پریشا ن ہونا چھوڑئیے۔ اصول نمبر 9۔اسٹاپ لاس


کیس اسٹڈی:
لیو ٹالسٹائی کی خوش نصیبی تھی کہ وہ جس لڑکی سے دیوانہ وار محبت کرتا تھا وہ اسے حاصل بھی ہوگئی اور دونوں کی شادی ہوگئی۔ لیکن وہ لڑکی انتہائی حاسد اور شکی مزاج نکلی۔ وہ بھیس بدل کر اکثر اپنے شوہر کا تعاقب کرتی، اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھتی اور شک کی بنا پر خودکشی کی دھمکی دیا کرتی تھی۔ ٹالسٹائی یہ بات جانتا تھا۔ چنانچہ اس نے ایک ڈائری لکھنا شروع کی جس میں اس نے خود کو معصوم اور اپنی بیوی کو ہر قصور کا مورد الزام ٹہرایا تاکہ آئیندہ آنے والی نسلیں اسے معصوم سمجھیں۔ اس کی بیوی کو جب خبر ہوئی تو اس نے بھی ایک اپنی تصنیف میں ٹالسٹائی کو ایک گھریلو شیطان اور خود کو ایک شہید کے روپ میں پیش کیا تاکہ آئندہ کی نسلیں اسے اچھے الفاظ میں یاد رکھیں۔ دونوں آئیندہ آنے والی نسلو ں کے سامنے تو اپنی پوزیشن کلئیر کرنے میں لگے رہے لیکن انہیں یہ توفیق نہیں ہوئی کہ آپس میں مل بیٹھ کر ایک دوسرے کے سامنے اپنی پوزیشن کلئیر کریں۔ وہ اگر اسٹاپ لاس کا قانون اپلائی کرتے تو ان کی زندگی بہت خوشگواور ہواجاتی۔ وہ یہ تھا کہ جو ہوچکا سو ہوچکا، اب مزید نقصان نہیں اٹھانا۔
وضاحت
ہماری زندگی میں اکثر یہ ہوتا ہے کہ ہم نقصان اٹھاتے ہیں۔ کبھی غصے میں آکر کسی کو کچھ کہہ دیا، کبھی کوئی غلطی کرکے کسی کا دل دکھادیا ۔ کبھی یہ غلطی چھوٹی ہوتی ہے اور کبھی بڑی۔ لیکن یہ نقصان ہوچکا ہے۔ اب عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس پر اسٹاپ لاس کا اصول اپلائی کرکے مزید غلطیوں اور نقصان سے بچا جائے۔ لیکن ہوتا عام طور پر اس کے برعکس ہے۔ ہم اس غلطی کو جسٹفائی کرنے کی کوشش میں نقصان در نقصان کئے جاتے ہیں۔ اور یوں نتیجہ بھیانک گمراہی اور ٹوٹل لاس کی شکل میں نکلتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی کی نماز چھوٹ گئی ہے تو اسٹاپ لاس کا قانون یہ کہتا ہے کہ اس پر توبہ کرکے اس کی قضا پڑھ لی جائے اور آئیندہ نماز نہ چھوڑی جائے۔ لیکن عام طور پر لوگ ایک نماز چھوڑنے کے بعد ہمت ہار جاتے اور مستقل بے نمازی بن جاتے ہیں۔ اسی طرح خاندانی جھگڑوں میں بعض اوقات یہ علم ہوتا ہے کہ ہم غلطی پر ہیں لیکن اسٹاپ لاس کرنے کی بجائے ہم غلطی کو جسٹفائی کرتے چلے جاتے ہیں جس سے تعلقات میں بحالی کی امید ختم ہوجاتی ہے۔
اسائنمنٹ
۱۔ ان حقائق کی فہرست بنائیے جہاں آپ اسٹاپ لاس کا قانون اپلائی کرسکتے تھے اور آپ نے نہیں کیا۔
۲۔ان مستقبل کے مواقع کی فہرست بنائیے جہاں آآئیندہ آپ اسٹاپ لاس کا قانون اپلائی کرسکتے ہیں۔

پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

2 responses to this post.

  1. زبردست ، کمال کا موضوع ہے کہ ہم منفی طرزِ فکر سے نکل کر مثبت سوچنا شروع کریں۔

    جواب

  2. بہت اچھی تحریر ہے۔۔ 🙂 سبحان اللہ۔۔۔

    جواب

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s