ویلنٹائن ڈے اور وہ


ویلنٹائن ڈے اور وہ
وہ خیر باد کہتے ہوئے جاڑے کی ایک حسین شام تھی ۔ چار سو دھوپ پگھلے ہوئے سونے کی طرح بکھری ہوئی تھی۔سرد ہوا کے جھونکے اس کے چہرے سے ٹکر ا رہے تھے۔ لیکن فضا اتنی یخ بھی نہ تھی کہ ناگوار گذرتی۔ بہار کی آمد نے

کونپلوں کے تن چاک کردئیے تھے۔ اودے اودے، نیلے پیلے سرخ سفید غرض ہر طرح کے رنگو ں کے پھول چار و ں طرف نمودار ہونے کے درپے تھے۔ خزاں رسیدہ درختوں پر سبزے کی نوکوں نے سر نکال کر جھانکنا شروع کردیا تھا۔ شام کے پرندے اپنے اپنے مسکنوں کو لوٹنا شروع ہوگئے تھے ۔ اوپر نیلگوں آسمان کی بے کراں وسعت تھی تو نیچے سبز گھاس کا حسین کارپیٹ۔
وہ پارک میں کھڑا مصور اعظم کی کاریگری کی داد دےرہا تھا۔ ڈھلتی ہوئی شام کا ہر لمحہ اسے خدا کے قرب کا احساس دلا رہا تھا۔ اس نے خدا کی عظمت، اس کی قدرت، اس کی لطافت، اس کے جمال ، اس کے کمال، اس کےجلال کو دیکھا اور دیکھتا چلا گیا۔
اچانک اس کی نگاہ پارک میں بیٹھے ہوئے ایک جوڑے پر پڑی۔ دونوں کی ظاہری و ضع قطع سے لگ رہا تھاکہ ویلنٹائن ڈے منا رہے ہیں ۔دونوں ایک دوسرے کے کے ساتھ پہلو ملا کر محو گفتگو تھے ۔ یوں لگ رہا تھا کہ ایک دوسرے پر مرمٹنے کے لئے تیار ہوں۔اس نے ذرا غور سے دیکھا تو علم ہوا کہ یہ دونوں اس کے آفس کے ساتھی تھے۔ وہ ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر حیران رہ گیا ۔ دونوں شادی شدہ تھے لیکن آپس میں نہیں۔وہ دنوں بااولاد تھے لیکن اس بات کی انہیں کوئی پروا نہ تھی۔ وہ تو بس مغربی تہذیب کی اس رسم کو انجوائے کرنا چاہتے تھے، وہ آزادانہ جنسی اختلاط سے اپنی آزاد خیالی پر مہر ثبت کرنا اپنا فریضہ سمجھتے تھے، وہ حیا کی قدر کو دقیانوسی برقع سمجھ کر اتار پھینکنا چاہتے تھے۔
وہ ان کی باتوں سے سخت کبیدہ خاطر ہوگیا ۔اسےدونوں کی شکلوں اسے مکروہ بھیڑئیے کی مانند محسوس ہونے لگیں جو ایک دوسرے کی بوٹی نوچنے کے لئے دانت نکوس رہے ہوں، جو اپنی سفلی خواہش کو پورا کرنے کے لئے ہر طرح کی انسانیت سے پیچھا چھڑا نا چاہتے ہوں۔
اس نے اپنا رخ پھیر لیا اور آسمان کی جانب دیکھا۔ سورج کی آخری کرنیں زمین سے رخصت ہوا چاہتی تھیں اور اندھیرے کا عفریت ہر روشنی کو نگلنے کے درپے تھا ۔ وہ سمجھ گیا کہ اب اسے یہاں سے چلے جانا چاہئے وگرنہ اس دھیرے دھیرے آنے والی تاریکی میں وہ بھی اپنی راہ نہ گم کر بیٹھے۔
پروفیسر محمد عقیل

One response to this post.

  1. Posted by lamhalamha on 21/03/2015 at 8:46 صبح

    بہترین،،،،

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s