پریشا ن ہونا چھوڑئیے ،جینا شروع کیجئے۔اصول نمبر 10۔ماضی مرچکا ہے


کیس اسٹڈی
وہ نفسیات کی کلا س تھی۔ پروفیسر صاحب کے آنے کا انتظار تھا ۔ لیکن پروفیسر صاحب کی ٹیبل پر ایک دودھ کی بوتل رکھی تھی۔تمام طلباء اس مخمصے میں تھے کہ آخر اس بوتل کا کیا مقصد ہے۔ ابھی چہ مہ گوئیاں جاری تھیں کہ اچانک پروفیسر صاحب کمرے میں داخل ہوئے۔ کلاس میں ایک سکوت طاری ہوگیا۔ اچانک پروفیسر صاحب نے بوتل اٹھائی اور دیوار پر دے ماری۔ سب ارے ارے کرتے رہ گئے لیکن جو ہونا تھا

وہ ہوچکا تھا۔ بوتل ٹوٹ چکی تھی اورسارا دودھ بہہ گیا تھا۔ اچانک پروفیسر صاحب نے سوال کیا :
"کوئی ہے جو اس دودھ کو واپس بوتل میں ڈال سکے؟”۔ سب نے نفی میں جواب دیا ۔ پروفیسر صاحب مسکرائے اور کہنے لگے:
"یہ دودھ اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔ اور ماضی پر ماتم نہیں کرنا چاہئے ۔ جو دودھ ضائع ہوگیا اس پر ماتم مت کرو، اسے بھول جاؤ اور آگے کا سوچو”۔
وضاحت
ماضی ایک اٹل حقیقت ہے لیکن اس سے بڑی حقیقت ہے کہ ماضی میں واپس نہیں جایا جاسکتا۔ جو واقعہ ایک منٹ قبل ہوا وہ ماضی کا حصہ بن گیا اور اب وہ ہمارے اختیار میں نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم یا تو ماضی کے پچھتاووں میں زندگی گذارتے ہیں یا مستقبل کے اندیشوں میں۔ اس ماضی اور مستقبل کے درمیان حال ہے جو اصل زندگی ہے۔ گزرے ہوئے خوشگوار لمحے کم یاد رہتے ہیں لیکن ناگوار واقعات ہمارے لاشعور میں بعض اوقات چپک جاتے ہیں۔ کسی کو باپ کے مرنے کا غم چین نہیں لینے دیتا تو کسی کو اولاد کی کی جدائی کا افسوس ہوتا ہے۔ کوئی ماضی کی بے عزتی پر ملول رہتا ہے تو کوئی عشق میں ناکامی کو دل کا روگ بنالیتا ہے۔ کسی کو اپنے جمے ہوئے کاروبار کی یاد ستاتی ہے تو کوئی تعلیم میں پیچھے رہ جانے پر شب و روز ماتم کرتا ہے۔
حقیقت ہم سب جانتے ہیں کہ ماضی کا نقصان ہماری اپنی کوتاہی کی بنا پر ہوا ہو یا قسمت کی بے وفائی کی وجہ سے، دونوں صورتوں میں ماضی میں جاکر نقصان کو فائدے میں نہیں بدلا جاسکتا۔ چنانچہ اسے بھلادینا ، اپنے لاشعور سے نکال پھینکنا اور صبرو استقامت سے کام لینا ہی عقلمندی ہے۔
ماضی کو بھلانے کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جائے۔ اگر ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا جائے تو ایک ناکام ماضی کامیاب مستقبل کی نوید بن سکتا ہے۔یہ نہ صرف ماضی کے قابل تلافی نقصانات کو فائدے میں بدل سکتا ہے بلکہ ایک مثبت زندگی کی داغ بیل بھی ڈال سکتا ہے۔
اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ماضی کے نقصان پر غم بالکل نہ ہو۔ ایسا انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ جب چوٹ لگے گی تو دکھ ہوگا لیکن پہلے اسٹیپ میں اس غم پر واویلا کرنے کی بجائے صبرو تحمل سے کام لیا جائے اور غم کے نامعقول اظہار سے حتی الامکان گریز کیا جائے۔ دوسرے اسٹیپ میں اس صدمے کو پالا نہ جائے۔ تیسرے اسٹیپ میں یہ دیکھا جائے کہ کن اسباب کی بنا پر یہ صدمہ ملا۔ اگر یہ اللہ کی طرف سے تھا تو اس کی قضا پر راضی رہا جائے۔ اگر یہ ہماری کسی کوتاہی کی بنیاد پر ہوا تو آئیندہ اس کوتاہی کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔
اسائنمنٹ
۱۔ ان ماضی کے پچھتاووں کی فہرست بنائیے جن پر آپ اکثر ملول و غمزدہ ہوجاتے ہیں۔
۲۔ان صدموں کو دو کالمز میں لکھیں کہ کونسے واقعات آپ کی اپنی غلطی کی وجہ سے ہوئے اور کون سے آپ کے اختیار سے باہر تھے۔
۳۔ وہ واقعات جو آپ کی اپنی وجہ سے ہوئے ان کا سد باب تحریر کریں اور آئیندہ ان سے بچنے کی کوشش کریں۔
۴۔اس کے بعد ماضی پر پچھتانا چھوڑ دیں کیونکہ جو دودھ بہہ گیا اس پر واویلا عقلمندی نہیں۔

پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

One response to this post.

  1. زبردست تحریر پروفیسر صاحب
    تین سٹیپ بہت کام کے بتائے
    ایسے مثبت سوچ اجاگر کرنے والی تحریروں کی بہت کمی ہے
    اللہ جزائے خیر دے

    جواب دیجیے

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s