حضرت علی کے دیگر خلفاء سے تعلقات


تحریرو تحقیق : محمد مبشر نذیر
۱۔کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی؟
اس معاملے میں جو تاریخی روایات بیان ہوئی ہیں اور یہ تین طرح کی ہیں:
• پہلی قسم کی روایات کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوری رضا و رغبت کے ساتھ اگلے دن ہی بیعت کر لی تھی۔
• دوسری قسم کی روایات میں یہ بیان ہوا ہے کہ انہوں نے کچھ پس و پیش کیا تھا لیکن دیگر صحابہ کے سمجھانے پر کچھ ہی عرصہ بعد بیعت کر لی تھی۔
• تیسری قسم کی روایات مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ خود خلیفہ بننا چاہتے تھے۔ اس وجہ سے انہوں نے بیعت سے انکار کر دیا تھا اور حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے گھر پر حملہ کر دیا اور ان کا دروازہ جلا دیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر بھی تشدد کیا جس سے ان کا حمل ضائع ہوا اور حضرت علی کو مجبور کر کے ان سے بیعت لی گئی۔ اس کے بعد پہلے تین خلفاء راشدین کے زمانے میں خفیہ سازشوں میں مصروف رہے اور ان کا تختہ الٹنے کی کوشش کرتے رہے۔
پہلے گروپ کی روایات
برضا و رغبت بیعت والی روایتیں متعد دہیں اور یہاں ہم انہیں پیش کر رہے ہیں۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ , ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ , ثنا وُهَيْبٌ , ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ , ثنا أَبُو نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر بعتَ لنے کے لےن منبر پر چڑھے تو آپ نے دیکھا کہ حضرت علی موجود نہ تھے۔ آپ نے ان کے بارے میں پوچھا۔ انصار میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور انہیں بلا لائے۔ جب وہ آئے تو ان سے فرمایا: “اے رسول اللہ کے چچا زاد بھائی اور داماد! کان آپ مسلمانوں کے عصا (طاقت) کو توڑنا پسند کریں گے؟” انہوں نے بھی ییُ کہا: “اے رسول اللہ کے خلفہہ! مجھے ملامت نہ کے زا۔” اور پھر ان کی بعتم کر لی۔ پھر آپ نے دیکھا کہ حضرت زبری رضی اللہ عنہ غر حاضر ہںْ۔ آپ نے انہںا بلا بھجا ۔ جب حضرت زبرو آئے تو ان سے فرمایا: “اے رسول اللہ کے پھوپھی زاد بھائی اور آپ کے حواری! کاد آپ مسلمانوں کے عصا (طاقت) کو توڑنا پسند کریں گے؟ ” انہوں نے کہا: “اے رسول اللہ کے خلفہس! مجھے ملامت نہ کےیتں۔ ” پھر کھڑے ہو کر انہوں نے بعتم کر لی۔( بیہقی۔ الاعتقاد الی سبیل الرشاد۔ باب اجتماع المسلمین علی بیعۃ ابی بکر۔ حدیث 325۔ بلاذری، انساب الاشراف۔ 2/267)
حدثنا عبيد الله بن سعد ، قال : أخبرني عمي ، قال : أخبرني سيف ، عن عبد العزيز بن ساه ، عن حبيب بن أبي ثابت: حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں بیٹھے تھے کہ کسی نے انہیں بتایا کہ مسجد میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیعت لے رہے ہیں۔ اس وقت حضرت علی نے محض ایک طویل کرتا پہن رکھا تھا اور تہمد نہ باندھ رکھا تھا ۔ آپ دیر ہو جانے کے خوف سے اٹھے اور بغیر تہمد باندھے بھاگم بھاگ مسجد میں پہنچے اور بیعت کر کے صدیق اکبر کے پاس بیٹھ گئے۔ اس کے بعد آپ نے گھر سے بقیہ لباس منگوا کر پہنا۔( ابن جریر طبری۔ حدیث سقفہن۔ 11H/2/1-410)
محمد بن سعد، ثنا محمد بن عمر الواقدي، عن أبي معمر، عن المقبري، و يزيد بن رومان مولى آل زبير، عن ابن شهاب: (سقیفہ کے واقعہ کے بعد) حضرت علی نے ابوبکر رضی اللہ عنہما سے کہا: “ابوبکر! آپ جانتے نہیں کہ اس معاملے (مشورہ) میں ہمارا بھی حق تھا؟” انہوں نے فرمایا: “جی ہاں، لیکن مجھے انتشار کا خوف تھا اور مجھ پر بڑا معاملہ آن پڑا تھا۔” علی نے فرمایا: “میں جانتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو نماز کی امامت کا حکم دیا تھا اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ غار (ثور) میں ثانی اثنین ہیں۔ ہمارا حق تھا (کہ ہم سے مشورہ کیا جائے) لیکن ہم سے مشورہ نہیں کیا گیا۔ بہرحال اللہ تعالی آپ کو معاف کرے۔” یہ کہہ کر انہوں نے بیعت کر لی۔ ( بلاذری۔ انساب الاشراف۔ 2/263)
حدثن عن الحسن بن عرفة، عن علي بن هشام بن اليزيد، عن أبيه، عن أبي الجحاف: جب ابو بکر کی لوگوں نے بیعت کر لی تو آپ نے کھڑے ہو کر تین بار اعلان کیا: “اے لوگو! (اگر آپ چاہیں) تو میری بیعت کو ختم کر سکتے ہیں۔” علی نے کہا: “خدا کی قسم، ہم نہ تو آپ کی بیعت کو ختم کریں گے اور نہ ہی آپ کو استعفی دینے دیں گے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں آپ کو امام بنایا تھا تو پھر کون ہے جو (دنیاوی امور کی امامت) میں آپ سے آگے بڑھے؟” ( ایضاً ۔ 2/270)
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا علی اور زبیر رضی اللہ عنہما نے برضا و رغبت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی تھی۔ بعد میں پہلے تینوں خلفاء کے دور میں وہ جس طرح امور حکومت میں پوری دلجمعی کے ساتھ شریک رہے، اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پوری رضا و رغبت سے بیعت کی تھی۔ سند کے اعتبار سے ان میں سے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی روایت سب سے زیادہ مستند ہے۔ بقیہ روایتیں اگرچہ سند کے اعتبار سے کمزور ہیں تاہم حضرت علی ا ور زبیر نے پہلے تینوں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے ساتھ جو طرز عمل اختیار کیا، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایتیں بالکل درست ہیں۔
دوسرے گروپ کی روایات
بیعت میں پس و پیش کرنے سے متعلق روایات کے مطابق سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے باغ فدک کی وراثت کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ ایک باغ تھا جس کی آمدنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان پر خرچ ہوتی تھی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ یہ باغ سرکاری ملکیت ہے، جس کی وجہ سے اس کی وراثت تقسیم نہیں ہو سکتی۔ ہاں ا س کی آمدنی میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ کو حصہ ملتا رہے گا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس بات پر ناراض ہو گئیں اور چھ ماہ بعد اپنی وفات تک انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بات نہیں کی۔ باغ فدک کی روایت یہ ہے:
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله: حدثنا إبراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب قال: أخبرني عروة بن الزبير: أن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها أخبرته : سیدہ عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی وفات کے بعد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے آپ کی میراث تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا کہ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے بطور فئی (وہ مال غنیمت جو جنگ کے بغیر حاصل ہو) دیا تھا۔ ابوبکر نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ہمارا (انبیا کا) ورثہ تقسیم نہیں ہوتا ہے، ہم جو چھوڑیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔” (ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ) فاطمہ رضی اللہ عنہاغضب ناک ہو گئیں اور ابوبکر کو چھوڑ کر چلی گئیں۔ پھر وہ ان سے اپنی وفات تک نہ ملیں ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہیں۔( بخاری۔ کتاب خمس۔ حدیث 2926)
حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں چھ ماہ بند رہے اور انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہ کی ۔ سیدہ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر ان کے پاس گئے اور ان سے گفت و شنید کی۔ دونوں نے ایک دوسرے کے فضائل بیان کیے اور اس کے بعد حضرت علی نے حضرت ابوبکر کی بیعت کر لی۔ روایت کچھ یوں ہے:
حدثنا أبو صالح الضرار ، قال : حدثنا عبد الرزاق بن همام ، عن معمر ، عن الزهري ، عن عروة ، عن عائشة : حضرت فاطمہ اور عباس ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کا مطالبہ کیا اور کہا کہ فدک اور خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حصہ ہے، وہ ہمیں دیا جائے۔ ابوبکر نے کہا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ ہمارے املاک میں ورثہ نہیں، جو ہم چھوڑتے ہیں، وہ صدقہ ہے تو ضرور یہ املاک آل محمد کو مل جاتیں۔ ہاں اس کی آمدنی میں سے آپ کو بھی ملے گا۔ بخدا میں ہر اس بات پر عمل کروں گا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا ہے۔
(زہری نے) بیان کیا کہ اس واقعے کی وجہ سے فاطمہ نے پھر وفات تک اس معاملے سے متعلق ابوبکر سے کوئی بات نہیں کی اور قطع تعلق کر لیا۔ جب فاطمہ کا انتقال ہوا تو علی نے رات میں ان کو دفن کر دیا اور ابوبکر کو نہ تو ان کی وفات کی اطلاع دی اور نہ دفن میں شرکت کی دعوت دی۔ فاطمہ کی وفات کے بعد ان لوگوں کا خیال علی کی طرف پلٹ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ ماہ فاطمہ اور زندہ رہیں اور پھر انہوں نے وفات پائی۔
معمر کہتے ہیں کہ زہری سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا علی نے چھ مہینے تک ابوبکر کی بیعت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ نہیں کی اور جب تک انہوں نے نہیں کی ، تو بنو ہاشم میں سے کسی نے نہیں کی۔ مگر فاطمہ کی وفات کے بعد جب علی نے دیکھا کہ لوگوں کا وہ خیال باقی نہیں رہا، جو فاطمہ کی زندگی میں تھا تو وہ ابوبکر سے مصالحت کے لیے جھکے اور انہوں نے ابوبکر کو کہلا بھیجا کہ مجھ سے تنہا آ کر ملیے اور کوئی ساتھ نہ ہو۔ چونکہ عمر سخت طبیعت کے آدمی تھے، علی کو یہ بات گوارا نہ تھی کہ وہ بھی ابوبکر کے ساتھ آئیں۔ عمر نے ابوبکر سے کہا کہ آپ تنہا بنو ہاشم کے پاس نہ جائیں۔ ابوبکر نے کہا: “نہیں، میں تنہا جاؤں گا۔ مجھے اس کی توقع نہیں کہ میرے ساتھ کوئی بدسلوکی کی جائے گی۔” ابوبکر، علی کے پاس آئےتو تمام بنو ہاشم جمع تھے۔ علی نے کھڑے ہو کر تقریر کی ۔ اس میں حمد و ثنا کے بعد کہا: ’’اے ابوبکر! آج تک ہم نے آپ کے ہاتھ پر جو بیعت نہیں کی، اس کی وجہ آپ کی کسی فضیلت سے انکار یا اللہ کی آپ کو دی گئی بھلائیوں پر حسد نہ تھا۔ بلکہ ہم اس خلافت کو اپنا حق سمجھتے تھے مگر آپ نے زبردستی اسے ہم سے لے لیا۔‘‘ اس کے بعد علی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت اور اپنے حق کو بیان کیا۔ علی نے ان باتوں کو تفصیل سے بیان کیا یہاں تک کہ ابوبکر رو پڑے۔ علی جب خاموش ہوئے تو ابوبکر نے تقریر شروع کی۔ کلمہ شہادت پڑھا اور اللہ تعالی کے شایان شان حمد و ثنا کے بعد انہوں نے کہا: “واللہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقرباء مجھے اپنے رشتہ داروں کے مقابلے میں زیادہ عزیز ہیں۔ میں نے ان املاک کے متعلق جو میرے اور آپ کے درمیان اختلاف کا باعث بنی ہیں، میں صرف واجبی کمی کی تھی۔ نیز میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ہمارے مال میں وراثت نہیں جو ہم چھوڑیں۔ وہ صدقہ ہے۔ ہاں اس کی آمدنی میں سے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ملتا رہے گا اور میں اللہ سے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ کسی بات کا ذکر کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہو اور خود اس پر عمل نہ کروں۔ ”
علی نے کہا: “اچھا! آج شام ہم آپ کی بیعت کریں گے۔” ظہر کی نماز کے بعد ابوبکر نے منبر پر سب کے سامنے تقریر کی اور بعض باتوں کی علی سے معذرت کی۔ پھر علی کھڑے ہوئے او رانہوں نے ابوبکر کے حق کی عظمت اور ان کی فضیلت اور اسلام میں پہلے شرکت کا اظہار اور اعتراف کیا اور پھر ابوبکر کے پاس جا کر ان کی بیعت کی۔ ( طبری۔ ایضا۔ 11H/2/1-411)
اس واقعے کا تجزیہ دو اعتبار سے کیا جا سکتا ہے، ایک سند کے اعتبار سے اور دوسرا درایت کے اعتبار سے اور دونوں اعتبار سے اس میں کچھ مسائل موجود ہیں۔
پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ان تمام روایتوں کی سند میں دیکھیے تو ان میں ابن شہاب الزہری (58-124/678-742) موجود ہیں۔ محدثین کے نزدیک زہری ایک جلیل القدر محدث اور قابل اعتماد راوی ہیں تاہم ان کے ساتھ کچھ مسائل موجود ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ احادیث میں “ادراج ” کیا کرتے تھے۔ ادراج کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حدیث بیان کرتے ہوئے اس میں اپنی جانب سے تشریحی جملے شامل کر دیے جائیں۔ اس پر زہری کو ان کے معاصر ربیعہ کہتے تھے کہ وہ ایسا نہ کریں کیونکہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا ہے۔ اگر ایسا کرنا ضروری بھی ہو تو اسے الگ سے بیان کریں تاکہ ان کی رائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات میں مل نہ جائے۔( بخاری۔ التاریخ الکبیر۔ راوی نمبر 976۔ 3/135۔ http://www.almeshkat.net (ac. 28 Apr 2007) )۔ دوسرے یہ کہ وہ “تدلیس” کیا کرتے تھے یعنی حدیث کی سند میں اگر کوئی کمزوری ہو تو اسے چھپا لیتے تھے۔
باغ فدک سے متعلق جتنی بھی روایات ہیں، ان سب کو اگر اکٹھا کر لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ناراضی کا ذکر صرف انہی روایات میں ملتا ہے جن کی سند میں زہری موجود ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ناراضی والی بات زہری کا ادراج (اضافہ) ہے۔ چھ ماہ تک ناراض رہنے والی بات صرف زہری ہی نے بیان کی ہے جو کہ اس واقعہ کے پچاس سال بعد پیدا ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ زہری اس واقعے کے عینی شاہد تو نہیں تھے۔ انہوں نے یہ بات کس سے سنی اور جس سے سنی، وہ کس درجے میں قابل اعتماد تھا؟ ان کے علاوہ کسی اور نے تو یہ بات بیان نہیں کی ہے۔ مشہور محدثین جیسے بیہقی اور ابن حجر عسقلانی نے بھی زہری کی اس بات کو منقطع قرار دے کر اسے مسترد کیا ہے۔( ابن حجر عسقلانی۔ فتح الباری شرح بخاری۔ 7/495۔ زیر حدیث 4240۔ ریاض: مکتبہ سلفیہ۔)
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ناراضی والی بات درایت کے نقطہ نظر سے بالکل غلط معلوم ہوتی ہے۔ اس میں تو کوئی اشکال نہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کے حصول کا خیال گزرا تو انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے بات کی۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ، حضرت صدیق اکبر کو جائز حکمران تسلیم کرتی تھیں، تبھی ان کے پاس مقدمہ لے کر گئیں۔ حضرت ابوبکر نے وضاحت فرما دی کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام مال کو صدقہ قرار دیا تھا اور باغ فدک تو ایک سرکاری جائیداد تھی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت نہ تھی بلکہ حکومت کی ملکیت تھی۔ اس کی صرف آمدنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت پر بطور تنخواہ خرچ ہوتی تھی کیونکہ آپ بطور سربراہ حکومت فل ٹائم کام کرتے تھے اور آپ کی آمدنی کا کوئی اور ذریعہ نہ تھا۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اس کی آمدنی بدستور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت پر خرچ ہو گی۔
حضرت ابوبکر نے دلیل سے بات کی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو بطور دلیل پیش کیا تھا۔ اگرسیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس سے اختلاف ہوتا تو وہ بھی جوابی دلیل پیش کرتیں لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ آپ کی بات کو سمجھ گئی تھیں۔ سیدہ کے زہد و تقوی ، اعلی کردار اور دنیا سے بے رغبتی کو مدنظر رکھا جائے تو آپ سے ہرگز یہ توقع نہیں کی جا سکتی ہے کہ آپ اس بات پر ناراض ہو جائیں گی کہ آپ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان پیش کیا جائے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو زہری کی روایت میں کسی اور نے یہ ناراضی والا جملہ شامل کر دیا ہے یا پھر یہ جملہ خود انہوں نے کسی غلط فہمی کے سبب کہہ دیا ہے۔
تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ باغ فدک کے دعوے داروں میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی نظر آتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔ یہ بات بالکل معروف اور متعین ہے کہ قرآن مجید کے قانون وراثت کی رو سے چچا کا میراث میں حصہ نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے ان کا دعوی کرنا سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ خاندان کے بزرگ کے طور پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ چلے گئے تھے۔
چوتھا مسئلہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے صرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہی کو محروم نہ کیا تھا بلکہ ان دونوں نے اپنی اپنی بیٹیوں سیدہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو بھی اس وراثت سے محروم کیا تھا۔ عام طور پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بات کو بہت اچھالا گیا ہے لیکن سیدہ عائشہ و حفصہ اور دیگر امہات المومنین رضی اللہ عنہن کو بالکل ہی نظر انداز کر دیا گیا ہے حالانکہ وراثت میں بیوی کا حصہ بھی ہوتا ہے۔
پانچواں مسئلہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر اور عمر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہم کو اس کا ٹرسٹی مقرر کر دیا تھا۔ آپ اس کی بطور ٹرسٹ حیثیت کو مانتے تھے تبھی آپ نے اس کا ٹرسٹی بننا قبول کیا۔ اگر باغ فدک واقعی اہل بیت کی ملکیت ہوتا تو آپ کم از کم اپنے دور خلافت میں تو اسے ان کے حوالے کر سکتے تھے۔ ان کا ایسا نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بھی اسے اہل بیت کی ملکیت نہ سمجھتے تھے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس باغ کو مروان بن حکم نے حکومت سے خرید لیا تھا، اس وجہ سے حضرت علی نے ایسا نہ کیا۔ لیکن یہ بات درست نہیں، اگر یہ واقعتاً اہل بیت کا حق تھا تو حضرت علی کو چاہیے تھا کہ وہ اسے اس کے حق داروں تک پہنچاتے اور مروان کو ان کی رقم واپس کروا دیتے۔
چھٹا مسئلہ یہ ہے کہ خود حضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما کے پڑپوتے، حضرت زید بن علی بن حسین رحمہ اللہ نے فرمایا: “اگر میں ابوبکر کی جگہ ہوتا تو فدک کے بارے میں وہی فیصلہ کرتا جو انہوں نے کیا تھا۔ ( بیہقی، ایضا۔ حدیث 12744۔ 6/493)
ساتواں مسئلہ یہ ہے کہ کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے مرد مومن سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ محض ایک باغ کی وجہ سے آپ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہیں اور نماز پڑھنے کے لیے بھی مسجد میں تشریف نہ لائیں؟ آپ نے اسلام کے لیے بے شمار خدمات انجام دیں، کیا یہ ممکن تھا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات جیسے نازک موقع پر پیچھے بیٹھ رہتے جب متعدد عرب قبائل نے بغاوت کا علم بلند کر دیا تھا۔ اگر آپ کو حضرت ابوبکر سے کوئی شکایت تھی تو براہ راست ان کے پاس جا سکتے تھے اور ان سے معاملات پر گفتگو کر سکتے تھے لیکن اس کی بجائے یہ کہنا کہ آپ اٹوانٹی کھٹوانٹی لے کر گھر بیٹھ رہے، یہ بات کسی طرح آپ کے شایان شان نہیں ہے۔ جب سب کے سب صحابہ کرام نے حضرت ابوبکر کی بیعت کر لی تو یہ کیسے ممکن تھا کہ حضرت علی ایسا نہ کرتے اور مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے۔ حضرت علی کی بیعت نہ کرنے والی روایات دراصل حضرت ابوبکر پر نہیں بلکہ حضرت علی پر بہتان ہیں اور آپ کی کردار کشی کی کوشش ہیں۔
آٹھواں مسئلہ یہ ہے کہ عہد رسالت میں مال غنیمت میں سے جو حصہ بنو ہاشم کے لیے مقرر تھا، اس کی تقسیم کی ذمہ داری حضرت علی ہی کے سپرد تھی۔ حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم، برابر اس مال کو حضرت علی ہی کو دیتے رہے جو کہ ان پر اعتماد کی علامت ہے۔ اگر ان کے درمیان عدم اعتماد کی فضا ہوتی تو پھر ایسا نہ ہوتا۔
حدثنا عباس بن عبد العظيم، ثنا يحيى بن أبي بُكير، ثنا أبو جعفر الرَّازي، عن مُطرِّف، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: سمعت عليّاً يقول: حضرت علی نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خمس کے پانچویں حصے (کی تقسیم) کا ذمہ دار بنایا۔ میں نے اسے رسول اللہ کی حیات طیبہ میں اس کے مخصوص مقامات پر خرچ کیا۔ پھر ابو بکر اور عمر کی زندگی میں بھی اسی طرح ہوتا رہا۔ پھر کچھ مال آیا تو عمر نے مجھے بلایا اور فرمایا: ’’لے لیجیے۔‘‘ میں نے کہا: ’’مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’لے لیجیے، آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘ میں نے کہا: ’’ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے (کہ پہلے ہی ہمارے پاس کافی مال ہے، کسی ضرورت مند کو دے دیجیے۔)‘‘ چنانچہ انہوں نے اسے بیت المال میں جمع کر دیا۔‘‘( ابو داؤد۔ سنن۔ کتاب الخراج و الفئی و الامارہ۔ حدیث 2983)
نواں مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں متعدد ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن کے مطابق صدیق اکبر رضی اللہ عنہ برابر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی عیادت کے لیے تشریف لاتے رہے۔ جب سیدہ کا انتقال ہوا تو حضرت علی نے اصرار کر کے حضرت ابوبکر ہی کو نماز جنازہ پڑھانے کے لے کہا ۔ سیدہ فاطمہ کو غسل حضرت ابوبکر کی اہلیہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہم نے دیا۔ اب اگر روایات ہی کو ماننا ہے تو پھر ان روایات کو کیوں نہ مانا جائے جو اصحاب رسول اور اہل بیت اطہار کے کردار کے عین مطابق ہیں۔ روایات یہ ہیں:
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ : مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَتَكِىُّ بِنَيْسَابُورَ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِى خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِىِّ: شعبی کہتے ہیں کہ جب سیدہ فاطمہ بیمار ہوئیں تو ابوبکر صدیق ان کے پاس آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ علی نے کہا: “فاطمہ! یہ ابوبکر آئے ہیں اور اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں؟” انہوں نے کہا: “آپ کیا انہیں اجازت دینا چاہتے ہیں؟” فرمایا: “ہاں۔” انہوں نے اجازت دے دی تو ابوبکر اندر داخل ہوئے اور سیدہ کو راضی کرنے کی کوشش کی اور فرمایا: “واللہ! میں نے اپنا گھر، مال، اہل و عیال اور خاندان کو صرف اللہ اور اس کے رسول اور آپ اہل بیت کی رضا ہی کے لیے چھوڑا تھا۔ ” پھر وہ انہیں راضی کرتے رہے یہاں تک کہ سیدہ ان سے راضی ہو گئیں۔ ( بیہقی۔ سنن الکبری۔ حدیث 12375۔ 6/491۔ http://www.waqfeya.com (ac. 17 May 2005) )
حافظ ابن کثیر (701-774/1301-1372) نے پہلی اور دوسری قسم کی روایات کو تطبیق (Reconcile) دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت شروع ہی میں کر لی تھی۔ باغ فدک کی وجہ سے سیدہ رضی اللہ عنہا کے ذہن میں کچھ کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ کشیدگی کا پیدا ہو جانا ایک انسانی معاملہ ہے جو کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے خواہ وہ کتنا ہی بلند رتبہ کیوں نہ ہو۔ اس کے بعد جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب بیمار پڑیں تو ان کی تیمار داری کے باعث حضرت علی زیادہ باہر نہ نکلے ۔ دوسرے یہ کہ آپ قرآن مجید کو نزولی ترتیب سے جمع کرنا چاہتے تھے جو کہ ایک علمی نوعیت کی کاوش تھی۔ اس بات کی تائید بلاذری کی اس روایت سے ہوتی ہے:
حدثنا سلمة بن الصقر، وروح بن عبد المؤمن قالا: ثنا عبد الوهاب الثقفي، أنبأ أيوب، عن ابن سيرين قال: ابن سیرین کہتے ہیں کہ ابوبکر نے علی رضی اللہ عنہما سے پوچھا: “کیا آپ میرے امیر بننے کو ناپسند کرتے ہیں؟” انہوں نے کہا: “نہیں۔ اصل میں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ قسم کھائی ہے کہ جب تک میں قرآن مجید کو نزولی ترتیب سے جمع نہ کر لوں، اس وقت تک باہر نہ آؤں گا۔ (بلاذری۔ انساب الاشراف۔ 2/269)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے باہر نہ نکلنے سے بعض لوگوں کو گمان گزرا کہ ان حضرات میں کچھ ناراضگی موجود ہے حالانکہ حضرت ابوبکر صدیق ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے گھر آ کر انہیں راضی کر چکے تھے۔ صدیق اکبر کا فیصلہ شریعت کے عین مطابق تھا تاہم انہوں نے پھر بھی سیدہ کی دلجوئی کی جس سے آپ کی اہل بیت کے لیے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ سیدہ رضی اللہ عنہا نے بھی ان کے نقطہ نظر کو قبول کیا اور ان سے راضی ہو گئیں۔ (ابن کثیر۔ البدایہ و النہایہ۔ 5/389 )۔ آپ کے انتقال کے بعد حضرت علی نے اس وجہ سے علی الاعلان صدیق اکبر کی دوبارہ بیعت کی تاکہ لوگوں کی غلط فہمی دور ہو جائے اور انہیں یہ معلوم ہو جائے کہ اصحاب رسول میں کوئی ناراضی نہیں ہے اور وہ یکجان کئی قالب ہیں۔ اس ضمن میں بلاذری نے یہ روایت بیان کی ہے جس سے اس سلسلے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا کردار واضح ہوتا ہے۔
المدائني، عن عبد الله بن جعفر، عن أبي عون: ابو عون کہتے ہیں کہ جب عربوں نے ارتداد اختیار کیا تو عثمان، علی کے پاس گئے اور علی کہنے لگے: “میرے چچا زاد بھائی! کوئی بھی مجھ سے ملنے نہیں آیا۔” عثمان نے کہا: “یہ دشمن (مرتدین) ہیں اور آپ نے بیعت نہیں کی۔” عثمان، علی کے پاس اس وقت تک بیٹھے رہے جب تک کہ وہ ان کے ساتھ چل نہ پڑے اور ابوبکر کے پاس آ نہ گئے۔ ابوبکر انہیں دیکھ کر کھڑے ہوئے اور ان سے گلے ملے۔ اس کے بعد یہ دونوں حضرا ت روئے اور علی نے ابوبکر کی بیعت کر لی۔ لوگ اب جنگ کے لیے تیار ہو گئے اور لشکر روانہ کیے گئے۔ ( بلاذری۔ 2/570)
تیسرے گروپ کی روایات
جبراً بیعت لی جانے والی روایات روایات بالعموم اہل تشیع کی کتب میں آئی ہیں۔ ان کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بیعت سے انکار کر دیا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے گھر پر حملہ کیا اور دروازہ جلا دیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آگے آئیں تو انہیں گرا دیا جس سے ان کا حمل ضائع ہو گیا اور ان کی پسلی ٹوٹ گئی۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مجبور کر کے ان سے زبردستی بیعت لی۔ جبری بیعت والی روایات زیادہ تر ابو مخنف لوط بن یحیی (d. 157/774) سے مروی ہیں جن کا صحابہ کرام کے بارے میں تعصب مشہور ہے اور صحابہ کی کردار کشی سے متعلق جتنی روایات ہمیں ملتی ہیں، ان کا زیادہ تر حصہ انہی سے منقول ہے۔ ابو مخنف سے ہٹ کر صرف ایک روایت ایسی ملتی ہے جو بلاذری نے نقل کی ہے:
المدائني، عن مسلمة بن محارب، عن سليمان التيمي، وعن ابن عون: ابوبکر نے علی کو پیغام بھیجا کہ وہ آ کر بیعت کریں۔ انہوں نے بیعت نہ کی۔ عمر ان کے گھر آئے اور ان کے ہاتھ میں ایک مشعل تھی۔ فاطمہ گھر کے دروازے پر آئیں اور کہنے لگیں: “ابن خطاب! کیا آپ میرے گھر کا دروازہ جلا دیں گے؟” انہوں نے کہا: “ہاں۔ یہ اس سے زیادہ مضبوط طریقہ ہے جو آپ کے والد لے کر آئے تھے۔” اتنے میں علی آ گئے اور انہوں نے بیعت کر لی اور کہا: “میرا تو ارادہ صرف یہ تھا کہ میں اس وقت تک گھر سے نہ نکلوں جب تک کہ قرآن جمع نہ کر لوں۔( ایضاً ۔ 2/268)
اس روایت میں سند میں دو مسائل ہیں:
• مسلمہ بن محارب کے حالات نامعلوم ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ کس درجے کے قابل اعتماد راوی ہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسلمہ بن محارب کو مشہور ماہر جرح و تعدیل، ابن حبان نے ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے۔ یہ ابن حبان کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے لیکن ان کے علاوہ کسی اور ماہر جرح و تعدیل نے مسلمہ بن محارب کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ زیادہ معروف راوی نہیں تھے، جس کی وجہ سے ماہرین کو ان کے حالات کا زیادہ علم نہیں ہو سکا ہے۔
یہ روایت ابن عون بیان کر رہے ہیں جو کہ (d. 151/768) میں فوت ہوئے۔( ذہبی۔ سیر الاعلام النبلاء۔ شخصیت نمبر 3328۔ ص 2451۔ )
اگر ابن عون کی عمر کو سو سال بھی مان لیا جائے، تب بھی وہ اس واقعے کے عینی شاہد نہیں ہو سکتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ ابن عون نے یہ واقعہ کس سے سنا اور جس سے سنا، وہ کس درجے میں قابل اعتماد تھا؟
اس ایک روایت کے علاوہ کسی اور ذریعے سے یہ روایات نہیں ملتی ہیں۔ جس شخص نے بھی جبری بیعت کی یہ روایت گھڑی ہے، اس نے نہ صرف حضرات ابوبکر و عمر بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہم کی شہرت کو داغدار کرنے کی کوشش کی ہے اور ایسی باتوں کو آپ سے منسوب کیا ہے جو آپ کے شایان شان نہیں ہیں۔ حضرت علی کی شجاعت ضرب المثل ہے۔ کیا ایسا ممکن تھا کہ کوئی آ کر آپ کے گھر پر حملہ کرے اور خاتون جنت کے ساتھ گستاخی کرے اور حضرت علی اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیں اور پھر سر جھکا کر بیعت بھی کر لیں؟ ہمارے دور کا کوئی غیرت مند شوہر ایسا برداشت نہ کرے گا، کجا سیدنا علی شیر خدا جیسے عظیم بہادر کے بارے میں یہ تصور کیا جائے؟ روایت کے الفاظ پر غور کیجیے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جو تصویر سامنے آتی ہے، وہ کسی طرح بھی آپ کے شایان شان نہیں ہے۔
اب یہ ہر شخص کے اپنے ضمیر پر ہے۔ چاہے تو ان منقطع اور جھوٹی روایتوں کو مانے اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بدگمان رہے اور چاہے تو ان روایتوں کے جھوٹ کو جھوٹ مانے اور صحابہ کرام سے متعلق اپنا دل صاف رکھے۔ پہلی صورت میں پھر اسے یہ بھی ماننا ہو گا کہ معاذاللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ناکام رہی اور آپ پر جو لوگ ایمان لائے، انہوں نے آپ کی وفات کے فوراً بعد آنکھیں پھیر لیں اور آپ کے خاندان پر ظلم و ستم ہوتا دیکھتے رہے۔ جو شخص یہ سوچنا چاہے، سوچے لیکن پھر اسے پھر ان ہزاروں روایات کی توجیہ بھی پیش کرنا ہو گی جن میں اصحاب رسول اور اہل بیت کی باہمی محبت اور تعلق کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ محبت والی روایتیں ، بغض والی روایتوں کی نسبت کہیں زیادہ ہیں۔ کوئی غیر متعصب غیر مسلم مورخ بھی انہیں نظر انداز کر کے صرف بغض والی روایتوں کو قبول نہیں کر سکتا ہے۔ ان میں سے متعدد روایات ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ ایک اور روایت پیش خدمت ہے:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عْن أَبِيهِ أَسْلَمَ: اسلم عدوی روایت کرتے ہیں: “جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی تو علی اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پا س آئے اور ان سے مشورہ کرنے لگے۔ اس بات کا علم جب عمر رضی اللہ عنہ کو ہوا تو وہ سیدہ کے گھر آئے اور کہنے لگے: “اے رسول اللہ کی بیٹی! ہمارے نزدیک تمام مخلوق میں آپ کے والد سے بڑھ کر کوئی محبت و عقیدت کے لائق نہیں ہے اور آپ کے والد کے بعد کوئی آپ سے بڑھ کر عقیدت کے لائق نہیں ہے۔ ” یہ کہہ کر انہوں نے سیدہ سے گفتگو کی۔ سیدہ نے علی اور زبیر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: “آپ دونوں پلٹ کر ہدایت پا لیجیے۔” یہ دونوں واپس پلٹے اور جا کر (ابوبکر کی) بیعت کر لی۔ ( ابن ابی شیبہ۔ المصنف۔ جلد 21۔ حدیث 38200۔ http://www.almeshkat.net (ac. 23 Feb 2008) )
درایت کے اعتبار سے بھی حضرت عمر اور علی رضی اللہ عنہما پر یہ الزام غلط ہے۔ بے شمار روایات سے معلوم ہے کہ پہلے تینوں خلفاء راشدین کے دور میں حضرت علی ان کے ساتھ رہے، ان کے ساتھ امور سلطنت میں ہاتھ بٹایا اور ان کے ساتھ خیر خواہی کا رویہ اختیار کیا۔ حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد ان کی بیوہ اسماء بنت عمیس سے حضرت علی نے شادی کی۔ حضرت ابوبکر کے ان سے ایک بیٹے تھے جن کا نام محمد بن ابی بکر تھا۔ ان کی پرورش حضرت علی نے اپنے بیٹوں کی طرح کی۔ اگر آپ پر جبر و تشدد کر کے بیعت لی گئی ہوتی تو کیا آپ یہ سب کچھ کر سکتے تھے؟ اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے بطور تقیہ ایسا کیا تو یہ معاذ اللہ حضرت علی پر ایک تہمت ہو گی کہ آپ دل سے جس بات پر قائل نہیں تھے، اس کے لیے آپ نے پوری جانفشانی سے جدوجہد کی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب یروشلم کی فتح کے لیے خود شام گئے تو اپنے پیچھے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی کو قائم مقام خلیفہ بنا کر گئے جو کہ ان پر اندھے اعتماد کی علامت ہے۔ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ چاہتے تو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اقتدار پر قبضہ کر سکتے تھے لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔ نہج البلاغہ کی روایت کے مطابق جب حضرت عمر ایران کو فتح کرنے کے لیے خود جانا چاہتے تھے تو حضرت علی نے خود انہیں روکا۔ حضرت علی نے اپنے بیٹوں کے نام ابو بکر ، عمر اور عثمان رکھے،( مصعب الزبیری (156-236/773-851)۔ نسب قریش۔ باب ولد علی بن ابی طالب۔ 42, 43۔ http://www.waqfeya.com (ac. 14 Aug 2012))۔ جو ان تینوں خلفاء سے ان کی محبت کی علامت ہے اور ان میں سے دو بیٹے ابوبکر اور عثمان سانحہ کربلا میں شہید ہوئے۔( ابن حزم۔ جمہرۃ الانساب۔ 38۔ قاہرہ: دار المعارف)۔ اگر حضرت علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر جبر و تشدد کیا گیا ہوتا تو کیا اس کا امکان تھا کہ آپ پہلے خلفاء کے ساتھ اتنے خلوص اور محبت سے پیش آتے؟
۲۔حضرات ابوبکر و عمر کے دورمیں حضرت علی کا کردار کیا تھا؟
حضرت علی، حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کے دور میں مرکزی کابینہ کے رکن تھے۔ اس کابینہ میں ان کے علاوہ حضرت عثمان، عبدالرحمن بن عوف، طلحہ، زبیر، معاذ بن جبل، ابی بن کعب، اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے۔( ابن سعد۔ 2/302۔ باب اہل العلم و الفتوی من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ )۔ تمام معاملات مشورے سے طے کیے جاتے تھے جس میں حضرت علی پوری دیانتداری سے شریک ہوتے اور ان کے مشورے کو بے پناہ اہمیت دی جاتی۔ یہاں ہم چند مثالیں پیش کر رہے ہیں:
1۔ مرتدین کے خلاف جنگ کے لیے صدیق اکبر بذات خود نکلے تو حضرت علی رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ کہہ کر روکا: ’’اے خلیفہ رسول اللہ! آپ کہاں تشریف لے جا رہے ہیں؟ اب میں آپ کو وہی بات کہوں گا جو احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو فرمائی تھی۔ اپنی تلوار نیام میں رکھیے اور اپنی ذات کے متعلق ہمیں پریشانی میں مبتلا نہ کیجیے۔ اللہ کی قسم! اگر آپ کے ذات کے سبب ہمیں کوئی مصیبت پہنچی تو آپ کے بعد اسلام کا یہ نظام درست نہ رہ سکے گا۔‘‘( ابن کثیر ۔ 11H/9/446۔ بحوالہ دار قطنی۔ ابن عساکر 30/316۔ بیروت: دار الفکر۔ )
2۔ غزوہ روم کے موقع پر حضرت علی مشورہ میں شریک ہوئے اور بہترین رائے دی جسے حضرت ابوبکر نے پسند کیا۔
3۔ مرتدین کی جانب سے مدینہ پر حملے کا خظرہ ہوا تو حضرت ابوبکر نے مدینہ آنے والے راستوں پر لشکر مقرر کیے جن کے سربراہ حضرت علی، زبیر، طلحہ اور عبداللہ بن مسعود تھے۔ رضی اللہ عنہم۔( طبری۔ 11H/2/2-54)
4۔ حضرت علی، عہد فاروقی میں چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہے۔( ابن سعد۔ 2/93۔ باب علی بن ابی طالب۔ ابن کثیر۔ 13H/9/602۔ )
6۔ حضرت عمرنے ارادہ کیا کہ ایران کی جنگوں میں وہ خود قیادت کریں۔ حضرت علی نے انہیں منع کیا اور کہا: ’’ ملک میں نگران کی منزل مہروں کے اجتماع [تسبیح] میں دھاگے کی ہوتی ہے کہ وہی سب کو جمع کیے رہتا ہے اور وہ اگر ٹوٹ جائے تو سارا سلسلہ بکھر جاتا ہے اور پھر کبھی جمع نہیں ہو سکتا ہے۔ آج عرب اگرچہ قلیل ہیں لیکن اسلام کی بنا پر کثیر ہیں اور اپنے اتحاد و اتفاق کی بنا پر غالب آنے والے ہیں۔ لہذا آپ مرکز میں رہیں اور اس چکی کو انہی کے ذریعہ گردش دیں اور جنگ کی آگ کا مقابلہ انہی کو کرنے دیں۔ آپ زحمت نہ کریں کہ اگر آپ نے اس سرزمین کو چھوڑ دیا تو عرب چاروں طرف سے ٹوٹ پڑیں گے اورسب اس طرح شریک جنگ ہو جائیں گے کہ جن محفوظ مقامات کو آپ چھوڑ کر گئے ہیں ، ان کا مسئلہ جنگ سے زیادہ اہم ہو جائے گا۔ان عجمیوں نے اگر آپ کو میدان جنگ میں دیکھ لیا تو کہیں گے کہ عربیت کی جان یہی ہے۔ اس جڑ کو کاٹ دیا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے راحت مل جائے گی اور اس طرح ان کے حملے شدید تر ہو جائیں گے اور وہ آپ میں زیادہ ہی طمع کریں گے۔۔‘‘( سید شریف رضی۔ نہج البلاغہ۔ خطبہ نمبر 146۔ طبری۔ 21H/3/1-139)
7۔ حضرت عمر نے دو مرتبہ شام کا سفر کیا تو دونوں مرتبہ قائم مقام خلیفہ حضرت علی کو بنا کر گئے۔ ( ابن کثیر۔ 9/656۔ طبری۔ 17H/3/1-75)
کتب حدیث و آثار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بے شما رمواقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق فیصلہ ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے پہلے دونوں خلفاء کے دور میں پوری طرح ان کا ساتھ دیا اور حکومتی معاملات میں شریک رہے۔ اگلے باب میں ہم بیان کریں گے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں تو آپ نائب خلیفہ تھے۔
۳۔حضرت علی اورصحابہ کرام کی موجودگی میں باغیوں نے حضرت عثمان کو شہید کیسے کر دیا؟
تاریخ کے ایک طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت علی، طلحہ، زبیر، سعداور دیگر بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں حضرت عثمان کو باغیوں نے شہید کیسے کر دیا؟
جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی پالیسی کہ مہاجرین کو مدینہ سے منتقل نہ ہونے دیا جائے، میں تبدیلی کے باعث مہاجرین و انصار کی ایک بڑی تعداد دوسرے شہروں میں منتقل ہو چکی تھی۔ باغیوں نے حملے کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کیا، جب مسلمانوں کی کثیر تعداد حج کے لیے روانہ ہو چکی تھی۔ ان باغیوں کی تعداد اگرچہ دو یا تین ہزار سے زائد نہ تھی لیکن ان کے مقابلے پر مدینہ میں بھی سات سو کے قریب افراد موجود تھے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صحابہ کرام تو اپنے سے کئی گنا بڑی فوج سے ٹکرا جایا کرتے تھے، اس وقت ان سات سو افراد نے مقابلہ کیوں نہ کیا؟ اس کی سب سے بڑی وجہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا حلم تھا۔ آپ کسی کو یہ اجازت دینے کو تیار نہ تھے کہ آپ کی جان بچانے کے لیے باغیوں پر حملے میں پہل کی جائے۔ حضرت علی، طلحہ، زبیر رضی اللہ عنہم نے بارہا آپ سے مقابلے کی اجازت مانگی لیکن آپ نے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ان حضرات نے اپنے جواں سال بیٹوں حضرت حسن، حسین، محمد بن طلحہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کو آپ کے گھر پر پہرے پر مقرر کیا لیکن حضرت عثمان نے انہیں خدا کے واسطے دے دے کر لڑائی نہ کرنے پر مجبور کیا۔ اہل مدینہ آپ کے پاس اکٹھے ہو کر گئے کہ آپ باغیوں کا مقابلہ کرنے کی اجازت دیں لیکن آپ نے قسمیں دے کر انہیں واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ ( ایضاً ۔ 3/1-440)
یہی وجہ ہے کہ یہ حضرات آپ کی حفاظت کے لیے کچھ نہ کر سکے۔ پھر جب حملہ آوروں نے آپ کے گھر پر حملہ کیا، تو حضرت حسن ، عبداللہ بن زبیر، محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہم دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ ایک موقع پر انہی حضرات نے باغیوں کا بھرپور مقابلہ کیا اور اس میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ زخمی بھی ہوئے۔ اس کے بعد قاتلین دیوار پھاند کر آئے اور آپ کو شہید کر دیا۔ جب تک ان حضرات کو خبر ہوتی، قاتل اپنا کام کر کے جا چکے تھے۔
تاریخ کے طالب علموں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عثمان نے ایسا کیوں کیا؟ اس کا جواب ہابیل اور قابیل کے قصے میں ہے۔ جیسے قابیل نے جب ہابیل کو قتل کی دھمکی دی تو انہوں نے یہ کہا تھا : لَئِنْ بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِي إِلَيْكَ لأَقْتُلَكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ. “تم اگر مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھاؤ گے تو میں تمہیں قتل کرنے کے لیے (پہلے) اپنا ہاتھ نہ اٹھاؤں گا کیونکہ میں اللہ، رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔”( المائدہ 5:28)۔ یہی ہابیلی مزاج حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حصے میں آیا تھا۔ آپ ہرگز اس بات کو درست نہ سمجھتے تھے کہ اپنی جان بچانے کے لیے کسی ایک مسلمان کا خون بہائیں ورنہ اہل مدینہ تو اپنے خون کا آخری قطرہ بھی آپ کے لیے بہانے کو تیار تھے۔ بالکل یہی مزاج حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے پایا تھا اور وہ اپنے رشتے کے تایا اور خالو (حضرت عثمان) کے اس طرز عمل سے بہت متاثر تھے۔
حضرت علی اور دیگر اکابر صحابہ نے حضرت عثمان کے دفاع میں کیا اقدامات کیے؟
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چلیے، جنگ نہ سہی لیکن حضرت علی اور دیگر اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دفاع میں کیا اقدامات کیے؟ تاریخی روایات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات کے لیے جنگ کے علاوہ اور جو کچھ بھی ممکن تھا، وہ کر گزرے۔ اس کی تفصیل یہ ہے:
1۔ باغیوں کا ابتدائی منصوبہ یہ تھا کہ حضرت علی، طلحہ یا زبیر رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کو خلافت کا لالچ دےکر ساتھ ملا لیا جائے اور ان کی مدد سے حضرت عثمان کو معزول کر دیا جائے۔ اس طرح جو الزام ہے، وہ ان صحابہ پر آئے اور ان کا مقصد پورا ہو جائے۔ چنانچہ جب انہوں نے مدینہ سے باہر ذو المروہ، ذو خشب اور اعوص نامی مقامات پر پڑاؤ ڈالا تو ان بزرگوں کے پاس پہنچ کر یہی منصوبہ پیش کیا۔ اہل مصر حضرت علی، اہل بصرہ حضرت طلحہ اور اہل کوفہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور انہیں اس بات کی ترغیب دی کہ وہ ان حضرات کو خلیفہ بنانے پر تیار ہیں۔ حضرت علی نے جب ان کی تجویز سنی تو آپ ان پر چلائے اور انہیں لعنت ملامت کرتے ہوئے فرمایا: “نیک لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ ذو المروہ اور ذو خشب کے لشکر پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔ تم واپس جاؤ، اللہ تمہاری صحبت سے مجھے بچائے۔” اہل بصرہ نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہی بات رکھی تو انہوں نے فرمایا: “اہل ایمان کو یہ بات معلوم ہے کہ ذو المروہ، ذو خشب اور اعوص کی فوجوں پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔” حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی یہی جواب دیا۔( طبری۔ 3/399)
2۔ حضرت علی نے اپنے بیٹوں حسن اور حسین، حضرت طلحہ نے اپنے بیٹوں محمد اور موسی اور حضرت زبیر نے اپنے بیٹے عبداللہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کی حفاظت کے لیے بھیجا۔ یہ وہ وقت تھا جب باغی مدینہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے اور کسی بھی وقت خلیفہ وقت کو شہید کر سکتے تھے۔ اس طرح ان جلیل القدر صحابہ نے اپنے جوان بیٹوں کو ایک نہایت ہی پرخطر کام پر لگا دیا۔ ان تمام نوجوان صحابہ کی عمر اس وقت تیس سال کے قریب ہو گی۔( ایضاً ۔ 3/399)۔ جب حضرت علی کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کی شہادت کی اطلاع ملی تو وہ دوڑے آئے اور اپنے بیٹوں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو مارا اور عبداللہ بن زبیر اور محمد بن طلحہ کو برا بھلا کہا اور فرمایا کہ تمہارے ہوتے ہوئے یہ سانحہ کیسے پیش آ گیا۔( بلاذری۔ 6/186)
3۔ چونکہ مصری باغیوں کی اکثریت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف دار تھی، اس وجہ سے آپ بار بار ان کے پاس گئے اور جا کر یہ کوشش کی کہ ان میں پھوٹ پڑ جائے اور یہ واپس چلے جائیں۔ ایک موقع پر آپ مہاجرین و انصار کے پورے وفد کو لے گئے۔ مہاجرین کی جانب سے حضرت علی اور انصار کی طرف سے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہما نے ایسی گفتگو کی کہ باغیوں میں جو لوگ محض پراپیگنڈا کا شکار ہو کر چلے آئے تھے، واپس جانے پر رضا مند ہو گئے۔
4۔ متعدد صحابہ و تابعین جن میں سعید بن عاص، ابوہریرہ، عبداللہ بن سلا م اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم شامل تھے، نے باغیوں کو سمجھانے بجھانے کی بھرپور کوشش کی۔ امہات المومنین نے بھی خلیفہ مظلوم کا ساتھ دیا جن میں سیدہ عائشہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہما نمایاں تھیں۔ سیدہ عائشہ نے اپنے بھائی محمد بن ابی بکر کو سمجھانے کی بہت کوشش کی۔ سیدہ ام حبیبہ ، خلیفہ شہید کو پانی پہنچاتے ہوئے خود شہید ہوتے ہوتے بچیں۔
۴۔حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے باہمی تعلقات
باغی راویوں کی پوری کوشش رہی ہے کہ حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کو معاذ اللہ ایک دوسرے کا دشمن ثابت کیا جائے۔ کبھی وہ ان کی زبان سے ایک دوسرے پر لعنت کہلواتے ہیں، کبھی ایک دوسرے کو برا بھلا کہلواتے ہیں اور ان کے اسلام میں شک کرواتے ہیں۔ درحقیقت یہ ان کے اپنے جذبات ہیں جنہیں وہ زبردستی حضرت علی یا معاویہ رضی اللہ عنہما کی زبان سے کہلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی تمام روایات کا اگر جائزہ لیا جائے تو ان کی سند میں کوئی نہ کوئی جھوٹا راوی جیسے ابو مخنف، ہشام کلبی، سیف بن عمر یا واقدی ضرور موجود ہو گا۔ یہاں ہم چند روایات اور کچھ نکات پیش کر رہے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان حضرات کی ایک دوسرے کے بارے میں کیا رائے تھی؟
1۔ حضرت علی کے بھائی عقیل اس وقت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے قریبی ساتھی تھے اور دوسری طرف حضرت معاویہ کے بھائی زیاد بن ابی سفیان ، حضرت علی کے قریبی ساتھی تھے اور آپ نے انہیں ایران و خراسان کا گورنر مقرر کر رکھا تھا۔ ایک بار عقیل، معاویہ کے پاس بیٹھے تھے تو معاویہ نے جی کھول کر علی کی تعریف کی اور انہیں بہادری اور چستی میں شیر ، خوبصورتی میں موسم بہار ، جود و سخا میں دریائے فرات سے تشبیہ دی اور کہا: ’’اے ابو یزید(عقیل)! میں علی بن ابی طالب کے بارے میں یہ کیسے نہ کہوں۔ علی قریش کے سرداروں میں سے ایک ہیں اور وہ نیزہ ہیں جس پر قریش قائم ہیں۔علی میں بڑائی کی تمام علامات موجود ہیں۔‘‘ عقیل نے یہ سن کر کہا: ’’امیر المومنین! آپ نے فی الواقع صلہ رحمی کی۔‘‘( ابن عساکر۔ 42/416)
2۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ صفین کے بعد جو خط شہروں میں بھیجا، اس میں فرمایا: ہمارے معاملہ کی ابتدا یوں ہوئی کہ ہم میں اور اہل شام میں مقابلہ ہوا۔ ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا رب ایک، ہمارا اور ان کا نبی ایک، ہماری اور ان کی اسلام کے متعلق دعوت ایک۔ اس معاملے میں نہ وہ ہم سے زیادہ تھے اور نہ ہم ان سے۔ صرف ایک معاملے میں ہم میں اختلاف ہوا اور وہ تھا خون عثمان کا جبکہ ہم اس سے بری تھے۔ ( سید شریف رضی۔ نہج البلاغہ۔ خط نمبر 58)
3۔ ایک شخص نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کوئی دینی سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: ’’اس بارے میں علی بن ابی طالب سے پوچھ لیجیے، وہ مجھ سے زیادہ بڑے عالم ہیں۔‘‘ اس نے کہا: ’’امیر المومنین! آپ کی رائے، میرے نزدیک علی کی رائے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’آپ نے تو بہت ہی بری بات کی اور آپ کی رائے بہت ہی قابل مذمت ہے۔ کیا آپ ان صاحب (علی) کی رائے کو ناپسند کر رہے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم سے عزت بخشی ہے؟ آپ نے انہیں فرمایا تھا:’علی! آپ میرے لیے وہی حیثیت رکھتے ہیں جو کہ موسی کے نزدیک ہارون (علیہما الصلوۃ والسلام) کی تھی۔ فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘ ‘‘( ابن عساکر۔ 42/170)
4۔ خوارج نے حضرت علی ، معاویہ اور عمرو رضی اللہ عنہم کو ایک ہی رات میں شہید کرنے کا منصوبہ بنایا۔ حضرت معاویہ نے اپنے حملہ آور کو پکڑ لیا تو وہ کہنے لگا: “میرے پاس ایسی خبر ہے جسے سن کر آپ خوش ہو جائیں گے۔ اگر میں آپ سے وہ بیان کر دوں تو آپ کو بہت نفع پہنچے گا۔ ” آپ نے فرمایا: “بیان کرو۔” کہنے لگا: “آج میرے بھائی نے علی کو قتل کر دیا ہو گا۔” آپ نے فرمایا: “کاش! تمہارا بھائی ان پر قابو نہ پا سکے۔”( طبری۔ 3/2-357)
5۔ جنگ صفین کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “لوگو! آپ لوگ معاویہ کی گورنری کو ناپسند مت کریں۔ اگر آپ نے انہیں کھو دیا تو آپ دیکھو گے کہ سر اپنے شانوں سے اس طرح کٹ کٹ کر گریں گے جیسے حنظل کا پھل اپنے درخت سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرتا ہے۔‘‘( ابن ابی شیبہ۔ المصنف۔ 14/38850)
6۔ یزید بن اصم کہتے ہیں کہ جب علی اور معاویہ کے درمیان صلح ہو گئی تو علی اپنے مقتولین کی جانب نکلے اور فرمایا: ’’یہ لوگ جنت میں ہوں گے۔‘‘ پھر معاویہ کے مقتولین کی طرف چلے اور فرمایا: ’’یہ لوگ بھی جنت میں ہوں گے۔ (روز قیامت) یہ معاملہ میرے اور معاویہ کے درمیان ہو گا۔ فیصلہ میرے حق میں دیا جائے گا اور معاویہ کو معاف کر دیا جائے گا۔ مجھے میرے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بتایا تھا۔‘‘( ابن عساکر۔ 59/139)
ان تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما میں ذاتی نوعیت کا کوئی اختلاف نہ تھا۔ دونوں میں صرف اسٹریٹجی پر اختلاف تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ باغیوں کی قوت کو اچھی طرح کچل دیا جائے جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خیال یہ تھا کہ اگر ان باغیوں سے اس وقت انتقام لیا گیا تو ان کے قبائل اٹھ کھڑے ہوں گے جس سے بہت بڑی خانہ جنگی پیدا ہو گی۔ باغی چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکومتی معاملات پر قبضہ کیے بیٹھے تھے، اس وجہ سے انہوں نے پوری کوشش کی کہ شام پر حملہ کر کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی قوت کو ختم کر دیا جائے ۔ اس کی وجہ سے جنگ صفین ہوئی جسے مخلص مسلمانوں نے بند کروا دیا۔ اس طرح سے باغیوں کا یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔

7 responses to this post.

  1. Posted by گمنام on 25/11/2012 at 11:49 شام

    بہت بہت شکریہ اس خوبصورت پوسٹ کے لیئے دل خوش ہو گیا جزاک اللہ

    جواب دیں

  2. Posted by Bilal on 24/11/2012 at 9:47 شام

    جزاک اللہ

    جواب دیں

  3. سبحان اللہ

    جواب دیں

  4. Posted by Asad Qureshi on 24/11/2012 at 5:16 شام

    Able blog, may Allah (SWT) give us all true knowledge of our history and remove misconceptions from our minds , give is iman and respect the Salaf Sahabas . JAzakallah Khair. MaaShaAllah, very true and knowledge

    جواب دیں

  5. Posted by گمنام on 24/11/2012 at 4:32 شام

    It is based on true information and compiled with sincerity. May Allah grant taufeeq to the all the Pakistani Muslims to understand the strategies of evil and to unite us. Ameen

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s