پانچ جاتے ہیں چار پھرتے ہیں


پاکستان میں سیاسی تبدیلی آگئی۔ نواز شریف نے مسند اقتدار پر قدم رکھ دیا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے 14 برس قبل ان کو نکالا گیا تھا۔ اس کے بعد اس مسند پر ظفر اللہ جمالی، چوہدری شجاعت، شوکت عزیز، محمد میاں سومرو، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور میر ہزار خان کھوسو فائز رہے۔ مگر سب ایک کے بعد ایک رخصت ہوگئے۔ جبکہ میاں نواز شریف کو اقتدار سے فارغ کرنے والے پرویز مشرف کو بھی اقتدار چھوڑنا پڑا اور ان کے انتخاب کے وقت وہ اسی شہر اسلام آباد میں نظر بند تھے۔ اس کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ نواز شریف کو بھی جلد اقتدار چھوڑنا ہوگا۔

یہ حکومت کے اقتدار کی کہانی ہے جسے ہر حال میں ہر شخص کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ زندگی کے اقتدار کی کہانی بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ یہ دھرتی جس پر آج ہم آباد ہیں۔ کبھی اس پر فرعون، شداد، چنگیز، سکندر اور دارا جیسے انتہائی طاقتور لوگ حکمران تھے۔ صرف سو برس قبل دنیا کی تقریباً سو فیصد آبادی ان لوگوں پر مشتمل تھی جو آج نہیں اور اگلے سو برسوں میں وہ تمام لوگ مرچکے ہوں گے جو آج اس دھرتی کے خشک و تر کے مالک بنے ہوئے ہیں۔

سب کا انجام سب کی منزل قبر کا گڑھا ہے۔ مگر انسان کو معاملہ یہ ہے کہ وہ اس سب سے بڑی حقیقت سے غافل ہو کر جیتا ہے۔ وہ ایسے جیتا ہے جیسے اسے کبھی نہیں مرنا۔ مگر جب مرتا ہے تو ایسا ہوجاتا ہے جیسے کبھی موجود ہی نہ تھا۔ یہ غافل حرام مال جمع کرتا ہے۔ مگر چھوڑ کر قبر میں جاگرتا ہے۔ یہ حرام کمائی سے بڑے گھر بناتا ہے۔ لیکن قبر کی تنگی اس کا انجام بنتی ہے۔ وہ مصاحبوں کے جمگھٹے میں جیتا ہے۔ اور آخر کار چار کاندھوں پر لاد کر قبر میں ڈال دیا جاتا ہے۔ کاش یہ حقیقت ہر حکمران کو یاد رہے۔ کاش یہ حقیقت ہر انسا ن کو یاد رہے۔

ہائے غافل وہ کیا جگہ ہے جہاں

پانچ جاتے ہیں چار پھرتے ہیں

تحریر: ابو یحی

Advertisements

One response to this post.

  1. Posted by نجم الحسن on 12/06/2013 at 5:05 صبح

    كل نفس ذائقة الموت

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s