شیطان اور انسان کی کشمکش کا ڈرامائی بیان


تعارف
حج ان چار بنیاد عبادات میں سے ہے جنہیں دین کا ستون قرار دیا گیا ہے۔ حج کی اصل حکمت کیا ہے یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے۔ اس موضوع پر کئی لوگوں نے لکھا ہے اور خوب لکھا ہے۔ میری بھی ایک چھوٹی سی کاوش ” حج کا سفر نامہ” ہے ۔ زیر نظر تحریر میرے سفرنامے ہی سے ماخوذ ہے۔ اس تحریر میں حج کا اصل مقصد یعنی شیطان کے خلاف جنگ کرنے کو تمثیلی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس تحریر میں غیر ضروری تفصیلات کو حذف کرکے شیطان اور مسلمانوں کے درمیان جو کشمکش ہے اسے کہانی کے انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ امید ہے آپ لوگوں کو یہ پسند آئے گی۔
پروفیسر محمد عقیل

شیطان اور انسان
جہاز فضا میں بلند ہوتا گیا اور میرا ذہن ماضی کے دھندلکوں میں گم ہونے لگا۔میں چشم تصور میں اس زمانے میں پہنچ گیا جب انسان کی تخلیق ہونے والی تھی۔اللہ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ زمین پر ایک ایسی ہستی کو بھیجنے والے ہیں جسے دنیا میں بھیج کر آزمایا جائے گا۔اس فیصلے سے قبل اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت سے تمام انسانی ارواح کو نکال کر اس آزمائش کے بارے میں بتایا اور ان کے سامنے ارادہ و اختیار کی امانت پیش کی جسے انسان نے برضا و رغبت قبول کرلیا۔اس کے بعد اللہ نے ااپنا تعارف کروایا اور اپنی توحید کا شعور انسان کی فطرت میں ودیعت کردیا۔انسان کو یہ واضح طور پر بتادیا گیا کہ اس آزمائش میں اللہ کی وفاداری میں کامیابی کا نتیجہ جنت کی کبھی نہ ختم ہونے والی نعمتیں ہیں جبکہ سرکشوں کا ٹھکانہ جہنم کے گڑھے ہیں۔
انسان تخلیق کرنے سے قبل اللہ نے دیگر مخلوقات کو بھی اپنے اس منصوبے سے آگاہ کیا۔ ان مخلوقات میں جنات اور فرشتے شامل تھے۔ فرشتوں نے اپنے خدشے کا اظہار کیا کہ اگر انسان کو ارادہ و اختیار دے کر دنیا میں بھیجا گیا تو یہ بڑا خون خرابا اور فساد برپا کرے گا۔ خدا نے جواب دیا :
ہاں ایسا تو ہوگا لیکن انہی لوگوں میں انبیاء، شہداء ، صدیقین اور نیک لوگ بھی پیدا ہونگے جو اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر میری وفاداری نبھائیں گے اور میرے لئے اپنی جان اور اپنا مال قربان کریں گے ۔یہ سیج انہی کے لئے سجائی جارہی ہے ۔ باقی جو نافرمانوں کی گھاس پھونس ہے اسے میں جہنم کے ایندھن کے طور پر استعمال کرونگا۔
پھر اللہ نے اپنے ہاتھوں سے کھنکھناتی مٹی سے آدم کو تخلیق کیا اور فرشتوں حکم دیا کہ وہ سجدے میں گر جائیں۔اس سجدے کا مطلب یہ تھا کہ انسان دنیا میں محدود معنوں میں بادشاہ اور حاکم کی حیثیت سے بنے گا ۔یہ خدا کی مشیت کے مطابق اس دنیا میں مسکن بنائے گا، تمدن کی تعمیر کرے گا، کائنات مسخر کرے گا، اپنی مرضی سے خیر و شر کا انتخاب کرے گا اور آزمائش کے مراحل طے کرکے اپنی جنت یا دوزخ کا انتخاب کرے گا۔ اس سارے عمل میں فرشتوں اور جنات کو انسان کے سامنے عمومی طور پر سرنگوں رہنا اور اس آزمائشی عمل میں روڑے اٹکانے سےگریز کرنا لازم تھا ۔

یہ حکم صرف فرشتوں ہی کے لئے نہیں تھا بلکہ ان کی مانند دیگر مخلوقات کے لئے بھی تھا جن میں جنات بھی شامل تھے۔ انہی جنوں میں سےایک جن عزازیل نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ سجدے سے انکار درحقیقت خدا کی اسکیم سے بغاوت کا اعلان تھا ۔ خدا نے جب شیطان سےپوچھا کہ تونے سجدہ کیوں نہ کیا؟ ؟ تو اس نے کہا کہ میں اس انسان سے بہتر ہوں۔میں آگ اور یہ مٹی۔چنانچہ اللہ نے شیطان کو مردود بنادیا ۔ لیکن شیطان جھک جانے کی بجائے اکڑ گیا اور وہ خدا کو چیلنج دے بیٹھا:
“اے خداوند! تیری عزت کی قسم! میں نچلا نہیں بیٹھنے والا۔میں اس انسان کو تجھ سے گمراہ کردوں گا، میں اس کی گفتگو، میل جول، لباس، تمدن و تہذیب غرض ہر راستے سے اس پر نقب لگاؤنگا تاکہ اسے تیری وفاداری و بندگی سے برگشتہ کردوں اور تو ان میں سے اکثر لوگوں کو گمراہ اور بھٹکا ہوا پائے گا۔ بس تو مجھے قیامت کے دن تک کی مہلت دے دے”۔
شیطان نے یہ مہلت اس لئے مانگی تھی تاکہ وہ انسان کو منزل مقصود یعنی جنت تک نہ پہنچنے دے۔ لیکن اللہ کو اپنے چنے ہوئے اور متقی بندوں پر اعتماد تھا اس لئے اللہ نے فرمایا:
“جا تجھے اجازت ہے۔ تو اپنے پیادے اور سوار سب لشکر لے آ۔لیکن تیرا اختیار صرف وسوسے ڈالنے اور بہکانے کی حد تک ہے۔ پھر جس نے بھی تیری پیروی کی تو میں ان سب کو تیرے ساتھ جہنم میں ڈال دونگا جبکہ میرے چنے ہوئے بندوں پر تیرا کوئی اختیا ر نہ ہوگا”۔
اس چیلنج کے بعد اللہ نے حضرت آدم اور انکی بیوی کو جنت میں بسادیا اور جنت کی تمام نعمتیں ان پر ظاہر کر دیں۔ بس ایک پابندی تھی کہ وہ ایک مخصوص درخت کا پھل نہیں کھائیں گے۔ لیکن شیطان نے انہیں ورغلایا کیونکہ وہ ان کا ازلی دشمن تھا۔ یہاں تک کہ اس نے انہیں اس درخت کا پھل کھانے پر مجبور کردیا اور یوں وہ اللہ کی نافرمانی کے مرتکب ہوگئے۔لیکن شیطانی رویے کے برعکس دونوں اللہ کے سامنے عجزو انکساری کا پیکر بن گئے اور رجوع کرلیا۔ چنانچہ اللہ نے انہیں معاف کردیا ۔ اس کے بعد اللہ نے انہیں دنیا میں بھیجا اور ساتھ ہی یہ ہدایات بھی کیں ۔
“اے آدم، اس تجربے سے سبق حاصل کرنے کے بعد اب تم اپنی بیوی کے ساتھ زمین میں اترو اور ساتھ ہی یہ مردود شیطان بھی۔ تم دونوں ایک دوسرے کے دشمن رہو گے۔ تمہیں ایک مقررہ مدت تک اسی زمین میں جینا اور یہیں مرنا ہے اور اسی زمین سے تم دوبارہ زندہ کرکے آخرت کی جوابدہی کے لئے اٹھائے جاؤگے۔بس اپنے اس ازلی دشمن ابلیس اور نفس امارہ سے بچ کر رہنا۔
میں نے تمہاری فطرت میں خیر اور شر کا بنیادی شعور رکھ دیا ہے ۔ اسی کے ساتھ ہی میں نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے ہدایت کا بندوبست بھی کیا ہے۔ چنانچہ جس کسی کے پاس بھی یہ نور ہدایت پہنچے اور وہ اس کی پیروی کرے تو وہ شیطان کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائے گا ۔یاد رکھو شیطان اور اس کا قبیلہ تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتا ہے جہاں سے تمہارا گمان بھی نہیں ہوتا۔ وہ تو چاہتا ہے کہ تمہیں فحاشی، خدا سے بغاوت، ظلم و عدوان اور فساد فی الارض کی زندگی میں ملوث رکھے تاکہ تمہیں میری بندگی سے نکال کر لے جائے۔ پس جس نے میرا کہا مانا تو وہ میراوفادار ہے اور جس نے اس کی بات مانی تومیری بندگی سے نکل گیا”۔
شیطا ن کا چیلنج اور حج
شیطان کا چیلنج آج بھی موجود ہے۔ وہ اور اس کے چیلے مصروف ہیں کہ کسی طرح انسان کو اس امتحان میں فیل کرواکے خدا کے انتخاب کو غلط ثابت کروادیں ۔ چنانچہ ہر دور میں شیطان نے انسان پر نقب لگائی اور اسے راہ راست سے بھٹکانے کی کوشش کی۔شیطان کے ہتھکنڈے بڑے مؤثر نکلے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انسان کبھی شرک و الحاد کی غلاظتوں میں لت پت ہوا تو کبھی مادہ پرستی سے دامن کو داغدار کیا۔ کبھی جنسی بے راہ روی کو اپنایا تو کبھی معاشی فساد کو پھیلایا۔

شیطانی سازشوں کے باوجود ہر دور میں خدا کے ایسے بندے ضرور موجود رہے جنہوں نے خود کو ان آلائشوں سے پاک رکھا لیکن اکثریت نے شیطان کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اپنے نفس کو آلودہ کردیا ۔ اس آٖلودگی کو دور کرنے کے لئے اللہ نے انسان کے لئے کئی اہتمام کئے۔ ایک طرف تو اس نے انسان کے اندر نفس لوامہ یعنی ضمیر میں خیر و شر کاشعور رکھ دیا تاکہ اس کے نفس پر جب بھی غلاظت کا چھینٹا پڑے تو اسے احساس ہوجائے اور وہ توبہ کے ذریعے دوبارہ اسے پاک کرلے۔ دوسری جانب اس نے وحی کا سلسلہ روز اول ہی سے شروع کردیا تاکہ انسان کو خیرو شر کے تعین میں جو ٹھوکر لگ سکتی تھی اس سے بچایا جاسکے۔ اس عظیم الشان اہتمام کے باوجود انسان کا نفس آلودگی کا شکار ہوتا رہا ۔ چنانچہ عبادات کا ایک جامع تربیتی نظام مرتب کیا تاکہ ان آلائشوں سے پاکی اختیار کی جاسکے۔
شیطانی مشن
مجھے وہی منظر آنے لگا جب شیطان نے چیلنج دیا تھا کہ میں انسان کے دائیں ، بائیں ، آگے اور پیچھے غرض ہر جگہ سے آؤں گا اور اسے جنت کے راستے سے بھٹکا کر جہنم کے دہا نے تک لے جاؤں گا۔ میں نے غور کیا تو علم ہوا کہ شیطان نے بڑی عیاری سے انسان کے گرد اپنے فریب کا جال بنا اور اکثریت کو راہ راست سے دور لے جانے میں کامیاب ہوگیا۔
اس نے پہلا وار تو حضرت آدم و حوا علیہما السلام پر کیا اور انہیں جنت سے نکلوانے میں کامیاب ہوگیا۔ دوسری کاری ضرب حضرت آدم کے بیٹے قابیل پر لگائی اور اسے حسد اور مادہ پرستی کی راہ پر ڈال کر اپنے ہی بھائی کے قتل پر مجبور کردیا۔ اس کے بعد اس نے انسان کا پیچھا نہ چھوڑا اور تواتر سے اپنی سازشوں کا دائرہ وسیع کرتا گیا۔ قوم نوح کو شرک کی گمراہیوں میں اس طرح الجھایا کہ وہ مرتے مر گئے لیکن خدا کی توحید پر ایمان نہ لائے۔ شرک کی گمراہیوں میں تو اس نے ہر قوم کو الجھایا لیکن اس کے ساتھ کئی دوسرے پہلوؤں سے لوگوں کو خدا سے دور کرتا رہا۔ اس نے کبھی تو قوم عاد ، قوم ہود قوم ثمود اور قوم شعیب کو مادہ پرستی ، جھوٹی شان و شوکت ، انکار آخرت، لوٹ مار اور قتل و غارت جیسے گناہوں میں الجھادیا تو کہیں قوم لوط کو جنسی بے راہ روی کی پست ترین سطح میں ملوث کردیا ۔ لیکن یہ سب کام کرنے پر اسے انسان پر کوئی اختیار نہ تھا۔ اس نے تو بس انسان کو دعوت دی اور لوگوں نے اس کی دعوت پر لبیک کہہ کر خود کو طاغوت کے سپرد کردیا۔ شیطان کی کارستانیوں اور نفس کے جھانسوں کے سبب کئی قومیں طاغوت کی بندگی میں داخل ہوئیں اور بے شمار شخصیات نے اپنے نفس کو آلودہ کرکے جہنم کا حق دار بنالیا۔
دوسری جانب شیطان کے مقابلے میں خدا کا فرمان اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھا کہ میرے بندوں پر تیرا کوئی اختیار نہ ہوگا۔ چنانچہ شیطان کو ہر دور میں ان بندوں نے شکست فاش سے دوچار کیا۔ اگر قابیل نے شیطان کی دعوت پر لبیک کہا تو ہابیل نے تقویٰ کا پیکر بن کر خدا کی راہ امیں جان دے ڈالی۔ حضرت نوح علیہ السلام نے مخالفین کی سختیاں برداشت کیں اور بیٹے کو قربان کردیا لیکن خدا کی راہ نہ چھوڑی۔حضرت صالح، ہود،شعیب اور لوط علیہم السلام نے مشکلات، جبر و تشدد اور شدید مخالفت کے باوجود خدا کی بندگی کا قلادہ نہ اتارا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں کودنا گوارا کرلیا لیکن صراط مستقیم پر قائم رہے۔حضرت موسی و ہارون علیہما السلام تنہا فرعون کے ظلم و ستم برداشت کرتے رہے لیکن ان کے قدموں میں لغزش نہ ہوئی۔ حضرت زکریا کو آرے سے چیر دیا گیا اور حضرت یحی کا سر رقاصہ کی فرمائش تھال پر رکھ کر پیش کیا گیا لیکن وہ کلمہ حق سے دستبردار نہ ہوئے۔حضرت عیسی علیہ السلام نے یہود کے الزامات سہے اور ان کی تمام سازشیں جھیلیں لیکن خدا کا پیغام پہنچاتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ کی سختیاں جھیلیں، طائف میں پتھر کھائے، جنگوں میں سختیوں سے گذرے لیکن کبھی کوئی شکایت کا حرف بھی زبان پر نہ لائے۔
ان پیغمبروں کے علاوہ ان کے ماننے والے بھی ہر دور میں طاغوت کو شکست دینے کے لئے کھڑے رہے۔گو کہ یہ سب تعداد میں کم تھے لیکن شیطان کی ناک رگڑنے کے لئے کافی تھے۔
یہ کشکمش آج بھی جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گی۔ آج بھی شیطان نے انسان کو اپنے جال میں جکڑا ہوا ہے اور ہر طرف سے اس کی یلغار جاری ہے۔ ماضی کی تمام برائیاں آج وسیع پیمانے پر پھیل چکی ہیں۔ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار الحاد کا ہے جس میں اس نے ڈارونزم، کمیونزم اور مادہ پرستی جیسے فلسفوں کے ذریعے خدا کے وجود کے بارے میں تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دوسری جانب آج کے ماڈرن اور سائنسی دور میں بھی لوگوں کو بت پرستی اور شرک کے دیگر مظاہر میں الجھا رکھا ہے۔ ابلیس کا تیسرا جال آخرت سے غفلت کا ہے جس کے ذریعے وہ لوگوں کو مادہ پرستی، نفسانی خواہشات کی تکمیل اور مفاد پرستی کی جانب لانے میں کامیاب رہا ہے۔ اس کا ایک اور طریقہ واردات ماڈرنزم کا ہے جس کی بنا پر اس نے حیا کو ایک فرسودہ روایت اور عریانی کو ایک جدید اور اعلی قدر کے طور پر پیش کرنے کی سعی کی ہے۔ اس کی بنا پر زنا، ہم جنس پرستی، فحش تصاویر، جنسی فلمیں اور عریاں ادب عام ہوچکے ہیں۔ معیشت کے میدان میں شیطان نے لوگوں کو سرمائے کا غلام بنادیا کہ صبح سے رات تک غلاموں کی طرح کام کرتے رہتے اور اگلے دن دوبارہ کولہو کے بیل کی طرح اس لامتناہی مشقت میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شیطان نے انسان کو صرف دعوت دی باقی اس دعوت پر لبیک انسان نے خود کہا اور طاغوتی قوتوں کا ساتھی بن گیا۔
شیطان کی اس عظیم یلغار کے باوجود اللہ نے انسانیت کی راہنمائی کا بہترین اہمتام کر رکھا ہے۔ چنانچہ آج دنیا کے کسی بھی خطے میں انسان موجود ہو وہ برائی کو برائی ہی مانتا ہے اور جب بھی وہ کوئی برا عمل کرتا ہے اس کا ضمیر اس پر اسے ملامت کرتا ور معاشرہ بحیثیت مجموعی اسے ٹوکتا ہے۔ چنانچہ آج بھی خدا کے وجود کا انکار کرنے والے اقلیت میں ہیں۔ آج بھی حیا کو ایک اعلی اخلاقی قدر مانا جاتا اور اس کی خلاف ورزی کو برا سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب شرک کو بھی چند کمزور قسم کے دلائل سے سہارا دینے کی کوشش کی جاتی ہے جسے سائنس کی دریافتیں آہستہ آہستہ رد کررہی ہیں ۔ لہٰذا ایسا نہیں کہ شیطان نے دنیا پر قبضہ کرلیا ہے۔ خدا کی ہدایت آج بھی فطرت اور وحی کی صورت میں موجود ہے اور آج بھی اس شورش زدہ ماحول میں خدا کے بندوں نے اپنے نفس کو آلودگی سے پاک رکھا ہوا ہے۔ اب یہ لوگوں کا اختیار ہے کہ وہ ابلیس کی پکار پر لبیک کہتے ہیں یا رحمٰن کی دعوت پر لپکتے ہیں۔

منی میں شیطانی کیمپ کے مناظر
میں کروٹیں بدل رہا تھا ۔ غنودگی اور بیداری کی ملی جلی کیفیت تھی۔ اچانک میں تصور کی آنکھ سے اس جنگ کے مناظر دیکھنے لگا۔ اب منظر بالکل واضح تھا۔ اس طرف اہل ایمان تھے اور دوسری جانب شیطان کا لشکر بھی ڈیرے ڈال چکا تھا۔ شیطانی خیموں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور ان میں ایک ہل چل بپا تھی۔ رنگ برنگی روشنیوں سے ماحول میں ایک ہیجان کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ باہر پنڈال لگا تھا جہاں بے ہنگم موسیقی کی تھاپ پر شیطانی رقص جاری تھا۔ کچھ نیم برہنہ عورتیں اپنے مکروہ حسن کے جلوے دکھا رہی تھیں۔ ایک طرف شرابوں کی بوتلیں مزین تھیں جنہیں پیش کرنے کے لئے بدشکل خدام پیش پیش تھے۔ اس پنڈال کے ارد گرد شیاطین کے خیمے نصب تھے جو مختلف رنگ اور ڈیزائین کے تھے۔
سب سے پہلا خیمہ شرک و الحاد کا تھا۔ اس خیمے پر ان گنت بتوں کی تصاویر بنی ہوئی تھیں ۔ خیمے میں موجود شیاطین اپنے سردار کے سامنے ماضی کی کارکردگی پیش کررہے تھے کہ کس طرح انہوں نے انسانیت کو شرک و الحاد کی گمراہیوں میں مبتلا کیا۔نیز وہ اس عظیم موقع پر مستقبل کی منصوبہ بندی کررہے تھے کہ آئندہ کس طرح انسانیت کو شرک میں مبتلا کرنا اور خدا کی توحید سے دور کرنا ہے۔ان کا طریقہ واردات بہت سادہ تھا جس میں خدا کی محبت دل سے نکال کر مخلوق کی محبت دل میں ڈالنا، خدا کے قرب کے لئے ناجائز وسیلے کا تصور پیدا کرنا ، کامیابی کے لئے شارٹ کٹ کا جھانسا دکھانا وغیرہ جیسے اقدام شامل تھے۔
ایک اور خیمے پر عریاں تصایر اور فحش مناظر کی مصوری تھی ۔ یہ عریانیت کے علمبرداروں کی آماجگاہ تھی۔ ان شیاطین کے مقاصد فحاشی عام کرنا، انسانیت کو عریانیت کی تعلیم دینا، نکاح کے مقابلے میں زنا کو پرکشش کرکے دکھانا، ہم جنس پرستی کو فطرت بنا کر پیش کرنا وغیرہ تھے۔ یہاں کے عیار ہر قسم کے ضروری اسلحے سے لیس تھے۔ ان کے پاس جنسی کتابیں، فحش سائیٹس، عریاں فلمیں، فحش شاعری و ادب، دل لبھاتی طوائفیں، جنسیاتی فلسفہ کے دلائل، دجالی تہذیب کے افکار سب موجود تھے۔ ان کا نشانہ خاص طور پر نوجوان تھے جنہوں نے ابھی بلوغت کی دنیا میں قدم ہی رکھا تھا اور وہ ان کفر فروش شیاطین کے ہتھے چڑھ چکے تھے۔
ایک اور خیمے پر ہتھیاروں کی تصویر آویزاں تھی۔ یہ انسانوں کو لڑوانے والوں کا کیمپ تھا۔ یہاں کا لیڈر اپنے چیلوں سے ان کی کامیابیوں کی رپورٹ لے رہا تھا۔ چیلے فخریہ بتارہے تھے کس طرح انہوں نے انسانیت میں اختلافات پیدا کئے، ان میں تعصب و نفرت کے بیج بوئے، ان کو ایک دوسرے کے قتل پر آمادہ کیا، انہیں اسلحہ بنانے پر مجبور کیا جنگ کے ذریعے لاکھوں لوگوں کا قلع قمع کیا۔ اس کیمپ کی ذیلی شاخ کا مقصد خاندانی اختلافات پیدا کرنا، میاں بیوی میں تفریق کرانا، ساس بہو کے جھگڑے پیدا کرنا، بدگمانیاں ڈالنا، حسد پیدا کرنا،خود غرضی اور نفسا نفسی کی تعلیم دینا تھا۔
اگلے خیمے پر بڑی سی زبان بنی ہوئی تھی جو اس بات کی علامت تھی کہ یہاں زبان سے متعلق گناہوں ترغیب دی جاتی ہے۔ یہاں کے شریر شیاطین اس بات پر مامور تھے کہ لوگوں کو غیبت ، جھوٹ، چغلی، گالم گلوج، فحش کلامی، بدتمیزی، لڑائی جھگڑا اور تضحیک آمیز گفتگو میں ملوث کرکے انہیں خدا کی نافرمانی پر مجبور کریں۔
ایک اور خیمے پر بلند وبالا عمارات اور کرنسی کی تصاویر چسپاں تھیں۔ یہ دنیا پرستی کو فروغ دینے اور آخرت سے دور کرنے والوں کا کیمپ تھا۔ اس کیمپ میں اسراف، بخل، جوا، سٹہ، مال سے محبت، استکبار، شان و شوکت، لالچ، دھوکے بازی، ملاوٹ، چوری و ڈاکہ زنی، سود اور دیگر معاشی برائیوں کو فروغ دئے جانے کی منصوبہ بندی ہورہی تھی۔ یہاں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا جارہا تھا کہ انسانیت بالعموم اور مسلمان بالخصوص آخرت کو بھول چکے ہیں۔ ا ب ان کی اکثر سرگرمیوں کا مقصود دنیا کی شان و شوکت ہی ہے۔ نیز جو مذہبی جماعتیں دین کے لئے کام کرہی ہیں ان کی اکثریت کا مقصد بھی اقتدار کا حصول ہے نہ کہ آخرت کی فلاح بہبود۔
ایک آخری کیمپ بڑے اہتمام سے بنایا گیا تھا۔ یہ خاص طور پر مسلمانوں کو گمراہ کرنے لئے بنایا گیا تھا تاکہ وہ اپنی اصلاح کرکے دنیا کی راہنمائی کا سبب نہ بن جائیں۔ یہاں مسلمانوں کو مختلف بہانوں سے قرآن سے دوررکھنے کی باتیں ہو رہی تھیں، یہا ں ان کو نماز روزہ حج اور زکوٰۃ کی ادائگی سے روکنے کا منصوبہ تھا ، یہاں انکی اخلاقی حالت کو پست کرنے کی پلاننگ تھی، انہیں آخرت فراموشی کی تعلیم دی جانی تھی، مغرب پرستی کا درس تھا، دنیا کی محبت کا پیغام تھا۔ اسی کے ساتھ ہی یہاں مسلمانوں کو فرقہ پرستی میں مبتلا کرنے کا بھی اہتما م تھا تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگاتے رہیں اور غیر مسلم اقوام تک خدا کا آخری پیغام پہنچانے سے قاصر رہیں۔
رحمانی خیموں کی کیفیت
دوسری جانب اہل ایمان بھی اپنے خیمے گاڑ چکے تھے۔ شیطان کے خلاف جنگ کا میدان سج چکا تھا۔شیطانی کیمپ کے برعکس یہاں خامشی تھی ، سکوت تھا، پاکیزگی تھی، خدا کی رحمتوں کا نزول تھا۔اعلیٰ درجے کے اہل ایمان تعداد میں کم تھے جبکہ اکثر مسلمان شیطان کی کارستانیوں سے نابلد، روحانی طور پر کمزور، اورنفس کی آلودگیوں کا شکار تھے ۔ لیکن یہ سب مسلمان شیطان سے جنگ لڑنے آئے تھے چنانچہ یہ اپنی کمزوریوں کے باوجود خدائے بزرگ و برتر کے مجاہد تھے۔ان فرزندان توحید کو امید تھی کہ خدا ان کی مدد کے لئے فرشتے نازل کرکے انہیں کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔

شیطان کے ہتھکنڈوں سے نمٹنے کے لئے اللہ مسلمانوں کو پہلے ہی کئی ہتھیاروں سے لیس کرچکے تھے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہ تھی۔ شرک و الحاد کا توڑ اللہ کی وحدانیت ، اسے تنہا رب ماننے اور اسے اپنے قریب محسوس کرنے میں تھا۔ فحاشی و عریانی کی ڈھال نکاح ، روزے ، نیچی نگاہیں اور صبر کی صورت میں موجود تھی۔ فرقہ واریت کا توڑ اخوت و بھائی چارے اور یگانگت میں تھا۔ معاشی بے راہ روی کا علاج توکل و قناعت میں پوشیدہ تھا۔ دنیا پرستی کا توڑ آخرت کی یاد تھی۔ یہ سب کچھ مسلمانوں کے علم میں تو تھا لیکن شیطان کے بہکاووں نے ان تعلیمات کو دھندلا کردیا تھا۔ ایک قلیل تعدا د کے علاوہ اکثر مسلمان ان احکامات کو فراموش کرچکے تھے یا پھر ان کے بارے میں لاپرواہی اور بے اعتنائی کا شکار تھے۔

منٰی کے میدان میں یہ سب فرزندان توحید اسی لئے جمع ہوئے تھے کہ وہ اللہ سے کئے ہوئے عہد کو یاد کریں، وہ اس کے احکامات پر غور کریں، وہ اس کی پسند و ناپسند سے واقفیت حاصل کریں اور اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگ کر آئندہ شیطان کے چنگل سے بچنے کی تربیت حاصل کریں۔ یہاں اہل ایمان کے ہتھیار توکل ،تفویض ، رضا، تقویٰ، قنوت، توبہ اور صبر کی صورت میں ان کے ساتھ تھے۔ان کی مدد سے وہ طاغوتی لشکروں کے حملوں کا جواب دینے کےلئے تیار تھے۔چنانچہ اہل ایمان کے خیموں سے لبیک کی صدائیں بلند ہورہی تھیں ۔ وہ سب اپنے رب کی مدد سے اس جنگ میں فتح حاصل کرنے کئے بے چین تھے۔
عرفات کی رات
نیند دوبار کچی پکی آرہی تھی۔میرے تخیل میں دوبارہ اسی تمثیلی جنگ کا نقشہ سامنے آنے لگا۔ابلیس کی افواج بھی اپنا پڑاؤ بدل کر عرفات پہنچ چکی تھیں۔ ان شریروں کا مقصد حاجیوں کو تزکیہ و تربیت حاصل نہ کرنے دینا اور مناسک حج کی ادائیگی میں خلل پیدا کرنا تھا۔ لیکن اس مرتبہ شیطانی کیمپ میں ایک اضطراب اور بےچینی تھی۔ رحمانی لشکراپنی پوزیشن لے چکا تھا۔ اور اب وہ ایسے میدان میں تھا جو خدا کی رحمتوں کامنبع تھا۔ آج کے دن خد انے بے شمار لوگوں کو جہنم سے آزادی کا پروانہ دینا تھا۔ آج فرشتوں کے نزول کا دن تھا۔ چنانچہ شیطان کو اپنی شکست سامنے نظر آرہی تھی لیکن وہ اپنی اسی ہٹ دھرمی پر اڑا ہوا تھا۔ اس کے چیلے گشت کررہے تھے اور اپنے شکار منتخب کررہے تھے۔ ان کا نشانہ زیادہ تر کمزور مسلمان تھے جو علم و عمل میں کمزور تھے۔یہ وہ مسلمان تھے جنہوں نے دین کا درست علم حاصل نہیں کیا تھا اور زیادہ تر نفس کے تقاضوں کے تحت ہی زندگی گذاری تھی۔ اس سے بڑھ یہ کہ یہ لوگ اس عظیم جہاد کی حقیقت سے بھی نابلد تھے۔
مزدلفہ میں شیطانی و رحمانی لشکر کی روداد
شیاطین کے کے کیمپ تصور میں آنے لگے۔وہاں ابتری پھیل چکی تھی۔ اہل ایمان میں سے جو چنے ہوئے لوگ تھے انہوں نے تو اللہ سے اپنے عہد کی تجدید کرلی تھی، اپنے نفس کی کڑی دھوپ میں کھڑے رہنے کی تربیت کی، بھوک کو برداشت کیا، جنسی تقاضوں کو تھام کررکھا اور دنیا و آخرت میں کامیابی کی دعا کی۔ وہاں انہوں نے اپنے گناہوں سے توبہ اورآئیندہ گناہ نہ کرنے کا عزم کرلیا تھا۔ اب وہ اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو دور کرکے اگلے مورچے پر طاغوت کو شکست دینے کے لئے تیار تھے۔ گویا انہوں نےخدا کی مدد سے عرفات کا میدان مار لیا تھا۔ اب انہوں نے خیمے چھوڑ دئے تھے اور کھلے آسمان تلے فیصلہ کن معرکے کے لئے تازہ دم ہورہے تھے۔ دوسری جانب کمزور مسلمان بھی ان چنے ہوئے لوگوں کی معیت میں تھے اور انہوں نے بھی حتی المقدور ان کی تقلید کی کوشش کی اور خدا کی رضا کی اپنے تئیں پوری کوشش کرڈالی۔ لیکن آ ج خدا کی رحمتوں کے نزول کا وقت تھا او ر یہ رحمتیں کمزو ر وطاقتو ر ہر طرح کے مسلمان کے لئے نازل ہورہی تھیں اور ہر ایک اپنی استطاعت کے مطابق ان سے فیض یاب ہورہا تھا۔
ادھر شیطانی کیمپوں کی حالت ابتر تھی۔ آسمانی فرشتوں نے شیاطین کا ناطقہ بند کردیا تھا اور وہ ان پر تازیانے برسا رہے تھے۔ چنانچہ طاغوتی کیمپ میں ایک صف ماتم بچھی تھی۔ کوئی اپنے زخموں کو سہلا رہا تھا تو کوئی اپنا خون چاٹ رہا تھا۔ وہاں کے ہر ابلیس پر ایک مایوسی اور افسردگی طاری تھی۔ ان کی پوری کوشش تھی کہ اہل ایمان کے لشکر کو اگلے مورچے تک جانے سے روکا جائے لیکن اب انہیں کوئی نہیں روک سکتا تھا کیونکہ خدا ان کے ساتھ تھا۔ اب بس سورج نکلنے کی دیر تھی کہ شیطا ن پر سنگ باری شروع ہوجانی تھی۔
جمرات میں شیطان کی شکست
ایک بار پھر مرتبہ لبیک کی صدائیں بلند ہورہی تھیں۔ چاروں طرف کفن پوش سرفروشان اسلام شیطان کی ناک رگڑنے کے لئے چل رہے تھے۔ قافلہ دھیمے دھیمے آگے بڑھ رہا تھا۔ اس رحمانی لشکر کے جوش کے باوجود ابلیسی افواج کے ہرکارے مسلمانوں پر حملہ کرنے سے باز نہیں آرہے تھے۔ چنانچہ ان کی کوشش تھی کہ مختلف رنگ و نسل کے مسلمانوں میں فساد پیدا کردیں، وہ انہیں نظم و ضبط کی خلاف ورزی کروا کر بھگدڑ مچوادیں، انہیں دنیاوی باتوں میں مشغول کریں، انہیں آنکھوں کے زنا میں مبتلا کردیں ، وہ اپنی زبان سے لوگوں کی غیبت کریں، وہ دوسری قوم کے لوگوں کے بارے میں بدگمانی کریں، وہ کالوں کو دیکھ کر ان کو حقیر سمجھیں اور سب سے بڑھ کر حج کے فلسفے سے غافل ہوکر اسے ایک رسم کے طور پر ادا کریں۔
لیکن شیطان کے وسوسوں، ڈراووں ، لالچوں کے باوجود حجاج اس مقام تک پہنچ چکے تھے۔ وہ خدا کے حکم کے مطابق پچھلے تمام محاذوں پر شیطان کو شکست دیتے چلے آئے تھے اب یہ مرحلہ بھی آہی گیا تھا۔ یہاں بھی ان کا ہتھیار توکل تھا۔ انہیں خدا کی مدد پر بھروسہ تھا ۔ میں نے تصور میں شیطانی لشکر کو دیکھا تو وہ بزدلوں کی طرح پسپائی رہا تھا۔ پچھلے مورچوں پر شکست کھانے کے بعد شیطان اور اس کے پہلے ہی حواری بدحواس ہوچکے تھے۔
لیکن اہل ایمان پر خدا کی رحمتوں کا خاص نزول تھا۔ اس کے فرشتے شیاطین کو دھتکار رہے تھے اور اہل ایمان کی کمزوریوں کے باوجود ان کی معاونت کررہے تھے۔اہل ایمان کا لشکر شیاطین کو آہستہ آہستہ پیچھے دھکیل رہا تھا۔ لبیک کی صدائیں ان طاغوتی قوتوں کے دل چیر رہی تھیں ۔
شیطان کی کوشش تھی کسی طرح اپنے ساتھیوں کو جمع کرکے حوصلے بلند کرے لیکن اب دیر ہوچکی تھی اور معاملات ہاتھ سے نکل گئے تھے۔ شیطان ایک بار پھر بھول گیا تھا کہ اس کا مقابلہ ان نہتے انسانوں سے نہیں بلکہ تنہا خدا سے ہے جس کے قبضے میں تمام طاقتیں ہیں۔ان سب برائیوں کا منبع بڑا شیطان ہی تھا چنانچہ اہل ایمان کا پہلا نشانہ یہی بڑا شیطان تھا۔ اگر اس کی ناک رگڑ دی جائے تو باقی چھوٹے شیاطین خود ہی دبک کر بیٹھ جائیں گے۔
بڑا شیطان پسپا ہوتا گیا اور پیچھے بھاگتا رہا یہاں تک کہ وہ گھاٹی پر پہنچ گیا۔ یہی وہ مقام تھا جب اس نے آج سے کئی ہزار سال قبل پیغمبر خدا ابراہیم علیہ السلام کو ورغلانے کی ناکام کوشش کی اور منہ کی کھائی۔جب ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں حکم ہوا کہ اپنے اکلوتے بیٹے کو خدا کے حکم پر ذبح کردیں تو آپ اس حکم کی تعمیل کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ آپ جب آگے بڑھے تو شیطان نمودار ہوا اور وسوسہ ڈالا کہ کیا اپنے اکلوتے فرزند کو قربان کردو گے جو تمہارے بڑھاپے کا سہارا ہے ، جو تمہاری آنکھ کا تارا ہے؟ لیکن خلیل اللہ نے اس آواز پر کان نہ دھرے بلکہ شیطان کو کنکریاں مار کر دھتکار دیا۔

آج اسی شیطان کی پٹائی لاکھوں فرزندان توحید کے ہاتھوں ہورہی تھی۔بڑا شیطان جونہی اہل ایمان کے سامنے آیا تو انہوں نے اپنے جد امجد کی سنت پر عمل شروع کردیا۔اہل ایمان نے پہلی کنکری مار کر شیطان کے شرک کا انکار اور خدا کی توحید کا اقرار کیا۔ دوسری کنکری مار کر انکار آخرت اور الحاد کے فتنے کا بطلان کیا۔ تیسری کنکری شیطان کی جنسی ترغیبات کو ماری۔ چوتھی کنکری معاشی ظلم و عدوان پر پھینکی۔ پانچویں کنکری شیطان کی پرفریب دجالی تہذیب پر ماری۔ چھٹی کنکر ی ابلیس کے قتل انسانیت کے فتنے پر پھینکی اور آخری کنکری اخلاقی بگاڑ کے عوامل پر ماردی۔ اہل ایمان کے یہ سنگ ریزے اس پر ایٹم بم کی طرح برس رہے تھے کیونکہ ان میں قوت ایمانی موجود تھی۔شیطان ان سے بچنے کی بھر پور کوشش کرہا تھا لیکن وہ اس میں مکمل طور پر ناکام تھا۔
اب لبیک کا تلبیہ ختم ہوچکا تھا کیونکہ اہل ایمان اپنے رب کے بلاوے پر حاضر ہوچکے اور شیطان کو سنگسار کرچکے تھے۔ اب اللہ کی حمد ثنا اور بڑائی بیان کی جا رہی تھی۔
اللہ اکبر اللہ اکبر لاالٰہ الااللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد
اللہ بڑا ہے اللہ بڑا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ بڑا ہے اللہ بڑا ہے اور اللہ کے لئے ہی تمام تعریفیں ہیں۔

اب اہل ایمان قربانی کے لئے تیار تھے۔ انہوں نے اللہ کی مدد سے اپنے خارجی دشمن کی تو ناک رگڑ دی تھی لیکن اپنے داخلی دشمن یعنی نفس امارہ کو لگام دینا بھی ضروری تھا۔ چنانچہ تمام حجاج نے قربانی کرکے اپنے رب کا شکر ادا کیا اور اپنے نفس کی ناجائز خواہشات کو قربا ن کرکے خدا کے ایک او ر حکم کی تعمیل کی۔ اس کے بعد انہوں نے حلق کروایا ۔ یہ سر منڈوانا دراصل خود کو خدا کی غلامی میں دینے کا عہد تھا۔ یہ بات عہد الست کی تجدید تھی کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے۔ یہ اس وعدے کا اعادہ تھا کہ اللہ کی بندگی میں پورے پورے داخل ہونا ہے، اس کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کرنا ہے، اس کی نافرمانی سے حتی الامکان گریز کرنا اور اسے راضی رکھنے کی کوشش میں کسی بھی انتہا سے گذرجانا ہے۔
منی میں ابلیسی فوج کا کہرام
ادھر اہل ایمان شیطان کو کاری ضرب لگانے کے بعد منٰی میں چین کی نیند سورہے تھے اور دوسری جانب ابلیس کے خیموں میں ایک کہرام مچا ہوا تھا۔ وہاں کی طوائفیں بدصورتی کی مثال بن گئی تھیں، شراب کےجام ٹوٹے پڑے تھے، رقص و موسیقی بند ہوچکی تھی، خیمےالٹے پڑے تھے اور قہقوں کی بجائے آہیں اور سسکیاں تھیں۔ شیطان اپنی بے پناہ طاقت، وسائل اور منصوبہ بندی کے باوجود اہل ایمان کو شکست دینے میں ناکام رہا تھا۔ لیکن ابھی جنگ کے دو دن باقی تھے اور اس میں وہ اپنی بچی کچھی فوجیں جمع کرکے خاموشی سے اہل ایمان کو گمراہ کرنے کی سازشیں تیار کررہا تھا۔
اگلا دن بھی منی میں قیام کا تھا۔ اکثر لوگ احرام اتار کر سمجھ رہے تھے کہ حج مکمل ہوگیا ہے۔ چنانچہ منٰی میں قیام کے دوسرے روز اہل ایمان کا جذبہ سرد ہوتا جارہا تھا۔ یہ بات شیطانی لشکر کے فائدے میں تھی۔ شیطان کے چیلوں نے دوبارہ اپنے زخموں کو بھلا کر سازشیں شروع کردیں۔ ان کی کوششوں کے باعث کمزور اہل ایمان خدا کی یاد کی بجائے دنیاوی باتوں میں مشغول ہوچکے تھے۔ اب کچھ لوگوں کی گفتگو کا موضوع سیاست تھی، دنیاداری تھی، وطن میں موجود بیوی بچے تھے، کھانے کے وسائل پر قبضہ تھا، لوگوں کی برائیاں تھیں۔ ان کے علی الرغم خدا کے چنے ہوئے بندے بھی تھے۔ وہ اب بھی خدا کی حمد و ثنا میں مصروف تھے، وہ اس کی یاد میں آنسو بہا رہے تھے، حج میں اپنی کوتاہیوں پر معافی کے خواستگار تھے، مستقبل میں اس کی رحمت کے طلبگار تھے۔
فرزندان توحید کو تربیت کے ایک اور مرحلے سے گذارنے کے لئے ۱۱ ذی الحجہ کو بھی شیطان پر سنگباری کرنی تھی۔چنانچہ اس معرکہ کا وقت آن پہنچا اور اہل ایمان کی فوجوں نے بچے کچھے شیاطین کو پیچھے دھکیلنا شروع کردیا۔ دوبارہ ان کا ٹارگٹ جمرات ہی تھا۔ شیطان کی فوجیں تھکی ماندی مایوس اور افسردہ تھیں جبکہ اہل ایمان ترو تازہ، طاقت ور اور پرامید۔ شیطان کے لشکر سے آہ و بکا کی آوازیں تھیں جبکہ رحمانی لشکر سے خدا کی بڑائی اور حمد کے ترانے۔شیطانی لشکر میں ابتری تھی جبکہ رحمانی افواج میں تنظیم۔ شیطان کا کوئی والی وارث نہیں تھا جبکہ اہل ایمان کا سرپرست خداوند قدوس تھا۔
شیطان کا لشکر پسپا ہوتا رہا یہاں تک کہ جمرات آگیا۔ یہاں شیطانی افواج کا پڑاؤ چھوٹے جمرے پر ہوا۔ اہل ایمان کا ہلہ اس چھوٹے جمرے (شیطان)کے لئے ناقابل برداشت تھا۔ چنانچہ طاغوتی قوتیں پیچھے ہٹ کر جمرہ وسطیٰ(درمیانی شیطان) پر جمع ہوگئیں۔ اہل ایمان نے ایک اور کاری وار کیا اور شیطان کی فوج کی بڑی تعداد کام میں آگئی۔ بچی کچھی طاقت اپنے سردار بڑے شیطان کے جھنڈے تلے جمع ہوگئی۔ یہاں بھی تائید ایزدی سے اہل ایمان نے شیطان کوایک اور زک پہچائی اور اب اس کے لئے فرار کا کوئی راستہ نہ تھا۔ چنانچہ وہ پٹتا رہا اور قیامت تک پٹنا اس کا مقدر تھا۔
اگلے دن بارہ ذوالحج کو بھی یہی عمل دہرایا گیا اور یوں حج کے مناسک مکمل ہوچکے تھے۔ اہل ایمان وقوف عرفات ، قیام مزدلفہ، رمی ، قربانی ، حلق ،طواف وداع اور منی میں ۱۲ ذولحج تک قیام کرکے حج کے تمام ظاہری مناسک پورے کرچکے تھے۔ حج ختم ہوگیا تھا ۔ یعنی شیطان کے خلاف تمثیلی جنگ کا اختتام ہوچلا تھا۔
جنگ کے نتائج
سوال یہ تھا کہ اس جنگ میں فتح کس کو نصیب ہوئی۔ اس کا ایک جواب تو بہت سادہ تھا کہ طاغوتی لشکر کو شکست اور اہل ایمان کو فتح نصیب ہوئی تھی۔ لیکن اس فتح میں اپنی کمزوریوں کا جائزہ لینا بھی ضروری تھا۔ مسلمانوں میں تین گروہ تھے جنہوں نے اپنے تقوی اور استطاعت کے مطابق حج سے استفادہ کیا۔
ایک گروہ سابقون کا تھا ۔ اس گروہ کے مسلمانوں نے اپنی نیت خالص رکھی، اپنا مال اللہ کے لئے خاص کردیا، اپنے جسم کے ہر عضو کو اللہ کی اطاعت میں دے دیا ، اپنے دل کی گہرائیوں سے اللہ کی حمدو ثنا کی ، ا س کی بڑائی بیان کی۔ یہ وہ ہراول دستہ تھا جس نے اس تمثیلی جنگ سے تربیت حاصل کی کہ کس طرح شیطانی چالوں سے نبٹنا ہے اور نفس کے گھوڑے کو لگام دے کر اپنا مستقبل اللہ کی غلامی میں بتانا ہے۔ ان کے حج کو اللہ نے قبول کرلیا اور انہیں اس طرح کردیا جیسے وہ آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہوں ۔ ان کی خطائیں معاف ہوگئیں اور ان کا حج حج مبرور ہوگیا جس کا صلہ جنت کے سوا کچھ نہ تھا۔
مسلمانوں کا دوسرا گرو ہ تقوی کے اس مقام پرنہ تھا۔ اس گروہ میں علم کی کمی تھی، عمل میں کوتاہیاں تھیں اور نیت میں اتنا اخلاص نہ تھا۔ یہ لوگ حج کی اسپرٹ سے بھی پوری طرح آگاہ نہ تھے بس ظاہری فقہی احکامات مان کر حج کی رسومات انجام دے رہے تھے۔ لیکن یہ خدا کے وفادار تھے۔ انہوں نے اپنا دامن شرک کی گندگی سے پاک رکھا تھا۔ یہ اپنی کوتاہیوں پر شرمسار تھے، یہ معافی کے خواستگار تھے، جنت کے طلبگار تھے۔ یہ جانتے تھے کہ خدا اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہے اور اس نے اعلان کیا ہوا ہے کہ اگر تم چل کر آؤگے تو میں تمہارے پاس دوڑ کر آؤنگا۔ چنانچہ وہ مالی اور بدنی مشقتیں جھیل کر اپنے بادشاہ کے دربار میں چل کر آگئے تھے۔ چنانچہ یہ کیسے ممکن تھا کہ خدا دوڑ کر ان کے پاس نہ آتا، ان کی کوتاہیوں پر چشم پوشی نہ کرتا، ان کی خطاؤں سے درگذر نہ کرتا اور ان کے عمل کی کمی کو دور نہ کردیتا۔
مسلمانوں میں تیسرا گروہ ان لوگوںپر مشتمل تھا جو حج خدا کو راضی کرنے کی بجائے کسی اور نیت سے کرنے آئے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ اپنے نام کے ساتھ حاجی لگوانا چاہتے تھے، کچھ اپنے حرام کی کمائی پر سیر سپاٹے کے لئے نکلے تھےاورکچھ شاپنگ کی غرض سے آئے تھے۔ظاہری مناسک توا نہوں نے بھی کئے تھے لیکن کسی اور نیت اور مقصد کے ساتھ۔ ان کی حیثیت قابیل کی مانند تھی جو قربانی کے لئے کچھ اناج تو لایا لیکن یہ ردی اور فالتو اناج تھا ۔ ا س کی نیت یہی تھی کہ اگر قربانی قبول ہوگئی اور آگ نے اسے جلا دیا تو خو امخواہ اعلی درجے کا اناج ضائع ہوجائے گا۔یعنی اس نے قربانی کی ظاہری شکل تو پوری کی لیکن اس کی نیت میں فتور ہونے کی بنا پر اسے قبول نہ کیا گیا۔ بہر حال ان حاجیوں کا معاملہ اللہ کے سپر د تھا وہ جو چاہے فیصلہ کرے۔
پروفیسر محمد عقیل

One response to this post.

  1. Posted by Isfandyar Azmat on 02/10/2014 at 3:20 صبح

    واہ واہ ماشاء اللہ کیا مضمون ہے۔ کیا روانی ہے۔ کیا شادابی اور بلاغت ہے۔ کیا تذکیر اور کس بلا کی تاثیر ہے۔ ما شاء اللہ ما شاء اللہ،،، مضمون کے زورِ بیان و سحر انگیزی کی تفصیل بیان و عیاں کرنے سے الفاظ قاصر ہیں۔ مضمون کا تسلسل اور بہاؤ، زور و قوت، اسلوبِ بیان و سیلابی روانی، اظہارِ مدعا و بلاغتِ کلام ہر ہر چیز جادو رنگ و سحر کار ہے۔ فصاحت و شستگی، نفاست و پاگیزگی، لطافت و برجستگی جیسی خوبیوں کے کیا ہی کہنے ہیں۔ اضافے کی گنجاءش چھوڑی ہے اور نہ کسی پہلو سے متعلق تشنگی و بے چینی کا احساس !!!
    لیکن،،،، ولیکن،،،، اور بہت معذرت کے ساتھ لیکن،،،،
    پلیز اب ذرا صبر و تحمل اور حکمت و تدبر کے ساتھ میری اگلی معروضات کو بھی پڑھ لیجیے گا اور انہیں یکدم رد کرنے اور غلط فہمیوں یا فضول قسم کی نکتہ چینیوں کا مجموعہ کہنے سے پہلے ذرا ٹھنڈے دل و دماغ اور اپنی عالمانہ و بالغانہ فکر و بصیرت کے ساتھ ان پر اچھا خاصا غور ضرور فرمالیجیے گا۔

    جناب ابو یحییٰ صاحب نے یہ ٹرینڈ سیٹ کیا کہ وہ خواب و خیال کے دوش پر سوار ہوکر پچھلے زمانوں میں پہنچ جاتے ہیں اور عظیم تاریخی واقعات کا خواب میں بچشمِ سر مشاہدہ فرمانے لگتے ہیں۔ اور اب آپ اس ٹرینڈ کو فالو کرتے ہوءے بالکل اسی انداز و پرواز میں تخلیقِ انسانی سے قبل کے لمحات میں پہنچ کر انسانی تخلیق جیسے عظیم الشان واقعے کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھنے کی سعادت حاصل فرمارہے ہیں اور پھر اس کے بعد مضمون جیسے جیسے آگے بڑھا، ما شاء اللہ سے آپ کا خوابی سفر بھی رواں دواں رہا اور آپ بھی ہوتے ہوتے ما شاء اللہ سے کسی بڑے مقام پر فاءز ہوکر حج کی اداءیگی کا منظر شریف ملاحظہ فرمانے اور اس کے خد و خال واضح فرمانے لگے،،،،، یہاں تک کہ آپ نے لشکرِ رحمان و لشکر شیطان کی صف بندی سے لے کر معرکہ آراءی اور فتح و شکست تک سب کچھ دیکھ اور بیان کرڈالا۔ پھر آپ کو ما شاء اللہ سے کیا خداءیانہ نظر و بصارت ملی ہے کہ بڑا شیطان بھی نظر آرہا اور چھوٹے شیطان بھی دکھ رہے ہیں۔ نہ صرف ان کے باطنی عزاءم و ارادوں پر اطلاع ہے۔ بلکہ ان کی سرگرمیوں اور مجلسوں میں بھی موجود ہیں اور ہر ہر بات سن رہے ہیں اور ہر ہر حرکت بچشمِ سر دیکھ رہے ہیں۔

    اس ساری صورتحال کے بعد گزارش یہ ہے کہ ساری تفصیلات اور ساری واقعاتی منظر کشیوں سے پہلے اولین طور پر اس ٹرینڈ کے اخلاقی جواز اور علمی حیثیت پر تو کچھ روشنی ڈال دیجیے۔ باقی اس کیفیت میں پہنچ کر آپ کون سے گوہرہاءے نایاب و بیش قیمت ہدایت و عبرت کے جواہر و موتی تراشتے اور تلاشتے ہیں، اُن پر ڈسکشن میں مجھے فی الحال دلچسپی نہیں ہے۔

    آپ پلیز خدارا یہ واضح کیجیے کہ آخر اس انداز سے ثابت کیا کیا جانا مقصود ہے؟ یہ کہ یہ “عبد اللہ” یا ” مردِ مسلم و مؤمن حاجی” یا پھر مضمون نگار جو ان کرداروں کی شکل میں غالباً اپنے ہی جذبات و احساسات بیان کررہا اور اصلاً خود ہی ان کرداروں کا مالک ہے، بہت بڑی فلم اور کوءی آسمانی و خداءیانہ ہستیاں ہیں؟ یہ کہ آپ کی جلالتِ شانی و ظلِ سبحانی و مرتبتِ لافانی شاید کہ پیغمبروں سے بھی بہت اونچی اور اتنی زیادہ حاملِ عظمت و کرامت ہے کہ ابراہیم علیہ السلام تو خالی اپنے وقت میں پیدا ہوں اور اپنے واقعات کی حدود تک ہی علم و اطلاع پاءیں، موسیٰ علیہ السلام بھی بس اپنی زندگی کے دورانیے کے داءرے تک کے واقعات ہی کا حصہ بننے کی سعادت حاصل کریں، لیکن یہ ابو یحییٰ کا خانہ زاد “عبد اللہ” اور اب آپ کا خانہ زاد “مردِ مسلم و مؤمن حاجی” اتنی اونچی شان اور اتنا ارفع مقام رکھتے ہیں کہ تمام پیغمبروں کو، ان کی زندگیوں کو، ان کی دعوت اور اس کے رد عمل کی تاریخ کو اور ان کے ماننے والوں کی فلاح و کامرانی اور نہ ماننے والوں کی تباہی و بربادی کو اپنی خداءیانہ آنکھوں سے دیکھ رہے اور ان کا آنکھوں دیکھا احوال بیان فرمارہے ہیں؟؟؟

    اگر یہ ساری باتیں محض غلط فہمیاں ہیں۔ اور ایسا کوءی تأثر لینا زیادتی ہے۔ تو آپ ہی بتادیجیے کہ آپ کے نزدیک اس کا عامل و محرک کیا ہے؟ اور وہ کون سے نتاءج و ثمرات ہیں جن کے پیشِ نظر یہ ڈھنگ و اسلوب اپنایا گیا اور آیا وہ مقاصد و ٹارگٹز تجرباتی طور پر کسی بھی حد تک اچیوو ہوءے؟؟؟

    مزید اگر دین و مذہب کے مقدمات و تعلیمات کو ناول کے پرکشش اسلوب میں ڈھال کر بیان کرنے میں آپ نیے دور و زمانہ کی رعایت سمجھتے اور آپ کا تجربہ اس کے مفید و مؤثر ہونے کی گواہی دیتا ہے تو کیا اس کا یہی اسلوب آپ کے نزدیک مناسب ہے کہ ایک “خداءی نظر و صفات” والا کردار تخلیق کیا جاءے، ساری تاریخ اور قوموں کی تباہی و بربادی کی داستانیں اور احوال اس کی الوہیانہ نظر شریف سے گزار کر دکھاءی جاءیں۔ اور پھر جو جو اسباق و مواعظ اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی ایسی ایجاد کے انسانیت کو دیے ہیں، آپ انہیں اس کردار اور خداءی ہستی کی زبانی لوگوں کے سامنے لاءیں؟؟؟

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s