قصہ قارون


(القصص 28: 76-83)
ترجمہ
بلاشبہ قارون موسیٰ کی قوم (بنی اسرائیل) سے تھا: پھر وہ اپنی قوم کے خلاف ہوگیا (اور دشمن قوم سے مل گیا) اور ہم نے اسے اتنے خزانے دیئے تھے جن کی چابیاں ایک طاقتور جماعت بمشکل اٹھا سکتی تھی۔ ایک دفعہ اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا”: اتنا اتراؤ نہیں” اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
جو مال و دولت اللہ نے تجھے دے رکھا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کرو اور دنیا میں بھی اپنا حصہ فراموش نہ کرو اور لوگوں سے ایسے ہی احسان کرو جیسے اللہ تمہارے ساتھ بھلائی کی ہے۔ اور ملک میں فساد پیدا کرنے کی کوشش نہ کرو کیونکہ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔وہ کہنے لگا: ” یہ تو جو کچھ مجھے ملا ہے اس علم کی بدولت ملا ہے جو مجھے حاصل ہے” کیا اسے یہ معلوم نہیں۔ سو اللہ اس سے پہلے ایسے بہت سے لوگوں کو ہلاک کرچکا ہے جو قوت میں اس سے سخت اور مال و دولت میں اس سے زیادہ تھے۔؟
اور مجرموں کے گناہوں کے متعلق ان سے تو نہ پوچھا جائے گا۔
پر (ایک دن) وہ اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے بڑے ٹھاٹھ باٹھ سے نکلا۔ جو لوگ حیات دنیا کے طالب گار تھے وہ کہنے لگے: کاش ہمیں بھی وہی کچھ میسر ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے، وہ تو بڑا ہی بختوں والا ہے۔مگر جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے: جو شخص ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو اس کے لئے اللہ کے ہاں جو ثواب ہے وہ (اس سے) بہتر ہے۔ اور وہ ثواب صبر کرنے والوں کو ہی ملے گا۔
پھر ہم نے قارون اور اس کے گھر کو (سب کچھ) زمین میں دھنسا دیا تو اس کے حامیوں کی کوئی جماعت ایسی نہ تھی جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتی اور نہ ہی وہ خود بدلہ لے سکا۔اب وہی لوگ جو کل تک قارون کے رتبہ کی تمنا کر رہے تھے،کہنے لگے”:ہماری حالت پر افسوس! اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کا رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کا چاہے تنگ کردیتا ہے۔ اگر اللہ ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا۔ افسوس! اصل بات یہ یہی ہے کہ کافر لوگ فلاح نہیں پاسکتے۔یہ آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لئے مخصوص کر دیتے ہیں جو زمین میں بڑائی یا فساد نہیں چاہتے اور (بہتر) انجام تو پرہیزگاروں کے لئے ہے۔
تفصیل ووضاحت
قارون بنی اسرائیل سے تعلق رکھتا تھا اور حضرت موسیٰ کا چچازاد بھائی تھا۔ اللہ نے اسے بے پناہ دولت عطا کر رکھی تھی اور وہ پورے علاقے کا رئیس اعظم تھا۔ آدمی مالدار بھی تھا اور ہوشیار بھی۔ لہذا فرعون کے دربار میں اس نے ممتاز مقام حاصل کر لیا اور فرعون اور ہامان کے بعد تیسرے نمبر پر اسی کا شمار ہونے لگا۔قارون کی شان و شوکت دیکھ کر لوگ دو گروہوں میں منقسم ہوگئے۔ ایک عامی سطح کے لوگ جو قارون جیسی دولت ہی کی تمنا کرنے لگے۔ دوسرے وہ اہل علم تھے جو دنیا کی حقیقت کو جانتے تھے اور آخرت کی زندگی کو ہی اصل حیات سمجھتے تھے۔ان بزرگ لوگوں نے از راہ نصیحت سمجھایا کہ اگر اللہ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اپنے آپ کو ضبط اور کنٹرول میں رکھو، بات بات پر اترانا کوئی اچھی بات نہیں ہوتی اور نہ ہی اللہ ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے۔
قارون اس نصیحت کے جواب میں کہنے لگا: میری دولت میں دوسروں کا حق کیسے آگیا۔ یہ ساری دولت میں نے خود کمائی ہے۔ محنت کرکے کمائی ہے۔ اپنے ہنر ، تجربہ اور قابلیت کی بنا پر کمائی ہے۔ پھر اس میں دوسروں کا حق کیوں کر شامل ہوگیا؟ جو تم مجھے دوسروں کا حق ادا کرنے کی تلقین کرنے لگے ہو۔ اس استکبار کی بنا پر اللہ نے قارون کو اس خزانے سمیت دھنسادیا۔
تذکیری و اخلاقی پہلو
۱۔رزق میں فراوانی کی حقیقت
انسان کو جو رزق ملتا ہےاس کے بارے میں چند باتیں نوٹ کرنی چاہئیں۔ ایک تو یہ کہ دنیا کا رزق آزمائش کے اصول پر ملتا ہے محض قابلیت کی بنیاد پر نہیں۔ دوسرا پہلو یہ کہ رزق انسان کو بعض اوقا ت اس کی محنت اور قابلیت کے سبب بھی ملتا ہے لیکن صرف محنت یا قابلیت ہی اس کی وجہ نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر ایک غریب شخص دن و ررات جاگ کر تعلیم حاصل کرتا اور ان تھک محنت کے بعد ترقی کرتا ہوا ایک اہم عہدے پر فائز ہوجاتا ہے۔ یہاں وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ میری قابلیت کی بنا پر ملا ہے میں کیوں اللہ کا شکر کروں؟ یہ ایک مغالطہ ہے۔ اس کی محنت اور لیاقت اپنی جگہ لیکن اس اس محنت اور لیاقت کا مثبت نتیجہ پیدا کرنے میں اللہ کی مشیت ہی کارفرما ہے۔ ورنہ کتنے لوگ ہیں جو محنت کرتے ہیں اور لائق بھی ہیں لیکن جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں۔دوسری جانب اس شخص کی محنت اور لیاقت کا سبب بھی اللہ کا فضل و کرم ہی ہے ۔ چنانچہ ہر صورت میں اللہ ہی شکر کا سزاوار ہے۔
۲۔ دولت کی بے ثباتی
فرعون کو یہ بھی خیال نہ آیا کہ دولت ڈھلتی چھاؤں ہے اس کے پاس اگر جمع ہوگئی ہے تو اس سے چھن بھی سکتی ہے۔ پھر یہ دولت کیا امن و سلامتی کی بھی ضامن بن سکتی ہے؟ کتنے ہی لوگ تھے جو اس سے طاقت اور دولت میں بڑھ کر تھے لیکن جب انہوں نے سرکشی دکھلائی تو اللہ نے تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ اور اپنی ساری دولت اور خزانے اپنے پیچھے چھوڑ کر انتہائی بے بسی اور حسرت و یاس کی موت مرگئے۔
۳۔ دولت مندوں کی آزمائش
دولت مند اور امیر لوگوں کی آزمائش کے سوالات مشکل ہوتے ہیں۔ دولت مند کی حیثیت ایک تیز بھاگنے والے شخص کی طرح ہوتی ہے جو اس گمان میں ہوتا ہے کہ وہ ریس جیت لے گا ۔ لیکن یہی بے جا خود اعتمادی اور تکبر اسے اکثر سستی میں مبتلا کردیتی اور نتیجہ اس کی شکست کی صورت میں نکلتا ہے۔ دولت مند شخص کے ساتھ تکبر، غرور ، خدا فراموشی ، ظلم و استبداد اور بخل و اسراف جیسی آفات لگی ہوتی ہیں۔ چنانچہ دولت مند لوگوں کی آزمائش یہ ہوتی ہے کہ وہ اس دولت کی نعمت پر اللہ کا شکر ادا کریں، اس کے بندوں کی انفاق کے ذریعے مدد کریں، فلاح و بہبود کے کامو ں میں حصہ لیں، اپنی نفسیات پر تکبر کی بجائے انکساری کو حاوی کریں وغیرہ۔قارون سے بھی یہی مطالبہ تھا کہ وہ اس دولت کو اللہ کی آزمائش سمجھتے ہوئے ان آفات سے نبٹنے کی سعی کرے تاکہ وہ آخرت کی اصل دولت کا مستحق ہوسکے۔
۳۔ زمین میں فسادپھیلانے کا مفہوم
فساد کے لفظ کا اطلاق عموماً چوری، ڈاکہ، غصب، غبن لوٹ مار اور قتل و غارت کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے جبکہ شرعی اصطلاح فساد فی الارض کے معنوں میں اس سے بہت زیادہ وسعت ہے یعنی وہ کام جس میں انسان اپنے حق سے تجاوز کر رہا ہو یا دوسرے کے حق پامال کررہا ہو وہ فساد فی الارض کے ضمن میں آئے گا۔ قارون کے قصہ میں اللہ نے قارون کو فساد فی الارض کا مجرم قرار دیا ہے۔ حالانکہ وہ نہ چوری کرتا تھا نہ لوٹ مار، نہ قتل و غارت ان میں سے کوئی کام بھی نہیں کرتا تھا۔ اس کا فساد فی الارض یہ تھا کہ اس کے مال میں دوسروں کاحق شامل تھا وہ اسے ادا نہیں کر رہا تھا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص دھوکے سے یا جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال بیچ رہا ہے۔ تو اگرچہ معاشرہ اسے فسادی نہیں سمجھتا لیکن شرعی لحاظ سے وہ فسادی ہے۔ کیونکہ اس نے فریب یا جھوٹی قسم کے ذریعہ چیز کی اصل قیمت سے زیادہ وصول کرکے خریدار کو نقصان پہنچایا یا اس کا حق غصب کیا ہے گویا فساد سے مراد انسانی زندگی کے نظام کا وہ بگاڑ ہے جو حق سے تجاوز کرنے کے نتیجہ میں لازماً رونما ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر احکام الٰہی سے تجاوز کرتے ہوئے انسان جو کچھ بھی کرتا ہے وہ فساد ہی فساد ہے اور سب سے بڑا فساد اللہ کی حق تلفی یا شرک ہے۔
۴۔ دولت مندی کی تمنا
عام طور پر وہ لوگ جو دولت سے محروم ہوتے ہیں جب کسی صاحب حیثیت شخص کی کار ، مکان، بینک بیلنس اور طرز زندگی دیکھتے ہیں تو اس پر رشک کرتے اور اس جیسا بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسا کرنا اگر جائز حدود میں ہو تو کوئی بری بات نہیں ۔ لیکن یہ رشک کرنے والے لوگ بھول جاتے ہیں کہ وہ امیر شخص مطلق عیش و آرام کی زندگی نہیں گذاررہا اور اسکے ساتھ بہت سی مصیبتیں بھی لگی ہوئی ہیں۔ نیز یہ رشک کرنے والے لوگ اس ظاہری پہلو کو دیکھ کر آخرت کی زندگی کو فراموش کردیتے اور اپنی سرگرمیوں کا مرکز روٹی کپڑا مکان اور بہتر طرز زندگی کو بنا لیتے ہیں۔ اسی رویہ کی اس قصے میں مذمت کی گئی ہے۔ ورنہ دولت حاصل کرنا اور اسے استعمال کرنا کوئی ممنوع کام نہیں ۔البتہ اگر اس عمل کا نتیجہ آخرت اور خدا فراموشی کی صورت میں نکلے تو قابل مذمت ہے۔
۵۔ آج کے قارون کیوں نہیں برباد ہوتے؟
ایک سوال یہ ہے کہ اگر قارون کو اس کے غلط روئیے کی بنا پر فنا کردیا گیا تو آج بھی بے شمار لوگ قارون بنے ہوئے ہیں جو عوام کی دولت اور وسائل پر قابض ہیں اور قارون سے زیادہ بخیل ہیں لیکن یہ لوگ تو آج دندناتے پھر رہے ہیں۔ اس کا جواب یہی ہے کہ جب اللہ کا پیغمبر دنیا میں موجود ہوتا ہے تو بہت سے معجزات کا ظہور ہوتا رہتا ہے۔ چنانچہ قارون حضرت موسی علیہ السلام کے سامنے اس روئیے کا مرتکب ہوا اور فنا کردیا گیا لیکن اس کا اصل حساب کتاب اور سزا آخرت میں ہی ہوگی۔ اگر ہر قارون اور فرعون کو اس دنیا میں ہی پکڑ کر سز ا دے دی جائے تو کوئی بھی اپنے رادے کا آزادانہ استعمال نہیں کرے گا۔ چنانچہ آج کے قارون بے شک اس دنیا میں سزا سے بچ رہے ہیں لیکن ان کی حقیقی سزا آخرت ہی میں ممکن ہے۔

تحریر و ترتیب: پروفیسر محمد عقیل
نوٹ: اس تحریر کا ترجمہ و وضاحت مولانا عبدالرحمٰن کیلانی کی تفسیر تیسیر القرآن سے نقل کیا گیا ہے۔

Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by Sabir Ansari on 04/03/2013 at 9:33 شام

    Thank you brother AQIL and salam to you.If you have an article on (
    talaaq according to quran ) please send me.If not ,please write from
    quran. with salaam m s ansari pakistan.

    جواب دیجیے

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s