اے بادلو یہ کہنا


اے بادلو! یہ کہنا ،یہ زندگی حسیں تھی جب تو تھا اس میں شامل ۔ ہر رات ملاقات تھی، ہر دن میں تری یاد تھی، پھر دھوپ میں برسات تھی، ہر شام ہی کیا بات تھی۔ وہ بے خودی میں رقص کرنا،وہ کانٹوں پہ چل کے ہنسنا، لذت سے دم اٹکنا، ہر چاپ پہ کھٹکنا۔ وہ چلتے چلتے رکنا، وہ رک کے پھر سے چلنا۔

اے بادلو! یہ کہنا نہ جانے کیا ہوا ہے اب، تو نے مجھے چھوڑدیا۔ اپنی محفل سے نکال دیا ۔ آج میں اپنے ہی گھر میں بھٹک رہا ہوں کہ میرا ہادی ہی روٹھ گیا۔ آج میں بھیڑ میں تنہا ہوں کہ میرا ساتھی ہی چھوٹ گیا۔آج میرے دن بھی تاریک کہ میرا نور اب نہیں ہے،آج میں چاہتوں میں پیاسا کہ مرے پاس رب نہیں ہے۔
اے بادلو! اس سے کہنا دل بہت اداس ہے،اندر نہ کوئی آس ہے۔ ان محفلوں میں اب جی نہیں لگتا، یہ پیاس اب نہیں بجھتی،ہے جینا بہت مشکل اب ، یہ ہچکیاں اب نہیں رکتیں۔
اے بادلو یہ اکہنا! مری معصیت کا دریا، مرے جرم کا سمندر، مری لغزشوں کے جھرنے ، ہیں بہت ہی زیادہ لیکن، تری شفقتوں کے بادل، وہ نرمی و محبت، وہ مہربان الفت، وہ پیار اور محبت ، بے انتہا ہیں اے رب۔
اے بادلو!یہ کہنا دل منتظر ہے تیرا ، اب کچھ نہیں ہے میرا، اب ڈھل چکا سویرا۔بس سانس چل رہی ہے جیسے ہو آخری دم ۔ یہ آنکھ کھل رہی ہے کہ پھریہ کھل نہ پائے، یہ پاؤں اٹھ رہے ہیں کہ اب کبھی نہ اٹھیں۔ یہ ہونٹ ہل رہے ہیں کہ اب خموش ہولیں۔

پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s