پریشا ن ہونا چھوڑئیے ۔اصول نمبر 12۔برائی کا جواب برائی سے دینے کی قیمت


کیس اسٹڈی
وہ آج دفتر میں داخل ہوا تو چپراسی نے کہا کہ صاحب یاد کررہے ہیں۔وہ آلتو جلالتو پڑھتا ہوا باس کے کمرے میں داخل ہوا ۔ باس کا موڈ ٹھیک نہ تھا۔ ” تمہیں پتا ہے تم نے فراڈ کیا ہے؟۔ باس مخاطب ہوا لیکن اس کی نگاہیں بتارہی تھیں کہ وہ اپنا جھوٹ چھپانے کی کوشش کررہا ہے۔
اس نے فراڈ کا انکار کیا لیکن اس ملاقات کا انجام اس کی ملازمت برطرفی پر ہوا اور یوں باس نے اپنے دیرینہ انتقام کو پورا کرلیا۔ وہ منہ لٹکائے گھر واپس آگیا ۔ باس کی شکل اسے دنیا کے

قبیح ترین جانور سے ملتی جلتی نظر آرہی تھی، اندر غم و غصے کا ایک طوفان برپا تھا۔ ایک طرف بے روزگاری کا غم تو دوسری طرف انتقام لینے کی شدید خواہش۔ وہ اپنے دوست کے پاس پہنچا جس کا تعلق ایک سیاسی تنظیم سے تھا۔ اس نے سارا کیس اس کے سامنے رکھ دیا۔
"مجھَے ہر صورت میں باس کی لاش چاہئے اس کے بعد تم جو بولوگے ہوجائے گا۔” اس نے سیاسی کارکن سے کہا۔ کارکن نے کہا کہ تم ابھی جاؤ اور ایک مرتبہ پھر سوچ لو۔ کل بات کریں گے۔ وہ واپس تو آگیا لیکن اس یقین کے ساتھ کہ کل بھی وہ یہی کہے گا اوربا س کا خون کرواکے ہی دم لے گا۔
رات کو جب سونے کے لئے لیٹا تو نیند کوسوں دور تھی۔ اس نے دو نیند کی گولیاں پھانکیِں اور سونے کے لئے لیٹ گیا۔ آنکھیں بند ہونے کے باوجود اس کا لاشعور اسے وہی دکھاتا رہا۔ اس کے سامنے اس کے باس کی لاش پڑی ہے اور اس کے سینے پر پاؤن رکھ کر وہ قہقہے لگا رہا ہے۔ پھر منظر بدلتا ہے ۔ اس کا دوست اس سے اس سے قتل کی قیمت وصول کرنے آجاتا ہے۔ یہ قیمت پیسوں سے نہیں بلکہ ٹارگٹ کلر بن کر ہی چکائی جاسکتی تھی۔ یوں وہ ایک ٹارگٹ کلر بن کر لوگوں کا خون کرنا شروع ہی کرتا ہے کہ اچانک اس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ وہ منہ دھوکر اٹھتا ہے اور اب اس کا رخ اپنے دوست کی جانب نہیں بلکہ نئی ملازمت کی تلاش کی طرف تھا۔ اس نے انتقام کی مہنگی قیمت چکانے کی بجائے اس واقعے کو فراموش کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
وضاحت
یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ دنیا ہم نے نہیں بنائی ۔ اسی لئے یہاں ہر روزایسے واقعات درپیش ہوتے ہیں کہ جن میں ہمیں لوگوں سے شکایت ہوتی ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ شکایت جائز ہے یا ناجائز، ہم اپنے مخالفین سے نفرت کرتے ہیں ۔ ہمار ی نفرت ہمارے دشمنوں کو وہ قوت فراہم کرتی ہے جس سے وہ باآسانی ہم پر غلبہ پاسکتے ہیں۔ اگر ہمارے دشمنوں کو یہ بات پتا چل جائے کہ ہم کس قدر پریشان ہیں تو وہ خوشی سے بھنگڑا ڈالنا شروع کردیں۔ ہماری نفرت، پریشانی، لعنت ملامت اور حسد سے دشمنوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا بلکہ ہماری اپنی زندگی جہنم بن جاری ہے۔
اس کا حل یہ ہے کہ ہم اپنے دشمنوں سے پیار کریں اس لئے نہیں کہ واقعی ہمیں ان سے پیار ہے بلکہ اس لئے کہ ہمیں اپنے آپ سے پیار ہے۔ دشمنوں سے انتقام لینے کی قیمت دینے کی بجاِئے دشمنوں کو معاف کردیں اور ناخوشگوار واقعے کو بھول جائیں ۔ اگر یہ نہیں کرسکتے تو انتقام کی قیمت چکانے کے لئے تیار ہوجائیں۔
اسائنمنٹ
۱۔ اپنے مخالفین کی فہرست بنائیے اور اختلاف کی وجہ بھی لکھیں۔
۲۔یہ لکھیں کہ اگر آپ بدلہ لیں گے تو اس کی قیمت کیا ہوگی؟
۳۔فراموش کرنے کی عادت ڈالیں کیونکہ آپ اپنے دشمن نہیں دوست ہیں۔
پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

One response to this post.

  1. بہت خوب

    جواب

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s