حضرت ایوب علیہ السلام


(الانبیاء -۲۱: ۸۴-۸۳)
ترجمہ
اور یہی نعمت ہم نے ایوب کو بھی دی تھی جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا”:مجھے بیماری لگ گئی ٧ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے”۔چنانچہ ہم نے ان کی دعا قبول کی اور جو بیماری انھیں لگی تھی اسے دور کر دیا۔ اور انھیں ہم نے صرف اس کے اہل و عیال ہی نہ دیئے بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیئے اور یہ ہماری طرف سے خاص رحمت تھی اور (اس میں بھی) عبادت گزاروںکے لئے ایک سبق تھا۔
تفصیل ووضاحت
حضرت ایوب کی شخصیت، زمانہ، قومیت، ہر چیز کے بارے میں اختلاف ہے ۔ جدید زمانے کے محققین میں سے کوئی ان کو اسرائیلی قرار دیتا ہے، کوئی مصری اور کوئی عرب ۔ کسی کے نزدیک ان کا زمانہ حضرت موسیٰ سے پہلے کا ہے، کوئی انھیں حضرت داؤد و سلیمان کے زمانے کا آدمی قرار دیتا ہے، اور کوئی ان سے بھی متاخر ۔ لیکن سب کے قیاسات کی بنیاد اس سِفْرِ ایوب یا صحیفہ ایوب پر ہے جو بائیبل کے مجموعہ کتب مقدسہ میں شامل ہے ۔ اسی کی زبان، انداز بیان، اور کلام کو دیکھ کر یہ مختلف رائیں قائم کی گئی ہیں ، نہ کہ کسی اور تاریخی شہادت پر ۔ اور اس سِفْرِ ایوب کا حال یہ ہے کہ اس کے اپنے مضامین میں بھی تضاد ہے اور اس کا بیان قرآن مجید کے بیان سے بھی اتنا مختلف ہے کہ دونوں کو بیک وقت نہیں مانا جا سکتا۔ لہٰذا ہم اس پر قطعاً اعتماد نہیں کر سکتے ۔ زیادہ سے زیادہ قابل اعتماد شہادت اگر کوئی ہے تو وہ یہ ہے کہ یسعیاہ نبی اور حزقی ایل نبی کی صحیفوں میں ان کا ذکر آیا ہے ، اور یہ صحیفے تاریخی حیثیت سے زیادہ مستند ہیں ۔ یسعیاہ نبی آٹھویں صدی اور حزقی ایل نبی چھٹی صدی قبل مسیح میں گزرے ہیں، اس لیے یہ امر یقینی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام نویں صدی یا اس سے پہلے کے بزرگ ہیں ۔ رہی ان کی قومیت تو سورہ نساء آیت 163 اور سورہ انعام آیت 84 میں جس طرح ان کا ذکر آیا ہے اس سے گمان تو یہی ہوتا ہے کہ وہ بنی اسرائیل ہی میں سے تھے، مگر وہب بن منَبّہ کا یہ بیان بھی کچھ بعید از قیاس نہیں ہے کہ وہ حضرت اسحاق کے بیٹے عیسُو کی نسل سے تھے۔
آپ کی بعثت کا زمانہ ڈیڑھ ہزار سال قبل مسیح ہے۔ آپ کثرت اموال و اراضی میں مشہور تھے۔ ستر سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی۔ پھر آپ پر اللہ کی طرف سے آزمائش کا دور جو آیا تو ہر چیز ہاتھ سے نکل گئی۔ اور ایسے بیمار پڑے کہ ایک بیوی کے سوا سب نے ساتھ چھوڑ دیا۔ آپ نے اس بیماری میں اور مال و دولت کے چھن جانے پر صبر و استقامت کا ایسا بے مثال مظاہرہ کیا جو ضرب المثل بن چکا ہے۔ صحیح روایات کے مطابق آپ کا دور ابتلاء ١٣ سال ہے۔ جب آپ اس امتحان میں کامیاب اترے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بیماری بھی دور کر دی اور مال و دولت بھی پہلے سے دو گنا عطا فرمایا اور صابر کا لقب بھی عطا فرمایا۔ 140 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔
کتاب و سنت نے حضرت ایوب کی جس خصوصیت سے ہمیں متعارف کرایا ہے۔ وہ آپ کا صبر ہے۔ آپ کا ابتدائی زمانہ نہایت خوشحالی کا دور تھا۔ مال کی سب اقسام: اولاد، بیویاں، جائیداد غرضیکہ سب کچھ واثر مقدار میں عطا ہوا تھا اور آپ کثرت اموال و اراضی میں مشہور تھے۔ اس دور میں آپ ہمیشہ اللہ کا شکر بجا لاتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دوسری طرح آزمانا چاہا اور آپ پر ابتلا کا دور جو آیا کہ ہر چیز ہاتھ سے نکل گئی۔ اور اپنا یہ حال تھا کہ کسی طویل بیماری میں مبتلا ہوگئے اور ایسے بیمار پڑے کہ ایک بیوی کے سوا سب نے ساتھ چھوڑ دیا۔ بلکہ لوگوں نے اپنی بستی سے باہر نکال دیا۔ اس ابتلاء کے طویل دور میں آپ نے صبر استقامت کا ایسا بے مثال مظاہرہ کیا جو ضرب المثل بن چکا ہے۔ صحیح روایات کے مطابق آپ کے ابتلاء کا دور ١سال ہے۔ پھر جب اللہ سے اپنی بیماری کے لئے دعا کی تو اس دعا میں شکر و شکایت نام کو نہیں۔ بلکہ عرض بدعا نہیں، کسی چیز کا مطالبہ نہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی انتہائی صابر، قانع اور خوددار آدمی اپنے مالک کو کوئی بات یاد کرا رہا ہو۔ کہا تو صرف اتنا کہا کہ پروردگار! میں طویل مدت سے بیمار ہوں اور تو ارحم الراحمین ہے۔
جب حضرت ایوب اس صبر کے امتحان میں بھی پوری طرح کامیاب ہوگئے تو رحمت باری جوش میں آگئی۔ آپ کی یہی بے مطالبہ دعا یوں مقبول ہوئی کہ اللہ نے اسی مقام پر ایک چشمہ رواں کردیا۔ آپ کو صرف یہی حکم ہوا کہ اپنا پاؤں زمین پر مارو۔ پاؤں مارنے کی دیر تھی کہ چشمہ پھوٹ پڑا۔ جس کا پانی میٹھا، ٹھنڈا، شفا بخش اور جلدی امراض کو دور کرنے والا تھا۔ آپ نے اس میں غسل فرمایا کرتے اور اسی کا پانی لیتے رہے۔ آپ کی بیماری، جلد کی بیماری تھی۔ جو اس طرح غسل کرنے اور پانی ملتے رہنے سے جلد ہی دور ہوگئی اور جتنا مال و دولت اور آل اولاد اللہ تعالیٰ آپ کو پہلے عطا فرمائی تھی۔ اس سے دگنی عطا فرما دی اور یہ اللہ کی رحمت اور آپ کے صبر کا پھل تھا۔
عبادت گزاری کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انسان خوشحالی کے دور میں اللہ کا شکر بجا لاتا ہے اور تنگی اور تنگدستی کے دور میں صبر و استقامت سے کام لے۔ جیساکہ حضرت ایوب نے نمونہ پیش کیا تھا اس جملہ میں سبق یہ ہے کہ جو شخص بھی اس طرح اللہ کا عبادت گزار بنتا ہے۔ ایوب کی طرح اللہ تعالیٰ اسے بھی پہلے سے زیادہ انعامات سے نوازتا ہے۔
سوالات:
۱۔ حضرت ایوب کس زمانے میں مبعث ہوئے؟
۲۔ آپ جب بیمار ہوئے تو آپ نے کن الفاظ میں اللہ سے دعا کی؟
۳۔ حضرت ایوب کے واقعے سے کیا سبق ملتا ہے؟
۴۔ ھجرت ایوب کا مرض کس طرح دور ہوا؟
۵۔ حضرت ایوب کی آزمائش کتنے عرصے جاری رہی؟
مرتب: پروفیسر محمد عقیل

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s