پریشا ن ہونا چھوڑئیے -اصول نمبر 11۔ہماری سوچیں اور ہم


کیس اسٹڈی
وہ جب ہسپتال میں داخل ہوا تو بون میرو کے ذریعے پتا چلا کہ اسے آئی ٹی پی (Idiopathic thrombocytopenic purpura) کا مرض ہے۔ اس مرض میں دفاعی نظام خون میں موجود پلٹ لیٹس کو دشمن سیل سمجھ کر ختم کرنا شروع کردیتا ہےاور یوں جسم میں پلیٹ لیٹس کی تعداد مناسب لیول سے کم رہتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جسم کے اندر اور باہر کہیں بھی خون بہنے کا امکان ہوتا ہے اور اگر چوٹ لگ جائے تو

خون کا بہاؤ مشکل سے رکتا ہے۔
اسے جب اس بیماری کا علم ہوا تو شروع میں منفی سوچوں نے زندگی بدل کر رکھ دی۔ اکثر رات کو سوتے وقت یوں لگتا کہ ناک سے خون بہہ رہا ہے اور وہ ہڑبڑا کر اٹھ جاتا اور باتھ روم میں جاکر دیکھتا تو ایسا کچھ نہ ہوتا۔ کبھی یوں لگتا کہ جسم پر سرخ دھبے نمودار ہونا شروع ہوگئے ہیں، انہیں غور سے دیکھنے پر وہ دھبے گہرے ہوتے جاتے یہاں تک کہ وہ دہشت زدہ ہوکر اسکن کا جائزہ لینا چھوڑدیتا۔ کبھی سر میں درد ہوتا تو یوں لگتا کہ اب دماغ میں بلیڈنگ اسٹارٹ ہوا ہی چاہتی ہے۔
ایک مرتبہ تو حد ہوگئی۔ اس نے آفس میں ایک دوست سے ہاتھ ملایا تو اس نے توجہ دلائی کہ اس کے ہاتھ غیر معمولی طور پر لال ہورہے ہیں۔ اس نے جب غور سے دیکھا تو ہتھیلیاں اور ہاتھ کی پشت بہت زیادہ لال تھی ۔اس نے ہاتھ دھو کر وہ لالی چھٹانے کی کوشش کی لیکن کچھ نہ ہوا۔ وہ سمجھ گیا کہ اب تو بلیڈنگ ہونی لازمی ہے۔ جب اسے یہ یقین ہونے لگا کہ یہ پلیٹ لیٹس میں کمی ہی کی وجہ سے ہے تو اسے چکر آنے لگے، جسم میں نقاہت محسوس ہونے لگی اور بدن میں دوڑتا ہوا خون ایسا لگنے لگا کہ اب باہر آیا کہ تب۔
وہ اس دہشت زدگی کے عالم میں تھا اور یہی سوچ رہا تھا کہ کس ہسپتال کی جانب کوچ کیا جائے۔ اچانک اس نے اپنے جسم کے دیگر حصوں کا جائزہ لیا تو وہاں اس قسم کی کوئی علامت نہ تھی ۔ اس نے دماغ کو پرسکون کیا اور اس امکان پر غور کرنے لگا کہ ممکن ہے کوئی چیز ایسی ہو جس سے ہاتھ سرخ ہوگئے ہوں۔ وہ سوچتا رہا سوچتا رہا یہاں تک کہ اسے خیال آیا کہ کچھ دیر پہلے وہ باتھ روم سے ہوکر آیا تھا اور وہاں ایک ایسے رومال سے ہاتھ صاف کئے تھے جو پہلی مرتبہ استعمال کیا تھا۔ اس نے کاپنتے ہاتھوں سے جیب سے اس رومال کو نکالا۔ وہ لال رنگ کا تھا اور کچھ گیلا ہورہا تھا۔ اس نے وہ رومال اپنے اور اپنے ساتھی کے ہاتھوں پر رگڑا تو ہاتھوں کا رنگ بھی ویسے ہی سرخ ہوگیا۔ عقدہ یہ کھلا کہ رومال رنگ چھوڑ رہا تھا اور بس۔ اس نے خدا کا شکر ادا کیا۔ اس کے بعد پلیٹ لیٹس کم ہونے کی وہ ساری علامات جو وہ اپنے جسم میں محسوس کررہا تھا یکدم غائب ہوگئیں اور وہ ہشاش بشاش اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔ لیکن اس نے دوبارہ اس نامعقول رومال کو ہاتھ نہیں لگایا۔
وضاحت
ہم وہی ہوتے ہیں جو ہماری سوچیں ہوتی ہیں۔ اگر ہم یہ سوچیں کہ ہم ایک بدنصیب ، بدبخت اور لاچار انسان ہیں تو ہماری باڈی اسی طرح ری ایکٹ کرکے ہمیں ایک بے بس انسان بنادیتی ہے۔ اگر ہم غموں کی سوچ کو خود پر حاوی کریں تو ہمارا روپ ایک پژمردہ شخص ہی کاہوتا ہے۔ اگر ہم چوبیس گھنٹے اپنے جسم میں درد کو محسوس کرتے رہیں تو ایک نفسیاتی درد محسوس ہونے لگ جاتا ہے۔
اس کے برعکس اگر کوئی خود کو ایک باہمت ، طاقتور اور توانا کے روپ میں سوچے تو اس کا جسم اس کی نفسیات کے مطابق ڈھلنے کی کوشش کرتا ہے۔ کوئی اگر خوشی اور مسرت کی سوچوں میں رہے تو کئی حقیقی تکالیف بھی محسوس نہیں ہوتیں۔کوئی اگر دوسروں کے بارے میں منفی سو چ کو نکال دے تو اس کے دماغ میں نفرت کے کانٹوں کی بجائے محبت کے پھول کھلنے لگ جاتے ہیں۔
یہ سوچ ہی ہے جس کی بنا پر نپولین بونا پارٹ جیسا عظیم فاتح یہ کہتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں حقیقی کامرانی سے بھرپور لگاتار چھ دن بھی نہیں دیکھے ۔ اور یہ سوچ ہی ہے کہ ایک اندھی، گونگی اور بہری ہیلن کیلر کہتی ہے کہ میں نے زندگی کو انتہائی خوبصور ت پایا ہے۔
اسائنمنٹ
۱۔ آپ اپنے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ اسے تین جملوں میں بیان کریں۔
۲۔آپ اپنی سوچوں کی لسٹ بنائیے اور یہ تعین کریں کہ وہ مثبت ہیں یا منفی۔
۳۔اپنی سوچوں کو بہتر اور مثبت بنانے کے لئے لائحہ عمل تیار کریں
پروفیسر محمد عقیل

One response to this post.

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s