گائے کی کہانی

“اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو وہ بولے کیا تم ہم سے ہنسی کرتے ہو؟ (موسیٰ نے) کہا کہ میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں۔
انہوں نے کہا اپنے پروردگار سے التجا کیجئے کہ وہ ہمیں یہ بتائے کہ وہ گائے کس طرح کی ہو، (موسیٰ نے) کہا پروردگار فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ تو بوڑھی ہو اور نہ بچا۔ بلکہ ان کے درمیان (یعنی جوان) ہو سو جیسا تم کو حکم دیا گیا ہے ویسا کرو
انہوں نے کہا اپنے پروردگار سے درخواست کیجیے کہ ہم کو یہ بھی بتائے کہ اس کا رنگ کیسا ہو، موسیٰ نے کہا پروردگار فرماتا ہے کہ اس کا رنگ گہرا زرد ہو کہ دیکھنے والوں (کے دل) کو خوش کر دیتا ہو،
انہوں نے کہا (اب کے) پروردگار سے پھر درخواست کیجئے کہ ہم کو بتادے کہ وہ اور کس کس طرح کا ہو کیونکہ بہت سی گائیں ہمیں ایک دوسرے کے مشابہ معلوم ہوتی ہیں ، پھر خدا نے چاہا تو ہمیں ٹھیک بات معلوم ہو جائے گی
موسیٰ نے کہا خدا فرماتا ہے کہ وہ گائے کام میں لگی ہوا نہ ہو، نہ تو زمین جوتتی ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہو، اس میں کسی طرح کا داغ نہ ہو، کہنے لگے اب تم نے سب باتیں درست بتا دیں، غرض (بڑی مشکل سے) انہوں نے اس گائے کو ذبح کیا اور وہ ایسا کرنے والے تھے نہیں۔(البقرہ ۲: ۷۳-۶۷)
تفصیل و وضاحت
گائے کو ذبح کرنے کے حکم پر بنی اسرائیل کی کٹ حجتیاں:۔ بنی اسرائیل میں ایک مالدار شخص مارا گیا جسے اس کے بھتیجوں نے جنگل میں موقعہ پا کر قتل کیا اور رات کے اندھیرے میں کسی دوسرے شخص کے مکان کے سامنے پھینک دیا۔ اس کے قاتل کا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو وحی کی کہ اس قوم کو حکم دو کہ وہ ایک گائے ذبح کریں۔ گائے ذبح کرنے کا حکم کیوں دیا گیا تھا اس پر دو نقطہ نظر پائے جاتے ہیں ۔ روایتی نقطہ نظر یہ ہے کہ ذبح شدہ گائے کے گوشت کا ٹکڑا مارنے سے مردہ لاش جی اٹھتی اور اور بول کر قاتل کا پتہ بتا دیتی۔دوسرا نقطہ نظر کے مطابق بنی اسرائل میں قسامہ کا طریقہ رائج تھا۔جس میں جب قاتل کا سراغ نہ ملتا تو اس مقام پر مشتبہ اور متعلقہ لوگوں کو جمع کیا جاتا اور کسی جانور کو ذبح کرکے یہ تمام لوگ اس کے خون سے ہاتھ دھوتے اور قسم کھاتے کہ انہوں نے یہ قتل نہیں کیا ہے یا وہ قاتل کو نہیں جانتے۔
گائے کو ذبح کرنے کا حکم دراصل بنی اسرائیل کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کے مترادف تھا۔ گؤ سالہ پرستی کے جراثیم اور گائے بیل سے محبت اور اسے دیوتا سمجھنے کا عقیدہ ابھی تک ان میں موجود تھا۔ لہذا ایک تکلیف تو انہیں یہ ہوئی کہ جس چیز کو قابل پرستش سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے اسی چیز کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ دوسرے انہیں یہ یقین نہیں تھا کہ اس طرح گائے ذبح کرنے سے قاتل کا سراغ کس طرح مل سکتا ہے۔ لہذا موسیٰ علیہ السلام سے یوں کہہ دیا کہ ہم سے دل لگی کرتا ہے۔” موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں تو تمہیں اللہ کا حکم بتا رہا ہوں، دل لگی نہیں کر رہا۔ کیونکہ ایسی دل لگی کرنا جاہلوں کا کام ہے۔”
اگر بنی اسرائیل ایک فرمانبردار قوم ہوتے اور کوئی سی گائے بھی ذبح کر دیتے تو حکم کی تعمیل ہو جاتی، مگر کٹ حجتی اور ٹال مٹول، حتیٰ کہ نافرمانی ان کی رگ رگ میں بھری ہوئی تھی۔ کہنے لگے اچھا ہمیں اپنے پروردگار سے پوچھ کر بتاؤ وہ گائے کیسی ہونی چاہیے؟” اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا۔ ”وہ گائے جوان ہونی چاہیے، بوڑھی یا کم عمر نہ ہو۔ پھر دوسری مرتبہ یہ سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ سے پوچھ کر ہمیں بتاؤ کہ اس کا رنگ کیسا ہونا چاہیے؟” اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا کہ ”وہ گہرے زرد رنگ کی ہونی چاہیے، جو دیکھنے والے کے دل کو خوش کر دے۔” اب بھی حکم بجا لانے پر طبیعت آمادہ نہ ہوئی تو تیسری مرتبہ یہ سوال کر دیا کہ ایسی صفات کی گائیں تو ہمارے ہاں بہت سی ہیں ہمیں پوچھ کر بتایا جائے کہ ”اس کی مزید صفات کیا ہوں؟” تاکہ ہمیں کسی متعین گائے کا علم ہو جائے جس کی قربانی اللہ تعالیٰ کو منظور ہے۔” اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا کہ ”وہ گائے ایسی ہونی چاہیے جس سے ابھی تک کھیتی باڑی کا کام لینا شروع ہی نہ کیا گیا ہو یعنی نہ وہ ہل کے آگے جوتی گئی ہو اور نہ کنویں کے آگے۔ تندرست ہو اور صحیح و سالم ہو۔ یہ نہ ہو کہ کسی بیماری یا کمزوری کی وجہ سے کام نہ لیا جا رہا ہو اور اس میں کوئی داغ بھی نہ ہو۔”

گائے ذبح کرنے میں کٹ حجتیوں کی سزا:۔ غرض یہ کہ یہ قوم جتنے سوال کرتی گئی، پابندیاں بڑھتی ہی گئیں۔ ان ساری پابندیوں کے بعد بس اب ان کے ہاں صرف ایک ہی گائے رہ گئی جو تقریباً سنہری رنگ کی بے داغ اور جواں تھی اور ایسی ہی گائے ہوتی تھی جسے پوجا پاٹ کے لیے انتخاب کیا جاتا تھااور جس سے بنی اسرائل کی گہری وابستگی تھی۔
مرکزی خیال:
اس واقعے کا مرکزی خیال یہی ہے کہ اللہ کے احکامات پر سمعنا واطعنا یعنی ہم نے سن لیا اور اطاعت کی کا طرز عمل اختیار کرنا چاہئے۔ نیز یہ کہ غیر ضروری سوالات بعض اوقات مشکل میں پھنسا دیتے ہیں۔
تذکیری و اخلاقی پہلو
۱۔ سمعنا واطعنا
جب ایک شخص اللہ کی بندگی کا اقرا ر کرنے کا عہد کرلے تو پھر یہ ممکن نہیں کہ وہ رب کے احکامات پر پس و پیش کا اظہار کرے۔ بنی اسرائیل کو جب گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے اس پر اپنے اعتراضات کرنے شروع کردئیے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس حکم کو ٹالنا چاہتے تھے۔
۲۔اجمال کی نعمت
دین میں یہ اجمال اور سادگی ایک نعمت ہے لیکن جو لوگ دین کے مزاج سے ناواقف ہوتے ہیں وہ اپنے اور دوسروں کے لئے مشکلات کھڑی کرتے رہتے ہیں۔ ہم مسلمانوں میں بھی بے شمار معاملات ایسے ہیں جو دین میں مجمل اور آسان بیان ہوئے ہیں لیکن لوگوں کی بے جا کھوج کی وجہ سے ان پر عمل درآمد مشکل تر ہوجارہا ہے۔ مثال کے طور پر نماز کو لے لیجئے۔ نماز میں ہاتھ کانوں تک اٹھائے جائیں یا کاندھوں تک، تشہد میں انگلی مسلسل ہلائی جائے یا ایک بار، رکوع میں کمر کتنی سیدھی ہو، سجدے میں ناک کی ہڈی کتنی سختی سے زمین پر ٹکے؟ یہ سب وہ بحثیں ہیں جو اصل مقصود نہیں بلکہ نماز کے بنیادی مقصد یعنی خدا کی یاد سے دور کرنے والی ہیں۔
۳۔سوال کرنے کا انداز
دین میں سوال کرنے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ سوال کرنے کا عمل علم میں اضافے کا اہم ذریعہ ہے۔ لیکن سوال کرنے کا ادب اور طریقہ یہ ہے کہ سنجیدگی، متانت اور اخلاص کو مدنظر رکھا جائے۔ بنی اسرائیل نے س اندازمیں سوال کیا اس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ غیر سنجیدہ تھے نیز وہ اس حکم پر عمل کی بجائے اس سے گریز کرنے پر زیادہ آمادہ تھے۔
۴۔ آسانی کی نعمت اور ہمارا معاشرہ
بعض اوقات دین میں ایک چیز بہت سادہ اور آسان طریقے سے بیان کی جاتی ہے لیکن غیر ضروری سوالات کی کثرت اس حکم کو پیچیدہ اور بعض اوقات ناقابل عمل بنادیتی ہے۔ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج فرض ہے۔ ایک شخص وہاں بیٹھا تھا وہ پوچھنے لگا کہ کیا ہر سال فرض ہے۔ آپ خاموش رہے۔ اس نے پھر اپنا سوال دہریا۔ تو آپ نے ناراض لہجے میں اسے جواب دیا کہ اگر میں کہوں ہر سال فرض ہے تو تم سے نبھایا نہ جائے گا۔ اسی طرح ایک حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راوی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دین بہت آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی کرے گا وہ اس پر غالب آجائے گا، پس تم لوگ میانہ روی کرو اور (اعتدال سے) قریب رہو اور خوش ہو جاؤ (کہ تمہیں ایسا دین ملا) اور صبح اور دوپہر کے بعد اور کچھ رات میں عبادت کرنے سے دینی قوت حاصل کرو۔( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 38)
چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دین کی فراہم کردہ آسانی سے فائدہ اٹھائیں ناکہ اسے مزید دشوار بنالیں۔

تحریر و ترتیب: پروفیسر محمد عقیل
نوٹ: اس مضمون کا ترجمہ و تفسیر مولانا عبدالرحمٰن کیلانی کی تیسیر القرآن سے لیا گیا ہے۔

16 responses to this post.

  1. Looked over this great site and bought a steam shower and never looked
    backwards, terrific resources on this site cant thank you enough

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s