اللہ کا شکر ادا کرنے مختلف پہلو


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رمضان کا ختتام قریب ہے چنانچہ میر ی طرف سے آپ کو بہت بہت عید مبارک۔ اللہ آپ کو اس عید پر اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور اپنی کامل بندگی میں شامل کرلیں۔
آپ عید پر مصروف ہونگے اس لئے اس مرتبہ کوئی سبق نہیں اور نہ ہی کوئی اسائنمنٹ ہے۔ لیکن چونکہ یہ ایک خوشی کا موقع ہے اس لئے اللہ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ بس ذرا یہ تحریر پڑھ لیں اور اپنے حالات کی مناسبت سے ہر پوائینٹ پر اللہ کا شکر ادا کردیں۔ یہی آج کا سبق ہے اور یہی تزکیہ نفس پروگرام کا اسائنمنٹ۔
اگر دنیا کی آزمائش کے فلسفے کو دو لفظوں میں بیان کیا جائے یہ صبر اور شکر کا امتحان ہے۔ انسان پر یا تو خدا کی نعمتوں کا غلبہ ہوتا ہے یا پھر وہ کسی مصیبت میں گرفتا ر ہوتا ہے۔ پہلی صور ت میں اسے اللہ کا شکر کرنے کی ہدایت ہے تو دوسری صورت میں صبر و استقامت کی تلقین۔ چنانچہ جو لوگ ایمان کے ساتھ شکر اور صبر کے تقاضے پورا کرنے میں کامیاب ہوگئے وہی لوگ آخرت میں فلاح پانے والے ہیں۔
اکثر علماء کہتے ہیں کہ صبر کے مقابلے میں شکر کا امتحان زیادہ مشکل ہے۔ شکر کے امتحان میں انسان بالعموم خدا فراموشی اختیار کرتا، تکبر کی جانب مائل ہوتا اور دنیا میں زیادہ منہمک ہوجاتا ہے۔شکر کرنا جتنا آسان ہے اتنا ہی زیادہ مشکل ہے۔ آسان اس لئے کہ زبان ، دل یا عمل سے اللہ کی نعمتوں کا اعتراف کرکے شکریہ ہی تو کہنا ہوتا ہے۔ لیکن یہی شکر ایک مشکل کام بھی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا انسان عادی ہوجاتا ہے اور وہ اسے فار گرانٹڈ لینےلگتا اور اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔ جبکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو اللہ کسی بھی نعمت ادا کرنے کے پابند نہیں کیوں کہ یہ دنیا آزمائش کے اصول پر بنی ہے اور امتحان کی حالت میں نعمت کا ملنا اور چھننا دونوں برابر ہیں ۔ مثال کے طور پر آنکھوں کی نعمت کو لے لیں ۔ ہم روزانہ کئی گھنٹے ان آنکھوں سے دنیا کا دیدار کرتے اور اپنے معمولات زندگی انجام دیتے ہیں ۔ لیکن شاید ہی کبھی ہم نے اس پر شکر ادا کیا ہو۔ دوسری جانب اللہ نے اس دنیا میں کچھ لوگوں سے بینائی چھین کر یہ بتادیا کہ اگر وہ چاہتے تو اس طرح بھی آزما سکتے تھے لیکن یہ ان کا کرم ہے کہ انہوں نے آنکھیں دے کر آزمایا۔ اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس شکر کی آزمائش میں پورے اتریں۔
زیر نظر تحریر میں ان اہم نعمتوں کی جانب توجہ دلائی گئی ہے جو ہم سب کو بالعموم میسر ہیں لیکن ہم انہیں حقیر سمجھے ہوئے ہیں یا فراموش کیا ہوا ہے۔ چنانچہ پہلا کام تو یہ ہے کہ ہم سب ان نعمتوں پر زبانی شکر تو ادا کرہی دیں۔ دوسرا حصہ ان نعمتوں کا ہے جو کسی کو میسر ہیں اور کسی کو نہیں۔ تیسرا حصہ ان احوال کا ہے جو مجھے ذاتی طور پر پیش آئے اور میں نے نمونے کے لئے انہیں آپ کے سامنے پیش کیا ہے تاکہ آپ بھی اس طرح کی لسٹ بنا کر اللہ کا شکر ادا کریں۔
الف: ایمان کی نعمت
۱۔ اے اللہ آپ کا شکر ہے کہ آپ نے ایمان کی نعمت عطا فرمائی اور مسلمان بنایا۔
۲۔ آپ کا شکریہ کہ آپ نے اپنی آزمائش کی اسکیم سے واقفیت دی کہ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے ، کوئی عیش و عشرت کا مقام نہیں۔
۳۔ آپ کی ذرہ نوازی کہ آپ نے مجھے اس دن کی خبر متعین طور پر عطا کی کہ ایک دن مجھے آپ کے حضور پیش ہونا اور اپنے اعمال کا حساب کتاب دینا ہے۔
۴۔ آپ کی عنایت ہے کہ جنت کی نعمتوں سے آگاہی دی اور جہنم کی سزا کی خبر دی۔
۵۔ آپ کی توفیق ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبر ہونے کا یقین دلا یا ۔
۶۔ بڑی نوازش کہ آپ نے مجھے اپنی کتاب کا علم دیا اور اس کے ذریعے وہ باتیں بتائیں جو میرے لئے جاننا ممکن نہ تھا۔
ب: جسمانی نعمتیں
۱۔اے میرے پیارے رب! آپ کی بڑی عنایت کہ مجھے زندگی دی جو ایک بڑی نعمت ہے۔
۲۔ بڑی نوازش کہ مجھے آنکھیں دیں کہ دنیا کی مصوری کا دیدار کروں ۔ آپ اس پر قاد ر تھے کہ مجھے ان لوگوں میں شامل کردیتے جن کی آنکھیں نہیں اور ہر شے ان کے لئے تاریک وجود کی حیثیت رکھتی ہے۔
۳۔میں کس طرح ان کانوں کو عطا کرنے کا شکر ادا کروں جن کی بدولت میں لوگوں کی باتیں سنتا سمجھتا ہوں۔ اگر یہ سماعت آپ عطا نہ کرتے تو میرا کوئی زور آپ پر نہ تھا اور میں بھی آج بہروں کی صف میں شامل ہوگیا ہوتا۔
۴۔ میں کیسے اس زبان کو دینے پر آپ کا احسان مانوں کہ جس کے نہ ہونے پر میں بول چال کے قابل نہ ہوتا اور لاکھوں گونگوں کی صف میں شامل ہوچکا ہوتا۔
۵۔میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں عقل عطا کرنے پر آپ کو تھینک یو کہوں ۔ یہ دماغ اگر آپ نہ دیتے تو میں یا تو پاگل خانے کی دیواروں سے سر ٹکرا رہا ہوتا یا ناگفتہ بہ حالت میں سڑکوں کی خاک چھان رہا ہوتا۔
۷۔ میں پاؤں عطا کرنے کی نعمت پر کیا کہوں کہ جن کی بدولت میں بے ساکھی یا کسی مصنوعی سہارے کے بنا ادھر سے ادھر چلتا پھرتا ہوں۔
۸۔ میں ان ہاتھ عطا کرنے کی عنایت پر صرف شکریہ کہہ دوں تو زیادتی ہوگی۔ ان ہاتھوں کو اگر آپ مجھے نہ دیتے تو میرا کوئی حق نہ تھا کہ آپ سے لڑ جھگڑ کر انہیں کلیم کرتا ۔ بے شمار لوگ اس دنیا میں ہاتھوں کے بغیر موجود ہیں لیکن ان کا کوئی اختیار نہیں کہ آپ کا فیصلہ تبدیل کروالیں۔
۹۔ آپ نے جو ہر لمحے میرے دل کی دھڑکن کو جاری و ساری رکھا ہوا ہے اس پر کس طرح شکر گذاری کروں ؟
۱۰۔میں سانس کی آمدو رفت پر کیا کہوں؟
۱۱۔ میں خون کی روانی کا کیا ذکر کروں؟
۱۲۔ میں ان اعضا کی عطا اور افعال پر آپ کا شکر گذار ہوں کہ جن بدولت غذا جسم کا حصہ بنتی، فاسد مادوں کی صفائی ہوتی اور جسم کی بقا و ارتقا جاری رہتا ہے۔
۱۳۔ میرے جسم کے ہر عضو پر شکر جسے میں جانتا ہوں اور جسے نہیں جانتا۔
۱۴۔ میں شکر گذار ہوں کہ آپ نے صحت عطا کی وگرنہ کتنے لوگ ہیں جو ہسپتال کے کمروں میں زندگی کی گھڑیاں بتا رہے ہیں۔
ج: زمین آسمان کےنظام کی نعمتیں
۱۔ اے میرے رب! آپ کا شکر یہ کہ آپ نے آسمان پر اوزون کی لئیر بنادی جو مجھے سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں سے بچا تی ہے۔
۲۔ آپ کا شکر یہ کہ آپ نے زمین اور سور ج میں ایک معین فاصلہ پیدا کیا اگر سورج زیادہ قریب ہوتا تو گرمی کی شدت ناقابل برداشت ہوتی یا اگر وہ دور ہوتا تو سردی سے جینا محال ہوجاتا۔
۳۔ آپ کا شکریہ کہ زمین کو قائم و دائم رکھا ہوا ہے ۔ اگر کشش ثقل زیادہ ہوتی تو ہمارا قدم اٹھانا دو بھر ہوتا اور اگر یہ کم ہوتی تو ہم سب خلا میں تیر رہے ہوتے۔
۴۔ آ پ کا شکر کہ آپ نے زمین کو زلزلے سے بچایا ہوا ہے اگر آپ چاہیں تو ایک جھٹکے سے سب کچھ زمیں بوس ہوجائے۔
۵۔ آپ کا شکر یہ کہ آپ نے آسمان اور زمین کو ہماری خدمت میں لگارکھا ہے۔ آسمان سے اگر بارش برستی ہی رہے تو سمندر ابل پڑیں، یہ چلنے والی سبک رفتا ر ہوا کی لگام ڈھیلی ہوجائے تو پکے مکانات کو گرادے۔
د: خاندانی نعمتیں
۱۔ آپ کا شکر کہ ماں باپ عطا کئے کہ کتنے بچے ایسے پیدا ہوتے ہیں جنکو اپنے ماں باپ کا ہی علم نہیں۔
۲۔ آپ کا شکر کہ آپ نے پرورش کا سامان مہیا کیا ۔
۳۔ آپ کی عنایت کہ ماں باپ کا سایہ اب تک برقرار رکھا۔
۴۔ آپ کی عنایت کہ مجھے نیک بیوی عطا فرمائی۔
۵۔ آپ کی نوازش کہ مجھے فرماں بردار اولاد دی۔
۶۔ آپ کی عنایت کہ مجھے بھائی ، بہن دئیے ۔
۷۔ آپ کا شکر کہ مجھے رشتے دار عطا کئے کہ جو دکھ درد بانٹتے اور خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔
د: مادی نعمتیں
۱۔ شکر گزار ہوں کہ مکان عطا کیا ۔ اگر میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوتا جو کھلے آسمان تلے سورہے ہیں تو آج یہ سکون میسر نہ ہوتا۔
۲۔ آپ کا شکر کہ مجھے اتنی دولت دی کہ جو چاہوں حلال رزق میں سے کھا سکتا اور اپنے خاندان کو کھلا سکتا ہوں۔
۳۔ آپ کی ذرہ نوازی کے کہ اچھی سواری عطا کی اور اسے چلانے کی مہارت بھی دی۔
۴۔ آپ کا شکریہ اے پیارے محسن کہ مجھے تن ڈھانپنے کے لئے لباس دیا اورپاؤں کو تکلیف سے بچانے کے لئے جوتے دئیے کہ کتنے ہی لوگ دنیا میں ننگے پاؤں پھرتے اور برہنہ بدن زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔
۵۔ آپ کا شکر کہ مجھے پڑھا لکھا بنایا، علم دیا، سمجھ دی اور جہل سے نجات عطا فرمائی۔
حرف آخر
یہ وہ چند باتیں ہیں جن پر میں شکر کررہا ہوں لیکن لاکھوں بلکہ کروڑوں بلکہ لاتعداد ایسی نعمتیں اور احسانات ہیں جن کا مجھے ادراک ہی نہیں یا میں احسان فراموشی کے باعث بھول چکا ہوں ۔ بس میں شکر گذار ہوں ہر اس نعمت کا جو آپ نے مجھے عطا کی خواہ وہ میرے علم میں ہو یا نہ ہو، خواہ وہ مجھے یاد ہو یا نہ ہو۔
اے میرے پیارے محسن رب! آپ کا شکر ہے اتنا شکرجتنی آپ کی مخلوق ہے، اتنا شکر جو آپ کو راضی کردے، اتنا شکر جو آپ کے عرش کے وزن کے برابر ہو، اتنا شکر جو آپ کے کلمات کے برابر ہو۔

پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by farhat gul on 18/08/2013 at 6:42 صبح

    May our comprehension towards religion be more enthusiastic and practical one
    Stay blessed
    Regards with lot of prayers

    جواب دیں

  2. Reblogged this on ZAVIA n.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s