قصہ ہاروت و ماروت اور ہماری سوسائٹی میں جادو

ترجمہ
اور (وہ یہودی )ان (خرافات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہد سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے، اور سلیمان نے ہرگز کفر کی بات نہیں کی بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور اس علم کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اترا تھا۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو آزمائش ( کاذریعہ)ہیں چنانچہ تم نافرمانی میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے ایسا (علم ) سیکھتے جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیج ڈالا وہ بری تھی ، کاش وہ (اس بات کو) جانتے۔اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو خدا کے ہاں سے بہت اچھا صلہ ملتا اے کاش وہ اس سے واقف ہوتے” (سورہ البقرہ ۲: آیات ۱۰۳-۱۰۲)۔
تفصیل و وضاحت
اس آیت میں یہود کے مکروہ کردار کو واضح کیا گیا ہے۔ یہود پر جب اخلاقی اور مادی انحطاط کا دور آیا تو انہوں نے تورات اور اس کے احکام کو پس پشت ڈال دیا اور جادو ٹونے، طلسمات، عملیات اور تعویذ گنڈوں کے پیچھے پڑ گئے اور ایسی تدبیریں ڈھونڈھنے لگے جن سے مشقت اور جدوجہد کے بغیر محض پھونکوں اور منتروں سے سارے کام بن جایا کریں۔ چنانچہ وہ جادو وغیرہ سیکھنے سکھانے میں مشغول ہو گئے۔ یہ سیدنا سلیمان علیہ السلام کے عہد حکومت کی بات ہے۔ انہیں جب یہود کے اس رجحان کا علم ہوا تو انہوں نے ایسے ساحروں سے ان کی سب کتابیں چھین کر داخل دفتر کر دیں۔
یہود کا سیدنا سلیمان علیہ السلام پر جادو کا الزام:۔ اب سلیمان علیہ السلام کو جو معجزات عطا ہوئے تھے وہ حکمت الہی کے مطابق ایسے عطا ہوئے جو جادو اور جادوگروں کی دسترس سے باہر تھے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے تمام سرکش جنوں کو آپ کے لیے مسخر کر دیا تھا اور سلیمان علیہ السلام ان جنوں سے سخت مشقت کا کام لیتے تھے۔ ہوائیں آپ کے لیے مسخر تھیں جو آن کی آن میں آپ کا تخت مہینوں کی مسافت پر پہنچا دیتی تھیں۔ پرندے بھی آپ کے مسخر تھے اور آپ ان سے بھی کام لیتے تھے۔ آپ پرندوں کی بولی سمجھتے تھے اور پرندے بھی آپ کی بات سمجھ جاتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ جب سلیمان فوت ہوئے تو ان شیطان یہودیوں نے کہا کہ سیدنا سلیمان (علیہ السلام) تو یہ سب کچھ جادو کے زور پر کرتے تھے اور اس کی دلیل یہ پیش کی کہ سلیمان(علیہ السلام) کے دفتر میں جادو کی بے شمار کتابیں موجود ہیں۔گویا جو کام سلیمان علیہ السلام نے اس فتنہ کے سدباب کےلئے کیا تھا۔ ان یہودیوں نے اسی فتنہ کو ان کی سلطنت کی بنیاد قرار دے کر ان پر ایک مکروہ الزام عائد کر دیا اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اسی الزام کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کفر کا کام سلیمان نے نہیں کیا تھا بلکہ ان شیطان لوگوں نے کیا تھا جو جادو سیکھتے سکھاتے تھے۔
ہاروت اور ماروت کا قصہ اور جادو سیکھنے والوں کاہجوم:۔ سلیمان علیہ السلام کے جادو کو روکنے کے لیے اس اقدام کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہود کی ایک دوسرے طریقہ سے آزمائش فرمائی اور وہ یہ تھی کہ بابل شہر میں (جہاں آج کل کوفہ ہے) دو فرشتوں ہاروت اور ماروت کو پیروں، فقیروں کے بھیس میں نازل فرمایا اور اس آزمائش سے مقصد یہ تھا کہ آیا ابھی تک یہود کے اذہان سے جادو اور ٹونے ٹوٹکے کی عقیدت اور محبت زائل ہوئی ہے یا نہیں۔ جب یہودیوں کو ان پیروں اور فقیروں کی بابل میں آمد کا علم ہوا تو فوراً ان کی طرف رجوع کرنے لگے۔ ان فرشتوں کو یہ حکم دیا گیا کہ اگر تمہارے پاس کوئی شخص یہ ٹونے ٹوٹکے سیکھنے آئے تو پہلے اس کو اچھی طرح خبردار کر دینا کہ یہ ایک غلط کام ہے اور ہم محض تمہارے امتحان کے لیے آئے ہیں۔ لہذا تم اس کا ارتکاب مت کرو۔ پھر بھی اگر کوئی سیکھنے پر اصرار کرے تو اسے سکھادینا۔ چنانچہ جو لوگ بھی ان کے پاس جادو سیکھنے آتے ، فرشتے اسے پوری طرح متنبہ کر دیتے، لیکن وہ اس کفر کے کام سے باز نہ آتے اور سیکھنے پر اصرار کرتے اور ایسے ٹونے ٹوٹکے سیکھنے والوں کے ان فرشتوں کے ہاں ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگے رہتے تھے۔
میاں بیوی میں جدائی ڈالنا: طرفہ تماشہ یہ کہ ان سیکھنے والوں میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو ایسا عمل سیکھنا چاہتے تھے۔ جس سے میاں بیوی کے درمیان جدائی ہو جائے اور پھر وہ بیوی اس سیکھنے والے پر عاشق ہو جائے اور میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دینا ہی سوسائٹی کا سب سے بڑا مفسدہ ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ ابلیس سمندر میں اپنے تخت پر بیٹھا رہتا ہے اور اپنے چیلوں اور چانٹوں کو ملک میں فساد پیدا کرنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے روزانہ بھیجتا رہتا ہے۔ شام کو یہ سب اکٹھے ہو کر ابلیس کے حضور اپنے اپنے کارنامے بیان کرتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ میں نے فلاں فتنہ کھڑا کیا اور کوئی کہتا ہے کہ میں نے فلاں شر بپا کیا مگر ابلیس انہیں کچھ اہمیت نہیں دیتا اور کہتا ہے کہ تونے کچھ نہیں کیا، پھر ایک اور چیلا آ کر کہتا ہے کہ میں فلاں میاں بیوی میں جدائی ڈال کے آیا ہوں تو ابلیس خوش ہو کر اسے شاباش دیتا اور گلے لگا لیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تھا کرنے کا کام جو اس نے سر انجام دیا ہے۔ ” (مسلم، کتاب صفۃ المنافقین، باب تحریش الشیطان و بعثۃ سرایاہ لفتنۃ الناس۔۔۔ الخ) اس حدیث کے مضمون پر غور کرنے سے یہ بات خوب سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اس دور میں یہود میں اخلاقی انحطاط کس نچلے درجہ تک پہنچ چکا تھا کہ وہ میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالنے کا عمل ہی نہیں سیکھتے تھے۔( جس سے ان کی ذات کو کچھ فائدہ نہ تھا) بلکہ اس کے آگے ایسا عمل اور جنتر منتر بھی سیکھتے تھے۔ جس سے وہ جدا شدہ بیوی اس منتر کروانے والے پر عاشق ہو جائے۔
مرکزی خیال
دنیا کے علوم اللہ کی جانب سے آزمائش ہیں اور اگر ان علوم کو جائز حدود میں استعمال نہ کیا جائے تو یہ معصیت اور کفر تک لے جاتی ہیں۔
اخلاقی و تذکیر ی پہلو
۱۔پیغمبروں پر الزام
جب کوئی قوم زوال پذیر ہوتی ہے تو وہ اپنے پیغمبروں پر الزام لگانے سے بھی نہیں چوکتی جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام پر یہود نے الزام لگایا کہ وہ نعوذباللہ جادوگر تھے۔
۲۔جانتے بوجھتے گناہ کا ارتکاب
حسد اور مادہ پرستی انسان کو اس حد تک گرادیتی ہے کہ وہ گناہ کو گناہ جانتے ہوئے بھی اس کا ارتکاب کربیٹھتا ہے۔ ہاروت اور ماروت علم سیکھنے والوں کو بتادیتے تھے کہ اس علم کے ذریعے ناجائز مقاصد کا حصول کفر ہے۔ لیکن لوگ اس تنبیہ کے باوجود معصیت کا ارتکاب کربیٹھتے تھے۔جیسے آج کل لوگ جانتے ہیں کہ جھوٹ بولنا یا غیبت کرنا گناہ کبیرہ اور آخرت میں ناکامی کے اسباب ہیں لیکن پھر بھی اس سے باز نہیں آتے۔
۳۔مادہ پرستی کا جہنم
مادیت کی آگ انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں جلانے کا سبب ہے۔ جیسا کہ اس قصے میں لوگ اچھے بھلے شادی شدہ جوڑے میں اختلافات پیدا کرکے ان میں جدائی کے درپے تھے۔ اس کا مقصد یا تو حسد اور انتقام تھا یا پھر جدائی پیدا کرکے کسی کی بیوی کو اپنانا تھا۔ یہ صورت حال آج کل بھی بہت عام ہے۔ لوگ جادو ٹونے کے ذریعے ہنستے بستے خاندانوں میں جھگڑا اور فساد برپا کرنا چاہتے ہیں۔
۴۔جادو اور ہمارا معاشرہ
یہ قصہ ہمارے معاشرے پر بھی پوری طرح روشنی ڈالتا ہے۔ ہماری سوسائٹی آج کے سائنسی دور میں بھی توہمات کا شکار ہے۔ان توہمات کی بنا پر لوگ مادی اسباب کو چھوڑ کر تعویذ و عملیات کے پیچھے لگ جاتے ہیں چنانچہ بے روزگاری، بیماری ،نفسیاتی عوارض اور دیگر مصائب دور کرنے کے لئے ٹھوس اقدام اٹھانے کی بجائے عاملوں کے چکر لگائے جاتے ہیں۔ ان توہمات ہی کی بدولت جعلی پیر فقیر اور عاملوں کا کاروبار عروج پر ہے اور یہ سادہ لوح عوام کو دونوں ہاتھو ں سے لوٹ رہے ہیں اور عورتوں کو بے وقوف بنا کر ان کی عزتیں تک لوٹ رہےہیں۔ اس وہمی نفسیات کا شاخسانہ یہ بھی ہے کہ کالا اور شیطانی علم عروج پر ہے چنانچہ قبرستانوں سے مردے چوری کرنا ، لاشوں کی بے حرمتی اور دیگر شیطانی وارداتیں عام ہوگئی ہیں۔اس منفی سوچ کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ اخلاقی طور پر عوام دیوالیہ پن کا شکار ہورہی ہے۔ لہٰذاایک طرف جانی نقصان پہنچانے کے لئےکسی کو بیما ر کرنے کا عمل کیا جاتا، نفسیات میں خلل پیدا کیا جاتا اور یہاں تک کہ جان تک لینے کا اقدام کیا جاتا ہے۔دوسری جانب خاندانی فساد برپا کرائے جاتے،بھائی کو بھائی سے لڑوانے کی سازش کی جاتی اور بدگمانی پیدا کرکے ہنستے بستے رشتوں کو منقطع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اسی طرح اس قبیح عمل سے روزگار و کاروبار کی بندش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ عامل اور جادو کرانے والے عوام شاید نہیں جانتے کہ وہ اللہ کے اذن کے بنا کسی کو نقصان نہیں پہچاسکتے نیز اگر وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوبھی گئے تو اس قبیح فعل کا انجام آخرت کی ابدی ناکامی ہے۔
۵۔جادو اور روحانی علاج میں فرق
جادو اس لئے حرام ہے کہ اس میں شیاطین سے مدد لی جاتی اور خلاف شرع کام کئے جاتے ہیں ۔ دوسری جانب روحانی علم بھی موجود ہے جس میں عامل قرآن وغیرہ کے ذریعے علاج کرتے ہیں۔ اس قسم کے دم کرنے کے اشارات اسوہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی ملتے ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ چند صحابی کسی گاؤں میں گئے اور انہوں نے وہاں کے سردار کا علاج( جسے بچھو نے کاٹا تھا )سورہ فاتحہ دم کرکے کیا اور اس کا معاوضہ بھی لیا(صححہ بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2183 )۔
اسی طرح ایک اور حدیث میں مسدد، عبدالوارث، عبدالعزیز سے روایت کرتے ہںا انہوں نے بادن کا کہ مںو اور ثابت، انس بن مالک کے پاس گئے تو ثابت نے کہا کہ اے ابوحمزہ! مںا بماتر ہوگاس ہوں تو انس نے کہا کہ کاھ مںل تم پر رسول اللہ صلی اللہ علہے کا دم پڑھ دوں انہوں نے کہا کہ ہاں۔ انس نے پڑھا اے اللہ! لوگوں کے معبود، سختی دور کرنے والے شفاء دے تو ہی شفا دینے والا ہے اییگ شفا دے جو بماہری کو نہ چھوڑے۔( صحح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 712 )
روحانی علم اگر درج ذیل شرائط پر پورا اترے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
الف۔ کلام میں شرک کی کوئی آمیزش یا کلمہ شامل نہیں ہو ۔
ب۔ کوئی شریعت کے خلاف کام نہ ہو۔
ج۔ اس کے مقاصد نیک ہوں۔
تحریر و ترتیب : پروفیسر محمد عقیل
نوٹ: اس تحریر میں ترجمہ و تفسیر مولانا عبدالرحمٰن کیلانی کی تفسیر "تیسیر القرآن” سے کاپی کیا گیا ہے۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s