سورہ فاتحہ کی تفسیر


سورہ فاتحہ کی تفسیر

پروفیسر ڈاکٹر محمد عقیل
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم فرمانے والا ہے
تعارف: سورہ فاتحہ کی تین آیات علم اور باقی تین آیات عمل کی ہیں۔ یہ ترازو یا میزان کے دو پلڑے ہیں جس میں ایک جانب علم اور دوسری جانب عمل موجود ہے۔ علم اور عمل کے امتزاج ہی سے فاتحہ یعنی وہ دروازہ کھلتا ہے جس سے انسان دینی و دنیوی زندگی کی کامیابیاں سمیٹتا ہے۔سورہ فاتحہ دین و دنیا کی کامیابی کا فلسفہ اور کنجی ہے۔ یہ کم و بیش متفقہ طور پر وہ پہلی سورۃ ہے

جو مکمل طور پرنازل ہوئی۔
1. سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کی پرورش فرمانے والا ہے
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ یعنی اللہ کا جو پہلا تعارف ہمیں جس صفت سے دیا گیا وہ رب کی ہے جس کا مطلب آقا، پالنے والا، محافظ ، پالنہار، پروروش کرنے والے کا ہے۔ تو اللہ کا پہلا تعارف جس صفت کا ہے وہ ” رب ” ہے۔ تو اللہ کا پہلا تعارف، یا پہلی صفت یا پہلی تعریف ((Definition یہ ہے کہ وہ تمام جہانوں کا رب ہے۔
اللہ کی چھ بڑی صفات میں ” رب ” ایک نمایاں صفت ہے۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ ہی تعریف کا مستحق ہے اور اس کی وجہ بھی بتادی کہ وہ ہی اصل پالنے والا ہے۔ اور وہ صرف اس دنیا کے کسی ایک حصے کا پالنے نہیں بلکہ تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ اس کے رب ہونے کا بنیادی تقاضا صرف یہی نہیں کہ وہ انسان کی مادی نشونما کا خیال رکھے اور اسے کھانے پینے، رہنے اور ستر پوشی کے لیے سامان فراہم کرے۔ بلکہ وہ انسان کے روحانی وجود کے ارتقا کا بھی اسی محبت سے خیال رکھتا ہے ۔
یہ وحی جس کا دیباچہ سورہ فاتحہ ہے اسی ربوبیت کا تسلسل ہے۔ وہ پالتا ہے تو صرف جسم ہی کو نہیں پالتا بلکہ روح اور عقل کو بھی غذا فراہم کرتا ہے۔ یہ قرآن اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں انسان کو اس کے رب کا تعارف، اس کا مقصد حیات ، دنیا وی شریعت اور آخرت میں کامیابی و ناکامی کے مدارج ایک یقینی سطح پر بتائے جارہے ہیں۔
2. نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کس قسم کا رب آقا یا پالنے والا ہے۔ کیا وہ جابر ظالم قسم کا آقا ہے جو صرف اپنے بندوں پر ظلم کرنا جانتا ہے ۔ تو ان آیات میں اس کا جواب دیا گیا کہ نہیں وہ رحمان اور رحیم ہے۔ رحمان اور رحیم اس رب کی صفات ہیں۔ یہ محض صفات نہیں بلکہ خدا کی نظام ربوبیت کا قانون ہیں۔
صفت رحمان کا تعارف
رحمان کی صفت ایک الگ میکنزم ہے اور رحیم ایک الگ سسٹم۔ صفت رحمان اسباب و نتیجہ (Cause and effect) کے سسٹم کو بیان کرتی ہے۔ ایک شخص دنیاوی زندگی میں جس طرح اسباب کو استعمال کرے گااسی قسم کا پھل کھائے گا۔ ایک طالب علم اگر محنت کرے گا تو پاس ہوجائے گا، اگر کوئی بزنس کاروباری صلاحیتیوں کو اچھی طرح استعمال کرے گا تو ترقی کرے گا۔ صفت رحمانی صرف مثبت ہی نہیں منفی امور میں بھی اسی قسم کے نتائج پیدا کرتی ہے۔ چنانچہ ایک شخص اگر ناجائز ذرائع سے دولت جمع کرنے کی پلاننگ کرے گا تو اسباب و علل کا یہ نظام اس کی اسی طرح مدد اور سپورٹ کرے گا جیسے حلال روزی کمانے والے کی کرتا ہے۔
لیکن یہ صفت رحمانی جس طرح مادی امور میں کام کرنے والوں کو سپورٹ سسٹم فراہم کرتا ہے اسی طرح اخلاقی میدان میں بھی اس کا نتیجہ نکلتا ہے۔ چنانچہ ایک شخص جو جھوٹ بولے گا وہ وقتی فائدہ تو اٹھا لے گا لیکن طویل مدت(Long run) میں وہ لوگوں کے درمیان جھوٹا مشہور ہوجائے گا اور وہ سارے نقصانات سمیٹ لے گا جو جھوٹ بولنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک شخص اگر ساری زندگی فراڈ کرتا رہے اور لوگوں کو دھوکا دیتا رہے تو وہ سوسائٹی میں اس حیثیت سے مشہور ہوجاتا اور ایک وقت آتا ہے کہ پکڑا جاتا ہے۔
لیکن بعض اوقات ایک شخص ساری زندگی چوری ، ڈاکہ ، فراڈ اور کرپشن کے باوجود پکڑا نہ جائے یا اسے کوئی نقصان نہ پہنچے۔یہ صفت رحمانی یا اسباب و علل کی دنیا کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس قسم کے شخص کے لیے دنیا میں صفت رحمانی کسی اور طرح کام کرتی اور اسے بے سکونی ، بے برکتی، ٹینشن، ڈپریشن، اولاد کی جانب سے اذیت یا اسی قسم کے دوسرے عذاب میں مبتلا کرکے اس کی سزا کا تعارف پیش کرتی ہے ۔ یہ سزا بعض اوقات پوشید ہوتی ہے اور دیکھنے والوں کو نظر نہیں آتی لیکن جس پر بیت رہی ہوتی ہے وہی اس کو جانتا ہے۔ اصلی سزا تو آخرت ہی میں ممکن ہے۔
صفت رحمان کا خلاصہ ہے کہ ” جو بوؤگے وہی کاٹو گے” یا” اچھے کام کا اچھا انجام اور برے کا کام برا انجام "۔ یہ نظام ربوبیت سب کے لیے کامن ہے خواہ وہ خدا کا ماننے والا ہو یا اس کا انکاری۔ خواہ وہ اچھائی کا معاملہ ہو یا برائی کا۔ یہ معاملہ دنیاوی زندگی میں بھی ہے اور آخرت میں تو بالکل قطیعت کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔اور انسا ن آزاد ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جو چاہے قبول کرے۔
صفت رحیم
صفت رحمان اسباب و علل کی دنیا کا تعارف ہے تو صفت رحیمیت خدا شفت، رحمت ، محبت کا اسباب و علل سے ماوار اظہار۔ صفت رحمان جزا و سزا کا نظام ہے جبکہ صفت رحیم اس جزا کے نظام کا تیزی کے ساتھ اطلاق۔ جب ایک شخص آگے بڑھ کر خود کو خدا کی غلامی میں دے دیتا، اپنا تن من دھن قربان کردیتا اور اپنا قیمتی وقت خدا کے لیے وقف کردیتا ہے تو یہی رحمانی سسٹم رحمیت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اب وہ خدا کی براہ راست نگرانی میں زندگی بسر کرتا ہے۔ پھر ربوبیت کا نظام اسباب سے ماورا ہوکر اس کے لیے رحمت ، شفقت ، مہربانی اور عنایت کا منبع بن جاتا ہے۔ یہاں ضروری نہیں کہ ایسا شخص صرف مادی طور پر ترقی کرے۔ اس کا ارتقا داخلی و خارجی دونوں میدانوں میں ہوتا ہے۔ وہ خارجی طور پر دولت، شہرت، عزت، اسٹیٹس، اچھے تعلقات، اقتدار اور دیگر چیزوں سے مستفید ہوسکتا ہے تو باطنی طور پر سکون، شخصیت کے ارتقا، علم، حکمت ، معرفت ، قرب الٰہی وغیرہ سے مستفید ہوسکتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ایک شخص بظاہر دنیا میں غریب اور مجبور شخص کی حیثیت سے نظر آئے لیکن لانگ ٹرم میں وہ ایک کامیاب شخص کی حیثیت سے ابھرتا ہے۔
صفت رحیمیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ خود کو خدا کے سپرد کردیتے ہیں تو خدا بھی ان کا ہوجاتا ہے۔ صفت رحمان اور رحیم کا خلاصہ ایک مثال سے سمجھ آسکتا ہے۔ ایک شخص اگر لگی بندھی نوکر ی کرتا ہے تو اسے لگی بندھی تنخواہ ملتی ہے۔ دوسری جانب کوئی شخص اگر اپنے مالک کی خدمت میں نوکری کے اوقات نہیں دیکھتا ، نہ دن دیکھتا ہے نہ رات تو اس کو انعام بھی پھر اسی کی مناسبت سے ملتا ہے۔
3. روز جزا کا مالک ہے
روز جزا سے مراد ہمارے لٹریچر میں صرف آخرت کا دن لیا جاتا ہے ۔ عمومی طور پر تو یہ بات درست ہے لیکن اس کا تجربہ ہم دنیا ی زندگی میں بھی کرتے ہیں۔ اس دنیا میں بھی ہم جو عمل کرتے ہیں اس کا بدلہ پاتے ہیں۔ یہ بدلہ دینے والی ذات وہی رب ہے۔ چنانچہ بالواسطہ طور پر ہر بدلہ یعنی جزا و سزا کا مالک اللہ ہی ہے لیکن وہ نظر نہیں آتا۔ روز جزا کے دن اصل میں وہ ظاہر ہوجائے گا ۔ اس دنیا میں لوگ جب اسباب کے پردے میں ہی بدلہ کو دیکھتے ہیں تو روز جزا میں وہ اس پردے کے پیچھے اصل ہاتھ کو دیکھ لیں گے۔ وہ جان لیں گے کہ اصل مالک کون ہے۔
بدلہ کے نظام میں ایک اہم بات یہ ہے کہ انسان کو کوشش کرنے کا تو اختیار ہے اس کا بدلہ حاصل کرنے کا اختیار نہیں۔ مثال کے طور پر ایک طالب علم کو محنت کرنے کا اختیار ہے لیکن اس کا نتیجہ لانے کا اختیار نہیں۔ اس کی کامیابی میں صرف اس کی محنت ہی کا پہلو نہیں بلکہ دیگر عناصر بھی شامل ہیں جیسےامتحان دیتے وقت اس کی صحت کا برقرار رہنا، اس کی کاپی کا درست طور پر جانچا جانا ، کسی فراڈ کا نہ ہوجانا وغیرہ۔ اسی لیے بدلہ دینے کا مکمل اختیار خدا کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ دنیا میں بدلہ ملنے کا اصول آزمائش اور آخرت میں بدلہ ملنے کا اصول محنت ہے۔
یہاں جزا و سزا اسی صفت رحمانی کے تحت ہوگی۔ جس کے تحت جس نے جو کام کا ہوگا اس کے مطابق اس کا بدلہ دے دیا جائے گا۔ یعنی جو بدلے کا نظام اس دنیا میں نافذ تھا وہ کامل صورت میں آخرت میں ظاہر ہوجائے گا۔ چونکہ اس دن سارے کام حق کے مطابق ہونگے اس لیے برے کام کو چھپانا ممکن نہیں ہوگا اور صرف اچھائی ہی کا انجام اچھا ہوگا اور برائی کا انجام برا۔
اس دن بھی صفت رحمانی کا ایک پہلو رحیمیت کا بھی اظہار ہوگا ۔ چنانچہ خدا کے انبیاء، صدیقین، شہدا، صالحین کو الگ کرکے انہیں حساب و کتاب سے مستثنی قرار دے کر براہ راست خدا کی قربت کا عندیہ دے دیا جائے گا۔
تین آیات کا خلاصہ
سورہ فاتحہ کی ان تین آیات کو دیکھیں تو یہ خالصتا علمی پہلو کی جانب نشاندہی کرتی ہیں۔ یعنی علمی طور یہ بتاتی ہے کہ تمام تعریفوں کا مستحق اللہ رب العالمین ہے اور اللہ کا پہلا تعارف یہ ہے کہ وہ رب العالمین ہے یعنی تمام جہانوں کا پالنے والا اور آقا۔ وہ ایسا رب ہے جس نے صفت رحمانیت کے ذریعے جزا و سزا کا نظام دنیا و آخرت میں نافذ کررکھا ہے۔ یہ نظا م ربوبیت اس قانون پر ہے کہ جو بوؤگے وہی کاٹوگے۔اس کا مظاہرہ روز جزا کی صورت میں آخرت میں ظہور پذیر ہوگا لیکن دنیا میں بھی اس کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے۔
اگلی تین آیا ت
سورہ فاتحہ کی اگلی تین آیات ترازو کا دوسرا پلڑا ہیں۔پہلا پلڑا کامیابی کے علمی پہلو کی وضاحت کرتا ہے جبک دوسرا پلڑا عمل کے پہلو کو واضح کرتا ہے۔ علم کے بغیر عمل ممکن نہیں اور عمل کے بنا علم بے کار ہے۔ اگلی آیات اسی علمی پہلو کو عمل میں منتقل کرنے کو بیان کیا ہے۔
4. (اے اللہ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں
جب خدا کا ایک اجمالی تعارف مل گیا کہ وہ ہی لائق تعریف ہے ، وہی رب ہے، اس کا رحمانی و رحیمی سسٹم پوری شان سے نافذا لعمل ہے اور اسی کے ہاتھ میں دنیا و آخرت کا بدلہ ہے۔ جب تنہا وہی اس پورے دنیاوی و دینی نظام ربوبیت کا مالک ہے اور تنہا تعریف کے لائق ہے تو پھر تنہا اسی کی بندگی کی جائے۔
عبادت کا مفہوم
عبادت کا مطلب ایک عاجز ، حقیر اور پست غلام کا اطاعت گذاری کرنا ہے۔یہاں عبادت کا مفہوم یہی ہے کہ خدا کے سامنےانتہائی عاجزی اور تذلل اختیار کیا جائے اور اسی کی اطاعت کی جائے اور اگر کسی اور کی اطاعت بھی کی جائے تو اس کو خدا کی اطاعت کے ذیل ہی میں کیا جائے۔ چنانچہ پیغمبر، والدین، حکومت، اساتذہ وغیرہ کی جو اطاعت کی جاتی وہ خدا کی اطاعت کے ذیل ہی میں کی جاتی ہے۔
غیر اللہ کی عبادت کا مفہوم یہی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور ہستی کے مراسم عبودیت (جیسے سجدہ ) اور اطاعت اس درجے میں کی جائے اور اس نیت سے کی جائے جو صرف اللہ ہی کو سزا وار ہے۔
استعانت یعنی مدد مانگنے کا مفہوم
اس علمی پہلو کو جان لینے کے بعد انسان جب خدا کی راہ میں قدم رکھتا ہے تو دنیوی و دینی زندگی میں قدم قدم پر اسے مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ ان مشکلات سے نبٹنے کے لیے وہ درحقیقت خدا کی جانب ہی رجوع کرتا ہے۔ اور اسی سے مدد مانگتا ہے۔ مدد مانگنے سے کیا مراد ہے یہ بھی جان لینا چاہیے۔ خدا کا رحمانی نظام اسباب کی دنیا ہے۔ چنانچہ اسباب کو کسی کام کو کرنے کے لیے استعمال کرنا دراصل خدا ہی سے مدد مانگنا ہے کیونکہ اسباب خدا ہی کے بنائے ہوئے ہیں۔ چنانچہ ایک شخص بیماری دور کرنے کے لیے دوا استعمال کرتا ہےتو یہ بیماری دور کرنے کا وہ طریقہ ہے جو اسباب و علل پر مبنی ہے اور دوا استعمال کرنا خدا ہی مدد مانگنا ہے۔ اسی طرح کسی انسان سے قرض لینا یا کوئی چیز سمجھنے کے لیے مدد لینا مادی وسائل کو استعمال کرنا ہے اور خدا کی رحمانیت ہی کی توثیق ہے۔
مدد کی ایک اور قسم ہوتی ہے جو اسباب سے ماورا ہوتی ہے۔ اسباب سے ماورا مدد صرف خدا سے مانگی جاسکتی ہے اور اس کا طریقہ بھی خدا ہی بتاتا ہے۔ اگر اس کی سند خدا کے بتائے ہوئے طریقے میں نہ ملے تو یہ شرک تک لے جاسکتی ہے ۔مثال کے طور پر مشرکین مکہ فرشتوں کو خدا کی بیٹی قرار دے کر ان کو سفارش کے لیے استعمال کرتے تھے۔ خدا نے قرآن میں سب سے پہلا اعتراض ہی یہ کیا کہ اس بات کی سند عقل و فطرت یا وحی میں دکھاؤ کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں اور خدا ان کی بلامشروط بات سنتا اور مانتا ہے۔اسی طرح جنات سے مدد مانگنا بھی خدا کی سند کے بنا تھا اس لیے یہ بھی شرک قرار پایا۔
دوسری جانب ہم دیکھیں تو حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں بیان ہوتا ہے کہ وہ جنات سے کام لیا کرتے تھے اور جنات ان کے فرماںبردار تھے۔یہاں جنات کو استعمال کرنا، ان کو عمارتیں تعمیر کرانے کے استعمال کرنا کسی طور شرک میں نہیں آئے گا کیونکہ یہ خدا کی اجازت سے تھا اور اسباب کے تحت تھا۔
غیر اللہ سے مدد مانگنے کا ایک اور معاملہ جمادات جیسے چاند سورج اور ستاروں اور آگ کو خدا کا مظہر سمجھ کر ان سے مانگنا ہے ۔ ظاہر ہے اس کی تردید بھی عقل و فطرت اور وحی میں ہوجاتی ہے۔ غیر اللہ سے مدد مانگنے کی ایک اور مثال مزارات پر بزرگوں کو زندہ سمجھ کر ان کے ذریعے خدا سے سفارش کرانا ہے۔ اگر اس کی توثیق خدا نے کی ہے کہ یہ برگزیدہ ہستیاں اصل میں زندہ ہوتے ہیں اور ان کی زندگی اس طرح کی ہوتی ہے کہ ہم ان سے رابطہ کرسکتے ہیں اور یہ بھی ہم سے رابطہ کرسکتے اور خدا کے حضور ہماری بات رکھ سکتے ، ہمارے لیے دعا مانگ سکتے اور ہمیں نفع پہنچاسکتے ہیں۔ اگر ایسی توثیق موجود ہے تو شرک نہیں اور نہیں تو یہ شرک ہے۔
اللہ کے سواکسی دوسرے سے مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ اسباب سے ماورا خدا کی توثیق یا منظوری کے بغیر کسی ہستی یا شے سے مانگا جائے۔
5. ہمیں سیدھا راستہ دکھا
اس آیت کا تعلق آیت نمبر دو سے ہے ۔ آیت نمبر دو میں بتایا گیا کہ وہ رب رحمان و رحیم ہے۔ تو اب اسی سے راستہ دکھانے کی درخواست کی جارہی ہے۔ عام طور پر اس آیت کو دینی اور آخرت کے معاملات تک محدود کیا جاتا ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس دنیا میں بھی سیدھا راستہ خدا ہی دکھاتا ہے خواہ وہ دنیاوی کامیابی جیسے اچھے کیرئیر کو منتخب کرنے کا معاملہ ہو یا آخرت میں کامیابی کا معاملہ۔
سیدھا راستہ دکھانے کی دعا دراصل درست فیصلہ سازی (Decision Making) کی دعا ہے۔ خدا کے رحمانی نظام میں کامیابی کے لیے صرف جذباتیت ، نعرہ بازی اور اللہ ھو کی ضربوں سے کام نہیں چلتا۔ اس نظام میں کامیابی کے لیے سب سے پہلے ان اسباب اور عناصر کو جانا جاتا ہے جو کامیابی کے بنیادی عناصر ہیں۔ ان مادی اسباب کو حتی المقدور سمجھ لینے کے بعد اور استعمال کرلینے کے بعد ہی خدا کی نصرت زمین پر اترتی ہے۔چنانچہ جنگ بدر میں نبی کریم نے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے، جتنے لوگ موجود تھے سب نے جنگ میں حصہ لیا، جنگ کی جگہ کا انتخاب مشاورت سے کیا گیا ۔ یہ تما م اقدام کرنے کے بعد ہی ممکن ہوا کہ خدا کے فرشتے زمین پر اترے اور مخالفین کو ختم کردیا۔
تو صراط مستقیم کا مطلب کامیابی کا راستہ ہے جو آخرت اور دنیا دونوں کے لیے ہے۔ اسی راستے کی جانب راہمنائی کی درخواست رحمان و رحیم سے کی جارہی ہے تاکہ اس کے نظام ربوبیت یا پرورش میں شخصیت کو ترقی دی جاسکے۔
اب خد ا سے یہ درخواست کس طر ح کی جاتی ہے یا کی جانی چاہیے؟ یہ معاملہ صرف زبانی ہی نہیں عملی بھی ہے۔ چونکہ یہ آیت عمل کے پلڑے سے متعلق ہے اس لیے یہ علمی معاملہ نہیں عملی ہے۔ صراط مستقم کی درخواست کرنا دراصل تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاکر راہنمائی کی درخواست کرنا ہے۔ جیسے ایک طالب علم یہ فیصلہ کرنے جارہا ہے کہ کس فیلڈ کا انتخاب کرے۔ تو وہ سب سے پہلے تو فیصلہ سازی کے تمام اصولوں کو ذہن میں رکھے ، لوگو ں سے مشاورت کرے، معلومات اکھٹا کرے اور ان کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔اس طالب علم کا یہ سارے کام کرنا دراصل صفت رحمانی کی ورکنگ کو سمجھنا یعنی خدا کے بنائے ہوئے کامیابی کے اصولوں کو جاننا اور استعمال کرنا ہے۔
خدا کی صفت رحمانی سے راہنمائی کی درخواست کرنا دراصل خدا ہی سے درخواست کرنا ہے کہ وہ اسے سیدھے راستے کی جانب لے جائے۔ اب جو بھی ان قوانین کو جان کر ان پر عمل کرے گا وہ دنیاوی ترقی کا راستہ پالے گا خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ البتہ آخرت میں کامیابی کے لیے خدا کی وفاداری شرط ہے یعنی جنت صفت رحیمیت کی عطا ہے۔
6. ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا۔ ان لوگوں کا نہیں جن پر غضب کیا گیا ہے اور نہ (ہی) گمراہوں کا
یہ آیت اسی سورہ کی آیت نمبر ۳ کا جوڑا ہے جس میں کہا گیا کہ اللہ ہی روز جزا کا مالک ہے یعنی کسی بھی کام کا بدلہ دینا اصلا خدا کے اختیار میں ہے۔یعنی تمام علم و عمل کے باوجود اصل اختیار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے ۔ تو اس آیت میں متعین طور پر ان لوگوں کے راستے پر چلنے کا کہا جارہا ہے جن پر انعام ہوا اوران کی راہ پر چلنے سے گریز کی دعا کی جارہی ہے جن پر غضب ہو ا یا جو بھٹک گئے۔
یہ آیت پوری سورہ فاتحہ کا نچوڑ ہے۔ اصل میں یہ وہ منزل ہے جہاں سورہ فاتحہ کے قاری کو لانا مقصود ہے۔ خدا کی تعریف، اس کی رحمانیت کے نظام اور اس کے بدلہ کے طاقت کے ادراک کے بعد اسی کی عبادت کی جارہی اور اسی سے مدد مانگی جارہی ہے ۔ اسی کے نظام کے تحت درست فیصلہ سازی کی جارہی ہے ۔ اس فیصلہ سازی میں ایک اہم کردار کیس اسٹڈیز کا بھی ہوتا ہے۔ ہم اپنے ارد گرد بے شمار ایسی شخصیات دیکھتے ہیں جو یا تو کامیاب دکھائی دیتے ہیں، یا بھٹکے ہوئے معلوم ہوتے ہیں یا یوں لگتا ہے کہ ان پر خدا غضب نازل ہوا ہے۔ ان لوگوں کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہوتی ہے۔ یہ کیس اسٹڈی ہم دنیا کی زندگی میں بھی اختیار رکھتے ہیں اور آخرت میں بھی۔
مثال کے طور پر سب سے پہلے پیغمبروں کی زندگی آتی ہے۔ پیغمبر خدا کی رحمانی نظام سے نہ صرف آگاہ ہوتے ہیں بلکہ وہ خدا کی صفت رحیمیت کے تحت بھی ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں ایک غلط تصور یہ پایا جاتا ہے کہ یہ دنیاوی طور پر ناکام شخصیات ہوتے ہیں کیونکہ کہ غریب اور مجبور ہوتے ہیں۔ یہ ان کی زندگیوں کا ظاہری مطالعہ ہے۔ عام طور پر پیغمبر اپنی زندگی کے فیز میں ایک ایسی شخصیت نظر آتے ہیں جو دنیاوی طور پر محروم طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن یہ خدا کے رحمانی نظام کو جانتے ہوئے اس فیز کو صبر و استقامت اور حکمت کے ساتھ گذار لیتے اور اپنے ساتھ ایک مختصر ہم خیال لوگوں پر مشتمل گروہ بنالیتے ہیں۔ اگلے مرحلے میں ان کے مخالفین تباہ کردیے جاتے اور یہی محروم گروہ اس زمین کا وارث بن جاتا ہے۔ تو دنیاوی طور پر بھی اصل کامیابی انہی پیغمبروں کی جماعت کو ملی ۔
دوسری جانب وہ لوگ تھےجو خدا کے رحمانی نظام کے صرف ظاہری پہلو کو جانتے تھے۔ وہ ظاہری پہلو مادی اسباب کا تھا۔ جیسا کہ ہم نے اوپر پڑھا کہ خدا کا رحمانی نظام صرف مادی اسباب و علل کا نام نہیں۔اس میں نظام میں اخلاقی معاملات بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے مادی۔ جس طرح ایک شخص کا آگ میں ڈالنے کا لازمی نتیجہ ہاتھ جل جانا ہے ایسے ہی جھوٹ بولنے کا لازمی انجام بے اعتبار ہوجانا ہے۔ لیکن پہلا معاملہ بہت جلد نظر آجاتا ہے اور دوسرے معاملے کا نتیجہ دیر سے نکلتا ہے۔ چنانچہ پیغمبر کے مخاطبین جب حق کو جان کر اور اس کو مان کر اورسمجھ کر محض شارٹ ٹرم مفادات کے لیے لانگ ٹر م فوائد کو چھوڑ دیتے ہیں تو خدا کا رحمانی نظا م انہیں یہ شارٹ ٹرم فوائد دےدیتا ہے۔لیکن جونہی اس کی مدت پوری ہوتی ہے ان کو اس کا فائدہ ملنا بند ہوجاتا ہے اور خدا کا رحمانی نظام انہیں مزید کسی لانگ ٹرم فائدہ کو حاصل کرنے سے قبل انہیں فنا کردیتا ہے۔ انہوں نے یہی چاہا تھا اور سسٹم نے یہی کچھ انہیں د ے دیا۔
انعام یافتہ لوگوں اور غضب کا سامنا کرنے والے گروہ کے درمیان اور اور گروپ ہوتا ہے جسے ضالین یا بھٹکے ہوئے لوگ کہا جاتا ہے۔ یہ گروہ ان دوانتہاؤں کے درمیان ہوتا ہے ۔ یہ و ہ لوگ ہیں جنہوں نے ابھی حق کا اس درجے میں انکار نہیں کیا کہ ان پر غضب نازل ہو۔ ان کے بھٹکنے کی دو بنیادی وجوہات ہوتی ہیں، یا تو یہ علمی طور پر ناقص مقام پر ہوتے ہیں یا عمل کے لحاظ سے غلط جگہ پر کھڑے ہوتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں یہ تین گروہ متعین طور پر مل جاتے ہیں۔ انعام یافتہ لوگ پیغمبر ان پر ایمان لانے والے صحابی ہیں۔ مغضوب لوگ کفار مکہ کے ہلاک کردیے جانے والے گروہ اور مدنی دور میں جلاوطن کیے جانے والے یہود ہیں۔ جبکہ ضالین یعنی گمراہ لوگوں میں منافقین،بدو، کمزور ایمان والے لوگ اور ایمان نہ لانے عیسائی شامل ہیں۔
چنانچہ جن لوگوں پر انعام ہوا اس کی پہلی کیس اسٹڈی پیغمبر اور جن پر غضب ہو ا ان کی مثال پیغمبر کے منکرین ہوتے ہیں۔ یہ کیس اسٹڈیز مذہبی کتب، لٹریچر اورتاریخ میں جگہ جگہ مل جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ہمارے ارد گر کے لوگوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔آدم، نوح، ابراہیم ، ھود ، موسی ، داؤد، سلیمان، عیسی وغیرہم انعام یافتہ لوگوں کی مثالیں ہیں۔ ابلیس، نمرود، شداد، فرعون، ہامان، قارون ، ابوجہل، ابولہب وغیرہم مضضوب لوگوں کے کیسز ہیں۔
یہ انعام یافتہ لوگ دینی و دنیاوی دونوں زندگی میں رول ماڈل کے طور پر موجود ہوتے ہیں۔ ان کو دیکھ کر کوئی بھی شخص نہ صرف خدا کی صفت رحمانیت کو جان لیتا بلکہ اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھ لیتا ہے۔ خدا کی رحمانیت کو جان کر اسباب و علل کی بنیاد پر مادی ترقی کرنے کے رول ماڈل سیاسی اسلامی غلبہ کا پہلا دور تھا جس میں خلفائے راشدین نے اسی نظام کو استعمال کرکے اس کی برکات حاصل کیں۔ بعد میں ان مادی قوانین سے مسلمان جوں جوں دور ہوتے گئے تو یہ کامیابی یورپ، امریکہ اور چین کے حصے میں آنے لگی ہے۔
سورہ فاتحہ کا خلاصہ
سورہ فاتحہ کامیابی کا تالہ کھولنے والی چابی ہے۔یہ دنیاوی کامیابی اور دینی کامیابی کا بنیادی فلسفہ بیان کرتی ہے۔ سورہ فاتحہ کی چھ آیات دراصل ترازو کے دو پلڑوں میں رکھی ہوئی ہیں۔ ایک پلڑے میں ابتدائی تین آیات ہیں جن کا تعلق علم سے ہے اور آخری تین آیات دوسرے پلڑے میں ہیں جن کا تعلق عمل سے ہے۔ ابتدائی تین آیات میں انسان کو خدا کی ابتدائی پہچان اور اس کے جزا و سزا کے نظام سے آگاہی دی گئی ہے۔ آخری تین آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح انسان اس علم پر عمل کرکے خدا کی خوشنودی حاصل کرسکتا، سیدھا راستہ جان سکتا اور انعام یافتہ لوگوں میں شامل ہوکر سزا یافتہ لوگوں سے دور ہوسکتا ہے۔
اللھم اھدنا الصراط المستقیم۔ آمین

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s