انٹرایکٹو فہم القرآن کورس۔ چھٹے سیشن کا خلاصہ


انٹرایکٹو فہم القرآن کورس ۔چھٹا سیشن
خلاصہ
سورہ البقرہ آیت نمبر 34 تا 39

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
فہم القرآن کورس کے چھٹے سیشن کا خلاصہ حاضر خدمت ہے۔لیکن اس سیشن میں آپ لوگوں کی ڈسکشن بلامبالغہ ایک علمی اور بہترین قسم کی ڈسکشن تھی۔ یہ

قرآنی مطالعے کی ایک زبردست تفہیم تھی جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ تمام ساتھیوں نے حصہ بقد جثہ اپنا کام کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نوے فی صد سے زائد معاملات میں اتفاق نظر آیا ۔ بس چند ایک مقامات پر اختلاف ہوا ہے۔
آیات یہ ہیں:
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِكَةِ ٱسْجُدُواْ لِآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَٱسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلْكَافِرِينَ
وَقُلْنَا يَاآدَمُ ٱسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ ٱلْجَنَّةَ وَكُلاَ مِنْهَا رَغَداً حَيْثُ شِئْتُمَا وَلاَ تَقْرَبَا هَـٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلْظَّالِمِينَ
فَأَزَلَّهُمَا ٱلشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ وَقُلْنَا ٱهْبِطُواْ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِى ٱلأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ
فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ
قُلْنَا ٱهْبِطُواْ مِنْهَا جَمِيعاً فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّى هُدًى فَمَن تَبِعَ هُدَاى فَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ۔وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِآيَاتِنَآ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ ٱلنَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ۔
ترجمہ (فتح محمد جالھندری)
اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو وہ سجدے میں گر پڑے مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آ کر کافر بن گیا (۳۴) اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چا ہو بے روک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے (۳۵) پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس میں تھے ، اس سے ان کو نکلوا دیا۔ تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں سے) اتر جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کر دیا گیا) ہے (۳۶) پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے (اور معافی مانگی) تو اس نے ان کا قصور معاف کر دیا بے شک وہ معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے (۳۷) ہم نے فرمایا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (اس کی پیروی کرنا کہ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ وہ غمناک ہوں گے (۳۸) اور جنہوں نے (اس کو) قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، وہ دوزخ میں جانے والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے (۳۹)
سوالات:
۱۔ اللہ نے فرشتوں کو سجدے کا حکم کیوں دیا؟
جواب : اللہ نے انسان کو اس دنیا میں آزمائش کے لئے بھیجنا تھا اور اسے ارادہ واختیار کے ساتھ بھیجنا تھا۔ خلافت کا بھی یہی مفہوم ہے کہ ایک صاحب اقتدار ہستی ۔ جیسا ریحان بھائی کے اقتباس سے ہم نے پڑھا کہ اس کائنات میں ہمارے علم کے مطابق تین طرح کی مخلوقات ہیں۔ ایک وہ جو مجبور محض ہیں جیسے جمادات و نباتات، دوسرے وہ جو اختیار رکھتے ہیں کہ خیر اور شر میں سے کسی کا انتخاب کریں جیسے جنات ، فرشتے اور انسان البتہ فرشتے اگر کچھ غلط کریں تو اس کی سزا انہیں فورا مل جاتی ہے ۔ تیسرے وہ جن کے اختیار کا امتحان بھی ہورہا ہے جیسے انسان و جنات، ۔ چونکہ فرشتے اور جنات اختیار و ارادے کے حوالے سے انسان کے برابر تھے اور عین ممکن تھا کہ فرشتے اور جنات انسان کے آزادانہ اختیار میں مداخلت کرتے اور اس کی زمین پر بادشاہت کو کسی نہ کسی درجے میں چیلنج کرتے۔ تو ان دونوں مخلوقات کو سجدے کا حکم دے دیا گیا ۔ یہ سجدہ اس بات کی علامت تھی کہ فرشتے اور جنات انسان کے اقتدار میں روڑے نہیں اٹکائیں گے ۔
ایک اور ضمنی بحث یہ ہے کہ آیا یہ سجدہ رکوع کی شکل کا تھا یا نہیں۔ میری دانست میں اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ سجدہ خواہ رکوع کی شکل میں ہو یا ہمارے سجدے کی شکل میں، چونکہ یہ خدا کے حکم سے تھا اس لئے اسے شرک سے تشبیہ نہیں دی جاسکتی۔
۲۔ شیطان نے سجدہ کیوں نہیں کیا؟
انا پرستی کی بنا پر۔ جس کا اظہار ضد، ہٹ دھرمی،تعصب، الزام تراشی، کٹ حجتی ، نفرت، حسد، غصہ اور انتقام کی صورت میں سامنے آیا۔

۳۔ اس سے پہلے کی ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بھیجنے والا ہوں لیکن آیت نمبر ۳۵ میں ہے کہ اللہ نے آدم و حوا کو جنت میں بسایا ۔ تو کیا یہ آیات میں تعارض یعنی اختلاف ہے؟ نیز اگر اللہ نے انسان کو دنیا ہی میں بھیجنا تھا تو جنت میں کیوں بسایا؟
جواب: جی آپ سب نے بالکل درست فرمایا۔ اس جنت میں ڈیمانسٹریشن کے ذریعے یہ بتایا گیا :
۴۔ جس درخت کا پھل کھانے سے منع کیا گیا تھا کیا یہ جاننا اہم ہے کہ وہ کون سا درخت تھا؟
جی جاننا تو بے شک ضرور نہیں لیکن مجھے حفیظ بھائی کا جواب پسند آیا کہ تجسس تو ہوتا ہی ہے۔ ہاں اگر اس کے اشارات قرآن میں نہ ملتے ہوں تو اس کے پیچھے لگنا متشابہات کو ٹٹولنے کے مترادف ہے۔ البتہ اگر قرآئن سے کچھ علم ہوتا ہو تو جاننے میں کوئی حرج نہیں۔ بہر حال یہ ایک الگ موضوع ہے۔
۵۔ شیطان نے انسان کی کس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ورغلایا؟
انسان کی اصل کمزوری جو سامنے آئی وہ نسیان یعنی بھول جانے کا مرض ہے۔ وہ خدا کی یاد اور خدا کو بھلادیتا ہے۔ یہی وجہ ہے جونہی درخت کا پھل کھانے کے بعد انکی شرمگاہیں کھل گئیں تو اللہ نے انہیں اسی بات کی جانب اشارہ کیا۔ سورہ اعراف میں ہے:
” اس وقت ان کے پروردگار نے انہیں پکارا : ”کیا میں نے تمہیں اس درخت سے روکا نہ تھا اور یہ نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے؟”
یہاں دیکھیں تو اصل غلطی خدا کو ، اس کے حکم اور اس شیطان کی دشمنی کو بھول جانے کی تھی اور اسی غلطی کی جانب اللہ نے اشارہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے ذکر یعنی اس کی یاد کو بہت بڑا عمل قرار دیا ہے۔ اس بھول کے بعد پھر انسان جھانسے میں آسانی سے آجاتا ہے۔ لیکن اگر خدا کو کوئی شخص تصور میں سامنے دیکھ رہا ہو تو گناہ کا ظہور ممکن ہی نہیں۔
۶۔ اس پورے واقعے سے انسان یعنی ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
اس پورے واقعے کو دو طریقوں سے لیا جاسکتا ہے۔ایک تو یہ کہ اس سورۃ کے اصل مخاطب یہود تھے۔ چنانچہ انہیں اس واقعے کی جانب اشارہ کرکے بتایا گیا کہ تم بھی حق کو جانتے بوجھتے انکار کررہے ہو اور اس کی واحد وجہ بنی اسرائل کی بجائے بنی اسماعیل میں نبوت کا ظہور ہے۔ تم یہود انا پرستی کے اسی مرض میں مبتلا ہو جس میں شیطان تھا۔ تم میں وہی تکبر، تعصب، حسد، بغض، کینہ ، انتقام موجود ہے جو شیطان میں تھا۔ تو تم سن لو کہ جو انجام شیطان کا ہوا کہ وہ راندہ درگاہ ہوگیا وہی حشر تمہار بھی ہوگا۔ چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ ان یہود کو بالآخر جزیرہ نما عرب سے ذلیل و رسوا ہوکر نکلنا پڑا۔
اس میں دوسراپیغام انسان کے لئے بحیثیت مجموعی ہے۔یہ واقعہ کئی اور جگہ بیان ہوا ہے۔ ان سب مقامات کو ملا لیں تو یہ پیغامات ملتے ہیں۔
آزمائش کا نقشہ
۱۔ اصل امتحان خدا کی اطاعت کا ہے ۔ جس بات سے اللہ منع فرمادیں ان سے رکا جائے اور جن کو کرنے کا حکم دیں انہیں کیا جائے۔
۲۔ اللہ کی اطاعت کرنے میں سب سے بڑا دشمن شیطان ہوگا ۔
۳۔ انسان کا نفس یعنی شخصیت بااختیار ہے اور شیطان کو انسان پر کوئی اختیار نہیں البتہ یہ صرف وسوسے ڈال کر انسان کو ورغلا ئے گا ۔
۴۔اللہ کی نافرمانی کی بنیادی وجہ اللہ کو بھول جانا ہے جس کی بنا پر انسان سے گناہ سرزد ہوجایا کرے گا
۵۔ نافرمانی کے بعد مایوسی کی ضرورت نہیں اور اگر انسان فورا توبہ کرکے رجوع کرلے تو اللہ اس کے گناہ کو معاف کردینگے۔
۶۔ انسان اس دنیا میں ایک محدود مدت کے لئے زندگی بسر کرے گا اور موت کے بعد اسے اٹھالیا جائے گا۔
۷۔ ایک مدت کے بعد یہ دنیا ختم کردی جائے گی اور انسانوں کا حساب کتاب ہوگا۔
۸۔ نیک لوگوں کو جنت اور برے لوگوں کو جہنم میں بھیج دیا جائے گا۔
انسان کی کمزوریاں اور شیطان کی دشمنی
اس کے علاوہ اس واقعے سے ان انسانی کمزوریوں کی جانب اشارہ کردیا گیا جو انسان کی ناکامی کا سبب بن سکتی ہیں:
۱۔ انا پرستی شیطان کا وصف ہے جبکہ جھک جانا فرشتوں کی صفت۔
۲۔ غلطی ہوجانے پر غلطی کی توجیہہ پیش کرنا، حیل وحجت کرنا تکبر کرنا شیطان کی صفت اور راندہ درگاہ ہونے کی علامت ہے خواہ وہ کتنا ہی متقی کیوں نہ ہو۔ جبکہ خطا ہوجانے پر پلٹ آنا، رجوع کرنا، گڑگڑانا اور مان لینا انسان کی صفت ہے جو اسے کھوئی ہوئی جنت واپس دلاسکتی ہے۔
۳۔ انسان کا کی ایک اہم کمزوری نسیان یعنی بھول جانا ہے۔
۴۔ اس دنیا میں انسان کو ایک اہم آزمائش جنس کے کے پہلو سے ہوگی اور شیطان اور اس کے چیلے اسی مقام سے دراندازی کریں گے۔ اس کا توڑ ظاہری لباس سے زیادہ تقوی کا لباس ہے پہننا ہے۔
۵۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ وہ ہر ہر طریقے سے نقب لگائے گا۔ اس کا کاگر حربہ خدا کی توحید کے تصور کو بگاڑنا ہوگا۔ اس کے علاوہ وہ ہر ہر جگہ سے نقب لگائے گا۔ وہ انسانی تہذیب ، تمدن ، آرٹ، کلچر، زبان، محاورے، تصاویر، وڈیو ، آڈیو، انٹرنیٹ ، لباس، فیشن، میوزک، شاعری، مذہب غرض ہر جگہ سے آئے گا جہاں جہاں انسان ہوگا۔اور اس کا واحد مقصد انسان کو گمراہ کرنا ہوگا۔
اس جنگ کو میں نے مختصرا اس لنک پر ممثل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگروقت ملے تو پڑھ لیجے گا۔ آپ سب کے تعاون کا بہت شکریہ:
http://goo.gl/Zgwb3M
پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s