مومن کی مصیبت بھی نیکی ہے

السلام علیکم
حدیث پڑھ رہا تھا تو کچھ سوالات ذہن میں پیدا ہوگئے. براہ کرم مجھے سمجھادیں
مومن کی مصیبت بھی نیکی ہے
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کسی مومن آدمی کو جو کوئی بھی مصیبت پہنچتی ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالی اس کے بدلہ میں اس لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے یا اس کا کوئی گناہ مٹا دیتا ہے۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2070)

حدیث میں تکلیف میں مبتلا ہونے پر مومن بندے کےگناہ مٹائے جانے اور نیکی لکھنےکا بتایا گیا ہے ، کیا نان مسلم کےمصیبت میں مبتلا ہونے پر اس کےگناہ نہیں مٹائے جاتے اور نیکی نہیں لکھی جاتی. اسکا کیا قصور ہے کہ وہ نان مسلم گھرانے میں پیدا ہوا اور اللہ تعالی کی طرف سے ملنے والے اس فائدے سے محروم رہ گیا. بعض نان مسلم بہت نیک، خلق خدا کی خدمت کرنے والے اور اچھے اخلاق کے مالک ہوتے ہیں. اللہ تعالی انکو محض اس وجہ سے نیکی ملنے اور گناہ مٹانے سے محروم رکھیں گے کیونکہ وہ نان مسلم ہیں اور اگر کوئی مسلمان بہت بدمعاش ، بدکردار ہو تو کیا اللہ تعالی پھر بھی اسکو تکلیف میں مبتلا ہونے پرنیکی دے دیں گے اور اسکے گناہ مٹادیں گے. یہ حدیث بہت کنفیوزنگ ہے۔۔

جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ کسی عام بدکردار قسم کا مسلمان کی طرف اشارہ نہیں کر رہے بلکہ مراد کوئی ایسا صاحب ایمان ہے جو اپنی زندگی کلی طور پر اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق بسر کرنے کی حتی الوسع کوشش کرتا ہے۔تو جب اسکو کوئی دنیاوی آلام و مصائب درپیش ہوتے ہیں جن کو صبر و استقامت سے برداشت کرتا ہے تو اللہ تبارک تعالیٰ اس کے اس رویے سے خوش ہو کر اس کے نیک اعمال میں برکت فرماتے ہیں اور اگر اس سے کوئی صغیرہ گناہ دانستہ یا نادانستہ طور پر سرزد ہو جاتا ہے تواسکو اسکے نامہ اعمال سے مٹا دیا جاتا ہے۔جبکہ اس کے برعکس کوئی ایسا مسلمان جس کی زندگی سر تا پا گناہوں میں لتھڑی ہوئی ہواور وہ کبائر گناہوں میں ملوث ہو تو ایسے مسلمان کو اس کی مصیبت کےلئے کوئی اجر ملنے کی امید اس عادل و منصف سے نہیں کی جا سکتی تاوقتیکہ وہ توبہ نہ کر لے۔
باقی رہا کسی غیر مسلم کے ساتھ معاملہ تواللہ تبارک تعالیٰ نے سب انسانوں کے لیے ایک سا امتحان اور ایک سا اجر نہیں رکھا ہوا۔ جس طرح ایک درجہ کا مسلمان اور ایک اعلیٰ درجہ کا مسلمان برابر نہیں ( یاد رہے کہ یہ درجہ بندی نیک اعمال کی بنا پر ہو گی ) اسی طرح یقیناً سب غیر مسلموں کو ایک ہی چھڑی سے نہیں ہانکا جائے گا۔ ان میں سے جن کو انبیاء کرام کی دعوت صحیح طور سے نہیں پہنچی اور وہ عملی زندگی میں بہترین انسان ہیں تو اللہ یقیناً ان کے ساتھ اس مناسبت سے برتاؤ کرے گا۔ قرآن میں جہاں جہاں جہنم کی ابدی سزا کا ذکر ہےوہ انہی لوگوں کے متعلق ہے جنہوں نے اللہ اور اسکے انبیاء کرام کے سامنے سرکشی کا رویہ اختیار کیا ۔قرآن میں بارہا فرما دیا گیا ہے کہ آخرت میں کسی پر کوئی ظلم نہیں ہو گا اس وجہ سے ہمیں اللہ پر اعتماد کرنا چاہیے کہ وہ کسی پر رتی برابر ظلم نہ کرے گا۔۔۔۔” پھرہر شخص کو اسکے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہ کیا جائے گا ” (البقرہ 281؛2 ) دیکھ لیجیے یہاں مخاطب فقط مسلمان نہیں۔۔واللہ اعلم
از : راعنہ نقی سید
http://www.almubashir.org

Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by عبداللہ on 19/02/2016 at 9:53 شام

    جزاک اللہ ، بہت ہی اعلی وضاحت، اللہ علم وفہم میں اضافہ کریں۔

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s