جنگ جمل ۔حضرت عائشہ اور حضرت علی کے درمیان جنگ کی حقیقت


تحریر:محمد مبشر نذیر
طبری اور بلاذری نے جنگ جمل کے جو واقعات بیان کیے ہیں، ان کا بڑا حصہ ابو مخنف، ہشام کلبی، سیف بن عمر اور محمد بن عمر الواقدی کا بیان کردہ ہے۔ خاص کر جن روایات میں سیدہ عائشہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم سے متعلق کوئی منفی بات پائی جاتی ہے، ان کا راوی یا تو ابو مخنف ہے یا پھر ہشام کلبی۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان مشہور کذابین نے ان واقعات میں اپنی جانب سے کچھ نہ کچھ ملا دیا ہے اور ان صحابہ کی کردار کشی کی کوشش کی ہے۔ تاہم بہت سی باتیں درست بھی معلوم ہوتی ہیں۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ گھڑی ہوئی باتوں کو الگ کر کے قابل اعتماد اور معقول باتوں کو پیش کریں۔
باغیوں کے خلاف جوابی تحریک کیسے پیدا ہوئی؟
واقدی کی روایت کے مطابق جب گورنروں کی تبدیلی کی مہم جزوی طور پر ناکام رہی تو حضرت علی نے طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کو بلایا اور ان سے کہا: "اے قوم! جس بات سے میں آپ کو خبردار کرتا تھا، آج وہ پیش آ چکی ہے اور حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ انہیں ختم کیے بغیر چارہ نہیں۔ یہ آگ کی طرح ایک فتنہ ہے کہ جب آگ ایک بار لگ جاتی ہے تو وہ بڑھتی اور بھڑکتی چلی جاتی ہے۔” حضرت طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما نے جواب میں کہا: "آپ ہمیں مدینہ سے باہر جانے کی اجازت دیجیے تاکہ ہم اس کی کوئی تدبیر کریں ورنہ آپ ہمیں (یہاں سے) جانے دیجیے۔” آپ نے فرمایا: "مجھ سے جہاں تک ہو سکے گا ، میں ان حالات کو سنبھالنے کی کوشش کروں گا، اور جب کوئی بھی تدبیر باقی نہ رہے گی تو آخری دوا داغ لگانا ہی ہوتی ہے کہ انسان تکلیف سے نجات پانے کے لیے اپنے جسم کو جلوانا بھی گوارا کر لیتا ہے۔”اس کے کچھ دن بعد حضرت علی نے طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کو مدینہ سے جانے کی اجازت دے دی۔ ) طبری۔ 3/2-39 to 41)
یہاں پر ہم قیاس کر سکتے ہیں کہ ان تینوں حضرات نے مل کر باغیوں سے نجات کا وہ منصوبہ تیار کیا ہو گاجس کی تفصیلات ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ منصوبہ یہ تھا کہ حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما جا کر مسلم افواج کو منظم کریں۔ اس دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ باغیوں کو مصروف کر دیں تاکہ یہ اہل مدینہ کے جان و مال کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ اس کے بعد حضرت علی انہیں لے کر طلحہ و زبیر کی افواج کے مقابلے میں لے آئیں اور وہاں مخلص مسلمانوں کی افواج متحد ہو جائیں اور مل کر ان باغیوں کی سرکوبی کریں۔ ممکن ہے کہ بعض حضرات ہماری اس بات پر اعتراض کریں اور یہ کہیں کہ اگر ایسا ہی تھا تو پھر جب حضرت علی اور حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم کے لشکر ملے تھے، تو ان میں سفارت کاری کیوں کی گئی تھی؟ اس کی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ بعض امور اس پلان سے ہٹ کر ہو گئے جیسے بصرہ میں باغیوں کے ساتھ جنگ۔ اس وجہ سے ضرورت اس امر کی تھی کہ حضرت علی، طلحہ اور زبیر ایک بار پھر نئے حالات کے تحت معاہدہ کریں۔ اس مقصد کے لیے یہ سفارت کاری کی گئی۔
بعد کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تینوں صحابہ کا یہ منصوبہ کامیاب رہا۔ حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما وہاں سے چل کر مکہ آئے، جہاں امہات المومنین رضی اللہ عنہن موجود تھیں۔ حجاج میں سے بھی بہت سے لوگ یہیں مقیم تھے اور یمن کے سابق گورنر یعلی بن امیہ اور بصرہ کے سابق گورنر سعید بن عامر رضی اللہ عنہما بھی یہیں تھے۔ ان حضرات نے صورتحال کا تجزیہ کیا اور پھر مل کر یہ طے کیا کہ بصرہ کا رخ کیا جائے جو کہ اہم ترین چھاؤنی تھی۔ سعید بن عامر یہاں کے معاملات سے بخوبی واقف تھے کیونکہ وہ بھی چند دن پہلے ہی وہاں سے آئے تھے۔ یمن کے سابق گورنر یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ تھے اور انہوں ہی نے سواریوں وغیرہ کا انتظام کیا۔ مکہ اور اس کے گرد و نواح سے بہت سے نوجوان ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور یہ لشکر بصرہ کی جانب چل پڑا۔ دیگر امہات المومنین بھی ذات عرق کے مقام تک اس لشکر کے ساتھ گئیں اور وہاں پر لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے اتنا روئے کہ اس دن کا نام ہی "آنسوؤں کا دن” مشہور ہو گیا۔( ایضاً ۔ 36H/3/2-62)۔
دوسری طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی بصرہ کی جانب کوچ کا اعلان کیا۔ طبری نے واقدی کے حوالے سے اس موقع پر بعض ایسی روایتیں بیان کی ہیں جن میں اہل مدینہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے طلحہ، زبیر اور عائشہ رضی اللہ عنہم کے لشکر کے خلاف ابھارنے کی کوشش کی لیکن تمام اہل مدینہ نے اس معاملے میں دلچسپی ظاہر نہ کی۔ ان روایات سے متعلق دو امکانات موجود ہیں: ایک امکان تو یہ ہے کہ یہ کسی کذاب راوی کی کارستانی ہے کہ اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے منہ میں اپنے الفاظ ٹھونسنے کی کوشش کی ہے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ آپ نے ایسا کیا ہو کیونکہ آپ کا پلان یہی تھا کہ باغیوں کو مدینہ سے نکال کر مخلص مسلمانوں کے لشکروں کے سامنے لا ڈالا جائے تاکہ وہ ان کا تیا پانچہ کر سکیں۔
سیف بن عمر نے کچھ روایات نقل کی ہیں جن کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخلص ساتھیوں نے آپ کو ہر ممکن قائل کرنے کی کوشش کی کہ آپ حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کے مقابلے کے لیے نہ نکلیں۔ ان میں حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور کہا: "امیر المومنین! مدینہ سے باہر نہ جائیے۔ اگر آپ مدینہ چھوڑ کر چلے گئے تو کبھی یہاں واپس نہ آ سکیں گے اور نہ کبھی یہ دار الحکومت بن سکے گا۔” باغی پارٹی کے لیڈروں نے انہیں گالیاں دیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں بچایا اور فرمایا: "انہیں کچھ نہ کہو کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے بہترین آدمی ہیں۔”( ایضاً ۔ 3/2-55)۔ اسی طرح حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو روکنے کی ممکنہ حد تک کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ راوی چونکہ سیف بن عمر ہے، اس وجہ سے ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ روایتیں کس حد تک درست ہیں۔ البتہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ روایتیں قرین قیاس ضرور ہیں اور کوئی بھی مخلص ساتھی جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پلان کو نہ جانتا ہو، انہیں ضرور یہ مشورہ دے گا۔
حضرات طلحہ وزبیر کا اقتدار بصرہ پر کیسے قائم ہوا؟
سیف بن عمر کے مطابق جب حضرات طلحہ و زبیر کا لشکربصرہ کے قریب پہنچا تو انہوں نے شہر سے باہر پڑاؤ ڈالا اور شہر کے بااثر لوگوں کے ساتھ خط و کتابت شروع کی۔ بصرہ کے گورنر اب حضرت عثمان بن حنیف تھے جو کہ ایک جلیل القدر صحابی تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں یہاں مقرر کیا تھا۔ ان کے ساتھ حکیم بن جبلہ کی قیادت میں باغیوں کا ایک گروہ بھی موجود تھا اور عملاً اسی گروہ کی حکومت تھی۔ گورنر بصرہ نے مشہور صحابی عمران بن حصین اور ابو الاسود الدؤلی کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم کے پاس بھیجا تاکہ ان کا مقصد معلوم کیا جا سکے۔ آپ نے ان حضرات کو اپنا مقصد اس طرح بیان فرمایا:
مجھ جیسی عورت کسی مخفی کام کے لیے سفر نہیں کر سکتی اور نہ اولاد سے کوئی بات چھپائی جا سکتی ہے۔ بات یہ ہے کہ مختلف علاقوں کے شور مچانے والوں اور قبائل کے جھگڑالو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں قتل و قتال کیا اور اس میں فتنے اٹھائے اور بدعتیں ایجاد کیں اور فتنہ گروں کو حرم رسول میں پناہ دی اور اس طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت کے مستحق ہوئے۔ انہوں نے بغیر کسی جرم کے مسلمانوں کے امام کو قتل کر دیا اور اس طرح ایک حرام خون کو حلال سمجھ کر بہایا۔ انہوں نے وہ مال لوٹ لیا جس کا لینا حرام تھا اور انہوں نے حرمت والے شہر (مدینہ) اور حرمت والے مہینے (ذو الحجہ اور محرم) کی حرمت کا بھی پاس نہ کیا۔ لوگوں کی عزتیں اچھالیں اور انہیں جسمانی تکالیف پہنچائیں اور ان لوگوں کے شہر اور گھروں میں آ کر ٹھہر گئے جنہیں ان کا ٹھہرنا پسند نہ تھا۔ ان لوگوں نے سوائے نقصان کے اور کوئی فائدہ نہیں پہنچایا اور نہ ہی ان کے دلوں میں خدا کا خوف تھا۔ (مدینہ کے) جن لوگوں کے پاس یہ جا کر ٹھہرے، ان میں اتنی طاقت نہ تھی کہ انہیں روک سکتے کیونکہ انہیں خود اپنی جان کا خوف تھا۔میں نے یہ سفر اس لیے کیا ہے تمام مسلمانوں کو بتا دوں کہ یہ پارٹی کس قسم کے لوگوں پر مشتمل ہے اور عوام ان کے باعث کس مصیبت میں مبتلا ہیں اور اب ان کا اصلاح پانا ممکن نہیں ہے۔
(اس کے بعد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت پڑھی۔) لا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ إِلاَّ مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلاحٍ بَيْنَ النَّاسِ "ان کے اکثر خفیہ مشوروں میں کوئی بھلائی نہیں، صرف اس شخص کے جو صدقہ اور لوگوں کی اصلاح کے لیے مشورہ کرے۔” (النساء 4:114) ہم اس اصلاح کی خاطر میدان میں نکلے ہیں جس کا اللہ عزوجل اور رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم نے ہر چھوٹے بڑے اور مرد و عورت کو حکم دیا ہے۔ ہم اس لیے آئے ہیں کہ لوگوں کو نیکی کی تلقین کریں، اس کی حفاظت کریں اور برائی سے انہیں روکیں اور دنیا سے برائی کو ختم کریں۔”( ایضاً ۔ 3/2-65)
سیدہ سے بات کر کے یہ قاصد، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے ان کی آمد کی وجہ دریافت کی۔
انہوں نے جواب دیا: "ہم عثمان کے قصاص کے مطالبے کے لیے آئے ہیں۔” قاصدین نے پوچھا: "کیا آپ علی کی بیعت نہیں کر چکے؟” انہوں نے جواب دیا: "علی سے ہمارا کوئی اختلاف نہیں اور نہ ہی میں ان کی بیعت توڑنا چاہتا ہوں۔ شرط یہ ہے کہ وہ ہمارے اور ان قاتلوں کے درمیان نہ آئیں۔”
قاصد حضرت عثمان بن حنیف کے پاس پہنچے جو کہ حضرت علی کی جانب سے اب بصرہ کے گورنر تھے۔ابو الاسود (جو غالباً باغی پارٹی کا حصہ تھا) نے انہیں حضرت طلحہ و زبیر کے خلاف جنگ کرنے پر اکسایا لیکن حضرت عمران بن حصین (رضی اللہ عنہم) نے انہیں اس سے منع کر کے گھر بیٹھ رہنے کا مشورہ دیا۔ عثمان بن حنیف نے لوگوں کو جامع مسجد میں اکٹھا کیا اور تمام پارٹیوں کو گفتگو کا پورا موقع دیا۔ اس موقع پر باغیوں کے ایک کوفی لیڈر قیس بن عقدیہ حمسی نے تقریر کر کے حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما سے جنگ کرنے پر لوگوں کو ابھارا۔ اہل بصرہ کے ایک لیڈر اسود بن سریع السعدی نے ان حضرات کی حمایت کے لیے لوگوں کو ترغیب دی۔ اس طرح سے اہل بصرہ میں سے مخلص لوگ الگ ہو کر حضرت طلحہ وزبیر سے آ ملے اور باغی پارٹی تنہا ہو کر رہ گئی۔ اہل بصرہ کے مخلصین کے ساتھ باغی پارٹیوں کے کچھ لوگ بھی آ کر ان حضرات کے لشکر میں شامل ہو گئے۔ اس موقع پر حضرت طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما نے تقریریں کیں۔ حضرت طلحہ کی تقریر کا متن یہ ہے:
اس قصاص میں اللہ عزوجل کے دین اور اس کے حکم کا وقار ہے۔ کیونکہ خلیفہ مظلوم کے خون کا قصاص طلب کرنا اللہ کے احکام میں سے ایک حکم ہے ۔ اگر آپ لوگ قصاص طلب کریں گے تو صحیح راہ پر چلیں گے اور آپ کی خلافت (جو باہمی مشورے سے چلتی ہے) آپ ہی کے ہاتھ میں آ جائے گی۔ اگر آپ اس قصاص کو چھوڑ دیں گے تو نہ کوئی حکومت قائم رہ سکے گی اور نہ کوئی نظام چل سکے گا۔”( ایضاً ۔ 3/2-67)
سیدہ عائشہ اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہما کی ان تقریروں سے واضح ہے کہ ان کا مقصد کیا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر اس موقع پر یہ صحابہ ان باغیوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار نہ بنتے تو یہ رسم چل نکلتی کہ جس کا جی چاہتا، ایک جتھہ بناتا اور خلیفہ کو قتل کر کے اقتدار اور بیت المال پر خود قابض ہو جاتا۔ اس طرح اس شورائی نظام (Participative Government) کا خاتمہ ہو جاتا جس میں ہرشخص کو رائے دینے کا حق تھا اور ہر شخص کو حکومتی فنڈ کا فائدہ پہنچتا تھا۔ اس موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ تقریر فرمائی جس سے شہادت عثمان اور باغیوں کے مقاصد اور لائحہ عمل (Strategy)کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسے ہم یہاں دوبارہ نقل کر رہے ہیں:
لوگ عثمان پر تہمتیں لگاتے تھے اور ان کے گورنروں کو مجرم قرار دیتے تھے۔ یہ لوگ مدینہ ہمارے پاس آتے اور عمال کے حالات بیان کر کے ہم سے مشورہ طلب کرتے۔ ان کی ظاہری گفتگو سے یہ محسوس ہوتا تھا کہ یہ اصلاح کے طلب گار اور نیک لوگ ہیں۔ لیکن جب ہم حالات کی چھان بین کرتے تو ہمیں عثمان نہایت متقی اور ان الزامات سے بری نظر آتے۔ وہ لوگ، جو ان کی شکایات کرتے تھے، وہ تقوی کے بھیس میں فاجر اور کذاب نظر آتے۔ ان کا ظاہر کچھ ہوتا اور باطن کچھ اور۔ان لوگوں نے جب اس دھوکہ اور فریب سے قوت مہیا کر لی تو مدینہ پہنچ کر عثمان کو ان کے گھر میں محصور کر لیا اور انہیں شہید کر کے ایک حرام خون کو حلال کر لیا۔ پھر انہوں نے اس مال کو لوٹا جس کا لینا حرام تھا اور بغیر کسی جواز کے مدینۃ الرسول کی بے حرمتی کی۔ وہ جس چیز کے طلب گار ہیں، وہ آپ لوگوں کے لیے مناسب نہیں۔ آپ کو چاہیے کہ آپ قاتلین عثمان سے قصاص لیجیے اور اللہ عزوجل کے حکم کو قائم کیجیے۔ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: أَلَمْ تَرَى إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيباً مِنْ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ وَهُمْ مُعْرِضُونَ. "کیا آپ ان لوگوں کو، جنہیں کتاب دی گئی تھی، نہیں دیکھتے کہ جب انہیں کتاب اللہ کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ کتاب اللہ کے مطابق ان کا فیصلہ کیا جائے تو ان میں سے ایک گروہ منہ پھیر کر اور اعراض کر کے چل دیتا ہے۔” (آل عمران 3:23) ( ایضاً ۔ 3/2-68)
یہ تقریر سن کر اہل بصرہ کے دو گروہ واضح ہو گئے۔ اکثریت حضرات طلحہ، زبیر اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے جا ملی جبکہ باغی پارٹی نے بڑا شور مچایا۔ انہوں نے حضرت طلحہ و زبیر کے خلاف یہ پراپیگنڈا کیا کہ ان حضرات نے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی اور اب لشکر لے کر نکل کھڑے ہوئے۔ حقیقت یہ تھی کہ یہ دونوں حضرات ، حضرت علی کی بیعت پر قائم تھے اور صرف باغیوں پر قابو پانا چاہتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر پردے سے نکلنے پر تنقید کی گئی حالانکہ آپ نے پردے کے حکم کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی تھی بلکہ ایک اہم ملی ضرورت کے تحت اپنے محرم مردوں یعنی بھانجوں کے ساتھ سفر کیا تھا۔ انہوں نے قتل عثمان کا الزام الٹا انہی حضرات پر عائد کرنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر بعض لوگوں نے ان حضرات سے کہا کہ آپ کے جو خطوط ہمارے پاس آتے تھے، ان میں تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف پراپیگنڈا ہوتا تھا۔ ان حضرات نے ان خطوط سے اپنی براءت کا اظہار کیا جو باغیوں نے ان کے نام سے لکھے تھے۔( ایضاً ۔ 3/2-75)
باغیوں کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو ان حضرات سے برگشتہ کر کے اپنے ساتھ ملا لیں لیکن وہ اس میں بری طرح ناکام ہوئے۔ عام لوگوں نے ان کے پراپیگنڈا کو مسترد کر دیا۔ اب بصرہ کے باغیوں کے آگے آگ اور پیچھے کھائی تھی۔ وہ اپنے ساتھیوں سے کٹ کر بصرہ میں موجود تھے جہاں کی آبادی کی اکثریت ان سے نفرت کرتی تھی۔ واضح رہے کہ یہ باغی تحریک کی ایک شاخ ہی تھی کیونکہ ان کی قوت کا بڑا حصہ مدینہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گھیرے میں لیے ہوئے تھا۔ بالآخر انہوں نے do or die کا راستہ اختیار کیااور حکیم بن جبلہ کی قیادت میں سیدہ کے لشکر پر حملہ کر دیا جو کہ جنگ نہ کرنا چاہتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ وہ جنگ سے بچیں۔( ایضاً ۔ 3/2-69)۔ حکیم اور اس کے ساتھی وہاں ان پر ٹوٹ پڑے۔ حکیم بن جبلہ ام المومنین رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخیاں کر رہا تھا۔ ایک شخص نے اسے ٹوکا تو حکیم نے اس کے سینے میں نیزہ مار کر اسے شہید کر دیا۔ اس کے قبیلے کی ایک خاتون نے ایسا کیا تو حکیم نے انہیں بھی شہید کر دیا۔ اب بصرہ کے بیت المال کے سامنے جنگ شروع ہو گئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے منادی جنگ بندی کا اعلان کر رہے تھے لیکن کسی نے ان کا اعلان نہیں سنا اور انہوں نے متعدد باغیوں کو ڈھیر کر دیا۔ جب ان کی قوت ٹوٹ گئی تو اب وہ صلح کے لیے پکارنے لگے جسے سیدہ کے لشکر نے قبول کر لیا۔( ایضاً ۔ 3/2-71)
حضرات طلحہ و زبیر اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہم کے درمیان یہ معاہدہ طے پایا کہ فریقین کے ایک متفقہ شخص کو مدینہ بھیجا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ حضرات طلحہ و زبیر کو باغیوں نے بیعت کے لیے مجبور کیا تھا یا انہوں نے خوشی سے بیعت کی تھی۔ اگر یہ بیعت باغیوں کے جبر سے ہوئی تھی تو عثمان بن حنیف بصرہ چھوڑ دیں گے اور اگر خوشی سے ہوئی تھی تو یہ حضرات بصرہ سے نکل جائیں گے۔ واضح رہے کہ حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما نے خوشی سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی اور انہیں اس شرط پر خلیفہ بنایا تھا کہ وہ باغیوں سے قصاص لیں۔ اس کے بعد باغیوں نے مجبور کر کے ان سے دوبارہ بیعت لی تھی تاکہ ان کی جانب سے کوئی خطرہ نہ رہے۔ یہاں اشارہ اسی دوسری بیعت کی جانب تھا۔ ایک قاری قرآن اور نہایت ہی متقی و پرہیز گار شخص کعب بن سُوَر رحمہ اللہ، جو کہ عہد عثمانی میں بصرہ کے قاضی تھے، کو مدینہ بھیجا گیا جنہوں نے اہل مدینہ سے اس معاملے میں استفسار کیا۔ محفل میں باغی بھی موجود تھے جن کے خطرے کے سبب کوئی شخص نہ بولا۔ آخر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ یہ بیعت جبراً لی گئی تھی۔ باغی انہیں مارنے کے لیے اٹھے لیکن حضرت ابو ایوب انصاری اور صہیب رضی اللہ عنہما نے انہیں بچا لیا۔ اس موقع پر حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے بھی یہی بتایا کہ یہ بیعت جبراً لی گئی تھی۔( ایضاً ۔ 3/2-72 to 73)
کعب بن سور واپس بصرہ پہنچے تو باغیوں نے انہیں گھیر گھار کر حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما تک پہنچنے نہ دیا۔دوسری طرف مدینہ کے باغیوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک خط لکھ بھیجا جس میں لکھا تھا کہ "جماعت کی وحدت کو برقرار رکھنے اور ایک نیک کام کی خاطر زبردستی کی گئی تھی۔ اگر یہ دونوں بیعت توڑنا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس ان کا کوئی علاج نہیں اور اگر وہ کسی اور چیز کے طالب ہیں تو ہم اس پر غور کریں گے۔”
ایک رات جب شدید سردی تھی اور آندھی چل رہی تھی، بصرہ کے باغیوں نے مسجد میں ان صحابہ کے لشکر پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے جم کر مقابلہ کیا اور چالیس باغی مارے گئے۔ حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما نے چند لوگوں کو بھیجا کہ وہ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کو بلا لائیں۔ وہاں کچھ لوگ ان پر تشدد کر رہے تھے اور انہیں لاتوں سے مار رہے تھے۔ ان لوگوں نے حضرت عثمان کی داڑھی اور بھنویں نوچ دیں۔ حضرات طلحہ و زبیر کے ساتھی انہیں لائے تو ان دونوں حضرات نے بہت افسوس کا اظہار کیا۔ پھر انہوں نے انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا جنہوں نے انہیں ان کے مخلص ساتھیوں سمیت آزاد کر دینے کا حکم دیا۔ ( ایضاً ۔ 3/2-73)
مشہور غالی راوی ابو مخنف لوط بن یحیی، جن کا صحابہ کرام سے بغض مشہور ہے، نے یہاں بھی کوشش کی ہے کہ یہاں بھی ان حضرات کے خلاف پراپیگنڈا کیا جائے۔ ان کا دعوی ہے کہ سیدہ نے حضرت عثمان بن حنیف کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا، پھر کسی کے توجہ دلانے پر معاف کر دیا حالانکہ یہ بات یہ بالکل غلط ہے۔ ان حضرات نے حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کو اسی وجہ سے آزاد کیا کہ وہ ایک مخلص مسلمان اور صحابی تھے۔ ان کا کوئی تعلق ان باغیوں سے نہ تھا اور وہ اسی طرح ان باغیوں کے ہاتھوں گھرے ہوئے تھے جیسا کہ ان کے مرکزی لیڈر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گرد گھیرا تنگ کیے ہوئے تھے۔
حکیم بن جبلہ نے بصرہ کے بیت المال پر قبضے کی کوشش کی جسے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ناکام بنا دیا۔ اگلے دن حکیم بن جبلہ اپنے ساتھیوں کو اکٹھا کر کے ان صحابہ کے لشکر پر حملہ آور ہوا۔ بصرہ میں اب جتنے بھی باغی تھے، وہ اس لشکر میں موجود تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا : ” آپ لوگ صرف انہی سے جنگ کیجیے جو آپ سے جنگ کریں اور یہ اعلان کر دیجیے کہ جو شخص قتل عثمان سے تعلق نہ رکھتا ہو، وہ ہمارے مقابلے سے ہٹ جائے کیونکہ ہماری جنگ صرف قاتلین عثمان سے ہے اور ہم کسی بھی جنگ میں پہل نہ کریں گے۔” حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: "اللہ کا شکر ہے کہ اس نے بصرہ کے تمام قاتلین کو ہمارے سامنے جمع کر دیا ہے۔ اے اللہ! ان میں سے کسی کو زندہ باقی نہ چھوڑ۔ ان سے آج قصاص لے کر انہیں قتل فرما دے۔”
باغی تین سو کے قریب تھے۔ اب گھمسان کی جنگ شروع ہوئی۔ حکیم بن جبلہ حضرت طلحہ کے، ذریح حضرت زبیر کے، ابن الحرش حضرت عبدالرحمن بن عتاب کے اور حرقوص بن زہیر حضرت عبدالرحمن بن حارث کے مقابلہ پر آیا۔ حکیم بن جبلہ بہادری سے لڑا اور اس کی ایک ٹانگ کٹ گئی لیکن وہ پھر بھی حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کے خلاف اپنے پراپیگنڈے سے باز نہ آیا۔ باغیوں کی اکثریت حکیم سمیت ماری گئی البتہ ان کا ایک لیڈر حرقوص بن زہیر اپنے ساتھیوں کو لے کر فرار ہو گیا۔ حضرات طلحہ و زبیر نے اعلان کروا دیا کہ جس جس قبیلے نے جس بھی باغی کو پناہ دی ہو، اسے ہمارے پاس لایا جائے۔ لوگ ان قاتلین کو کتوں کی طرح گھسیٹ گھسیٹ کر لائے اور ان سب کو قتل کر دیا۔ اب حرقوص بن زہیر کے علاوہ باغیوں کے بصرہ چیپٹر میں سے کوئی شخص زندہ نہیں بچا۔
حرقوص کا تعلق اس علاقے کے ایک قبیلے بنو سعد سے تھا، اس لیے انہو ں نے اسے بچا لیا۔ طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما نے انہیں سخت برا بھلا کہا اور ان کے لیے ایک مدت مقرر کی کہ اس تاریخ تک حرقوص کو حاضر کرو۔ انہیں یہ بات سخت ناگوار گزری اور وہ ان سے الگ ہو گئے۔ ان کی دیکھا دیکھی بنو عبدالقیس اور بنو بکر بن وائل میں سے بھی باغی اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے بیت المال پر حملہ کر دیا۔ حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کے لشکر نے ان کا بھی مقابلہ کیا اور ان کے بہت سے آدمی ختم کر دیے۔ ان کے بقیہ لوگ بھاگ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں جا ملے۔( ایضاً ۔ 3/2-78)
حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما نے اس طرح باغیوں کی بصرہ شاخ کو طاقت سے کچل تو دیا لیکن اس کے کچھ ایسے نتائج نکلے جو کہ غیر متوقع تھے۔ ان کا خیال تو شاید یہ تھا کہ اس طرح باغیوں کی طاقت کمزور پڑ جائے گی لیکن الٹا ان کی طاقت بڑھ گئی اور ان کے اہل قبیلہ بھی باغی تحریک میں شامل ہو گئے۔ ہم بیان کر چکے ہیں کہ بغاوت کو طاقت سے کچلنے کے نتیجے میں عام طو رپر یہ پہلے سے مضبوط ہو جاتی ہے۔
باغی تحریکوں کے لائف سائیکل میں ہم باغی تحریکوں کی نفسیات بیان کر چکے ہیں کہ اگر ایک باغی کو قتل کیا جائے تو اس کے انتقام میں دس لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ قبائلیوں کی نفسیات بھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ ان کے نزدیک حق و باطل کا معیار ان کا قبیلہ ہوتا ہے اور انتقام کو ان کے ہاں ایک مقدس فریضہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر ان کے کسی مجرم کو بھی قتل کیا جائے تو پورا قبیلہ جنگ کرنے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور اس جنگ میں بہت سے بے گناہ مارے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی قبائلی علاقوں میں حکومتیں کوشش کرتی ہیں کہ معاملات کو حتی الامکان صلح ہی کے ذریعے سلجھایا جائے۔ اسی وجہ سے اکثر خلفاء اور بادشاہ باغی تحریکوں پر قابو پا لینے کے بعد انہیں معاف کر دیتے ہیں تاکہ یہ تحریک مستقبل میں پیدا نہ ہو۔ اس تفصیل سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان باغیوں کو ڈھیل کیوں دی تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے خلاف فیصلہ کن کاروائی سے اب تک پرہیز کیوں کرتے چلے آئے تھے۔
اس زمانے میں بصرہ کے باغیوں کے قتل عام کا نتیجہ یہ نکلا بنو عبد القیس اور بنو بکر بن وائل کے یہ قبیلے ایسے بدظن ہوئے کہ اس کے بعد بار بار حکومت کے خلاف باغیوں کا ساتھ دیتے رہے۔ اس وقت بھی یہ سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں قطیف اور الاحساء کے علاقوں میں آباد ہیں اور ان کے بہت سے لوگ ان صحابہ کے خلاف دل میں بہت بغض رکھتے ہیں۔
بصرہ پر اپنا اقتدار مستحکم کرنے کے بعد حضرات طلحہ وزبیر رضی اللہ عنہما نے بیت المال سے فوج کو تنخواہیں دیں۔ اس کے بعد ان حضرات نے اہل شام اور اہل کوفہ کو خطوط لکھے جن میں بصرہ کی جنگ کی تفصیلات بیان کیں کہ کس طرح قاتلین عثمان کا یہاں خاتمہ ہو گیا ہے۔
حضرت علی اور طلحہ و زبیر میں دوبارہ اتحاد کیسے ہوا؟
بصرہ کے بعد کوفہ عراق میں سب سے بڑی چھاؤنی تھی جس پر مشہور صحابی حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ حضرت عثمان کے زمانے سے گورنر چلے آ رہے تھے۔ یہ اگرچہ باغیوں کا گڑھ تھا تاہم مخلص مسلمانوں کی تعداد باغیوں سے کہیں زیادہ تھی۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اہل کوفہ کے قبائلی سرداروں کے نام الگ الگ خطوط لکھے جن میں سے ایک باغی لیڈر زید بن صوحان کے نام بھی تھا۔ اس نے آپ کے خط کا سخت جواب دیا اور لکھا کہ آپ اپنے گھر واپس چلی جائیے ورنہ میں آپ سے سب سے پہلے مقابلہ کروں گا۔( ایضاً ۔ 3/2-79)۔ ان باغیوں کو سیدہ سے خاص بغض تھا کیونکہ آپ ان کے منصوبوں کو خاک میں ملا رہی تھیں؟
دوسری طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی یہی چاہتے تھے کہ اہل کوفہ کے مخلص مسلمان ان کے ساتھ آ ملیں تاکہ باغیوں کا کنٹرول کمزور (Dilute) کیا جا سکے لیکن آپ کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ آپ جس بھی مخلص قاصد کو کوفہ بھیجتے، باغیوں کا کوئی نہ کوئی لیڈر ساتھ چل پڑتا جس کی وجہ سے حضرت ابو موسی اشعری قائل نہ ہو پاتے۔ آپ نے اپنے بھتیجے محمد بن جعفر رضی اللہ عنہما کو کوفہ بھیجا، تو ساتھ محمد بن ابی بکر بھی چل پڑا جو کہ باغیوں کا ساتھی تھا۔ اہل کوفہ کو محمد بن ابی بکر نے اپنی جلیل القدر بہن سیدہ عائشہ اور طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم کے خلاف جنگ پر تیار کرنے کی کوشش کی تو یہ لوگ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ۔
آپ نے جواب دیا: "اگر آپ لوگ دنیا چاہتے ہیں تو جنگ میں شریک ہو جائیے اور اگر آخرت چاہتے ہیں تو اپنی جگہ بیٹھے رہیے۔” محمد بن ابی بکر نے انہیں برا بھلا کہا تو ابو موسی نے فرمایا: "واللہ! عثمان کی بیعت میری گردن میں بھی پڑی ہوئی ہے اور تمہارے ان صاحب (علی) کی گردن میں بھی، جنہوں نے تمہیں یہاں بھیجا ہے۔ ہم اگر جنگ بھی کریں گے تو اس وقت جب تمام قاتلین عثمان قتل کر دیے جائیں اور ان میں سے ایک شخص بھی زندہ نہ بچے۔”( ایضاً ۔ 3/2-85)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کوفہ بھیجا تو ان کے ساتھ مالک اشتر چل پڑا۔ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی ایسا ہی جواب دیا اور اہل کوفہ کو بیٹھ رہنے کی تلقین کی۔ اس کے بعد حضرت علی نے حضرت حسن اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کو بھیجا تو حضرت ابو موسی نے انہیں سینے سے لگا لیا۔ آپ نے ان سے نہایت نرمی سے گفتگو کی۔ اس موقع پر کوفہ کے سرکردہ لوگوں نے تقاریر کیں جن میں باغیوں کے لیڈر بھی شامل تھے۔ مالک الاشتر نے تقریر کرتے ہوئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی تو ایک سردار مقطع بن ہیثم نے اسے ٹوک کر کہا: "اللہ تیری صورت بگاڑے، او پنجوں والے اور بھونکنے والے کتے! خاموش ہو جا۔” ( ایضاً ۔ 3/2-97)۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کیمپ میں مخلصین اور باغیوں میں ایک دوسرے سے شدید نفرت پائی جاتی تھی۔ اشتر نے حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے بہت بدتمیزی کی اور انہیں جبراً گورنر ہاؤس سے نکال دیا۔( ایضاً ۔ 3/2-98)
مخلص حضرات کی کاوشوں سے کچھ لوگ حضرت علی کے لشکر میں آ ملے جن میں حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ جیسے بہادر بھی شامل تھے۔ حضرت قعقاع، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کے بعد، نہایت ہی اعلی پائے جرنیل تھے اور فتح ایران میں انہوں نے نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اب حضرت علی کا لشکر آگے بڑھا۔ باغی بدستور ان کے ساتھ تھے اور زید بن صوحان اور مالک الاشتر جیسے لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں نمایاں عہدے سنبھالے ہوئے تھے تاہم اب حضرت علی رضی اللہ عنہ خود کو کافی حد تک ان باغیوں سے آزاد محسوس کر رہے تھے۔
بصرہ کے پاس پہنچ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت قعقاع بن عمرو کو سیدہ عائشہ، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کے پاس بھیجا۔ ان کے درمیان جو گفتگو ہوئی جو کہ واقدی اور سیف بن عمر نے روایت کی ہے۔ تاہم روایت کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ بالکل درست ہے اور اس میں کسی راوی کو کسی گڑبڑ کا موقع نہیں ملا۔ یہاں ہم ان حضرات کے درمیان ہونے والے مکالمہ کو درج کر رہے ہیں۔ اس مکالمے سے حضرت علی ، عائشہ اور طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم کے منصوبے کا اندازہ ہوتا ہے:
قعقاع: میری والدہ! آپ کے یہاں تشریف لانے اور اتنی تکالیف اٹھانے کا مقصد کیا ہے؟
عائشہ: میں اصلاح کے لیے آئی ہوں۔
قعقاع: تو پھر طلحہ اور زبیر کو بھی بلوا لیجیے تاکہ وہ میری بات سن سکیں اور میں ان کے خیالات معلوم کر سکوں۔
یہ دونوں حضرات بھی آ گئے تو بات آگے چلی۔
قعقاع: میں نے ام المومنین سے اس شہر میں تشریف آوری کا مقصد دریافت کیا۔ انہوں نے فرمایا: "اصلاح” تو کیا آپ دونوں حضرات کو اس بات سے اتفاق ہے یا اختلاف؟
طلحہ اور زبیر: ہمیں اتفاق ہے۔
قعقاع: تو پھر اصلاح کیسے ہو؟ وہ صورت بیان فرمائیے۔ واللہ! اگر ہم اسے بہتر سمجھیں گے تو اسے ضرور قبول کریں گے اور اگر غلط سمجھیں گے تو اس سے احتراز کریں گے۔
طلحہ و زبیر: جب تک عثمان کے قاتل قتل نہ کیے جائیں گے، اس وقت تک صورتحال درست نہیں ہو سکتی کیونکہ اگر اس قصاص کو چھوڑ دیا گیا تو یہ قرآن کا ترک ہو گا اور قصاص لینے میں حکم قرآنی کا احیاء ہے۔
قعقاع: آپ حضرات قاتلین عثمان میں سے بصرہ کے بہت سے لوگ کو قتل کر چکے ہیں حالانکہ ان کے قتل سے پہلے معاملات زیادہ بہتر طور پر درست ہو سکتے تھے۔ آپ نے 600 قاتلوں کو قتل کیا اور صرف ایک شخص زندہ بچا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان کے قتل پر 6000 آدمی غضب ناک ہو کر آپ کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ اگر آپ ان لوگوں سے اور بقیہ قاتلین سے جنگ کریں گے تو مضر اور ربیعہ کے یہ تمام قبائل آپ پر ٹوٹ پڑیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جس خطرے سے آپ خائف ہیں اور جس کے باعث آپ نے یہ اختلاف کیا ہے، اس سے بھی زیادہ خطرناک حالات پیش آ جائیں گے۔ (باغیوں کے) اسی قتل کے باعث مضر اور ربیعہ کے بہت سے لوگوں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور وہ آپ سے جنگ کر کے آپ کو رسوا کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ یہ صرف ان مقتولین کی وجہ سے ہوا ہے۔ اگر آپ لوگ دوسرے شہروں (کوفہ اور مصر) میں بھی یہی کریں گے تو اتنی زبردست تباہی آئے گی کہ پھر اصلاح نہ ہو سکے گی۔
عائشہ: پھر آپ کی رائے کیا ہے؟
قعقاع: اس کام کے لیے اطمینان اور سکون کی ضرورت ہے۔ جب فضا سازگار ہو جائے گی اور اشتعال اور ہیجان ختم ہو جائے اور لوگ ایک دوسرے مطمئن ہو جائیں گے تو اس وقت اس معاملے کو نمٹا لیا جائے گا۔ اگر آپ لوگ ہماری (علی کی) بیعت کر لیں گے تو یہ بہتری کی علامت اور رحمت کا سبب ہو گی۔ اس طرح ہم عثمان کا قصاص بھی لے سکیں گے اور امت میں بھی عافیت اور سلامتی پیدا ہو جائے گی۔ اگر آپ جنگ کے علاوہ کسی اور بات کو قبول نہ کریں گے تو اس سے بڑا فساد پیدا ہو گا۔ قصاص کا معاملہ بھی ہاتھ سے نکل جائے گا اور اللہ تعالی اس امت پر آفتیں نازل فرما دے گا۔ آپ لوگ عافیت کے طلب گار بنیے اور پہلے کی طرح خیر کی کوشش کیجیے۔ ہمیں مصیبتوں میں مبتلا نہ کیجیے اور نہ ہی علی کے لیے پیچیدگیاں پیدا کیجیے کیونکہ اس سے آپ بھی تباہ ہوں گے اور ہم بھی۔ واللہ!میں آپ کو صرف اسی بات کی دعوت دینے آیا ہوں۔ مجھے خوف ہے کہ کہیں (یہ خدشات) پورے نہ ہو جائیں سوائے اس کے لیے اللہ عزوجل اس امت کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لے۔ یہ حالات عام حالات نہیں ہیں، جیسے کوئی شخص کسی دوسرے کو یا ایک گروہ یا قبیلہ کسی ایک آدمی کو قتل کر دے۔
زبیر و طلحہ: آپ نے جو بات کہی ہے، وہ بالکل صحیح اور درست ہے۔ اب آپ جائیے اور (علی سے بات کیجیے۔) اگر آپ کے اور علی کے خیالات یہی ہیں تو ہم مصالحت کے لیے تیار ہیں۔( ایضاً ۔ 3/2-102)۔ رضی اللہ عنہم۔
حضرت قعقاع بن عمرو کے اس مکالمے سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت علی اب تک قاتلین کے خلاف کیوں سخت کاروائی نہ کر سکے تھے۔ اسی قسم کی ایک گفتگو اگر حضرت معاویہ سے بھی ہو جاتی تو وہ بھی یقیناً ان دلائل کی بنیاد پر اسی طرح قائل ہو جاتے جیسے حضرات طلحہ، زبیر اور عائشہ رضی اللہ عنہم ہوئے تھے۔ جب حضرت قعقاع ، حضرت علی رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچے اور ان سے ساری بات بیان کی تو آپ بہت خوش ہوئے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ آپ نے ان باغیوں کے مقابلے میں اتنی ریلیف محسوس کی تھی۔ آپ نے لوگوں کو جمع کر کے ایک تقریر کی۔ اس میں آپ نے دور جاہلیت کی بدبختی اور اسلام کی سعادت پر بات کی اور فرمایا:
اس امت پر اللہ کا ایک انعام یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ اول کے ذریعے اس امت کے اتحاد کو برقرار رکھا۔ پھر خلیفہ دوم اور سوم کے زمانہ میں بھی اسی طرح رہا۔ پھر یہ واقعہ (شہادت عثمان) پیش آیا اور مختلف گروہوں نے اپنی دنیا طلبی کی خاطر امت میں پھوٹ ڈال دی۔ ان لوگوں کو اس بات کا حسد تھا کہ اللہ تعالی نے دوسرے لوگوں کو کیوں فضیلت عطا فرمائی۔ اس لیے یہ لوگ چاہتے تھے کہ زمانے کو پھر دور جاہلیت میں بدل دیں تاکہ ایک (صحابہ) کو دوسرے پر فضیلت باقی نہ رہے حالانکہ اللہ تعالی اپنے حکم اور اپنے ارادے کو پورا کر کے رہتا ہے۔ خبردار! میں کل یہاں سے بصرہ کی جانب کوچ کروں گا۔ آپ لوگ بھی میرے ساتھ چلیے لیکن ہمارے ساتھ کوئی ایسا شخص ہرگز نہ جائے جس نے عثمان کی شہادت میں کسی قسم کی مدد کی ہو یا اس میں کسی قسم کا حصہ لیا ہو۔یہ بے وقوف لوگ اب مجھ سے الگ ہو جائیں۔( ایضاً ۔ 3/2-107)۔
یہ اعلان سن کر باغیوں میں صف ماتم بچھ گئی۔ اب وہ پہلا سا معاملہ نہیں تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کی بات ماننے پر مجبور ہوں۔ اب آپ کے ساتھ بھی خاصی تعداد میں مخلص ساتھی تھے اور اگر اس میں حضرات طلحہ و زبیررضی اللہ عنہما کے ساتھی مل جاتے تو باغیوں کا بڑا ہی برا حشر ہوتا۔ انہوں نے اب اپنا اجتماع منعقد کیا اور مشورے کرنے لگے۔ طبری نے ان کی جو گفتگو نقل کی ہے، وہ کچھ یوں ہے:
(حضرت علی رضی اللہ عنہ کا) یہ اعلان سن کر وہ لوگ جنہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت میں حصہ لیا تھا یا قاتلین عثمان سے راضی تھے، اکٹھے ہوئے۔ ان میں علباء بن الہیثم، ۔۔۔، سالم بن ثعلبہ العبسی، شریح بن اوفی الضبیعہ اور (مالک) اشتر نخعی شامل تھے اور مصریوں کے ساتھ ابن السوداء اور خالد بن ملجم تھے۔ ان لوگوں میں باہم مشورہ ہوا۔ یہ لوگ کہنے لگے: "واللہ! یہ تو ایک ظاہر سی بات ہے کہ علی سب سے زیادہ کتاب اللہ سے واقف ہیں، اس وجہ سے وہ لازماً ایک نہ ایک دن قرآن پر عمل کرتے ہوئے قاتلین سے قصاص کا مطالبہ کریں گے اور جس وقت وہ مطالبہ کریں گے، اس وقت کوئی مخالف نہ ہو گا اور ہماری تعداد دوسروں کے مقابلے میں کم ہو جائے گی۔ اس وقت علی قوم پر جان دیں گے اور قوم ان پر۔ اس وقت ہماری تعداد اتنی بڑی اکثریت کے سامنے کچھ نہ ہو گی۔ واللہ! تمہیں دھتکارا جائے گا اور نجات کی کوئی صورت نظر نہ آئے گی۔”
مالک اشتر نخعی: طلحہ و زبیر کے ارادوں سے تو ہم خوب واقف تھے، لیکن علی کے ارادوں سے آج تک واقف نہ ہو سکے۔ واللہ! ان سب کی رائے ہمارے بارے میں ایک ہی ہے۔ اگر زبیر، طلحہ اور علی نے صلح کر لی تو وہ ہمارے خون پر ہو گی۔ آؤ! کیوں نہ ہم علی پر حملہ کر کے اسے عثمان کے پاس پہنچا دیں۔ اس سے ایک نئی خانہ جنگی واقع ہو جائے گی جو ہماری مرضی کے عین مطابق ہو گا اور ہم اس میں سکون سے ٹائم پاس کر لیں گے۔
عبداللہ بن سبا: تمہاری رائےبالکل غلط ہے۔ اے قاتلین عثمان! تم دیکھ نہیں رہے کہ ذی قار میں کوفہ کا ڈھائی ہزار لشکر موجود ہے اور اس کے علاوہ ابن حنظلیہ کے ساتھ پانچ ہزار کا لشکر ہے۔ یہ سب اس شوق میں مرے جا رہے ہیں کہ انہیں تم سے جنگ کی اجازت دی جائے۔ یہ لشکر تمہاری پسلیاں بھی توڑ کر رکھ دے گا۔
علباء بن الہیثم: میرے خیال میں بہتر یہ ہے کہ انہیں چھوڑ کر ہم الگ ہو جائیں اور انہیں آپس میں لڑنے دیں۔ اگر لڑتے لڑتے ان کی تعداد کم ہو جائے گی تب ہم ان کے دشمنوں کی کثرت کے باعث ان پر غلبہ پا لیں گے۔ اگر یہ زیادہ بھی ہوں گے تب بھی یہ تم سے ایک نہ ایک دن صلح کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس لیے تم ان لوگوں کا ساتھ چھوڑ کر اپنے اپنے شہروں کو چلو اور اس وقت تک خاموش بیٹھے رہو جب تک تمہارے شہروں میں کوئی ایسا امیر نہ آ جائے جو تمہاری پشت پناہی کر سکے اور تمہیں لوگوں سے بچا سکے۔
ابن سبا: یہ رائے بھی غلط ہے۔ تمہیں لوگوں سے محبت ظاہر کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ اس وقت لوگ تمہارے دشمن ہو رہے ہیں۔ تم ان سے ہٹ کر بچ نہیں سکتے۔ اگر تمہاری رائے پر عمل کیا گیا تو ہمارے منتشر ہوتے ہی لوگ ہمیں ہر طرف سے گھیر لیں گے۔
۔۔۔: خدا کی قسم! نہ تو میں کسی بات پر خوش ہوں اور نہ ناراض۔ اتنا ضرور ہے کہ عثمان کے قتل کی وجہ سے لوگ زبردست پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ جو حالات گزر چکے، سو گزر چکے لیکن اب لوگوں کی نظروں میں گر چکے ہیں۔ ہمارے پاس گھوڑے بھی ہیں اور بہترین ہتھیار بھی۔ اگر تم سب آگے بڑھو گے تو ہم بھی آگے بڑھیں گے اور اپنی جگہ رکو گے تو ہم بھی رکیں گے۔
ابن سبا: یہ تم نے بہت اچھی بات کی۔
سالم بن ثعلبہ :تم میں سے اگر کوئی شخص اس دنیاوی زندگی کا طلب گار ہے تو ہو، میں اس کی خواہش نہیں رکھتا۔ واللہ! جب تم کل دشمن سے جنگ کرو گے تو میں اپنے گھر واپس نہ جاؤں گا۔ اگر میری زندگی باقی بھی رہی تو میں جب تم سے ملوں گا تو اونٹوں کو اچھی طرح ذبح کر کے آؤں گا۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو تم لوگوں کے سروں پر اپنی تلواروں کو اچھی طرح استعمال کرے گا، معاملات اسی کے کنٹرول میں چلے جائیں گے۔ جس کی لاٹھی، اسی کی بھینس والا معاملہ ہو گا۔
ابن سبا: یہ کام کی بات ہے۔
شریح: تم لوگ میدان میں نکلنے سے پہلے کچھ نہ کچھ فیصلہ کر لو اور اس میں دیر مت کرو۔ جس کام کا جلدی کرنا ضروری ہے، اسے موخر نہ کرو اور جسے موخر کرنا بہتر ہے، اس میں جلدی نہ کرو۔ ہم لوگوں کے نزدیک نہایت ہی برے لوگ ہیں۔ یہ معلوم نہیں کہ جب کل یہ دونوں لشکر ملیں گے تو ان کی ملاقات کا کیا نتیجہ برآمد ہو گا۔
ابن سبا: لوگو! تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ تم ان لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہو اور ان کے ساتھ مل کر کام کرو۔ جب کل دونوں فریق آپس میں ملیں تو جنگ چھیڑ دو اور کسی کو سوچنے تک کا موقع نہ دو۔ جب تم علی کے ساتھ ہو گے تو انہیں کوئی شخص ایسا نظر نہ آئے گا، جس کے ذریعے جنگ رکوا سکیں۔ اس طرح اللہ، علی، طلحہ اور زبیر (رضی اللہ عنہم) اور صلح کے خواہشمند دیگر لوگ، جو تمہاری منشاء کے خلاف کام کرنا چاہتے ہیں، ایک مصیبت میں مبتلا کر دے گا۔
اس رائے سے سب نے اتفاق کیا اور اس فیصلہ کے بعد یہ ٹولی منتشر ہو گئی۔ دیگر لوگوں کو ان کے حالات کی خبر نہ تھی۔ ( ایضاً ۔ 3/108, 109)
اس روایت کا راوی بھی سیف بن عمر ہی ہے تاہم یہ اس وجہ سے درست معلوم ہوتی ہے کہ اس میں جو منصوبہ طے پایا، وہ بعینہ حقیقت بن گیا۔ تاہم غالی راویوں کی چونکہ کوشش یہ رہی ہے کہ قاتلین عثمان میں چند ایک صحابہ کو بھی گھسیٹ لیا جائے تاکہ ان کے قد و کاٹھ (Credibility) میں کچھ اضافہ ہو۔ اس وجہ سے انہوں نے معاذ اللہ حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ کا نام بھی اپنے میں شمار کر لیا ہے حالانکہ اس سے پہلے قتل عثمان کی سازش میں کہیں دور دور تک آپ کا نام نہیں ملتا۔ اقتباس میں جہاں ہم نے ۔۔۔ لگائی ہے، وہاں حضرت عدی کا نام لکھا ہے۔ اس سے پہلے یہ اسی طرح حضرت عمار بن یاسر اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کو بھی اپنے میں شمار کرنے کی جسارت کر چکے ہیں۔ حضرت عدی بن حاتم کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہما سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ ان لوگوں میں شامل تھے ، جو کوفہ سے محض اس وجہ سے نکل گئے تھے کہ باغی یہاں پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیا کرتے تھے۔( ابن عساکر۔ 39/510)
اگلے دن حضرت علی نے لشکر کو کوچ کا حکم دیا اور بصرہ کے قریب آ پہنچے۔ آپ نے شام کو حضرت عبداللہ بن عباس کو بھیجا جنہوں نے جا کر ام المومنین عائشہ اور حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم کے ساتھ صلح کی شرائط طے کیں۔ بقیہ ساتھی ابھی پیچھے آ رہے تھے۔ اس موقع پر دونوں لشکروں میں بعض لوگوں نے جنگ کی آگ کو بھڑکانے کی کوشش کی مگر حضرت زبیر اور حضرت علی نے اسے ناکام بنا دیا۔ طبری کی روایت ہے:
اس وقت ایک شخص ابو الجرباء حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ سے کہا: "زبیر! بہترین رائے یہ ہے کہ آپ اسی وقت ایک ہزار سوار روانہ کر دیجیے تاکہ علی کے بقیہ ساتھی آنے سے پہلے ہی فیصلہ ہو جائے۔ حضرت زبیر نے جواب دیا: "ابو الجرباء! ہم جنگی تدابیر سے اچھی طرح واقف ہیں لیکن انہوں نے صلح کا پیغام دیا ہے اور یہ اختلاف ایک نئی بات ہے جو اس سے پہلے پیش نہ آئی تھی۔ یہ ایسا کام ہے کہ اگر کوئی شخص بلا وجہ اور بلا دلیل قیامت کے روز اللہ کے سامنے پیش ہو گا تو اس کا کوئی عذر قبول نہ ہو گا۔ جب علی ہم سے جنگ نہیں کرنا چاہتے اور صلح کا پیغام بھیج رہے ہیں تو ان سے جنگ چھیڑنا کیسے جائز ہے؟ مجھے امید ہے کہ آج صلح کا معاہدہ مکمل ہو جائے گا۔ آپ لوگ (کچھ دیر) صبر کریں اور خوشیاں منائیں۔ اس کے بعد ایک اور شخص صبرہ بن شیمان آیا اور اس نے بھی حملے کا مشورہ دیا۔ آپ نے اسے بھی ایسا ہی جواب دیا۔( طبری۔ 3/2-109)
دوسری طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بھی اپنے ساتھیوں سے ایسا ہی مکالمہ چل رہا تھا۔
علی: لوگوں کی اصلاح کرنا اور دہکتی آگ کو بجھانا بہتر ہے۔ شاید اللہ تعالی اس ذریعہ سے اس امت کو متحد فرما دے اور یہ باہمی اختلافات ختم ہو جائیں۔ مجھے امید ہے کہ یہ لوگ میری بات قبول کر لیں گے۔
اعور: اگر انہوں نے ہماری بات قبول نہ کی تو؟
علی: تو اس وقت تک ہم ان سے جنگ نہ کریں گے جب تک یہ ہم سے جنگ نہ کریں۔
اعور: اگر ان لوگوں نے ہم سے جنگ کی تو پھر؟
علی: پھر ہم صرف اپنی جانوں کا دفاع کریں گے۔
اعور: کیا انہیں بھی اسی طرح اجر ملے گا، جس طرح ہمیں اجر ملے گا؟
علی: بالکل، ضرور ملے گا۔
ابو سلامہ الدالانی: کیا ان لوگوں کے لیے شرعی طور پر یہ دلیل کافی ہے کہ وہ خون عثمان کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کی نیت اس سے اللہ عزوجل کی رضا مندی ہے۔
علی: جی ہاں۔
ابو سلامہ: آپ نے جو قصاص عثمان میں تاخیر فرمائی ہے، کیا اس کے لیے آپ کے پاس جواز کی کوئی دلیل ہے؟
علی: ہاں! جب تک کسی چیز کی اصل حقیقت کا علم نہ ہو جائے تو اس میں حکم یہ ہے کہ ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس میں احتیاط پائی جاتی ہو اور جس کا فائدہ عام ہو۔
ابو سلامہ: اگر کل ہماری اور ان کی جنگ ہو گئی تو اس کا آخرت میں انجام کیا ہوگا؟
علی: مجھے امید ہے کہ ہمارا یا ان کا جو شخص بھی مارا جائے گا، بشرطیکہ اس کی غرض اللہ کی رضا ہو تو اللہ تعالی اسے جنت میں داخل فرمائیں گے۔
مالک بن حبیب: آپ کی جب ان لوگوں سے ملاقات ہو گی تو آپ کیا طریقہ اختیار فرمائیں گے؟
علی: ہم پر بھی اور ان پر بھی یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اصلاح اسی میں کہ اس جنگ سے باز رہا جائے۔ اگر وہ میری بیعت کر لیتے ہیں تو بہت ہی بہتر ہے اور اگر وہ جنگ کے علاوہ کسی چیز پر تیار نہ ہوں گے تو یہ ایک ایسا زخم ہو گا جو کبھی نہ بھر سکے گا۔
مالک: جنگ ہوئی تو ہمارے مقتولوں کا کیا معاملہ ہو گا؟
علی: جس کا مقصد اللہ عزوجل کی رضا ہے، اسے اس کا فائدہ ضرور پہنچے گا اور یہ اس کی نجات کا سبب ہو گا۔
اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عام خطبہ دیا اور اللہ عزوجل کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: "لوگو! آپ لوگ اپنے آپ پر کنٹرول رکھیے، اپنے ہاتھوں کو روکے رکھیے اور ان لوگوں (طلحہ وزبیر اور ان کے ساتھیوں) کو کچھ کہنے سے اپنی زبانیں بند رکھیے کیونکہ وہ بھی آپ کے بھائی ہیں۔ اگر وہ آپ کے ساتھ کچھ زیادتی کریں تو آپ صبر کیجیے اور ہم سے آگے بڑھنے سے پرہیز رکھیے کیونکہ آج جو دشمنی برتے گا، وہ کل بھی دشمن ہی سمجھا جائے گا۔( ایضاً ۔ 3/2-111)
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اصل پلان کیا تھا۔ ہم اوپر وہ منصوبہ بیان کر چکے ہیں، جو حضرت علی کے ذہن میں تھا۔ وہ ان روایات سے واضح ہو جاتا ہے۔ مناسب ہے کہ اسے ایک بار پھر دوہرا لیا جائے اور اس کے مطابق اب تک پراگریس دیکھ لی جائے تاکہ آپ کی حکمت عملی (Strategy) واضح ہو سکے۔
1۔ باغیوں کو وقتی طور پر کسی کام میں مصروف (Engage)کر دیا جائے تاکہ اہل مدینہ کی جان، مال اور آبرو ان سے محفوظ ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے ان کی کچھ باتیں اگر ماننا بھی پڑیں تو اس میں مضائقہ نہیں۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں حکومتی امور میں شریک کر لیا تاکہ ان کی توجہ دوسری طرف نہ ہو سکے۔ اس معاملے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ مکمل طور پر کامیاب رہے اور اہل مدینہ کے جان، مال اور آبرو ان سے محفوظ ہو گئے۔
2۔ باغیوں میں سے ایک طبقہ ان لوگوں پر مشتمل تھا جو اپنی اصل میں مخلص تھے لیکن محض حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب جھوٹے خطوط سے متاثر ہو کر باغیوں کے ساتھ مل گئے تھے۔ انہی لوگوں کی وجہ سے باغی لیڈر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک حد تک دبتے تھے اور ان سے اپنی ہر بات نہ منوا سکتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کوشش تھی کہ اس طبقے کو باغیوں سے الگ کر لیا جائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ذاتی گفتگو اور خطبات کے ذریعے اس کام کی بھرپور کوشش کی جس کے نتیجے میں باغیوں میں شامل بہت سے مخلص لوگ، آپ کے ساتھ ہو گئے۔ اوپر بیان کردہ گفتگو ایسے ہی لوگوں کے ساتھ تھی۔ اس معاملے میں آپ کو البتہ جزوی کامیابی حاصل ہوئی کیونکہ باغی لیڈر مالک اشتر وغیرہ بھی ان لوگوں پر مسلسل اپنا اثر و رسوخ استعمال کر رہے تھے۔
3۔ ایک طرف باغیوں کو مصروف کر دیا جائے اور دوسری طرف حضرت طلحہ وزبیر رضی اللہ عنہما مدینہ سے خاموشی سے نکل جائیں اور دیگر علاقوں میں موجود منتشر افواج کو منظم کریں تاکہ ان باغیوں پر فیصلہ کن ضرب لگائی جا سکے۔ اس معاملے میں بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مکمل کامیابی حاصل ہوئی۔ حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما نے نہ صرف ایک فوج فراہم کر لی بلکہ باغیوں کی بصرہ برانچ کا مکمل خاتمہ بھی کر دیا۔ تاہم اس معاملے میں ایک غیر متوقع نتیجہ یہ سامنے آیا کہ یہ باغی جن قبائل سے تعلق رکھتے تھے، وہ برگشتہ ہو گئے اور باغیوں کے ساتھ مل گئے اور اس سے باغیوں کی قوت میں اضافہ ہو گیا۔ یہ چیز غالباً ان حضرات کے منصوبے میں شامل نہیں تھی۔
4۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان باغیوں کو اکٹھا کر کے مخلص مسلمانوں کی افواج کے مقابلے میں لے آئیں۔ اس معاملے میں بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کامیاب رہے اور باغیوں کو اکٹھا کر کے بصرہ لے آئے۔
5۔ مسلمانوں کی افواج متحد ہو کر خود کو اتحاد کی اس صورت پر لے آئیں جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے قائم تھا۔ یہ وہ معاملہ تھا جس میں مسلمانوں کو ابتدائی کامیابی حاصل ہوئی۔ حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کی سفارت نے کام کر دکھایا اور فریقین اتحاد پر تیار ہو گئے۔ افسوس کہ یہ مرحلہ کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکا کیونکہ اس مرحلے پر باغیوں نے رات کے اندھیرے میں جنگ چھیڑ دی، اس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔
6۔ اس کے بعد باغیوں کی بیخ کنی کی جائے۔ قاتلین عثمان کو قصاص میں قتل کیا جائے اور بقیہ لوگوں کومناسب سزائیں دی جائیں۔ افسوس کہ یہ اقدام بھی حضرت علی کے دور میں کامیاب نہ ہو سکا۔
جنگ جمل کیسے ہوئی؟
اوپر بیان کردہ روایت کے مطابق باغیوں نے منصوبہ بنایا تھا کہ دونوں لشکروں میں مل جل کر رہا جائے اورصلح کے معاہدے کی تکمیل سے پہلے ہی دونوں طرف اچانک حملہ کر کے جنگ چھیڑ دی جائے۔ انہوں نے رات کے اندھیرے میں اسی منصوبے پر عمل کیا ۔ دونوں فریقوں نے یہ سمجھا کہ فریق مخالف نے وعدے کی خلاف ورزی کر کے حملہ کر دیا ہے چنانچہ جنگ چھڑ گئی۔ باغی بھی اس جنگ میں بڑی بے جگری سے لڑے کیونکہ یہ ان کے لیے بقا کی جنگ تھی۔ انہوں نے سب سے پہلے تاک کر حضرت طلحہ کو نشانہ بنایا اور انہیں شہید کر دیا۔ حضرت زبیر میدان جنگ سے الگ ہو گئے تھے کیونکہ آپ اپنے ماموں زاد بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہم سے عہد شکنی نہ کرنا چاہتے تھے۔ تین باغیوں عمیر بن جرموز ، فضالہ بن حابس اور نفیع نے انہیں گھیر کر شہید کر دیا۔ اس طرح سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ دونوں قریبی ساتھی شہید ہو گئے۔ کعب بن سور قرآن ہاتھ میں لے کر کھڑے ہو گئے کہ اسے دیکھ کر لوگ جنگ سے رکیں لیکن باغی پارٹی نے انہیں نیزے مار مار کر شہید کر دیا۔ حضرت طلحہ کے بیٹے محمد، مالک اشتر کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے اور حضرت زبیر کے بیٹے عبداللہ بھی اسی کے مقابلے میں شدید زخمی ہوئے۔
اس موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے اونٹ پر بیٹھیں تاکہ آپ اس جنگ کو رکوا سکیں۔ آپ کے ساتھی سمجھے کہ آپ کمان کرنے آئی ہیں، چنانچہ وہ اور جوش میں آ گئے اور جنگ میں شدت آ گئی۔ باغی پارٹی نے آپ کے ہودج کو تیروں کا نشانہ بنا لیا اور اس میں اتنے تیر آ کر لٹک گئے کہ یہ ہودج تیروں کا تھیلا معلوم ہونے لگا۔ دوسری طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے لشکر کو روک رہے تھے لیکن یہاں باغی پارٹی غالب تھی جو مسلسل پراپیگنڈا کیے جا رہے تھے کہ فریق مخالف نے وعدہ خلافی کی ہے۔ آخر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کمال تدبیر سے کام لیتے ہوئے سیدہ کے بھائی محمد بن ابی بکر کو بھیجا جس نے آپ کے اونٹ کو زخمی کر کے ہودج کو گرا کر آپ کو ساتھ لے لیا۔ اس طرح سے جنگ رک گئی۔
جنگ جمل کے بعد کیا ہوا اور اس کے نتائج کیا نکلے؟
جنگ کے بعد باغیوں کا مطالبہ تھا کہ فریق مخالف کی خواتین کو ان کی باندیاں بنا دیا جائے لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس مطالبے کو تسلیم کرنے سے سختی سے انکار کر دیا اور فرمایا: ’’تم میں سے کون ہے جو سیدہ عائشہ کو باندی بنانا چاہے گا؟۔‘‘ آپ نے دونوں طرف کے زخمیوں کا علاج کروایا اور ان کی لاشوں کو دفن کروایا ۔ آپ نے حکم جاری کر دیا تھا کہ کوئی کسی بھاگنے والے کا پیچھا نہ کرے۔ حضرت طلحہ کی لاش دیکھی تو حضرت علی رضی اللہ عنہما کے تاثرات کیا تھے؟ ملاحظہ فرمائیے:
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مقتولین کے درمیان چکر لگایا تو آپ (حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ) کو دیکھ کر آپ کے چہرے سے مٹی ہٹانے لگے اور فرمایا: "ابو محمد! اللہ کی آپ پر رحمت ہو۔ مجھے ستاروں تلے آپ کو اس حالت میں گرا دیکھنا کس قدر شاق گزر رہا ہے۔ ” پھر فرمایا: "میں اپنی ظاہری اور پوشیدہ باتوں کو اللہ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ واللہ! میں چاہتا ہوں کہ آج سے بیس سال پہلے مر گیا ہوتا۔” ( ابن کثیر۔ عربی 10/476۔ بلاذری ۔ 3/63)
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے قاتل کا نام عمرو بن جرموز بیان کیا جاتا ہے۔ اس کا واقعہ کچھ یوں ہے:
عمرو بن جرموز نے آپ (حضرت زبیر رضی اللہ عنہ) سے کہا: "مجھے آپ سے ایک کام ہے۔” آپ نے فرمایا: "پاس آ جائیے۔” حضرت زبیر کے غلام عطیہ نے کہا: "اس کے پاس ہتھیار ہے۔” آپ نے فرمایا: "چاہے ہتھیار ہو۔” وہ آگے بڑھ کر آپ سے بات کرنے لگا۔ نماز کا وقت تھا، حضرت زبیر نے اسے کہا: "پہلے نماز پڑھ لیں۔” اس نے کہا: "پڑھ لیں۔” جب حضرت زبیر ان دونوں کو نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو عمرو نے آپ کو نیزہ مار کر قتل کر دیا۔ ۔۔۔ پھر یہ آپ کا سر کاٹ کر اسے حضرت علی کے پاس لے گیا۔ اس نے خیال کیا کہ اس کی وجہ سے اسے آپ کے ہاں کوئی عہدہ ملے گا۔ اس نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو حضرت علی نے فرمایا: "اسے اجازت نہ دو بلکہ جہنم کی بشارت دو۔” ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ابن صفیہ (زبیر رضی اللہ عنہما) کے قاتل کو جہنم کی بشارت دو۔” ابن جرموز اندر داخل ہوا تو حضرت زبیر کی تلوار اس کے پاس تھی۔ حضرت علی نے فرمایا: "اس تلوار نے کئی مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چیرے سے غم کو دور کیا ہے۔” بیان کیا جاتا ہے کہ عمرو بن جرموز نے جب یہ بات سنی تو خود کشی کر لی اور بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ وہ مصعب بن زبیر کے عراق کا گورنر بننے تک زندہ رہا۔( ایضا۔ عربی 10/482۔ ابن عساکر۔ 18/417-423)
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم کوفہ کی مسجد میں حضرت علی بن ابی طالب کے پاس تھے اور آپ کے ہاتھ میں فریکچر تھا۔ عثمان، طلحہ اور زبیر کا ذکر شروع ہوا گیا۔ آپ نے پوچھا: "آپ لوگ کس بارے میں بات کر رہے ہیں؟” ہم نے کہا: "ہم عثمان، طلحہ اور زبیر کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور ہمارا خیال تھا کہ آپ آرام کر رہے ہیں۔” علی نے یہ آیت پڑھی: "یقیناً جن لوگوں کے بارے میں ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہو گا، وہ یقیناً اس (جہنم) سے دور رکھے جائیں گے۔” فرمایا کہ یہ معاملہ میرا، عثمان، طلحہ اور زبیر کا ہے۔ پھر فرمایا: "میں بھی عثمان، طلحہ اور زبیر کے شیعوں (پارٹی) میں شامل ہوں۔” پھر یہ آیت پڑھی: "ہم ان کے دلوں میں کچھ رنجش بھی ہو گی تو ہم اسے ختم کر دیں گے اور وہ بھائی بھائی بن کر پلنگوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔ ” فرمایا: "یہ عثمان، طلحہ اور زبیر سے متعلق ہے۔ میں بھی عثمان، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم اجمعین کی پارٹی میں شامل ہوں۔”( ابن عساکر۔ تاریخ دمشق۔ 18/424)
حضرت علی رضی اللہ عنہ ، کعب بن سور رحمہ اللہ کی لاش کے پاس سے گزرے تو ان کی تعریف کی۔ بنو امیہ کے مشہور سردار عبد الرحمن بن عتاب بن اسید ، جن کے والد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کا پہلا گورنر مقرر فرمایا تھا، کی میت کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ’’یہ قریش کے سردار تھے، ان کے قتل پر میں بہت افسردہ اور شرمندہ ہوں۔‘‘ ایک باغی نے بصرہ کی خواتین کو دھمکی دی تو آپ نے فرمایا:
خبردار! نہ تو کسی کی پردہ دری کرو اور نہ ہی کسی کے مکان میں داخل ہو۔ کسی خاتون کو تکلیف نہ پہنچائی جائے اگرچہ وہ تمہاری توہین بھی کرے، تہمارے امراء اور نیک لوگوں کو برا بھی کہے۔ کیونکہ عورت کمزور ہوتی ہے۔ ہمیں تو مشرک عورتوں پر بھی ہاتھ اٹھانے سے روکا گیا تھا اور اگر کوئی شخص کسی عورت پر ہاتھ اٹھاتا یا اسے مارتا تو لوگ اس کی اولاد کو طعنہ دیتے تھے کہ تیرے باپ نے تو فلاں عورت کو مارا تھا۔ خبردار! اگر مجھے یہ معلوم ہوا کہ تم میں سے کسی نے کسی عورت کو اس لیے تکلیف پہنچائی ہے کہ اس نے تمہیں کچھ کہا تھا اور تمہاری عزت اچھالی تھی تو میں تمہیں انتہائی بدترین سزا دوں گا۔( طبری۔ 3/2-159)
دو باغیوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں سو سو کوڑے لگوائے۔ جنگ کے بعد باغیوں کا گروہ بغیر اجازت بصرہ کی طرف گیا تاکہ وہاں جا کر لوٹ مار کر سکے تو حضرت علی نے اپنے مخلص ساتھیوں کو بھیجا تاکہ وہ انہیں اس سے باز رکھ سکیں۔ اہل بصرہ نے آپ کی بیعت کر لی۔ اس کے بعد حضرت علی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کو نہایت ہی اعزاز اور تکریم کے مکہ روانہ کر دیا اور ان کی سواری اور زاد راہ کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر دونوں نے ایک دوسرے کے بارے میں نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ سیدہ نے فرمایا:
میرے بیٹو! ہم جلد بازی میں ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو گئے۔ آئندہ ہمارے ان اختلافات کے باعث کوئی شخص دوسرے پر زیادتی نہ کرے۔ واللہ! میرا اور علی کا پہلے سے اختلاف تھا لیکن یہ اسی قسم کا معاملہ تھا جیسا کہ ساس اور داماد میں ہو ہی جاتا ہے۔ فی الحقیقت علی، میرے نزدیک نیک آدمی ہیں۔
پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اے لوگو! واللہ! ام المومنین نے سچ فرمایا اور احسن بات کی ہے۔ میرا اور ان کا اختلاف اسی نوعیت کا تھا۔ عائشہ، دنیا اور آخرت میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں۔”( ایضاً ۔ 3/2-163)
اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کئی میل تک سیدہ کو رخصت کرنے کے لیے آئے اور اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ وہ آپ کو کم از کم ایک دن کی مسافت تک چھوڑنے جائیں۔
جنگ جمل کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے گورنر مقرر کرنے شروع کیے۔ آپ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا تو اشتر شدید غصے ہوا اور کہنے لگا:
"کیا اسی لیے ہم نے اس بڈھے (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ) کو قتل کیا تھا کہ یمن عبیداللہ بن عباس کو ملے، حجاز قثم بن عباس کو ، بصرہ عبداللہ بن عباس کو اور کوفہ علی خود لے لیں؟”( ایضاً ۔ 3/2-107)
یہ کہہ کر وہ لشکر چھوڑ کر چل پڑا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے کوچ کا حکم دیا اور اس کے سر پر پہنچ گئے اور اسے ظاہر کیا کہ جیسے آپ تک اس کی بات نہیں پہنچی۔ آپ کو خدشہ تھا کہ وہ کہیں کوئی نئی بغاوت نہ کھڑی کر دے۔ اشتر کی جھنجھلاہٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کس طریقے سے آہستہ آہستہ ان باغیوں کی جڑیں کھوکھلی کر رہے تھے۔ آپ کی حکمت عملی یہی تھی کہ سانپ کو اچھی طرح بل سے نکال لیا جائے اور پھر اس کا سر کچل دیا جائے۔ باغی تحریک کے پورے آئس برگ کو ظاہر کر کے ختم کرنا آپ کی حکمت تھی۔
جنگ جمل کے نتائج کیا نکلے؟
ہمارے ہاں لوگ جنگ جمل پر بڑا افسوس کرتے ہیں کہ اس میں مسلمانوں کے ہاتھوں ایک دوسرے کا خون بہا۔ در حقیقت یہ ایک ناقابل تلافی نقصان تھا لیکن اس کا ایک روشن پہلو بھی تھا۔ جنگ جمل میں جہاں دس ہزار کے قریب مسلمان دونوں لشکروں میں سے شہید ہوئے، وہاں باغیوں کی ایک بڑی تعداد بھی ہلاک ہوئی۔ اس طرح ان مخلص حضرات نے اپنی جان کی قربانی دے کر باغیوں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ جنگ جمل کے بعد جب باغیوں کی طاقت کمزور پڑی تو سانپ پوری طرح بل سے نکل آیا اور اس کے پھن کو پھر مسلمانوں نے اچھی طرح جنگ صفین میں کچلا۔ اس کے بعد یہ باغی خود گروہوں میں تقسیم ہو گئے اور ان کا مشن مکمل نہ ہو سکا۔ اگر اس وقت حضرت عائشہ، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم اسٹینڈ نہ لیتے تو ان باغیوں کا مشن مکمل ہو جاتا۔ پھر شاید آج انہی باغیوں کے ہمنوا مسلمانوں پر حکومت کر رہے ہوتے اور اصل مخلص مسلمان شاید اقلیت میں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان باغیوں نے ان حضرات کو تنقید کا خاص نشانہ بنایا۔ کبھی کہا کہ حضرت طلحہ اور زبیر اپنی خلافت قائم کرنا چاہتے تھے، کبھی سیدہ عائشہ پر کیچڑ اچھالا اور کبھی حضرت علی کو ہدف تنقید بنایا۔
جنگ جمل کا ایک منفی نتیجہ یہ نکلا کہ باغیوں کے جن لوگوں کے اعزہ و اقربا اس جنگ میں مارے گئے تھے، انہوں نے حضرت علی، طلحہ، زبیر اور عائشہ رضی اللہ عنہم کے خلاف محاذ بنا لیا۔ واقعات اور روایتیں گھڑ گھڑ کر ان حضرات پر طعنہ زنی کی گئی۔ طبری نے بعض ایسے اشعار درج کیے ہیں جو جنگ جمل کے مقتولین کے اعزہ نے حضرت علی کی ہجو میں کہے ہیں۔ ( ایضاً ۔ 3/2-164)۔ جنگ کے تقریباً ڈیڑھ سو برس بعد جب واقدی، سیف بن عمر، ابو مخنف اور کلبی وغیرہ نے جھوٹی سچی روایتیں اکٹھا کیں تو اس میں یہ افسانے بھی شامل کر دیے۔ تیسری صدی میں جب طبری اور بلاذری وغیرہ نے اپنی تواریخ لکھی تو یہ افسانے انہوں نے بھی درج کر دیے اور بعد کی صدیوں کے مورخین نے طبری ہی سے نقل کر کر کے ان واقعات کو بلا تحقیق مشہور کر دیا۔ مناسب ہو گا کہ ایسی چند روایتوں کی تحقیق کر دی جائے تاکہ باغیوں کی اس سازش کا پردہ بھی چاک ہو سکے۔
کیا حوأب کی روایت قابل اعتماد ہے؟
طبری نے ایک روایت نقل کی ہے جس کے مطابق جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے لشکر کے ساتھ مکہ سے بصرہ جا رہی تھیں تو راستے میں ایک مقام حوأب آیا جہاں کتے بھونکے۔ جب سیدہ کو علم ہوا تو آپ نے فرمایا:
"مجھے واپس لوٹاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ازواج مطہرات سے یہ فرماتے سنا ہے کہ نجانے تم میں سے وہ کون ہو گی، جس پر حوأب کے کتے بھونکیں گے۔”( ایضاً ۔ 3/2-74)
اس روایت کا مقصد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اقدام کو غلط ثابت کرنا تھا اور اس کے گھڑنے والے وہ لوگ ہیں جو باغیوں ہی کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس روایت کی دو اسناد طبری نے بیان کی ہیں، وہ یہ ہیں:
1۔ حدثني إسماعيل بن موسى الفزاري، قال: أخبرنا علي بن عابس الأزرق، قال: حدثنا أبو الخطاب الهجري، عن صفوان بن قبيضة الأحمسي، قال: حدثني العرني صاحب الجمل.
2۔ حدثني أحمد بن زهير، قال: حدثناأبي، قال: حدثني وهب بن جرير بن حازم، قال: سمعت يونس بن يزيد الأيلي، عن الزهري.
اب آئیے، ان دونوں اسناد کا تجزیہ کرتے ہیں:
1۔ پہلی سند میں پہلا شخص اسماعیل بن موسی الفزاری (d. 245/859)ہے جو کوفہ کا رہنے والا ایک غالی راوی ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالیاں دیا کرتا تھا۔ دوسرا شخص علی بن عابس ہے جسے امام نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے۔ تیسرا اور چوتھا راوی ابو الخطاب ہجری اور صفوان بن قبیضہ کے حالات نامعلوم ہیں۔ پانچواں راوی قبیلہ بنو عرینہ کا وہ شخص ہے جس سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے اونٹ خریدا گیا تھا۔ اس شخص کا نام بھی معلوم نہیں ہے کجا اس کے حالات سے یہ علم ہو سکے کہ یہ کون تھا اور کس درجے میں قابل اعتماد تھا۔ اس تفصیل کے بعد اس سند کے بارے میں بآسانی کہا جا سکتا ہے کہ یہ صحیح حدیث نہیں ہے بلکہ ایک گھڑی ہوئی روایت ہے ۔
2۔ دوسری سند میں آخری راوی زہری (58-124/677-741)ہیں جو جنگ جمل کے 22 سال بعد پیدا ہوئے ۔ معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ روایت کس سے سنی تھی اور وہ کس درجے میں قابل اعتماد تھا؟ ان سے اس روایت کو یونس بن یزید ایلی روایت کر رہے ہیں جو قابل اعتماد راوی نہیں ہیں۔
اس تفصیل کے بعد اس سند کے بارے میں بآسانی کہا جا سکتا ہے کہ یہ صحیح حدیث نہیں ہے بلکہ ایک گھڑی ہوئی روایت ہے جو کسی ایسے راوی کی ایجاد ہے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بغض رکھتا تھا۔
کیا حضرت طلحہ و زبیر کا مقصد اپنی خلافت قائم کرنا تھا؟
چونکہ حضرت طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما نے باغیوں کی طاقت پر کاری ضرب لگائی، اس وجہ سے باغیوں کو ان سے خاص بغض تھا۔ انہوں نے ایسی روایتیں گھڑنے کر پھیلائیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حضرات اپنی خلافت قائم کرنا چاہتے تھے۔ ان روایات کا جھوٹ ان حقائق سے ظاہر ہو جاتا ہے:
1۔ اگر حضرت طلحہ و زبیر کو خلافت کا لالچ ہوتا تو وہ اس وقت خلافت سے دستبردار کیوں ہوتے جب حضرت عمر نے انہیں شوری کا ممبر بنایا تھا۔ اس وقت انہوں نے خلافت سے دستبردار ہو کر اپنا ووٹ حضرت عثمان کے حق میں دے دیا تھا۔
2۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد بھی اگر حضرت طلحہ یا زبیر میں سے کوئی خلیفہ بننا چاہتا تھا، تو اس کا بہترین موقع وہ تھا جب ابھی حضرت علی رضی اللہ عنہم کی بیعت نہیں ہوئی تھی۔ اس موقع پر خود حضرت علی خلافت قبول نہیں کر رہے تھے۔ اگر حضرت طلحہ یا زبیر کو اس کا لالچ ہوتا تو وہ خلافت کو قبول کر لیتے۔ ایک یا دو ماہ بعد ایسی کیا قیامت آ گئی تھی کہ انہوں نے حضرت علی کو معزول کر کے خود خلیفہ بننا چاہا؟
3۔ متعدد روایات میں یہ بات آئی ہے کہ جب حضرت طلحہ یا زبیر کو خلافت کی پیشکش کی گئی تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم علی کی بیعت سے نکلنا نہیں چاہتے ہیں بلکہ صرف عثمان کے قاتلوں کو سزا دلوانا چاہتے ہیں۔
3۔ حضرت معاویہ نے حضرت زبیر کو یہ پیغام بھیجا تھا کہ اگر وہ شام آ جائیں تو وہ ان کی بیعت خلافت کے لیے تیار ہیں لیکن حضرت زبیر نے اسے قبول نہیں کیا۔( بلاذری۔ 3/53)۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت زبیر کے دل میں کوئی لالچ نہ تھا اور وہ حضرت علی کے ساتھ مخلص تھے۔ رضی اللہ عنہم
حضرت طلحہ کا قاتل کون تھا؟
بعض تاریخی روایات میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو مروان بن حکم نے شہید کیا۔ ان روایات کا مقصد سوائے مروان کو بدنام کرنے کے اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ مروان کی شخصیت کو خاص طور پر تعصب اور کردار کشی کا نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ بنو امیہ کی حکومت دراصل بنو مروان ہی کی حکومت تھی جسے عباسی اور علوی گرانا چاہتے تھے۔ کے بارے میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے کزن تھے اور ان کے پرجوش حامی تھے۔ ایک موقع پر حضرت عثمان کی حفاظت کرتے ہوئے باغیوں کے ہاتھوں زخمی ہو چکے تھے۔ حضرت طلحہ، انہی حضرت عثمان کے قصاص کا مطالبہ لے کر اٹھے تھے اور مروان ان کے لشکر میں شامل تھے۔ اس وجہ سے مروان کے ان کو قتل کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
اگر یہ کہا جائے کہ ان کے خیال میں حضرت طلحہ ، حضرت عثمان کے خلاف باغیوں کو اکسانے والے تھے تو یہ بات بھی بالکل غلط تھی۔ باغیوں نے یہ کوشش البتہ ضرور کی تھی کہ اکابر صحابہ کو بدنام کرنے کے لیے قتل عثمان کی تہمت ان پر لگائی جائے لیکن مروان آخر دم تک حضرت عثمان کی حفاظت کرتے رہے تھے اور حالات سے بخوبی آگاہ تھے۔ دوسرے یہ کہ اگر وہ معاذ اللہ حضرت طلحہ ہی کو ذمہ دار سمجھ کر انہیں مارنا چاہتے تھے تو اس وقت سے پہلے بھی بہت سے مواقع انہیں مل سکے تھے۔ وہ مکہ سے لے کر بصرہ تک آئے تھے اور درمیان میں باغیوں سے کئی جھڑپیں ہوئی تھیں۔ اگر مروان انہیں شہید کرنا چاہتے تو پہلے بھی کر سکتے تھے۔
درست بات یہی ہے کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو باغیوں نے شہید کیا۔ گھمسان کی جنگ میں ایک تیر ان کے پاؤں پر لگا اور خون بہہ جانے کی وجہ سے وہ شہید ہوئے۔ جنگ میں جب ہزاروں تیر برس رہے ہوں تو اس بات کا تعین ممکن نہیں ہوتا کہ کس کا تیر کسے لگا ہے؟ مروان سے تعصب رکھنے والے کسی راوی نے ان پر الزام عائد کر دیا ہے۔ بلاذری نے اس الزام کی جو اسناد بیان کی ہیں، وہ یہ ہیں:
1۔ حدثنا عبد الله بن محمد بن أبي شيبة، حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن حازم.
2۔ حدثني عمرو بن محمد الناقد وأحمد بن إبراهيم الدورقي، قالا: حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل، عن قيس.
یہ دونوں روایتیں بنیادی طور پر ایک ہی روایت ہے جس کے راوی قیس بن حازم کوفی ہیں۔ ان صاحب کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ان کی بیان کردہ روایتیں ’’منکر‘‘ کے درجے پر ہوتی تھیں ۔ یہ حضرت علی کے بارے میں کچھ تعصب رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کوفہ کے اہل علم ان کی روایتوں سے اجتناب کرتے تھے۔ ( ذہبی، سیر الاعلام النبلا، شخصیت نمبر 4609)

Advertisements

One response to this post.

  1. جزاک اللہ

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s