فہم القرآن۔ سیشن 12 البقرہ: آیات 127 تا 141


1۔ حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہماالسلام ایک نئے گھر کی تعمیر کیوں کررہے تھے اور اس کے کیا مقاصد تھے؟
انسان کی ایک کمزوری کہہ لیں یا نفسیات ہے کہ وہ مجرد یعنی (Abstract ) چیزوں کا تصور کرنے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔ شیطان بالعموم اس

کمزوری سے فائدہ اٹھا کر انسان کو شرک کی جانب لے جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم میں سے کیس نے خد اکو نہیں دیکھا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دیکھنا کا شوق سب رکھتے ہیں۔ یہ بات شوق سے بڑھ کر آگے اس وقت چلی جاتی ہے جب ہم ایک ایسے خدا کی عبادت کریں جو نہ نگاہوں کے سامنے ہو، نہ اس کا کوئی مجسمہ ہو ، نہ کوئی تصویر ، نہ شبیہہ نہ کچھ اور۔ چنانچہ ماضی میں انسانوں نے خدا کو مجسم بنانے کی کوشش کی اور یوں وہ دیوی دیوتا وجود میں آگئے جنہیں

آج ہم بتوں کی شکل میں دیکھتے ہیں۔
اللہ نے جب انسانوں کو ایک بن دیکھے خدا کی پرستش کا حکم دیا تو ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ خدا کی عبادت بن دیکھے کیسے کریں۔ انسان نہ صرف خدا کو دیکھنا چاہتا تھا بلکہ اس کے قدموں میں سر رکھنا، اس سے بات کرنا، اس کو چھونا، اس کا دست شفقت اپنے سر پر محسوس کرنا چاہتا تھا ۔ ایسا ہوجاتا تو امتحان کس بات کا ہوتا۔
انسان کی اسی نفسیات کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ نے بنی اسرائل کو تابوت سکینہ اور بعد میں بیت المقدس کی شکل میں ایک مجسم فراہم کیا جسے خدا کا گھر سمجھ کر اس کی جانب رخ کیا جاتا اور اس کا تصور کیا جاتا تھا۔ یہی معاملہ کعبہ کے ساتھ ہوا۔ اس صورت میں مسلمانوں کو خدا تو نہیں البتہ خدا کے گھر کا علامتی ڈھانچہ دے دیا گیا۔ چنانچہ بیت اللہ کی تجسیم سے مسلمان اپنی نفسیات کی تسکین پاتے ہیں اور خود کو شیطان کی دراندازی سے محفوظ رکھتے ہیں۔ بیت اللہ کو دیکھنا، اسے چھونا، لپٹنا، چمٹنا، بوسے دینا، اس کی چوکھٹ کو پکڑ لینا، اس کے گرد دیوانہ وار چکر لگانا اور اس کے آگے اپنا ماتھا ٹک دینا دراصل یہ اللہ اور بندے کے درمیان تعلق کا علامتی اظہار ہے۔ یہی اس کا بنیادی مقصد تھا اور یہی اس کا آج بھی مقصد ہے۔
اس کا ایک اور مقصد امت مسلمہ میں اجتماعیت کا شعور پیدا کرنا اور ایک جانب رخ کرکے اللہ کی عبادت کرنا ہے۔
۲۔ آیت ۱۳۱میں ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں یہ لکھا ہے:
اس کا حال یہ تھا کہ جب اس کے رب نے اس سے کہا: "مسلم ہو جا”، تو اس نے فوراً کہا: "میں مالک کائنات کا "مسلم” ہو گیا
تو کیا ابراہیم علیہ السلام پہلے سے مسلم نہیں تھے؟
مسلم کے دو معنی ہیں۔ ایک لغوی اور ایک اصطلاحی۔ لغوی معنوں میں مسلم سے مراد فرماں بردار کے ہیں اور ان معنوں تمام ستارے، چاند، سورج، آسمان ، زمین، سیارے ، جانور، کیڑے اللہ کے مسلم یعنی فرماں بردار ہیں۔ ان معنوں میں مسلم ہونے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں نہ تو شامل ہونے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کلمہ پڑھنے کی حاجت۔ چنانچہ ان معنوں میں اگر ایک غیر مسلم بھی خدا کا فرماں بردار ہے تو وہ مسلم یعنی فرماں بردار ہے۔ یعنی وہ اس تمام علم کا فرماں بردار ہے جو اسے ملا تو وہ مسلم ہی ہے۔ ہاں اگر اسے اسلام کی دعوت مل گئی اور جانتے بوجھتے انکار کیا تو اب وہ اس فرماں برداری سے نکل گیا۔یعنی اسلام کی دعوت سمجھ لینے کے بعد اب اس کے لیے کلمہ کا اقرار لازم ہے۔
اسی طرح وہ لوگ جو مسلمانوں کی امت میں ہیں اور کلمہ گو ہیں لیکن خدا کی نافرمانی یا انکار حق کو شیوہ بنائے ہوئے ہیں اور بحیثیت مجموعی وہ فرماںبرداری کی بجائے نافرمانی کی جانب زیادہ راغب ہیں۔ تو وہ ان معنوں میں مسلم نہیں یعنی وہ چونکہ فرماں بردار نہیں اس لیے مسلم نہیں۔ البتہ اس کا حقیقی علم خدا ہی کو ہے ۔ اور اس کا فیصلہ روز آخرت میں ہی ہوگا۔
دوسری جانب مسلم کے اصطلاحی معنی ہیں یعنی وہ لوگ جو کلمہ پڑھ کر امت مسلمہ میں شامل ہوگئے۔ یہاں مسلم سے مراد ہر وہ شخص ہے جو قانونی طریقے سے اسلام کو مانتا اور تسلیم کرتا ہے۔ یہاں مسلم ایک گروہ کے طور پر استعمال ہوا ہے۔
مثال کے طور پر ایک شخص دشمن ملک جاسوس ہے اور وہ پاکستان آکر مقیم ہوجاتا اور کچھ عرصے بعد پاکستانی شہریت لے لیتا ہے۔ قانونی طور پر تو وہ پاکستانی ہے لیکن حقیقت میں وہ دشمن ملک جاسوس۔ وہ اس وقت تک تو پاکستان کی ریاست سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتا رہے گا جب تک کہ اس کی اصلیت کا پتا نہیں چلے گا۔ لیکن جونہی اس کا راز کھلے گا ، وہ ریاست پاکستان کی پکڑ کا شکار ہوجائے گا اس کے باوجود کہ اس کے شناختی کارڈ پر پاکستانی لکھا ہے۔
یہی معاملہ ان لوگوں کا ہے جو گروہی طور پر پ تو مسلمانوں میں شامل ہیں اندر سے خدا کے غدار اور مجرم اور باغی۔ ایسے لوگوں کی حقیقت جب سب کے سامنے آخرت میں کھلے گی تو ان کا وہی حشر ہوگا جو دشمن ملک جاسوس کا ہوا۔ چنانچہ قرآن و حدیث میں جو جنت کے وعدے ہیں وہ حقیقی مسلم کے لیے ہیں گروہی مسلم کے لیے نہیں۔
اس آیت میں ابراہیم علیہ السلام کے مسلم ہونے کا مطلب یہی حقیقی اور لغوی معنی میں ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام سے کہا گیا کہ فرماں بردار بن جا تو وہ فرماں بردار یعنی مسلم بن گئے۔ تو کیا اس سے پہلے وہ نافرمان تھے؟ نہیں ، دراصل ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کی بندگی اور اطاعت گذاری کا زبان سے اقرار کیا تو اللہ نے اس دعوے کو کڑی آزمائشوں سے آزمایا۔
چنانچہ جب انہوں نے خدا کے حکم سے بتوں کو توڑ دیا تو ان کے لیے آگ کا الاؤ تیار کیا گیا جسے کئی روز تک دہکایا گیا۔ ابراہیم علیہ السلام اس وقت قید میں تھے۔ تصور کریں ، ایک شخص کو آگ میں ڈالا جانے لگا ہے، وہ قید میں ہے، اس کے سامنے جو خدا ہے وہ نظر نہیں آرہا ۔ کیا تصویر ہوگی اس تکلیف کی جو آگ میں ڈالے جانے سے کئی روز تج حضرت ابراہیم نے محسوس کی۔ اگر وہ اس وقت بادشاہ سے معافی مانگ لیتے اور شرک کو قبول کرلیتے تو غالبا انہیں چھوڑ دیا جاتا۔ ابراہیم علیہ السلام کو یہ بھی خبر نہ تھی کہ آگ گلزار بن جائے گی۔ اب جب انہیں آگ میں پھینک ہی دیا گیا تو اپنی دانست میں تو ابراہیم خدا کے لیے آگ میں کود ہی گئے۔ وہ تو بعد میں اللہ نے انہیں بچالیا۔ یہ مسلم یعنی فرماں بردار ہونے کے قولی اقرار کا پہلا ٹیسٹ تھا۔
یہ ٹیسٹ ختم نہ ہوا اور آپ کو اپنے باپ ، گھر اور آبائی وطن کو چھوڑ کر خدا کے لیے ہجرت کرنا پڑی جو مسلم ہونے کا دوسرا عملی ثبوت تھا۔ اس کے بعد آپ کو بیٹے کو قربان کرنے کا خواب نظر آیا اور آپ نے اپنی دانست میں تو اسے قربان کر ہی ڈالا۔ یہ تیسرا عملی ثبوت تھا مسلم ہونے کا۔ اس کے بعد پھر اپنی بیوی حاجرہ اور پہلوٹھے بیٹے ااسماعیل کو خدا کے حکم سے ایک ریگستان میں بسانے کا حکم ملا جسے حضرت ابراہیم نے بلا چون و چراں مان لیا۔ یہ وہ آزمائشیں تھیں جن کے ذریعے خدا نے کہا کہ مسلم ہوجا تو ابراہیم علیہ السلام نے اپنے عمل سے فورا کہا کہ میں مسلم ہوگیا۔ اس آیت میں ان تمام آزمائشوں کو سمیٹ کر ایک جملے میں بیان کردیا گیا اور ابرہیم علیہ السلام نے مسلم ہونے کا ثبوت بھی دے دیا۔

۳۔ آیت 129 میں ” اَلْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ” میں کتاب اور حکمت سے کیا مراد ہے؟
اس پر دو آرا موجود ہیں۔ ایک یہ کہ کتاب سے مراد قرآن اور حکمت سے مراد حدیث۔ دوسری یہ کہ کتاب سے میراد قانون اور حکمت سے مراد اس شریعت کا فلسفہ ۔ لغوی اعتبار سے دیکھیں تو کتاب کا مفہوم قانون ہوتا ہے اور حکمت کا مفہوم دانائی یا وزڈم۔ اس اعتبار سے دونوں آرا کو دیکھیں تو کتاب سے مراد اگر ہم صرف قرآن لیں تو قرآن میں تو قانون کے علاوہ حکمت میں بھی بیان ہوئی ہے ۔ اسی طرح اگر حکمت سے مراد حدیث لیاجائے تو حدیث میں تو قانون بھی بیان ہوا ہے۔ چنانچہ لغوی اعتبار سے پہلی تعریف قابل اعتبار نہیں رہتی۔
دوسری طرح اگر ہم کتاب و حکمت کی تعلیم دینے سے مراد صرف قرآن کو لے لیں تو اس آیت کے ایک حصے کا مفہوم واضح نہیں ہوتا۔ یعنی پہلا کام یہ کہ آیات تلاوت کرنا۔ ظاہر ہے اگر کتا ب وحکمت کی تعلیم دینے سے مراد صرف قرآن کی تعلیم دینا ہوتا تو وہ تو کسی حد تک آیات تلاوت کرنے سے پورا ہوجاتا ۔ لیکن یہاں آیات تلاوت کرنے سے بعد یہ بھی بیان ہوا کہ نبی کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ تو یہاں کتاب و حکمت کی تعلیم دینے سے مراد صرف قرآن نہیں لیا جاسکتا۔
تو ان دونوں آراء کی تطبیق کے لیے آیت کو مکمل طور پر دیکھنا ہوگا۔ آیت کا ترجمہ یہ ہے:
اور اے رب، ان لوگوں میں خود انہیں کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھا ، جو انہیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ ( شخصیت کی تعمیر) کرے، تو بڑا زبردست اور حکیم ہے۔
اس آیت کا اصل مقصد تزکیہ نفس یعنی تعمیر شخصیت کو بیان کرنا ہے۔ رسول کی بعثت کا اصل مقصد تزکیہ نفس ہے یعنی ایسی شخصیت کی تعمیر جو آلائشوں سے پاک ہو اور اچھی خصوصیات سے متصف ہو اور اس دنیا میں ایک اچھے اور آخرت میں ایک آئیڈیل معاشرے کی بنیاد بن سکے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پیغمبر کی بعثت کا اصل مقصد تعمیر شخصیت یا تزکیہ نفس ہے۔ اسی کے لیے پیغمبر وحی کی آیات تلاوت کرتا، اسی کے لیے وہ قانون بیان کرتا اور اسی کے لیے اس فلسفہ و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ چنانچہ یہاں کتاب سے مراد تعمیر شخصیت کا قانون ہے جس کے اصول قرآن میں موجود ہیں۔ اور حکمت سے مراد اسی تعمیر شخصیت کا فلسفہ ہے جو قرآن و سنت میں بیان ہوا ہے۔
۴۔ آیت ۱۲۹ پیغمبر کا ایک اہم کام نفس کا تزکیہ کرنا یعنی تعمیر شخصیت بیان ہوا ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام کس طرح انجام دیا؟
تزکیہ نفس کا بنیا ی مفہوم جیسا کہ اوپر پڑھا وہ تعمیر شخصیت ہے۔ یعنی ایک مسلم (مطیع )شخصیت کی تعمیر۔ ایک ایسی شخصیت جو برائیوں سے پاک ہو اور اچھائیوں سے آراستہ۔ یہ ربانی وجود دنیا میں اچھے معاشرے کے لیے ضروری ہے اور آخرت میں جنت کی شہریت کا امیدوار ہے۔ پیغمبر نے یہ کام دو طریقوں سے انجام دیا ایک تعلیم ،اور دوسری تربیت۔
آیت یہ ہے :
اور اے رب، ان لوگوں میں خود انہیں کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھا ، جو انہیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ ( شخصیت کی تعمیر) کرے، تو بڑا زبردست اور حکیم ہے۔
اس آیت میں آیات کی تلاوت کرنا درحقیقت علم کو منتقل کرنے کا ابتدائی مرحلہ ہے۔ یعنی جب ہم کسی بچے کو پڑھاتے ہیں تو سب سے پہلے بک ریڈنگ کرتے ہیں تاکہ وہ سن کر اسی طرح پڑھنے اور سمجھنے لگ جائے جیسے ہم نے پڑھایا۔ لیکن جب بک ریڈنگ ہوگی تو کچھ سوالات پیدا ہونگے کہ اس کتاب کا مرکزی خیال کیا ہے، اس کتاب میں کس بات کی تعلیم دی جارہی ہے اور اس کی کیا حکمت ہے اور کیا مقصد ہے۔ چنانچہ اگلے درجوں میں ٹیچر ان سب باتوں کی وضاحت کرتا ہے۔ اور جب بچہ اس کتاب کو سمجھ جاتا ہے تو پھر اس پر عمل کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
اس کی مثال یوں لے لیں جیسے کسی طالب علم کو تعارف کاروبار کی کتاب پڑھائی جارہی ہے۔ اس کتاب میں سب سے پہلے اس کا متن پڑھا جائے گا جسے ہم تلاوت آیات سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ تلاوت کا بنیادی مقصد چند اصولوں کو ازبر کرانا ہوتا ہے۔ پھر متن کا تلفظ، اس کے لغوی معنی ، اصطلاحی معنی بتائے جائیں گے جسے ہم تعلیم کتاب کہہ سکتے ہیں اور اس کے بعد اس متن میں بیان کردہ قانون کی علت یا فلسفہ بیان کیا جائے گا جسے ہم حکمت کی تعلیم کہہ سکتے ہیں۔
جیسے ایک لائن یوں ہے:
"کاروبار میں دو چیزیں استعمال ہوتی ہیں ایک سرمایہ(Capital ) اور دوسری محنت(Labor)۔ کاروبار دو طرح کا ہوتا ہے ایک مینوفیکچرنگ اور دوسرا ٹریڈنگ”
استاد صرف یہ جملہ پڑھ کر سنائے گا ۔ اس پڑھنے کو ہم تلاوت آیات کہہ سکتے ہیں۔
اگلے مرحلے میں وہ سرمایہ اور محنت کو مثالوں سے واضح بھی کرے گا تاکہ مخاطب کے بات سمجھ میں آجائے۔ وہ قانون بتائے گا کہ سرمائے کے بغیر کیا کاروبار ممکن ہے یا نہیں تو علم ہوگا کہ سرمایہ اور محنت کاروبار کرنے کے لیے لازمی (واجب ) ہیں۔ اسے کتاب یا قانون کی تعلیم کہہ سکتے ہیں۔ پھر وہ مثالوں سے سمجھائے گا کہ سرمایہ و محنت کاروبار کے لیے کیوں ضروری ہیں ۔ ۔یہ حکمت کی تعلیم کا بیان ہے۔
اگلے مرحلے میں وہ شاگرد کو عملی زندگی میں لے جائے گا جہاں اسے سرمایہ اور کاروبار کرنے کی تربیت دی جائے گی، ان رموز و اسرار کو اپلائی کرکے بتایا جائے گا جن کو پڑھایا گیا۔ اسے ہم تزکیہ نفس، تعمیر شخصیت یا تربیت کہتے ہیں۔ دیکھا جائے تو تلاوت ، کتاب کی تعلیم اور حکمت کی تعلیم دینے کا بنیادی مقصد یہی تربیت و تزکیہ ہے تاکہ ایک شخص عملی زندگی میں اصولوں کو یاد رکھ سکے ، ان کا قانون اور فلسفہ سمجھ کر ان کا اطلاق عملی زندگی میں کرسکے۔
تو پیغمبر نے تعلیم و تربیت کے ذریعے تزکیہ نفس کا کام کیا۔ سب سے پہلے اللہ کی نازل کردہ آیات کی تلاوت کی جاتی تھی جو ہر نماز میں دہرائی جاتیں تاکہ مسلمانوں کو قرآن یاد ہوجائے۔ اس کے بعد اس کا قانون بتایا جاتا یعنی شریعت ۔ جس میں معیشت ، معاشرت ، عبادت، عقائد اور دیگر قوانین آجاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان قوانین کی حکمت بھی بتائی جاتی ہے کہ نماز کا کیا مقصد ہے روزہ کیوں فرض ہے، زکوٰۃ کا کیا فلسفہ ہے، حج کی کیا حکمت ہے، نکاح کیوں کیا جاتا ہے وغیرہ۔
یہ سب کام یعنی تلاوت آیات، کتاب کی تعلیم اور حکمت کے ابلاغ کو نبی کریم نے عملی زندگی میں اپنی شخصیت میں ڈھال کر دکھایا کہ ایک ربانی شخصیت سے کیا مراد ہے؟ اس کے بعد ان کا اطلاق وقتا فوقتا عملی مثال کے ذریعے لوگوں میں منتقل کیا۔ یہ تزکیہ کا کام آپ نے مکہ کی ۱۳ سالہ اور مدینہ کی دس سالہ دور میں زندگی کے مختلف دائروں میں کیا۔ یہاں تک کہ ایک ایسی امت وجود میں آگئی جس کے پاس دنیا و آخرت کی کامیابی آگئی۔

۵۔ آیت ۱۳۸ میں اللہ کا رنگ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ کے رنگوں سے کیا مراد ہے اور یہ کس طرح اختیار کیا جاسکتا ہے۔
اللہ کے رنگوں سے مراد اللہ کی ذات کے رنگ نہیں بلکہ ہدایت کا رنگ یعنی نور ہدایت ہے۔ اس آیت سے پہلے دیکھیں تو بات یہود و نصاری کی چل رہی ہے کہ انہوں نے ضد اور ہٹ دھرمی میں اسلام یعنی اللہ کی اطاعت سے انکار کردیا جبکہ اللہ کے صالح بندوں نے اس اطاعت کو قبول کرلیا۔ یہاں اللہ کے رنگوں کو اختیار کرنے سے مراد اللہ کا مطیع و فرمانبردار ہونا ہے۔ یعنی جب اللہ کی فرماں برداری اختیار کرلی جاتی ہے انسان کی شخصیت اندھیروں سے نکل کر نور میں آجاتی ہے۔ یہی نور اللہ کا رنگ ہے۔ یہ وہی یزدانی نور ہے جس کا ذکر سور بقرہ میں موجود ہے:
اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۙيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ڛ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَوْلِيٰۗــــــُٔــھُمُ الطَّاغُوْتُ ۙ يُخْرِجُوْنَـھُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ٢٥٧؁ۧ
جو لوگ ایمان لاتے ہیں، ان کا حامی و مددگار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے ۔ اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں، ان کےحامی و مددگار طاغوت ہیں اور وہ انھیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں ۔ یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں، جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے۔
اسی نور کا متعدد جگہوں پر ذکر ہے یعنی یہ وہ نور ہے جو مسلم یعنی فرماں برداروں کو ملتا ہے جبکہ طاغوت کے ماننے والے اس نور سے نکل اندھیروں میں آجاتے ہیں۔ چنانچہ یہود کو ً بھی یہی کہا جارہا ہے کہ اصل رنگ ظاہری نہیں بلکہ باطنی ہے ۔

۶۔ آیت ۱۴۰ کی روشنی میں اختلاف رائے اور فرقہ بندی میں فرق واضح کریں۔
اختلاف رائے فرقہ بندی
دلیل کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ تعصب یا ہٹ دھرمی کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔
نہ ماننے پر مخالف کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے۔ نہ ماننے پر مخالف کے ساتھ تشدد سے نبٹا جاسکتا ہے۔
مخالف سے نفرت نہیں ہوتی۔ مخالف سے نفرت ہوتی ہے۔
مخالف کو دعوت دلائل کے ذریعے دی جاتی ہے جب دلائل نہ ملیں تو شور شرابہ، دھونس اور تشدد اختیار کیا جاتا ہے۔

۶۔ آیت ۱۳۵ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے یہود و نصاری کو مخاطب کرکے فرمایا کہ سب کو چھوڑ کر ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ اختیار کرو۔ یہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو اپنانے کا حکم کیوں نہیں دیا گیا؟
دراصل یہود و نصاری کا اصل اعتراض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا اور وہ ان کو ایک متنازعہ شخصیت کے طور پر پیش کررہے تھے۔ ان کا اصل اعتراض ہی اس با ت پر تھا کہ یہ نبی نعوذباللہ نبی نہیں یا یہ جو تعلیمات پیش کررہے ہیں وہ دین ابراہیمی کی نہیں۔ تو اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دینا لایعنی ہوتا۔ چنانچہ پہلے ابراہیم علیہ السلام کی اصل تعلیمات کو واضح کردیا اور پھر کہا کہ تم ابراہیم کی پیروی کرو اور اگر اس کی پیروی کروگے تو وہیں پہنچ جاؤ گے جہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم بلارہے ہیں۔
۷۔ آیت 140 میں کون سی گواہی اور کس کی جانب سے چھپانے کی بات ہے؟ اور آج کے دور میں یہ گواہی چھپانے والے کون لوگ ہیں؟
گواہی چھپانے والوں سے مراد بنی اسرائل ہیں اور آج کے دور میں ان سے مراد مسلمانوں کے وہ علما ہیں جو اپنے فرقہ یا مسلک کی حمایت میں حقیقی قرآن وسنت کی تعلیم کو چھپاتے یا انہیں توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔

وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖإِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿١٢٧﴾ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴿١٢٨﴾ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿١٢٩﴾ وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُ ۚ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ﴿١٣٠﴾ إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ ۖ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٣١﴾وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ ﴿١٣٢﴾ أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَـٰهَكَ وَإِلَـٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَـٰهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ﴿١٣٣﴾ تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴿١٣٤﴾ وَقَالُوا كُونُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ تَهْتَدُوا ۗ قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖوَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿١٣٥﴾ قُولُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ﴿١٣٦﴾ فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّـهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿١٣٧﴾ صِبْغَةَ اللَّـهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ صِبْغَةً ۖ وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ ﴿١٣٨﴾ قُلْ أَتُحَاجُّونَنَا فِي اللَّـهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ﴿١٣٩﴾ أَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطَ كَانُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ قُلْ أَأَنتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللَّـهُ ۗ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَتَمَ شَهَادَةً عِندَهُ مِنَ اللَّـهِ ۗ وَمَا اللَّـهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ﴿١٤٠﴾ تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿١٤١﴾

ترجمہ:
اور یاد کرو ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ جب اس گھر کی دیواریں اٹھا رہے تھے، تو دعا کرتے جاتے تھے: "اے ہمارے رب، ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے، تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے (127)اے رب، ہم دونوں کو اپنا مسلم (مُطیع فرمان) بنا، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا، جو تیری مسلم ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا، اور ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے (128) اور اے رب، ان لوگوں میں خود انہیں کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھا ئیو، جو انہیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے” (129) اب کون ہے، جو ابراہیمؑ کے طریقے سے نفرت کرے؟ جس نے خود اپنے آپ کو حماقت و جہالت میں مبتلا کر لیا ہو، اس کے سو ا کون یہ حرکت کرسکتا ہے؟ ابراہیمؑ تو وہ شخص ہے، جس کو ہم نے دنیا میں اپنے کام کے لیے چُن لیا تھا اور آخرت میں اس کا شمار صالحین میں ہوگا (130)اس کا حال یہ تھا کہ جب اس کے رب نے اس سے کہا: "مسلم ہو جا”، تو اس نے فوراً کہا: "میں مالک کائنات کا "مسلم” ہو گیا”(131) اسی طریقے پر چلنے کی ہدایت اس نے اپنی اولاد کو کی تھی اور اسی کی وصیت یعقوبؑ اپنی اولاد کو کر گیا اس نے کہا تھا کہ: "میرے بچو! اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند کیا ہے لہٰذا مرتے دم تک مسلم ہی رہنا” (132) پھر کیا تم اس وقت موجود تھے، جب یعقوبؑ اس دنیا سے رخصت ہو رہا تھا؟اس نے مرتے وقت اپنے بچوں سے پوچھا: "بچو! میرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے؟” ان سب نے جواب دیا: "ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے جسے آپ نے اور آپ کے بزرگوں ابراہیمؑ، اسماعیلؑ اور اسحاقؑ نے خدا مانا ہے اور ہم اُسی کے مسلم ہیں” (133) وہ کچھ لوگ تھے، جو گزر گئے جو کچھ انہوں نے کمایا، وہ اُن کے لیے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے، وہ تمہارے لیے ہے تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے (134) یہودی کہتے ہیں: یہودی ہو تو راہ راست پاؤ گے عیسائی کہتے ہیں: عیسائی ہو، تو ہدایت ملے گی اِن سے کہو: "نہیں، بلکہ سب کو چھوڑ کر ابراہیمؑ کا طریقہ اور ابراہیمؑ مشر کو ں میں سے نہ تھا”(135) مسلمانو! کہو کہ: "ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور اولاد یعقوبؑ کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰؑ اور عیسیٰؑ اور دوسرے تمام پیغمبروں کو اُن کے رب کی طرف سے دی گئی تھی ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں” (136) پھر اگر وہ اُسی طرح ایمان لائیں، جس طرح تم لائے ہو، تو ہدایت پر ہیں، اور اگراس سے منہ پھیریں، تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑ گئے ہیں لہٰذا اطمینان رکھو کہ اُن کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لیے کافی ہے وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے (137) کہو: "اللہ کا رنگ اختیار کرو اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا؟ اور ہم اُسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں”(138) اے نبیؐ! اِن سے کہو: "کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو؟حالانکہ وہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں، تمہارے اعمال تمہارے لیے، اور ہم اللہ ہی کے لیے اپنی بندگی کو خالص کر چکے ہیں (139) یا پھر کیا تما را کہنا یہ ہے کہ ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور اولاد یعقوبؑ سب کے سب یہودی تھے یا نصرانی تھے؟ کہو: "تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟ اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جس کے ذمے اللہ کی طرف سے ایک گواہی ہو اور وہ اُسے چھپائے؟ تمہاری حرکات سے اللہ غافل تو نہیں ہے (140) وہ کچھ لوگ تھے، جو گزر چکے اُن کی کمائی اُن کے لیے تھی اور تمہاری کمائی تمہارے لیے تم سے اُن کے اعمال کے متعلق سوال نہیں ہوگا” (141)

Advertisements

One response to this post.

  1. […] Source: فہم القرآن۔ سیشن 12 البقرہ: آیات 127 تا 141 […]

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s