محبت –کیا ، کیوں ، کیسے؟

محبت –کیا ، کیوں ، کیسے؟
پروفیسر محمد عقیل
سوشیالوجی کی کلاس میں آج کافی ہل چل تھی۔اس ہلچل کی وجہ آج کا موضوع تھا یعنی ” محبت کیا ، کیوں اور کیسے ہوتی ہے۔” پروفیسر کلاس میں داخل ہوئے تو دھماچوکڑی مچانے والے لڑکے لڑکیاں اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے۔
پروفیسر ادریس نےاپنا موٹا چشمہ سنبھالا اور کلاس کا آغاز کیا:

” ہاں تو میاں فراز ! یہ بتائیے کہ محبت کیوں ہوتی ہے؟”
فراز میاں بغلیں جھانکنے لگے۔ انہوں سے سوچا ہی نہ تھا کہ آتے ہی یہ حساس سوال ان پر داغ دیا جائے گا۔
پروفیسر نے ان کی بےچارگی کو بھانپتے ہوئے پینترا بدلا اور بولے:
” اچھا یہ بتادیجے کہ محبت کس سے ہوتی ہے؟”
اب فراز میا ں کی جان میں جان آئی اور وہ گویا ہوئے:
“جی سب سے زیادہ محبت تو ماں سے ہوتی ہے۔ پھر باپ ، اولاد ، بھائی ،بہن اور دیگر لوگوں سے ہوتی ہے۔”
” ہممم”۔ پروفیسر سے ایک تائید کی۔ اچانک پروفیسر کی نظر ایک لڑکی پر پڑی جو اپنے ساتھ بیٹھے لڑکے کو ٹانگ مار کر تنگ کررہی تھی اور لڑکا بےزاری کا اظہار کررہا تھا۔ پروفیسر ان کو دیکھ کر گویا ہوئے:
” محترمہ ! آپ ان کو ایک دفعہ ہی بھرپور لات ہی ماردیں تاکہ قصہ تمام ہو اور آپ پڑھائی کی جانب راغب ہوسکیں۔”
کلاس میں قہقہے گونجنے لگے اور لڑکی بری طرح جھینپ گئی۔
” تو جناب ! جیسا کہ فراز نے بتایا کہ محبت کئی لوگوں سے ہوتی ہے ۔لیکن وہ محبت جو ایک مردو عورت کے درمیان ہوتی ہے ، ہم آج اس پر بات کررہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ اس محبت کے کیا مراحل ہیں اور یہ محبت کیوں ہوتی ہے؟ آخرایسی کیا خاص بات ہے کہ یہ لوگوں کو دیوانہ اور مجنوں بنادیتی ہے، کیا مسئلہ ہے کہ راتوں کو نیند نہیں آتی، انسان دھوپ میں کھڑے کھڑے محبوب کا منتظر رہتا ہے ۔ ” پروفیسر نے سوالیہ انداز میں طلبا کو دیکھا۔
“سب سے پہلا سوال کہ محبت کیسے ہوتی ہے؟ سادہ سی بات یہ ہے کہ یہ جنس مخالف میں کشش قدرت نے رکھی ہے تاکہ انسانی نسل کا تسلسل جاری رہے۔ لیکن ایک مرد یا عورت ہر مخالف جنس کے فرد سے جنسی طور پر متاثر نہیں ہوتا۔ ہمیں محبوب کی کوئی خاص صفت پسند آجاتی ہے جیسے اس کا چہرہ، بات چیت کا انداز، اس کا ہمدردانہ رویہ یا کچھ اور۔ یہ پہلا اسٹیج متاثر ہونے کا ہوتا ہے۔ اس کے بعد جب ہمارا اس شخصیت کے ساتھ انٹرایکشن بڑھتا ہے تو یہ متاثر ہونے کا عمل بار بار ہوتا رہتا ہے۔ اس کی بنا پر ہمارا دماغ کچھ ہارمونز خارج کرتا ہے۔ جس سے ہمیں اپنے محبوب میں بے انتہا کشش محسوس ہوتی ہے۔ اس کشش میں ایک بے چینی ، اضطراب ، پریشانی لیکن ایک میٹھا سااحسا س ہوتا ہے۔ اس کی بنا پر انسان اس محبوب کو حاصل کرنے کے لئے جان کی بازی لگادیتا ہے۔”
پروفیسر صاحب نے اپنا لمبا خطبہ ختم کیا اور پانی پینے لگ گئے۔ کلاس کے لڑکے اور لڑکیاں دلچسپی سے لیکچر سن رہے تھے ۔
” باقی باتیں بجائے اس کے میں لیکچر میں بتاؤں ، آپ لوگ سوالات کرلیں تو زیادہ بہتر ہے۔”
پروفیسر نے کہا۔
” سر ! ایسا کیوں ہوتا ہے کہ محبوب کو دیکھ کر پسینے آنے لگ جاتے ہیں، حلق خشک ہوجاتا ہے اور دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے ۔”
” بھئی سلمان میاں! آپ کی تو اس وقت بھی یہی حالت ہے۔ بہرحال ! اس کی وجہ ایڈرنالین( Adrenaline ) ہارمون کا خون میں اضافہ ہے اور یہ محبت کے ابتدائی دنوں میں ہوتا ہے۔ جب ایک شخص اپنے محبوب کو دیکھتا ہے تو اس کے چھننے ، نہ ملنے یا ٹھکرائے جانے کا خوف ہوتا ہے۔ اس خوف اور رسک کی بنا پر ایڈرنالین خون میں بڑھ جاتا ہے جس کی زیادتی کی بنا پر ہارٹ بیٹ تیز ہوجاتی، پسینہ آتا اور حلق خشک ہوجاتا ہے۔”
” سر کہتے ہیں محبت ایک نشہ ہے۔”
” درست کہتے ہیں۔ محبت کرنے والوں کے دماغ سے ایک ہارمون خارج ہوتا ہے جس کا نام ہے سیروٹونین (Serotonin)۔ اس کی بنا پر محبت کرنے والا شخص اپنے محبوب کے خیالوں ہی میں کھویا رہتا ہے۔ اسے اپنے محبوب کی بری بات بھی اچھی لگتی، برائی میں اچھا ئی نطر آتی اور وہ ایک عام سے شخص کو محبوب بنا کر اسے پوجنے لگ جاتا ہے۔ وہ کالی لیلی کو بھی دنیا کی حسین ترین عورت سمجھتا ہے۔ اسی کے ساتھ ڈوپامین (Dopamine) کا اثر دماغ پر وہی ہوتا ہے جو کوکین کے نشے کا ہوتا ہے۔لیکن جب انسان اس کیفیت سے باہر نکلتا ہے تو یہ نشہ ہرن ہوجاتا اور وہی محبوب اسے بعض اوقات دو کوڑی کا لگنے لگ جاتا ہے۔ ”
” سر ! سنا ہے محبت اندھی ہوتی ہے۔” ایک لڑکی نے پوچھا۔
” جی محترمہ محبت اندھی ہی نہیں بلکہ گونگی بہری بھی ہوتی ہے۔ نہ کچھ نظر آتا ہے نہ سنا جاتا ہے نہ بولا جاتا ہے۔ بس بیٹھے رہیں تصور جاناں کئے ہوئے۔ لیکن جب محبوب مل جاتا ہے تو سب کچھ نظر آنے لگتا ہے۔ پھر اس میں وہ کیڑے نظر آتے ہیں جو محبت کے اندھے پن کی بنا پر اوجھل ہوگئے تھے۔ ”
” سر ! محبوب کے مل جانے کے بعد اس کی قدر کیوں کم ہونے لگتی ہے۔”
” دیکھیں اس کی دو جوہات ہیں۔ جب تک محبوب حاصل نہیں ہوتا تو عاشق اس کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے اس کا بنیادی سبب انا ہوتی ہے۔ وہ خود کو منوانا چاہتا ہے ، وہ محبوب کو فتح کرنا چاہتا ہے ، محبوب کو حاصل نہ کرنے میں اس کی شکست ہوتی ہے۔ لیکن جب وہ فتح حاصل کرلیتا ہے تو یہ چیلنج ختم ہوجاتا ہے۔ اب اس کی انا کی تسکین ہوگئی اور فتح کا یہ نشہ بھی جلد اتر جاتا ہے۔
ایک اور وجہ تقلیل فائدہ کا قانون ہے۔ اس کے تحت ہم کسی چیز کو جتنا زیادہ استعمال کرتے ہیں ، اس سے حاصل ہونے والا فائدہ کم ہوتا چلا جاتا ہے۔یعنی جو چیز انسان کو مل جاتی ہے اس کی قدر کم ہوجاتی ہے۔ یہی معاملہ محبوب کا بھی ہے۔ جب محبوب حاصل ہوجاتا ہے اور اس سے انٹرایکشن بڑھنے لگتا ہے تو اس قانون کے اطلاق کے بعد محبت کا نشہ اترنا لگتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ محبوبہ جب بیوی بنتی ہے تو کچھ لوگوں کی نظر میں یہ حور سے ڈائن بننے کا عمل ہوتا ہے۔”
کلاس میں قہقہے لگنے لگے۔
” سر ! واقعی، محبوبہ جب بیوی بنتی ہے تو جذبات ٹھنڈے ہوجاتے ہیں اور کویل کے کوکنے کی آواز اب زہر معلوم ہوتی ہے۔ اس کا کیا علاج ہے سر؟” نیاز نے سوال کیا۔
” بھئی نیاز! تمہاری شادی اتنی پرانی تو نہیں ۔ لگتا ہے تم پر تقلیل کا قانون کچھ جلدی ہی اپلائی ہوگیا۔ خیر۔ دیکھو ہمیں نئے حالات میں خود کو ایڈجسٹ کرنا چاہئے۔ نکاح سے پہلے کی محبت کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ محبوب کو پالیا جائے۔ چنانچہ ہارمونز اور نفسیات دونوں اسی مقصد کی جانب لے کر جاتی ہیں۔ اسی لئے تعلقات میں ولولہ، گرمجوشی، جذباتیت ، پانے کی شدید خواہش سب کچھ ہوتا ہے۔ لیکن نکاح کے بعد مقاصد بدل جاتے ہیں۔ اور اب مقصد ہوتا ہے خاندان کو تشکیل سے کر انسانی بقا کو یقینی بنانا۔ اب جوش و ولولے کی نہیں ہوش ، دھیمے پن اور ٹہراؤ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس تعلق میں اب محبت کی شکل جوش و ولولے سے تبدیل ہو کر گہری انسیت اور قربانی کے جذبے میں ڈھل جاتی ہے۔ جو لوگ اس تبدیلی کو سمجھ نہیں پاتے وہ اپنے محبوب سے نکاح کے بعد بھی اسی ولولے کی توقع رکھتے ہیں اور جب انہیں وہ نہیں ملتا تو حور ڈائن اور شوہر لنگور لگنے لگتا ہے۔ پھر فلسفی اس قسم کے مقولے لکھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ میاں اور بیوی کا اظہار عشق کرنا ایسا ہی ہے جیسے شکاریوں کا پالتو بکری کو شکار کرنا۔”
ابھی کھی کھی کھی کلاس میں جاری ہی تھی کہ پروفیسر نے اچانک فرہاد کی جانب اشارہ کرکے کہا:
” ہاں بھئی فرہاد! کیا تمہیں ان باتوں سے اختلاف ہے؟”
” جی سر! آپ تو یہ ساری باتیں اس طرح کررہے ہیں جیسے یہ سارا کام کیمکلز کا ہے اور انسان مجبور محض ہے یعنی وہ کچھ نہیں کرسکتا؟”
” بالکل درست اعتراض ہے تمہارا ! اور یہ اعتراض فرہاد ہی کرسکتا تھا کیونکہ وہی نہر کھودتے کھودتے تنگ آچکااور اس مصیبت سے نجات پانا چاہتا ہے۔”
ایک مرتبہ پھر مسکراہٹیں کلاس میں بکھر گئیں۔ لیکن شاید فرہاد کو یہ سب برا لگا ۔ اس نے کھڑے ہوکر کہا:
” سر ! کیا آپ نے کبھی محبت کی ہے؟”
کلاس میں سناٹا چھاگیا کیونکہ کوئی اس قسم کا بلنٹ سوال نہیں کرسکتا تھا۔ پروفیسر نے کھنکار کر گلا صاف کیا اور بولے۔
” بھئی ہم تو مشتاق احمد یوسفی کے اس مقولے کو جانتے ہیں کہ بس محبت کا سچا ہونا شرط ہے،البتہ وہ ایک سے زائد بار بھی ہوسکتی ہے۔ ہاہاہا ۔”
پروفیسر نے قہقہے کے ذریعے اپنی جھینپ مٹائی اور گویا ہوئے۔
” تو میرے عزیز فرزندو! فرہاد نے درست بات کہی تھی کہ اس طرح تو یوں محسوس ہورہا ہے کہ انسان مجبور محض ہے۔ نہیں ایسا نہیں ہے۔ دراصل ابھی تو ہم نے محبت کی سائنسی و نفسیاتی وجوہات کو سمجھا کہ یہ پراسیس کس طرح کام کرتا ہے۔ اب ہم اس پر بات کریں گے کہ انسان اس پراسیس کو کس طرح کنٹرول کرسکتا ہے۔
مانا کہ ہماری باڈی میں کیمیائی تبدیلیوں کی بنا پر یہ سب کچھ ہوتا ہے لیکن اس کی بنا پر وہ مجبور نہیں۔ یہ کیمکل خود بخود خارج ہوکر ہمارے عمل کو کنٹرول نہیں کرتے ۔ بلکہ ہمارے کسی عمل یا سوچ کی وجہ سے ان کا اخراج ہوتا ہے۔ ہم بہت حد تک اپنی محبت اور دیوانہ پن کے ذمے دار ہوتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو دنیاوی عدالتیں محبت کے نام پر ہونے والے تمام جرائم کو ایک کیمکل ری ایکشن یا پاگل پن سمجھ کر قابل معافی قرار دے دیتیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔اگر ہم اصل حقیقت جان جائیں تو محبت کے نام پر پیدا ہونے والے احساسات کو قابو کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔”
” سر ! کیا محبت کرنا جرم ہے؟” ایک لڑکی نے سوال کیا۔
” بہت خوب محترمہ ! ویسےیہ علمی سے زیادہ فلمی سوال ہے۔ ظاہر ہے کسی لڑکی یا لڑکے کا ایک دوسرے کو نکاح کی غرض سے چاہنا اپنی اصل میں تو جرم نہیں۔ البتہ کچھ حالات و قرائن اس عمل کو جرم بھی بناسکتے ہیں۔ جیسے کوئی چودھری صاحب کی بیگم ہی کو چاہنے لگ جائے یا سوسائٹی کے جائز مسلمہ اصولوں سے بغاوت پر اترآئے ۔اسی طرح لڑکے اور لڑکی کا نکاح کے مقصد کے بغیر ایک دوسرے کو چاہنا تو کسی طرح بھی قابل قبول نہیں۔ ہاں پلاٹونک محبت کی بات دوسری ہے لیکن ایسی محبت شاذ و نادر ہی موجود ہوتی ہے اور کم از کم ینگ ایج میں تو بالکل نہیں ہوتی۔ ”
” سر! محبت کرنے والوں کو کن اخلاقی حدود کا پابند ہونا چاہئے۔”
” ہاہاہا۔ دیکھیں ، محبت تو ویسے ہی مادر پدر آزاد ہوتی ہے تو اخلاقی حدود چہ معنی دارد! لیکن بہر حال سوال بہت اچھا ہے۔ محبت کے لئے سو نفرتیں مول لینا، ماں باپ کو ایذا پہنچانا، چوری چھپے آشنائیاں کرنا،اپنے قریبی اعزا کوناروا تکلیف دینا اور انکی عزت داؤ پر لگانا، گھر سے بھاگ جانا،گھنٹوں فون اور نیٹ پر چیٹ کرکے فرائض سے غافل رہنا وغیرہ وہ عمومی گناہ ہیں جو سرزد ہوجاتے ہیں۔ ان سے اجتناب کرنا چاہئے۔”
” سر کہتے ہیں محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے اور اس کی کوئی اخلاقیات نہیں ہوتی۔”
” کون کہتا ہے یہ؟ جو یہ کہتا ہے اگراس کی بیٹی یا بیوی سے عشق لڑا کر سب کچھ جائز کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ خود ہی اس بیان سے دستربردار ہوکر اس کے خلاف کھڑا ہوجائے گا۔ دراصل انسان تمام برے ضابطے اپنے غلط عمل کی توجیہہ کرنے کے لئے بناتا ہے لیکن جب بازی پلٹتی ہے تو سب بھول جاتا ہے۔”
” سر! ہمیں کیسے پتا چلے گا کہ محبت دائمی ہے یا وقتی؟”
” اس کا سادہ جواب تو یہ ہے آزمائش شرط ہے کیونکہ آج تک کوئی ایسا آلہ ایجاد نہیں ہوا جو اس بات کا پتا دے سکے۔ لیکن عام طور پر ٹین ایجز میں کی گئی محبتیں وقتی ابال اور فلموں سے متاثر ہوکر ہوتی ہیں۔کم عمری میں انسان ناتجربہ کار ہوتا ہے اور اسے نتائج کا علم نہیں ہوتا۔ اسی لئے معاشرے کو تنبیہ کو ایک ولن کے طور پر لیتا اور اس کی نصیحت کو بے کار بات سمجھتا ہے۔ البتہ سچی محبت کی ایک پہچان یہ ہے کہ آپ اپنے محبوب کی خوشی میں خوش ہوں حتی کہ اگر وہ آپ سے قطع تعلق کرنے میں خوش ہے تو آپ اس کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے پیچھے ہٹ جائیں۔ یہیں علم ہوگا کہ اپ محبت اپنی انا کی تسکین کے لئے نہیں کررہے۔ ”
” سر! جیسا کہ شاعر نے کہا کہ عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب۔۔۔۔۔۔۔۔ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بجھے۔ تو یہ بتائیے کہ اگر ہمارا محبوب سے نکاح کرنا ممکن یا موزوں نہیں تو پھر اس کے خیالوں پر کس طرح قابو کیا جائے ؟”
“دیکھیں! ہماری عقل بادشاہ ہے جو سب کو قابو میں رکھ سکتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی ہم اس بادشاہ کو جذبات کا غلام بنالیتے ہیں۔ اگر محبت میں جذبات بے قابو ہوجائیں تو کئی کام کرنے ہونگے۔ ایک تو کیمکل کے اخراج کو قابو کرنا ہوگا ۔ اس کے لئے سب سے پہلے محبوب سے رابطہ ختم یا کم سے کم کردیں۔ملنا جلنا، فون کالز ، چیٹ ، نیٹ پر رابطہ ختم کردیں ۔ جتنا آپ رابطہ کریں گے اتنا زیادہ آپ اس کے پاس لپکیں گے۔”
” لیکن سر یہی تو مشکل کام ہے۔ دل مجبور ہوجاتا ہے۔”
” نہیں ایسا نہیں بلکہ یہ خام خیالی ہے۔ دل مجبور نہیں ہوتا بلکہ ہم خود ہی ایسا کرنے پر کنونس نہیں ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ ہم تہیہ کرلیں تو بس سب کچھ ہوسکتا ہے۔”
” ٹھیک ہے سر! اچھا محبوب سے رابطہ ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اور کیا کیا جائے؟”
” اور یہ کیا جائے کہ تنہا نہ رہا جائے۔ کوئی فزیکل گیمز کھیلے جائیں، لوگوں سے ملا جلا جائے، باہر گھوما جائے کیونکہ یہ ہمارے کیمیائی عدم توازن کو درست کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انتظار کریں۔ ہر مرض کے ختم ہونے میں وقت لگتا ہے اور مرض محبت میں زیادہ وقت لگتا ہے۔”
” تو جناب ! آج کا محبت بھرا لیکچر تمام ہوا۔ اپ میں سے جو لوگ محبت کرتے ہیں ان کے لئے دعا ہے کہ انہیں جلد عقل آجائے ۔ عقل آنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ خود سمجھا جائے اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ شادی ہوجائے۔ اللہ آپ کو آسان اس راستے پر چلائے جو آپ کے لئے بہتر ہو۔”
پروفیسر محمد عقیل

One response to this post.

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s