دوسرے مسلک کے عالم سے رجوع کرنا


سوال : کسی دوسرے عالم دین سے رجوع کرنے کی صورت میں تو خواہش پرستی جنم لے گی؟
جواب: یہ ایک اشکال ہے کہ اگر ایک شخص کو مسلک اور عالم تبدیل کرنے کی اجازت دے دی جائے تو کیا خواہش پرستی جنم نہیں لے گی۔ یعنی ایک شخص نے اگر اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے دیں تو حنفی مسلک کے تحت طلاق واقع ہوگئی۔ لیکن وہ حنفی مسلک کے عالم سے مطمئین نہیں ہوتا کیونکہ اس کا مسئلہ حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا تو وہ اہل حدیث کے پاس جاتا ہے جہاں اسے بتادیا جاتا ہے کہ یہ تین طلاقیں ایک ہیں اور وہ اپنی بیوی سے تعلق قائم کرسکتا ہے۔
ا س کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ خواہش پرست ہوتے ہیں وہ تو عام طور پر ویسے بھی دین کی حددود قیود کا خیال نہیں رکھتے۔لہٰذا اس بنیاد پر تقلید جامد کو فروغ دینا مناسب نہیں۔نیز اگر کسی نے خواہش کی بنیاد پر کسی مسئلے کو ماننے یا رد کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو وہ تو اس پابندی کو بھی نہیں مانے گا کہ کسی دوسرے مسلک کے عالم سے پوچھنا جائز نہیں ہے،
اس کے علاوہ ایسے مسائل بہت کم ہوتے ہیں جس میں انسان خواہش کی بنا پر کوئی فیصلہ کرتا ہے۔ اکثر مسائل میں ایک صالح مسلمان کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی بتائی ہوئی بات تک پہنچ جائے۔ بہرحال کسی کو خواہش پرستی سے روکنے کے لیے سب کو اندھی تقلید پر مجبور کرنا مناسب نہیں۔
پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s