حضرت موسیٰ علیہ السلام


سیدنا یعقوب اور ان کی اولاد جو سیدنا یوسف کے عہد بادشاہی میں مصر میں آ کر آباد ہوئے تھے اب لاکھوں کی تعداد تک پہنچ چکے تھے اور محکومانہ اور مقہورانہ زندگی گزار رہے تھے۔ سیدنا یوسف اور سیدنا موسیٰ علیہما السلام کا درمیانی عرصہ تقریباً چار سو سال ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا مشن یہ تھا کہ انہیں فرعون کی غلامی سے آزاد کرا کر واپس اپنے وطن فلسطین میں لے جائیں اور اس علاقہ میں وہ حاکمانہ حیثیت سے آباد ہوں۔
پہلا حصہ :حضرت موسیٰ کی پیدائش (القصص ۲۸ آیات ۳ تا ۱۳)
ترجمہ
ہم آپ کو موسیٰ اور فرعون کے بالکل سچے حالات پڑھ کر سناتے ہیں: ان لوگوں کے (فائدے کے) لئے جو ایمان لاتے ہیں۔ فرعون نے ملک (مصر) میں سرکشی اختیار کر رکھی تھی۔ اور اپنی رعیت کو کئی گروہ بنا دیا تھا اور ان میں سے ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو بہت کمزور بنا رکھا تھا۔ وہ اس گروہ کے لڑکوں کو تو قتل کر دیتا مگر لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ بلاشبہ وہ (معاشرہ میں) بگاڑ پیدا کرنے والوں سے تھا۔ اور ہم یہ چاہتے تھے کہ جس گروہ کو اس ملک میں کمزور بنایا گیا تھا اس پر احسان کریں، انھیں سردار بنائیں اور (اس ملک کے) وارث بنائیں۔ اور انھیں اس ملک میں اقتدار بخشیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دکھا دیں جس کا انھیں ان (بنی اسرائیل) سے خطرہ تھا۔ ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف الہام کیا کہ اس بچے (موسیٰ) کو دودھ ١پلاتی رہو۔ پھر جب تجھے اس (کے قتل) کا خطرہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا اور نہ کچھ خود رکھنا اور نہ غم کھانا ہم اس بچے کو تیرے طرف ہی لوٹا دینگے اور اسے اپنا رسول بنا دیں گے۔
چنانچہ فرعون کے گھر والوں نے اس بچے کو اٹھا لیا کہ وہ ان کے لئے دشمن اور رنج کا باعث بنے بلاشبہ فرعون، ہامان اور ان کے لشکر خطا کار لوگ تھے۔ اور فرعون کی بیوی فرعون سے کہنے لگی: یہ بچہ تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، کیا عجیب کہ یہ ہمارے لئے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنالیں اور وہ (اس کے انجام سے) بے خبر تھے۔ اور موسیٰ کی والدہ کا دل سخت بے قرار ہوگیا۔ اور اگر ہم اس کی دھارس نہ بندھاتے تو قریب تھا کہ وہ راز فاش کردیتی۔ (ڈھارس بندھانے کا دوسرا فائدہ یہ تھا) کہ وہ (ہمارے موسیٰ کو واپس اس کے پاس لوٹانے کے وعدہ پر) یقین کرنے والوں سے ہوجائے۔ چنانچہ اس نے موسیٰ کی بہن سے کہا کہ: اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ” چنانچہ وہ آنکھیں بچا کر دیکھتی رہی اور دوسروں کو اس کا پتہ نہ چل سکا۔ اور ہم نے پہلے سے ہی موسیٰ پر دائیوں کا دودھ حرام کر دیا تھا۔ اس وقت موسیٰ کی بہن نے کہا: کیا میں تمیں ایسے گھرانے کا پتہ بتلاؤں جو تمہارے لئے اس (بچہ) کی پرورش کریں اور وہ (اس بچہ) کے خیرخواہ بھی ہوں؟۔ چنانچہ (اس طرح) ہم نےموسیٰ کو اس کی والدہ ہی کی طرف لوٹا دیا تاکہ وہ اپنی آنکھ ٹھنڈی کرے اور غمزدہ نہ رہے اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے۔
سبق آموز پہلو
۱۔اللہ قادر مطلق ہیں
اس واقعے سے ایک سبق یہ ملتا ہے کہ اللہ قادر مطلق ہیں۔ فرعون لاکھ چاہا کہ وہ بنی اسرائل کے لڑکوں کو قتل کرادیں لیکن اللہ نے نہ صرف حضرت موسی کو بچالیا بلکہ اسی کے گھر میں انکی پرورش کا سامان کردیا۔
۲۔اللہ تعالی کریم ہیں
اللہ نے نہ صرف حضرت موسی کو بچاکر محل میں پرورش کا انتظام کردیا بلکہ حضرت موسی کی والدہ کو سکون و راحت پہنچانے کے لئے انہیں بھی حضرت موسی کے قریب کردیا جو اللہ کی کرم نوازی کا ایک پہلو ہے۔
سوالات
۱۔ حضرت موسی کس طرح فرعون کے دربا ر پہنچے؟
۲۔ اللہ نے حضرت موسی کی ماں کو اپنے بچے سے کس طرح ملوایا؟

دوسرا حصہ :حضرت موسیٰ کی ہجرت( القصص ۲۸ آیات ۱۴ تا ۲۸)
ترجمہ
اور جب موسیٰ اپنی جوانی کو پہنچے اور پورے توانا ہوگئے تو ہم نے انھیں قوت فیصلہ اور علم عطا کیا اور ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیں۔ اور موسیٰ شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب اہل شہر غفلت میں تھے۔ وہاں موسیٰ نے دو آدمیوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھا۔ ان میں ایک تو موسیٰ کی اپنی قوم سے تھا اور دوسرا دشمن کی قوم سے۔ جو موسیٰ کی اپنی قوم سے تھا اس نے موسیٰ سے اس کے خلاف فریاد کی جو دشمن کی قوم سے تھا۔ موسیٰ نے اسے مکا مارا تو اس کا کام ہی تمام کردیا۔ موسیٰ نے کہا: یہ تو ایک شیطانی حرکت ہے۔ بلاشبہ شیطان صریح بہکانے والا دشمن ہے۔ پھر دعا کی: ”پروردگار! بلاشبہ میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔ لہذا مجھے معاف فرما دے۔ چنانچہ اللہ نے اسے معاف کردیا۔ بلاشبہ وہ بڑا بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ پھر یہ عہد کیا کہ : ”پروردگار! تو نے جو مجھ پر انعام کیا ہے تو میں کبھی مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا۔ پھر دوسرے دن صبح سویرے، ڈرتے ڈرتے اور خطرے کو بھانپتے ہوئے شہر میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہی شخص جس نے کل ان سے مدد مانگی تھی (آج پھر) ان سے فریاد طلب کر رہا ہے۔ موسیٰ نے جواب: تو تو صریح گمراہ شخص ہے۔
پھر جب موسیٰ نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کرے تو وہ پکار اٹھا: ”موسیٰ! کیا تم مجھے بھی مار دالنا چاہتے ہو۔ جسے کل تم نے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا؟ تم تو ملک میں جبار بن کر رہنا چاہتے ہو۔ اصلاح نہیں کرنا چاہتے۔ اور (اس واقعہ کے بعد) ایک شخص شہر کے پرلے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا: ”موسیٰ! اہل دربار تیرے متعلق مشورہ کر رہے ہیں کہ تمہیں قتل کر ڈالیں لہذا یہاں سے نکل جاؤ۔ میں یقینا تمہارا خیرخواہ ہوں”۔ چنانچہ ڈرتے ڈرتے اور ہر طرف سے خطرہ کو بھانپتے ہوئے نکلے اور دعا کی: پروردگار! مجھے ان ظالم لوگوں سے بچالے”۔ پر جب انہوں نے مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے امید ہے میرا پروردگار مجھے ٹھیک راستے میں ڈال دے گا۔ پھر جب وہ مدین کے کنویں پر پہنچے تو دیکھا کہ بہت سے لوگ (اپنے جانوروں کو) پانی پلا رہے ہیں اور ان سے ہٹ کر ایک طرف دو عورتیں (اپنی بکریوں کو) روکے ہوئے کھڑی ہیں۔ موسیٰ نے ان سے پوچھا تمہارا کیا معاملہ ہے؟ وہ کہنے لگیں: ”ہم اس وقت پانی پلا نہیں سکتیں جب تک یہ چرواہے پانی پلا کر واپس نہ چلے جائیں اور ہمارا باپ بہت بوڑھا ہے”۔ چنانچہ موسیٰ نے ان عورتوں کی بکریوں کو پانی پلا دیا ۔ پھر ایک سائے دار جگہ پر جا ٣بیٹھے اور کہا: ”میرے پروردگار! جو بھلائی بھی تو مجھے پر نازل کرے، میں اس کا محتاج ہو۔ اتنے میں ان دونوں عورتوں میں سے ایک عورت شرم سے کانپتی ہوئی ان کے پاس آئی اور کہنے لگی: ”آپ نے ہماری بکریوں کو جو پانی پلایا ہے تو میرا باپ آپ کو بلاتا ہے تاکہ آپ کو اس کا اس کا صلہ دے” ٣پھر جب موسیٰ اس شخص (شعیب) کے پاس آئے اور انھیں اپنا سارا حال سنایا تو اس نے کہا: ڈرو نہیں۔ تم نے ان ظالموں سے نجات پالی”۔ ان میں سے ایک بولی، اباجان! اسے اپنا نوکر رکھ لیجئے۔ بہترین آدمی جسے آپ نوکر رکھنا چاہیں وہی ہوسکتا ہے جو طاقتور اور امین ہو۔ ۔شعیب نے کہا (موسیٰ)! میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا تجھ سے اس شرط پر نکاح کر دوں کہ تم میرے ہاں آٹھ برس ملازمت کرو۔ اور اگر دس سال پورے کردو تو تمہاری مہربانی۔ میں اس معاملہ میں تم پر سختی نہیں کرنا چاہتا۔ انشاء اللہ! تم مجھے ایک خوش معاملہ آدمی پاؤ گے”۔ موسیٰ نے جواب دیا: یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی۔ جونہی مدت بھی میں پوری کرو مجھ پر کچھ دباؤ نہ ہوگا۔ اور جو کچھ ہم قول و قرار کر رہے ہیں اس پر اللہ نگہبان ہے۔
سبق آموز پہلو
۱۔حق پرستی مطلوب ہے
حضرت موسی نے پہلے اپنی قوم کے فرد کا ساتھ دیا کیونکہ آپ سمجھتے تھے کہ وہ حق پر ہے لیکن دوسری مرتبہ جب اس شخص کے بارے میں معلوم ہوگیا کہ یہی فسادی ہے تو آپ اس کے مخالف ہوگئے ۔ جس سے آپ کو نقصان تو پہنچا لیکن آپ نے حق پرستی کی ایک مثال قائم کردی۔
۲۔ توبہ
حضرت موسی سے غلطی سے ایک شخص کا قتل ہوگیا تو آپ نے فورا معافی مانگ اور اللہ نے معاف بھی کردیا۔ اس سے یہ بات پتا چلتی ہے کہ غلطی کی صورت میں فوری طور پر معافی مانگ لینا ہی پیغمبروں کی سنت ہے۔
۳۔ اللہ بڑا کارساز ہے
حضرت موسی بے سروسامانی کے عالم میں مصر کو چھوڑ کر مدین کی جانب نکلے اور وہاں آپ نے اللہ ہی سے لو لگا کر صدق دل سے دعا کی۔ اللہ نے کچھ ہی دیر میں آپ کی رہائش ، کھانے پینے ، روزگار اور بیوی کا بندوبست کردیا جب حضرت شعیب علیہ السلام نے آپ کی داستان سننے کے بعد اپنی ایک بیٹی کا نکاح آپ سے کردیا اور ساتھ ہی ایک متعین مدت تک انہیں داماد بنا کر بھی رکھا۔
سوالات
۱۔ حضرت موسی نے پہلے مرحلے پر اپنی قوم کے آدمی کی مدد کی یا دوسری قوم کے آدمی کی؟
۲۔ حضرت موسی کیوں مصر سے فرار ہوئے ؟
۳۔ کنویں پر حضرت موسی نے اللہ سے کن الفاظ میں دعا مانگی؟
۴۔ حضرت موسی کو ان کے ہونے والے سسر نے کیا پیشکش کی؟

تیسرا حصہ :حضرت موسیٰ کی مصر روانگی (القصص ۲۸ آیات ۲۹ تا ۳۵)
ترجمہ
پھر جب موسیٰ نے وہ مدت پوری کر لی اور اپنے اہل خانہ کو لے کر چلے تو طور (پہاڑ) کے ایک طرف انھیں آگ نظر آئی، انہوں نے اپنے اہل خانہ سے کہا تم یہاں ٹھہرو میں نے ایک آگ سی دیکھی ہے۔ شاید میں وہاں سے تمہارے ئے کچھ (راستہ کی) خبر یا آگ کاکوئی انگارا ہی اٹھا لاؤں تاکہ تم سینک سکو۔ پھر جب موسیٰ وہاں پہنچے تو وادی کے کنارے مبارک خطہ کے ایک درخت سے آواز آئی کہ: ”اے موسیٰ! میں ہی اللہ ہوں۔ سارے جہانوں کا پروردگار۔ اور (اللہ نے حکم دیا) کہ اپنی لاٹھی پھینکو۔ پھر جب موسیٰ نے اس (پھینکی ہوئی) لاٹھی کو دیکھا تو وہ یوں حرکت کر رہی تھی جیسے کوئی سانپ ہے۔ موسیٰ پیٹھ پھیر کر پیچھے ہٹے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) آگے بڑھواور ڈرو نہیں تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔ (نیز) اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ بغیر کسی تکلیف کے چمکتا ہوا نکلے گا۔ اور اگر ذرا محسوس ہو تو اپنا بازو اپنے ٤جسم، سے لگا لو ۔ سو یہ تیرے پروردگار کی طرف سے دو معجزے ہیں جنہیں تم فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کرسکتے ہو۔ وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں ۔موسیٰ نے عرض کیا: پروردگار! میں نے ان کے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا لہذا مجھے خطرہ ہے کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے۔ اور میرے بھائی ہارون کی زبان مجھ سے زیادہ صاف ہے اسے میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تصدیق کرے! مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم تیرے بھائی سے تیرا بازو مضبوط کر دیں گے اور تم دونوں کو ایسا غلبہ عطا کریں گے کہ وہ تم پر دست درازی نہ کرسکیں گے۔ ہمارے معجزات کی وجہ سے تم دونوں اور تمہارے پیروکار ہی غالب رہیں گے۔
سوالات
۱۔ حضرت موسی کو کیا معجزات عطا ہوئے؟
۲۔ آپ کو کس پہاڑ سے آگ نظر آئی؟
۳۔ جب آُ پ کو نبوت عطا ہوئی تو آُپ اللہ سے کیا درخواست کی؟

چوتھا حصہ :حضرت موسیٰ کی فرعون کو دعوت(القصص ۔۲۸: ۳۶ تا ۳۹)
ترجمہ
پھر جب موسیٰ ہمارے واضح معجزات لے کر ان (فرعونیوں) کے پاس آجائے تو وہ کہنے لگے: یہ تو محض شعبدہ کی قسم کا جادو ہے اور ایسی باتیں تو ہم نے اپنے سابقہ باپ دادوں سے کبھی سنی ہی نہیں۔ موسیٰ نے کہا: اس شخص کا حال تو میرا پروردگار ہی خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور اسی شخص کو بھی وہی جانتا ہے جس کے لئے آخرت کا گھر ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ظالم لوگ کبھی فلاح نہیں پاتے۔ ۔اور فرعون نے کہا: اے درباریو! میں تو اپنے علاوہ تمہارے لئے کسی الہٰ کو جانتا نہیں۔ سواےہامان! تو مٹی (کی اینٹوں) آگ سے پکا کر پھر میرے لئے ایک اونچی عمارت تیار کر تاکہ میں موسیٰ کے الٰہ کو جھانک سکوں اور میں اسے جھوٹا آدمی ہی سمجھتا ہوں۔ اور فرعون اور اس کے لشکر اس ملک میں ناحق ہی برے بن بیٹھے تھے اور انھیں یقین ہوگیا تھا کہ ہمارے حضور واپس نہ لائے جائیں گے۔
سوالات
۱۔جب حضرت موسی فرعون کے پا س دلائل لے پہنچے تو فرعون نے کیا جوب دیا؟
۲۔اللہ نے فرعون اور اس کے حواریوں پر کیا تبصرہ فرمایا؟

پانچواں حصہ :حضرت موسیٰ کا جادوگروں سے مقابلہ(طہ ۔۲۰: ۵۷تا۷۷)
ترجمہ
فرعون موسیٰ سے کہنے لگا: کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دے؟۔ سو ہم بھی اس قسم کا جادو لاتے ہیں لہذا اپنے اور ہمارے درمیان (مقابلہ کے لئے) ایک وقت مقرر کر لے جس کی خلاف ورزی نہ تم کرو نہ ہم کریں۔ اور اس جگہ پہنچنا (دونوں کے لئے) یکساں ہو”۔ موسیٰ نے جواب دیا: ”اچھا یہ وعدہ (عید کے دن) ہے اور لوگ چاشت کے وقت جمع ہوں”۔ چنانچہ فرعون لوٹ گیا اور اپنے سارے ہتھکنڈے جمع گئے اور مقابلہ پر آگیا۔ اس وقت موسیٰ نے لوگوں سے کہا: ”تم پر افسوس! اللہ کے ذمہ جھوٹی باتیں نہ لگاؤ ورنہ وہ عذاب سے تمہیں غارت کر دے گا۔ کیونکہ جس نے بھی جھوٹ گھڑا ، ناکام ہی رہا۔
پھر اس معاملہ میں وہ (آل فرعون) آپس میں جھگڑنے گئے اور خفیہ مشورہ کرنے لگے۔ آخر کچھ لوگوں نے کہا: ”یہ دونوں جادوگر ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دیں اور تمہارے مثالی طریق زندگی کو ختم کردیں۔ لہٰذا اپنی سب تدبیریں اکٹھی کرو اور متحد ہو کر مقابلہ میں آؤ اور سمجھ لو کہ جو آج غالب رہا وہ جیت گیا”۔ پھر موسیٰ سے کہنے لگے”:موسیٰ تم ڈالتے ہو یا پہلے ہم ڈالیں؟”۔ موسیٰ نے کہا”:تم ہی ڈالو” پھر ان کے جادو کے اثر سے ایسا معلوم ہوتا تھا ان کی رسیاں اور لاٹھیاں یکدم دوڑنے لگی ہیں۔
یہ دیکھ کر موسیٰ اپنے دل میں ڈر گئے۔ ہم نے (وحی کے ذریعہ) اسے کہا: ڈرو مت، غالب تم ہی رہو گے۔ جو کچھ تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے اسے پھینک دو جو کچھ ان جادوگروں نے بنا رکھا ہے وہ سب کچھ ہڑپ کر جائے گا ۔ انہوں نے تو صرف جادو کی فریب کاری ہی بنائی ہے اور جادوگر جہاں بھی (حقیقت کے مقابلہ میں) آئے کامیاب نہ ہوسکتا۔ چنانچہ (یہ منظر دیکھ کر) جادوگر بے ساختہ سجدہ میں گر پڑے۔ کہنے لگے”:ہم ہارون اور موسیٰ کے پروردگار پر ایمان لے آئے”۔ فرعون بول اٹھا: ”تم میری اجازت کے بغیر ہی اس پر ایمان لے آئے، یقینا موسیٰ تمہارا بڑا گروہ ہے جس نے تمہیں جادو سکھلایا ہے۔ اب میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں میں کٹوا دوں گا اور کھجور کے تنوں میں تمہیں سولی چڑھاؤں گا اور تمہیں خوب معلوم ہوجائے گا کہ ہم دونوں (میں اور موسیٰ) میں سے کس کی سزا شدید تر اور دیرپا ہے”۔ جادوگر کہنے لگے: ”جس ذات نے ہمیں پیدا کیا ہے اور جو کچھ ہمارے پاس واضح دلائل آچکے ہیں ان پر ہم تجھے کبھی ترجیح نہیں دے سکتے۔ لہذا جو کچھ تو کرنا چاہتا ہے کر لے۔ تو تو بس اس دنیا کی زندگی کا ہی خاتمہ کرسکتا ہے ۔بلاشبہ ہم اپنے پروردگار پر ایمان لاچکے ہیں تاکہ وہ ہماری خطائیں معاف کردے اور وہ جادو بھی جس پر تو نے ہمیں مجبور کردیا تھا۔ اور اللہ ہی بہتر اور سدا باقی رہنے والا ہے”۔
سبق آموز پہلو
۱۔جادوگروں کی اخلاقی حالت
جادو گروں کی اخلاقی کیفیت میں تغیر کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مقابلے سے قبل وہ فرعون کی قربت کے متمنی تھے اور اس سے انعام و اکرام پر بارگیننگ کررہے تھے۔ لیکن جب ان پر حق واضح ہوگیا اور علم ہوگیا کہ حضرت موسی کے پا س ان جیسا جادو نہیں بلکہ اس سے بلند تر ایک ملکوتی علم ہے تو سجدے میں گر گئے اور ایمان لے آئے۔ یہاں تک کہ فرعون کی دھمکیا ں بھی ان کی اقدام میں جنبش پیدا نہ کرسکیں۔
۲۔ فرعون کی ہٹ دھرمی
ایک طرف تو جادوگر معجزہ دیکھ کر ہر قیمت پر ایمان لانے پر مصر ہوگئے لیکن دوسری جانب اسی معجزے کو فرعون نے دیکھا لیکن وہ ہٹ دھرمی پر آمادہ ہوگیا اور جادوگروں پر سیاست کے انداز میں ہٹ الزام لگانے لگا۔ اس سے ثابت ہوا کہ اگر کوئی شخص نہ ماننا چاہے تو بڑے سے بڑا معجزہ بھی اس کے لئے بے کار ہے۔
سوالات:
۱۔ جادوگروں نے اسلام کیوں قبول کیا؟
۲۔ فرعون نے جادوگروں کے ایمان لانے پر کیا چال چلی؟

چھٹا حصہ : فرعون کی سختیاں (الاعراف سورۃ ۷ آیت ۱۲۷ تا ۱۳۵)
اور فرعون کی قوم کے سردار فرعون سے کہنے لگے: ”کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یونہی چھوڑ دے گا کہ زمین میں فساد مچاتے پھریں اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں” وہ کہنے لگا: ”میں ان کے بیٹوں کو مروا ڈالوں گا اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دوں گا اور ہمیں ان پر پوری قدرت حاصل ہے۔”
موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: ”اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ یہ زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بنا دے اور انجام (خیر) تو پرہیز گاروں ہی کے لیے ہے”
وہ موسیٰ سے کہنے لگے : ”تمہارے آنے سے پہلے بھی ہمیں دکھ دیا جاتا تھا اور تمہارے آنے کے بعد بھی دیا جارہا ہے” موسیٰ نے جواب دیا: ”عنقریب تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا اور اس سر زمین میں تمہیں خلیفہ بنادے گا پھر دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو”
پھر ہم نے آل فرعون کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید وہ کوئی سبق حاصل کریں۔
پھر جب انہیں کوئی بھلائی پہنچتی تو کہتے کہ ہم اسی کے مستحق تھے” اور جب کوئی تکلیف پہنچتی تو اسے موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کی نحوست بتلاتے۔ حالانکہ نحوست تو اللہ کے ہاں ان کی اپنی تھی۔ لیکن ان میں اکثر لوگ یہ بات سمجھتے نہ تھے
نیز وہ موسیٰ سے کہتے کہ : ”ہمیں مسحور کرنے کے لیے جو بھی معجزہ تو ہمارے پاس لائے گا ہم تیری بات کو ماننے والے نہیں”
آخر ہم نے ان پر طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون کا عذاب ایک ایک کرکے مختلف وقتوں میں نشانیوں کے طور پر بھیجا۔ پھر بھی وہ اکڑے ہی رہے۔ کیونکہ وہ تھے ہی مجرم لوگ۔
اور جب ان پر کوئی عذاب آن پڑتا تو کہتے: ”موسیٰ! تیرے پروردگار نے تجھ سے جو (دعا قبول کرنے کا) عہد کیا ہوا ہے تو ہمارے لیے دعا کر۔ اگر تو ہم سے عذاب کو دور کردے گاتو ہم یقینا تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ روانہ کر دیں گے”۔پھر جب ہم ان سے وہ عذاب( ایک اور قسم کا عذاب آنے کی) مدت تک ہٹا دیتے تو وہ عہد شکنی کر دیتے تھے۔
سبق آموز پہلو
۱۔ جنت مشکلات سے ڈھکی ہوئی ہے
جنت کا حصول کوئی آسان کام نہیں اس کے لئے بڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔ بنی اسرائل کی قوم بھی اسی آزمائش سے گذری جب فرعون نے انکے نوزائد بیٹوں کا قتل شروع کردیا۔ حضرت موسی نے انہیں صبر کی ہدایت کی جس کا مطلب تمام مشکلات کے باوجود حق پر جم جانا ہے۔
۲۔اسبا ب و علل کا فتنہ
جب فرعونیوں پر عذاب آتا تو وہ حضرت موسی سے دعا کرواتے کہ کسی طرح یہ عذاب دور ہوجائے اور جب عذاب ٹل جاتا تو دوبارہ اپنی سرکشیوں پر آمادہ ہوجاتے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ سب کچھ اسباب کی تحت ہورہا ہے۔ آج کا انسان بھی کچھ مختلف نہیں۔ جب اس پر مصیبت آتی ہے تو خدا کی جانب بھاگتا ہے اور جب وہ دور ہوجاتی ہے تو پھر خدا کو بھول کر اپنی خرمستیوں میں ملوث ہوجاتے ہیں۔
سوالات
۱۔ فرعون پر اللہ تعالیٰ نے کون کون سے عذاب بھیجے؟
۲۔ فرعون پر جزوی عذاب بھیجنے کی کیا وجہ تھی جبکہ اسے اور اس کے لشکر کو ہلاک بھی کیا جاسکتا تھا؟

ساتواں حصہ :حضرت موسیٰ کی فرعون کے تسلط سے آزادی(یونس ۱۰ آیات ۸۳ تا ۹۲)
ترجمہ
چنانچہ موسیٰ پر اس کی قوم کے چند نوجوانوں کے سوا کوئی بھی ایمان نہ لایا۔ انھیں یہ خطرہ تھا کہ کہیں فرعون اور اس کے درباری انھیں کسی مصیبت میں نہ ڈال دیں اور فرعون تو ملک میں بڑا غلبہ رکھتا تھا اور وہ حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا۔
اور موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو اور واقعی اس کے فرمانبردار ہو تو اسی پر بھروسہ کرو
وہ کہنے لگے: ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا ہے۔ اے ہمارے پروردگار! ہمیں ان ظالموں کا تختہ مشق نہ بنا
اور اپنی رحمت سے ہمیں ان کافر لوگوں سے بچا لے”
ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لئے مصر میں گھر منتخب کرواور ان گھروں کو قبلہ بنا کر نماز قائم کرو اور اہل ایمان کو خوشخبری دےدو۔
اور موسیٰ نے اللہ سے دعا کی: ”پروردگار! تو نے اس دنیا کی زندگی میں فرعون اور اس کے درباریوں کو ٹھاٹھ باٹھ اور اموال دے رکھے ہیں کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے گمراہ کرتے رہیں۔ پروردگار! ان کے اموال کو غارت کردے اور ان کے دلوں کو ایسا سخت بنا دے کہ جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں، ایمان نہ لائیں”
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم دونوں کی دعا قبول ہوچکی تم ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کی پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے
اور ہم نے بنی اسرائیل کو (جب) سمندر سے پار گزار دیا تو فرعون اور اس کے لشکروں نے از راہ ظلم و سرکشی ان کا تعاقب کیا۔ حتیٰ کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو بولا: میں اس بات پر ایمان لاتا ہوں کہ ”الٰہ صرف وہی ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں اس کا فرمانبردار ہوتا ہوں”
( فرمایا) اب (تو ایمان لاتا ہے) جبکہ اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا
آج تو ہم تیری لاش کو بچا لیں گے تاکہ تو بعد میں آنے والوں کے لئے نشان عبرت بنے، اگرچہ اکثر لوگ ہماری آیتوں سے غفلت ہی برتتے ہیں۔
سبق آموز پہلو
۱۔ مشکلات میں نماز
بنی اسرائیل پر فرعون کی سختیا ں بڑھتی گئیں تو اللہ نے ہدایت کی کہ وہ نماز کا اہتمام کریں۔ نماز ہر انفرادی و اجتماعی مشکل میں اللہ سے مدد حاصل، اس کی جانب متوجہ ہونے اور اسے اپنی جانب متوجہ کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
۲۔ دعا کی قبولیت
فرعون کی ریشہ دوانیاں اپنی انتہا کو پہنچ گئیں اور اسے ہر طرح کی تنبیہ دے دی گئیں لیکن وہ باز نہ آیا۔ چنانچہ حضرت موسی نے ان کی بربادی کی دعا مانگی جو قبول ہوگئی۔ لیکن یہ دعا اس وقت قبول ہوئی جب اللہ کی مشیت تھی۔ اس دوران فرعون نے کئی بچوں کو قتل کیا، بے شمار غلاموں پر تشدد کیا اور بنی اسرائل کو کئی جسمانی و نفسیاتی اذیتیں پہنچائیں۔ لیکن اللہ نے بنی اسرائل کی فریاد کے باجود فرعون کا موقع دیا۔ لیکن جب اتمام حجت ہوگئی تو پھر اس کو ایک ساعت کی مہلت نہ ملی۔ اس سے علم ہوتا ہے کہ دعا کی قبولیت اللہ کا اختیار ہے وہ جس طرح چاہیں اور جب چاہیں اسے قبول کریں یا اسے قیامت تک موخر کردیں۔
۳۔ فرعون کا حشر
فرعون جب ڈوبنے لگا تو ایمان لے آیا لیکن اس کا ایمان رد کردیا گیا۔ اس سے علم ہوتا ہے کہ ایمان غیب ظاہر ہونے سے قبل قبول کیا جانا معتبر ہے اور جب غیب منکشف ہوجائے اور آسمان سے روح قبض کرنے والے فرشتے نازل ہوکر ظاہر ہوجائیں تو ایمان کی قبولیت کا کوئی فائدہ نہیں۔
۴۔فرعون کی لاش
جب فرعون ڈوبنے لگا تو اللہ نے نہ صرف اس کا دعوہ ایمان رد کردیا بلکہ اس کی لاش کو دنیا والوں کے لئے عبرت کا نمونہ بنانے کی پیشین گوئی کی۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک پیشین گوئی فرمائی ہے کہ ہم فرعون کی لاش کو محفوظ رکھیں گے تاکہ بعدمیں آنے والے لوگوں کے لیے وہ باعث عبرت ہو۔ اپنے آپ کو خداکہلوانے والے کی لاش کو دیکھ کر آنے والی نسلیں سبق حاصل کریں۔ چنانچہ اللہ کا فرمان سچ ثابت ہوا اور اس کا ممی شدہ جسم 1898ء میں دریائے نیل کے قریب تبسیہ کے مقام پر شاہوں کی وادی سے اوریت نے دریافت کیا تھا۔جہاں سے اس کو قاہرہ منتقل کر دیا گیا۔اس وقت سے ممی قاہرہ کے عجائب گھر میں سیاحو ں کے لیے سجی ہوئی ہے۔ اس کا سر اورگردن کھلے ہوئے ہیں اورباقی جسم کو ایک کپڑے میں چھپاکرر کھا ہواہے۔
سوالات
۱۔ فرعون جب آخری وقت میں ایمان لایا تو اللہ نے اس کا ایمان قبول کیوں نہیں کیا؟
۲۔ فرعون کی لاش کے بارے میں اللہ نے کیا پیشین گوئی کی؟
۳۔ فرعون کی لاش کس میوزیم میں محفوظ ہے؟
۴۔ جب بنی اسرائیل نے حضرت موسی سے فرعون کے ظلم و ستم کی شکایت کی تو انہیں کیا ہدایت کی گئی؟
۵۔حضرت موسی پر ابتدا میں کون لوگ ایمان لائے؟
آٹھواں حصہ: صحرائی زندگی(الاعراف ۱۳۸:۷ تا ۱۵۷)
ترجمہ
بنی اسرائیل کو ہم نے سمندر سے گزار دیا، پھر وہ چلے اور راستے میں ایک ایسی قوم پر ان کا گزر ہوا جو اپنے چند بتوں کی گرویدہ بنی ہوئی تھی۔ کہنے لگے، ” اے موسیٰ، ہمارے لیے بھی کوئی ایسا معبود بنا دے جیسے اِن لوگوں کے معبود ہیں۔ ” موسیٰ نے کہا ” تم لوگ بڑی نادانی کی باتیں کرتے ہو۔
یہ لوگ جس طریقہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ تو برباد ہونے والا ہے اور جو عمل وہ کر رہے ہیں وہ سراسر باطل ہے۔” پھر موسیٰ نے کہا ” کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لیے تلاش کروں؟ حالانکہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں دنیا بھر کی قوموں پر فضیلت بخشی ہے۔اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرعون والوں سے تمہیں نجات دی جن کا حال یہ تھا کہ تمہیں سخت عذاب میں مبتلا رکھتے تھے، تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے ربّ کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔ ”
ہم نے موسیٰ کو تیس شب و روز کے لیے(کوہِ سینا پر) طلب کیا اور بعد میں دس دن کا اور اضافہ کر دیا ، اِس طرح اس کے ربّ کی مقرر کردہ مدّت پورے چالیس دن ہوگئی۔ موسیٰ نے چلتے ہوئے اپنے بھائی سے کہا کہ ” میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ٹھیک کام کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا۔” جب وہ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر پہنچا اور اس کے ربّ نے اس سے کلام کیا تو اس نے التجا کی کہ ” اے ربّ، مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں۔”فرمایا” تو مجھے نہیں دیکھ سکتا۔ ہاں ذرا سامنے کے پہاڑ کی طرف دیکھ، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو البتہ تو مجھے دیکھ سکے گا۔ ” چنانچہ اس کے ربّ نے جب پہاڑ پر تجلّی کی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ غش کھا کر گِر پڑا۔ جب ہوش آیا تو بولا ” پاک ہے تیری ذات، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والا میں ہوں۔
” فرمایا ” اے موسیٰ، میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میری پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو، پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجا لا۔”
اس کے بعد ہم نے موسیٰ کو ہر شعبہ زندگی کے متعلق نصیحت اور ہر پہلو کے متعلق واضح ہدایت تختیوں پر لکھ کر دے دی اور اس سے کہا ” اِن ہدایات کو مضبوط ہاتھوں سے سنبھال اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں۔ عنقریب میں تمہیں فاسقوں کے گھر دکھاؤں گا۔
ہماری نشانیوں کو جس کسی نے جھٹلایا اور آخرت کی پیشی کا اِنکار کیا اس کے سارے اعمال ضائع ہوگئے۔ کیا لوگ اِس کے سِوا کچھ اور جزا پا سکتے ہیں کہ جیسا کریں ویسا بھریں؟ ”
موسیٰ کے پیچھے اس کی قوم کےلوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پتلا بنایا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی ۔ کیا انہیں نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے نہ کسی معاملہ میں ان کی رہنمائی کرتا ہے ؟ مگر پھر بھی انہوں نے اسے معبود بنا لیا اور وہ سخت ظالم تھے ۔
پھر جب ان کی فریب خوردگی کا طلِسم ٹوٹ گیا اور انہوں نے دیکھ لیا کہ درحقیقت وہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ ” اگر ہمارے ربّ نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہوجائیں گے۔
” ادھر سے موسیٰ غصّے اور رنج میں بھرا ہوا اپنی قوم کی طرف پلٹا۔ آتے ہی اس نے کہا ” بہت بری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد! کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوا کہ اپنے ربّ کے حکم کا انتظار کر لیتے؟ ” اور تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا ۔ ہارون نے کہا ” اے میری ماں کے بیٹے، اِن لوگوں نے مجھے دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے، پس تو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اور اس ظالم گروہ کے ساتھ مجھے نہ شامل کر۔”
تب موسیٰ نے کہا ” اے ربّ، مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما، تو سب سے بڑھ کر رحیم ہے۔” (جواب میں ارشاد ہوا کہ) ” جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا وہ ضرور اپنے رب کے غضب میں گرفتار ہو کر رہیں گے اور دنیا کی زندگی میں ذلیل ہوں گے ۔ جھوٹ گھڑنے والوں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں ۔
اور جو لوگ برے عمل کریں پھر توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں تو یقینا اِس توبہ و ایمان کے بعد تیرا رب درگزر اور رحم فرمانے والا ہے ” ۔
پھر جب موسٰی کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے وہ تختیاں اٹھالیں جن کی تحریر میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ،
اور اس نے اپنی قوم کے ستّر آدمیوں کو منتخب کیا تاکہ وہ (اس کے ساتھ) ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر حاضر ہوں ۔ جب اِن لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آپکڑا تو موسٰی نے عرض کیا ” اے میرے سرکار، آپ چاہتے تو پہلے ہی اِن کو اور مجھے ہلاک کر سکتے تھے۔کیا آپ اس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کر دیں گے؟ یہ تو آپ کی ڈالی ہوئی ایک آزمائش تھی جس کے ذریعہ سے آپ جسے چاہتے ہیں گمراہی میں مبتلا کر دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ہدایت بخش دیتے ہیں۔ ہمارے سرپرست تو آپ ہی ہیں ۔ پس ہمیں معاف کر دیجیے اور ہم پر رحم فرمائیے، آپ سب سے بڑھ کر معاف فرمانے والے ہیں۔
سبق آموز پہلو
۱۔شرک ناقابل معافی جرم ہے
انسان کا رحجان ان شخصیات کو ماننے پر زیادہ ہوتا ہے نہیں وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے جبکہ اللہ انسان سے چاہتے ہیں کہ وہ عقل و فطرت کی روشنی میں اللہ کو پہچانے۔ بنی اسرائل کی قوم ایک طویل عرصے مصر یوں کے ساتھ رہتے رہتے اسی ظاہر پرستی کی بنا پر گائے کی پرستش سے متاثر ہوچکی تھی۔ چنانچہ انہوں نے پہلے تو ایک ایسے معبود کو بنانے کی حضرت موسی سے فرمائش کی جسے آپ نے سختی سے رد کردیا۔ لیکن آپ کی غیر موجودگی میں وہ یہ حرکت کر ہی بیٹھے اور ایک بچھڑے کو سامری کے کہنے پر معبود تسلیم کرلیا۔ حضرت موسی واپس ہوئے تو آپ نے انتہائی غم و غصے کا اظہار کیا ۔ بعد میں وہ لوگ جو شرک کے مرتکب ہوئے تھے انہیں قتل کردیا گیا۔
۲۔ اللہ کی دیدار
اللہ کا دیدار ان آنکھوں سے ممکن نہیں البتہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اپنا دیدا ر اہل ایمان کو کرائیں گے۔
سوالات
۱۔ حضرت موسی کو اللہ نے کس پہاڑ پر بلایا؟
۲۔ حضرت موسی نے کتنے دن تک اللہ کی عبادت کے بعد ملاقات کی؟
۳۔ حضرت موسی کی قوم میں سے کس نے زیورات سے بچھڑا بنایا؟
۴۔ بچھڑا بنانے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
۵۔ حضرت موسی نے جب اللہ کو دیکھنے کی خواہش کی تو اللہ نے کیا جواب دیا؟
۶۔ حضرت موسی ہوش میں آئے تو کن الفاظ کے ذریعے اللہ سے رجوع کیا؟
۷۔ حضرت ہارون علیہ السلام اپنی قوم کو بچھڑے کی پرستش سے کیوں نہ بچا سکے؟

نواں حصہ: گائے کے ذبح کا حکم (البقرہ ۲: ۷۳-۶۷)
ترجمہ
"اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو وہ بولے کیا تم ہم سے ہنسی کرتے ہو؟ (موسیٰ نے) کہا کہ میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں۔
انہوں نے کہا اپنے پروردگار سے التجا کیجئے کہ وہ ہمیں یہ بتائے کہ وہ گائے کس طرح کی ہو، (موسیٰ نے) کہا پروردگار فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ تو بوڑھی ہو اور نہ بچا۔ بلکہ ان کے درمیان (یعنی جوان) ہو سو جیسا تم کو حکم دیا گیا ہے ویسا کرو
انہوں نے کہا اپنے پروردگار سے درخواست کیجیے کہ ہم کو یہ بھی بتائے کہ اس کا رنگ کیسا ہو، موسیٰ نے کہا پروردگار فرماتا ہے کہ اس کا رنگ گہرا زرد ہو کہ دیکھنے والوں (کے دل) کو خوش کر دیتا ہو،
انہوں نے کہا (اب کے) پروردگار سے پھر درخواست کیجئے کہ ہم کو بتادے کہ وہ اور کس کس طرح کا ہو کیونکہ بہت سی گائیں ہمیں ایک دوسرے کے مشابہ معلوم ہوتی ہیں ، پھر خدا نے چاہا تو ہمیں ٹھیک بات معلوم ہو جائے گی
موسیٰ نے کہا خدا فرماتا ہے کہ وہ گائے کام میں لگی ہوا نہ ہو، نہ تو زمین جوتتی ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہو، اس میں کسی طرح کا داغ نہ ہو، کہنے لگے اب تم نے سب باتیں درست بتا دیں، غرض (بڑی مشکل سے) انہوں نے اس گائے کو ذبح کیا اور وہ ایسا کرنے والے تھے نہیں۔
تفصیل و وضاحت
گائے کو ذبح کرنے کے حکم پر بنی اسرائیل کی کٹ حجتیاں:۔ بنی اسرائیل میں ایک مالدار شخص مارا گیا جسے اس کے بھتیجوں نے جنگل میں موقعہ پا کر قتل کیا اور رات کے اندھیرے میں کسی دوسرے شخص کے مکان کے سامنے پھینک دیا۔ اس کے قاتل کا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو وحی کی کہ اس قوم کو حکم دو کہ وہ ایک گائے ذبح کریں۔ گائے ذبح کرنے کا حکم کیوں دیا گیا تھا اس پر دو نقطہ نظر پائے جاتے ہیں ۔ روایتی نقطہ نظر یہ ہے کہ ذبح شدہ گائے کے گوشت کا ٹکڑا مارنے سے مردہ لاش جی اٹھتی اور اور بول کر قاتل کا پتہ بتا دیتی۔دوسرا نقطہ نظر کے مطابق بنی اسرائل میں قسامہ کا طریقہ رائج تھا۔جس میں جب قاتل کا سراغ نہ ملتا تو اس مقام پر مشتبہ اور متعلقہ لوگوں کو جمع کیا جاتا اور کسی جانور کو ذبح کرکے یہ تمام لوگ اس کے خون سے ہاتھ دھوتے اور قسم کھاتے کہ انہوں نے یہ قتل نہیں کیا ہے یا وہ قاتل کو نہیں جانتے۔
گائے کو ذبح کرنے کا حکم دراصل بنی اسرائیل کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کے مترادف تھا۔ گؤ سالہ پرستی کے جراثیم اور گائے بیل سے محبت اور اسے دیوتا سمجھنے کا عقیدہ ابھی تک ان میں موجود تھا۔ لہذا ایک تکلیف تو انہیں یہ ہوئی کہ جس چیز کو قابل پرستش سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے اسی چیز کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ دوسرے انہیں یہ یقین نہیں تھا کہ اس طرح گائے ذبح کرنے سے قاتل کا سراغ کس طرح مل سکتا ہے۔ لہذا موسیٰ علیہ السلام سے یوں کہہ دیا کہ ہم سے دل لگی کرتا ہے۔” موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں تو تمہیں اللہ کا حکم بتا رہا ہوں، دل لگی نہیں کر رہا۔ کیونکہ ایسی دل لگی کرنا جاہلوں کا کام ہے۔”
اگر بنی اسرائیل ایک فرمانبردار قوم ہوتے اور کوئی سی گائے بھی ذبح کر دیتے تو حکم کی تعمیل ہو جاتی، مگر کٹ حجتی اور ٹال مٹول، حتیٰ کہ نافرمانی ان کی رگ رگ میں بھری ہوئی تھی۔ کہنے لگے اچھا ہمیں اپنے پروردگار سے پوچھ کر بتاؤ وہ گائے کیسی ہونی چاہیے؟” اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا۔ ”وہ گائے جوان ہونی چاہیے، بوڑھی یا کم عمر نہ ہو۔ پھر دوسری مرتبہ یہ سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ سے پوچھ کر ہمیں بتاؤ کہ اس کا رنگ کیسا ہونا چاہیے؟” اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا کہ ”وہ گہرے زرد رنگ کی ہونی چاہیے، جو دیکھنے والے کے دل کو خوش کر دے۔” اب بھی حکم بجا لانے پر طبیعت آمادہ نہ ہوئی تو تیسری مرتبہ یہ سوال کر دیا کہ ایسی صفات کی گائیں تو ہمارے ہاں بہت سی ہیں ہمیں پوچھ کر بتایا جائے کہ ”اس کی مزید صفات کیا ہوں؟” تاکہ ہمیں کسی متعین گائے کا علم ہو جائے جس کی قربانی اللہ تعالیٰ کو منظور ہے۔” اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا کہ ”وہ گائے ایسی ہونی چاہیے جس سے ابھی تک کھیتی باڑی کا کام لینا شروع ہی نہ کیا گیا ہو یعنی نہ وہ ہل کے آگے جوتی گئی ہو اور نہ کنویں کے آگے۔ تندرست ہو اور صحیح و سالم ہو۔ یہ نہ ہو کہ کسی بیماری یا کمزوری کی وجہ سے کام نہ لیا جا رہا ہو اور اس میں کوئی داغ بھی نہ ہو۔”

گائے ذبح کرنے میں کٹ حجتیوں کی سزا:۔ غرض یہ کہ یہ قوم جتنے سوال کرتی گئی، پابندیاں بڑھتی ہی گئیں۔ ان ساری پابندیوں کے بعد بس اب ان کے ہاں صرف ایک ہی گائے رہ گئی جو تقریباً سنہری رنگ کی بے داغ اور جواں تھی اور ایسی ہی گائے ہوتی تھی جسے پوجا پاٹ کے لیے انتخاب کیا جاتا تھااور جس سے بنی اسرائل کی گہری وابستگی تھی۔

مرکزی خیال:
اس واقعے کا مرکزی خیال یہی ہے کہ اللہ کے احکامات پر سمعنا واطعنا یعنی ہم نے سن لیا اور اطاعت کی کا طرز عمل اختیار کرنا چاہئے۔ نیز یہ کہ غیر ضروری سوالات بعض اوقات مشکل میں پھنسا دیتے ہیں۔
تذکیری و اخلاقی پہلو
۱۔ سمعنا واطعنا
جب ایک شخص اللہ کی بندگی کا اقرا ر کرنے کا عہد کرلے تو پھر یہ ممکن نہیں کہ وہ رب کے احکامات پر پس و پیش کا اظہار کرے۔ بنی اسرائیل کو جب گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے اس پر اپنے اعتراضات کرنے شروع کردئیے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس حکم کو ٹالنا چاہتے تھے۔
۲۔اجمال کی نعمت
دین میں یہ اجمال اور سادگی ایک نعمت ہے لیکن جو لوگ دین کے مزاج سے ناواقف ہوتے ہیں وہ اپنے اور دوسروں کے لئے مشکلات کھڑی کرتے رہتے ہیں۔ ہم مسلمانوں میں بھی بے شمار معاملات ایسے ہیں جو دین میں مجمل اور آسان بیان ہوئے ہیں لیکن لوگوں کی بے جا کھوج کی وجہ سے ان پر عمل درآمد مشکل تر ہوجارہا ہے۔ مثال کے طور پر نماز کو لے لیجئے۔ نماز میں ہاتھ کانوں تک اٹھائے جائیں یا کاندھوں تک، تشہد میں انگلی مسلسل ہلائی جائے یا ایک بار، رکوع میں کمر کتنی سیدھی ہو، سجدے میں ناک کی ہڈی کتنی سختی سے زمین پر ٹکے؟ یہ سب وہ بحثیں ہیں جو اصل مقصود نہیں بلکہ نماز کے بنیادی مقصد یعنی خدا کی یاد سے دور کرنے والی ہیں۔
۳۔سوال کرنے کا انداز
دین میں سوال کرنے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ سوال کرنے کا عمل علم میں اضافے کا اہم ذریعہ ہے۔ لیکن سوال کرنے کا ادب اور طریقہ یہ ہے کہ سنجیدگی، متانت اور اخلاص کو مدنظر رکھا جائے۔ بنی اسرائیل نے س اندازمیں سوال کیا اس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ غیر سنجیدہ تھے نیز وہ اس حکم پر عمل کی بجائے اس سے گریز کرنے پر زیادہ آمادہ تھے۔
۴۔ آسانی کی نعمت اور ہمارا معاشرہ
بعض اوقات دین میں ایک چیز بہت سادہ اور آسان طریقے سے بیان کی جاتی ہے لیکن غیر ضروری سوالات کی کثرت اس حکم کو پیچیدہ اور بعض اوقات ناقابل عمل بنادیتی ہے۔ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج فرض ہے۔ ایک شخص وہاں بیٹھا تھا وہ پوچھنے لگا کہ کیا ہر سال فرض ہے۔ آپ خاموش رہے۔ اس نے پھر اپنا سوال دہریا۔ تو آپ نے ناراض لہجے میں اسے جواب دیا کہ اگر میں کہوں ہر سال فرض ہے تو تم سے نبھایا نہ جائے گا۔ اسی طرح ایک حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راوی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دین بہت آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی کرے گا وہ اس پر غالب آجائے گا، پس تم لوگ میانہ روی کرو اور (اعتدال سے) قریب رہو اور خوش ہو جاؤ (کہ تمہیں ایسا دین ملا) اور صبح اور دوپہر کے بعد اور کچھ رات میں عبادت کرنے سے دینی قوت حاصل کرو۔( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 38)
چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دین کی فراہم کردہ آسانی سے فائدہ اٹھائیں ناکہ اسے مزید دشوار بنالیں۔
سوالات
۱۔بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم کیوں ملا؟
۲۔ بنی اسرائیل گائے ذبح کرنے میں ٹال مٹول سے کام کیوں لے رہے تھے؟
۳۔ اگر بنی اسرائیل گائے ذبح کرنے کے لئے سوالات نہ کرتے تو اس سے کیا فائدہ ہوتا؟
دسواں حصہ:قصہ موسیٰ و خضر
(الکہف ۱۸: ۸۲-۶۰)
ترجمہ: اور (وہ قصہ بھی یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا”:میں تو چلتا ہی جاؤں گا تاآنکہ دو دریاؤں کے سنگھم پر نہ پہنچ جاؤں یا پھر میں مدتوں چلتا ہی رہوں گا۔
پھر جب وہ دو دریاؤں کے سنگھم پر پہنچ گئے تو اپنی مچھلی کو بھول گئے اور اس مچھلی نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا راستہ بنا لیا۔
پھر جب وہ وہاں سے آگے نکل گئے تو موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا: ہمارا کھانا لاؤ، اس سفر نے تو ہمیں بہت تھکادیا ہے۔
خادم نے جواب دیا، بھلا دیکھو! جب ہم چٹان کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے تو میں آپ سے مچھلی کی بات کرنا بھول گیا۔ یہ شیطان ہی تھا جس نے مجھے آپ سے مچھلی کا ذکر کرنا بھلا دیا۔ (بات یہ ہوئی کہ) مچھلی نے بڑے عجیب طریقے سے دریا میں اپنی راہ بنا لی تھی۔
موسیٰ نے کہا: ” اسی چیز کی تو ہمیں تلاش تھی” چنانچہ وہ اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس چلے آئے۔ وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا۔ اور اپنے ہاں سے ایک خاص علم سکھایا تھا۔ موسیٰ نے اس بندے (خضر) سے کہا: اگر میں آپ کی پیروی کروں تو کیا آپ اس بھلائی کا کچھ حصہ مجھے بھی سکھادیں گے جو آپ کو سکھائی گئی ہے۔اس بندے (خضر) نے کہا: آپ میرے ساتھ کبھی صبر نہ کرسکیں گے۔اور جس واقعہ کی حقیقت کا آپ کو علم نہ ہو اس پر آپ صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں؟موسیٰ نے کہا: آپ انشاء اللہ مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی معاملہ میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔(خضر نے) کہا: اچھا اگر آپ کو میرے ساتھ رہنا ہے تو پھر مجھ سے کوئی بات نہ پوچھیں تاآنکہ میں خود ہی آپ سے اس کا ذکر کردوں۔چنانچہ وہ دونوں ٦چل کھڑے ہوئے حتیٰ کہ ایک کشتی میں سوار ہوئے تو (خضر نے) اس کشتی میں شگاف ڈال دیا۔ موسیٰ نے کہا، کیا تم نے اس لئے شگاف ڈالا ہے کہ کشتی والوں کو ڈبودو؟ یہ تو تم نے خطرناک کام کیا ہے”۔(خضر نے) کہا : ”میں نے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے۔موسیٰ نے جواب دیا۔ مجھ سے جو بھول ہوگئی اس پر گرفت نہ کرو اور میرے لئے میرا کام مشکل نہ بناؤ۔چنانچہ وہ دونوں پھر چل کھڑے ہوئے تاآنکہ ایک لڑکے کو ملے ٦جسے (خضر نے) مار ڈالا۔ موسیٰ نے کہا: ”تم نے تو ایک بے گناہ شخص کو مار ڈالا، جس نے کسی کا خون نہ کیا تھا یہ تو تم نے بہت ناپسندیدہ کام کیا’۔ (خضر نے ) کہا: میں نے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ کبھی صبر نہ کرسکو گے۔ موسیٰ نے کہا: اگر اس کے بعد میں نے کوئی بات پوچھی تو پھر مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا۔ اب میری طرف سے آپ پر کوئی عذر باقی نہ رہے گا۔چنانچہ پھر وہ دونوں چل کھڑے ہوئے۔ یہاں تک کہ وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس آئے۔ اور ان سے کھانا مانگا۔ مگر ان لوگوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کردیا۔ وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی۔ (خضر نے) اس دیوار کو پھر سے قائم کردیا۔ موسیٰ نے (خضر سے) کہا: ”اگر آپ چاہتے تو ان سے ٦اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔(خضر نے ) کہا : ”اب میرا اور تمہارا ساتھ ختم ہوا۔ اب میں آپ کو ان باتوں٦کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کرسکے۔کشتی کا معاملہ تو یہ تھا کہ وہ چند مسکینوں کی ملکیت تھی جو دریا پر محنت مزدوری کرتے تھے۔ میں نے چاہا کہ اس کشتی کو عیب دار کیونکہ ان کے آگے ایک ایسا بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔اور لڑکے کا قصہ یہ ہے کہ اس کے والدین مومن تھے۔ ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا اپنی سرکشی اور کفر کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت نہ لاکھڑی کرے۔لہٰذا ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس لڑکے کے بدلے انھیں اس سے بہتر لڑکا عطاکرے جو پاکیزہ اخلاق والا اور قرابت کا بہت خیال رکھنے والا ہو۔اور دیوار کی بات یہ ہے کہ وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جو اس شہر میں رہتے تھے۔ اس دیوار کے نیچے ان کے لئے خزانہ مدفون تھا اور ان کا باپ ایک صالح آدمی تھا۔ لہذا آپ کے پروردگار نے چاہا کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کو پہنچ کر اپنا خزانہ نکال لیں۔
یہ جو کچھ میں نے کیا، سب آپ کے پروردگار کی رحمت تھی۔ میں نے اپنے اختیار سے کچھ بھی نہیں کیا۔ یہ ہے ان باتوں کی حقیقت جن پر آپ صبر نہ کرسکے۔
تفصیل و وضاحت:
یہ واقعہ اُس زمانے کا ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم فرعون کی غلامی میں بدترین مظالم کا شکار تھی۔ ایمان لانے والے ستائے جارہے تھے اور فرعون اور اس کے ظالم ساتھی ہر طرح کی دنیوی فراخی اور کامیابی حاصل کیے ہوئے تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ایک سفر پر بھیجا۔ ان کے ساتھ ان کے ایک نائب یوشع بن نون بھی تھے جو ان کے بعد ان کے خلیفہ اور پیغمبر بنے۔ ان کی ملاقات اللہ کے ایک خصوصی بندے جن کا نام خضر بیان کیا جاتا ہے سے ہوئی۔ ان کے ساتھ حضرت موسیٰ کا سفر شروع ہوا تو تین واقعات پے در پے ایسے پیش آئے جن کی کوئی ظاہری توجیہہ ممکن نہیں تھی۔ پہلا یہ کہ حضرت خضر انھیں لے کر ایک کشتی پر سوار ہوئے اور اس کشتی میں بلا وجہ سوراخ کردیا۔ کسی کو یوں مالی نقصان پہنچانا ایک بڑی معیوب حرکت تھی۔ اس سے زیادہ (بظاہر )معیوب حرکت انھوں نے آگے چل کر یوں کی کہ ایک لڑکے کو بلا وجہ مار ڈالا۔ اچھوں کے ساتھ برا کرنے کے بعد انھوں نے تیسرا کام یہ کیا کہ بروں کے ساتھ بڑی بھلائی کردی۔ وہ اس طرح کہ ایک بستی والوں نے انھیں کھانا کھلانے سے انکار کردیا جو کہ انہتائی معیوب بات تھی، مگر انھوں نے ان لوگوں کے ایک مکان کی گرتی ہوئی دیوار کو بغیر کسی معاوضے کے ٹھیک کردیا۔

بعد میں حضرت خضر نے حضرت موسیٰ کو بتایا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہوا۔ حقیقت یہ تھی کہ کشتی دو یتیموں کی تھی۔ آگے ایک بادشاہ تمام لوگوں کی کشتیاں چھین رہا تھا۔ مگر ان کی کشتی میں ایک عیب دیکھ کر اس نے ان بچوں کو چھوڑ دیا۔ یوں یہ چھوٹی تکلیف بہت بڑی محرومی سے بچنے کا سبب بن گئی۔ وہ بچہ جو قتل کیا گیااس کے آثار یہ تھے کہ اس نے خود بھی کفر و سرکشی میں مبتلا ہونا تھا اور اپنے والدین کو بھی مبتلا کردینا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس برے بچے کے بدلے میں انھیں ایک بہتر، نیک و صالح بیٹا دینے کا فیصلہ کیا۔ تقدیر الٰہی میں چونکہ ان کے لیے ایک ہی بیٹا تھا اس لیے پہلے کو لے کر دوسرا بیٹا دیا گیا۔ رہی وہ بستی تو احسان اس بستی والوں پر نہیں بلکہ اس نیک شخص کے یتیم بچوں پر کیا گیا جو اپنا تحفظ خود نہیں کرسکتے تھے۔ ان کے گھر میں ایک خزانہ تھا جو دیوار گرنے کی شکل میں ظاہر ہوجاتا اور دوسرے لوگ اسے لے جاتے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام کیا کہ ان کی جوانی تک یہ خزانہ محفوظ کردیا گیا۔
حضرت خضر علیہ السلام کون تھے؟
یہ سوال مختلف فیہ رہاہے کہ سیدنا خضر کون اور کیا تھے؟ بعض علماء انھیں نبی تسلیم کرتے ہیں بعض ولی اور بعض ولی بھی نہیں سمجھتے بلکہ ایک فرشتہ سمجھتے ہیں جن کا شمار مدبرات امر میں ہوتا ہے اب ہمیں یہ جائزہ لینا ہے کہ ان میں کون سی بات درست ہوسکتی ہے۔
ہمارے خیال میں سیدنا خضر نبی نہیں تھے اور اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ بخاری کی طویل روایت کے مطابق سیدنا خضر ، سیدنا موسیٰ سے خود فرما رہے ہیں کہ ”موسیٰ ! دیکھو! اللہ تعالیٰ نے اپنے علوم میں سے ایک علم مجھے سکھایا ہے جسے آپ نہیں جانتے اور ایک علم آپ کو سکھایا ہے جسے میں نہیں جانتا لہذا تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے اور یہ تو ظاہر ہے کہ سیدنا موسیٰ کو نبوت اور شریعت کا علم سکھایا گیا تھا جسے سیدنا خضر نہیں جانتے تھے لہذا وہ نبی نہ ہوئے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآنی آیات کی رو سے یہ ثابت شدہ امرہے کہ انبیاء کا علم ابتدا سے ایک ہی رہا ہے اور چونکہ سیدنا خضر کا علم اس علم سے متصادم تھا لہذا وہ نبی نہیں تھے۔
اب اگر انھیں ولی تسلیم کر لیا جائے تو یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں (بقول صوفیاء) کشف والہام سے غیب کے حالات سے مطلع کردیا ہو لیکن ولی کو یہ کب اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے علم غیب سے اطلاع کی بنا پر کسی دوسرے کی مملوکہ چیز کو تباہ کر دے یا کسی انسان کو قتل بھی کر ڈالے۔ ولی بھی آخر انسان ہے جو احکام شریعت کا مکلف ہے اور اصول شریعت میں یہ گنجائش کہیں نہیں پائی جاتی کہ کسی انسان کے لیے محض اس بنا پر احکام شرعیہ میں سے کسی حکم کی خلاف ورزی جائز ہو کہ اسے بذریعہ الہام اس کی خلاف ورزی کا حکم ملا ہے یا بذریعہ علم غیب اس خلاف ورزی کی مصلحت بتائی گئی ہے۔ صوفیاء کے نزدیک بھی کسی ایسے الہام پر عمل کرنا خود صاحب الہام تک کے لیے بھی جائز نہیں ہے جو نص شرعی کے خلاف ہو۔ لہذا سیدنا خضر نہ نبی تھے نہ ولی ۔ وہ انسان کی جنس سے بھی نہ تھے کیونکہ ایک ظالم اور فاسق انسان ہی ایسے کام کرسکتا ہے پھر وہ کون تھے؟
اب لامحالہ یہ ماننا ضروری ہے کہ آپ ان فرشتوں میں سے تھے جو تدبیر امور کائنات پر مامور ہیں ۔ اس نقطہ نظر پر دلیل حضرت حضر کا اپنا یہ قول کہ ( مافعلتہ عن امری) کہ یہ کام میں نے اپنی مرضی یا اختیار سے نہیں کیے بلکہ اللہ کے حکم سے کیے ہیں۔ گویا وہ خود اعتراف کررہے ہیں کہ وہ خود مختار نہیں اور یہ وہی بات ہے جسے اللہ نے فرشتوں کی صفات کے سلسلہ میں فرمایا کہ ”وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ وہ کچھ کرتے ہیں جو انھیں حکم دیا جاتا ہے” (٦٦:٦) اور وہ نافرمانی کر بھی نہیں سکتے۔
مرکزی خیال
اس قصے میں بنیادی پیغام یہ ہے کہ یہ دنیا بناکر اللہ تعالیٰ اس سے غافل نہیں ہیں۔ اسباب کی ڈور ہی سے سہی مگر اسے کنٹرول وہی کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر کسی اچھے شخص کے ساتھ کوئی برائی کا معاملہ کسی ناگہانی کی شکل میں پیش آئے تو اسے یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بہتری ہوگی۔ اور اسی طرح اگر وہ کسی برے کے ساتھ اچھا ہوتا ہوا دیکھے تب بھی یہ اعتماد رکھے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ بھلائی اصل میں کسی نیک بندے کے لیے ہی ہے۔
تذکیری و اخلاقی پہلو
۱۔ اللہ تعالیٰ کی مصلحتیں اللہ ہی جانتا ہے :۔ مندرجہ بالا تینوں واقعات سے دراصل مشیئت الٰہی کے کاموں میں پوشیدہ حکمتوں پر روشنی پڑتی ہے پہلا کام یہ تھا کہ کشتی والوں نے سیدنا موسیٰ و سیدنا خضر دونوں کو پردیسی سمجھ کر ان سے کرایہ نہیں لیا اور کشتی میں سوار کر لیا۔ جس کے صلہ میں سیدنا خضر نے ایسا کام کیا جو بظاہر غلط معلوم ہوتا تھا لیکن حقیقت میں سیدنا خضر نے ان سے بہت بڑی خیر خواہی کی اور ان کے احسان کا اس طرح بدلہ چکایا کہ انھیں بہت بڑے نقصان سے بچا لیا اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ کسی نقصان پر بے صبر نہ ہونا چاہیے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس نقصان میں بھی اللہ نے اس کے لیے کون سے اور کتنے بڑے فائدے کو پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔ دوسرا واقعہ صدمہ کے لحاظ سے پہلے واقعہ سے شدید تر ہے لیکن اس میں جو اللہ کی مصلحت پوشیدہ تھی وہ بھی منفعت کے لحاظ سے پہلے واقعہ کی نسبت بہت زیادہ تھی اور دونوں واقعات سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ مصائب پر ایک مسلمان کو صبر کرنا چاہیے اور اللہ کی مشیئت پر راضی رہنا چاہیے اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جتنی مصیبت پر صبر کیا تھا اسی کے مطابق اللہ اس کا اجر اور نعم البدل عطا فرماتا ہے۔ تیسرے واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی نیک آدمی کی رفاقت کے بعد بھی اللہ تعالیٰ اس کا اچھا بدلہ اس کی اولاد کو دیا کرتا ہے۔ مرنے والا چونکہ نیک انسان تھا لہذا اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا کہ اس کا مدفون خزانہ یا ورثہ دوسرے لوگ نہ اڑا لے جائیں، بلکہ اس کی اولاد کے ہی حصہ میں آئے۔
۲۔مثبت سوچ
آج کے اس دور میں جب ہر شخص اسباب کو اپنا خدا اور دنیا کو اپنا مقصد حیات بنا بیٹھا ہے، ایسے بندۂ مومن کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ ظاہری حالات سے مایوس اور دلبرداشتہ ہوجائے۔ مومن کا توکل ہمیشہ اللہ پر ہی رہتا ہے۔ وہ اسباب سے اوپر اٹھ کر مسبب الاسباب میں جیتا ہے۔ چنانچہ وہ ہر چیز کے پیچھے خیر ہی دیکھتا ہے چاہے بظاہر اسے اس میں کوئی چیز بری نظر آرہی ہو۔ چنانچہ خدا پر توکل، بھروسہ، اس سے حسن ظن اور ہر حال میں خدا کی بندگی و عبادت بندۂ مومن کاہمہ وقتی کام ہونا چاہیے۔ کیونکہ خدا غیب میں رہتے ہوئے بھی اپنے بندوں کا ساتھ دیتا ہے۔ چاہے بظاہر معاملات کتنے ہی برے ہوں، خدا صالحین کو کبھی نہیں چھوڑتا۔
۳۔ اللہ کی نصرت
یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ پہلے واقعہ میں ہم نے دیکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ صالحین کی مدد کرنے کے لیے اسباب کے خلاف بھی معاملات کرتے ہیں۔ مگر چونکہ یہ دنیا عالم آزمائش ہے اس لیے ایسا بہت کم ہی کیا جاتا ہے۔ اس واقعے میں یہ بتایا جارہا ہے کہ وہ زیادہ تر بندوں کی مدد اسباب میں رہتے ہوئے ہی کرتے ہیں، گو بظاہر یہ اسباب عارضی طور پر ان کے خلاف ہوں، لیکن اپنے نتائج کے اعتبار سے معاملات کا فیصلہ آخرکار نیک بندوں کے حق میں ہوتا ہے۔
۴۔ دنیا کے حادثات کی ظاہری شکل اور حقیقت الگ ہے:۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے سیدنا خضر کی ہمراہی کے دوران جو واقعات پیش آئے۔ ان میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ کو اپنے کارخانہ مشیئت کا پردہ اٹھا کر ذرا اس کی ایک جھلک دکھائی تھی تاکہ انھیں معلوم ہوجائے کہ اس دنیا میں جو کچھ شب و روز ہو رہا ہے وہ کیسے اور کن مصلحتوں کے تحت ہو رہا ہے اور کس طرح واقعات کی ظاہری شکل و صورت اصل حقیقت سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ ایک عام انسان جب یہ دیکھتا ہے کہ ظالموں اور نافرمانوں پر اللہ کے انعامات کی بارش ہو رہی ہے اور اللہ کے فرمانبرداروں پر سختیاں اور شدائد کا ہجوم ہے ظالم مسلسل ظلم کرتے جارہے ہیں اور ان کی سزا بے گناہوں کو ملتی ہے تو ایسے واقعات سے اکثر انسان یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ یہ دنیا اندھیر نگری ہے اگر اللہ موجود ہوتا اور وہ عادل و منصف ہے تو ایسے جگر خراش واقعات دنیا میں کیوں وقوع پذیر ہوتے؟ ان واقعات میں ایسے ہی حالات سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ رہا اللہ کے عدل و انصاف کا معاملہ تو اگرچہ اس کا ظہور اس دنیا میں بھی وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے تاہم عدل و انصاف کا صحیح اور مقررہ وقت روز آخرت ہے اور روز آخرت کا قیام اسی لیے ضروری ہے۔
سوالات
۱۔ حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت خضر کی ملاقات کا کیا مقصد تھا؟
۲۔حضرت خضر کون تھے؟ اپنے جواب میں چند دلائل دیں
۳۔ حضرت خضر نے کشتی میں سوراخ کیوں کیا؟
۴۔ حضرت موسی کے ساتھ شریک سفر ان کے شاگرد کا نام کیا تھا؟
۵۔ حضرت خضر نے لڑکے کو مارنے کی وجہ کیا بتائی؟
۶۔حضرت خضر نے دیوار کو دوبارہ تعمیر کرکے اس کی اجرت کیوں نہ لی؟
۷۔ حضرت موسی اور حضرت خضر کو جس مقام پر ملنا تھا اس کی نشاندہی کے لئے کیا نشانی مقرر تھی؟

از پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

One response to this post.

  1. Posted by گمنام on 05/08/2017 at 2:06 صبح

    حوالہ جات نہیں ہیں

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s