بس ایک دفعہ بس ایک دفعہ۔۔۔۔


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
یہ کوئی ۱۹۹۶ کی بات ہوگی جب میں نے آخری مرتبہ شاعری کی تھی۔ تقی امروہی صاحب خود ایک بڑے آدمی اور رئیس امروہی اور جون ایلیا جیسے بڑے شعرا کے بھائی تھے ۔ انہوں نے مجھے شاعری کرنے سے منع کردیا تھا کیونکہ میری شاعری تکنیکی اصولوں کے خلاف تھی۔چنانچہ میں نے شاعری چھوڑ دی۔ آج اٹھارہ سال بعد چند اشعار ملےجو کسی نامعلوم شاعر کے تھے۔ ان اشعار نے د ل کے تاروں کو اس طرح چھیڑا کہ میں رک نہ سکا ۔
یہ اٹھارہ سال بعد میں نے ایک نثریہ نظم کہنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ اگر کوئی زبانی بیانی غلطی ہو تو معذرت

لیکن جس کے لئے میں یہ نظم لکھی ہےاس کے لئے الفاظ ثانوی ہیں۔
بس ایک دفعہ بس ایک دفعہ۔۔۔۔
کچھ ایسے دن بھی آتے ہیں
جب دھوپ بد ن جھلساتی ہے
اورگرمی خوب ستاتی ہے
لیکن من کی یہ دنیا
اندر سے مسکاتی ہے

ان تپتے صحرا ؤں کو دل
گلشن جیسا لگتا ہے
یہ آ گ اگلتا سورج بھی
ٹھنڈا چاند ہی لگتا ہے

اور کبھی یوں ہوتا ہے
کہ ساون بھادوں ہوتی ہے
قوس قزح مدہوش ہوا
رم جھم بھی ہا ں ہوتی ہے
لیکن یہ من کی دنیا
جو پاگل ہے دیوانی ہے
کچھ اکھڑی اکھڑی ہوتی ہے
یہ بارش کے ان قطروں کو
دھتکارتی ہے پھٹکارتی ہے
یہ سوندھی پیاری خوشبو بھی
اک بے معنی بو لگتی ہے

یہ ایسا کیونکر ہوتا ہے
جگ ہنستا ہے دل روتا ہے
جب جھانکا دل کی دنیا میں
تو جانا کیا کچھ ہوتا ہے

جب رب کی باتیں ہوتی ہیں
جب اس کی راتیں ہوتی ہیں
تو سورج سایہ لگتا ہے
پھر سوکھا ساون بھادوں ہے
پھر دشت و جبل سب ساتھی ہیں
پھر تیرگیاں نورانی ہیں
پھر صحراؤں میں پانی ہیں

رب سے تھوڑا دور ہوں جب
بے شک لوگ پاس ہوں سب
تو رات میں تپتی دھوپ لگے
پھر دریا سارےسوکھے ہیں
پھر پیٹ بھرے بھی بھوکے ہیں
پھر سبزہ جلتی ریت لگے
پھر محفل اجڑا کھیت لگے
پھر من کی دنیا سونی ہو
پھر تارے سارے ماند لگیں
پھر اڑتے پنچھی سیانگ لگیں

ہر آگ کو پانی کافی ہے
اس عشق میں پانی کچھ بھی نہیں
اس آگ میں جلنا دکھ ہی نہیں
یہ آگ نہیں گلزار ہے ہاں
ان شعلوں میں آزار کہاں

جب رب کی یادیں آتی ہیں
جب اس کی باتیں ہوتی ہیں
جب اس کی راتیں ہوتی ہیں
پھر ساون بھادوں ہوتا ہے
پھر جنگل میلہ ہوتا ہے
پھر چھاپ تلک بھی ہوتا ہے
پھر موسے نینا ملتے ہیں
پھر مہدی کجل ہوتا ہے
پھر شام سلونی ہوتی ہے

جب ایسا ہی کچھ ہوجائے
تو مرنا کیا اور جینا
پھر رونا کیا اور ہنسنا کیا
پھر میری تیری مرضی کیا
پھر میں بھی کیا اور تو بھی کیا

بس ایک دفعہ بس ایک دفعہ
اے میرے خدا اے میرے خدا
تو کہہ دے کہ یہ میرا ہے
یہ میرا ہے یہ میراہے
یہ بندہ ہاں ہاں میرا ہے
اس بندے کو تم کچھ نہ کہو
ہاں ہاں یہ گناہ توکرتا تھا
پھر بھی مجھ پہ مرتا تھا
اس نے مجھے تھایاد رکھا
میں اس کو آج بھلادوں کیا
اے دوزخ تو بھی پیچھے جا
اے مالک اس کو چھوڑ ذرا
اے جنت اس کی لے لے بلا
یہ میرا ہے یہ میراہے
یہ بندہ ہاں ہاں میرا ہے

بس ایک دفعہ بس ایک دفعہ
تو کہہ دے کاش یہ ایک دفعہ

عقیل

One response to this post.

  1. نظم میں نئی طبع آزمائی کی ہے، لیکن موضوع کی ہمواریت جاری رہتی ہے۔

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s