موڈ پر قابو کیسے؟


” مجھے اپنی سوچوں پر قابو نہیں ۔ ہر وقت الٹی سیدھی سوچیں میرے دماغ میں گردش کرتی رہتی ہیں۔ ان کی بنا پر جذبات مجھ پر حاوی رہتے ہیں۔ غصہ، بے چینی ، مایوسی ، افسردگی، منفی سوچ اور اس قسم کی دیگر باتیں ذہن میں آتی

رہتی ہیں۔ ڈاکٹر مجھے بتاؤ میں کیا کروں؟”
وہ ایک ماہر نفسیات کے سامنے بیٹھا اپنی رام کہانی سنا رہا تھا۔
” تم ایک جملے میں اپنے مسئلے کو بیان کرو” ۔ ڈاکٹر نےپوچھا۔
” میرا موڈ میرے قابو میں نہیں بلکہ میں اس کے قابو میں ہوں۔” اس نے جواب دیا۔
"دیکھو! ہمارے دماغ اور دل کا گہرا تعلق ہے۔ دل جذبات کا مرکز اور دماغ عقل کی آماجگاہ ہے۔دل اور دماغ کے درمیا ن ایک نظر نہ آنے والی نالی ہے جیسے سانس کی نالی ہوتی ہے۔ اس نالی کے ذریعے عقل اور دل آپس میں پیغام رسانی یا میسجنگ کرتے ہیں۔ اگر ان کے درمیان توازن برقرار رہے تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن عدم توازن انسانی شخصیت کا بیڑا غرق کردیتا ہے۔” ڈاکٹر کچھ دیر کے لئے سگریٹ سلگانے کے لئے رکا اور مریض بے چینی سے اپنا پہلو بدلنے لگا کہ کسی طرح گفتگو کا سلسلہ بحال ہو۔
” بہر حال ، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل سے پیغامات مسلسل دماغ کی جانب جارہے ہوں اور دماغ سے ہدایات نیچے دل کی جانب نہ آرہی ہوں۔ ایسی صورت میں یہ نالی ون وے ہوجاتی ہے اور اس میں یکطرفہ طور پر بہاؤ شروع ہوجاتا ہے۔چنانچہ دماغ پر جذبات حاو ی ہوجاتے اور دماغ کا فنکشن سلو ہوجاتا ہے۔ اگر یہ کیفیت تسلسل کے ساتھ رہے تو پھر انسان کا موڈ اس کے قابو میں نہیں رہتا، وہ کبھی اداس ہوجاتا ہے، کبھی غصہ آتا ہے، کبھی بے چینی، کبھی پریشانی، کبھی غم تو کبھی ڈپریشن۔ کبھی خوشی بھی ملتی ہے لیکن عارضی۔ ”
” ہاں ہاں ، ایسا تو میرے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ تو میں کوشش کرتا ہوں کہ دماغ کی سوچوں کے ذریعے دل کو قابو کروں؟”
” یہی تو غلطی کرتے ہو تم۔ بلکہ اکثر لوگ یہی کرتے ہیں۔ ایک بیمار اور کمزور دماغ کس طرح ایک طاقتور اور بپھرے ہوئے جذباتی دل کو قابو کرسکتا ہے؟ ”
” اوہ! پھر کیا کروں؟”
” کچھ نہ کرو بس دماغ اور دل کی رابطے کی نالی کو عارضی طور پر بلاک کردو۔ یعنی دماغ سے کوئی میسج نہ بھجو اور نہ دل سے آنے والا کوئی پیغام وصول کرو۔”
” لیکن وسوسے تو آتے رہتے ہیں، دل تو اپنا کام کرتا رہتا ہے؟”
” ہاں ، تم ٹھیک کہتے ہو۔ اپنے دماغ کو خالی کرو۔ اس میں سے سوچوں کو نکال دو۔ اسے اس طرح خالی کردو جیسے ایک مکان کو شفٹنگ کے وقت خالی کردیا جاتا ہے، اس میں نہ کوئی فرنیچر ہوتا ہے نہ دوسرا سامان۔”
” اوہ! یہ تو بہت مشکل کام ہے۔”
” کوئی مشکل نہیں۔ ان اسٹیپس کو فالو کرو:
۱۔ سب سے پہلے تنہائی میں کسی ریلیکس جگہ پر بیٹھ جاؤ یا لیٹ جاؤ ، آنکھیں بند کرکے کر سانس آہستہ آہستہ اندر لواور اوپر لے جاکر روک دو۔ پانچ سیکنڈ تک روکے رکھو۔ پھر آہستہ آہستہ سانس باہر نکالو اور جب بالکل نکل جائے تو پانچ سیکنڈ تک روک لو۔ ایسا دس مرتبہ کرو۔
۲۔ اپنے چہرے پر غور کرو اور سوچو کہ تمہارے گال ، پیشانی اور آنکھوں کے اردگرد کے عضلات پھیل رہے ہیں۔ تم دیکھو گے کہ ایسا واقعی ہوگا۔”
۳۔ اب آنکھیں کھول کر سامنے کسی بھی چیز جیسے بلب یا ٹیبل وغیرہ کو دیکھنا شروع کرو اور مسلسل دیکھتے رہو۔ اس دوران اپنے دماغ کو بالکل خالی رکھو اور آہستہ آہستہ سانسیں لیتے رہو۔ یہ کام کوئی دس منٹ تک کرو۔
۴۔ روزانہ یہ عمل کرتے رہو اور دورانیہ دس منٹ سے بڑھادو۔
۵۔ دن میں جب وقت ملے دو تین مرتبہ ایسا کرلو۔ پندرہ دن میں حالات میں بہتری آجائے گی”
” کیا اس طر ح مجھے اپنے جذبات پر مکمل قابو مل جائے گا؟”
” ہاں لیکن بہت حد تک، باقی باتیں اگلے وزٹ پر بتاؤں گا۔ فیس ساتھ لیتے آنا۔”
ڈاکٹر نے ہاتھ بڑھایا اور اسے رخصت کردیا۔
پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s