آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی


قرآن میں بیان ہوتا ہے کہ جب موسی علیہ السلام کوہ طور پہنچے تو انہوں نے اللہ کو دیکھنے کی خواہش کی ۔ موسی علیہ السلام کی اس خواہش پر اللہ تعالی نے انسان کی محدودیت سے آگاہ کردیا کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے ۔ ساتھ ہی تجربہ بھی کروادیا کہ اگر ایک پہاڑ خدا کی معمولی تجلی برداشت نہیں کرسکا اور ریزہ ریزہ ہوگیا تو انسانی آنکھ خدا کا جلوہ دیکھنے کی متحمل کس طرح ہوسکتی ہے۔موسی علیہ السلام نے تو فورا اللہ کی جانب رجوع کرلیا لیکن اس واضح پیغام کے باوجود خدا کو دیکھنے کی کوششیں آج بھی جاری ہیں۔ بالخصوص

صوفیا کے ہاں خاص طور پر اللہ کے دیدار کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس صورت حال کو مرزا غالب کا یہ شعر بہت خوبی سے بیان کرتا ہے:
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی
اس بات سے قطع نظرکہ خدا کا دیدار ممکن ہے یا نہیں ، اس شعر کے دوسرے مصرعے میں بڑی معنویت پائی جاتی ہے۔ حضرت موسی کے واقعے سے سبق ملتا ہے کہ خدا سے ملنے کے لئے کوہ طور جانے کی ضرورت نہیں ۔ وہ تو ہماری رگ جاں سے بھی زیادہ نزدیک ہے، اسے پکارو تو جواب دیتا ، باتیں کرو تو سنتا، التجا کرو تو پوری کرتا ہے۔ وہ تو اتنا قدردان ہے کہ جو کوئی اسے دل میں یاد کرے وہ اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہے، کوئی اسے انسانوں کی محفل میں یاد کرےتو وہ اسے فرشتوں کی محفل میں یاد کرتا ہے۔کوئی اس سے بالشت بھر قریب ہو تو وہ آگے بڑھ کر ایک ہاتھ قریب ہوجاتا ہے۔ کوئی اگر ایک ہاتھ قریب ہو تو وہ اس سے چار ہاتھ نزدیک ہوجاتا ہے۔ کوئی اگر چل کر اس کے پاس آئے تو وہ دوڑ کر اس کے پاس آجاتا ہے۔
وہ تو اتنا شفقت کرنے والا ہے کہ جو کوئی اس کا نیک نیتی سے قرب حاصل کرنا چاہے تو وہ قرب عطا کرتا ہے۔ کوئی اس سے محبت کرے تو وہ اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ جب وہ کسی سے محبت کرنے لگتا ہے تو اس کے کان ہوجاتا ہے جس سے وہ شخص سنتا ہے ۔ وہ اس کی آنکھ ہوجاتا ہے جس سے وہ دیکھتا ہے ۔ وہ اس کا ہاتھ بن جاتا ہے جس سے وہ پکڑتا ہے ۔ اس کا پاؤں ہوجاتا ہے جس سے وہ چلتا ہے۔ اور اگر اس سے کوئی چیز مانگتا ہے تو وہ اسے دیتا ہے۔ اگر وہ اس سے پناہ مانگے تو پناہ دیتا ہے۔
خدا کو تلاش کرنے کا ایک طریقہ مراقبے، چلہ کشی، لطائف ستہ کی بیدار، ترک دنیا، اللہ ہو ضربیں اور اس قسم کے دوسری مشقیں ہیں ۔ دوسری جانب خداکو اخلاص سے پکارنا ، اس سے محبت کرنا، اس کی کامل اطاعت کرنا، اس کے پیغمبر کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا ایک دوسرا طریقہ ہے۔پہلا کام یہ ہے کہ خدا تک پہنچنے کے لئے درست طریقے کا انتخاب کیا جائے اور دوسرا کام یہ ہے کہ پھر اس طریقے کا حق ادا کردیا جائے کیونکہ یہاں ہر ایک کو اپنے ظرف ، محنت اور اخلاص کی بنیاد پر ملتا ہے ۔ غالب سے معذرت کے ساتھ
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
کیوں نہ کریں سیر قلب طہور کی
پروفیسر محمد عقیل

One response to this post.

  1. Posted by Rabia on 23/05/2014 at 1:35 صبح

    سر عقیل الله تعالی آپ کو جزائے خیر دیں .. بہت شاندار آرٹیکل لکھا ہے ماشااللہ .. الله تعالی ہم سب کو اپنا قرب عطا کریں ..

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s