خدا اور ماں


عام طور پر خدا کی محبت کو ماں محبت سے سمجھایا جاتا ہے۔ یہ بات اپنی اصل میں غلط نہیں کیونکہ اس دنیا میں سب سے زیادہ محبت کرنے والی جو ہستی ظاہر میں نظر آتی ہے وہ ماں ہی ہے۔ لیکن اس اس مثال سے بعض اوقا ت کئی غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں اور اللہ سے تعلق افراط و تفریط کا شکار ہوجاتا ہے۔ چنانچہ یہ بہت ضروری ہے کہ اس مثال سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو سمجھا اور دور کیا جائے۔
اس معاملے میں ایک بات بہت مشہور ہے کہ جس طرح ایک ماں اپنے بچے کو آگ میں نہیں ڈال سکتی تو خدا جو ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے وہ کیسے بندے کو آگ میں ڈال سکتا ہے۔ یہ اصول ایک

غلط موازنے پر مبنی ہے اور اگر اسے عمومی طور پر بیان کردیا جائے تو قرآن کی تعلیمات پر سوالیہ نشان پیدا ہوجاتا ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ ماں اپنے جس بچے سے محبت کرتی ہے اسے کبھی آگ میں نہیں ڈالتی تو خدا اپنے جس بندے سے محبت کرتا ہے اسے آگ میں نہیں ڈالتا۔ یعنی یہاں پر محبت کی شرط عائد ہے۔ لہٰذا کسی بیٹے نے اپنی ماں کے شوہر کو قتل کردیا ہو، اس کی بیٹیوں کو گھر سے نکال دیا ہو، اس ماں کی تذلیل کی ہو تو ایسی ماں کی محبت نفرت میں بدل جائے گی اور وہ عدل و انصاف کی خاطر ایسے بیٹے کو ضرور انصاف کے کٹہرےمیں لانا پسند کرے گی خواہ اس کے فرزند کو پھانسی ہی کیوں نہ ہوجائے۔ اسی طرح اگر ایک شخص خدا کا باغی، منکر، اس سے نفرت کرنے والا، اس کی مخلوق کو ستانے والا، قتل کرنے والا اور اس کے نام پر جھوٹ بولنے والا ہو تو خدا اس سے ہر گز محبت نہیں کرے گا۔ بلکہ وہ اس باغی، ظالم ، قاتل اور ہتھیارے کو انصاف کے تقاضوں کے تحت ضرور سزا دے گا۔
ماں کی محبت میں ایک اور مشاہدہ سامنے آتا ہے ۔ ماں کی محبت بعض اوقات جذبات اور مصلحتوں کا شکار ہوجاتی ہے،۔ چنانچہ وہ اپنے بچے کی غلطیوں کو درست سمجھتی، اس کی سرکشیوں کو شرارت گردانتی، اس کے گناہوں پر پردہ ڈالتی اور اس کی ہر صحیح و غلط بات پر اسے سپورٹ کرتی نظر آتی ہے۔وہ یہ سب کچھ یا تو جذبات کی مغلوبیت کی بنا پر کرتی ہے یا پھر معلومات کی کمی کی وجہ سے۔ خدا ان کمزوریوں اور خامیوں سے پاک ہے۔ وہ جذبات سے مغلوب نہیں ہوتا، اس کا محبوب بندہ بھی اگر غلطی کرے تو وہ اسے غلطی ہی گردانتا اور اس کے معافی اپنے قاعدے اور قانون کے تحت ہی کرتا ہے۔ چونکہ کامل علم رکھتا ہےاس لئے وہ بندے کی نیت دیکھ کر جان لیتا ہےکہ وہ کس سلوک کا مستحق ہے۔ایک ماں جانبداری و مغلوبیت میں عدل و انصاف سے روگردانی کرسکتی ہے لیکن خدا کبھی جانبداری کا مظاہرہ نہیں کرتا۔
خدا اور ماں کا کوئی موازنہ نہیں۔ لیکن اگر خدا کی محبت کو ماں کی محبت سے سمجھنا ہے تو افراط و تفریط سے گریز کرنا اور خدا کو ایک عاجز اور مخلوق ماں کی جگہ پر رکھنے سے گریز کرنا ہوگا۔ ورنہ تو غلط نتائج اخذ ہونے کا اندیشہ ہے۔

از پروفیسر محمد عقیل

4 responses to this post.

  1. Jahan tak mera point of view hy wo yeh k yahan Khuda kimuhabat ko smjhany k liye USki shidat ka mawazna maan ki muhabat se kiya gaya hy. aur dono hastyon ki muhabat mn jo baat mushtrik hy wo hy muhabat ka khalis hona. kunk dunyavi rishtn mn sirf Maan ki muhabaat hi khalis hoti hy isi liye isko Tashbeeh de gae hy

    جواب دیں

  2. Posted by گمنام on 31/03/2014 at 7:52 شام

    جب اللہ تعالیٰ نے ہی کہہ دیا کہ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے، اور ہم اللہ تعالیٰ کو ماں بنانے پر تلے ہوئے ہیں، وہ بھی اپنی غلط کاریوں کی سزا نہ پانے کے لیے

    امیں

    جواب دیں

  3. آپ نے اچھا نقطہ اُٹھایا ہے ۔ کئی لوگ موازنہ کرتے ہوئے یہ حقیقت نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ہر عیب سے پاک اللہ کی ذات ہے اور ماں انسان ہونے کے ناطے غلطی کر سکتی ہے

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s