شب بارات


ہماری سوسائٹی میں شب برات پر دو مکاتب فکر ہیں۔ ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ شب برات نجات کی رات ہے، اس رات لوگوں کے نامہ اعمال اللہ کے حضور پیش ہوتے ، ان کی تقدیر کا فیصلہ کیا جاتا، ان کے جینے مرنے کا تعین ہوتا ، لوگوں کو جہنم سے آزادی دی جاتی ہے۔ چنانچہ اس رات کی عبادت بہت افضل ہے اور اس رات قبرستان جانا چاہئے اور نوافل و اذکار کثرت سے کرنے چاہئیں۔
دوسرا گروہ اس رات کی مذہبی حیثیت کو چلینج کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس رات کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس رات کی بنیاد ضعیف احادیث پر ہے اور اس کے فضائل مستند نہیں۔ چنانچہ یہ گروہ اس رات کو بااہتمام منانے اور اجتماع کرنے کو بدعت مانتا اور اس کے تمام فضائل کو باطل قرار دیتا ہے۔
اس بارے میں ایک تیسرا نقطہ نظر بھی ہے جو غیر معروف لیکن حقیقت

سے قریب تر ہے۔ اس مکتبہ فکر جو چیزیں دین میں مباح یعنی جائز ہیں وہ سب کی سب اس رات میں جائز رہیں گی اور جو چیزیں ناجائز ہیں وہ اس رات کی بنا پر جائز نہیں ہوجائیں گی۔ چنانچہ اگر کوئی شخص اس رات کو عبادت کرتا، نفل پڑھتا، قرآن کی تلاوت کرتا، ذکرو اذکار کرتا یا اور کوئی نیک عمل کرتا ہے اور اس کا مقصد خالص اللہ کی رضا ہے تو اسے کسی طور اس بنا پر ناجائز قرار نہیں دیا جاسکتا کہ یہ شعبان کی مخصوص رات کو یہ کام ہورہا ہے۔
دوسری جانب لاؤڈ اسپیکر پر نعتیں پڑھ کر لوگوں کی نیندیں حرام کرنا، پٹاخے اور آتش بازی سے پڑوسیوں کا سکون غارت کرنا، روحوں کو حاضر کروانا، مزارات پر سجدہ کرنا ، قبروں میں چلہ کشی کرناکسی بھی رات میں جائز نہیں تو اس رات میں کیونکر جائز ہوسکتا ہے۔

Advertisements

5 responses to this post.

  1. Posted by atiya on 30/10/2015 at 10:51 شام

    mohjtram barri safaai se aap ne keh diy ake qabar par ja kar chilla kartay hain aur sajda kartay hain waghera wagher main aap ko jahil aur bht bara jhoota kahu gi yeh baat jo teera nuqta nazar bana kar aap ne paish ki hai jhootay insan yehi nuqta nazar paehlay walo ka hai is raat ibadat kejiye laud speakers ki mumaniaat tou wese bhi hai jab k aas paas insano ko pareshani ho tou ,,is qisam ki batain kar ke sasti shoharat hasil karne ki koshiosh na kejiye ,,koi pehlay maktaba fikar wala shakhs laud spekar main tung karne ka nahi kehta koi aisa nahi kehta k ja kar qbro par sajda kiya jaay ,,haan qaboor par hazri di jati hain apne marhoomeen ki qabro par ja kar fatiha parhi jaati hai aur bus ,,,,

    جواب دیجیے

  2. Posted by سنیہ on 03/06/2015 at 12:38 صبح

    بهائی کیا ایسا نہیں کہ رسول اللہ نے عبادت کی کسی ایسی قسم کو مخصوص کرنے اور روایت بنانے سے منع فرمایا جو آپ کا طریقہ آپ کے اصحاب کا عمل نا ہو یا اس پر آپ کی تائید نا ہو

    جواب دیجیے

    • السلام علیکم بہن۔ جی اگر کوئی شخص اس رات کو بلا کسی دلیل کےعبادت کے لئے
      مخصوص کرے اور کرانے پر زور دے تو واقعی اس پر اس بات کا اطلاق ہوگا جو آپ نے بیان کی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ شب بارات کو جولگ عبادت کے لئے خاص سمجھتے اور نجات کا ذریعہ مانتے ہیں وہ اپنی رائے کی وجہ سے ایسا نہیں کرتے بلکہ ان کی بنیاد ضعیف احادیث پر ہے۔ اور امت میں علما کی ایک بڑی تعداد ضعیف احادیث کو قابل حجت مانتی ہے۔ اس لئے یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ ایک شخص اپنی مرضی سے کوئی رات مخصوص کررہا ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اسے رسول اللہ کا عمل ہی سمجھ رہا ہے۔ تو یہاں اس کے علم کی غلطی واضح کرنے کی ضرورت ہے، اس پر بدعت کا فتوی لگانے کا ہمیں کوئی اختیار نہیں۔ جزا ک اللہ۔

      جواب دیجیے

  3. Posted by گمنام on 03/06/2015 at 12:35 صبح

    کیا ایسا نہیں ہے بهائی کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دین میں عبادت کی کسی ایسی قسم کو بهی خاص کرنے سے منع کیا یعنی جو مستقل روایت بن جاے اور وہ آپ کا طریقہ یا حکم نا ہو یا آپ کی طرف سے اس کی کوئی تائید نا کی گئی ہو.

    جواب دیجیے

    • السلام علیکم ۔ جی اگر کوئی شخص اس رات کو بلا کسی دلیل کےعبادت کے لئے
      مخصوص کرے اور کرانے پر زور دے تو واقعی اس پر اس بات کا اطلاق ہوگا جو آپ نے بیان کی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ شب بارات کو جولگ عبادت کے لئے خاص سمجھتے اور نجات کا ذریعہ مانتے ہیں وہ اپنی رائے کی وجہ سے ایسا نہیں کرتے بلکہ ان کی بنیاد ضعیف احادیث پر ہے۔ اور امت میں علما کی ایک بڑی تعداد ضعیف احادیث کو قابل حجت مانتی ہے۔ اس لئے یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ ایک شخص اپنی مرضی سے کوئی رات مخصوص کررہا ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اسے رسول اللہ کا عمل ہی سمجھ رہا ہے۔ تو یہاں اس کے علم کی غلطی واضح کرنے کی ضرورت ہے، اس پر بدعت کا فتوی لگانے کا ہمیں کوئی اختیار نہیں۔ جزا ک اللہ۔

      جواب دیجیے

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s