انٹرایکٹو فہم القرآن کورس نواں سیشن ۔۔ خلاصہ


انٹرایکٹو فہم القرآن کورس
نواں سیشن
سورہ البقرہ آیت نمبر 67 تا 101
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس سیشن کا خلاصہ حاضر خدمت ہے۔ اس کا انفرادی طور پر فیڈ بیک تو آپ کو بھیج چکا ہوں۔ اس کا خلاصہ اپنے فہم کے مطابق حاضر ہے۔
ابتدا میں تو بنی اسرائل کی کٹ حجتی بیان ہوئی ہے کہ کس طرح انہوں نے ایک آسان کی چیز کو اپنے لئے مشکل بنالیا۔ یعنی حکم تھا کہ کوئی بھی ایک گائے ذبح کرو لیکن ظاہر پرستی اور فقہی موشگافیوں کی بنا پر اپنے لئے مصیبت پیدا کرتے چلے گئے کہ گائے کیسی ہو، رنگ کیا ہو، بوڑھی ہو یا بچھیا وغیرہ۔ یہی مزاج کم و بیش ہمارے ہاں بھی لوگوں میں پیدا ہوگیا ہے۔ اور اس کی وجہ مذہبی طبقہ کا درست طور پر ایجوکیشن فراہم نہ کرنا ہے۔
اس ذکر کے بعد ایک مشکل مقام ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ گائے کے ایک ٹکڑے کو مقتول کو مارو۔ اس کے بعد آگے ذکر ہے کہ اللہ اس طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے۔
اس کے بعد یہود کی سخت دلی کا ذکر ہے کہ کس طرح تمہارے دل پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔ یہ مقام ذرا رکنے والاہے۔ یہاں پتھروں کی تین خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔۔ اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں ، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں ،اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے ، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں ۔
اس کائنات کی ایک ایک شے تسبیح کرتی ہے اور اس کی تسبیح ، رکوع ، سجود اور تعلق باللہ اس کی اپنی زبان میں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر سائے تو دیکھیں تو جوں جوں سورج ڈھلتا ہے ، سایہ پھیلنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس عمل کو قرآن سائے کے سجدے سے تعبیر کرتا ہے۔ اسی طرح پتھروں کو دیکھا جائے تو بظاہر چشمہ پھوٹنا، پانی بہہ نکلنا اور گرجانا ایک میکانیکی عمل ہے لیکن یہ پتھر کا تعلق باللہ ہے۔ پتھروں سے چشمہ پھوٹنا ان آنسووں کی علامت ہےجو خدا کی یاد میں نکل جاتے ہیں اور روکے نہیں رکتے۔ ان کا پھٹ جانا اور پھر پانی بہہ نکلنا اس دھواں دھار سوز غم کا اظہار ہے جب خدا کے سامنے غم سے نڈھال ہوکر دل پھٹ جاتا ہے اور بے اختیار ہچکیاں بندھ جاتی ہیں۔ پتھروں کا خوف سے گرجانا اس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جب یوں لگتا ہے سارے بدن سے جان نکل چکی اور ٹانگوں نے خوف کے باعث جسم کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا۔ پھر انسان ایک بے جان لاشے کی طرح خدا کے سامنے ڈھ جاتا ہے۔
اگلی چند آیات میں یہود کےجرائم پر مزید روشنی ڈالی جارہی ہے کہ یہ کس طرح دین سے دور ہیں اور خود کو عین دین سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ بھی بتادی کہ انہیں یہ غلط فہمی ہے کہ یہ خدا کے چہیتے ہیں اور یہ کچھ بھی کرلیں، جہنم کی آگ انہیں نہیں چھوئے گی اور اگر چھوا تو بس چند دن۔ آگے بتادیا کہ جس کی زندگی کا احاطہ گناہوں نے چاروں طرف سے کرلیا ہو اس کاٹھکانہ ابدی جہنم ہے۔ آگے یہود کو مزید گناہ بتائے ہیں تاکہ انہیں آخر میں امت وسط کے عہدے سے باقاعدہ معزول کیا جائے۔
سوالوں کے جواب
۱۔ آیات نمبر ۷۲ اور ۷۳ میں آتا ہے:
اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا، تو اس میں باہم جھگڑنے لگے۔ لیکن جو بات تم چھپا رہے تھے ، خدا اس کو ظاہر کرنے والا تھا (۷۲) تو ہم نے کہا کہ اس گائے کا کوئی سا ٹکڑا مقتول کو مارو۔ اس طرح خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تم کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو (۷۳)
ان آیات کا کیا مطلب ہے ؟
جواب۔ اس پر آپ سب نے کافی سیر حاصل گفتگو کرلی ہے۔ اس کی ایک تعبیر تو وہی ہے کہ قاتل کا پتا لگانے کے لئے گائے کو ذبح کیا گیا اور اس کے گوشت کا ٹکڑا مقتول پر مارا گیا۔ اس نے زندہ ہوکر قاتل کا نام بتادیا۔ ایک دوسری رائے مولانا امین احسن اصلاحی کی ہے جو انہوں نے بائبل سے مستعار لی ہے کہ بنی اسرائل میں قسامہ یعنی قسم لینے کا طریقہ تھا ۔ لیکن بہر حال پہلی رائے ہی زیادہ موزوں معلوم ہوتی ہے۔
۲۔ آیت نمبر ۸۰ میں ہے:
اور کہتے ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی۔ ان سے پوچھو، کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے کہ خدا اپنے اقرار کے خلاف نہیں کرے گا۔ (نہیں)، بلکہ تم خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں (۸۰)
ہم مسلمانوں میں بھی ایک تصور یہ پایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو بھی دوزخ میں اگر ڈالا گیا تو بس عارضی طور پر۔ مسلمانوں اور بنی اسرائل کے دعووں میں کیا مماثلت اور فرق ہے؟
جواب: میرے خیال میں مسلمانوں اور یہود کی سو چ میں تو نوعیت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ عام مسلمان بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ہم کچھ بھی کرلیں، امتی ہونے کی بنا پر چھوٹ جائیں گے۔ لیکن اسلام کا نقطہ نظر مختلف ہے جو ان آیات کے آگے ہی بیان ہوگیا۔
ہاں جو برے کام کرے ، اور اس کے گناہ (ہر طرف سے) گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے۔
یعنی جس شخص کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا گناہ ہو تو اس کے دل کی سیاہی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اس پر مہر لگ جاتی اور اس کا ایمان سلب ہوجاتا ہے ۔ ایمان سلب ہونے کے بعد کچھ باقی نہیں رہا۔ اب وہ نام کا مسلمان ہے لیکن کسی کام کا نہیں۔ تو ایسے شخص کو خدا اپنا بندہ اور اس کے پیغمبر اپنا امتی ہی ماننے سے انکار کردیں گے تو شفاعت کا امکان کیسا؟
۳۔ آیت نمبر ۸۱ یہ ہے:
ہاں جو برے کام کرے ، اور اس کے گناہ (ہر طرف سے) گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے (۸۱)
یہاں کس قسم کے گناہوں کا ذکر ہے اور گناہوں کا احاطہ کرلینے سے کیا مراد ہے؟
جواب: یہاں اصل مراد گناہوں کی زندگی کو اوڑھنا بچھونا بنالینا ہے۔ اور ظاہر ہے یہاں کبیرہ گناہ مراد ہیں ۔ لیکن مسئلہ گناہ کا نہیں بلکہ نیت کا ہوتا ہے۔ ایسا شخص دھڑلے سے سارے گناہ کرتا پھرتا، لوگوں کے مال غصب کرتا، زنا کرتا، ڈاکے دالتا، کرپشن کرتا، قتل و غارت گری کرتا اور سمجھانے پر بھی نہیں سمجھتا ہے۔ تو اس کے دل کی سیاہی ایمان سلب کرنے کا اور مہر کا باعث بن جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ ایک جانور کی مانند زندگی گذارتا اور اپنے جہنم واصل ہونے کا منتظر ہوتا ہے لیکن اسے خبر بھی نہیں ہوتی۔ بلکہ اللہ اس کو اتنی ڈھیل دیتے ہیں کہ وہ بدمست ہو کر یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اللہ ا س سے راضی ہیں۔ حالانکہ اللہ نے اس پر دنیا کھول دی ہوتی ہے کہ کہیں وہ غلطی سے بھی کسی تکلیف میں مبتلا ہو کر خدا کو یاد نہ کربیٹھے۔ یہ خدا کے دھتکار دلوں پر مہر لگ جانے کے بعد آتی ہے۔
۴۔ ان آیات میں جو بھی جرائم ہیں وہ سارے جرائم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موجود یہود نے نہیں بلکہ ان کے آبا و اجداد نے کئے تھے۔ تو قرآن ان کے آباو اجداد کے جرائم کا ذمہ کیوں ان یہود کو قرار دے رہا ہے جیسا کہ انداز تخاطب سے بظاہر لگ رہا ہے۔
جواب: اصل میں یہ ایک چارج شیٹ ہے جو امت بنی اسرائل پر جاری کیاجارہی ہے۔ چونکہ معاملہ امت کا ہے اس لئے جب سے امت کی باقاعدہ ابتدا ہوئی تب سے جرائم کو بیان کرنا شروع کیا۔ مخاطب ظاہر ہے اس وقت کے زندہ یہود ہیں ۔ مثال کے طور پر مسلمانوں پر اگر کوئی الزام لگائے گا تو وہ یہی کہے گا کہ دیکھو تم لوگ خلافت کے نام پر قتل و غارت گری کرتے آئے ہو ، تم آپس میں جنگیں لڑتے ہو ، بچوں کو اسکول میں مارتے ہو وغیرہ۔ تو ظاہر ہے یہ سارے کام مسلمانوں کے ایک گرو ہ نے کیئے ہونگے سب نے نہیں۔ لیکن خطاب میں سب آئیں گے۔
۵۔ یہاں آیات ۸۸ اور ۸۹ میں اللہ کی لعنت کا ذکر ہے۔ اللہ کی لعنت سے کیا مراد ہے؟
جواب۔ اس سے مراد خدا کی رحمت سے محرومی۔ یوں سمجھ لیں کہ اگر ایک چھ ماہ کے بچے پر سے ماں باپ اپنی توجہ ہٹالیں، اس سے نگاہیں پھیر لیں، اس کی ضروریا ت پوری نہ کریں، اس کو فیڈ نہ دیں تو بے شک اب وہ بچے پر کوئی غضب نہ بھی ڈھائیں ، اس بچے کی بقا ممکن نہیں۔ایسے ہی اگر خدا پنی رحمت ہٹادیں تو بس زندگی موت سے بھی بدتر ہوجاتی ہے۔ اللہ رحم فرمائیں۔ آمین
پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s