نیت کرتا ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔


ایک صاحب دوڑتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے۔ امام صاحب قرات کررہے تھے ۔ وہ صاحب نے جلدی جلدی صف میں کھڑے ہوئے اور بولنا شروع کیا :
"نیت کرتا ہوں میں چار رکعت نماز عشاء کے فرض کی منہ میرا قبلہ شریف کی طرف اررر۔۔۔۔۔۔۔۔”
امام صاحب کی قرات کی بنا پر وہ بھول گئے کہ آگے کیا کہنا ہے اور پھر سے نیت کرنے لگے:
"نیت کرتا ہوں میں تین رکعت نماز عشاء کے فرض کی ، واسطے اللہ تعالی ٰ کے اررر۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ پھر رک گئے کیونکہ انہیں یاد آگیا کہ عشا ء میں تو چار رکعتیں ہوتی ہیں۔ انہوں ایک مرتبہ

اور زبان سے نیت کرنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ امام صاحب رکوع میں چلے گئےاور ان صاحب نے تنگ آکر زبان سے نیت کئے بنا ہی نماز میں شمولیت کا فیصلہ کرلیا ۔
ہمارے ہاں اکثر عبادات میں زبان سے نیت کرنے پر زور دیاجاتا ہے جن میں روزہ ، حج ، عمرہ و نماز وغیرہ شامل ہیں۔میں اس وقت اس پر بحث نہیں کرنا چاہتا کہ عبادات میں زبان سے نیت کرنا درست ہے یا نہیں۔ لیکن میں اتنا ضرور بیان کرنا چاہتا ہوں کہ نیت کرنا اور ارادے کو درست رکھنا ہر کام میں ضروری ہے ۔ہم جانتے ہیں کہ اعمال کا دارومدار نیت یعنی ارادے پر ہے۔مثال کے طور پر ایک شخص نے کافروں سےجہاد اس ارادے سے کیا کہ لوگ اسے بہادر کہیں گے اور اس کی شہرت ہوگی۔اب اگر وہ جنگ میں مارا گیا تو وہ اللہ کے نزدیک شہید نہیں ہوگا۔

ارادے کی موجودگی اور اس کی درستگی کی ضرورت معیشت ، معاشرت، اخلاقیات ، خوردو نوش ، عبادات غرض ہر معاملے میں ہے۔لیکن عبادات کے علاوہ باقی امور میں ہم یا تو سرے سے کوئی ارادہ ہی نہیں کرتے یا پھر غلط نیت رکھتے ہیں۔حالانکہ ارادے کی درستگی سے ہمارا عمل خدا کی رضا کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے اور اعمال کی اصلاح کا سبب بھی۔

مثال کے طور پرہم صبح کا آغاز اس نیت سے کرسکتے ہیں کہ آج ہم جھوٹ نہیں بولیں گے۔ لوگوں سے ملتے وقت دل میں ارادہ کرسکتے ہیں کہ اس کا مذاق نہیں اڑائیں گے، کسی کی غیبت نہیں کریں گے، کسی پر طنز نہیں کریں گے۔ اسی طرح ہم دفتر میں اس ارادے سے داخل ہوسکتے ہیں کہ آج کا کام دیانت داری سے کریں گے اور کوئی کام چوری و کرپشن نہیں کریں گے۔ مالی لین دین کے وقت یہ ارادہ کرسکتے ہیں کہ وعدہ پورا کریں گے ، بازار میں داخل ہوتے وقت یہ ارادہ کرسکتے ہیں کہ نگاہوں کہ حفاظت کریں گے وغیرہ وغیرہ۔
نیت ایسا کام ہے جس کے ذریعے انسان خدا کا قرب بھی حاصل کرسکتا ہے اور شیطان کی معیت بھی۔ ہمیں چاہئے کہ اپنی نیت کو خدا کی رضا کے تابع کردیں، اعمال بھی انشاءاللہ د سدھر جائیں گے۔

پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by احمر on 07/04/2014 at 7:00 شام

    جناب عالی میں ایک دوسرے معاملے پر آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں-

    جیسا کہ آپ کا بلاگ ایک مذہبی بلاگ کے طور پر معروف ہے، مگر اس پر جو اشتہارات آتے پیں وہ آپ کے بلاگ کے موضوعات کے لحاظ سے مناسب نہیں لگتے-

    شکریہ

    جواب

  2. بہت اچھا لکھا ہے آپ نے ۔ بچپن میں یہی بتایا گیا تھا کہ اس طرح نماز کی نیت کریں یعنی بول کر ۔ جب دین کو سمجھنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ نیت دل سے ہوتی ہے نہ کہ زبان سے ۔ اور یہ بھی کہ ہر عمل سے قبل نیکی یا اللہ کی ھدائت پر عمل کی نیت ضروری ہے
    http://www.theajmals.com

    جواب

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s