انٹرایکٹیو فہم القرآن کورس ۔۔ آٹھواں سیشن ۔۔ خلاصہ

انٹرایکٹو فہم القرآن کورس
آٹھواں سیشن
سورہ البقرہ آیت نمبر 47 تا 66
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آیات نمبر ۴۳ سے سورہ بقرہ میں ایک نئے سلسلے کا آغاز ہوچکا ہے۔ یہ اصل خطاب ہے جو بنی اسرائل سے کیا جارہا ہے۔ گذشتہ آیات میں اسی خطاب کی تمہید باندھی گئی تھی۔ جیسا کہ گذشتہ آیات میں ہم نے پڑھا تھا کہ بنی اسرائل کی حیثیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل ایک امت وسط ہی کی تھی جس کے ذمے اللہ کا پیغام باقی انسانیت کو پہنچانا تھا۔ لیکن بنی اسرائل اپنی ذمہ دار ی نہ نبھا سکے اور اب انہیں معزول کرکے امت وسط کی حیثیت بنی اسماعیل کو دینی تھی۔ چنانچہ یہ ایک چارج شیٹ یا الزامات کی فہرست ہے جو بنی اسرائل کو دی جارہی ہے۔
ان آیات میں وہ احسانات یاد لائے جارہے ، ان کی نافرمانیاں گنوائی جارہیں اور ان کے کفران نعمت کے روئیے کو ایڈریس کیا جارہا ہے۔ یہ بتایا جارہا ہے کہ تمہیں تمام عالم پر فضیلت دی تھی اور تم نے کیا کیا؟ خود کو نسلی تفاخر میں مبتلا کردیا۔ تمہیں فرعون کی غلامی سے نجات دی اور ایک آزاد زندگی عطا کی لیکن تم نے اس احسان کو نہیں مانا۔ تم نے موسی علیہ السلام کی غیر موجودگی میں بچھڑے کو معبود بنالیا، تو کبھی خدا کو آنکھوں سے دیکھنا کی ضد کی ۔ کبھی پیغمبروں کو ناحق قتل کیا تو کبھی من و سلوی کو حقیر جانا تو کبھی عجزو انکساری کی بجائے تکبر کے قول کو اہمیت دی۔ کبھی نبیوں کو ناحق قتل کیا تو کبھی نسلی امتیاز کی بنا پر جنت و جہنم کے فیصلے کرنے لگے۔ پھر تم نے سبت کے موقع پر کس طر ح حیلہ کرکے حرام کو حلال کرلیا۔
یہ ان آیات کا خلاصہ ہے۔ اگر ان آیات کو دیکھا جائے تو یہ بنی اسماعیل یعنی ہم پر بھی کافی حد تک منطبق ہوتی ہیں۔ہم مسلمانوں کو خود سے سوال کرنا چاہئے کہ آیا ہم بھی نسلی تفاخر کا تو شکار نہیں؟ کیا ہم بھی خود کو چہیتی امت تو نہیں سمجھتے جس کے لئے عمل صالح کی کوئی قید نہیں؟کیا ہم بھی تو سود یا دیگر فقہی امور میں سبت والوں کی طرح کوئی حیلہ تو نہیں کررہے؟ کیا ایسا تو نہیں جس طرح خدا بنی اسرائل سے ناراض تھا ویسے ہی خدا بنی اسماعیل یعنی ہم سے بھی ناراض ہو ؟
سوالات کے جوابات:
۱۔ آیت نمبر ۴۷ میں اللہ نے فرمایا کہ بنی اسرائل کو تمام عالم پر فضیلت دی تھی۔ تو یہ کس قسم کی فضیلت تھی ؟
اس فضیلت سے مراد یہی امت وسط ہونے کی حیثیت تھی۔ بنی اسرائل میں پے درپے پیغمبر آتے رہے اور ان پر یہ لازم تھا کہ اپنے ارد گرد کی اقوام تک خدا کی توحید کا پیغما پہنچائیں۔ یہاں فضیلت سے مراد نسلی برتری یا مادی ترقی نہیں تھی۔
۲۔ بنی اسرائل ہی میں ایک مدت تک پیغمبر مبعوث ہوتے رہے۔ اور آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسماعیل میں۔ یعنی پیغمبر آل ابراہیم میں ہی مبعوث ہوتے رہے؟ اس کی کیا وجہ تھی؟ اور کیا یہ ایک طرح سے اللہ کی جانب سے نعوذباللہ جانبداری نہیں تھی کہ صرف آل ابراہیم میں ہی پیغمبر آتے رہیں؟
نہیں ایسا نہیں تھا۔ خدا نے تمدنی ارتقا کے ساتھ ساتھ مختلف ماڈلز انسانوں کی ہدایت کے لئے بنائے۔ ایک ماڈل تو یہ تھا کہ مختلف اقوام میں پیغمبر آتے رہے اور انہیں خدا کی تعلیمات سے روشناس کراتے رہے۔ ان میں حضرت نوح ، حضرت صالح، حضرت شعیب ، حضرت ھود اور حضرت لوط علہیم السلام شامل تھے۔
ان پیغمبروں کی دعوت کے کچھ عرصے بعد ہی لوگ دوبارہ سے ان برائیوں میں مبتلا ہوجاتے تھے جن سے ان کے پیغمبر منع کرکے گئے تھے۔ اس صورت حال میں اللہ نے یہ طے کیا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جس کی بنیاد توحید پر ہو۔ بے شک اس میں برائیاں آجائیں لیکن اس کی خالص تعلیمات میں تھیوری میں اصل پیغا محفوظ رہے گا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کا انتخاب کیا گیا۔ اس کی ایک شاخ بنی اسرائل تھی اور دوسری بنی اسماعیل۔ دونوں توحید کے علمبردار تھے۔ بنی اسرائل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت کئی خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں لیکن یہ نظری طور پر کبھی شرک کو قبول نہیں کرپائے جیسے دیگر اقوام نے کرلیا تھا۔ایسے ہی بنی اسماعیل خدا کو تو مانتے تھے لیکن کچھ سفارشیوں کے ساتھ۔
تمدن کے ارتقا کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا اور اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی بناکر بھیج دیا گیا۔ تو گویا حضرت ابراہیم کی ذریت میں پیغمبر ی کا سلسلہ کوئی نسلی بنیادوں پر نہیں تھا بلکہ کسی اور بنیادوں پر تھا۔
۳۔ آیت نمبر ۵۱ میں ہے کہ اللہ نےب موسی علیہ السلام سے چالیس راتوں کا وعدہ لیا۔ یہ چالیس راتوں کا وعدہ کیا تھا اور اس کا کیا مقصد تھا؟
چالیس راتوں کا وعدہ اسی لئے لیا گیا تھا تاکہ موسی علیہ السلام مخصوص عبادات کرکے اپنے اندر وہ صلاحتیتں پیداکریں جس کی بنیاد پر وہ تورات جیسی شاندار کتاب کی تعلیمات حاصل کرلیں۔
۴۔آیت نمبر ۶۲ میں ہے کہ
” جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا صابئین ، جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا، تو ایسے لوگوں کو ان (کے اعمال) کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہو گا اور نہ وہ غم ناک ہوں گے”۔
کیا اس آیت کے تحت اسلام لانا ضرور ی نہیں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کی نجات بھی ممکن ہے؟
یہ آیت اگر سیاق و سباق سے دیکھی جائے تو یہود کے اس زعم کی نفی ہے کہ نجات کے لئے یہودی یا نصرانی ہونا ضرور نہیں اور نہ ہی کسی گروہ سے وابستگی نجات کا باعث ہے۔ بلکہ جو بھی ان گروہوں میں سے یا دیگر گروہوں میں سے اللہ پر اور یوم آخرت پر یقین رکھے گا، اسے نجات مل جائے گی۔
یہاں ایک بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ مسلمان یا مسلم کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک نسلی اور دوسری عملی۔ جو شخص کسی مسلمان گھرانے میں پیدا ہوتا ہے و ہ نسلی طور پر مسلمان ہوتا ہے اور وہ نسلی طور پر توحید ، آخرت ، رسالت وغیرہ کے عقیدے پر یقین رکھتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ وہ دل سے یا عملی طور پر مومن نہ ہو۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی غیر اسلامی مذہب میں موجود ہو لیکن وہ دل سے خدا کی توحید اور آخرت اور رسالت وغیرہ پر ایمان رکھتا ہو لیکن اس کا اظہار نہ کیا ہو۔ تو وہ شخص عملی طور پر مومن ہے بے شک وہ ظاہری طور پر مسلمانوں کے گرو ہ میں شامل نہیں۔
تو نتیجہ یہ نکلا کہ امت مسلمہ میں شامل تمام مسلمان ضروری نہیں کہ خدا کے نزدیک بھی مسلمان ہوں اور یہ بھی ضرور ی نہیں کہ تمام غیر مسلم خدا کے نزدیک بھی غیر مسلم ہوں۔ لہٰذا اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو یہ آیت واضح طور پر یہ کہہ رہی ہے کسی گروہ سے وابستگی یا عدم وابستگی نجات کی بنیاد نہیں۔ اصل بنیاد ایمان ہے اور عمل صالح۔
۵۔ ان آیات میں بنی اسرائل کے جو جرائم گنوائے گئے ہیں۔ ان میں سے کسی پانچ جرائم کو عنوانات کی شکل میں لکھیں یعنی پورا جملہ نہ لکھیں۔ مثال کے طور پر آیت نمبر ۵۱ میں انہوں نے جو بچھڑے کو معبود بنانے کا جرم کیا وہ جرم دراصل شرک تھا۔ تو آپ بھی ان آیات کو پڑھ کر تعین کریں کہ ان سے کون کون سے جرائم سر زد ہوئے ہیں جیسے ناشکری، ظاہر پرستی یا مادیت پرستی، نسل پرستی وغیرہ۔ کوئی پانچ عنوانات لکھیں۔
قتل انبیا، شرک، ناشکری، نافرمانی، مادیت پرستی
پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s