” اپنی موت آپ مر جائیں گے”

انسان کی تخلیق خُدا نے اِس طرح کی ہے کہ ایک کا مزاج٬ذوق٬سوچنے کا انداز دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔یہ باہمی فرق انسان کے ارتقا کے لیے ایک قلیدی کردار ادا کرتا ہے۔اگر آئنسٹاین نیوٹن سے اختلاف نہ کرتے تو آج ہماری زندگی میں وە جدت پیدا نہیں ہوتی جس کا ظہور ہم ہر جگہ دیکھ رہیں ہیں۔

یہ مختلف زاویہٴ نظر ہر جگہ موجود رہتا ہے چاہے وە ادب ہو٬زبان ہو٬تاریخ ہو یا مذہب ۔ اِسی کے نتیجے میں مختلف School of thoughts وجود میں آتے ہیں۔ یہ ایک فطری عمل ہے جو خدا کی ایک عظیم نعمت ہے ورنہ یہ کارخانہِ خدا ایک بے روح جسم کی مانند اپنا وجود کھوبیھٹتا۔

لیکن جب یہ فطری عمل مذہب میں رونما ہوتا ہے تو قوم کےعلمی واخلاقی زوال کے ساتھ تعصب کا شکار ہو جاتا ہے۔اِس کے نتیجے میں انسان کے اندر اپنے نقطہٴنظر کے خلاف کسی بات کو سننے کا حوصلہ نہیں رہتا اور معاشرە عدم برداشت اور خونریزی کاشکار ہو جاتا ہے۔
ہماری قوم بھی اِسی فکری واخلاقی زوال کا شکار ہے۔ہر روز کتنے بے گناە افراد اس مذہبی عدم برداشت کے نتیجہ میں اِس جہاںِِ فانی سے کوچ کر جاتے ہیں۔اِس تعصب کے نتیجے میں ہم ایک قوم سے بھیڑ بن چُکے ہے۔اس سے نجات کا واحد ذریعہ ہمارے اخلاقی و علمی وجود کی تذکیر ہے ۔
دین کا بنیادی مقصد انسان کا تزکیہ کرنا ہے۔خدا نے اس کے لیے سب سے بنیادی ہدایت انسان کی فطرت میں رکھ دی ہے اور اس کے ساتھ انبیاٴکرام کا سلسلہ انسانی تاریخ میں شروع کیا اور اپنی اس نعمت کو آخری نبی محمد صلی الله علیہ وسلم پر ختم کردیا۔
قرآن کریم میں الله تعالی اپنے آخری رسول کی بعثت کا مقصد بتاتے ہوۂے فرماتے ہے:

” وہی ذات ہے جس نے اِن اُمیوں میں ایک رسول اِنھی میں سے اٹھایا ہے جو اس کی آیات اِن پر تلاوت کرتا ہےاور اِن کا تزکیہ کرتا ہے اور (اِس کے لیے) اِنھیں قانون اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے”

آپ اور آپ سے پہلے تمام انبیاٴکرام اِسی بنیادی دعوت کو اپنی قوموں کے پاس لے کرآۂیں کہ جو چیز خُدا کو ہم سے جنت کے بدلے مطلوب ہے وە ہمارے علمی،اخلاقی اور جسمانی وجود کو تمام غلاظتوں اور نجاستوں سےپاک کرکے روزِقیامت خدا کی بارگاە میں حاضر ہونا ہے۔

قرآن کریم میں الله تعالی کا ارشاد ہے۔
” بے شک کامیاب ہوا وە جس نے اپنا تزکیہ کیا۔ ”

اِس تذکیری عمل کی شروعات ہمیں کسی اور سے نہیں بلکہ اپنے نفس سے کرنی ہے۔یہ بحثیتِ فرد اور قوم ہماری بقا کے لیے ناگزیر ہے ورنہ وە دن دور نہیں جب ہم خدا کے مکافاتِ عمل کے قانون کے تحت اپنی موت آپ مر جائیں گے۔

تحریر: ارسلان انور

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s