جنگ صفین ۔حضرت علی و حضرت معاویہ میں جنگ کی حقیقت


تحریر: محمد مبشر نذیر
جنگ جمل کے بعد دوسری بڑی جنگ صفین کے مقام پر ہوئی۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ جنگ حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کی افواج کے درمیان لڑی گئی لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ حضرت علی کی فوج کا بڑا حصہ اب باغی تحریک کے کارکنوں پر مشتمل تھا اور انہوں نے اپنی پوری قوت میدان میں جھونک دی تھی۔ ان کے عزائم کی راہ میں حضرت معاویہ آخری چٹان بن کر کھڑے تھے۔ باغی ان کی قوت کا خاتمہ کر کے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے شام پر لشکر کشی کر دی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان باغیوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ساتھ تشریف لے گئے اور انہیں جنگ سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ تاہم جنگ ہو کر رہی اور اس جنگ میں باغیوں کی قوت کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا۔
جنگ صفین کی روایتیں کس حد تک قابل اعتماد ہیں؟
اگر طبری اور بلاذری میں جنگ صفین سے متعلق روایتوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کی سب ابو مخنف کی روایت کردہ ہیں جو صحابہ کرام سے خاص بغض رکھتے تھے۔ یہ وہ صاحب تھے جنہوں نے جنگ صفین پر پہلی کتاب لکھی۔ ان کے پڑدادا مخنف بن سلیم ازدی اس جنگ میں شریک تھے۔ ابو مخنف اور ان کی قبیل کے دیگر مورخین کی کوشش یہ رہی ہے کہ ان روایتوں میں صحابہ کرام کی ایسی تصویر پیش کی جائے کہ یہ ایک دوسرے کے مخالف تھے۔ اسی طرح حضرت علی، عمار بن یاسر اور عدی بن حاتم رضی اللہ عنہم کی ایسی تصویر پیش کی جائے، جس سے یہ معلوم ہو کہ یہ حضرات باغیوں کے لیے دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے اور دیگر مخلص صحابہ کے لیے اپنے دل میں بغض رکھتے تھے۔ ایسے تمام جملے ابو مخنف کی ایجاد ہیں اور ان سے ہٹ کر کسی بھی قابل اعتماد راوی نے ایسی کوئی بات روایت نہیں کی ہے۔
چونکہ جنگ صفین سے متعلق تمام روایتیں ابو مخنف ہی کے توسط سے ہم تک پہنچی ہیں، اس وجہ سے صحیح صورتحال کا اندازہ لگانا ہمارے لیے ناممکن ہے۔ پھر بھی ہم کوشش کرتے ہیں کہ درایت کے اصولوں کے تحت بعض سوالات کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
جنگ جمل اور صفین کے درمیانی عرصے میں کیا اہم واقعات پیش آئے؟
جنگ جمل سے فارغ ہونے کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ملکی انتظام پر توجہ دی۔ اب آپ نے کوفہ میں قیام فرمایا۔ اب آپ کی خلافت کو بالعموم تسلیم کر لیا گیا اور لوگوں نے آپ کی بیعت کرنا شروع کر دی۔ صرف ایک شام کا صوبہ ایسا تھا جس نے حضرت علی کی بیعت نہیں کی تھی۔ صحابہ کرام کا ایک گروہ، جس میں حضرت سعد بن ابی وقاص، محمد بن مسلمہ، عبداللہ بن عمر اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم جیسے لوگ تھے، غیر جانبدار ہو کر مدینہ میں مقیم تھا۔ حضرت علی نے حضرت معاویہ کے ساتھ خط و کتابت شروع کی اور اتحاد کی کوششیں شروع کیں لیکن باغیوں نے ایسی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ ان حضرات کے درمیان بعض سفراء کا بھی تبادلہ ہوا۔ ایسے ہر موقع پر باغیوں نے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی۔ حضرت علی سے جو مخلص مسلمان آ کر ملتے، یہ انہیں بھی بدظن کر کے دور کر دیتے۔
یہ باغی جعل سازی کے فن میں ید طولی رکھتے تھے اور اس سے پہلے بھی حضرت عثمان، علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کے نام سے جعلی خطوط لکھ کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر چکے تھے۔ اس بات کا غالب امکان موجود ہے کہ انہوں نے حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے نام سے خود یہ خطوط لکھ لیے ہوں۔ ابو مخنف اور سید شریف رضی نے ان میں سے بعض خطوط اپنی کتب میں درج کیے ہیں لیکن ان میں جو زبان استعمال ہوئی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان خطوط میں بھی بہت کچھ داخل کر دیا گیا ہے۔ ان جملوں سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ دونوں جلیل القدر صحابہ ایک دوسرے سے بدظن تھے۔ ایک طرف معاویہ ، علی کو حضرت عثمان کا قاتل سمجھتے تھے اور دوسری طرف علی، ان پر بغاوت کا الزام عائد کرتے تھے۔ یہ خطوط باغیوں کی دسیسہ کاریوں کے سوا کچھ نہیں ہیں جو انہوں نے ان دونوں صحابہ کو بدنام کرنے کے لیے کی ہیں۔ چونکہ باغی پارٹی سے تعلق رکھنے والے راوی اپنی تحریک کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نام سے چلا رہے تھے، اس وجہ سے انہوں نے خاص کر ایسی روایات وضع کرنے کی کوشش کی ہے جن کے مطابق وہ یہ ظاہر کریں کہ حضرت علی دل و جان سے انہی کے ساتھ تھے۔ جن صحابہ نے ان کی تحریک کی راہ میں روڑے اٹکائے، وہ ان کی دل کھول کر کردار کشی کرتے ہیں۔
ان خطوط کے جعلی پن کا ایک ثبوت تو یہ ہے کہ ان کی سند میں ابو مخنف، ہشام کلبی، سیف بن عمر اور واقدی جیسے راوی موجود ہیں، جنہیں محدثین نے “کذاب” کے درجے میں رکھا ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر ان حضرات میں اس درجے کی بدگمانی موجود ہوتی تو پھر حضرت علی، مختلف شہروں کو بھیجے گئے اپنے خط میں حضرت معاویہ کی جانب سے صفائی پیش کیوں کرتے؛ حضرت معاویہ، حضرت علی کی شہادت کی خبر سن کر کیوں روتے اور ان کے لیے دعا کیوں کرتے اور حضرت حسن، معاویہ سے صلح کر کے اقتدار ان کے سپرد کیوں کرتے؟ رضی اللہ عنہم۔ یہ سب تفصیلات آگے آ رہی ہیں۔
حضرت علی نے اپنا دار الحکومت کوفہ کیوں منتقل کیا؟
یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مدینہ سے نکلنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مجبوری تھی۔ لیکن جنگ جمل کے بعد انہوں نے واپس مدینہ کا رخ کیوں نہیں کیا اور کوفہ کو اپنا دار الحکومت کیوں بنا لیا؟ ہمیں اس سوال کے جواب میں یہ امور سمجھ میں آتے ہیں:
1۔ کوفہ چونکہ ایک بہت بڑی چھاؤنی تھا اور مشرق کے تمام ممالک کے معاملات کوفہ ہی سے کنٹرول ہوتے تھے، اس وجہ سے ضرورت اس امر کی تھی کہ اسے کنٹرول میں لایا جائے۔
2۔ باغی تحریک کا مرکز بھی اب کوفہ ہی بن چکا تھا، اس وجہ سے ان پر نظر رکھنے کے لیے کوفہ میں موجودگی ضروری تھی۔
3۔ مدینہ منورہ عالم اسلام کے وسط میں تھا اور فوجی چھاؤنیوں سے دور علاقہ تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے تجربے سے یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ دار الحکومت ایسے مقام پر ہونا چاہیے جہاں فوج کی بڑی تعداد موجود ہو۔
باغیوں کے نقطہ نظر سے صوبہ شام کی اہمیت کیا تھی؟
شام کے صوبے پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت تھی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آخری دور میں شام کا صوبہ شمال مشرق میں دریائے فرات سے لے کر مغرب میں دریائے نیل تک پھیلا ہواتھا۔ موجودہ شام، لبنان، فلسطین اور اردن کے پورے پورے ممالک صوبہ شام کا حصہ تھے جبکہ عراق اور ترکی کے بعض حصے بھی اسی صوبے میں شامل تھے۔ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ شام ایک غیر معمولی صوبہ تھا کیونکہ اس کی سرحدیں رومن ایمپائر کے ساتھ لگتی تھیں جس کا سربراہ قیصر روم تھا۔ قیصر کی کوشش تھی کہ کسی طرح اپنے مقبوضات واپس لے لے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ شام پر کسی غیر معمولی صلاحیتوں والے گورنر کو مقرر کیا جاتا ۔ چنانچہ حضرت عمر نے ایسا ہی کیا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کو 20/642 میں یہاں کا گورنر مقرر کیا۔ آپ نے اپنے حسن انتظام سے حضرت عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کو متاثر کیا اور مزید علاقے آپ کے صوبے میں شامل کر دیے گئے۔
جب عبداللہ بن سبا نے مختلف شہروں میں اپنی باغی تحریک کو منظم کرنا شروع کیا تو وہ شام بھی آیا مگر حضرت معاویہ کی بیدار مغزی سے اسے ناکامی ہوئی۔ اس کے بعد ان باغیوں کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ دوسری مرتبہ سامنا اس وقت ہوا جب مالک الاشتر اور اس کے ساتھیوں نے کوفہ میں بلوہ کیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حکم سے انہیں حضرت معاویہ کے پاس بھیجا گیا جہاں آپ نے نہایت نرمی سے ان کی اصلاح کی کوشش کی۔ اس واقعے کی تفصیل آپ پڑھ چکے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ مالک الاشتر اور اس کے ساتھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طاقت سے خاصے مرعوب ہوئے۔ روایتوں میں آتا ہے کہ جب باغی صعصعہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی داڑھی پکڑ کر کھینچی تو آپ نے فرمایا: “ٹھہر جاؤ! اگر اہل شام کو علم ہو جائے کہ تم نے ان کے حاکم کے ساتھ یہ کیا ہے، تو میں انہیں تمہیں قتل کرنے سے نہیں روک سکوں گا۔”( ایضاً ۔ 3/1-368) اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اہل شام حضرت معاویہ سے کتنی محبت کرتے تھے۔
عراق اور مصر کی نسبت شام میں باغیوں کو ذرا سی بھی پذیرائی نہ ملی اور یہاں وہ اپنی شاخ قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہو گئے کیونکہ شام میں حضرت معاویہ کی حکومت مستحکم تھی۔ ان وجوہات کی بنیاد پر باغی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنے منصوبے کی تکمیل میں سب سے بڑی سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بنتے ہی ان باغیوں نے شام پر حملے کا منصوبہ بنایا اور حضرت علی کا نام لے کر اہل مدینہ کو تیار کرنے کی کوشش کی لیکن سب مسلمانوں نے سرد مہری دکھائی اور باغیوں کا یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔ جنگ جمل کے بعد انہوں نے اس رکاوٹ کو دور کرنے کا پلان بنایا۔
باغی تحریک ایک آئس برگ کی طرح تھی۔ جو لوگ اب تک سامنے آئے تھے، ان کی حیثیت آئس برگ کی اوپری سطح کی سی تھی جو نظر آتی ہے لیکن اس کا دسیوں گنا بڑا حصہ سمندر میں چھپا ہوتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ باغی تحریک کا تھا۔ اب تک اس کے جو لوگ سامنے آئے تھے، وہ اس آئس برگ کا محض اوپری حصہ تھے۔ان کی بڑی طاقت چونکہ پہلے بصرہ کی جنگ اور پھر جنگ جمل میں ختم ہو چکی تھی، اس وجہ سے انہوں نے اب آخری داؤ لگانے کا فیصلہ کر لیا۔ مالک الاشتر اور دیگر باغی لیڈروں اپنے خاموش ساتھیوں (Dormant Sections) کو حرکت میں لائے اور اب باغیوں کی پوری قوت سامنے آ گئی اور انہوں نے اہل شام پر فیصلہ کن ضرب لگانے کا فیصلہ کر لیا۔
جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ جنگ صفین کے بارے میں یہ بات غلط مشہور ہے کہ یہ حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کی افواج کے درمیان لڑی گئی۔ یہ بات انہی باغیوں کے ساتھی ابو مخنف نے مشہور کی ہے اور یہ انہی کی بیان کردہ تفصیلات ہیں جن سے طبری اور بلاذری کی تواریخ بھری پڑی ہیں۔ یہ جنگ دراصل حضرت معاویہ اور باغی تحریک کے لیڈروں کے درمیان لڑی گئی۔ حضرت علی اور آپ کے مخلص ساتھیوں کی پوری کوشش تھی کہ جنگ نہ ہو اور آپ نے مسلسل سفارت کاری کے ذریعے معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی۔
حضرت معاویہ نے حضرت علی کی بیعت کیوں نہ کی؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت معاویہ یہ بات جانتے تھے کہ قاتلین عثمان نے حضرت علی رضی اللہ عنہم کو گھیر رکھا ہے اور ان کی راہ میں آخری رکاوٹ اب حضرت معاویہ ہی ہیں۔ اگر آپ بھی بیعت کر لیتے تو اگلے دن ہی یہ باغی آپ کو معزول کروا دیتے اور پھر ان کی راہ بالکل ہی صاف ہو جاتی۔ باغیوں نے دیگر گورنروں کے ساتھ یہی کیا تھا اور ان کا مقصد یہی تھا کہ کمزور گورنر مقرر کروا کر ان کے پردے میں خود حکومت کی جائے۔ اسی خطرے کے پیش نظر حضرت معاویہ نے حضرت علی کی بیعت نہ کی۔ لیکن ان کی خلافت کا انکار بھی نہ کیا اور صرف یہی مطالبہ رکھا کہ اگر حضرت علی، ان باغیوں کو اپنے سے الگ کر دیں اور انہیں سز ادیں تو وہ ان کی بیعت کے لیے تیار ہیں۔
ابو مخنف وغیرہ نے حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین سفارت کاری کا حال لکھا ہے اور اس ضمن میں اپنی صحابہ دشمنی کے پیش نظر ایسی باتیں درج کی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان دونوں حضرات کے دل میں ایک دوسرے کے بارے میں بغض تھا۔ یہ بات خلاف حقیقت ہے۔ اگر ان کے دلوں میں بغض اور دشمنی ہوتی تو حضرت علی و معاویہ دو ماہ تک جنگ و جدال سے کیوں پرہیز کرتے؟ ایسے ہی ایک واقعے کو بیان کرتے ہوئے اس نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کچھ جملے لکھے ہیں، جن سے آپ کا اصل مقصد ظاہر ہوتا ہے:
آپ کے صاحب (حضرت علی) کا یہ خیال کہ انہوں نے عثمان کو شہید نہیں کیا، ہم اس کی تردید نہیں کرتے۔ لیکن کیا آپ لوگ قاتلین عثمان سے واقف نہیں ہیں؟ کیا آپ یہ نہیں جانتے کہ قاتلین عثمان ہی آپ کے صاحب (علی) کے ساتھی (بنے ہوئے ) ہیں؟ وہ ان قاتلین کو ہمارے حوالے کر دیں تاکہ ہم انہیں عثمان کے قصاص میں قتل کر دیں۔ اس کے بعد ہم آپ کے امیر کی اطاعت کرنے اور اتحاد جماعت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ( ایضاً ۔ 3/2-198)۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت معاویہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہما کی ذات سے کوئی مسئلہ نہ تھا بلکہ ان کا مطالبہ صرف ان باغیوں کو الگ کر کے سزا دینے کا تھا۔ دوسری طرف باغی پارٹی کا پورا آئس برگ اب ظاہر ہو چکا تھا اور یہ اب اکٹھے ہو کر کوفہ میں جمع تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ کے اس مطالبے کو کوفہ کی جامع مسجد میں پیش کیا تو کئی ہزار آدمیوں نے اٹھ کر کہا کہ ہم قاتل عثمان ہیں۔
حضرت عمرو بن عاص، حضرت معاویہ سے کیسے جا ملے؟
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مصر فتح کیا اور پھر یہاں کے گورنر رہے۔ آپ نہایت ہی اعلی پائے کے سیاستدان تھے اور دور جاہلیت میں سفارت کا منصب آپ کے سپرد تھا۔ واقدی، ہشام کلبی اور ابو مخنف وغیرہ نے اپنی روایتوں میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی خاص طور پر کردار کشی کی کوشش کی ہے کیونکہ آپ نے نہایت اعلی تدابیر کے ذریعے باغیوں کی سازشوں کو ناکام بنایا اور پھر ان کی مصری شاخ کا قلع قمع کیا۔ انہوں نے آپ پر یہ بہتان لگایا ہے کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ کو معزول کیا تھا تو آپ ان کے خلاف ہو گئے، ان کی بہن آپ کے نکاح میں تھیں، جنہیں حضرت عمرو نے طلاق دے دی اور پھر لوگوں کو خلیفہ کے خلاف بھڑکانے لگے۔ یہ بے اصل روایات ہیں اور ان کا وضع کرنے والا آپ کے خلاف دل میں بغض رکھتا ہے۔ اگر فی الواقع ایسا ہی ہوتا تو حضرت معاویہ اور حضرت عثمان کے رشتے دار انہیں کس طرح اپنا قریبی ساتھی بلکہ کمانڈر انچیف بنا لیتے؟
جب باغیوں نے مدینہ کا محاصرہ کیا تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ مدینہ سے نکل کر فلسطین چلے گئے۔ یہاں جب آپ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع ملی تو آپ نے بری طرح روئے اور اسی حالت میں دمشق چلے گئے۔ انہیں اپنے تن من کا بھی ہوش نہ تھا۔ اس سے حضرت عمرو اور عثمان رضی اللہ عنہما کی باہمی محبت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ( ایضاً ۔ 3/2-179)
واقدی وغیرہ نے ایسی جھوٹی روایتیں نقل کردی ہیں جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حضرت عمرو، دولت اور مصر کی گورنری کے لالچ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے جا ملے تھے۔ اس ضمن میں وہ ایک قصہ پیش کرتے ہیں جس میں آپ نے اپنے بیٹوں عبداللہ اور محمد سے مشورہ کیا۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما جو قدیم الاسلام اور نہایت ہی عابد و زاہد صحابی ہیں، نے اپنے والد کو مشورہ دیا کہ آپ گھر بیٹھ رہیں۔ محمد نے مشورہ دیا کہ آپ ملکی سیاست میں حصہ لیں۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ عبداللہ نے جو مشورہ دیا، وہ میری آخرت کے لیے اچھا ہے جبکہ محمد نے جو مشورہ دیا، وہ میری دنیا کے لیے اچھا ہے۔ یہ محض گھڑی ہوئی بے اصل روایت ہے جسے کی سند میں واقدی جیسے راوی موجود ہیں جنہیں محدثین نے کذاب قرار دیا ہے۔ ( ایضاً ۔ 3/2-181) ۔حقیقت یہ ہے کہ اگر حضرت عمرو رضی اللہ عنہ میدان عمل میں نہ آتے تو باغیوں کا سامنا کرنے میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو کافی مشکلات پیش آتیں کیونکہ باغی حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام استعمال کر کے لوگوں کو حضرت معاویہ کے خلاف بھڑکا رہے تھے۔ چونکہ باغیوں کے منصوبوں کو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنی بے مثال تدابیر سے خاک میں ملا دیا، اس وجہ سے ان کے راویوں نے آپ کو خاص کر نشانہ بنایا ہے۔
اکابر صحابہ کا رجحان کیا تھا؟
جو اکابر صحابہ، اس وقت موجود تھے، ان کا رجحان تین قسم کا تھا:
1۔ اکابر صحابہ کا ایک مختصر گروہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ باغیوں کی یہ کوشش رہی تھی کہ جب کوئی مخلص ساتھی حضرت علی کے ساتھ آ ملتا تو وہ اسے ہر ممکن طریقے سے بدظن کر کے علیحدہ کرنے کی کوشش کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم الاسلام صحابہ کی بہت کم تعداد تھی جو حضرت علی کے ساتھ موجود تھی۔ ان میں حضرت عمار بن یاسر، قیس بن سعد بن عبادہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم جیسے صحابہ شامل تھے۔
2۔ صحابہ کا ایک گروہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جن میں حضرت نعمان بن بشیر، عمرو بن عاص، معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہم جیسے لوگ شامل تھے۔
3۔ ایک گروہ غیر جانبدار تھا جس میں حضرت سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید، محمد بن مسلمہ، عبداللہ بن عمر، ابو موسی اشعری، اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم جیسے بزرگ صحابہ تھے۔
بدری صحابہ میں سے بہت کم تھے، جو جنگ صفین میں شریک ہوئے۔ مشہور تابعی محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں:
عبد الرزاق عن معمر عن أيوب عن ابن سيرين: جب فتنہ کی آگ بھڑکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی تعداد 10,000 تھی۔ ان میں سے صرف 40 کے علاوہ باقی جنگ کے لیے نہ نکلے۔ معمر کہتے ہیں: یعنی حضرت علی کے ساتھ نہ نکلے۔ اس وقت اہل بدر میں سے 240 سے زائد صحابہ زندہ تھے جن میں سے صرف ابو ایوب انصاری، سہل بن حنیف اور عمار بن یاسر ہی حضرت علی (رضی اللہ عنہم)کے ساتھ تھے۔ ( عبد الرزاق۔ المصنف۔ حدیث نمبر 20735۔ ص 11/357۔ بیروت: منشورات مجلس العلمی۔ http://www.waqfeya.com (ac. 18 Dec 2009))
عبد الرزاق عن معمر عن أيوب عن ابن سيرين: ابن سیرین کہتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص سے پوچھا گیا: ’’آپ جنگ کیوں نہیں کرتے کیونکہ آپ تو اہل شوری میں سے ہیں اور اس معاملے میں بقیہ سب کی نسبت زیادہ حق دار ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’میں اس وقت تک جنگ نہیں کروں گا جب تک کہ آپ لوگ مجھے ایسی تلوار نہ لا دیں جس کی دو آنکھیں، زبان اور ہونٹ ہوں اور وہ کافر اور مومن میں فرق کر سکے۔ میں نے جہاد کیا ہے اور میں جہاد کو سمجھتا ہوں۔ اگر کوئی شخص مجھ سے بہتر ہو تو میں اپنی جان کو روکنے والا نہیں ہوں۔ ( ایضاً ۔ حدیث 20736)۔
باغیوں نے اہل شام کے خلاف کیا منصوبہ بندی کی؟
اہل شام کے خلاف باغیوں کا منصوبہ اب یہ تھا:
1۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گرد گھیرا ڈال دیا جائےاور ان کے مخلص ساتھیوں کو ان سے دور کر دیا جائے تاکہ وہ آزادانہ اپنی پالیسیوں کو نافذ نہ کر سکیں۔
2۔ اپنی پوری قوت اکٹھی کر کے اہل شام پر فیصلہ کن ضرب لگائی جائے تاکہ ان کے اقتدار کو کوئی خطرہ لاحق نہ رہے۔
اس کے برعکس حضرت علی یہ چاہتے تھے کہ جیسے حضرات طلحہ و زبیر کے ساتھ سفارت کاری کے ذریعے معاملہ طے ہو گیا تھا، بالکل اسی طرح حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھی معاملہ طے کر لیا جائے چنانچہ آپ نے حضرت معاویہ کو خطوط لکھے اور انہوں نے جوابی خطوط لکھے۔ افسوس کہ ان خطوط میں غالی راویوں نے بہت کچھ ملا دیا ہے۔
جنگ جمل کے بعد باغیوں نے بھی اپنی پوری طاقت کو بل سے باہر نکال لیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گرد گھیرا ڈال دیا۔ ان کی کوشش یہ تھی کہ کسی طرح بھی آپ کو آزادانہ فیصلے نہ کرنے دیے جائیں ورنہ آپ اپنی حکمت و دانش سے ان کی تحریک کا خاتمہ کر دیں گے۔ چنانچہ ان باغیوں نے کوششیں شروع کیں کہ مخلص ساتھیوں کو کسی نہ کسی طریقے سے حضرت علی سے دور کیا جائے۔ ان کی اس کوشش کا اندازہ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے واقعے سے ہوتا ہے۔ آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہمدان کے گورنر تھے۔ جب انہیں حضرت علی کی جانب سے بیعت کی دعوت ملی تو ان کے پاس آئے اور بیعت کر لی۔ اس کے بعد ان کے درمیان یہ مکالمہ ہوا:
جریر: آپ مجھے معاویہ کے پاس قاصد بنا کر بھیجیے کیونکہ میری ان سے دوستی ہے۔ میں انہیں آپ کی اطاعت کے لیے قائل کر لوں گا۔
مالک اشتر: آپ انہیں ہرگز معاویہ کے پاس نہ بھیجیے کیونکہ میرے خیال میں یہ دل سے معاویہ کے ساتھ ہیں۔
علی: انہیں جانے دیجیے تاکہ ہمیں یہ معلوم ہو کہ یہ وہاں سے کیا خبر لاتے ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ ایک خط بھی بھیجا جس میں حضرت علی نے حضرت معاویہ کو اپنی بیعت کی دعوت دی تھی اور یہ لکھا تھا کہ مہاجرین و انصار نے ان کی بیعت کر لی ہے۔ جب جریر شام پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ اہل شام حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت پر روتے ہیں اور انہوں نے قسم کھائی ہے کہ جب تک قاتلین عثمان کو قتل نہ کریں گے، وہ اپنی بیویوں سے تعلق نہ کریں گے۔ جریر نے واپس آ کر حضرت علی کو ساری بات سنائی تو اشتر کہنے لگا:
اشتر: میں نے آپ کو پہلے ہی منع کیا تھا کہ جریر کو قاصد بنا کر نہ بھیجیں۔ میں تو پہلے ہی کہتا تھا کہ اس کے دل میں آپ کی جانب سے عداوت اور کینہ بھرا ہوا ہے۔ اس کے بھیجنے سے بہتر تھا کہ آپ مجھے قاصد بنا کر روانہ کر دیتے۔ یہ مزے سے معاویہ کے پاس رہا اور جو دروازہ اپنے لیے کھلوانا چاہا، اسے کھلوا لیا ہو گا اور جسے بند کروانا چاہا، اسے بند کروا دیا۔
جریر: اگر تم شام جاتے تو وہ تمہیں تو ضرور ہی قتل کر دیتے کیونکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ تم حضرت عثمان کے قاتلوں میں سے ہو۔
اشتر: واللہ جریر! اگر میں جاتا تو ان کے جواب کا انتظار نہ کرتا اور معاویہ پر ایسا حملہ کرتا کہ انہیں ہر فکر سے نجات دلا دیتا۔ اگر امیر المومنین (علی) میری تسلیم کریں تو میں تمہیں اور تم جیسے آدمیوں کو ایسے قید خانے میں بند کروں کہ جہاں سے اس وقت تک تم نہ نکل سکو، جب تک یہ معاملات طے نہ ہو جائیں۔
حضرت جریر رضی اللہ عنہ اس سے ناراض ہوئے اور معاملات سے الگ ہو کر قرقیسیا چلے گئے۔( ایضاً ۔ 3/2-183)۔ جریر کے ساتھ، حضرت حنظلہ اور حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ ہم ایسے شہر میں نہیں رہیں گے جس میں حضرت عثمان کو گالیاں دی جاتی ہیں۔( ابن عساکر۔ 39/510)۔ اس سے باغیوں کی اس تہمت کی بھی نفی ہوتی ہے جس کے مطابق یہ حضرت عدی بن حاتم کو اپنا ساتھی بتاتے ہیں۔ایسا ہی ایک اور واقعہ ابو مسلم خولانی کے ساتھ پیش آیا:
حضرت علی اور معاویہ کے اختلاف کے دوران ابو مسلم خولانی لوگوں کی ایک جماعت لے کر حضرت معاویہ کے پاس پہنچے تاکہ انہیں حضرت علی کی بیعت پر آمادہ کریں اور جا کر حضرت معاویہ سے کہا: “آپ علی سے اختلاف کر رہے ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں آپ علم و فضل میں ان جیسے ہیں؟” آپ نے فرمایا: “واللہ! میرا یہ خیال نہیں۔ میں جانتا ہوں کہ علی مجھ سے بہتر ہیں، افضل ہیں اور خلافت کے بھی مجھ سے زیادہ مستحق ہیں۔ لیکن کیا آپ لوگ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ عثمان کو ظلماً شہید کیا گیا ہے۔ میں ان کا چچا زاد بھائی ہوں، اس لیے مجھے ان کے خون کا قصاص لینے کا حق زیادہ ہے۔آپ جا کر علی سے کہہ دیجیے کہ قاتلین عثمان کو میرے سپرد کردیں، میں خلافت کو ان کے سپرد کر دوں گا۔ ”
یہ حضرت اب حضرت علی کے پاس آئے تو ان سے اس معاملہ پر بات کی۔ لیکن انہوں نے کسی ایک قاتل کو بھی ان کے حوالے نہ کیا (کیونکہ وہ ایسا کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے۔) جب اس بات کا علم اہل شام کو ہوا تو وہ حضرت معاویہ کے ہمراہ جنگ کے لیے تیار ہو گئے۔( ابن کثیر ۔ 11/425۔ نصر بن مزاحم۔ وقعۃ الصفین۔ 101۔ بیروت: دار الجیل)۔
باغیوں نے اب شام پر فیصلہ کن حملے کی تیاری شروع کر دی۔ حضرت معاویہ نے ہرگز حضرت علی رضی اللہ عنہما کی خلافت کو چیلنج نہیں کیا تھا اور نہ ہی ان کے مقابلے میں خود کسی خلافت کے دعوے دار تھے۔ ان کا مطالبہ صرف یہ تھا کہ ان باغیوں کو گرفتار کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے، پھر وہ بیعت کر لیں گے۔ حضرت علی کو بھی یہ مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار نہ تھے لیکن وہ اس پوزیشن میں نہ تھے کہ باغیوں کو گرفتارکر سکتے۔ اب باغی تحریک کا پورا آئس برگ ظاہر ہو چکا تھا اور یہ لوگ مخلصین کو حضرت علی کے قریب پھٹکنے نہ دے رہے تھے۔
باغیوں نے اب شام پر حملے کا منصوبہ بنایا جس کے سبب حضرت معاویہ کو بھی اپنے دفاع پر مجبور ہونا پڑا۔ مالک الاشتر اس معاملے میں پیش پیش تھا اور ادھر ادھر سے لوگوں کو اکٹھا کر رہا تھا۔ بنو فزارہ کے ایک شخص نے اشتر سے کہا: “کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم اپنے شامی بھائیوں کے قتل کے لیے جائیں جیسا کہ تم ہمیں اپنے بصری بھائیوں کے قتل کے لیے لے گئے تھے۔ واللہ ! ہم یہ ہرگز نہ کریں گے۔ ” اشتر نے سن کر کہا کہ لو اس کی خبر۔ یہ سن کر لوگ اس پر پل پڑے اور اسے لاتوں اور گھونسوں سے مار دیا۔ ( ابن ابی الحدید۔ شرح نہج البلاغۃ۔ 3/174۔ http://www.shiaonlinelibrary.com (ac 11 Aug 2012))۔
یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شام پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں فرمایا بلکہ یہ باغی لیڈر مالک الاشتر وغیرہ تھے جنہوں نے شام پر حملے کی منصوبہ بندی کی۔ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو شام پر حملہ کرنا کوئی ایسا ارجنٹ کام نہ تھا جس کے لیے باغی پارٹی کی سرکوبی کو پس پشت ڈالا جاتا۔ آپ نے اسی وجہ سے باغیوں سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قصاص نہیں لیا تھا کہ اگر ان سے اس وقت قصاص لیا گیا تو ان کے قبائل بغاوت کے لیے کھڑے ہو جائیں گے، جنہیں سنبھالنا بہت مشکل ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ اگر باغی پارٹی کے بارے میں یہ خطرہ تھا تو اہل شام کے بارے میں یہی خطرہ اس سے کہیں زیادہ موجود تھا۔ اگر باغیوں پر حملہ کرنے سے ان کے حمایتیوں کی بغاوت کا اندیشہ تھا تو اہل شام پر حملہ کرنے سے ان کے حمایتیوں کی بغاوت کا اندیشہ کہیں زیادہ تھا۔ باغی تو محض چند ہزار تھے جبکہ ان کے مقابلے میں اہل شام لاکھوں تو رہے ہوں گے۔ کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ چھوٹے خطرے سے بچنے کے لیے بڑے خطرے کو دعوت دے دیں۔ یہ تو بالکل ایسے ہی ہے جیسے دس روپے کے نقصان سے بچنے کے لیے ہزار روپے خرچ کر دیے جائیں۔ ظاہر ہے کہ شام پر حملہ دراصل باغیوں کی اسکیم تھی اور وہی اس میں پیش پیش تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے یقیناً حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام ضرور استعمال کیا۔
حضرت علی نے باغیوں کے خلاف اب کاروائی کیوں نہ کی؟
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عثمان کے معاملے میں تو ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ وہ موسم حج تھا اور مسلمانوں کی اکثریت مدینے میں موجود نہیں تھی جس کی وجہ سے باغیوں کو کاروائی کا موقع مل گیا۔ لیکن اب تو حج کو بھی کافی عرصہ گذر چکا ہے اور مسلمان اکٹھے ہو چکے تھے۔ اب کون سا امر مانع ہے کہ حضرت علی نے باغیوں کے خلاف کاروائی نہ کی؟ ایسا کیوں نہیں ہوا کہ وہ حضرت معاویہ اور دیگر مخلص مسلمانوں کو ساتھ ملا کر ان باغیوں کا قلع قمع کر دیتے؟
اس سوال کے جواب میں ہمیں جنگ جمل و صفین کے درمیان کے زمانے پر غور کرنا پڑے گا۔ صورتحال اب کچھ یوں تھی:
• جنگ جمل کے بعد باغی تحریک کا پورا آئس برگ میدان میں نکل آیا تھا اور انہوں نے کوفہ کو اپنا مرکز بنا لیا تھا۔
• باغی لیڈر جیسے مالک الاشتر، محمد بن ابی بکر وغیرہ نے حضرت علی اور ان کے مخلص ساتھیوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا تھا اور مسلسل ان کی نگرانی کیے ہوئے تھے۔
• مخلص صحابہ و تابعین کی بڑی تعداد یا تو حضرت معاویہ کے ساتھ جا ملی تھی یا پھر یہ حضرات غیر متعلق ہو کر گھروں میں بند ہو چکے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں حضرت علی کے گرد یہی باغی نظر آ رہے تھے۔
• اگر کوئی مخلص مسلمان قریب آنے کی کوشش کرتا تو یہ باغی اسے حیلے بہانے سے دور کرنے کی کوشش کرتے۔ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔
ان حالات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ وہ ان باغیوں کے خلاف کاروائی کر سکتے۔
حضرت علی نے باغیوں کے حملے میں ان کا ساتھ کیوں دیا؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حملہ باغیوں نے کرنا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے ساتھ کیوں چل پڑے؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ان باغیوں کو بالکل ہی بے شتر و مہار نہیں چھوڑنا چاہتے تھے کیونکہ آپ کو خدشہ تھا کہ اگر ان لوگوں کو چھوڑ دیا گیا تو یہ راستے بھر میں مسلم آبادیوں پر ظلم و ستم ڈھاتے جائیں گے۔ اس کا اندازہ رقہ کے واقعے سے ہوتا ہے جو کہ دریائے فرات کے کنارے ایک قصبہ تھا۔ اس واقعے کو خود ان باغیوں کے حمایتی ابو مخنف اور ہشام کلبی نے روایت کیا ہے۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کا لشکر رقہ کے مقام پر پہنچا تو آپ نے اہل رقہ سے درخواست کی کہ دریائے فرات پر کشتیوں کا ایک پل بنا دیں تاکہ آپ یہاں سے گزر سکیں۔ اہل رقہ نے اس سے انکار کر دیا کیونکہ وہ اہل شام پر لشکر کشی کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔حضرت علی نے انہیں مجبور نہیں کیا اور اس جگہ کو چھوڑ کر ایک اور مقام منبج کی طرف چل پڑے۔ اشتر اپنے ساتھیوں سمیت پیچھے رہ گیا اور اہل رقہ سے کہنے لگا:
اے قلعے والو! میں تمہیں اللہ عزوجل کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر امیر المومنین اپنے دستے سمیت منبج کے پل سے گزر گئے اور تم نے یہاں ہمارے لیے پل نہ بنایا تو میں تم پر حملہ کر کے تمہارے مردوں کو قتل کر دوں گا اور تمہاری اس زمین کو اجاڑ کر رکھ دوں۔ تمہارے قبضے میں جتنے مال ہیں، وہ سب چھین لوں گا۔( طبری۔ 3/2-186)۔
مجبوراً اہل رقہ کو پل بنانا پڑا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ اس لشکر کے ساتھ نہ ہوتے تو یہ لوگ راستے کی آبادیوں کا کیا حشر کرتے؟ یہی وہ وجہ تھی جس کی خاطر حضرت علی رضی اللہ عنہ ان باغیوں کے ساتھ چلے تھے۔
آخر کار صفین کے مقام پر عراقی اور شامی لشکر ایک دوسرے کے مدمقابل آ موجود ہوئے۔طبری میں جنگ صفین کی تمام تر روایات ابو مخنف کی روایت کردہ ہیں اور اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس نے واقعات کو کس طرح اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کیا ہو گا۔ اس نے یہ کوشش کی ہے کہ حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما میں ذاتی نوعیت کی دشمنی ثابت کی جائے حالانکہ حقیقت اس سے کہیں بعید ہے۔ ان دونوں صحابہ کے دل ایک دوسرے سے صاف تھے۔ یہ باغی ہی تھے جو اہل شام پر حملہ کرنے میں پیش پیش تھے اور مالک الاشتر اس مہم کا سربراہ بنا ہوا تھا۔ یہ روایت بھی ابو مخنف ہی کی ایجاد ہے کہ شامی لشکر نے عراقیوں پر پانی بند کر دیا تھا۔
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں لشکر ذو الحجہ 36 کے پورے مہینے تک آمنے سامنے پڑے رہے اور سوائے چھوٹی موٹی جھڑپوں کے، ان کے درمیان جنگ نہ ہوئی۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دونوں جانب کے مخلصین جنگ نہ کرنا چاہتے تھے۔ ( ایضاً ۔ 3/2-196)۔ اب شہادت عثمانی کو ایک سال گزر چکا تھا۔ جب محرم کا آغاز ہوا دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کو صلح کا پیغام بھیجا تاکہ گفت و شنید سے معاملہ سلجھایا جا سکے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس دوران بھی حج کے فریضے سے غافل نہ رہے اور انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو امیر حج بنا کر بھیجا۔
کیا حضرت معاویہ کا قصاص عثمان کا طریقہ درست تھا؟
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کے حصول کے لیے جو طریقہ اختیار کیا، وہ درست نہ تھا۔ اول تو وہ حضرت عثمان کے براہ راست وارث نہ تھے۔ دوسرے یہ کہ اگر انہوں نے قصاص کا مطالبہ ہی کرنا تھا تو انہیں چاہیے تھا کہ وہ نئے خلیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی غیر مشروط اطاعت کرتے اور پھر ان کی عدالت میں اپنا مقدمہ لے کر آتے۔ اس کے برعکس انہوں نے فوج کشی کا راستہ اختیار کیا۔ کیا یہ عمل درست ہے؟
یہ سوال اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کو قتل کا ایک عام واقعہ سمجھا جاتا ہے کہ جیسے عام قتل ہو جائے تو مقتول کے وارثوں کو چاہیے کہ وہ حکومت سے رجوع کر کے قاتل کو سزا دلوائیں۔ حضرت عثمان کی شہادت کا معاملہ اس سے بالکل مختلف تھا۔ یہاں ایک چھوٹی سی پارٹی نے، جو کروڑوں مسلمانوں کے مقابلے میں محض چند ہزار افراد پر مشتمل تھی، بغاوت کر کے خلیفہ وقت کو یرغمال بنایا اور پھر انہیں شہید کر دیا۔ یہ محض قتل کا کیس نہیں تھا بلکہ “فساد فی الارض” کا کیس تھا۔ سورۃ المائدہ میں اس جرم کی سزا یہ بیان ہوئی ہے کہ ایسے مجرموں کو ان کے جرم کے تناسب سے سولی، ہاتھ پاؤں کاٹنے یا جلا وطنی میں سے کوئی ایک سزا دی جا سکتی ہے۔ اس موقع پر حضرت معاویہ ہی نہیں بلکہ ہر مسلمان کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ ان کے قصاص کا مطالبہ لے کر کھڑا ہو۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر یہ الزام بھی درست نہیں ہے کہ انہوں نے فوج کشی کی۔ انہوں نے کوئی فوج کشی نہیں کی بلکہ ان باغیوں سے محض اپنا دفاع کیا۔ ان کے پاس نہایت ہی اعلی تربیت یافتہ فوج موجود تھی جو پوری طرح ان سے وفادار تھی اور ان سے محبت کرتی تھی۔ یہ شامی افواج، قیصر روم کی نہایت ہی منظم افواج کا مقابلہ کر کے تجربہ حاصل کر چکی تھیں۔ اگر حضرت معاویہ کو فوج کشی کرنا ہوتی تو وہ اس وقت حملہ کرتے جب بصرہ میں حضرات طلحہ، زبیر اور عائشہ رضی اللہ عنہم قوت اکٹھی کر رہے تھے۔ اس وقت اگر باغیوں پر دو جانب سے ضرب لگائی جاتی تو وہ پس کر رہ جاتے۔ اس کے برعکس حضرت معاویہ نے مسلسل خط و کتابت اور سفارت کاری کے ذریعے حضرت علی رضی اللہ عنہما سے بارہا مطالبہ کیا کہ وہ ان باغیوں کو سزا دیں اور اگر اس کی طاقت نہیں رکھتے تو ان سے علیحدہ ہو جائیں۔ حضرت علی یقیناً ان باغیوں کو سز ادیتے لیکن ان کا مسئلہ یہ تھا کہ باغی پوری طرح معاملات کو کنٹرول کیے ہوئے تھے۔ اگر کوئی مخلص مسلمان ان کے قریب آتا تو باغی حیلے بہانے سے اسے دور کر دیتے تھے۔ اگر حضرت علی میدان سے ہٹ جاتے تو پھر یہ باغی مسلم آبادیوں کا نجانے کیا حشر کرتے اور کیا فتنہ و فساد پھیلاتے۔
جو بھی معاملہ ہوا، اس میں حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں کی نیت پاکیزہ اور درست تھی۔ دونوں کے ہاں فرق صرف حکمت عملی (Strategy) کا تھا۔ اگر حضرت علی کو ان باغیوں نے گھیرے میں نہ لے رکھا ہوتا، تو حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ جیسے شریف النفس اور جلیل القدر صحابی کی سفارت کاری سے معاملہ طے پا جاتا اور حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے مخلص ساتھی مل کر ان باغیوں کی سرکوبی کرتے۔
جنگ صفین میں کیا حالات پیش آئے؟
دو ماہ جنگ بندی کے بعد محرم 37/657جنگ شروع ہوئی اور اس میں مالک الاشتر اور اس کے ساتھی پیش پیش تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کوشش تھی کہ فریقین کا نقصان کم سے کم ہو کیونکہ دونوں جانب مخلص مسلمان موجود تھے۔ آپ نے اپنی فوج کو یہ ہدایات دیں:
آپ لوگ اس وقت تک ہرگز جنگ نہ کیجیے جب تک فریق مخالف پہل نہ کرے۔ اللہ عزوجل کا شکر ہے کہ آپ حق پر ہیں، آپ کی جانب سے جنگ کی ابتداء نہ ہونا آپ کے حق پر ہونے کی اضافی دلیل ہے۔ جب آپ ان سے جنگ کریں تو انہیں شکست دیجیے اور پشت پھیر کر نہ بھاگیے۔ کسی زخمی پر حملہ نہ کیجیے، نہ کسی کو بے لباس کیجیے، نہ کسی مقتول کے ہاتھ پاؤں یا ناک کان کاٹیے۔ اگر آپ لوگوں کے کجاووں تک پہنچ جائیں تو ان کے خیموں کے پردے چاک نہ کیجیے اور نہ بلا اجازت ان کے گھروں میں داخل ہوں۔ نہ ان کے اموال میں سے میدان جنگ کے مال غنیمت کے علاوہ کچھ لیجیے۔ خواتین کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچائیے خواہ وہ آپ کی بے عزتی کریں اور آپ کے سرداروں اور نیک لوگوں کو برا بھلا کہیں۔ کیونکہ عورتیں اعضاء اور جذبات کے اعتبار سے کمزور ہوتی ہیں۔ ( ایضاً ۔ 3/2-204)
اس ضمن میں ابو مخنف نے ایک عجیب واقعہ نقل کیا ہے کہ دوران جنگ عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، شامی لشکر کی طرف سے آئے۔ ان کے مقابلے کے لیے محمد بن علی رضی اللہ عنہما نکلے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب اپنے بیٹے کو حضرت عمر کے بیٹے کے مدمقابل دیکھا تو خود نکل کر گئے اور اپنے بیٹے کو روکا۔ پھر عبیداللہ سے فرمایا: “اگر مقابلہ کرنا ہی ہے تو مجھ سے کرو۔” اس موقع پر عبیداللہ نے وہی کیا جو کوئی بھی شریف شخص اچانک اپنے والد کے قریبی دوست کو دیکھ کر کرے گا۔ وہ یہ کہہ کر لوٹ گئے کہ “مجھے آپ کے مقابلے کی ضرورت نہیں۔”( ایضاً ۔ 3/2-205)۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان حضرات میں ایک دوسرے کا کیسا احترام موجود تھا۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ لڑائی سے دور رہے اور مقابلے پر نہ اترے۔ ( ایضاً ۔ 3/2-213)
حضرت عمار بن یاسر کیسے شہید ہوئے؟
ابو مخنف کی روایت کے مطابق حضرت عمار جنگ صفین میں شہید ہوئے۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ باغی راویوں کی کوشش یہ رہی ہے کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو اپنا ساتھی ثابت کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے آپ پر یہ جھوٹا الزام عائد کیا ہے کہ آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف سازش میں باغیوں کے ساتھ شریک تھے۔ کبھی یہ کہا کہ حضرت عمار ہی دراصل ابن سوداء تھے۔ اس طرح سے انہوں نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت عمار گویا انہی کے ساتھی تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک شخص بالکل ابتداء ہی میں اسلام قبول کرتا ہے اور اس کی راہ میں اپنے والدین کو اپنے سامنے شہید ہوتا دیکھتا ہے، پھر وہ اپنی پوری عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ گزارتا ہے اور دین کے لیے جہاد میں حصہ لیتا ہے۔ کیا ایسے شخص سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ عمر کے آخری حصے میں وہ ان باغیوں سے مل جائے گا جن کی اسلام دشمنی واضح تھی؟ ابو مخنف وغیرہ نے اس ضمن میں جو روایات وضع کی ہیں، ان کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ باغی تحریک کی ساکھ (Credibility) کو کچھ بہتر بنایا جائے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو بغاوت کا مجرم ثابت کیا جائے۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک مرتبہ دیکھ کر فرمایا تھا کہ “عمار! آپ کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔” یہ حدیث الیثمی نے مجمع الزوائد اور احمد بن حنبل نے مسند میں بیان کی ہےاور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے راوی حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ہیں جن پر باغی ، حضرت عمار کی شہادت کا الزام عائد کرتے ہیں۔
ہشام کلبی اور ابو مخنف نے اپنے الفاظ حضرت عمار کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کی ہے اور دعوی کیا ہے کہ حضرت عمار ، نعوذ باللہ حضرت معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کو اسلام دشمن سمجھتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہی تھا تو پھر انہی کے ساتھی حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ کو اقتدار کیوں سونپا؟ ان باغی راویوں کی کوشش یہ رہی ہے کہ اپنے الفاظ کو صحابہ کرام کی زبان سے کہلوائیں تاکہ ان کی تحریک کو قوت ملے۔ طبری نے ان اسناد کے ساتھ بیان کی ہے:
1۔ حدثني محمد، عن خلف، قال: حدثنا منصور بن أبي نويرة، عن أبي محنف. وحدثت عن هشام بن الكلبي، عن أبي محنف، قال: حدثني مالك بن أعين الجهني، عن زيد بن وهب الجهني،
2۔ حدثني موسى بن عبد الرحمن المسروقي، قال: أخبرنا عبيد بن الصباح، عن عطاء بن مسلم، عن الأعمش، عن أبي عبد الرحمن السلمي
پہلی سند تو کسی تبصرے کی محتاج نہیں ہے کہ اس میں ابو مخنف اور ہشام کلبی تشریف فرما ہیں۔ دوسری سند میں عطاء بن مسلم (d. 135/753)ہیں جو کہ تدلیس (سند میں کمزور راوی کا نام چھپا لینا) کے لیے مشہور ہیں۔( ذہبی، سیر الاعلام النبلا۔ شخصیت نمبر 3765) دوسرے صاحب اعمش (d. 147/765) ہیں جن میں تشیع کا رجحان پایا جاتا تھا اور وہ تدلیس بھی کیا کرتے تھے۔( ایضا۔ شخصیت نمبر 2383)۔ محدثین کا مسلمہ اصول ہے کہ تدلیس کرنے والے راوی اگر ’عن‘ کہہ کر روایت کریں تو یہ قابل قبول نہیں ہوتی ہے کیونکہ یہ ذو معنی لفظ ہے۔
جنگ صفین میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت کی داستان سے متعلق طبری نے انہی حضرات سے منسوب ایک جھوٹی روایت نقل کی ہے۔ اس کی سند میں یہی عطاء بن مسلم اور اعمش موجود ہیں۔ عطاء سے اس روایت کو ولید بن صالح بیان کرتے ہیں جن کے حالات نامعلوم ہیں۔ عین ممکن ہے کہ یہ صاحب باغی تحریک کا حصہ رہے ہوں۔
حدثنا أحمد بن محمد، عن وليد بن صالح، عن عطاء بن مسلم، عن الأعمش، عن أبي عبد الرحمن السلمي احمد بن محمد نے ہم سے یہ روایت بیان کی، ان سےولید بن صالح، ان سے عطاء بن مسلم، ان سے اعمش،اور ان سے ابو عبدالرحمن السلمی نے یہ روایت بیان کی۔ ابو عبدالرحمن السلمی کا کہنا ہے کہ جب رات ہوئی تو میں نے ارادہ کیا کہ میں دشمنوں میں جاؤں اور یہ معلوم کروں کہ آیا ہماری طرح انہیں عمار کے قتل کا علم ہوا یا نہیں۔ جب جنگ بند ہوتی تھی تو دونوں جانب کے لشکری آپس میں ملتے تھے اور باتیں بھی کیا کرتے تھے۔ میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور آہستہ آہستہ شامیوں کے لشکر کی جانب چلا۔ جب میں شامی لشکر میں داخل ہوا تو چار افراد میدان جنگ میں گھوم رہے تھے۔ یہ معاویہ، ابو الاعور اسلمی، عمرو بن عاص اور عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم تھے۔ عبداللہ ان چاروں میں سب سے بہتر تھے۔ میں ان کے بیچ میں داخل ہو گیا تاکہ وہ باتیں سنوں جو مخالفین حضرت عمار کے بارے میں کریں۔
عبداللہ نے ایک شخص کی لاش دیکھ کر اپنے والد سے کہا: “ابا جان! کیا آپ نے آج اس شخص (عمار) کو بھی قتل کر دیا حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں کچھ فرمایا تھا۔” عمرو کہنے لگے: “کیا فرمایا تھا؟” عبداللہ نے جواب دیا: “کیا آپ اس وقت ہمارے ساتھ نہ تھے جب ہم مسجد نبوی بنا رہے تھے۔ لوگ ایک ایک پتھر اور ایک ایک اینٹ اٹھا کر لا رہے تھے اور عمار دو دو پتھر اور دو دو اینٹیں اٹھا کر لاتے۔ اس سے ان پر غشی طاری ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور ان کے چہرے سے مٹی صاف کی اور فرمایا: “اے سمیہ کے بیٹے! افسوس کہ لوگ تو ایک ایک پتھر اور ایک ایک اینٹ اٹھا کر لاتے ہیں جبکہ تم دو دو پتھر اور دو دو اینٹیں لے کر آتے ہو۔ یہ کام تم ثواب کے لیے کر رہے ہو۔ افسوس! تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرےگا۔”
عمرو بن عاص نے یہ سن کر اپنے گھوڑے کا رخ موڑ لیا۔ معاویہ نے انہیں پیچھے سے پکڑ کر کھینچا۔ عمرو نے کہا: “کیا آپ نے وہ حدیث نہیں سنی جو عبداللہ بیان کر رہے ہیں؟” معاویہ نے پوچھا: “وہ کیا حدیث ہے؟” عمرو نے انہیں حدیث سنائی تو معاویہ نے جواب دیا: “تمہارا تو بڑھاپے سے دماغ خراب ہو گیا۔ تم حدیثیں بیان کرتے رہتے ہو اور تمام دن اپنے پیشاب میں لتھڑے رہتے ہو۔ کیا ہم نے عمار کو قتل کیا ہے؟ عمار کو تو اس نے قتل کیا ہے جو انہیں میدان میں گھسیٹ لایا ہے۔”( طبری۔ 3/2-234)۔
روایت کی سند کاتجزیہ ہم اوپر کر چکے ہیں۔ سند کے تجزیے کے بعد متن کے تجزیے کی طرف آئیے۔سوال یہ ہے کہ کیا میدان جنگ میں ممکن ہے کہ مخالف فوج کا ایک شخص دوسری فوج کے کیمپ میں داخل ہو اور سیدھا اس فوج کے کمانڈروں اور جرنیلوں کے پاس جا پہنچے اور ان کی گفتگو سن لے اور کسی کو کوئی خبر نہ ہو ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ روایت کے مطابق سلمی نے یہ کام اس وقت کیا جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صرف تین ساتھی تھے اور وہ بھی کسی بند جگہ پر بھی نہیں بلکہ کھلے میدان میں موجود تھے۔
کسی نے صحیح کہا ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ روایت گھڑنے والا شاید حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کے حالات زندگی سے آگاہ نہیں تھا۔ روایت کے الفاظ کے مطابق حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اپنے والد محترم سے کہہ رہے تھے: ” کا۔ آپ اس وقت ہمارے ساتھ نہ تھے جب ہم مسجد نبوی بنا رہے تھے۔ لوگ ایک ایک پتھر اور ایک ایک اینٹ اٹھا کر لا رہے تھے اور عمار دو دو پتھر اور دو دو ایںٹب اٹھا کر لاتے۔ ” یہ بات معلوم و معروف ہے کہ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سن سات ہجری میں ایمان لائے جبکہ مسجد نبوی کی تعمیر سن ایک ہجری میں ہوئی۔ کیا حضرت عمرو کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ ایمان لانے سے چھ برس قبل مدینہ آ کر مسجد نبوی کی تعمیر میں شریک ہوتے؟ اگر ایسا نہیں تھا تو پھر “کیا آپ اس وقت ہمارے ساتھ نہ تھے۔۔۔” کہنے کا کیا مطلب ہے؟
روایت کے الفاظ سے لگتا ہے کہ باغی راویوں کے دل حضرت معاویہ اور عمرو رضی اللہ عنہما کے بغض سے لبریز ہیں چنانچہ اس نوعیت کی بدزبانی وہی کر سکتے ہیں کہ ” تمہارا تو بڑھاپے سے دماغ خراب ہو گاہ۔ تم حدیںنچ باان کرتے رہتے ہو اور تمام دن اپنے پیشاب مں لتھڑے رہتے ہو۔ ” انہوں نے یہ الفاظ گھڑ کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کر دیے ہیں جن کا حلم اور تدبر ضرب المثل ہے اور ان کے مخالفین بھی مانتے ہیں کہ وہ انتہا درجے کے بردبار انسان تھے۔ وہ تو کبھی کسی عام آدمی سے بھی ایسی سخت کلامی نہ کرتے تھے کجا یہ کہ اپنی ہی فوج کے کمانڈر انچیف سے ایسی بات کرتے۔
رہا یہ سوال کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو قتل کس نے کیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے بارے میں یہ ارشاد موجود ہے کہ انہیں ایک باغی گروپ قتل کرے گا۔ عین ممکن ہے کہ قاتلین عثمان کی باغی تحریک کے لوگوں ہی نے انہیں میدان جنگ میں شہید کر دیا ہو تاکہ اس کا الزام حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر لگا کر انہیں باغی ثابت کیا جا سکے۔ بعض لوگ ابو مخنف وغیرہ کے پراپیگنڈا سے متاثر ہو کر حضرت معاویہ کو باغی کہتے ہیں۔ حقیقت اس کے برعکس یہ ہے کہ حضرت معاویہ نے کبھی حضرت علی کے خلاف علم بغاوت بلند نہیں کیا بلکہ انہوں نے بار بار یہ کہا کہ ہم آپ کی خلافت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں، آپ قاتلین عثمان سے قصاص لیجیے۔ اگر آپ اس کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو ہمیں ان سے مقابلہ کرنے دیجیے۔ انہوں نے کبھی خود حضرت علی کے خلاف تلوار نہ اٹھائی۔ ہاں جب باغیوں نے ان پر حملہ کیا تو انہوں نے اپنا دفاع ضرور کیا۔
جنگ بندی کیسے ہوئی؟
دوران جنگ اہل شام نے قرآن مجید کو نیزوں پر بلند کر دیا اور دعوت دی کہ اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ عراقی لشکر کی غالب اکثریت نے اس دعوت کو قبول کیا اور یوں جنگ رک گئی۔ یہ ایک نہایت ہی مبارک اقدام تھا جس کے باعث مسلمانوں میں خونریزی ختم ہو گئی لیکن اس کے ساتھ ہی چونکہ باغیوں کی امیدوں پر پانی بھی پھر گیا، اس وجہ سے انہوں نے اس معاملے میں بھی اپنی روایتوں میں دل کے پھپھولے پھوڑے۔
ابو مخنف کا بیان ہے کہ جنگ میں جب عراقی لشکر غالب آنے لگا تو اہل شام نے قرآن نیزوں پر بلند کر دیے۔ اس کا خیال ہے کہ محض جنگی تدبیر کے طور پر ان حضرات نے یہ کام کیا اور اس کا مشورہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے دیا۔ ہمارے مورخین نے بھی بغیر سوچے سمجھے اس روایت کو نقل کر دیا ہے اور یہ نہیں دیکھا کہ اس روایت کا صرف ایک راوی ہے اور وہ ابو مخنف ہے جو جنگ صفین کے سو سال بعد اس کے واقعات لکھ رہا ہے۔ اس نے بغیر کسی سند کے براہ راست حضرت معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی گفتگو نقل کی ہے جیسے وہ خود ان کے ساتھ خیمے میں موجود تھا اور ٹیپ ریکارڈر اس کے پاس تھا۔
درایت کے نقطہ نظر سے غور کیجیے تو اس کے بالکل الٹ بات ہونی چاہیے۔ عراقی لشکر کے بارے میں یہ بات معلوم و معروف ہے کہ ان میں مخلص مسلمان بھی تھے اور قاتلین عثمان کی پارٹی بھی۔ ان کے دل قطعی طور پر ایک دوسرے سے ملے ہوئے نہیں تھے۔ اس لشکر میں بڑی تعداد ان مخلص مسلمانوں کی تھی جو جنگ کرنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ دوسری طرف شامی لشکر یکجان تھا۔ اس میں غالب تعداد مخلص مسلمانوں کی تھی اور وہ باغی تحریک کا قلع قمع کرنا چاہتے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک نیم دل (Half-hearted) لشکر کیسے اس مخلص اور کمٹڈ لشکر پر غالب آ گیا؟ دنیا میں جنگوں کی تاریخ کو دیکھا جائے تو ہمیشہ وہی لشکر غالب آتا ہے جو اپنے مقصد کے ساتھ کمٹڈ ہو خواہ اس کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو۔ تاریخ میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جس میں دو لشکر تعداد اور اسلحے میں برابری کی سطح پر ہوں اور نیم دل لشکر غالب آیا ہو۔ ہاں اگر تعداد اور اسلحے میں بہت زیادہ فرق ہو تو الگ بات ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عراقی لشکر کے غالب آنے کی بات محض افسانہ ہی ہے جس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ شامی لشکر کی جانب سے صلح کے پیغام کو سازش قرار دیا جائے۔ کتب تاریخ میں ہمیں ایسی روایات بھی ملتی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی و معاویہ دونوں ہی جنگ نہ چاہتے تھے۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم نے دونوں جانب کے مقتولین کو دیکھا تو انہیں اتنا دکھ ہوا کہ وہ رو پڑے۔ پھر انہوں نے حضرت معاویہ کی اجازت سے حضرت علی رضی اللہ عنہما کو صلح کی دعوت دی۔ یہ ایک نہایت ہی پرخلوص اقدام تھا اور حضرت علی نے اس خلوص کا جواب خلوص سے دیا۔
حدثني أحمد بن إبراهيم الدورقي، حدثنا وهب بن جرير، عن جويرية، عن يحيي بن سعيد، عن عتبة. قال: عتبہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ صفین کے میدان میں اترے اور یہاں کئی دن تک ہم نے جنگ کی۔ ہمارے مابین مقتولین کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی اور گھوڑے بھی زخمی ہوئے۔ علی نے عمرو بن عاص کو پیغام بھیجا: ’’مقتولین بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔ جنگ روک دیجیے تاکہ ہم ان تمام مقتولین کو دفن کر لیں۔‘‘ انہوں نے اس دعوت کو قبول کیا۔ اس کے بعد (دونوں جانب کے) لوگ آپس میں گھل مل گئے۔ (راوی نے یہ کہہ کر اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں ڈال لیں۔) لشکر علی کا ایک شخص جو شدت دکھا رہا تھا، اسے اس کے کیمپ میں قتل کر دیا گیا اور اس کی لاش یہاں سے نکال دی گئی۔ عمرو اس خندق (جہاں مقتولین کو دفن کیا جا رہا تھا) کے دروازے پر بیٹھے تھے اور دونوں فریقوں کے مقتولین کی تعداد ان سے مخفی نہ تھی۔ علی کے ساتھیوں میں سے ایک شخص کی لاش لائی گئی جو کہ معاویہ کے کیمپ میں قتل کیا گیا تھا۔ عمرو یہ دیکھ کر رو پڑے اور بولے: ’’یہ شخص مجتہد تھا۔ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے حکم پر سختی سے کاربند تھے مگر مارے گئے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ علی اور معاویہ دونوں ہی اس کے خون سے بری ہیں۔‘‘ ( بلاذری۔ انساب الاشراف۔ 3/104)
حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا يعلى بن عبيد عن عبد العزيز بن سياه عن حبيب بن أبي ثابت عن أبي وائل: ابو وائل کہتے ہیں: ہم صفین میں تھے جب اہل شام کے ساتھ جنگ خوب زور پکڑ گئی۔ شامی ایک ٹیلے پر چڑھ گئے۔ عمرو بن عاص نے معاویہ کو کہا: ’’آپ علی کی طرف قرآن بھیج کر ان کو کتاب اللہ کی طرف دعوت دیجیے۔ مجھے امید ہے کہ وہ اس سے انکار نہیں کریں گے۔‘‘ معاویہ کی طرف سے ایک آدمی علی کے پاس آیا اور کہنے لگا: ’’ہمارے اور آپ کے درمیان اللہ کی کتاب ہے۔‘‘ علی نے اسے قبول کر لیا اور فرمایا: ’’میں لوگوں کو اس کی دعوت دینے کا زیادہ حق دار ہوں۔ ٹھیک ہے، ہمارے اور آپ کے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی۔‘‘ ( احمد بن حنبل۔ المسند۔ باب سہل بن حنیف۔ حدیث 15975)
[جنگ کے بعد حضرت علی نے مختلف شہروں میں ایک سرکلر بھیجا، جس میں لکھا تھا:] سب نے دیکھا کہ جنگ نے دونوں فریقوں کو دانت سے کاٹنا شروع کر دیا ہے اور فریقین میں اپنے پنجے گاڑ دیے ہیں تو وہ میری بات ماننے پر آمادہ ہو گئے اور میں نے بھی ان کی بات کو مان لیا اور تیزی سے بڑھ کر ان کے مطالبہ صلح کو قبول کر لیا۔ یہاں تک کہ ان پر حجت واضح ہو گئی اور ہر طرح کا عذر ختم ہو گیا۔( سید شریف رضی۔ نہج البلاغہ۔ خط نمبر 58)
صلح کے بعد ایک معاہدہ تحریر کیا گیا، جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔ جنگ کے دوران جن لوگوں کو جنگی قیدی بنایا گیا تھا، فریقین نے انہیں آزاد کر دیا۔ ( طبری۔ 3/2-250)
ان روایتوں کے برعکس ابو مخنف نے ایسی روایتیں درج کی ہیں، جن کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ تو اس جنگ کو جاری رکھنا چاہتے تھے جبکہ باغیوں کے ایک گروپ نے، جو بعد میں خوارج بنے، انہیں مجبور کر کے یہ جنگ رکوائی اور پھر تحکیم کو بنیاد بنا کر یہ لوگ آپ کی فوج سے الگ ہو گئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر خوارج جنگ رکوانا چاہتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی ان کی بات مان لی تو پھر ان کے پاس کیا جواز تھا کہ وہ آپ سے علیحدہ ہوتے؟ دوسری بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں صلح اور جنگ بندی تو باغیوں کے تمام گروپوں کی موت تھی۔ کیا ان کا دماغ خراب ہو گیا تھا کہ وہ مسلمانوں میں صلح کروا کر اپنے کیے کرائے پر پانی پھیر دیتے۔ جنگ کی جس آگ کو انہوں نے اتنی محنت سے بھڑکایا تھا، اسے خود ہی ٹھنڈا کر کے کیا وہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے چلے تھے؟ کیا وہ اس درجے میں احمق ہو گئے تھے کہ اس ’’خود کش صلح‘‘ کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مجبور کرنے لگے۔
افسوس کہ ہمارے پاس ابو مخنف سے ہٹ کر غیر جانبدار ذرائع سے ایسی روایات موجود نہیں ہیں۔ جو جنگ بندی کی تفصیلات کو بیان کریں البتہ ابو مخنف ہی کی یہ روایت معقول نظر آتی ہے:
اشعث بن قیس ، حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے پاس آئے اور کہا: “میرا خیال ہے کہ سب لوگ اس پر راضی اور خوش ہیں کہ قرآن کے حکم پر چلنے کی جو دعوت انہیں دی گئی ہے، وہ اسے قبول کر لیں۔ اگر آپ چاہیں تو میں معاویہ کے پاس جا کر ان کا ارادہ معلوم کروں تاکہ آپ ان کے سوالات پر غور فرما سکیں۔” حضرت علی نے فرمایا: “اگر آپ کا یہی خیال ہے تو پھر ان سے جا کر پوچھیے۔” اشعث، حضرت معاویہ (رضی اللہ عنہ) کے پاس آئے اور پوچھا: “معاویہ! آپ نے یہ قرآن کس لیے اٹھوائے ہیں؟” انہوں نے جواب دیا: “اس لیے کہ ہم اور آپ ان احکامات پر عمل کریں جو اللہ عزوجل نے اپنی کتاب میں دیے ہیں۔ آپ اپنے میں سے ایک ایسا شخص فیصلے کے لیے متعین کیجیے جس پر ہم راضی ہوں اور ہم بھی اپنے میں سے ایک شخص کو متعین کر دیتے ہیں (جس پر آپ راضی ہوں۔) ہم دونوں فریقوں پر یہ لازم ہو گا کہ جو کچھ اللہ عزوجل کی کتاب میں پائیں، اس پر عمل پیرا ہوں اور اس سے سرمو تجاوز نہ کریں۔ جس امر پر یہ دونوں متفق ہو جائیں، ہم اس کی پیروی کریں۔ ”
اشعث بن قیس نے جواب دیا: “یہ حق کی بات ہے۔ اس کے بعد وہ حضرت علی کے پاس لوٹ کر آئے اور جو کچھ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما نے کہا تھا، انہیں مطلع کیا۔ علی کے ساتھیوں نے جواب دیا: “ہم نے یہ بات قبول کی اور ہم اس سے راضی ہیں۔” ( طبری۔ 3/2-244)
مسند احمد کی اوپر بیان کردہ روایت سے حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس جنگ کو رکوانے والے مخلص مسلمان تھے جو آپس میں جنگ نہ چاہتے تھے اور پہلے ہی دو ماہ تک اس جنگ کو ٹالتے چلے آئے تھے۔ جنگ بندی کی تجویز حضرت عمرو بن عاص کی طرف سے آئی اور حضرت علی نے اس کا پرجوش خیر مقدم کیا۔ حضرت علی جیسے جلیل القدر صحابی سے ایسی امید نہیں کی جا سکتی ہے کہ آپ مسلمانوں کا خون بہانا چاہتے ہوں گے۔ آپ کا جو خطبہ ہم اوپر نقل کر چکے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ خونریزی سے کس حد تک بچنا چاہتے تھے۔ جنگ صفین کے بارے میں آپ کے جو تاثرات آگے آ رہے ہیں، ان سے بھی یہی بات سامنے آتی ہے۔
جنگ صفین پر حضرت علی کے تاثرات کیا تھے؟
اس ضمن میں متعدد روایتیں حدیث و تاریخ کی کتابوں میں ملتی ہیں۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس جنگ کا شدید افسوس تھا اور آپ اپنی جان دے کر بھی جنگ کو بند کروانا چاہتے تھے۔ چند روایات یہ ہیں:
عمرو جنگ صفین میں پیچھے رہ گئے تھے۔ جب علی رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے اس پر مواخذہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے ملا تو انہوں نے فرمایا: ’’آپ فکر مت کیجیے۔ اللہ کی قسم کہ میں نے انہیں (حضرت علی) کو صفین والے دن (یا فلاں فلاں دن) فرماتے تھے سنا تھا: ’کاش! میری والدہ نے مجھے پیدا ہی نہ کیا ہوتا۔ کاش! میں آج کے دن سے پہلے ہی مر گیا ہوتا۔‘ ‘‘( بخاری۔ تاریخ الکبیر۔ باب ’’عمرو‘‘۔ راوی نمبر 2717)۔
سلیمان بن مہران (الاعمش) کہتے ہیں کہ میں نے (جنگ صفین کے) ایک عینی شاہد سے سنا کہ صفین کے دن حضرت علی ہونٹ کاٹ رہے تھے اور فرما رہے تھے: ’’اگر میں جانتا کہ معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا تو (کوفہ سے) باہر ہی نہ نکلتا۔ ابو موسی! آپ فیصلہ کیجیے، خواہ یہ میری گردن اڑا دینے ہی کا ہو۔‘‘( بلاذری۔ 3/107۔ ابن ابی شیبہ۔ المصنف۔ کتاب الجمل، باب صفین۔ جلد 14۔ حدیث 38848)
اسی موقع پر آپ نے لوگوں کو حضرت معاویہ کی امارت پر قائل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے فرمایا:
حارث کہتے ہیں: جب علی ، صفین سے واپس آئے تو آپ جان چکے تھے کہ اب آپ کا اقتدار کبھی مستحکم نہ ہو گا۔ آپ ایسی چیزوں کے بارے میں بات کرنے لگے جن کے بارے میں آپ نے پہلے بات نہ کی تھی اور ایسی احادیث بیان کرنے لگے جو پہلے بیان نہ کی تھیں۔ انہی باتوں میں سے آپ کا یہ ارشاد بھی ہے: ’’لوگو! معاویہ کی گورنری کو ناپسند نہ کرو۔ واللہ! اگر تم نے انہیں کھو دیا تو تم ضرور دیکھو گے کہ سر ، شانوں سے اس طرح کٹ کٹ کر گر رہے ہوں گے جیسا کہ حنظل کا پھل اپنے پودے سے گرتا ہے۔ ‘‘( ایضا۔ 38850۔ ابن ابی الحدید۔ شرح نہج البلاغۃ۔ 12/40)
بعد کی تاریخ نے ثابت کیا کہ حضرت علی کی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں رائے کس قدر درست تھی۔ جب تک حضرت معاویہ زندہ رہے، امت فتنہ و فساد سے محفوظ رہی اور جیسے ہی ان کی وفات ہوئی، خانہ جنگیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔ حضرت علی نے اپنے اور اہل شام کے مقتولین کو جنتی قرار دیا۔
یزید بن اصم کہتے ہیں کہ جب علی اور معاویہ کے درمیان صلح ہو گئی تو علی اپنے مقتولین کی جانب نکلے اور فرمایا: ’’یہ لوگ جنت میں ہوں گے۔‘‘ پھر معاویہ کے مقتولین کی طرف چلے اور فرمایا: ’’یہ لوگ بھی جنت میں ہوں گے۔ (روز قیامت) یہ معاملہ میرے اور معاویہ کے درمیان ہو گا۔ فیصلہ میرے حق میں دیا جائے گا اور معاویہ کو معاف کر دیا جائے گا۔ مجھے میرے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بتایا تھا۔‘‘( ابن عساکر۔ 59/139)
اہل تشیع کی مشہور کتاب نہج البلاغہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک مراسلہ (Circular) نقل کیا گیا ہے جو آپ نے جنگ صفین کے بارے میں شہروں میں بھیجا۔ اس میں لکھا ہے:
حضرت علی علیہ السلام کا خط، جو آپ نے شہروں کی جانب لکھا، اس میں آپ نے اپنے اور اہل صفین کے درمیان ہونے والے واقعے کو بیان فرمایا۔
ہمارے معاملہ کی ابتدا یوں ہوئی کہ ہم اہل شام کے ساتھ ایک میدان میں اکٹھے ہوئے۔ ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا رب ایک، ہمارا اور ان کا نبی ایک، ہماری اور ان کی اسلام کے متعلق دعوت ایک۔ اللہ پر ایمان اور اس کے رسول کی تصدیق کے معاملے میں نہ ہم ان سے بڑھ کر تھے اور نہ وہ ہم سے بڑھ کر۔ صرف ایک معاملے میں ہم میں اختلاف ہوا اور وہ تھا خون عثمان کا جبکہ ہم اس سے بری تھے۔ ہم نے اس کا حل یہ پیش کیا کہ جو مقصد آج نہیں حاصل ہو سکتا ہے، اس کا وقتی علاج یہ کیا جائے کہ آتش جنگ کو خاموش کر دیا جائے اور لوگوں کو جذبات کو پرسکون ہو لینے دیا جائے۔ اس کے بعد جب حکومت کو استحکام حاصل ہو جائے گا اور حالات سازگار ہو جائیں گے تو ہم اتنے طاقتور ہو جائیں گے کہ حق (یعنی قصاص) کو اس کے مقام پر رکھ لیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اس کا علاج صرف جنگ ہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنگ نے اپنے پاؤں پھیلا دیے اور جم کر کھڑی ہو گئی۔ شعلے بھڑک اٹھے اور مستقل ہو گئے۔ سب نے دیکھا کہ جنگ نے دونوں فریقوں کو دانت سے کاٹنا شروع کر دیا ہے اور فریقین میں اپنے پنجے گاڑ دیے ہیں تو وہ میری بات ماننے پر آمادہ ہو گئے اور میں نے بھی ان کی بات کو مان لیا اور تیزی سے بڑھ کر ان کے مطالبہ صلح کو قبول کر لیا۔ یہاں تک کہ ان پر حجت واضح ہو گئی اور ہر طرح کا عذر ختم ہو گیا۔ اب اس کے بعد کوئی اس حق پر قائم رہ گیا تو گویا اپنے آپ کو ہلاکت سے نکال لے گا ورنہ اسی گمراہی میں پڑا رہ گیا تو ایسا عہد شکن ہو گا جس کے دل پر اللہ نے مہر لگا دی ہے۔ گردش ایام اسی کے سر پر منڈلا رہی ہو گی۔ ( سید شریف رضی۔ نہج البلاغہ۔ خط نمبر 58)
یہ تحریر وہ خط ہے جو نہج البلاغہ کے مولف شریف رضی کے مطابق مختلف شہروں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکم سے بھیجا گیا تاکہ اس جنگ سے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نقطہ نظر کو واضح کیا جا سکے۔ انڈر لائن الفاظ سے واضح ہے کہ آپ ، اہل شام کو عین مسلمان سمجھتے تھے اور ہر حال میں صلح چاہتے تھے۔ اس سے ابو مخنف کی ان روایات کی بھی تردید ہو جاتی ہے جن کے مطابق حضرت علی جنگ جاری رکھنا چاہتے تھے اور اپنے ساتھیوں کے مجبور کر دینے پر وہ بادل نخواستہ جنگ بندی کے لیے تیار ہوئے تھے۔
کیا جنگ صفین سے بیرونی قوتوں نے فائدہ اٹھایا؟
یہاں پر تاریخ کے طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جنگ صفین کے موقع پر مسلم دنیا میں انتشار پیدا ہوا تھا، تو کیا بیرونی قوتوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی اور اگر نہیں کی تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اہل سیاست کی یہ نفسیات ہے کہ وہ موقع سے فائدہ اٹھانے (Opportunism) کے ماہر ہوتے ہیں۔ انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ سوال دلچسپ ہے اور اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کےد ونوں بیرونی دشمنوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی۔ ہماری مراد ایران اور روم کی طاقتوں سے ہے۔ اس کی ہم کچھ تفصیل بیان کرتے ہیں۔
ایران کی ساسانی سلطنت کا خاتمہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی کے دور میں ہو چکا تھا اور اس کا آخری بادشاہ یزد گرد ادھر ادھر چھپتا پھر رہا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یزد گرد بھی ایک پن چکی والے کے ہاتھوں مارا گیا۔ جب مسلمانوں نے ایرانیوں کو شکست دی تو ان کی ہزاروں سالہ بادشاہت کا خاتمہ ہو گیا۔ عام ایرانیوں کو اس سے بہت فائدہ پہنچا کیونکہ دور بادشاہت کی جو اشرافیہ (Elite Class) تھی، وہ ان کا خون چوس رہی تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں انہی کی زمینوں پر بحال رکھا اور فصلوں کی نصف پیداوار ان کا حق قرار پائی۔ فصل کا بقیہ نصف حصہ بطور خراج وصول کر کے سرکاری خزانے میں داخل کیا جاتا جسے انہی عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاتا۔ ایرانی پروفیشنلز جن میں ان کے فوجی، ڈاکٹر، انجینئر ، اکاؤنٹنٹ اور دیگر شعبوں کے ماہرین تھے، اسلامی فوج اور سول سروس کا حصہ بن گئے۔
یہ تمام فوائد ایرانی عوام کو پہنچے لیکن ان کی وہ اشرافیہ جو ملکی وسائل پر قابض چلی آ رہی تھی اور ایرانی بادشاہت سے ان کے مفاد وابستہ تھے، اسے ہضم نہ کر سکی۔ اشرافیہ کی ہمیشہ سے یہ حکمت عملی رہی ہے کہ وہ اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے “قوم پرستی” کا حربہ استعمال کرتی ہے۔ اس کی بہت سے مثالیں ہمارے دور میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس اشرافیہ نے ایرانی قوم پرستی کی تحریک اٹھائی اور حضرت عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے زمانے میں ایرانی علاقوں میں بار بار بغاوتیں پیدا کیں جو کہ ناکام رہیں۔ ان میں اصطخر اور جور کی بغاوتیں زیادہ مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ بلخ، طبرستان، کرمان، سجستان وغیرہ کے علاقوں میں بھی بغاوتیں ہوتی رہیں جنہیں ان علاقوں کے گورنر بآسانی دباتے رہے۔
جنگ صفین کے موقع پر ایرانی قوم پرست اشرافیہ نے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور اس زمانے میں ایران میں بغاوت برپا کی۔ ان کا مسئلہ یہ تھا کہ یزد گرد (d. 30/651)کی موت کے بعد اب ان کا کوئی مرکزی بادشاہ نہ تھا، جس کی وجہ سے قوم پرستی کی یہ تحریک زور نہ پکڑ سکی۔ عام ایرانی بھی اس بغاوت سے دور رہے کیونکہ اس میں ان کا سراسر نقصان تھا۔ حضرت علی نے جنگ صفین کے بعد اپنے قریبی ساتھی اور حضرت معاویہ کے بھائی زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم کو یہ بغاوت فرو کرنے کے لیے بھیجا اور وہ ایرانی قوم پرستوں کو روندتے ہوئے چلے گئے۔ اس طرح انہوں نے ایران میں دوبارہ امن و امان قائم کر دیا۔ ( طبری۔ 3/2-326)
دوسری طرف مغرب میں قیصر روم نے بھی جنگ صفین کا فائدہ اٹھانے کے لیے شام پر حملہ کا منصوبہ بنایا۔ ابن کثیر لکھتے ہیں:
قیصر روم نے حضرت معاویہ کو ساتھ ملانے کی خواہش ظاہر کی۔ چونکہ ان کا اقتدار رومی سلطنت کے لیے خطرہ بن چکا تھا، اور شامی افواج اس کی فوجوں کو مغلوب کر کے سرنگوں کر چکی تھیں، اس لیے اس نے جب یہ دیکھا معاویہ، علی (درحقیقت باغی تحریک نہ کہ حضرت علی) سے جنگ میں مشغول ہیں تو وہ بڑی فوج کے ساتھ قریبی علاقے میں چلا آیا اور حضرت معاویہ کو لالچ دیا (کہ وہ اس کے ساتھ مل جائیں۔)
حضرت معاویہ نے اس کو لکھا: “واللہ! اگر تم نہ رکے اور اے لعین! اپنے ملک واپس نہ گئے تو میں اور میرا چچا زاد بھائی (علی) آپس میں اتحاد کر لیں گے اور تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کریں گے۔ روئے زمین کو تم پر تنگ کر کے رکھ دیں گے۔ اگر تم نے اپنا ارادہ پورا کرنے کی ٹھان ہی لی ہے تو میں قسم کھاتا ہوں کہ میں اپنے ساتھی (علی) سے صلح کر لوں گا۔ پھر تمہارے خلاف ان کا جو لشکر روانہ ہو گا، اس کے ہراول دستے میں شامل ہو کر قسطنطنیہ کو جلا ہوا کوئلہ بنا دوں گا اور تمہاری حکومت کو گاجر مولی کی طرح اکھاڑ پھینکوں گا۔” یہ خط پڑھ کر قیصر روم ڈر گیا اور اس نے جنگ بندی کی اپیل کی۔( ابن کثیر،11/400۔ ترجمہ معاویہ بن ابی سفیان (سنہ 60ھ))
اس سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے امت کے لیے خلوص کا اندازہ ہوتا ہے۔ باغی راویوں نے حضرت معاویہ پر تہمت عائد کی ہے کہ انہوں نے اقتدار کے لالچ میں حضرت علی رضی اللہ عنہما سے جنگ کی تھی۔ اگر ان کا مقصد محض اقتدار پر قبضہ ہوتا تو وہ جھٹ سے قیصر روم کی پیشکش قبول کر لیتے اور اس کی فوجوں کو ساتھ ملا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کرتے لیکن ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ باغی تحریک سے اپنا دفاع کیا جائے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ پر حملہ نہیں کیا بلکہ جب باغیوں نے ان پر حملہ کیا تو انہوں نے محض اپنا دفاع کیا۔
واقعہ تحکیم
واقعہ تحکیم تاریخ صحابہ کا نہایت ہی مبارک واقعہ ہے جس کی بدولت مسلمانوں میں خونریزی رک گئی اور وہ ایک نتیجے پر پہنچ گئے لیکن اس واقعے کو باغیوں کو سخت نقصان پہنچا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں میں اتفاق رائے کا پیدا ہو جانا ان کی موت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان باغیوں نے واقعہ تحکیم کی ایسی مکروہ تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس سے ظاہر ہو کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں باہم دشمنی تھی اور ان کا کردار ہمارے دور کے دنیا دار سیاستدانوں سے مختلف نہ تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ تاریخ طبری میں جنگ صفین کی طرح واقعہ تحکیم کی بھی کل روایات بھی ابو مخنف ہی کی روایت کردہ ہیں۔ ان صاحب کے بارے میں یہ بات معلوم و معروف ہے کہ وہ انہی باغیوں کے ساتھی ہیں۔
فیصلہ کرنے والے کون تھے اور ان کا تعین کیسے ہوا؟
فیصلہ کرنے کے لیے جن دو حضرات کے نام پر مسلمانوں کا اتفاق ہوا، وہ حضرت ابو موسی اشعری اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما ہیں۔ ان دونوں حضرات کی جلالت شان کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان دونوں حضرات کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتظامی عہدے دیے تھے۔ حضرت ابو موسی اشعری پہلے تینوں خلفائے راشدین کے دور میں مختلف علاقوں کے گورنر رہے اور حضرت عثمان کی شہادت کے وقت آپ کوفہ کے گورنر تھے۔ آپ ایسے صائب الرائے تھے کہ طویل عرصہ حکومتی امور چلاتے رہے۔ آپ کی روایت کردہ احادیث سے آپ کے فہم دین و دنیا کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس تحکیم کی روایات میں انہیں معاذ اللہ ایک بے وقوف شخص کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
دوسری طرف حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ایسی ہستی ہیں جن پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتماد فرمایا۔ آپ نے حضرت عمرو کو کئی لشکروں کا امیر بنایا اور انہیں عمان کا گورنر مقرر فرمایا۔ اسی طرح آپ نے حضرت ابو موسی کو یمن کے علاقے عدن کا گورنر مقرر فرمایا۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد موجود ہے: ’’اے عمرو! آپ صاحب رائے ہیں اور اسلام کے معاملے میں ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘( ابن عساکر۔ 46/134۔ باب عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ) اور فرمایا: ’’عمرو بن عاص قریش کے صالح لوگوں میں سے ہیں۔‘‘( ایضا۔ 46/137)
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو ابو مخنف اور ان کی کی قبیل کے راویوں نے دنیا پرست ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے برعکس آپ کی دنیا سے بے رغبتی کا عالم یہ تھا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک مہم کا سربراہ بنا کر بھیجا اور فرمایا:
’’عمرو! میں آپ کو ایک سمت میں بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔اللہ تعالی آپ کو سلامت رکھیں گے اور آپ کو مال غنیمت عطا فرمائیں گے اور اس مال سے ہم بھی آپ کو دیں گے۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! میں نے مال کے لالچ میں اسلام قبول نہیں کیا ۔ میں تو جہاد کی رغبت اور آپ کی صحبت میں رہنے کے لیے مسلمان ہوا ہوں۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’اے عمرو! صالح مال، صالح شخص کے لیے اچھا ہوتا ہے۔‘‘( ایضا۔ 46/143)
عہد فاروقی میں حضرت عمرو ایک اعلی پایہ کے منتظم اور جرنیل بن کر ابھرے۔ فلسطین اور مصر آپ کے ہاتھوں فتح ہوئے۔ حضرت عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے زمانے میں آپ مصر کے گورنر رہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں آپ حضرت معاویہ سے جا ملے اور ان کی حکمت عملی نے باغی تحریک کو ناکوں چنے چبوائے۔
حضرت علی کی جانب سے بطور حکم (جج) حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کا نام پیش کیا گیا جو نہایت ہی جلیل القدر صحابی تھے اور جنگ صفین میں غیر جانبداررہے تھے۔ ابو مخنف نے اپنی روایتوں میں یہ زور لگانے کی کوشش کی ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ، ابو موسی سے خوش نہیں تھے اور مالک الاشتر کو حَکَم (فیصلہ کرنے والا) بنانا چاہتے تھے مگر آپ کے ساتھیوں نے آپ کو مجبور کر کے انہی کو مقرر کروا دیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے بھی حکم بننے پر خوش نہ تھے۔
سوال یہ ہے کہ اوپر بیان کردہ روایت میں یہ شرط طے کی گئی تھی: ’’آپ اپنے میں سے ایک ایسا شخص فیصلے کے لیے متعین کیجیے جس پر ہم راضی ہوں اور ہم بھی اپنے میں سے ایک شخص کو متعین کر دیتے ہیں (جس پر آپ راضی ہوں۔) ‘‘مالک الاشتر کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کس طرح قبول کر سکتے تھے جبکہ یہی قاتلین عثمان کا سربراہ تھا۔ دوسری طرف اگر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ویسے ہی تھے، جیسا کہ روایات میں بیان کیا گیا ہے، تو پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں قبول کیوں کر لیا؟ حکم کے لیے یہ شرط طے کی گئی تھی کہ وہ غیر جانبدار ہوں۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ غیر جانبدار نہیں تھے بلکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فوج کے سربراہ تھے۔ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کی امانت و دیانت پر اعتماد نہ ہوتا، تو انہیں کیسے بطور حکم کے قبول کر لیتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تو ان دونوں جلیل القدر صحابہ پر کوئی اعتراض نہ تھا مگر یہ باغی چاہتے تھے کہ ان کا لیڈر مالک الاشتر حکم بنے تاکہ ان کے مفادات پورے ہوں۔ جب ایسا نہ ہو سکا تو انہوں نے حضرت ابو موسی اشعری اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی کردار کشی کی بھرپور کوشش کی۔ اس کے برعکس بلاذری کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی اور معاویہ دونوں ہی ان دونوں حضرات سے راضی تھے۔
معاویہ نے کہا: ’’میں عمرو کو نامزد کرتا ہوں۔‘‘ علی نے کہا: ’’میں ابو موسی اشعری کو نامزد کرتا ہوں۔‘‘ وہ دونوں ان کے ناموں پر راضی ہو گئے۔ اس بات پر ایک معاہدہ تحریر کیا گیا جس پر دونوں لشکروں کے دس دس افراد نے بطور گواہ دستخط کیے۔ ‘‘( بلاذری۔ 3/107)۔
صلح کا معاہدہ کیا تھا ؟
ابو مخنف نے صلح کا معاہدہ بھی نقل کیا ہے اور ہمارا خیال ہے کہ یہ کام انہوں نے ٹھیک کیا ہے کیونکہ بلاذری نے دیگر اسناد سے اس معاہدے کا متن دیا ہے۔ معاہدے کے الفاظ یہ تھے:
یہ وہ معاہدہ ہے جو علی بن ابی طالب اور معاویہ بن ابی سفیان نے باہم کیا ہے۔ علی کا فیصلہ اہل عراق اور ان لوگوں پر نافذ ہو گا جو لوگ ان کی جماعت میں سے ہیں یا عام مومنین میں سے ان کے ساتھ ہیں۔ معاویہ کا فیصلہ اہل شام اور ان صاحب ایمان لوگوں پر نافذ ہو گا جو معاویہ کے ساتھ ہیں۔ ہم اللہ عزوجل کے حکم اور اس کی کتاب کو قبول کرتے ہیں اور کتاب اللہ کے علاوہ ہمیں کوئی فیصلہ قبول نہ ہو گا۔ اللہ عزوجل کی کتاب میں اول تا آخر جو کچھ بھی موجود ہے، ہم اس پر عمل کریں گے۔ جس چیز کے احیاء کا یہ کتاب حکم دیتی ہے، اسے رائج کریں گے اور جس چیز کے ختم کرنے کا حکم دیتی ہے، اسے ختم کر دیں گے۔ دونوں حکم یعنی ابو موسی اشعری یعنی عبداللہ بن قیس اور عمرو بن عاص القرشی کتاب اللہ میں جو حکم پائیں گے، اس پر عمل پیرا ہوں گے۔ اگر اس معاملہ میں کتاب اللہ میں یہ دونوں کوئی حکم نہ پائیں تو اس سنت پر عمل پیرا ہوں گے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو گی اور جس پر سب کا اتفاق ہو گا اور کسی کو اس سے اختلاف نہ ہو گا۔
دونوں حَکم ، علی اور معاویہ اور ان کے لشکروں سے عہد و پیمان لیں گے، اسی طرح دیگر معتبر لوگوں سے بھی وعدہ لیں گے کہ ان دونوں کی جان و مال محفوظ رہیں گی۔ جو فیصلہ یہ دونوں کریں گے، اس پر تمام امت ان کی معاون و مددگار ہو گی۔ دونوں فریقوں کے مسلمانوں پر اللہ کے نام پر یہ عہد لازم ہو گا کہ جو کچھ اس معاہدہ میں تحریر ہے، وہ ہمیں قبول ہے اور ہم نے ان دونوں ثالثوں کا فیصلہ تمام مسلمانوں پر لازم کر دیا ہے۔ یہ سب لوگ ہتھیار اتار کر رکھ دیں گے اور سب لوگوں کو امن حاصل ہو گا۔ جہاں چاہیں، وہ چلے جائیں، ان کی جان و مال او راہل و عیال محفوظ رہیں گے۔ وہ تمام لوگ جو یہاں موجود ہیں اور جو غائب ہیں، سب لوگوں کو یہ امن حاصل ہو گا۔ عبداللہ بن قیس اور عمرو بن عاص پر اللہ کا یہ عہد و میثاق ہو گا کہ وہ اس امت کا فیصلہ کر دیں اور انہیں دوبارہ جنگ اور اختلاف میں مبتلا نہ کریں۔ یہ دوسری چیز ہے کہ کوئی ان کا فیصلہ قبول نہ کرے۔
اس معاہدے کی مدت رمضان تک ہو گی، اگر یہ دونوں حکم اس مدت کو بڑھانا چاہیں تو باہمی رضامندی سے بڑھا سکتے ہیں۔ اگر دونوں حکموں میں سے کسی ایک حکم کا انتقال ہو جائے تو اس کی پارٹی کا امیر اس کی جگہ دوسرا حکم مقرر کرے گا اور وہ شخص اہل عدل و انصاف میں سے منتخب کیا جائے گا۔ ان دونوں کے فیصلے کا مقام، جس میں وہ فیصلہ کریں گے، وہ جگہ ہو گی جو اہل کوفہ اور اہل شام کے درمیان واقع ہے۔ یہ دونوں حکم فیصلہ پر جن لوگوں کی گواہی لینا چاہیں، لے سکتے ہیں اور ان کی گواہی وہ اس فیصلہ پر تحریر کر دیں گے۔ یہ گواہ اس فیصلے کی ان لوگوں کے مقابلے میں حمایت کریں گے، جو اسے مٹانا چاہے یا اس کی مخالفت کرے۔ اے اللہ! ہم آپ سے اس شخص کے مقابلے میں امداد طلب کرتے ہیں، جو اس فیصلہ کو چھوڑ دے۔( طبری۔ 3/2-248)
اہل تشیع کی کتاب اخبار الطوال کی روایت کے مطابق اس میں یہ الفاظ بھی موجود تھے:
عبداللہ بن قیس (ابو موسی) اور عمرو بن عاص نے علی اور معاویہ سے اللہ کے نام پر میثاق لیا ہے کہ یہ دونوں ثالثوں کے فیصلے پر راضی ہوں گے جو کتاب اللہ اور اس کے نبی کی سنت کی بنیاد پر کیا جائے۔ ان دونوں (علی اور معاویہ) کو اجازت نہ ہو گی کہ وہ ثالثوں کے فیصلے کو توڑ دیں اور اس کی خلاف ورزی کر کے کسی اور چیز کی طرف مائل ہوں۔ ( نامعلوم مصنف (منسوب بہ ابو حنیفہ الدینوری)۔ الاخبار الطوال۔ 208۔ لندن: مطبع بریل (1888)۔ http://www.al-mostafa.com (ac. 6 Apr 2012))
معاہدے کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتنا مبارک معاہدہ تھا کہ اس کی بدولت مسلمانوں کی طاقت اکٹھی ہو رہی تھی۔ معاہدے کے الفاظ سے ہی ظاہر ہے کہ حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں ہی کے دل میں اسلام کے بارے میں کس درجے کا خلوص پایا جاتا تھا۔ معاہدے کے آغاز میں هذا ما تقاضى عليه علي بن أبي طالب ومعاوية بن أبي سفيان، قاضى علي على أهل الكوفة ومن معهم من شيعتهم من المؤمنين والمسلمين، وقاضى معاوية على أهل الشأم ومن كان معهم من المؤمنين والمسلمين کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما ایک دوسرے کے ساتھیوں کو صاحب ایمان اور مسلمان سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد صحابہ نے بطور گواہ اس پر دستخط کیے اور اس معاہدے پر عالم اسلام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ابو مخنف ہی کے بیان کے مطابق معاہدے کے بعد دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے جنگی قیدیوں کو آزاد کر دیا۔
باغیوں نے صلح کے اس معاہدے کے سلسلے میں کس رد عمل کا اظہار کیا؟
جہاں اہل اسلام کے لیے یہ معاہدہ نہایت مبارک ثابت ہوا وہاں باغیوں کے لیے یہ معاہدہ موت کے مترادف تھا۔ ان کے ہاں صف ماتم بچھ گئی۔ خود ابو مخنف نے باغی تحریک کے لیڈر مالک الاشتر کی حالت کچھ یوں نقل کی ہے:
جب یہ معاہدہ تحریر کیا گیا تو اس کی گواہی کے لیے اشتر کو بھی طلب کیا گیا۔ اس نے کہا: ’’اللہ کرے، یہ دایاں ہاتھ میرے پاس نہ رہے اور نہ میں اس بائیں ہاتھ سے کوئی نفع حاصل کر سکوں، اگر میں اس معاہدے پر دستخط کروں جو صلح کے نام پر تحریر کیا گیا ہے۔ کیا میں اپنے رب کی جانب سے ہدایت پر نہیں ہوں اور میں اپنے دشمن کی گمراہی پر یقین رکھتا ہوں۔‘‘ اشعث بن قیس، (جنہوں نے اس معاہدے کی تکمیل میں بنیادی کردار ادا کیا) بولے: “واللہ! تم نے نہ کوئی کامیابی دیکھی اور نہ کوئی ظلم دیکھا۔ ہمارے ساتھ آؤ، ہمیں تم سے کوئی دشمنی نہیں۔ ” اشتر بولا: “کیوں نہیں ہے؟ واللہ! میں تم سے دنیا میں دنیا کی خاطر اور آخرت میں آخرت کی خاطر نفرت کرتا ہوں۔ اللہ عزوجل نے میری اس تلوار کے ذریعے بہت سے افراد کا خون بہایا ہے اور تم میرے نزدیک ان سے بہتر نہیں ہو اور نہ ہی میں تمہارا خون حرام سمجھتا ہوں۔” عمارہ (راوی) کہتا ہے کہ میں نے اس شخص (اشعث) کو دیکھا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کی ناک پر کوئلے رکھ دیے گئے ہوں، یعنی وہ (غصے سے) اتنی سیاہ تھی۔ ( طبری۔ 3/2-249)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ باغیوں کی اس معاہدے کے بارے میں کیا رائے تھی؟ اشعث بن قیس رحمہ اللہ نے چونکہ صلح کے اس معاہدے میں بنیادی کردار ادا کیا، اس وجہ سے وہ ان باغی راویوں کے غیض و غضب کا نشانہ بنے۔ انہی ابو مخنف نے اپنے ساتھیوں سے نقل کیا ہے انہی اشعث نے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کر کے خارجی جماعت بنائی۔ ظاہر ہے کہ ان پر یہ تہمت اسی وجہ سے لگائی گئی ہے کہ وہ صلح میں پیش پیش تھے اور اس صلح کے ذریعے انہوں نے باغیوں کی لٹیا ڈبو دی تھی۔ خود ابو مخنف ہی کی روایت میں یہ بات موجود ہے کہ اشعث بن قیس خوارج کے مقابلے میں پیش پیش تھے۔ ( ایضاً ۔ 3/2-281)
اشعث کے باغی ہونے کو طبری نے اس سند سے بیان کیا ہے۔ فحدثني عبد الله بن أحمد، قال: حدثني أبي، قال: حدثني سليمان بن يونس بن يزيد، عن الزهري. اس سند کے بارے میں ہم کئی جگہ بیان کر چکے ہیں کہ یہ سند کمزور ہے۔ یونس بن یزید الایلی کے بارے میں امام احمد بن حنبل کا کہنا یہ ہے کہ یہ زہری سے منکر (انتہائی عجیب و غریب) قسم کی روایتیں کرتے ہیں۔ ( ذہبی۔ راوی 9932۔ 7/320)۔ پھر ایلی اس روایت کو ابن شہاب الزہری سے منسوب کرتے ہیں جو کہ اس واقعہ کے 21 برس بعد 58/677 میں پیدا ہوئے۔ اگر زہری نے واقعی یہ روایت بیان کی ہے تو عین ممکن ہے کہ انہوں نے یہ روایت کسی ایسے شخص سے سنی ہو جو کہ باغی تحریک کا حصہ ہو۔
صلح کے معاہدے کے بعد دونوں افواج واپس چلی گئیں۔ ابو مخنف کی روایت کے مطابق اس کے بعد باغیوں میں پھوٹ پڑ گئی ۔ جو کچھ ہوا، وہ ان کے اپنے الفاظ میں پڑھیے:
ابو مخنف نے ابو خباب الکلبی کے واسطے عمارہ بن ربیعہ کا یہ بیان نقل کیا ہے: جب شیعان علی ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ میدان صفین میں گئے تھے تو باہم ایک دوسرے کے دوست تھے اور ہر ایک دوسرے سے محبت کرتا تھا۔ جب یہ میدان صفین سے واپس لوٹ کر آئے تو یہ سب ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ ہر ایک، دوسرے سے کینہ رکھتا تھا۔ یہ لوگ میدان صفین میں جب تک علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں رہے، خوش رہے لیکن جب تحکیم کا واقعہ پیش آیا تو یہ سب ایک دوسرے کی راہ روکنے لگے۔ آپس میں ایک دوسرے کو گالیاں دیتے اور ایک دوسرے کو کوڑے مارتے۔ ( طبری۔ 3/2-258)
ابو مخنف کی اس گھر کی گواہی سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ صفین کے بعد اللہ تعالی کے عذاب کا کوڑا حرکت میں آیا اور باغیوں کی پیٹھ پر بری طرح برسا۔ اب اس تحریک میں پھوٹ پڑ گئی اور ان میں باہمی دشمنی عروج کو پہنچ گئی۔ ابو مخنف (d. 157/774)کی ان روایات کے مطالعے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان صاحب کا مقصد اپنے زمانے کی باغی تحریک کو تاریخی دلائل کی بنیاد پر منظم کرنا تھا۔ انہوں نے جنگ صفین، تحکیم اور پھر کربلا کے واقعات پر کتابیں لکھیں اور ان میں اپنی تحریک کی غلطیاں بھی بیان کر دیں تاکہ اس کے ساتھی آئندہ ان غلطیوں سے محفوظ رہ سکیں۔
ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ باغی تحریک میں بہت سے عناصر شامل تھے جن کے مفادات ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ یقینی طور پر اب ان کے مابین مفادات کا ٹکراؤ ہوا ہو گا جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو مخلص مسلمان تھے، وہ پہلے ہی ان باغیوں سے نفرت کرتے تھے۔ دوسری جانب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو لوگ تھے، وہ نہایت ہی مخلص اور یکجان تھے اور ان کے اندر کسی قسم کا کوئی اختلاف موجود نہ تھا۔ اسی موقع پر باغی تحریک دو حصوں میں تقسیم ہو گئی اور ان کے الگ ہو جانے والے گروہ کو “خوارج” کا نام دیا گیا۔ اس کی تفصیل ہم آگے بیان کریں گے۔
واقعہ تحکیم کی روایات کس حد تک درست ہیں؟
طبری میں واقعہ تحکیم کی بھی تمام تر روایات ابو مخنف ہی کی روایت کردہ ہیں اور ان صاحب نے صحابہ کرام سے متعلق اپنے بغض کو حسب عادت ان روایات میں داخل کر دیا ہے۔ ان صاحب نے حضرت ابو موسی اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما دونوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے اور حضرت ابو موسی کو معاذ اللہ بے وقوف اور حضرت عمرو کو مکار اور دھوکے باز ظاہر کیا ہے۔ اس تاثر کا جھوٹ اسی سے واضح ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حضرات کو ذمے دار اور حساس عہدوں پر فائز کیا تھا۔
ابو مخنف کے بیان کے مطابق رمضان 37/657 میں دومۃ الجندل کے مقام پر دونوں حکم اکٹھے ہوئے۔ دونوں کے ساتھ چار چار سو ساتھی تھے۔( ایضاً ۔ 3/2-263)۔ راوی کا کہنا یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں زبردست پھوٹ پڑی ہوئی تھی کیونکہ ان کی بڑی تعداد آپ سے مخلص نہیں تھی۔ تفصیل ان صاحب کے اپنے الفاظ میں پڑھیے:
ابو مخنف نے مجالد بن سعید اور شعبی کے واسطے زیاد بن النضر الحارثی کا بیان نقل کیا ہے : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے چار سو افراد روانہ فرمائے اور ان کا امیر شریح بن ہانی الحارثی کو مقرر کیا۔ ان کے ساتھ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی تھے، جو لوگوں کو نماز پڑھاتے اور ان آدمیوں کے کاموں کا انتظام کرتے۔ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ انہی کے ساتھ تھے۔ معاویہ نے عمرو بن عاص (رضی اللہ عنہما) کے ساتھ چار سو افراد روانہ کیے تھے۔ یہ دونوں گروہ اذرح میں دومۃ الجندل کے مقام پر جمع ہوئے۔
معاویہ جب بھی کسی قاصد کو عمرو بن عاص کے پاس بھیجتے تو وہ آتا اور واپس چلا جاتا۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی کہ وہ کیا پیغام لایا ہے اور کیا پیغام لے کر واپس چلا گیا ہے؟ اہل شام اس سے کوئی سوال نہ کرتے۔ اس کے برعکس جب حضرت علی کا کوئی قاصد ابن عباس کے پاس آتا تو اہل عراق فوراً ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کرتے کہ امیر المومنین نے کیا لکھا ہے؟ اگر ابن عباس کچھ چھپاتے تو یہ لوگ ان پر مختلف قسم کی بدگمانیاں کرتے اور کہتے، ہمارا خیال ہے کہ انہوں نے ایسا ایسا لکھا ہو گا؟ ابن عباس نے مجبور ہو کر فرمایا: “کیا تم لوگوں میں ذرا سی بھی عقل نہیں ہے؟ کیا تم معاویہ کے قاصد کو نہیں دیکھتے کہ وہ پیغام لے کر آتا ہے اور کسی کو خبر نہیں ہوتے۔ یہاں سے پیغام لے کر جاتا ہے تو کسی کو علم نہیں ہوتا کہ کیا پیغام لے کر گیا ہے۔ نہ اس پر شامی چیختے چلاتے ہیں اور نہ زبان سے کوئی لفظ نکالتے ہیں۔ ایک تم ہو کہ ہر وقت نئی نئی بدگمانیاں کرتے ہو۔ ( ایضا)
ابو مخنف اور دیگر باغی راویوں نے واقعہ تحکیم سے متعلق لکھا ہے کہ اس میں حضرت ابو موسی اشعری اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے مابین تنہائی میں گفتگو ہوئی۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ وہ پوری ہی گفتگو مکالمے کی صورت میں اس طرح نقل کرتے ہیں کہ گویا خود ان حضرات کے ساتھ موجود تھے اور یا تو ٹیپ ریکارڈر ان کے پاس تھا یا پھر شارٹ ہینڈ میں نوٹس لے رہے تھے۔ اس ضمن میں وہ ان کا پورا مکالمہ نقل کرتے ہیں جس کی دو روایتیں ہیں جو ایک دوسرے کے متضا دہیں:
پہلی روایت
روایت یہ ہے:
فحدثني عبد الله بن أحمد، قال: حدثني أبي، قال: حدثني سليمان بن يونس بن يزيد، عن الزهري۔ اس روایت کے مطابق حضرت عمرو نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کو خلیفہ بنانے کی تجویز پیش کی تو حضرت ابو موسی نے اس کی تردید کی اور پھر یہ دونوں ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہوئے باہر آئے۔ حضرت ابو موسی نے حضرت عمرو کے متعلق یہ آیت پڑھی : وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْهَا یعنی”انہیں اس شخص کا قصہ سنائیے جسے ہم نے اپنی آیات دیں تو وہ ان سے نکل گیا۔” اس پر حضرت عمرو نے ان کے بارے میں یہ آیت پڑھی: مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَاراً یعنی “جنہیں تورات دی گئی، ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس نے کتابوں کا بوجھ اٹھایا ہو۔”( ایضاً ۔ 3/2-252)
دوسری روایت
دوسری روایت کے مطابق حضرت عمرو اور ابو موسی رضی اللہ عنہما نے اس بات پر اتفاق کر لیا کہ حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں ہی کو معزول کر دیا جائے اور فیصلہ عام مسلمانوں پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ جسے چاہیں اپنا خلیفہ بنا لیں۔ اس کے بعد یہ حضرت باہر آئے۔ حضرت عمرو نے حضرت ابو موسی کو کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور مجھ سے عمر میں بڑے ہیں، اس وجہ سے آپ اعلان پہلے کیجیے۔ ابن عباس نے حضرت ابو موسی کو کہا بھی کہ انہیں ہی پہلے اعلان کرنے دیجیے، آپ پہلے اعلان نہ کریں مگر انہوں نے بات نہ مانی۔ آگے کی روایت یہ ہے:
قال أبو مخنف: حدثني أبو جناب الكلبي: حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے پہلے اعلان کاو: لوگو! ہم نے اس امت کی خلافت کے معاملے پر غور کیا تو اس سے بہتر کوئی صورت نہیں دیکھی جس پر میرا اور عمرو کا اتفاق ہوا ہے۔ وہ یہ کہ علی اور معاویہ دونوں کو ہم معزول کر دیں اور اس خلافت کو امت پر چھوڑ دیں کہ وہ جسے پسند کریں، اپنا خلیفہ منتخب کر لیں۔ اس لیے میں نے علی اور معاویہ دونوں کو معزول کیا ۔ آپ لوگ اس کام میں خود غور کر لیجیے اور جسے آپ اس خلافت کا اہل سمجھیے، اسے یہ خلافت سونپ دیجیے۔”اس کے بعد آپ پیچھے ہٹ گئے اور حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا :
“انہوں (ابو موسی) نے جو کہا، وہ آپ نے سن لیا۔ انہوں نے اپنے امیر کو معزول کر دیا ہے، میں بھی انہیں معزول کرتا ہوں جنہیں انہوں نے معزول کیا لیکن میں اپنے امیر معاویہ کو برقرار رکھتا ہوں کیونکہ وہ عثمان بن عفان کے وارث اور ان کے قصاص کے طلب گار ہیں اور لوگوں میں سب سے زیادہ اس مقام کے حق دار ہیں۔ ”
اس پر ابو موسی نے فرمایا: “عمرو! تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ اللہ تعالی تمہیں نیک کام کی توفیق دے، تم نے وعدہ خلافی کی اور دھوکہ دیا۔ تمہاری مثال ایسی ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ “اس کی مثال اس کتے کی سی ہے اگر اسے کچھ ڈالو، تب بھی زبان نکالے رہتا ہے اور اگر چھوڑ دو، تب بھی زبان نکالے رہتا ہے۔ ” اس پر عمرو نے جواب دیا کہ تمہاری مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوں۔
اس کے بعد شریح بن ہانی نے عمرو پر کوڑے کے ذریعے حملہ کر دیا۔ اس پر عمرو کے بیٹے نے شریح کو کوڑے مارنے شروع کر دیے اور مار کٹائی شروع ہو گئی۔ شامیوں نے ابو موسی کو تلاش کیا تو وہ مکہ کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔ اس فیصلے کی اطلاع جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے نمازوں میں حضرت معاویہ، عمرو بن عاص، ابو الاعور اسلمی، حبیب بن مسلمہ، عبدالرحمن بن خالد، ضحاک بن قیس اور ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہم پر لعنت بھیجنا شروع کر دی۔ جب حضرت معاویہ کو اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے نمازوں میں حضرت علی، ابن عباس، اشتر، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم پر لعنت بھیجنا شروع کر دی۔( ایضاً ۔ 3/2-267) انا للہ و انا الیہ راجعون۔
افسوس کہ بعد کے مورخین نے اسی دوسری روایت کو سوچے سمجھے بغیر بیان کرنا شروع کر دیا، جس سے یہ مشہور ہو گئی۔ نہ تو ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایسی بدگمانی کر سکتے ہیں کہ جن صحابہ کور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن قرار دیا، ان کے لیے دوران نماز لعنت کا اہتمام فرمائیں اور نہ ہی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بدگمانی رکھتے ہیں کہ وہ حضرت علی اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر لوگوں کے خلاف ایسی جوابی کاروائی کریں۔
اب ہم ان دونوں روایات کا موازنہ اور تجزیہ کرتے ہیں۔ اگر آپ نے اب تک پہلے دو ابواب کا مطالعہ نہیں کیا تو روایت کے تجزیہ و تنقید کے اصولوں کا وہاں مطالعہ ضرور کر لیجیے۔ ان روایات کی سند اور متن میں غور کیا جائے تو یہ امور سامنے آتے ہیں:
1۔ پہلی روایت کی سند طبری نے یہ بیان کی ہے: فحدثني عبد الله بن أحمد، قال: حدثني أبي، قال: حدثني سليمان بن يونس بن يزيد، عن الزهري۔ باغیوں نے اس سند کو ابن شہاب الزہری (58-124/677-741)سے منسوب کیا ہے جو واقعہ تحکیم کے 21 سال بعد پیدا ہوئے۔ وہ واقعے کے عینی شاہد نہیں تھے اور معلوم نہیں کہ انہوں نے کس سے سن کر یہ روایت بیان کی ہے۔ اگر بیس برس کی عمر میں بھی انہوں نے اس روایت کو سنا ہو، تو کم از کم ایک ایسا شخص ہے جو اس سند میں نامعلوم ہے۔ ممکن ہے کہ یہ نامعلوم شخص باغی تحریک کا کوئی کارکن ہو۔ پھر زہری سے اس روایت کو سلیمان بن یونس بن یزید ایلی روایت کر رہے ہیں۔ سلیمان براہ راست زہری کے شاگرد نہیں ہیں بلکہ ان کے والد یونس بن یزید الایلی زہری کے شاگرد ہیں اور ان کا ناقابل اعتماد ہونا ہم اس کتاب میں بار بار بیان کر چکے ہیں۔
2۔ دوسری روایت کی سند طبری نے یوں بیان کی ہے: قال أبو مخنف: حدثني أبو جناب الكلبي۔ اس سند میں سب سے پہلے تو یہی ابو مخنف (d. 157/774)ہیں جو صحابہ کرام سے متعلق دل میں نہایت بغض رکھتے ہیں اور ان کے جھوٹ گھڑنے پر محدثین کا اتفاق ہے۔ دوسرے صاحب ابو جناب الکلبی (d. 150/766) ہے جن کا اصلی نام یحیی بن ابی الحیہ الکلبی الکوفی ہے۔ ان کے بارے میں جرح و تعدیل کے مختلف ماہرین کے ارشادات یہ ہیں: یحیی القطان کہتے ہیں: میں جائز نہیں سمجھتا کہ اس کی روایتیں نقل کروں۔ نسائی اور دار قطنی کا قول ہے کہ یہ ضعیف راوی ہے۔ ابو زرعہ اور یحیی بن معین کہتے ہیں کہ یہ صدوق ہے مگر تدلیس کرتا ہے۔ ابن الدورقی عن یحیی: ابو جناب میں ویسے تو حرج نہیں مگر یہ تدلیس کرتا ہے۔فلاس کا کہنا ہے کہ متروک راوی ہے۔ ( میزان الاعتدال ، راوی نمبر 9499)۔ ابن عدی بیان کرتے ہیں کہ یہ کوفہ کے شیعہ گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔( ابن عدی، الکامل فی الضعفاء۔ ص 2669)۔ ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ اس سے کوئی بات نہ لکھو، وہ قوی نہیں ہے۔ ( ابن ابی حاتم الرازی۔ الجرح و التعدیل ۔ 9/138۔ راوی نمبر 587۔ http://www.waqfeya.com (ac. 8 Aug 2012) )۔
اس روایت کو ابو مخنف اور ابو جناب الکلبی کے سوا اور کوئی روایت نہیں کرتا ہے اور ابو جناب سے لے کر واقعہ تحکیم کے عینی شاہدوں تک کسی کا نام بیان نہیں ہوا۔ ابو جناب الکلبی 150/766 میں فوت ہوئے اور انہوں نے یہ روایت واقعہ تحکیم کے سو برس بعد بیان کی ہو گی لیکن درمیان کے تمام راوی غائب ہیں اور ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کس قسم اور کس درجے کے لوگ ہیں؟
3۔ دونوں روایات میں شدید تضاد پایا جاتا ہے۔ پہلی روایت کے مطابق حضرت ابو موسی اور عمرو رضی اللہ عنہما میں اختلاف تنہائی ہی میں ہو گیا تھا اور وہ ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے باہر نکلے اور پھر باہر نکل کر ایک دوسرے کی قصیدہ گوئی فرمائی۔ دوسری روایت کے مطابق دونوں اتفاق رائے کر کے بڑے اچھے انداز میں نکلے۔ پھر اپنے اپنے اعلانات کیے اور اس کے بعد ان میں تلخ کلامی ہوئی جس میں انہوں نے آیات پڑھیں۔ اب ان دونوں متضاد روایتوں میں سے کس روایت کو مانا جائے؟
4۔ حضرت ابو موسی نے جو آیت پڑھی، اس کےبارے میں یہ روایتیں متضاد تصاویر پیش کرتی ہیں۔ پہلی روایت کے مطابق آیت 7:175 کا ایک ٹکڑا آپ نے تلاوت کیا جبکہ دوسری روایت کے مطابق آیت 7:176 کا ایک حصہ پڑھا۔ اگر یہ دونوں جلیل القدر حضرات ایک دوسرے کے خلاف ایسی بدزبانی کرتے تو معاملہ پھر یہیں تک محدود نہ رہتا۔ فریقین کے چار چار سو آدمی موجود تھے، ان میں جنگ بھی چھڑ سکتی تھی۔ پھر معاملہ صرف کوڑوں سے پیٹنے تک محدود نہ رہتا بلکہ تلواریں نکل آتیں۔
5۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ واقعہ تحکیم کے وقت دونوں جانب سے چار چار سو افراد وہاں موجود تھے لیکن کسی نے یہ تفصیلات بیان نہیں کی ہیں۔ صرف زہری اور ابو جناب الکلبی اسے بیان کرتے ہیں جن میں سے ایک اس واقعے کے اکیس برس بعد پیدا ہوئے اور دوسرے کا زمانہ بھی اس واقعے کے سو برس بعد کا ہے۔
6۔ حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کی حالت نماز میں ایک دوسرے پر لعنت کی بات ایسی ہے جو عقل میں نہیں آتی۔ کہاں تو یہ حضرات ایک دوسرے کی تعریفیں کرتے ہیں اور کہاں ایک دوسرے پر لعنت بھیجتے ہیں۔ اوپر بیان کردہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خط ہی دیکھ لیجیے، اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا ارشادات ہیں۔ اسی طرح حضرت معاویہ کی حضرت علی سے متعلق رائے ہم آگے بیان کریں گے۔ یہ محض ان راویوں کا بغض ہے جسے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زبان سے کہلوانے کی ناکام کوشش کی ہے۔
7۔ اگر حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے دھوکہ دہی کی ہوتی، جیسا کہ ان روایات میں بیان کیا گیا ہے، تو مخلص مسلمانوں کی کثیر تعداد ، جو ابھی غیر جانبدار تھی، اس صورت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جا ملتی۔ اسی طرح آپ کے کیمپ میں جو لوگ ابھی تردد کا شکار تھے، ان کا تردد بھی دور ہو جاتا۔ بعد کے واقعات سے یہ بات ثابت ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔
8۔ ابو جناب کلبی اور ابو مخنف نے یہ روایت گھڑتے وقت یہ بھی نہ سوچا کہ حضرت عمرو اور ابو موسی رضی اللہ عنہما میں سے عمر میں کون بڑا ہے۔ چنانچہ انہوں نے بڑے دھڑلے سے حضرت عمرو کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ’’آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور مجھ سے عمر میں بڑے ہیں۔ اس لیے آپ پہلے اعلان کریں تو میں بھی اعلان کروں۔‘‘ عمرو ہر معاملہ میں اسی طرح ابو موسی کو آگے کر دیتے تھے اور اسی طرح ہر معاملہ میں انہیں کہہ دیا کرتے تھے اور چاہتے یہ تھے کہ ان سے علی کی خلافت ختم کرنے کا اعلان کرا دیں۔( طبری۔ 3/2-266)
حضرت ابو موسی اشعری نے 63 برس کی عمر میں 50/673 میں وفات پائی۔( ابن عبد البر۔ الاستیعاب۔ صحابی نمبر 1650۔ 1/588۔ ) ۔اس حساب سے ان کی تاریخ پیدائش سن ہجری کی ابتدا سے تیرہ برس پہلے 609ء میں ہوئی۔ اس کے برعکس حضرت عمرو نے 43/664 میں 80 برس سے زائد عمر میں وفات پائی۔( ایضا۔ صحابی نمبر 1941۔ 2/100۔ )۔ اگر وفات کے وقت ان کی عمر کو بالفرض 81سال بھی مان لیں تو اس حساب سے ان کا سن پیدائش سن ہجری کی ابتدا سے 38 سال پہلے 585ء بنتا ہے۔ اس طرح، حضرت عمرو، حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہما سے عمر میں کم از کم 24-25 سال بڑے ضرور تھے۔ پھر اس بات کا کیا مطلب ہے کہ ’’آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور مجھ سے عمر میں بڑے ہیں۔ اس لیے آپ پہلے اعلان کریں تو میں بھی اعلان کروں۔‘‘ حضرت عمرو بن عاص کی طویل العمری کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ وہ سن ہجری کی ابتدا سے آٹھ برس پہلے 614ء میں ہجرت حبشہ کے موقع پر نجاشی کے دربار میں قریش کے سفیر کے طور پر گئے تھے۔( طبری۔ 2/1-79 )۔ اس وقت حضرت ابو موسی اشعری پانچ سال کے ہوں گے۔ اگر حضرت عمرو ان سے چھوٹے تھے تو کیا قریش نے کسی دو تین سال کے بچے کو سفیر بنا کر بھیج دیا تھا؟ سچ کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔
محدثین نے اگرچہ واضح کر دیا تھا کہ ابو مخنف ایک جھوٹے آدمی ہیں اور ان کی بیان کردہ روایات کا کوئی اعتبار نہیں۔ افسوس کہ طبری اور بلاذری جیسے محقق علماء نے ابو مخنف کی ان روایات کو جوں کا توں اپنی کتاب میں درج کر لیا اور محض سند میں اس کا نام دے کر یہ فرض کر لیا کہ بعد کی نسلوں کے لوگ اس کا نام دیکھ کر ان روایات کو پرکھ لیں گے۔ یقیناً محققین تو ایسا کر سکتے تھے لیکن عام مورخین نے ایسا نہ کیا کیونکہ انہیں ابو مخنف سے ہٹ کر کسی اور کی روایات نہ ملیں۔ اس طرح سے یہ روایات ایک کتاب سے دوسری کتاب میں نقل ہوتی چلی گئیں اور کچھ ہی عرصہ میں اس جھوٹے پراپیگنڈے کو “مستند تاریخ ” کی حیثیت مل گئی۔ ابن کثیر نے البتہ ان روایات کا جعلی ہونا بیان کر دیا ہے۔ ( ابن کثیر۔ )
واقعہ تحکیم کی صحیح تفصیلات کیا ہیں؟
اوپر کی تفصیل سے واضح ہو چکا ہے کہ واقعہ تحکیم کی جو روایات طبری میں بیان ہوئی ہیں، ان کا کوئی سر پاؤں نہیں ہے اور وہ انہی باغی راویوں کا گھڑا ہوا جھوٹ ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر صحیح روایات سے اس واقعے کی کیا تصویر سامنے آتی ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے جواب نے ہمیں اس مجبور کر دیا ہے کہ ہم احادیث و آثار اور تاریخ کے پورے ذخیرے کا جائزہ لیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ تحکیم جیسا اہم واقعہ، جس کے عینی شاہدین 800 کے قریب تھے، کے بارے میں کتب تاریخ میں بہت کم مواد موجود ہے۔ جو روایتیں ملتی ہیں، وہ یہی یونس بن یزید ایلی اور ابو مخنف کی بیان کردہ ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس واقعے کی تفصیلات کو جان بوجھ کر یا تو چھپایا گیا ہے، یا اس درجے میں مسخ کر دیا گیا ہے کہ حقیقت تک رسائی ممکن نہیں۔ البتہ بعد میں جو واقعات پیش آئے، ان سے ہم یہ نتائج اخذ کر سکتے ہیں کہ حضرت ابو موسی اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے اور انہوں نے معاملے کو مہاجرین و انصار کے سپرد کر دیا تھا۔ ہاں یہ دونوں اس بات پر متفق ہو گئے تھے کہ جب تک اتفاق رائے نہیں ہو جاتا، اس وقت تک حضرت علی عراق پر، اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما شام پر حکومت کرتے رہیں یہاں تک کہ اللہ تعالی ان میں اتفاق کی کوئی صورت پیدا کر دے۔
واقعہ تحکیم کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پہلے خوارج اور پھر ایرانیوں کی جانب سے بغاوت کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے اہل شام کے ساتھ اتفاق کی کوئی صورت نہ نکل سکی۔ خوارج کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں حضرت علی شہید ہوئے اور پھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اس معاملے کو اتفاق رائے تک پہنچا دیا۔
واقعہ تحکیم کے بعد کے واقعات
جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ واقعہ تحکیم کے بعد باغی تحریک میں پھوٹ پڑ گئی اور ان کا ایک بڑا حصہ خوارج کی شکل میں الگ ہو گیا۔ تین برس تک صورتحال یہ رہی کہ حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما اپنے اپنے علاقوں پر حکومت کرتے رہے۔ طبری کا بیان ہے کہ 40/660 میں حضرت علی اور معاویہ کے مابین جنگ بندی کا معاہدہ ہوا اور یہ طے پایا کہ دونوں اپنے اپنے علاقوں پر حکومت کرتے رہیں:
اسی سال حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان جنگ بندی کا فیصلہ ہوا۔ باہمی طویل خط و کتابت رہی۔ کتاب کی طوالت کے خوف سے ہم اس خط و کتابت کو نظر انداز کرتے ہیں۔ فیصلہ یہ قرار پایا کہ باہمی جنگ بندی کر دی جائے۔ عراق علی کی حکومت میں شمار ہو گا اور شام معاویہ کی حکومت میں۔ دونوں فریق ایک دوسرے کے علاقے پر نہ لشکر کشی کریں گے اور نہ کسی قسم کی غارت گری مچائیں گے۔( طبری۔ 3/2-346)
یہ معاہدہ یقیناً ہوا ہو گا اور ان دونوں جلیل القدر صحابہ سے اسی کی امید کی جا سکتی ہے۔ تاہم طبری نے اس سال 40/660کے بعض ایسے واقعات نقل کر دیے ہیں، جن پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔ ان کی تفصیل یہ ہے:
• حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بسر بن ابی ارطاۃ کی سرکردگی میں ایک فوج حجاز اور یمن پر حملہ کے لیے بھیجی جس نے وہاں ان کی فوج نے ظلم ڈھائے، اس کا کیا جواز تھا؟ جواباً حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جاریہ بن قدامہ اور وہب بن مسعود کو فوج دے کر بھیجا جنہوں نے نجران اور مکہ کے لوگوں پر ظلم و ستم کیا۔ اس کا جواز کیا تھا؟
• حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ دیا، اس کی وجہ کیا تھی؟
یہاں ہم ان دونوں سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔
کیا حضرت معاویہ و علی نے حجاز و یمن میں فوج کشی کی؟
طبری کی روایت میں بیان ہوا ہے کہ 40/660 میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بسر بن ابی ارطاۃ کی قیادت میں تین ہزار جنگجوؤں کا ایک لشکر حجاز بھیجا۔ اس لشکر نے مدینہ پر قبضہ کر لیا اور شہر کا کوئی شخص بھی مقابلے پر نہ نکلا۔ اہل مدینہ نے حضرت معاویہ کی بیعت کر لی۔ اس کے بعد یہ لشکر مکہ کی طرف بڑھا اور اس پر قبضہ کر لیا۔ وہاں ابو موسی اشعری حضرت علی رضی اللہ عنہما کی جانب سے گورنر تھے۔ بسر نے ان سے اچھا سلوک کیا۔ اس کے بعد یہ لشکر یمن کی طرف بڑھا جہاں عبیداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما گورنر تھے۔ عبیداللہ خوف سے فرار ہو کر کوفہ چلے آئے مگر اپنے گھر والوں کو یمن ہی چھوڑ آئے۔ بسر نے یمن میں شیعان علی کی ایک بڑی جماعت کو قتل کیا اور اس کے ساتھ عبیداللہ کے دو بچوں عبدالرحمن اور قثم کو بھی قتل کیا ۔اس کی اطلاع ملتے ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جاریہ بن قدامہ اور وہب بن مسعود کو دو ہزار کا لشکر دے کر بھیجا۔ جاریہ نے نجران شہر کو آگ لگا دی اور پورے شہر کو جلا کر راکھ کر دیا۔ اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بہت سے حامیوں کو قتل کیا۔ بسر اور اس کے ساتھی شام بھاگ گئے۔ ( ایضاً ۔ 3/2-345)
اس روایت میں سند اور متن کے اعتبار بہت سے مسائل ہیں۔ پہلے ہم اس روایت کا سند کے اعتبار سے تجزیہ کرتے ہیں اور پھر متن کے۔ طبری میں اس روایت کی یہ سند بیان ہوئی ہے، اس کی سند یہ ہے: فذكر عن زياد بن عبد الله البكائي، عن عوانة۔ اب ان دونوں حضرات کے بارے میں ماہرین جرح و تعدیل کی آراء پڑھیے۔
زیاد بن عبداللہ البکائی (d. 183/799)کے بارے میں ماہرین کی آراء یہ ہیں: ابو حاتم کہتے ہیں کہ بکائی سے روایت کرنا درست نہیں۔ ابن المدینی کے مطابق یہ ضعیف راوی ہیں، میں نے ان سے روایتیں لکھی بھی ہیں اور ترک بھی کی ہیں۔ ابن معین کے مطابق جنگوں کی تاریخ کے بارے میں ان کی روایتوں میں حرج نہیں لیکن دیگر امور میں ان کی روایتیں قبول نہ کی جائیں گی۔ نسائی کے نزدیک یہ صاحب ضعیف ہیں۔ ابن سعدکا کہنا ہے کہ وہ محدثین کے نزدیک ضعیف تھے لیکن ان کی روایتیں نقل کی جاتی تھیں۔ احمدبن حنبل البتہ یہ کہتے ہیں کہ ان کی حدیث ، سچے لوگوں کی حدیث ہے۔( ذہبی۔ میزان الاعتدال ، راوی نمبر 2952)
ان آراء کا خلاصہ یہ ہے کہ سوائے احمد بن حنبل کے، اکثر ماہرین کے نزدیک زیاد البکائی ضعیف ہے۔ دوسرے راوی عوانہ ہیں، جو غالباً عوانہ بن حکم الکلبی ہے۔ ان صاحب کی زیادہ تفصیلات ہمیں فن رجال کی کتب میں نہیں مل سکیں۔ صرف اتنا لکھا ہے:
عوانہ بن الحکم بن عیاض بن وزر الکلبی جن کی کنیت ابو الحکم کوفی تھی، بڑے اخباری (ماہر تاریخ) تھے اور فصیح لوگوں میں سے ایک تھے۔ ان کی کتابوں میں “التاریخ” اور “سیر معاویہ و بنی امیہ” اور دیگر کتب شامل ہیں۔ ان سے ہشام کلبی وغیرہ روایتیں کرتے تھے۔ وہ نقل کرنے کے معاملے میں “صدوق” یعنی سچے آدمی تھے (یعنی جو سچ یا جھوٹ ان کے سامنے بیان ہوتا، اسے ٹھیک ٹھیک نقل کر دیتے تھے۔) محمد بن اسحاق الندیم کا قول ہے کہ وہ 147/764 )میں فوت ہوئے۔ ( http://www.islamweb.net/newlibrary/showalam.php?id=1080 (ac. 29 Mar 2012)
واضح ہے کہ عوانہ جب 147/764 میں فوت ہوئے تو انہوں نے یہ روایت اس واقعے کے تقریباً سو برس بعد بیان کی ہو گی۔ عوانہ ہرگز اس واقعے کے عینی شاہد نہیں ہو سکتے۔ درمیان میں نجانے کتنی کڑیاں غائب ہیں اور ہمیں معلوم نہیں کہ یہ نامعلوم راوی کس قسم کے لوگ ہیں، قابل اعتماد ہیں بھی یا نہیں۔ جتنی نامکمل سند اس روایت کی موجود ہے، وہ تو قابل اعتماد نہیں ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ عوانہ کے شاگرد ہشام کلبی، جو انہی کے ہم قبیلہ ہیں، نے ان سے یہ باتیں منسوب کر دی ہوں۔
درایت کے اعتبار سے دیکھیے تو اس روایت کا سر پاؤں ہی سمجھ میں نہیں آتا۔ اس پر یہ سوال وارد ہوتے ہیں:
1۔ کیا تین ہزار کا لشکر اتنا بڑا ہو سکتا ہے جسے دیکھ کر مدینہ، مکہ اور یمن کے لوگ ذرا سی بھی مزاحمت نہ کریں اور عبیداللہ بن عباس اس کے خوف سے فرار ہو کر کوفہ چلے آئیں؟ یمن آج بھی ہمارے سامنے ہے جہاں لڑائی جھگڑے ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ کیا اس دور کے اہل یمن نے چوڑیاں پہن رکھی تھیں کہ تین ہزار کے لشکر کو دیکھتے ہیں اپنی گردنیں جھکا دیں کہ آؤ اور ہمیں قتل کر دو۔
2۔ جب انسان کسی خطرے کے سبب اپنا وطن چھوڑتا ہے تو سب سے پہلے اپنے بیوی بچوں کو وہاں سے نکالتا ہے۔ عبیداللہ بن عباس نے اپنی جان تو بچا لی لیکن اپنے بچوں کو وہیں چھوڑ آئے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟
3۔ کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ایسے نامعقول لوگوں کو بھیجیں گے جو پورے شہر نجران کو جلا کر راکھ کر دیں۔
4۔ عبداللہ اور عبیداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم ، دونوں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کزن ہیں۔ یہ دونوں حضرات حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں موجود تھے اور ان کے وفادار رہے۔ انہوں نے کبھی ان بچوں کے قتل کا گلہ تک نہ کیا۔ کیا کوئی شخص اپنے بچوں کے قاتل کے ساتھ وفادار رہ سکتا ہے؟ دلچسپ امر یہ ہے کہ عبیداللہ بن عباس کی بیٹی لبابہ کی شادی، حضرت معاویہ کے بھتیجے ولید بن عتبہ بن ابی سفیان سے ہوئی۔ ( مصعب الزبیری (156-236/773-851)۔ نسب قریش۔ 133۔ http://www.waqfeya.com (ac. 14 Aug 2012) )۔ اگر حضرت معاویہ نے ان کے بچوں کو قتل کروایا ہوتا تو یہ رشتہ کیسے طے پاتا؟
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت کسی نامعلوم شخص نے اس لیے وضع کی ہے کہ اس کی مدد سے حضرت معاویہ اور علی رضی اللہ عنہما کو بدنام کیا جا سکے۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
کیا حضرت عبداللہ بن عباس نے حضرت علی کا ساتھ چھوڑ دیا؟
راویوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما پر یہ تہمت باندھی ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ روایت تاریخ طبری میں موجود ہے مگر طبری نے اس ضمن میں خود ہی بیان کر دیا ہے کہ اس معاملے میں ان تک دو مختلف روایتیں پہنچی ہیں۔ لکھتے ہیں:
عام تاریخ نگار کہتے ہیں کہ اس سال یعنی 40/660 میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بصرہ چھوڑ کر مکہ چلے گئے تھے لیکن بعض اہل تاریخ نے اس کا انکار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس برابر بصرہ کے گورنر رہے یہاں تک کہ حضرت علی کی شہادت کے بعد حضرت حسن نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم سے صلح کر لی۔ اس (صلح) کے بعد عبدللہ بن عباس بصرہ چھوڑ کر مکہ چلے گئے تھے۔ ( طبری۔ 3/2-347)
اس کے بعد طبری نے ابو مخنف کی وہ روایت بیان کی ہے جس کے مطابق ایک باغی ابو الاسود وائلی نے حضرت علی کو ابن عباس کے بارے میں شکایتی خط لکھا جس میں ان پر مال میں کرپشن کا الزام لگایا۔ یہ باغی پارٹی کا ساتھی تھا اور اقتدار پر کنٹرول کے لیے بصرہ کا قاضی بنا ہوا تھا۔ خط کے جواب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے تعریفی سرٹیفکیٹ جاری کیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مال کا حساب طلب کیا۔ ابن عباس اس پر غصے ہو کر بصرہ چھوڑ گئے اور یہاں کے بیت المال کا سار امال لے گئے۔ اس موقع پر لوگوں میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ ( ایضاً ۔ 3/2-348)
واقعے کی سند طبری میں یہ بیان ہوئی ہے: حدثني عمر بن شبة، قال: حدثني جماعة عن أبي مخنف، عن سليمان ابن أبي راشد، عن عبد الرحمن بن عبيد أبي الكنود۔ اس روایت کے جھوٹ ہونے سے متعلق اتنا ہی کافی ہے کہ اس کی سند میں ابو مخنف موجود ہے۔ پھر ابو مخنف سے بھی ایک جماعت نے یہ روایت سنی ہے جس کے بارے میں معلوم نہیں کہ یہ کون لوگ تھے اور کس درجے میں قابل اعتماد تھے۔
یہ بات البتہ تسلیم کی جا سکتی ہے کہ باغیوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر کرپشن کا الزام عائد کیا ہو کیونکہ ان کی یہ عادت رہی تھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخلص ساتھیوں کو ان سے دور کیا جائے اور ان کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے۔ ابن عباس ان مخلصین میں تھے جو شروع سے لے کر اب تک حضرت علی کے ساتھ تھے اور باغی انہیں علیحدہ نہیں کر سکتے تھے۔ حضرت علی سے البتہ یہ امید نہیں کی جا سکتی ہے کہ وہ ایسے کسی الزام کے سبب اپنے چچا زاد بھائی ، جسے وہ بچپن سے جانتے ہیں، پر شک کریں اور باغیوں کو تعریفی سرٹیفکیٹ جاری کریں۔ عین ممکن ہے کہ ان باغیوں نے وہ خط خود ہی آپ کی جانب سے لکھ مارا ہو۔

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s