ایک اہم حدیث کی وضاحت

ایک اہم حدیث کی وضاحت.
پروفیسر محمد عقیل
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوزخ والوں کی دو قسمیں ایسی ہیں کہ جنہیں میں نے نہیں دیکھا ایک قسم ۔۔۔۔ ان عورتوں کی ہے جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہیں وہ سیدھے راستے سے بہکانے والی اور خود بھی بھٹکی ہوئی ہیں ان عورتوں کے سر بختی اونٹوں کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ہیں وہ عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی جنت کی خوشبو پا سکیں گی جنت کی خوشبو اتنی اتنی مسافت(یعنی دور) سے محسوس کی جا سکتی ہے۔”( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1085)
اس حدیث سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ یہ جوڑا باندھنے والی عورتوں کی مذمت میں ہے یااس میں صرف خواتین کی مذمت کی گئی ہے۔
دراصل یہ حدیث اس روئیے کی مذمت میں کی گئی ہے جو جنس مخالف کو زنا کی جانب اکسانے کے لئے اپنایا جائے۔ اس میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ یہ وہ اوباش اور آوارہ عورتیں ہیں جو خود بھی بھٹکی ہوئی ہیں اور دوسروں کو بھی بھٹکانے کا باعث بنتی ہیں۔
یہی رویہ اگر مردوں میں پایا جائے تو قابل مذمت ہے۔ مثال کے طور پر کوئی آوارہ لڑکا عورتوں کو بہکائے، انہیں اپنے لباس ، چکنی چپڑِ ی باتوں ، اپنی پر کشش شخصیت یا اپنے دولت کے جھانسے میں لے کر ان کو غلط کام پر اکسائے یا و ورغلائے تو ا وہ بھی اس حدیث کی وعید میں آئے گا اور وہ بھی انشاءاللہ نہ جنت میں داخل ہوپائے گا اور نہ ہی اس کی خوشبو پاسکے گا۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: