ہم مائیں ، ہم بہنیں ، ہم بیٹیاں


بنت اعظمی
سامعہ ایکٹنشن پر اپنی بھابھی کی باتیں سن رہی تھی جو کسی آدمی سے فون پر بات کررہی تھی۔ دونوں کے لہجے میں بڑی لگاوٹ تھی، یوں معلوم ہوتا تھا کہ ایک دوسرے پر مر مٹیں گے۔ سامعہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔
اچانک وہاں سے مرد کی آواز آئی:
” اچھا تو بتاؤ کب مل رہی ہو؟”
"ارے !تم جب کہو میں حاضر ہوں”۔ بھابھی نے جواب دیا
پھر دونوں میں رازو نیاز کی باتیں ہونے لگیں۔ سامعہ کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ وہ سوچنے لگی کہ اتنی معصوم نظر آنے والی بھابھی اس قماش کی ہوگی۔ اس نے اپنی بھابھی کو ہمیشہ بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا لیکن یہ نیا روپ اس کے لئے ناقابل یقین تھا۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ اس کی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ بات نہ بتانےوالی تھی اور نہ چھپانے والی۔ دل پر جبر کرکے اس نے یہ بات اپنی ماں کو بتائی۔ اس کی ماں کو یقین ہی نہیں آیا۔ پھر ماں نے اپنے بیٹے کو یہ بات بتائی تو اس نے یقین کرنے سے انکار کردیا۔ پھر ایک دن خود اس نے ایکسٹنشن پر یہ باتیں سنیں تو اسے یقین آہی گیا۔

اب کیا تھا ۔ خوب لڑائی جھگڑے ہوئے ۔ عورت نے اپنے تعلقات کا صاف اعتراف کرلیا۔ بات کو بڑھنا ہی تھا ۔ اس چیپ لو اسٹوری کا نتیجہ طلاق کی صورت میں برآمد ہوا یوں ایک اور گھر معاشرے کی بے حسی کا شکار ہوگیا۔ آخر یہ سانحہ کیسے ہوگیا ۔؟کیا یہ وہی مائیں ، بہنیں اور بیٹیاں ہیں جن کے دم سے قوموں کی عزت ہوا کرتی تھی۔ ؟عورت کے تو نام سے ہی پاکیزگی اور وفاداری کا تصور ابھرتا ہے ۔ اس میں اتنی ناپاکی ، بے حیائی اور بے وفائی کیسے آگئی ۔؟
اس طرح کے واقعات ایک دو دن میں رونما نہیں ہوجاتے۔ بے شرمی ، بے غیرتی اور بے حیائی کا یہ زہرہمیں صبح شام میڈیا کے ذریعے پلایا جارہا ہے ۔ غیر اخلاقی گانے، فحش فلمیں ، بے ہودہ ڈائیلا گز پر مبنی ڈرامے صبح وشام ہر گھر میں دیکھے جاتے ہیں ۔ ان فحش ڈراموں ، گانوں اور فلموں سے معاشرے میں جنسی بے راہروی پھیلانے ،شہوانی خواہشات کو ابھارنے اور نکاح کے بندھن کو حقیر دکھانے کا پوارا سامان موجود ہوتا ہے۔ ان پروگرامز میں مرد و زن کے آزادانہ اختلاط کے نت نئے طریقے سکھائے جاتے ،ڈیٹس لگانے کو گلیمرائز کیا جاتا اور مغربی طرز کی فحاشی کو دوستی کے روپ میں دکھا یا جاتا ہے۔انہیں دیکھ کر نوجوان نسل تو برباد ہوتی ہی ہے لیکن شادی شدہ گھرانے بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔چنانچہ شادی شادی مرد کو اپنی بیویاں ماسی کے روپ میں نظر آتی ہیں تو بیویوں کو اپنے شوہر برے لگنے لگتے ہیں۔ اس میں قصور مرد و عورت دونوں ہی کا ہے ۔ لیکن یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ اگر عورت اپنی عفت و عصمت کے دروازوں کی حفاظت کرے تو کسی کی مجال نہیں کہ وہ اس کو گناہ کے کام پر ورغلائے۔
اس مسئلے کا حل کسی ایک فرد کی ذمہ داری نہیں ۔ماں باپ کی تربیت، میڈیا کی ذمہ داری، اسٹیٹ کا رول، مذہبی راہنماؤں کی تبلیغ، مردوں کی نگاہ میں پاکیزگی اور عورت کا اپنی عفت کی حفاظت کرنا ہی وہ اقدامات ہیں جن سے اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔ یہ سارے عوامل اگر مل جائیں تو ایک ایسا پاکیزہ معاشر ہ وجود میں آتا ہے جس پر اللہ کی عنایتیں اور برکتیں نازل ہوتیں اور خدا کی رحمت سایہ فگن رہتی ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر پارکس، ہوٹل، اسکول ، کالج اور یونی ورسٹیاں قحبہ گری کا اڈا بن جاتی ہیں ۔ پھر خدا کی رحمت دور ہوکر معاشرے کو اپنی موت آپ مرنے کے لئے چھوڑ دیتی ہے۔

Advertisements

One response to this post.

  1. ایک اہم مسئلہ کو مذکور کیا ہے- میری نگاہ میں بنیادی ذمے داری والدین کی ہے- ہمارے معاشرے میں یہ ابتدائی تربیتی ادارہ تقریباً زوال آشنا ہوچکا ہے- وجوہ بہت مختلف ہیں- تاہم بنیادی بات یہی ہے کہ اگر والدین اپنی ذمے داری نبھائیں گے تو اللہ تعالیٰ بھی زندگی آسان بنائے گا-

    جواب

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s