مقدمہ چلا کر انہیں موت کی سزا دی، بالکل اسی طرح قاتلین حسین کو بھی مختار ثقفی کے دور میں چن چن کر قتل کیا گیا۔
حضرت عثمان اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی شہادتوں میں ایک مناسبت یہ بھی ہے کہ دونوں کے نام کو جنگ و جدال کے لیے استعمال کیا گیا۔ ناصبی فرقے نے حضرت عثمان کا نام لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہما کے خلاف پراپیگنڈا کیا، بالکل ویسے ہی باغی تحریک نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا نام لے کر بنو امیہ کی حکومتوں کے خلاف پراپیگنڈا کیا۔
ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے ادوار میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نام پرکیا جانے والا پراپیگنڈا ختم ہو گیا جبکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر کیا جانے والا پراپیگنڈا اب بھی جاری ہے۔ اس معاملے میں کسی مخصوص فرقے کی اجارہ داری نہیں ہے بلکہ جب بھی جس باغی تحریک کو ضرورت پڑتی ہے، تو وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا نام استعمال کرتی ہے۔
یہاں پر تاریخ کے طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ حضرت حسین کے نام کے ساتھ ہی کیوں کیا جاتا ہے اور حضرت عثمان کو بالکل ہی نظر انداز کیوں کر دیا گیا ہے؟ اس کی وجہ اصل میں یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے اور آپ کے خلاف اٹھنے والے باغی تھے۔ اس وجہ سے باغی تحریکوں کو آپ کا نام لینے میں کوئی فائدہ محسوس نہیں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو معاذ اللہ ایک ایسے باغی سے تشبیہ دی جاتی ہے جو ظالم حکمران کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو گیا۔ اس کے بعد خون کو گرمانے والے اشعار پڑھے جاتے ہیں اور تحریکی کارکنوں کو بغاوت کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
یہ تفصیل بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے دور کے سیاسی لیڈروں کے ہتھکنڈوں کو سمجھیں جو ان بزرگوں کے مقدس نام استعمال کر کے سادہ لوح نوجوانوں کو اپنے اقتدار کی راہ ہموار کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ لیڈر خود کم ہی جان دیتے ہیں اور اپنے سادہ لوح کارکنوں کو جان دینے کی زیادہ ترغیب دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کوئی بغاوت نہیں کی اور نہ ہی فتنہ و فساد برپا کیا۔ آپ عراق میں انارکی کو ختم کرنے کے لیے تشریف لے گئے تھے اور جب آپ کو یہ علم ہوا کہ وہاں حکومت قائم ہو چکی ہے تو مسلمانوں کی اجتماعیت کو برقرار رکھنے کے لیے آپ یزید کے پاس جا کر براہ راست معاملہ طے کرنے کے لیے بھی تیار ہو گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس کے باوجود بھی آپ کو شہید کیا گیا تو پورے عالم اسلام میں آپ کے قتل کو مظلومانہ قتل ہی قرار دیا گیا۔
سانحہ کربلا کی داستانیں کس حد تک قابل اعتماد ہیں؟
سانحہ کربلا چونکہ ایک بڑا سانحہ تھا اور اس نے عالم اسلام پر بڑے نفسیاتی اثرات مرتب کیے، اس وجہ سے یہ مورخین کے زمرے سے نکل کر عام قصہ گو حضرات، شاعروں اور خطیبوں کی محفلوں کا موضوع بن گیا۔ ان کے ساتھ ساتھ باغی تحریک سے تعلق رکھنے والے قصہ گو خطیبوں اور شاعروں نے جلتی آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کیا۔ ایک عام خطیب یا شاعر کو اس بات سے دلچسپی نہیں ہوتی ہے کہ واقعے کو ٹھیک ٹھیک بیان کیا جائے بلکہ اس کی دلچسپی اس بات سے ہوتی ہے کہ ایسی کیا بات کی جائے جس سے سامعین کے جذبات بھڑکیں، وہ روئیں اور چلائیں، اپنے گریبان چاک کر دیں اور خطیب یا شاعر کو اٹھ کر داد دیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان حضرات نے سانحہ کربلا کی ایسی ایسی مبالغہ آمیز داستانیں وضع کیں جن کا تصور بھی شاید ابو مخنف نے بھی نہ کیا ہو گا۔ ان داستانوں کی کوئی سند نہیں ہے اور نہ یہ تاریخ کی کسی کتاب میں موجود ہیں۔ بس جاہل قسم کے واعظ اور شاعر انہیں بیان کر دیتے ہیں۔ یہاں ہم ان مبالغہ آمیز داستانوں کی چند مثالیں پیش کر رہے ہیں جو عام مشہور ہیں۔
1۔ یہ بات عام طور پر مشہور کر دی گئی ہے کہ کربلا میں تین دن تک حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل بیت کا پانی بند کر دیا گیا تھا اور وہ پیاسے شہید ہوئے تھے۔ خود ابو مخنف کی روایت سے اس کی تردید ہوتی ہے جو کہ طبری میں موجود ہے:
قال أبو مخنف: حدثنا عبد الله بن عاصم الفائشي – بطن من همدان – عن الضحاك بن عبد الله المشرقي:۔۔۔ (سانحہ کربلا کی رات سیدہ زینب رضی اللہ عنہا شدت غم سے بے ہوش ہو گئیں۔) بہن کا حال دیکھ کر حضرت حسین کھڑے ہو گئے ۔ ان کے پاس آ کر چہرہ پر پانی چھڑکا اور فرمایا: “پیاری بہن! اللہ کا خوف کرو اور اللہ کے لیے صبر کرو۔ اس بات کو سمجھو کہ روئے زمین پر سب مرنے والے ہیں۔ اہل آسمان بھی باقی نہ رہیں گے۔ بس اللہ کی ذات کے سوا جس نے اپنی قدرت سے اس زمین کو پیدا کیا ہے اور جو مخلوق کو زندہ کر کے واپس لائے گا، وہی اکیلا اور تنہا ہے۔ سب چیزیں مٹ جانے والی ہیں۔ میرے والد مجھ سے بہتر تھے، میری والدہ تم سے بہتر تھیں، میرے بھائی مجھ سے بہتر تھے۔ مجھے اور ان سب کو اور ہر مسلمان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو دیکھ کر اطمینان ہو جانا چاہیے۔ ” اسی طرح کی باتیں کر کے آپ نے انہیں سمجھایا اور پھر فرمایا: “پیاری بہن! میں تمہیں قسم دیتا ہوں اور میری اس قسم کو پورا کرنا۔ میں مر جاؤں تو میرے غم میں گریبان چاک مت کرنا، منہ کو نہ پیٹنا، ہلاکت و موت کو نہ پکارنا۔ ”
( ایضاً ۔ 4/1-206)
اس روایت میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی ہمشیرہ کو جو نصیحت فرمائی، اسے ہماری خواتین کو بھی پلے باندھ لینا چاہیے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سانحہ کی آخری رات بھی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پاس پانی موجود تھا جو آپ نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے چہرے پر چھڑکا۔ ویسے بھی کربلا دریائے فرات کے کنارے پر واقع ہے۔ دریا کے پانی کا پھیلاؤ اتنا ہے کہ اس کی وجہ سے اس علاقے میں ایک بڑی جھیل موجود ہے جو کہ ’’بحیرہ رزازہ‘‘ کہلاتی ہے اور کربلا شہر سے محض 18 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ آج بھی گوگل ارتھ کی مدد سے اس پورے علاقے کو دیکھا جا سکتا ہے ۔ فرات ایک دریا ہے، کوئی چھوٹا موٹا چشمہ نہیں ہے جس کا پانی روک لیا جائے۔ اگر ایک جگہ دشمن نے پہرہ لگا دیا تھا تو دوسری جگہ سے پانی حاصل کیا جا سکتا تھا۔
اس روایت کے کچھ بعد طبری نے ایک اور روایت نقل کی ہے جس کے مطابق حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ایک بڑے ٹب میں مشک کو پانی میں حل کرنے کا حکم دیا تاکہ اسے جسم پر ملا جا سکے۔ اگر پینے کے لیے پانی نہ تھا تو پھر پہلوانوں کی طرح نورہ لگانے کے لیے ٹب جتنا پانی کہاں سے آ گیا؟
قال أبو مخنف: حدثني فضيل بن خديج الكندي، عن محمد بن بشر، عن عمرو الحضرمي، قال: جب یہ لوگ (سرکاری فوج) آپ (حضرت حسین) سے جنگ کے لیے آگے بڑھے، تو آپ نے حکم دیا کہ بڑا خیمہ نصب کیا جائے۔ چنانچہ اسے نصب کر دیا گیا۔ آپ نے حکم دیا کہ ایک بڑے برتن میں مشک کو پانی میں حل کیا جائے۔ جب اسے حل کر لیا گیا تو اب آپ خیمہ کے اندر نورہ لگانے کے لیے گئے۔
( ایضاً ۔ 4/1-208)
2۔ ایک اور مبالغہ آمیز بیان یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے دشمن فوج کے ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا اور کشتوں کے پشتے لگا دیے۔ بعض روایتوں میں یہ تعداد دو ہزار اور بعض میں تین لاکھ تک آئی ہے۔ اس روایت کے مبالغے کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ہر آدمی کے ساتھ مقابلہ کرنے اور اسے پچھاڑ کر قتل کرنے کے لیے ایک منٹ بھی درکار ہو تو 2000 افراد کو قتل کرنے کے لیے 2000 منٹ تو چاہیے ہوں گے، یہ تقریبا 33 گھنٹے بنتے ہیں۔ ابو مخنف کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سانحہ ایک آدھ گھنٹے میں ہو کر ختم ہو گیا تھا۔
3۔ ایک اور مبالغہ آمیز بیان یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر شہداء کے سروں کو نیزوں پر لگا کر انہیں آپ کے اہل خانہ کے ساتھ شہر بہ شہر جلوس کی صورت میں پھرایا گیا اور اس حالت میں بھی حضرت حسین کے مبارک لبوں سے تلاوت قرآن مجید کی آواز سنی گئی۔ اگر کوئی آج بھی یہ کام کرے تو اسے سیاسی خود کشی ہی کہا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو جہاں جہاں سے یہ جلوس گزرتا جاتا، بغاوت کھڑی ہوتی چلی جاتی۔ پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایسی کوئی حرکت کی جاتی تو اسے دیکھنے والے ہزاروں ہوتے۔ کیا ان میں سے کسی کی غیرت نے جوش نہیں مارا؟ اس وقت موجود درجنوں صحابہ اور ہزاروں تابعین میں سے کیا دو چار سو لوگ بھی ایسے نہ تھے جنہوں نے اس جلوس کو دیکھ کر یزید کے سامنے کلمہ حق ہی کہا ہو؟
اس قسم کی درجنوں مبالغہ آمیز داستانیں ہمارے ہاں خطیب اور شاعر عام بیان کرتے نظر آتے ہیں لیکن ہم انہی پر اکتفا کرتے ہیں۔
سانحہ کربلا کی روایات کس حد تک مستند ہیں؟
سانحہ کربلا کے موضوع پر بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں۔ محرم الحرام میں بہت سے واعظ اور ذاکرین رو رو کر سانحہ کربلا کی داستان کچھ اس طریقے سے سناتے ہیں جیسے وہ اس واقعے کے چشم دید گواہ ہوں اور انہوں نے اس سانحے کو باقاعدہ ریکارڈ کیا ہو۔ تاریخ میں اس واقعے سے متعلق جیسا جھوٹ گھڑا گیا ہے، شاید ہی کسی اور واقعے سے متعلق گھڑا گیا ہو۔
عجیب بات یہ ہے کہ اولین کتب تاریخ میں اس واقعے کو صرف ایک شخص نے پوری تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے اور اس کا نام ہے ابو مخنف لوط بن یحیی۔ ان سے بالعموم جو صاحب روایت کرتے ہیں، ان کا نام ہشام کلبی ہے۔ ان دونوں راویوں سے ہمارا اس کتاب میں پرانا تعلق ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ دونوں نہایت ہی متعصب مورخ ہیں اور مخصوص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں سخت بغض رکھتے ہیں۔ تاریخ طبری میں سوائے چند ایک کے، سانحہ کربلا کی تقریباً سبھی روایات انہی دونوں سے مروی ہیں۔ ان دونوں راویوں کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ سے بغض اتنا نمایاں ہے کہ انہوں نے ان روایات میں بھی جگہ جگہ اس بغض کو داخل کر دیا ہے۔
تاریخ کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ کسی شخص یا واقعے کے بارے میں اس سے متعصب راوی کی روایت کو قبول نہ کیا جائے۔ اس وجہ سے مناسب یہی رہے گا کہ ہم ابو مخنف اور ہشام کلبی کی روایات سے اجتناب کریں۔ ان دونوں کے علاوہ ایک اور ناقابل اعتماد مورخ محمد بن عمر الواقدی کی بعض روایتیں سانحہ کربلا سے متعلق ہیں، جن کے بارے میں بھی ہمیں معلوم ہے کہ وہ ہر جھوٹی سچی بات کو ملا کر ایک کہانی بناتے ہیں اور پھر بغیر کسی سند کے بیان کر دیتے ہیں۔ کبھی وہ سند بھی بیان کر دیتے ہیں جو بالعموم مکمل نہیں ہوتی ہے۔
تاریخ طبری کے بارے میں 129 روایات کا بڑا حصہ ابو مخنف، ہشام کلبی اور واقدی سے مروی ہے۔ طبری سے پہلے کے مورخین میں ابن سعد (d. 230/845) ہیں جو کہ ہیں تو واقدی کے شاگرد ، لیکن بذات خود ایک قابل اعتماد مورخ ہیں۔ ان کے بارے میں محدثین کا یہ اصول ہم بیان کر چکے ہیں کہ ان کی وہ روایات، جو وہ واقدی کےعلاوہ کسی اور سے روایت کرتے ہیں، پر اعتماد کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ ان کے راوی قابل اعتماد ہوں۔ ابن سعد نے سانحہ کربلا کے واقعات سے متعلق 23 روایات اپنی کتاب میں درج کی ہیں،لیکن ان میں سے ایک روایت وہ ہے جو انہوں نے مختلف اسناد کو ملا کر پورے واقعہ کو ایک طویل کہانی کی صورت میں بیان کی ہے۔ بقیہ 22 چھوٹی چھوٹی روایتیں ہیں جن میں ابن سعد نے واقعے کی کچھ جزوی تفصیلات کو نقل کیا ہے اور ان میں کوئی خاص بات نہیں ہے۔ ان میں سے ہر روایت کو نقل کرنے کے بعد وہ رجع الحديث إلى الأول (اب ہم پہلے بیان کی طرف واپس پلٹتے ہیں) کے الفاظ لکھ کر اسی طویل روایت کو بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ روایت 25-26 صفحات پر پھیلی ہوئی ہے جبکہ بقیہ 5-6 صفحات پر بقیہ 22 روایتیں ہیں۔ طویل روایت کی اسناد کو انہوں نے کچھ اس طرح نقل کیا ہے:
أخبرنا محمد بن عمر (الواقدي)، قال: حدثنا ابن أبي ذئب، قال: حدثني عبدالله بن عمير مولى أم الفضل
أخبرنا عبدالله بن محمد بن عمر بن علي، عن أبيه
أخبرنا يحيي بن سعيد بن دينار السعدي، عن أبيه
وحدثني عبدالرحمن بن أبي الزناد، عن أبي وجزة السعدي، عن علي بن حسين.
قال: وغير هؤلاء أيضا قد حدثني. قال محمد بن سعد: وأخبرنا علي بن محمد، عن يحيي بن إسماعيل بن أبي مهاجر، عن أبيه.
وعن (أبو مخنف) لوط بن يحيي الغامدي، عن محمد بن نشر الهمداني، وغيره.
وعن محمد بن الحجاج، عن عبدالملك بن عمير.
وعن هارون بن عيسى، عن يونس بن أبي إسحاق، عن أبيه.
وعن يحيي بن زكريا بن أبي زائدة، عن مجالد، عن الشعبي.
قال ابن سعد: وغير هؤلاء أيضا قد حدثني في هذا الحديث بطائفة فكتبف جوامع حديثهم في مقتم الحسين رحمة الله عليه ورضوانه وصلوته وبركاته. قالوا:
ابن سعد نے کہا: ان اسناد کے علاوہ بھی اس روایت کو (راویوں کے) ایک گروہ نے مجھ سے بیان کیا۔ میں نے حضرت حسین رحمۃ اللہ علیہ ورضوانہ و صلوتہ وبرکاتہ کی شہادت سے متعلق ان سب کی روایتوں کو اکٹھا کر کے لکھ لیا ہے۔ ان لوگوں نے بیان کیا:۔۔۔۔( ابن سعد۔ طبقات الکبری۔ 6/421-422)۔
ابن سعد نے اس طویل روایت میں یہ نہیں بتایا کہ روایت کا کون سا حصہ کس راوی نے بیان کیا ہے بلکہ انہوں نے اسے ایک مسلسل قصے کی صورت میں بیان کر دیا ہے۔ اب ہمیں یہ معلوم نہیں ہو سکتا ہے کہ تقریباً 25-26 صفحات پر پھیلی ہوئی اس روایت کا کون سا حصہ قابل اعتماد راویوں نے بیان کیا ہے اور کون سا حصہ ناقابل اعتماد راویوں نے۔ اس وجہ سے ان کی پوری روایت کی حیثیت مشکوک ہو جاتی ہے۔ ابن سعد کی بیان کردہ تفصیلات کا موازنہ اگر طبری میں بیان کردہ ابو مخنف ، ہشام کلبی اور واقدی کی روایتوں سے کیا جائے تو ان میں مماثلت پائی جاتی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابن سعد نے بھی زیادہ تر تفصیلات انہی تین راویوں سے اخذ کی ہیں۔
اب آئیے تیسرے مورخ احمد بن یحیی بلاذری (d. 279/893)کی طرف۔ انہوں نے سانحہ کربلا کے ضمن میں 39 روایتیں بیان کی ہیں جو کہ مکتبہ دار الفکر والے ورژن کی جلد 3 میں صفحہ 363-426 پر پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں سے 14ایسی روایتیں ہیں جو نہایت ہی ناقابل اعتماد راویوں سے مروی ہیں۔ ان میں ابو مخنف لوط بن یحیی (4654)، عباد بن عوام (2651)، عوانہ بن حکم (4372)، حصین بن عبد الرحمن (1795) اور ہیثم بن عدی (6546)شامل ہیں۔ یہ سب کے سب راوی ضعیف اور ناقابل اعتماد ہیں۔( ذہبی۔ سیر الاعلام النبلا۔ راویوں کے نمبر کے مطابق دیکھا جا سکتا ہے۔)
ان میں لوط بن یحیی اور عباد بن عوام اسی باغی پارٹی سے تعلق رکھتے تھے جو مسلسل بغاوتیں اٹھاتی رہی۔ عوانہ بن حکم، ہشام کلبی کے استاذ تھے۔ ہیثم بن عدی کو محدثین نے کذاب قرار دیا ہے۔ حصین بن عبد الرحمن اگرچہ قابل اعتماد تھے مگر ان کا حافظہ کمزور تھا اور وہ روایات کو خلط ملط کر دیا کرتے تھے۔ آپ ذہبی کے مشہور انسائیکلو پیڈیا ’’سیر الاعلام النبلاء‘‘ میں متعلقہ نمبر پر ان سب کے حالات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ اگر ان راویوں کی بیان کردہ روایتوں کو چھوڑ دیا جائے تو اس طرح سے بقیہ 25روایتیں بچتی ہیں جن سے ہم واقعے کی حقیقت کا کچھ اندازہ لگا سکتے ہیں۔
آٹھویں صدی کے مشہور مورخ ابن کثیر نے بھی ابو مخنف وغیرہ کی ان روایتوں کو اپنی کتاب البدایہ و النہایہ میں درج کیا ہے اور اس کے بعد لکھا ہے:
اہل تشیع اور روافض نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں بہت سا جھوٹ اور جھوٹی خبریں گھڑی ہیں۔ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے، اس کا بعض حصہ محل نظر ہے۔ اگر ابن جریر (طبری) وغیرہ حفاظ اور ائمہ نے اس کا ذکر نہ کیا ہوتا تو میں اسے بیان نہ کرتا۔ اس کا اکثر حصہ ابو مخنف لوط بن یحیی کی روایت سے ہے جو کہ شیعہ تھا اور ائمہ کے نزدیک واقعات بیان کرنے میں ضعیف (ناقابل اعتماد) ہے۔ لیکن چونکہ وہ اخباری اور (خبروں کا) محفوظ کرنے والا ہے اور اس کے پاس ایسی چیزیں ہیں جو اس کے علاوہ کسی اور کے پاس نہیں ہیں، اس وجہ سے اس کے بعد کے کثیر مصنفین نے اس پر کڑی تنقید کی ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے۔ ) ابن کثیر 11/577، اردو ترجمہ: 8/259)
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان ناقابل اعتماد مورخین کی روایتوں کو چھوڑ دیا جائے تو سانحہ کربلا سے متعلق ہمیں کچھ زیادہ معلوم نہ ہو سکے گا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جس کا کوئی حل نہیں ہے تاہم دو صورتیں ایسی ہیں جن پر احتیاط سے عمل کیا جائے تو ہم کسی حد تک درست معلومات تک پہنچ سکتے ہیں۔
• ایک صورت تو یہ ہے کہ ان دونوں کی روایتوں کو چھوڑ کر دیگر روایات پر غور کیا جائے۔ اس سے جتنی معلومات حاصل ہوں، ان پر اکتفا کر کے بقیہ معاملات کو حسن ظن پر چھوڑ دیا جائے۔ ہمارے نزدیک یہی صحیح طرز عمل ہے۔
• دوسری صورت یہ ہے کہ ان ناقابل اعتماد مورخین کی روایات میں جہاں جہاں صحابہ کرام سے بغض ظاہر ہوتا ہو، اسے چھوڑ کر بقیہ معاملات میں ان کی باتوں کو پوری احتیاط سے قبول کیا جائے اور ان کی کسی ایسی بات کو قبول نہ کیا جائے جس میں ان کا تعصب جھلکتا ہو اور انہوں نے واقعات کو جذباتی انداز میں ایسے بیان کیا ہو کہ اس دور کے مسلمانوں کی نہایت ہی بھیانک تصویر سامنے آئے۔
سانحہ کربلا کے بارے میں بعد کی صدیوں میں کیا رواج پیدا ہوئے؟
سانحہ کربلا کے بارے میں چوتھی صدی ہجری کے بعد تین موقف رواج پا گئے ہیں۔ ایک گروہ نے اس سانحہ کے دن یوم عاشورہ 10 محرم کو ماتم اور غم کا دن بنا لیا۔ دوسرے گروہ نے اسے عید اور خوشی کا دن بنایا اور امت کی اکثریت نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو ایک سانحہ کے طور پر دیکھا۔ انہوں نے اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو دیگر انبیاء و صلحاء کی شہادت کے ساتھ کرتے ہیں۔ ابن کثیر (701-774/1301-1372)نے انہیں اس طرح بیان کیا ہے:
روافض نے سن 400 ہجری کے آپس پاس بنو بویہ کی حکومت میں حد سے تجاوز کیا۔ یوم عاشورہ کو بغداد وغیرہ شہروں میں ڈھول بجائے جاتے، راستوں اور بازاروں میں راکھ اور بھوسہ بکھیرا جاتا، دکانوں پر ٹاٹ لٹکائے جاتے اور لوگ غم اور گریہ کا اظہار کرتے۔ اس رات بہت سے لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی موافقت میں پانی نہ پیتے کیونکہ آپ کو پیاسا ہونے کی حالت میں قتل کیا گیا تھا۔ خواتین ننگے منہ نوحہ کرتیں اور اپنے سینوں اور چہروں پر طمانچے مارتے ہوئے برہنہ پا بازاروں میں نکلتیں۔ اس قسم کی دیگر بدعات شنیعہ اور قبیح خواہشات اور رسوائی کے من گھڑت کام کیے جاتے۔ اس قسم کے کاموں سے ان کا مقصد بنو امیہ کی حکومت کو ذلیل کرنا تھا کیونکہ حضرت حسین ان کے دور حکومت میں قتل ہوئے تھے۔
• شام کے ناصبین نے یوم عاشورہ کو اس کے برعکس منانا شروع کیا۔ یہ لوگ یوم عاشورہ کو کھانے پکاتے، غسل کرتے، خوشبو لگاتے اور قیمتی لباس پہنتے اور اس دن کو عید کے طور پر مناتے ۔ اس میں وہ طرح طرح کے کھانے پکاتے اور خوشی و مسرت کا اظہار کرتے اور ان کا مقصد روافض کی مخالفت کرنا تھا۔ انہوں نے حضرت حسین کے قتل کی تاویل یہ کی کہ وہ مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لیے نکلے تھے اور جس شخص کی بیعت پر لوگوں نے اتفاق کیا تھا، اسے معزول کرنے آئے تھے۔ (باغیوں کو سزا دینے کے ضمن میں) صحیح مسلم میں اس بارے میں جو وعیدیں اور انتباہ آیا ہے، یہ ان احادیث کی تاویل کر کے ان کا اطلاق حضرت حسین پر کرتے ہیں۔ یہ جاہلوں کی تاویل تھی جنہوں نے آپ کو شہید کیا۔ ان پر لازم تھا کہ وہ آپ کو شہید نہ کرتے بلکہ آپ نے جب تین آپشنز دی تھیں، تو ان میں سے کسی ایک کو قبول کر لیتے۔۔۔۔
• ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ آپ کی شہادت پر غمگین ہو۔ بلاشبہ آپ سادات مسلمین اور علماء و صحابہ میں سے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان بیٹی کے بیٹے تھے جو آپ کی بیٹیوں میں سب سے افضل تھیں۔ آپ عبادت گزار ، دلیر اور سخی تھے لیکن شیعہ جس طریق پر بے صبری سے غم کا اظہار کرتے ہیں، وہ مناسب نہیں ہے۔ شاید اس کا اکثر حصہ تصنع اور دکھاوے پر مشتمل ہے۔ آپ کے والد (حضرت علی رضی اللہ عنہ) آپ سے افضل تھے۔ وہ بھی شہید ہی ہوئے تھے لیکن ان کے قتل کا ماتم حضرت حسین کے قتل کی طرح نہیں کرتے۔ بلاشبہ آپ کے والد 17 رمضان 40 ہجری کو جمعہ کے روز فجر کی نماز کو جاتے ہوئے قتل ہوئے تھے۔
• اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی قتل ہوئے تھے جو اہل السنۃ و الجماعۃ کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل تھے۔ آپ ماہ ذو الحجہ 36 ہجری کے ایام تشریق میں اپنے گھر میں محصور ہو کر قتل ہو ئے تھے۔ آپ کی شاہ رگ کو کاٹ دیا گیا مگر لوگوں نے آپ کے قتل کے دن کو ماتم کا دن نہیں بنایا۔ اسی طرح حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی قتل ہوئے جو حضرت عثمان اور حضرت علی سے افضل تھے۔ آپ محراب میں کھڑے ہو کر فجر کی نماز پڑھاتے اور قرآن پڑھتے ہوئے قتل ہوئے مگر لوگوں نے آپ کے یوم شہادت کو بھی ماتم کا دن نہیں بنایا۔ اسی طرح حضرت صدیق رضی اللہ عنہ آپ سے بھی افضل تھے اور لوگوں نے آپ کے یوم وفات کو بھی ماتم کا دن نہیں بنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا اور آخرت میں اولاد آدم کے سردار ہیں، آپ کو اللہ تعالی نے اسی طرح وفات دی، جیسے آپ سے پہلے انبیاء نے وفات پائی تھی۔ کسی نے آپ کی وفات کے دن کو بھی ماتم کا دن نہیں بنایا اور نہ وہ کام کیے ہیں جو ان روافض کے جاہل لوگ حضرت حسین کی شہادت کے روز کرتے ہیں۔ نہ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دن اور نہ آپ سے پہلے کسی شخص کی وفات کے دن کے بارے میں کسی شخص نے کسی ایسے مذکورہ معاملے کو بیان کیا ہے جس کا یہ لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کے دن کے بارے میں دعوی کرتے ہیں۔ جیسے سورج گرہن اور وہ سرخی جو آسمان پر نمودار ہوتی ہے۔
( ابن کثیر ۔ البدایہ و النہایہ۔ 11/577 (اردو 8/259) )
• ابن کثیر نے مسلمانوں کی اکثریت کا جو موقف بیان کیا ہے، وہی ان کا اپنا نقطہ نظر بھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کا ذکر کرنے سے ان کا مقصد یہی ہے کہ وہ اہل سنت کو اس جانب توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ پر ان کا موقف کیا ہونا چاہیے۔
نوٹ: یہ تحریر جناب مبشر نذیر صاحب کی کتاب ” مسلم تاریخ ” کے ماڈیول
HH03″: دور صحابہ سے متعلق تاریخی سوالات” سے اخذ کی گئی ہے۔ مکمل کتاب ان کی درج ذیل ویب سائیٹ پر دستیاب ہے۔
http://www.mubashirnazir.org

6 responses to this post.

  1. Posted by فضیل احمد on 06/09/2013 at 2:38 شام

    تاریخی روایات کی بحث سے قطع نظر یہ شعر بہرحال محل نظر محسوس ھوتا ھے “قتل حسین اصل میں مرگ یزید ھے اسلام زندہ ھوتا ھے ھر کربلا کے بعد” یہ بات تو ثابت ھو گئی کہ امام حسین نے یزید کی بعیت نہ کی انکو یزید سے تحفظات تھے اوری یزید انکے قتل کا براہ راست مجرم ھے یا نہیں لیکن بحثیت حاکم و مسلمان ذمہ داری اسی پر آئے گی کہ اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اھل بیت کی عزت و تکریم کیوں نہیں کی اور ان کے ھوتے ھوئے خود کو ان سے افضل کیسے سمجھ لیا

    جواب دیں

  2. Posted by farooq on 24/11/2012 at 1:00 شام

    Assalam u alikum..
    Baagh-e-fidak aur Eid-e-Ghadeer walaey mamlay pe bhi thori roshni daal dijiye.. sath sath shia suni firqoon mai jo asal waja-e-ikhtelaf hai wo bhi numaya kar dain .
    Shukriya

    جواب دیں

  3. Posted by گمنام on 24/11/2012 at 12:58 شام

    Assalam u alikum..
    Baagh-e-fidak ke mamlay pe bhi roshni daal dijiye take mazeed confussions door ho sakien.
    Shurkiya.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s