انٹرایکٹو فہم القرآن کورس ۔پانچواں سیشن۔ خلاصہ

سورہ البقرہ آیت نمبر 26 تا 33
م علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا اپنے فہم کے مطابق تبصرہ حاضر ہے۔ آیات یہ تھیں:
ترجمہ یہ ہے:
اللہ اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے۔ جو مومن ہیں ، وہ یقین کرتے ہیں وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے۔ اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا تو نا فرمانوں ہی کو (۲۶) جو خدا کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (یعنی رشتۂ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں (۲۷) (کافرو!) تم خدا سے کیوں کر من کر ہو سکتے ہو جس حال میں کہ تم بے جان تھے تو اس نے تم کو جان بخشی پھر وہی تم کو مارتا ہے پھر وہی تم کو زندہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے (۲۸) وہی تو ہے جس نے سب چیزیں جو زمین میں ہیں تمہارے لیے پیدا کیں پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو ان کو ٹھیک سات آسمان بنا دیا اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے (۲۹)اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں (اپنا) خلیفہ بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا۔ کیا تُو اس میں ایسے شخص کو خلیفہ بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں۔ (خدا نے) فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے (۳۰) اور اس نے آدم کو سب (چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ (۳۱) انہوں نے کہا، تو پاک ہے۔ جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے ، اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ بے شک تو دانا (اور) حکمت والا ہے (۳۲) (تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ۔ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جاتنا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے (۳۳)
آیات کا پس منظر
گذشتہ آیات میں مشرکین کو خاص طور پر مخاطب کرکے کہا گیا تھا کہ اس تنہا رب کی بندگی کرو جس نے زمین و آسمان کو تنہا بنایا۔ پھر انہیں قرآن جیسی کوئی کتاب بنانے کا چیلنج دیا ۔ اس کے بعد انہیں بتایا کہ فرماں برداروں کے لئے جنت اور نافرمانوں کے لئے جہنم ہے۔
موجودہ آیات کا خلاصہ
یہاں سلسلہ کلام میں ایک وقفہ آیا ہے اور آگے مثالوں کے متعلق وضاحت کی گئی ہے۔اس آیت سے چند آیات قبل دیکھیں تو اللہ نے دو تمثیلیں بیان کی تھیں جویہود کی گومگو اور تشکیک کی کیفیت کو بیان کررہی تھیں۔ چنانچہ ان تمثیلوں پر اعتراضات کئے گئے ہونگے۔ تو اب یہاں یہ بتایا گیا کہ ان تمثیلوں سے دو روئیے پیدا ہوتے ہیں ، ایک تسلیم و رضا کا اور دوسرا ضد اور ہٹ دھرمی کا۔ چنانچہ ضد کرنے والے لوگ ان تمثیلوں میں کیڑے نکالتے ہیں کہ یہ نعوذ باللہ کیسا عظیم خدا ہے جو مکھی مچھر جیسی حقیر چیزوں کی مثالیں پیش کررہا ہے۔ حالانکہ اہل ایمان تو مثبت سوچ کی بنا پر یہ جان لیتے ہیں کہ یہ تو حق بات ہے۔
اس کے بعد آگے یہ بیان کیا گیا کہ اللہ ان مثالوں ہی کے ذریعے بہت سوں کو راہ دکھاتے اور بہت سوں کو گمراہ کردیتے ہیں۔ اور گمراہ صرف فاسق یعنی فرماں برداری کی حد سے نکل جانے والے لوگ ہی ہوتے ہیں۔ آگے ان فاسقوں کی چند صفات بیان ہوئی ہیں جو اس وقت کے یہود میں نمایاں تھیں کہ یہ عہد باندھ کر توڑ دیتے، رشتہ داریوں کو قطع کرتے اور زمین میں فساد مچاتے پھرتے ہیں۔
آگے آسمان و زمین اور انفس و آفاق کی تخلیق کی جانب اشارہ کرکے توحید کی دلیل دی جارہی ہے کہ خدا کا انکار یا شرک ممکن ہی نہیں۔
انسان کی خلافت
یہاں ایک نیا خطاب شروع ہورہا ہے۔اس خطاب کے اولین مخاطبین تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب ہیں لیکن ضمنا یہود کو بھی مخاطب کیا جارہا ہے کیونکہ آدم علیہ السلام کے زمین میں بھیجے جانے کے واقعے سے وہ بھی بخوبی واقف تھے۔
اس آیت کو سمجھنے کے لئے پس منظر واضح ہونا چاہئے۔ قرائین سے پتا چلتا ہے کہ اللہ اور فرشتوں کے درمیان یہ مکالمہ عہد الست کے آس پاس وقت ہی کا ہے۔ انسان کو زمین میں بھیجا جانا کوئی معمولی واقعہ نہ تھا۔ اس زمین پر انسان کو دو اہم اور باشعور مخلوقات سے واسطہ پڑنا تھا اور یہ تھے فرشتے اور جنات۔ فرشتے انتظامی معاملات میں اللہ کے احکامات کی تعمیل کرنے والے تھے جبکہ جنات کا مستقر بھی اسی دنیا میں ہونا تھا یا ہوچکا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ انسان کو بھی دنیا میں بھیجا جانا تھا۔اس عظیم منصوبے کے واقفیت کے لئے انسان، جنات اور فرشتوں کا باعلم ہونا ضروری تھا۔
چنانچہ دنیا میں بھیجے جانے سے قبل اللہ نے یہ اجمالی تعلیم ان تینوں مخلوقات کو فراہم کردی۔ سب سے پہلے تو آدم کی پشت سے ارواح کو نکالا اور ان کے سامنے اس دنیا کی آزمائش کا پورا نقشہ ان کے سامنے رکھا کہ کس طرح خیر و شر کے معاملے میں ان کی آزمائش کی جائے گی۔ پھر ان کے سامنے یہ اختیار کی امانت رکھی گئی جسے زمین و آسمان نے اٹھانے سے انکار کردیا اور انسان کے بحیثیت مجموعی اس امانت کو اٹھالیا ( سورہ احزاب )۔ پھر سورہ اعراف میں ہے کہ اللہ نے سب سے پوچھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ تو یہاں ظاہر ہے صرف اتنی بات نہیں کی گئی ہوگی۔ بلکہ اللہ نے ارواح کو نکال کر ان کے سامنے اپنا تعارف پیش کیا ہوگا اور زمین میں پیش آنے والی آزمائش کا خاکہ پیش کیا ہوگا۔ یہ اہتمام تو انسان کو ایجوکیٹ کرنے کے لئے کیا گیا اور ارواح سے اپنی توحید کا شعوری اقرار کروایا۔
اسی کے ساتھ ساتھ فرشتوں اور جنات کو بھی ایجوکیٹ کرنے کا اہتمام کیا۔اسی لئے ان دونوں مخلوقات کو سجدہ کا حکم دیا گیا۔ سجدہ اس بات کی علامت تھی کہ تم دونوں نے انسان کے آزادانہ ارادے و اختیار میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرنی ہے۔تو زیر بحث آیات میں فرشتوں کو انسان کے بارے میں آگاہ کیا جارہا ہے۔
اس تناظر میں سوالات کے جواب یہ ہیں:
سوالات:
۱۔ اوپر ایت میں نقل ہوا ہے:
اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے۔
یہا ں کس چیز کی بات ہورہی ہے جس کے ذریعے اللہ لوگوں کو گمراہی یا ہدایت دیتے ہیں۔
جواب: یہاں مثالوں کی بات ہورہی ہے۔
۲۔ آیت میں بیان ہوتا ہے :
جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں (اپنا) خلیفہ بنانے والا ہوں۔
یہاں خلیفہ سے کیا مراد ہے اور کیوں اللہ تعالی ٰ انسان کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے؟
جواب: خلیفہ کے لغوی معنی جیسا کہ آپ لوگوں نے بتایا کہ جاں نشین کے ہیں جبکہ اصطلاحی معنی سورہ ص اور دیگر کی روشنی میں مجرد صاحب اقتدار ہستی کے ہیں۔ یہاں میرے ناقص فہم کے مطابق خلیفہ سے مراد جاں نشین نہیں بلکہ صاحب اقتدار ہستی ہے۔ اس کی دلیل نیچے آرہی ہے۔باقی اللہ خلیفہ اس لئے بنانا چاہتے تھے کہ انسانوں کو محدود اختیار دے کر یہ امتحان لیں کہ کون فرماں برداری کرتا ہے اور کو ن نافرمانی۔
۳۔ فرشتوں نے اعتراض کیا : کیا تُو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں۔ فرشتوں نے یہ اعتراض کیوں کیا اور کیا یہ اعتراض غلط تھا؟
جواب: فرشتوں کا یہ سوال اعتراض نہیں کیا تھا کیونکہ اعتراض تو کسی ایسی ہستی پر کیا جاتا ہے جس میں کوئی عیب ہو اور اللہ ہر عیب سے پاک ہے اور اس بات کا ادراک فرشتوں کو بخوبی تھا۔ فرشتوں کا یہ سوال دراصل استعجاب یعنی حیرت کا اظہار تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ فرشتوں کو یہ کس طرح پتا چلا کہ انسان زمین میں کشت و خون کرے گا ۔ تو اس کا جواب خلیفہ کے معنی میں پوشید ہ ہے۔ ہم نے تفسیر کا اصول پڑھا تھا کہ کامن سینس استعمال کرنا ہے تو یہاں اسی اصول کو اپلائی کریں تو سارے مسائل چند لائینوں میں حل ہوجاتے ہیں۔
دیکھیں اللہ نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ یعنی صاحب ارادو اختیار ہستی بھیجنےوالا ہوں۔ فرشتوں نے خلیفہ کے لفظ کو اگر جاں نشین ، نائب وغیرہ کے معنوں میں لیا ہوتا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فرشتوں کو پھر کس طرح پتا چلا کہ یہ زمین میں خون خرابا کرے گا؟ کیونکہ نائب یا جاں نشین کی تو یہ خصوصیت نہیں ہوتی۔ لیکن فرشتوں نے اس لفظ کو صاحب اقتدار ہستی ہی کے معنوں میں لیا اور اللہ بھی انہیں یہی تعلیم دینا چاہتے تھے۔ چنانچہ فرشتوں نے یہ لفظ سنتے ہی وہ نتیجہ اخذ کرلیا جو خلیفہ یعنی صاحب اقتدار ہستی کو بھیجنے کے نتیجے میں ہوسکتا ہے ۔ یعنی خون خرابا۔ تو عام فہم یہ کہتا ہے کہ خلیفہ سے مراد یہاں صاحب اقتدار ہستی ہی مراد ہوسکتی ہے۔
آگے فرشتوں نے یہ کہا کہ ہم حمد و ثنا تو کر ہی رہے ہیں ۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین انسان کو دنیا میں بھیجے جانے سے پہلے نہ صرف وجود میں آچکی تھی بلکہ اس کا انتظام ظاہر ہے فرشتوں کے ذریعے ہی چل رہا تھا۔ انتظام سے مراد سورج چاند تارے کا وجود اور زمین کی گردش وغیرہ ہے۔ تو یہ انتظام فرشتے چلارہے تھے اور ساتھ ہی حمد ثنا بھی کررہے تھے۔انسان کو اختیار دینے کے بعد یہ قوی امکان تھا کہ وہ حمدو ثنا سے گریز کرے یا اس کوالٹی کی حمدو ثنا نہ کرے جیسی فرشتے کررہے تھے۔ تو فرشتوں نے یہی کہا کہ اگر مقصود حمدو ثنا ہے تو وہ تو ہم غیر مشروط طور پر کررہے ہیں ۔
فرشتوں کا یا استعجاب بالکل غلط نہ تھا لیکن مکمل طور پر درست بھی نہ تھا۔ چونکہ مقصود تعلیم دینا تھا اس لئے یہ استعجاب پیدا کرنا لازمی تھا۔ چنانچہ اللہ نے فورا ہی انہیں جواب نہیں دے دیا بلکہ کچھ توقف کرنے کو کہا اور پہلے ایک اجمالی بات کہہ دی کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔
۴۔ آیت میں بیان ہوتا ہے:
اور اس نے آدم کو سب (چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو خود ہی نام سکھائے اور فرشتوں کو نہیں سکھائے ۔ پھر یہ کہا کہ اگر تم سچے ہو تو ان کے نام بتاؤ۔ فرشتے کس طرح نام بتاسکتے تھے جبکہ انہیں سکھایا ہی نہیں گیا؟ نیز یہاں سچے ہونے سے کیا مراد ہے؟
جواب: یہاں بھی ہم اس مشکل مقام کو حل کرنے کوشش کریں گے۔ دیکھیں فرشتوں نے اعتراض کیا کہ صاحب اقتدار ہستی کو دنیا میں بھیجنے سے کشت و خون ہوگا۔ تو اب اللہ ان کی اس کم علمی کو دور کررہے ہیں یعنی اپنی اسکیم سے آگاہ کررہے ہیں۔ تو اب جو بھی مکالمہ اللہ اور فرشتوں کے درمیان ہوگا وہ اسی تناظر میں ہوگا۔ اس کا جواب آگے ہے۔
۵۔ یہ کس چیز کے نام تھے؟
جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ یہاں ناموں پر لام عہد ہے (ال اسماء۔۔۔The names) یعنی جو نام سکھائے گئے وہ کوئی خاص نام تھے۔ اب اگر یہاں ناموں سے مراد ساری اشیاء کے نام لیں تو اس سے فرشتوں کا یہ اشکال کیسے دور ہوگا کہ ان کا خیال غلط ہے اور انسان کشت و خون نہیں کرے گا۔ یہی مسئلہ اس وقت بھی پیدا ہوتا ہے اگر ان ناموں سے مراد ریزننگ یا تعقل یا منطقی استدلال کی صلاحیت کو مانا جائے۔
یہاں ناموں سے مراد اگر تمام اشیاء کے نام مراد لئے جائیں یا ریزننگ مراد لی جائے تو یہ مراد اسی وقت لی جاسکتی ہے جب فرشتے اللہ پر اعتراض کررہے ہوں اور خود خلیفہ بننا چاہتے اور اپنی برتری چاہتے ہوں۔ اس کے جواب میں اللہ نے آدم کے ذریعے تمام اشیاء کے نام بتادئیے یا ریزننگ کی صلاحیت شو کردی تاکہ فرشتوں پر انسان کی برتری ثابت ہوجائے اور وہ خلافت کا اہل نظر آجائے۔ لیکن یہ مدعاتو فرشتوں کا ہو ہی نہیں سکتا۔ اول تو فرشتے خود کو خلافت کا اہل تصور کر ہی نہیں سکتے کیونکہ خلافت سے مراد صاحب اقتدار ہستی کے ہیں جو ارادہ واختیار کی مالک ہو۔ فرشتے ہم جانتے ہیں کہ باشعور تو ہیں لیکن شر کو کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ اسی طرح اگر فرشتے خود اپنی برتری چاہ رہے تھے تو یہ تو خدا کے انتخاب پر ایک باادب ہی سہی ایک اعتراض ہوگیا کہ ہم اہل ہیں۔ یہ تو وہی بات ہوگئی جو شیطان نے کہی تھی کہ “میں اس انسان سے بہتر ہوں۔” لیکن اگر فرشتے خود خلیفہ بننا چاہتے تو اللہ تعالیٰ اتنے سافٹ انداز میں انہیں ساری باتیں نہ بتاتے بلکہ کم و بیش وہی سلوک کرتے جو شیطان کے ساتھ ہوا تھا۔
بہر حال ، فرشتوں کا خلافت کا ارادہ بعید از قیاس معلوم ہوتا ہے۔ اب سوال وہیں آگیا کہ فرشتوں نے خلیفہ کی خصوصیت پر ایک اشکال پیش کیا کہ کشت و خون ہوگا ۔ اب اگر یہ مان لیا جائے کہ اللہ نے آدم کو ریزننگ کی صلاحیت یا تمام اشیاء کے نام سکھا کر فرشتوں سے کہا کہ تم بتاؤ۔ تو وہ نہ بتاسکے تو یوں فرشتوں نے تسلیم کرلیا کہ ہاں زمین میں کشت خون نہیں ہوگا کیونکہ انسان کو ریزننگ کی صلاحیت حاصل ہے یا انسان کو تمام اشیاء کے نام آتے ہیں ۔ بات کچھ بن نہیں رہی۔
اب صرف ایک ہی آپشن رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ یہ مان لیا جائے کہ یہاں جو نام سکھائے گئے وہ کچھ ایسی تعلیم تھی کہ فرشتوں کا اشکال دور ہوگیا اور انہیں مدلل جواب مل گیا۔ تو گمان غالب ہے کہ وہ ان ہستیوں ہی کے نام تھے جنہوں نے مومن، صدیق، شہدا اور انبیاء بننا تھا۔ یعنی جب فرشتوں نے اشکال پیش کیا تو اللہ نے آدم علیہ السلام اور فرشتوں کے سامنے پورا نقشہ پیش کردیا کہ آزادانہ اختیار دینے کا مقصد ایک ایسی مخلوق کی تخلیق ہے جو خدا کو بن دیکھے اپنے ارادے کے ساتھ مانے اور فرماں برداری کرے۔ ان لوگوں کی اختیاری حمد و ثنا فرشتوں کی جبری تسبیح و تحمید سے کہیں افضل ہوگی۔ تو اگر اس اختیار کو دینے سے فرعون، نمرود، شداد، ابوجہل ابولہب اور ہٹلر جیسے کشت و غارت گر اور ظالم لوگ پیدا ہونگے تو یہیں نوح، ابراہیم ، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، یوسف، موسی ، عیسی اور محمد ( علیہم السلام ) جیسے وفادار، جاں نثار اور قربانی دینے والے لوگ بھی ہونگے۔
جونہی اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کے ذریعے یہ پوارا نقشہ پیش کیا تو فرشتوں سے کہا کہ اچھا تم نام بتاؤ یعنی تم نشاندہی کرو کہ کون کون سے لوگ کشت و غارت گری کریں گے اور کون لوگ جاں نثار ہونگے۔ ظاہر ہے فرشتوں نے یہ اجمالی اندیشہ محض اختیار کی بنیاد پر کیا تھا اور انہیں متیعن طور پر علم نہ تھا کہ کون لوگ کشت و غارت گری کے مرتکب ہونگے۔ اس لئے انہوں نے اپنی معذوری کا اعتراف کرلیا کہ آپ کی ذات پاک ہے ہر عیب سے تو اس سے بھی پاک ہے کہ کوئی کام آپ بے حکمت کریں۔ ہم تو بس اتنا ہی جانتے ہیں جتنا آپ نے سکھایا ہے۔ پھر آدم علیہ السلام سے کہا کہ تم ان کے سامنے ساری نیک ہستیوں کا تعارف پیش کردو تاکہ ان کا اعتراض رفع ہوجائے۔
چند سوالات:
اس پر چند ضمنی سوالات پیدا ہوتے ہیں جو یہ ہیں:
۱۔ ایک سوال یہ کہ آخر سیدھا سیدھا قرآن نے یہ مشکل کیوں آسان نہ کردی کہ یہ نام کس کے تھے اور یہ اتنا مشکل مقام کیوں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن تذکیرو نصیحت کے لئے ایک انتہائی آسان و سادہ کتاب ہے لیکن علمی مباحث کے لئے مشکل ترین کتاب۔ یہ کائینات کے رب کی تصنیف ہے تو اس کی شان یہی ہونی چاہئے کہ اس کا انٹلیکچوال لیول ناقبل فہم نہ سہی، بہت ہائی ہو۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآن کا اس طرح کا اسلوب کئی فائدے دیتا ہے اور اس میں ایک طرف تو ایک سادہ سے دیہاتی کے لئے بھی اپنے لئے مفہوم لینے اور سمجھنے کی گنجائش ہوتی ہے اور دوسری جانب ایک اسکالر کے لئے بھی تحقیق کا سامان ہوتا ہے۔ایک اور وجہ یہ ہے کہ اس مشکل پسندی سے تحقیق و جستجو کی راہ ہموار ہوتی ہے اور انسان جب مشقت اٹھا کر کسی مفہوم تک پہنچتا ہے تو وہ اپنے رب کے اور قریب ہوجاتا ہے۔ نیز قرآن کا یہ اسلوب زیادہ تر علمی مباحث میں ہے ورنہ دین کے بنیادی عقائد واعمال میں قرآن بہت واضح طور متعین طور پر اپنا مدعا پیش کردیتا ہے۔
۲۔ ایک اور سوال یہ ہے کہ اللہ نے فرشتوں کو یہ نام آدم کے ذریعے کیوں دلوائے اور خود کیوں نہیں دئیے۔ اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ وہ یہ کہ اصل میں فرشتوں نے اس دنیا میں انسانوں کے ساتھ کئی معاملات کرنے تھے۔ فرشتوں نے انسانوں کے بارے میں عمومی طور پر یہ سمجھا کہ یہ کشت خون کرے گا۔ یہ انسان کا ایک منفی تصور تھا۔ چنانچہ اللہ نے آدم ہی کے ذریعے فرشتوں کو سمجھایا تاکہ یہ منفی تصور دور ہو جائے اور انسان سے فرشتوں کی انسیت پیدا ہوجائے۔ اس قربت کے بعد اب فرشتے دنیا میں نیک انسانوں کے لئے دعا کرتے ہیں، ان کے مددگار ہوتے ہیں، ان کے لئے خدا کے حضور مغفرت طلب کرتے ہیں اور ان کے دلوں پر سکینت نازل کرتے ہیں۔ یہ سارے مقاصد یوں تو محض اللہ کے حکم سے بھی پورے ہوسکتے تھے لیکن اس تفہیم کے بعد یہ زیادہ احسن طریقے سے سر انجام دئیے جاسکتے ہیں۔ لیکن یہ محض میرا قیاس ہے۔ ھذا ماعندی والعلم عنداللہ
میں درخواست کروں گا کہ اس ای میل کو ایک مرتبہ اور پڑھ لیں۔ اس کےعلاوہ راعنہ بہن نے ترجمہ کے حوالے سے کچھ لکھا تھا۔ دیکھیں میں ترجمہ فتح محمد جالھندری صاحب کا کا پی پیسٹ کردیتا ہوں کیونکہ یہ سلیس اور بامحاورہ ہے ۔ لیکن ضروری نہیں میں اس ترجمے سے متفق ہیں۔ اصل چیز عربی متن ہوتا ہے۔ تو مختلف تراجم کو دیکھ لیا جائے تو بہتر ہے۔

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s