روحانیت کا تعارف


روحانیت کا تعارف
از پروفیسر محمد عقیل
۱۔ اسلام میں روحانیت سے کیا مراد ہے؟
جواب: قرآن میں لفظ "روح” دو معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ایک مفہوم میں "روح "جبریل امین کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس تحریر میں اس روح پر بات نہیں کی

جارہی جس سے مراد جبریل امین ہیں۔ دوسری جانب روح کے لغوی معنی پھونک ، راحت ، سکون اور قرار کے ہیں۔ یہیں سے یہ لفظ روحانیت نکلا ہے یعنی وہ عمل جس سے سکون حاصل کیا جائے۔ قرآن میں سورہ الحجر (آیت ۲۹) اور سورہ ص (آیت ۷۲)میں پھونک والے مفہوم کا ذکر ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:
فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِيْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِيْنَ 29؀
ترجمہ: تو جب میں اسے درست کر چکوں اور اس میں اپنی روح (پھونک )پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا۔
وضاحت : اس آیت میں فرشتوں سے خطاب جاری ہے۔ اور کہا جارہا ہے کہ جب میں کھنکھناتی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے لگا ہوں ۔ جب میں اس کی نوک پلک درست کرکے اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اسی وقت اس کے سامنے سجدہ میں گر پڑنا”۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس روح سے کیا مراد ہے؟ اس پر علما نے بہت کلام کیا اور روح کی ماہیت کو طے کرنے کی کوشش کی ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ Divine Spark یا نور یزدانی ہے جس سے انسان اور حیوان میں تمیز پیدا ہوتی ہے، کچھ نے کہا کہ یہ خدا کی صفات کا پرتو یعنی عکس ہے ۔ یعنی خدا نے اپنی روح پھونک کر انسان میں اپنی صفات منتقل کیں۔ کچھ نے روح سے مراد صرف زندگی کی انرجی لیا۔ دوسری طرف کچھ صوفیا نے یہیں سے اپنے نظریات اخذ کیے کہ روح پھونک کر خدا انسان میں حلول کرگیا یا انسان اور خدا ایک ہی ہیں اور یہاں سے وحدت الوجود کی بنیادیں تلاش کی گئیں۔
روح کی اصل حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتے ہیں لیکن چند چیزیں ہم منطقی طور پر قرآن سے اخذ کرسکتے ہیں۔پہلی بات یہ کہ روح جو کچھ بھی ہے اس کے بنا انسان نامکمل ہے اسی لیے سجدے کا حکم اس وقت آیا جب روح پھونک دی گئی ، اس سے پہلے نہیں۔ دوسرا یہ اس سے قبل اللہ نے انسان کا جسم کھنکناتی مٹی اور گارے بنالیا تھا ۔ مٹی مادے کی علامت ہے ۔ جبکہ روح کی جانب اللہ نے اپنی طرف نسبت کی کہ جب میں اپنی روح یا پھونک پھونک دوں تو سجدے میں گر جانا۔ اسی لیے روح سے مراد لطافت اور مادے کی ضد کےلیے جاتے ہیں۔ یعنی مادیت سے مراد مادی عناصر اور روح سے مراد غیر مادی عناصر ہیں۔آخری بات یہ کہ روح وہ عنصر ہے جس سے زندگی کا آغاز ہوتا اور اس کے نکل جانے سے زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔
اوپر کی بحث سے اندازہ ہوگیا کہ روح کے لغوی معنی پھونک اور اصطلاحی معنی سکون ، راحت، لطافت کے بنتے ہیں۔یہ روح خدا کی قربت کی علامت ہے کیونکہ اسے خدا نے اپنی جانب براہ راست نسبت دی ہے۔ گوکہ ہم نسبت کی نوعیت نہیں جانتے لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ خدا نے اپنی روح (پھونک) انسان میں پھونکی۔ اس کو سمجھنے کے لیے اگر ہم ” دم ” کو لے لیں تو بات کچھ واضح ہوجائے گی۔ جس طرح ہمارے ہاں بچے پر دم کیا جاتا ہے تو پھونک ماری جاتی ہے۔ یہ دم کرنا دراصل اپنی جانب سےایک خاص روحانی تاثیر کو اس بچے میں منتقل کرنا ہوتا ہے۔ خدا کے پھونک پھونکنے کی حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتے ہیں البتہ ہم دم کرنے کی مثال سے کسی حد اس عمل کو سمجھ سکتے اور اس کے مقاصد جان سکتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اس پھونک یا روح کی ضرورت کیو ں پیدا ہوئی جبکہ انسان کا ایک ظاہری اور مادی وجود موجود تھا۔ اس پھونک یا روح کا جو مطلب سمجھ آتا ہے وہ یہ ہے جس طرح اللہ نے اپنے ہاتھوں سے انسان کا ظاہری وجود مادے سے تخلیق کیا ، اسی طرح اپنی پھونک یا روح کے ذریعے انسان کا ایک باطنی وجود بھی تخلیق کردیا۔ اس کا فنکشن اس کے مادی وجود سے مختلف تھا ۔ اس کا کام غیر مادی امور کو طے کرنا تھا۔ مادی اور روحانی وجود میں ایک اور فرق یہ ہے کہ مادی وجود مادی دنیا (یعنی عالم ناسوت)اور غیر مادی وجود یعنی روح غیر مادی دنیا (عالم لاہوت )کے لیے مخصوص ہے۔ واضح رہے کہ لاہوت غیر مادی عالم کے لیے بولا جاتا ہے جس میں فرشتے، عرش ، لوح محفوظ اور امور تکوینی سب شامل ہیں۔
اگر ہم اپنے مادی وجود پر غور کریں تو یہ ہاتھ پاؤں چہرہ جسم ، دل گردے پھیپڑے اور دیگر اعضا پر مبنی ہے جن کا اپنا اپنا کام ہے۔ باطنی وجود کو دیکھیں تو ایک الگ دنیا انسان کے اندر موجود ہے۔ یہاں جذبات ، احساسات، خوشی ، غمی، بے چینی ، سکون اور اس طرح کی دیگر کیفیا ت ہیں جنہیں ہم محسوس کرسکتے اور ان کا اظہار کرسکتے ہیں لیکن کسی کو دکھا نہیں سکتے۔
باطنی وجود کے اعضاء کا تعین اگر ہم مادی طور پر ہاتھ پاؤں اور چہرے وغیرہ کی طرح کرنا چاہیں تو ناکام ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے باطنی کیفیات کے لیے قرآن کو اصطلاح استعمال کرتا ہے وہ بھی ظاہری اعضاء سے مستعار لی ہوئی ہے ۔ جیسے قرآن نے بار بار باطنی کیفیات کا مرکز قلب یعنی دل کو ٹہرایا ہے ۔ چنانچہ قرآن جگہ جگہ اس باطنی وجود کو بیان کرتے ہوئے مختلف باتیں بتاتا ہے جیسے اللہ کے ذکر سے دلوں کو سکون ملتا ہے، ان کے دل ٹیڑھے ہوگئے، دلوں کو زنگ لگ گیا، دل اندھے ہوتے ہیں، دلوں پر مہر لگ جاتی ہے وغیرہ۔کبھی اسی باطنی وجود کے ایک مظہر یعنی تعقل کو بیان کرنے کے لیے قرآن یہ بیان کرتا ہے کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ بدترین جانور ہیں۔ اسی طرح باطنی وجود کے سننے اور سمجھنے کو سماعت، بصارت سے تعبیر کرتا ہے۔ غور کریں تو عقل بھی نظر نہیں آتی ہے۔باطنی وجود کے چند مظاہر کو قرآن ایمان، یقین، خشوع، خضوع، انابت، اخبات وغیرہ سے تعبیر کرتا ہے۔
اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جس طرح انسان کا ظاہری وجود ہے اسی طرح باطنی وجود بھی ہے۔ باطنی وجود کو صرف محسوس کیا جاتاہے ، انہیں دیکھا یا چھوا نہیں جاسکتا اس کے باوجود یہ ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہی باطنی وجود ہے جو اللہ نے اپنی روح کے ذریعے یعنی پھونک کے ذریعے انسان میں پیدا کردیا۔ اب انسان دو عناصر کا مجموعہ بن گیا ایک مادی عنصر اور دوسرا غیر مادی یا روحانی عنصر۔ مادی وجود کو خدا نے کھنکناتی ہوئی مٹی سے تخلیق کیا اور غیر مادی وجود کو روح سے۔انسانی نفس دراصل مکمل شخصیت کا نام ہے جو اسی ظاہری و باطنی یا مادی و غیر مادی وجود وں کا مجموعہ ہے۔
یہاں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جس طرح ظاہری وجود کا مذہب سے براہ راست تعلق نہیں ایسے ہی باطنی وجود کا بھی مذہب سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ جس طرح فزکس یا بائلوجی کے قوانین ایک عیسائی ، ہندو، یہودی ، ملحد سب کے لیے برابر ہیں اسی طرح روحانیت یا نفسی علوم کے معاملات بھی ایک بدھ مت، جین مت یا ملحد و مسلمان سب کے لیے برابر ہیں۔ جس طرح ایک ایک ہندو اور مسلمان دونوں کے ہاتھ پاؤں ناک کان ہوتے ہیں اسی طرح ان کے احساسات و جذبات کامن ہوتے ہیں۔ جس طرح ظاہری وجود کو استعمال کرنے کے قوانین مذہب سے ماوارا ہیں اسی طرح باطنی وجود کو استعمال کرنے کے قوانین بھی یونیورسل ہیں۔ مذہب ان اصولوں کا درست استعمال سکھاتا ہے ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ "روحانیت ” سے کیا مراد ہے؟ یہ سمجھنے کے لیے ہمیں روحانیت کے تین پہلووں کو الگ الگ سمجھنا ہوگا۔ روحانیت کا پہلا پہلو اپنی ذات کی معرفت ، دوسرا پہلو خارج یا خدا کی معرفت اور تیسرا پہلو اس معرفت کے نتائج کو عملی شکل میں ڈھال کر شخصیت کی تعمیر کرنا ہے۔ابتدائی دو پہلو علمی اور تیسرا پہلو عملی ہے۔
پہلا پہلو اپنی ذات کو پہچاننا یا اپنی ذات کی معرفت ہے۔یہاں روحانیت اپنے باطنی وجود سے رجوع کرنے کا نام ہے، یہ اسے جاننے، اسے سمجھنے، اسے قابو کرنے اور درست طور استعمال کرنے کا نام ہے۔یہاں ایک انسان اپنے جذبات ، احساسات، شہوات، رغبات ، رحجانات ،اپنی شخصی کمزرویاں اور اپنی اچھائیاں جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ جتنا جانتا چلا جاتا ہے اتنا ہی معرفت حاصل کرتا جاتا ہے۔
روحانیت کا ایک پہلو تو اوپر بیان کیا کہ اپنی باطنی شخصیت سے تعلق پیدا اور انفس میں مراقبہ کرنا ہے۔ اس کا دوسرا بنیادی مقصد آفاق یعنی خارج کی معرفت ہے۔ یعنی روحانیت کا دوسر ا مقصد خدا اور کائنات کی معرفت ہے۔یہ معرفت مختلف مذاہب میں مختلف انداز میں پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر ہم اسلام میں دیکھیں تو خدا سےاس تعلق کو سب سے پہلے اس پر ایمان و یقین کے ذریعے پیدا کیا گیا ہے ۔ یعنی خدا کو مانے بنا اسلام میں کوئی داخل ہی نہیں ہوتا۔ اس کے بعد خدا اور بندوں کے درمیان ایک دوسرے اہم تعلق یعنی فرشتوں پر ایمان کے ذریعے اس کمیونکیشن چین جو جوڑا گیا جو خدا اور بندے کے درمیان مسنگ تھی۔ یعنی ایسا نہیں ہوا کہ انسان براہ راست خدا سے وحی لے ، اکثر پیغمبروں سے فرشتوں کے ذریعے ہی خدا نے رابطہ کیا ہے۔ خدا ور فرشتے غیب میں ہیں یعنی ہم انہیں دیکھ نہیں سکتے۔اسے ہم عالم بالا کہہ سکتے ہیں۔ اس کے بعد پیغمبروں اور کتابوں پر ایمان لانے کو کہا گیا۔ ان پیغمبروں یا کتابوں کا چونکہ مادی وجود ہے اس لیے ہم انہیں عالم زیریں کہہ سکتے ہیں۔اور اس عالم کا رابطہ عالم لاہوت سے ہوتا ہے۔
روحانیت کا تیسرا اور آخر پہلو شخصیت کی تعمیر ہے۔ جب انسان نے اپنے باطنی وجود کو جان لیا، اس نے خدا کی مطلوبہ معرفت بھی حاصل کرلی اور زندگی کا مقصد واضح کرلیا تو اب ایک ایسی شخصیت کو تعمیر کرنا ہے جو ان کثافتوں سے پاک ہو جو اسے رب کی بارگاہ میں نامقبول بنادیں۔چنانچہ اس کے لیے عبادات و اخلاقیات کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے جس مِیں علم و عمل ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ عبادات میں نماز، روزہ ، زکوٰۃ و حج کے ذریعے شخصیت کو خدا کی جانب جوڑا جاتا ہے تو دوسری جانب اخلاقیات کے مخلوق سے اچھے تعلق کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ یہاں ہم دیکھیں تو صرف ظاہری وجود ہی اللہ سے تعلق میں شامل نہیں بلکہ باطنی وجود نہ صرف شامل ہے بلکہ اصل تحریک بھی وہیں سے اٹھتی ہے۔
تو اگر ہم روحانیت کی تعریف کریں تو یوں بنتی ہے :
روحانیت سے مراد اپنی ظاہری اور باطنی اصل شخصیت کو جاننا، اپنے خالق کی معرفت حاصل کرنا اور اس علم کی بنیاد پر شخصیت کا تزکیہ کرنا ہے۔
روحانیت = ذاتی معرفت+خارجی معرفت+تعمیر شخصیت
۲۔ کیا روحانیت کے حصول کے لیے تصوف اختیار کرنا لازمی ہے؟
جواب : روحانیت کو اختیار کرنے کے جیسا کہ اوپر بیان کیا کہ تین اہم پہلو ہیں۔ ایک پہلو اپنی ذات کی معرفت اور اس کا کنٹرول حاصل کرنے کا عمل ہے۔ اس باطنی وجود سے رابطے کا تعلق ایک تکنیکی معاملہ ہے اور اس میں کسی مذہب کی کی مدد بھی لی جاسکتی ہے اور اس کے بغیر بھی یہ رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ اس رابطے کا ایک پہلا طریقہ غور و فکر ہے۔ یہ غورو فکر اورتعقل کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔اس میں نفسانی علوم آجاتے ہیں جیسے علوم نفسیات وغیرہ۔یہ طریقہ عام انسان استعمال کرتے ہیں لیکن اس کی اپنی محدودیت ہے۔ اس کا دوسرا طریقہ وحی سے مدد لینا ہے کہ وحی نے کس طرح انسان کے داخلی وجود کو بیان کیا ہے۔ یہ بہت مستند ذریعہ ہے لیکن وحی میں بالعموم جنرل باتیں ڈسکس ہوتی ہیں ۔ یہ کسی فرد کی داخلی شخصیت کے متعلق متعین طور پر نہیں بیان کرسکتی کہ اس کی داخلی شخصیت کا یہ پہلو ہے۔ اس کاایک اور طریقہ وجدان اور نفسانی معاملات کے ذریعے اپنی اندر ونی شخصیت کو جاننا ہے۔ مراقبے کے ذریعے ایک فرد عمومی نہیں بلکہ خصوصی باتیں بھی جان سکتا ہے کہ اس کی باطنی شخصیت اصل میں ہے کیا۔ لیکن اس طریقہ کی محدودیت یہ ہے کہ ایک تو ہر انسان کے وجدان کی پرواز مختلف ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ اس طریقہ کا ر میں زیادہ تر باتیں خواب اور تمثیل کی صورت میں ہوتی ہیں۔ انہیں سمجھنے کے لیے کسی نہ کسی راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
روحانیت کا دوسرا پہلو خدا اور بندے کے روحانی تعلق کو بیان کرتا ہے۔ یہ پہلو ہر صورت میں مذہب کا محتاج ہے۔ ہر مذہب خدا کی کوئی نہ کوئی معرفت بیا ن کرتا ہے ۔ اس معرفت کے صحیح ہونے میں دو چیزیں اہم ہیں۔ایک تو وہ مذہب جو یہ تعلیمات بیان کررہا ہے ۔ اگر مذہب کی تعلیمات مستند نہیں تو حاصل ہونے والی معرفت بھی ناقص ہوگی۔ دوسرا پہلو اس مذہب کی تعلیمات کو سمجھنا ہے۔ اگر کسی نے یہ تعلیمات غلط سمجھیں تو معرفت کا حصول بھی غلط ہوگا۔
روحانیت کا تیسرا پہلو ذاتی معرفت اور خدائی معرفت سے حاصل ہونے والے علم کو استعمال کرنا اور اسے عمل کی شکل میں ڈھالنا ہے۔ چونکہ اس عمل کا اظہار ہمار شخصیت ہی سے ہوتا ہے ، اسی لیے اسے تعمیر شخصیت کہا جاتاہے۔ یعنی ایک ایسی شخصیت جو ظاہر و باطن کو جانتی ہو، خدا کی معرفت رکھتی ہو اور اس کے مطابق درست عمل کرکے اپنی شخصیت کو اس سانچے میں ڈھال لیتی ہو جو خدا کو مطلوب ہے۔ تعمیر شخصیت کے بعض پہلو چونکہ مادی دنیا سے متعلق ہیں اس لیے ان پہلووں کے لیے مذہب کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر اس شخصیت نے عالم ناسوت سے عالم لاہوت کی جانب سفر کرنا ہے تو اب لازم ہے کہ و ہ مذہب اور وحی کا سہارا لے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا تصوف روحانیت کے حصول کے لیے تصوف اختیار کرنا لازمی ہے یا نہیں۔ اس کا جواب دینے سے قبل ہمیں تصوف کے تین اہم پہلووں کو سمجھنا ہوگا۔ پہلی بات تو یہ کہ تصوف صرف اسلام کا خاصہ نہیں بلکہ یہ دیگر مذاہب میں بھی موجود رہا ہے۔ تصوف روحانیت کے حصول کے لیے ایک جامع پیکج دیتا اور روحانیت کے ان تینوں پہلووں کو ایڈریس کرتا ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا۔ البتہ یہ ضروری نہیں کہ اس کی تمام تعلیمات درست ہوں۔ اس کا پہلا کام انسان کی معرفت کا حصول ہے۔ یہ انسان کے باطن کے بارے میں علم دیتا ہے کہ وہ کن کن احساسات ، رغبات، شہوات، میلانات وغیرہ کا مرقع ہے۔ یہاں تصوف وہی کام کرتا ہے جو کسی حد علم نفسیات کرتا ہے۔ تصوف میں ایک استاد جسے مرشد کہتے ہیں وہ انسان کو سب سے پہلے اپنے اندر جھانکنے کی تعلیم دیتا ہے۔
اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ خدا کی معرفت کی کچھ تھیوریز دیتا ہے۔ یہاں تصوف مذہب کو بائی پاس کرکے اپنی تھیولاجی پیش کرتا ہے۔ عام طو ر پر تصوف خدا اور کائنات کی جو توجیہات پیش کرتا ہے ان میں تین سر فہرست ہیں ۔ ایک نظریہ وحدت الوجود ہے، دوسرا وحدت الشہود اور تیسرا حلول کا نظریہ ہے۔ وحدت الوجود کا کلمہ لاموجود الااللہ یعنی اللہ کے سوا کوئی موجود نہیں۔ وحدت الوجود کا مقصد فنافی اللہ ہے۔ وحدت الشہود میں کائنات کی تشریح خدا کے سائے طور پر کی جاتی ہے۔ جبکہ حلول میں خدا انسانوں کی شکل میں زمین پر اوتار یا کسی اور صورت میں آجاتا ہے۔ یہ تینوں نظریات خلاف عقل بھی ہیں اور اسلام کی تعلیمات کے خلاف بھی۔ نیز مذہب کی وضاحت کے بعد ان تشریحات کی ضرورت ہی نہیں محسوس ہوتی۔مذہب واضح طور پر خدا اور بندے کا تعلق بیان کرتا اور اس کا مقصد واضح کردیتا ہے۔
تصوف کا تیسر اکام اپنے مندرجہ بالا نظریات کی روشنی میں تعمیر شخصیت کرنا ہے۔ اس کے لیے مراقبے ، چلے، ضربیں، نفس کشی، وظائف، عملیات، تصور شیخ، رہبانیت وغیرہ کی مشقیں کروائی جاتی ہیں۔ ان کی حیثیت ویسی ہی ہے جیسے آج کے دور میں لوگوں کو تربیت دینے کے لیے انٹرنیٹ، پاورپوائینٹ، وڈیو ،آڈیو کا استعمال کروایا جائے۔ سوال یہ ہے کہ آیا تصوف کے تعمیر شخصیت پیکج میں جو مشقیں ہیں وہ جائز ہیں یا ناجائز۔ اس میں کچھ مشقیں تو اپنی اصل صورت ہی میں اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہیں تو ان کے جواز کا تو کوئی امکان ہی نہیں۔ جیسے رہبانیت، تصور شیخ وغیرہ۔ اس کے علاوہ باقی مشقوں کو اگر دین کا حصہ نہ سمجھا جائے اور ان میں کوئی اخلاقی یا شرعی قباحت نہ ہو تو ان کے استعمال میں کوئی حر ج نہیں۔
تو خلاصہ یہ ہے کہ تصوف کا پہلا پہلو نفس کی معرفت ہے جس میں عمومی طور پر بات درست ہے۔ دوسرا پہلو خدا کی معرفت ہے جو عمومی طور پر غلط ہے۔ تیسرا پہلو تعمیر شخصیت ہے جس میں معاملہ بین بین ہے۔
۳۔ کیا قرآن روحانیت کا کوئی تصور دیتا ہے؟ اگر ہاں تو کیا دیتا ہے؟
جواب: قرآن کا اصل موضوع ہی تزکیہ نفس یعنی ایسی شخصیت پیدا کرنا جو جنت کی شہریت کی حامل ہوسکے۔ قرآن کا مرکزی خیال انسان ہی نہیں بلکہ انسان کی فلاح بھی ہے۔ یہ فلاح دنیا و آخرت دونوں کے لیے ہے۔ چنانچہ اگر ہم روحانیت کے تین پہلووں کو دیکھیں تو قرآن حیرت انگیز طور پر ان تینوں پہلووں کو ایڈریس کرتا اور ایک واضح پلان پیش کرتا ہے۔
سب سے پہلا پہلو اپنے نفس کو جاننا ہے یعنی انسان کو جاننا۔ قرآن آدم وابلیس، ابراہیم و نمرود، لوط و قوم لوط، موسی و فرعون، یوسف و برادران یوسف، ، ، طالوت و جالوت ،محمد و بولہب ، یہود ومومومنین اور صحابہ و کفار کی کیس اسٹڈی کے ذریعے جگہ جگہ یہ بتاتا ہے کہ اچھے اور برے انسان کی کیا کیا خصوصیات ہوتی ہیں، کون سی خصلتیں خدا کوپسند ہیں اور کون لوگ اسے ناپسند ہیں۔ کس طرح تعصب حق کو ماننے سے روکتا، کیسے حسد عداوت پر مجبو ر کرتا، کس طرح مذہبی پیشوائیت مادی مفادات کا تحفظ کرتی اورکس طرح انا پرستی انسان کی ناک رگڑنے کا باعث بنتی ہے۔دوسری جانب حق پرستوں کی کیس اسٹڈی بیان کی گئی ہے کہ کس طرح لوگ اپنی شخصیت کی کمزوریوں پر قابو پاکر قربانیاں دیتے اور دنیا و آخرت میں سرخرو ہوتے ہیں۔
قرآن روحانیت کا دوسرا پہلو بھی بہت خوبصورتی سے ڈسکس کرتا اور خدا و بندے کے درمیان تعلق کو علمی اور فلسفیانہ سطح پر واضح کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ خدا تنہا ہے ، اکیلا ہے، نہ و کیس کا باپ ہے نہ بیٹا۔ وہ بادشاہ ہے، وہ رحمان و رحیم ہے، وہ رب ہے ، علم وحکمت کا مالک ہے، وہی پیدا کرتا اور مارتا ہے، وہی طاقت کا منبع ہے۔ خدا کی صفات کی صورت میں وہ خوبصورت تعارف قرآن پیش کردیتا ہے کہ اس کے بعد صرف اس کو سمجھا تو جاسکتا ہے ، کوئی اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔
قرآن روحانیت کا تیسرا پہلو یعنی تعمیر شخصیت بھی موضوع بحث بناتا ہے۔ چنانچہ عبادات کی شکل میں نماز ، روزہ حج زکوٰۃ پیش کرتا ۔ معاشرت کے لیے نکاح کو پسند کرتا اور اس کی بنیاد پر وجود میں آنے والے رشتوں کوتقدس عطا کردیتا ہے۔ معیشت کی بنیاد ظلم وعدوان سے پاک کرنے کی ہدایت کرتا، اخلاقیات میں اصل الاصول خیر خواہی کو قراردیتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ قرآن روحانیت کے تینوں پہلووں پر جامع لیکن اصولی ہدایات دیتا ہے۔جس کی روشنی میں کوئی بھی فرد اپنے لیے لائحہ عمل طے کرسکتا ہے۔
۴۔ کیا روحانیت کا شخصیت کے ارتقا سے کوئی تعلق ہے؟
جواب: جیسا کہ اوپر بیان کیا کہ روحانیت ک ے تینوں پہلوو ں کا اصل مقصد شخصیت کا ارتقا ہی ہے۔ ابتدا کی دو معرفتیں یعنی معرفت نفس اور معرفت رب علمی بنیادوں کا تزکیہ کرتیں اور تعمیر شخصیت کے ٹولز عملی بنیادوں کی اصلاح کرتی ہیں۔ یہ علم و عمل جب مل جاتے ہیں تو ایک ربانی یا روحانی شخصیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ شخصیت ایک جانب دنیا میں کامیاب ہوتی اور بندوں سے معاملات میں ان کے حقو ق پوری کررہی ہوتی ہے۔یہ دنیاوی معاملات میں مشکل پیش آنے پر واویلا مچانے کی بجائے صبر کرتی، کسی پریشانی پر ہول کھانے کی بجائے توکل کرتی، بیماری میں تحمل کا مظاہر کرتی ہے۔ دوسری جانب یہ شخصیت لوگوں کے لیے سراپا رحمت بن جاتی اور نہ صرف اپنی ذات سے دوسروں کو نقصان پہنچانے سے گریز کرتی بلکہ آگے بڑھ کر انہیں مشکللات سے نکالنے کی حتی المقدور کوشش کرتی ہے۔
دوسری جانب یہ شخصیت خدا کی معرفت سے لبریز ہوتی ہے۔ یہ خدا کے لیے جان و مال لٹانے پر تیار ہوتی ہے۔اس کے بعد اس کا سونا جاگنا چلنا پھرنا سب عبادت بن جاتا ہے۔
اس قسم کی شخصیت کی پہلی مثال پیغمبر ہیں۔ یہ پیغمبر بہت برگزیدہ ہونے کے باوجود انسان تھے اور یہی ان کا کمال ہے۔ انہیں بھی بھوک پیاس لگتی تھی، انہیں بھی پتھر لگنے پر تکلیف محسوس ہوتی تھی، انہیں بھی لوگوں کے طنزیہ جملے تکلیف دیتے تھے، انہیں بھی معاش کے مسائل درپیش تھے، انہیں بھی اپنے خاندان والوں کی مخالفت کا سامناتھا، انہیں بھی قتل کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ ان سب کے باوجود ان کا اس اعلی اوصاف کا مظاہر ہ کرنا ہی اصل کمال تھا۔ کیونکہ یہ اپنی معرفت بھی رکھتے تھے اور خدا کی بھی ۔ساتھ ہی اس علم کو اپنے عمل میں ڈھالنے کا فن بھی جانتے تھے۔ یہی وہ روحانی شخصیات ہیں جن کے اسوہ کی پابندی کا ہمیں کہا گیا ہے۔ لیکن ہم ہیں کہ انہیں انسان ہی ماننے کو تیار نہیں۔ایک گروہ تو انہیں نور قرار دے کر ان کی تمام قربانیوں پر سوالیہ نشان کھڑا کردیتا ہے۔ دوسری جانب جو لوگ انبیا کو نور نہیں انسان مانتے ہیں وہ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمہ وقت خدا کے فرشتوں کے جلو میں رہتے اور ان کو کوئ تکلیف دامن گیر نہ ہوتی تھی۔ نہیں ایسا نہیں۔ انہیں ہم سے زیادہ تکالیف ملیں لیکن پھر بھی انہوں نے خدا کی پسندیدہ شخصیت بننے کا بیڑا اٹھایا اور خدا کے لیے تن من دھن قربان کیا۔ یہی ہمارا کام ہے کہ ان کی سنت پر عمل کریں۔
۵۔ کیا روحانیت اور توہمات میں فرق ہے، اگر ہے تو کیا؟
روحانیت کی بنیادیں فطرت، وحی، عقل اور دیگر محکم علوم کی مضبوط بنیادوں پر ہیں۔،جبکہ توہمات اسی وقت پیدا ہوتے ہیں جب انسان کے پاس علم کی کمی ہوتی ہے۔ جو لوگ روحانیت کے نام پر توہمات کے قائل ہوتے ہیں وہ مطلوبہ نتائج پیش کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں ۔ یہی توہمات اور روحانیت کے درمیان حد فاصل ہے۔
۶۔ کیا مراقبہ کرنے کو اگر اسلامی نہ سمجھا جائے تو یہ جائز ہے؟
جیسا کہ اوپر ڈسکس کیا کہ مراقبہ اپنی شخصیت میں جھانکنے اور اسے مضبوط بنانے کا ایک ٹول ہے۔ جس طرح انٹرنیٹ کے ذریعے دین کی دعوت دینا بدعت نہیں ایسے ہیں مراقبہ اپنی ذات میں بدعت نہیں۔
۷۔ کیا مراقبے میں میوزک سننا جائز ہے؟
میوزک سننا اپنی ذات میں حرام نہیں بلکہ میوزک کا غیر شرعی استعمال حرام ہے۔ اس لیے اگر میوزک جائز حدود میں ہے تو یہ مراقبے میں سننا جائز ہے۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s