انٹرایکٹو فہم القرآن کورس ساتویں سیشن کا خلاصہ


انٹرایکٹو فہم القرآن کورس ۔خلاصہ
ساتواں سیشن
سورہ البقرہ آیت نمبر 40 تا 46
محمد عقیل
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
فہم القرآن کورس کے ساتویں سیشن کا خلاصہ حاضر خدمت ہے۔ سب بھائیوں اور بہنو ں نے بہت عمدہ طریقے سے جوابات دیئے اور کم و بیش سب کی رائے یکساں

تھی اور کوئی اختلافی معاملہ پیدا نہیں ہوا۔ آیات کا ترجمہ یہ ہے:
ترجمہ (فتح محمد جالھندری)
اے بنی اسرائل! میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے تھے اور اس اقرار کو پورا کرو جو تم نے مجھ سے کیا تھا۔ میں اس اقرار کو پورا کروں گا جو میں نے تم سے کیا تھا اور مجھی سے ڈرتے رہو (۴۰) اور جو کتاب میں نے (اپنے رسول محمدﷺ پر) نازل کی ہے جو تمہاری کتاب تورات کو سچا کہتی ہے ، اس پر ایمان لاؤ اور اس سے منکرِ اول نہ بنو، اور میری آیتوں کو تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) کے عوض نہ بیچو، اور مجھی سے خوف رکھو (۴۱) اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ، اور سچی بات کو جان بوجھ کر نہ چھپاؤ (۴۲) اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰۃ دیا کرو اور (خدا کے آگے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو (۴۳) (یہ) کیا (عقل کی بات ہے کہ) تم لوگوں کو نیکی کرنے کو کہتے ہو اور اپنے آپ کو فراموش کئے دیتے ہو، حالانکہ تم کتاب (خدا) بھی پڑھتے ہو۔ کیا تم سمجھتے نہیں ؟ (۴۴) اور (رنج و تکلیف میں) صبر اور نماز سے مد د لیا کرو اور بے شک یہ مشکل ہے ، مگر ان لوگوں پر (گراں نہیں) جو عجز کرنے والے ہیں (۴۵) اور جو یقین کئے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں (۴۶)
پس منظر
ان آیات مبارکہ کا بغور جائزہ لیا جائے تو بہت سے نئے دریچے کھلتے ہیں۔ جیسا کہ ہم بارہا یہ بات دہرا چکے ہیں کہ اس سورۃ کے اصل مخاطبین بنی اسرائل ہی ہیں۔ ان آیات میں بنی اسرائل کو ان کے وعدوں، ان کو دی جانے والی نعمتو ں اور اس کے جواب میں بنی اسرائل کی کارستانیوں کی ایک تفصیل بیان کی جارہی ہے یہ تفصیل گویا بنی اسرائل پر ایک چارج شیٹ ہے ۔ بنی اسرائل کی ماضی میں وہی حیثیت تھی جو اس وقت امت مسلہ کی ہے۔ یعنی بنی اسرائل کو دیگر اقوام پر یہ فضیلت تھی کہ وہ حاملین کتاب اور پیغمبر تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ذمہ داری بھی تھی کہ وہ لوگوں کو اپنے علم اور کردار سے دعوت حق دیں۔ لیکن وہ اپنی اس ذمہ داری کو نبھانے میں ناکام ہوگئے۔ چنانچہ اب وہ وقت آگیا تھا کہ انہیں ان کے منصب سے معزول کرکے ایک نئی امت کو یہ ذمہ داری سونپی جائے۔ چونکہ بنی اسرائل کی تاریخ بہت پرانی تھی اس لئے چارج شیٹ میں ماضی کے تمام جرائم کی تفصیل بیان کردی گئی۔ یہ چارج شیٹ کچھ استثنی کے ساتھ آیت نمبر ۱۲۳ تک جاری رہتی ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائل کو بتادیا کہ تم ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہونے پر فخر کرتے ہو لیکن ابراہیم علیہ السلام نے جب امامت کی دعا کی تو اللہ نے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ یہ عہد ظالموں کے لئے نہیں اور ظالم امامت پر فائز نہیں رہ سکتے۔ تم یہود و نصاری محض ابراہیم کی اولاد ہونے کی بنا پر امامت کا دعوی نہیں کرسکتے۔ اب امامت تمہارے ظلم کے سبب تم سے لے کر بنی اسماعیل کو دینے کا وقت آگیا ہے۔
پھر آیت نمبر ۱۴۳ اور ۱۴۴ میں بنی مسلمانوں کو امت وسط قرار دے دیا گیا اور پھر قبلہ کو بیت المقدس سے کعبہ کی جانب تبدیل کردیا گیا۔ یہ گویا آفیشل بیان تھا کہ اب بنی اسرائل اس منصب سے معزول ہوگئے اور امت وسط کا منصب امت مسلمہ کو مل گیا۔
ان آیات کو پڑھتے وقت یہ پس منظر واضح رہنا بہت ضروری ہے ورنہ یوں محسوس ہوگا کہ یہود پر نہ جانے کیوں الزامات کی ایک بوچھاڑ ہے جو پے درپے بیان ہورہی ہے۔ نہیں، بلکہ یہ وہ چارج شیٹ ہے جو بنی اسرائل کو دی جارہی ہے کہ تمہاری نااہلی کی بنا پر اب یہ منصب بنی اسماعیل کو دیا جارہا ہے۔ اور اگر تم خدا کے دین کی خدمت کرنا چاہتے ہو تو واحد طریقہ یہ ہے کہ خود کو امت مسلمہ میں ضم کردو ، تمہیں دوہرا اجر ملے گا۔ ورنہ دنیا و آخرت کی رسوائی تمہارا مقدر ہے۔
اس تناظر میں سوالات کے جواب ملاحظہ فرمائیے:
سوالات:
۱۔ بنی اسرائل کا لغوی معنی کیا ہیں اور یہاں یہود کو بنی اسرائل کیوں کہا گیا؟
جواب۔ بنی کا مطلب بچے یا بیٹے اور اسرائل کا مطلب اللہ کا بندہ یعنی عبداللہ ہیں۔ بنی اسرائل کی ابتدا یوں تو حضرت ابراہیم و اسحاق علیہما السلام سے ہوجاتی ہے لیکن حضرت یعقوب کے زمانے میں انہیں سیاسی غلبہ حاصل ہوا جس کا سبب حضرت یوسف علیہ السلام کا مصر پر سیاسی اقتدار سنبھالنا تھا۔ حضرت یعقوب کا لقب اسرا ایل یعنی اللہ کا بندہ تھا اسی لئے یہود کو بنی اسرائل یعنی اسرائل کے بچے یا اسرائل کے ماننے والے کہا جاتا ہے۔
۲۔ آیت ۴۰ میں ہے کہ ” اے بنی اسرائل! میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے تھے اور اس اقرار کو پورا کرو جو تم نے مجھ سے کیا تھا۔ میں اس اقرار کو پورا کروں گا جو میں نے تم سے کیا تھا”۔
یہاں اگر بنی اسرائل وعدہ پورا نہ کریں تو آیت سے علم ہورہا ہے کہ اللہ بھی اپنا وعدہ پورا نہیں کریں گے۔ تو کیا یہاں اللہ بھی بنی اسرائل کی طرح نعوذ بااللہ وعدہ خلافی کے مرتکب ہونگے؟
جواب۔ جی آپ سب نے بالکل درست فرمایا کہ یہ مشروط معاہدہ ہے۔ اسے قانون کی زبان میں Contingent Contract کہا جاتا ہے۔ یعنی اگر شرط پوری ہوگی تو دوسرے پر اپنے حصے کا کام لازم ہوگا ورنہ نہیں۔
۳۔ آیت ۴۰ میں بنی اسرائل کو کون سے احسانات یاد لائے جارہے ہیں؟
جواب : بنی اسرائل کو بے شمار احسانات کی تفصیل دی گئی۔ جیسے فرعون کی غلامی سے نجات، من و سلوی کا برسنا، صحرائے سینا میں ان کی رہائش کے اسباب مہیا کرنا، پیغمبروں کا تسلسل سے آنا، داؤد و سلیمان علیہماالسلام کی بادشاہت، دشمنوں پر خدا کا غلبہ وغیرہ۔
۴۔ آیت نمبر ۴۱ میں آیتوں کو تھوڑی قیمت کے عوض بیچنے ، حق کو باطل کے ساتھ ملانے اور حق کو چھپانے سے کیا مراد ہے؟نیز کیا یہ جرائم ہمارے آج کے مسلمانوں میں بھی پائے جاتے ہیں ؟ اگر ہاں تو ان کی نشاندہی کیےیر۔
جواب : حق کو باطل کے ساتھ ملانے کا مطلب ہے کہ بات کو اس طرح بیان کرنا کہ باطل بات بھی حق لگے۔ اسی طرح حق بات کو چھپانے کے بارے میں بھی اس آیت میں کہا گیا ہے۔ عرب کا معاشرہ بالعموم ناخواندگی پر مبنی تھا ۔ اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل یہود اور مشرکین کے عوام یہودی علما کو بہت عالم و فاضل مانا کرتے تھے۔ اس زمانے میں یہود اپنے من پسند فتوے دیا کرتے ، تعویذ گنڈوں کا کاروبار کرتے، اور دیگر باتیں مذہبی تقدس کے ساتھ اس طرح پیش کرتے کہ ساد ہ لوح عوام بے وقوف بن جاتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینے میں آمد کے بعد یہ صورت تبدیل ہونے لگی اور یہود ی علما کی سیاہ کاریوں پر روشنی ڈلنے لگی۔ مشہور واقعہ عبداللہ بن سلام کا ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زنا کی سزا کا ذکر ہوا تو یہود نے غلط سزا بتائی لیکن عبداللہ بن سلام جو پہلے یہودی تھے اور بعد میں ایمان لے آئے تھے انہوں نے یہود کے اس حق کو باطل کے ساتھ ملانے کے معاملے کو چاک کردیا۔
ایسے ہی حق کو چھپانے سے یہاں مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری پیغمبر ہونے کی جو نشانیاں تورات میں مذکور تھیں انہیں چھپانا، ان کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا اور عوام کو گمراہ کرنا تھا۔
بدقسمی سے جن جرائم کے بنی اسرائل مرتکب ہوئے تھے کم و بیش وہی جرائم آج ہمارے ہاں بھی موجود ہیں۔ ایک صحیح حدیث اس بارے میں یہ ہے:
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم پہلی امتوں کی اس طرح پیروی کرو گے جس طرح بالشت بالشت کے برابر اور گز گز کے برابر ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گوہ کے سوراخ میں گئے ہوں گے تو تم ان کی پیروی کرو گے ہم لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا یہود و نصاریٰ کی پیروی کریں گے، آپ نے فرمایا کہ اور کون ہو سکتا ہے۔ (صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2222)
بنی اسرائل کے جرائم دیکھیں اور ہم بلاتعصب ان کو اپنے اوپر منطبق کریں تو حیرت انگیز طور پر مماثلت پائیں گے۔ مثال کے طور پر ہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بخشی بخشائی اور چہیتی امت ہیں، ہمارے علما بھی تقلید کو اور اپنے مسلک کو درست ثابت کرنے کے لئے قرآن کی آیات کے غلط معنی نکالتے اور احادیث کا غلط اطلاق کرتے ہیں۔ ہم بھی حق کو اتنا چھپاتے ہیں کہ قرآن کو ترجمہ سے پڑھنے کی ترغیب دینے کی بجائے اس کی مذمت کرتے ہیں، ہم بھی بزرگوں کے تقدس کے خوگر ہوچکے، ہم بھی ظاہر پرستی کے اتنے عادی ہوگئے کہ دین کی روح کو چند ظاہری اعمال کی نظر کردیا، ہم بھی اخلاقی پستیوں کی انتہاؤں کو چلے گئے کہ زندگی کی اخلاقی دوڑ میں غیر مسلم ہم سے آگے ہیں، ہمارے بعض علما نے بھی دین کو کاروبار کی شکل دے دی کہ نامحرموں کو نہ دیکھنے اور تصویر نہ کھچوانے کا فتوی دینے والے علما ٹی وی پر اداکاراؤں کے جھرمٹ میں بیٹھے دین بیان کررہے ہوتے ہیں۔ ہم بھی یہود کی طرح فرقہ واریت کا اس حد تک شکار ہوئے کہ اپنے ہی بھائیوں کو کافر کہہ دیا اور انہیں قتل کرنے سے گریز نہیں کیا۔ غرض جہاں جہاں یہودو نصاری گئے ہم بھی وہیں جارہے ہیں۔ تو نتیجہ کچھ الگ نہیں ہوگا۔ اگر یہود و نصاری اس زمانے میں دنیا و آخرت کی رسوائی کا شکار ہوئے تو ہم بھی آج کم از کم دنیا میں تو رسواکن عذاب سے دوچار ہیں ۔ آخرت کا اللہ ہی بہتر جانتے ہیں۔
اس کا حل وہی ہے جو عبداللہ بن سلام نے کیا۔ یعنی حق کے سامنے جھک جانا، تعصب کو چھوڑ دینا، آبا پرستی کو خیر باد کہہ دینا۔ اس کا حل خدا کی رسی یعنی قرآن کو تھام لینا ہے خواہ اس کے لئے صدیوں پرانی تقلید کو چھوڑنا پڑے یا فقہی مسلمات کو دریا برد کرنا پڑے۔
۵۔ رمضان میں ہم نمازوں کو کس طرح بہتر بناسکتے ہیں ۔
اس پر میں نے ایک مفصل مقالہ لکھا تھا۔ اگر وہ نہیں پڑھا تو اسے دیکھ لیجے گا۔
http://goo.gl/Bejf0v
۶۔ رمضان میں عام طور پر کن امور میں ہم صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں۔
اس پر میں نے ایک مفصل مقالہ لکھا تھا۔ اگر وہ نہیں پڑھا تو اسے دیکھ لیجے گا۔
http://goo.gl/je72IJ

Advertisements

One response to this post.

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s