آن لائن کمائیے


آن لائن کمائیے
از عدیلہ کوکب
وہ لوگوں کی نگاہ میں ایک بندہ مومن تھا اور اسے خود بھی اس کا ادراک تھا۔ اس نے دس سال کی عمر میں نماز شروع کی اور کبھی کوئی نماز قصداَ نہ چھوڑی۔ پھر نماز کے علاوہ وہ انفاق، روزہ داری اور دیگر نیکیوں میں عمر کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا چلا گیا۔ پچیس برس کا ہونے تک وہ ایک مکمل صالح مرد بن چکا تھا۔ تعلق باللہ کے ساتھ ساتھ وہ خوش اخلاق، ادب آداب کا خیال رکھنے والا ایک سنجیدہ مزاج شخص تھا، اسے کبھی قہقہ لگاتے ہوئے ہوئے نہیں دیکھا گیا کیونکہ بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قہقہ نہیں لگاتے تھے۔اس کی نگاہ ہمیشہ جھکی رہتی۔ اسے گلی کوچوں میں بلا ضرورت پھرنا نا پسند تھا۔وہ ایسا نوجوان تھا کہ بزرگ اس سے سیکھا کرتے تھے۔ وہ ہر لحاظ سے ایک آئیڈیل مسلمان تھا۔ کبھی دوست کہہ بھی دیتے
ارے صالح! کبھی ہنس کھیل بھی لیا کرو، کیا بوڑھوں جیسی زندگی گزارتے ہو۔
اور اس کا جواب ایک ہلکی سی "مسکراہٹ” کے سوا کچھ نہ ہوتا کچھ نہ ہوتا۔
کبھی دوست زیادہ مجبور کرتے تو کہتا: "نہیں بھئی مجھے ایسا کوئی کام نہیں کرنا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم یا ان کے صحابہ نے نہیں کیا۔”
دوست تنگ آ کر خاموش ہو جاتے کہ یہ نہیں سدھرے گا۔
ٹیکنالوجی کے دور میں بھی اس کا تعلق سوشل میڈیا سے بس اتنا تھا کہ اسائنمنٹ ملی تو سرچ کر لی کبھی دل کیا تو کوئی کتاب ڈھونڈ کے نیٹ سے پڑھ لی۔ ایسے ہی ہموار سے راہ پہ صالح چلتا جا رہا تھا کہ ایک دن اس نے نیٹ پر کتاب سرچ کرتے ہوئے ایک اشتہار دیکھا۔اشتہار کسی کمپنی کی طرف سے تھا کہ "بس کلک کیجئے اور گھر بیٹھے پیسے کمائیے”۔
شو مئی قسمت کے ان دنوں صالح بے روزگار تھا اور اسے امید تھی کہ اللہ کوئی نہ کوئی امید کی کرن دکھائے گا۔ تو اس وقت اسے یہی لگا کہ یہ اللہ کی طرف سے انعام ہے اسکی نیک نیتی، پاکیزگی اور اسکی امید کا۔
اس لیے اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیئے۔ بس اتنا سوچتے ہی اس نے کلک کیا پوری وضاحت سامنے آ گئی کہ اگر آپ ایک ماہ میں 200 ڈالر کمانا چاہتے تو اس ویب سائٹ پر کلک کریں۔ اس کے بعد روزانہ کے چار اشتہارات آپ کو ارسال ہوں گے۔ روزانہ چار اشتہارات پر کلک کرنا لازمی ہو گا۔صالح نے سوچا "واہ یہ تو بڑا آسان کام ہے۔آگے لکھا تھا اگر آپ اس سے زیادہ پیسہ کمانا چاہتے تو اس کے لیے آپ کو ریفرل بڑھانے پڑھیں گے۔۔۔۔
ریفرل بڑھانے کے لیے اپنی آئی ڈی سے مختلف دوستوں کو ایڈ ریکوسٹ کرنا تھی۔ صالح نے اشتہار دیکھے تو حیران رہ گیا وہ اخلاقی معیار سے گرے ہوئے اشتہار تھے۔ صالح نے ایک پل کو سوچا اور اگلے ہی پل جعلی نام سے آئی ڈی بنائی اور اشتہارات لائک کرنے لگا۔ کبھی اس کا ضمیر ٹوکتا تو خود کو دلاسہ دیتا کہ میں کون سا شہوت سے دیکھ رہا ہوں اس لیے یہ گناہ نہیں ہے ۔
کچھ دنوں بعد صالح کو اس ایکٹوٹی سے آمدنی ہوئی جو اگلے ہی دن ختم بھی ہو گئی۔ صالح کے دل میں آیا کہ حرام کی کمائی ایسے ہی خرچ ہوتی اس لیے پتہ بھی نہیں چلا کوئی ضرورت پوری ہوئے بنا ختم ہو گئے سب پیسے۔ مگر اس نے دل کو تسلی دی کہ حرام تو نہیں میں محنت کرتا ہوں، کمپیوٹر چلاتا ہوں، دوسروں کو ایڈ بھیجتا ہوں تو ریفرل ملتے ہیں۔یہ تو ای کامرس (آن لائن بزنس)ہی ہے جو حرام تو ہر گز نہیں۔
اسی طرح دن گزرتے گئے صالح نے دل کے منع کرنے کے باوجودیہ کام نہ چھوڑا۔ہر دفعہ نئی طویل دے کے دل میں برپا شدہ شور کو دبا دیتا۔آہستہ آہستہ اس کی تلاوت چھوٹنے لگی اس میں بھی اس نے خود کو باور کرایا کہ میں زبانی پڑھ تو لیتا سورہ سوتے وقت۔ اس کے بعد اس کی نماز میں خشوع نہ رہا وہ نماز پڑھ رہا ہوتا کوئی اشتہار آنکھوں کے آگے گھومنے لگتا۔ اسے پتہ ہی نہ چلا کب اس کی نمازیں ختم ہوئیں کب وہ ماں باپ سے بحثیں کرنے لگا۔ کب اس کی جھکی آنکھیں میں ہر وقت کوئی نہ کوئی اشتہا انگیز منظر چلنے لگا۔
عابدو زاہد صالح تو کہیں کھو گیا تھا۔اگر کچھ صالح رہا تھا تو اسکا نام۔ سب دوست احباب پوچھتے کیا ہوا؟ تم ٹھیک تو ہو نا؟ کون سا روگ لگگا لیا ہے؟
مگر وہ کسی کو بتاتا تو کیا کہ وہ تو خود ان سب سےانجان تھا۔
ایسے ہی ایک صبح کوشگوار سی اس کے آنگن میں اتری اور اس کی جاب کی نوید لائی۔ سب بہت خوش تھے اور صالح خود بھی بہت خوش ہوا کہ جاب بہت اچھی تھی جس سے ان کے مالی حالات بہت اچھے ہوگئے۔مگر صالح کا چین سکون سب کھو چکا تھا۔ جاب ملنے کے بعد بھی وہ ایڈ لائک کرتا رہا کہ وہ ان سب کا عادی ہو چکا تھا۔ وہ صالح جو سونے سے پہلے وظائف اور قرآنی آیات پڑھا کرتا تھا اس کی بے صبری اور ایک چھوٹا سا غلط فیصلہ اسے اس موڑ پہ لا چکا تھا کہ وہ سونے سے پہلے کوئی ایڈ کھولتا ، کافی دیر آنکھیں سینکتا پھر سوتا۔
ایسے ہی ایک رات وہ اسی کام میں مگن تھا کہ اس کے والد دستک دے کر روم میں داخل ہوئے صالح نے سیکنڈ لگایا اور تیزی سے سب بند کر دیا۔ مگر اسکی اپنی ہی اس ایک سیکنڈ کی تیزی نے اس کے اندر ایک طوفان بھرپا کر دیا۔اس کے والد کہاں بیٹھے اس سے کیا گفتگو کی، کب اٹھ کے گئے اسے کچھ یاد نہیں آیا، کچھ سمجھ نہ آئی۔ یاد آئی تو اللہ کی سمجھ آیا تو یہ کہ جو کام میں والد کے دیکھنے کی بنا پر بند کر دیا وہ کام میں اللہ کے دیکھنے کے باوجود کرتا رہا۔
وہ سوچے جا رہا تھا روئے جا رہا تھا۔ آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہ لیتے تھے۔ اسکا اپنا دل اور دماغ اسکے خلاف بول رہے تھے۔
مجھے سب نیک کہتے تھے اور میں اتنا بدبخت کہ اپنے مالک کا کھاتا رہا اور کام شیطان کے کرتا رہا۔میں جو بڑا پر اعتماد تھا کہ میں بڑی سے بڑی آزمائش میں ثابت قدم رہ سکتا میں تو ایک چھوٹے سے ہتھکنڈے کے سامنے ایسا لڑکھڑایا کہ سب تباہ ہو گیا سب اپنے ہی ہاتھوں ضائع کر دیان میں نے۔ مجھ سے اچھے تو جانور ہیں جو اپنے مالک کے وفادار رہتے۔ میں جو ہر لمحہ اپنے مالک کی محبت اور وفاداری کا دم بھرتا تھا کہاں گئی وہ محبت وہ وفاداری؟ مجھ سے بہتر تو کتا ہے جو جان دے دیتا مگر مالک کی نافرمانی نہیں کرتا، غداری نہیں کرتا۔
اسے لگ رہا تھا اس کا دل بند ہو رہا۔ وہ سوچتا گیا اور روتا رہا کوئی روشنی کی کرن نہیں مل رہی تھی۔ وہ آزمایا گیا تھا اور آزمائش میں فیل ہو گیا۔
وہ ناشکرا تھا۔بے صبرا تھا
غدار تھا
اور یہ سب اس کا اپنا دل کہہ رہا تھا۔ وہ لمحہ لمحہ ٹوٹ رہا تھا اسے جوڑنے کے لیے کوئی نہیں تھا۔ وہ پگھل رہا تھا اسے سنبھالنے کے لیے کوئی نہیں تھا۔
روتے روتے وہ اٹھا پھر اسے نہیں پتا کب اس نے وضو کرنا شروع کیا اور کب قرآن ہاتھ میں لیا۔
اس نے قرآن پاک کانپتے ہاتھوں سے پکڑا اور کعبہ طرف منہ کر کے آنسوؤں کے ساتھ قرآن پاک کو بغیر دیکھے کھولا۔ اس کی نظر ایک آیت پرپڑھی اسے لگا ساری روشنی، ساری امیدیں اسے مل گئیں۔ اس نے بار بار پڑھا۔ جوں جوں پڑھتا جاتا اس کے بے قرار دل کو قرار آتا جاتا۔آیت تھی یا اس کے لیے ابھی اتاری گئی کوئی امید۔
"اور جب تمہارے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو (اُن سے) سلام علیکم کہا کرو۔ خدا نے اپنی ذات پر رحمت کو لازم کرلیا ہے کہ جو کوئی تم میں سے نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے” (الانعام54:6)
اس کے بعد صالح نے قرآن رکھا۔ کیوں کہ وہ جان گیا تھا اب اسے کیا کرنا ہے اسے روشنی مل گئی تھی ایک دفعہ پھر اللہ نے اسے راہ دکھا دی تھی۔ اسے جھکنا تھا۔ اسے توبہ کرنی تھی۔ اسے اعتراف کرنا تھا اسے معافی مانگنی تھی۔ وہ سب جان گیا تھا اسلئے اس نے قرآن رکھ کر وہ نماز کے لیے کھڑا ہو گیا اور بہت لمبی سی دو رکعت پڑھیں۔
اللہ کے سامنے اپنے جرم کابار بار اعتراف کیا، گڑگڑایا بہت توبہ کی اور وعدہ کیا کہ آئندہ ایسا نہیں کروں گا بس ایک بار راضی ہو جا ۔ آئندہ تجھے ہر وقت اپنے پاس محسوس کروں گا مجھے پتہ ہے تو ہر وقت مجھے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ اس نے یہ فیصلہ کیا کہ جتنی بھی حرام کی کمائی اس نے حاصل کی ہے وہ اسے انفاق کردے گا۔ اس آہ و زاری اور توبہ استغفار سے اسے اتنا سکون ملاکہ وہ پانچ سال کے بعد پہلی دفعہ نیند کی گولیاں کھائے بغیر سو گیا۔
اس کے چہرے پہ سکون تھا، مسکراہٹ تھی اور ایک انجانی سے خوشی کہ کوئی بھی سوئے ہوئے بھی دیکھتا تو اسے دنیا کا خوش اور مطمئن ترین انسان سمجھتا۔ اور یہ سب اس لیے تھا کہ ایک نئی زندگی جس میں سکون ہی سکون تھا شکر ہی شکر تھا اس کی منتظر تھی۔

نئی صبح یقیناَ نئی صبح بن کر صالح کے دل میں اترنے والی تھی جو اسے رب کے ساتھ کے ساتھ مکمل صالح بنانے والی تھی۔
عدیلہ کوکب

Advertisements

7 responses to this post.

  1. Posted by waqar ahmed on 04/02/2014 at 2:55 شام

    Bhut achaaaa

    جواب دیں

  2. عقیل صاحب الللا آپ کو ہمیشہ خوش رکہے اچھا بلاگ ھے.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s