اللہ کو صفاتی نام (اسم اعظم )کے ذریعے کس طرح پکارا جائے ؟


مضمون نمبر ۴: اللہ کو صفاتی نام (اسم اعظم )کے ذریعے کس طرح پکارا جائے ؟
ڈاکٹر محمد عقیل
اللہ نے خود قرآن میں فرمایا ہے کہ اللہ کو اسمائے حسنی کے ذریعے پکارو، سارے اچھے نام اسی کے ہیں۔
"اور سب اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو اسے انہیں ناموں سے پکارو اور چھوڑ دو ان کو جو اللہ کے ناموں میں کجروی اختیار کرتے ہیں وہ اپنے کیے کی سزا پا کر رہیں گے” (سورہ الاعراف ۱۸۰:۷)

ایک اور مقام پر آتا ہے:
ان سے کہدو، اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو اس کے لیے سب اچھے نام ہیں۔ (بنی اسرائل ۱۱۰:۱۷)
چنانچہ قرآن میں خود یہ بیان ہوتا ہے کہ اللہ کو اچھے ناموں سے پکارو۔ ظاہر ہے کہ یہ نام ایک سے زائد ہیں ۔ اس بات پر تمام علماء کا اتفا ق ہے کہ ان ناموں سے مراد اللہ کے صفاتی نام یا اللہ کی صفات ہی ہیں ۔
ایک اور جگہ پر سورہ بنی اسرائل میں بیان ہوتا ہے:
آپ ان سے کہئے کہ: اللہ (کہہ کر) پکارو یا رحمن (کہہ کر) جو نام بھی تم پکارو گے اس کے سب نام ہی اچھے ہیں ۔ اور آپ اپنی نماز نہ زیادہ بلند آواز سے پڑھئے نہ بالکل پست آواز سے بلکہ ان کے درمیان اوسط درجہ کا لہجہ اختیار کیجئے۔(آیت ۱۱۰)
اس سے علم ہوتا ہے کہ اللہ کو مختلف ناموں یعنی صفات سے پکارا جانے کا حکم خود قرآن میں موجود ہے۔ اس حکم کو پیغمبروں نے من و عن مانا اور اپنی دعاؤں میں دعا کی نسبت سے اللہ کی مخصوص صفت کا خیال رکھا۔ جیسے :
• حضرت ابراہیم کی دعا:
اے ہمارے پروردگار! ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا لے اور ہماری اولاد میں سے ایک جماعت پیدا کر جو تیری فرمانبردار ہو ۔ اور ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتلا اور ہماری توبہ قبول فرما۔ بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے(اانک انت التواب الرحیم)۔(البقرہ ۱۲۸)
اے ہمارے پروردگار! ان میں ایک رسول مبعوث فرما جو انہی میں سے ہو، وہ ان کے سامنے تیری آیات کی تلاوت کرے، انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاکیزہ بنا دے۔ بلاشبہ تو غالب اور حکمت والا ہے(اانک انت العزیز الحکیم)۔” (البقرہ ۱۲۹)
دیگر دعاؤں میں بھی یہی بات نمایاں ہے کہ بزرگ ہستیوں نے اللہ سے مدد مانگتے وقت اللہ کو کسی نہ کسی مخصوص صفت کے ذریعے پکارا۔ جیسا کہ نیچے کی ٔپیش کردہ دعاؤں سے علم ہوتا ہے۔
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ Ď۝
اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّىْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِيْ بَطْنِىْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّىْ ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ 35؀
اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ١١٨؁
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ 35؀
رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ Ĉ۝
ان چند آیات کو دیکھیں تو دعا مانگتے وقت ان پیغمبروں اور دیگر برگزیدہ ہستیوں نےاس بات کا پورا خیال رکھا کہ دعا کی مناسبت سے اللہ کی اس صفت کو پکارا جائے یا مینشن کیا جائے۔ اگر ہم ان صفات کا درست شعور پیدا کرلیں تو ان کے ذریعے اللہ کیاان بنیادی صفات کا نہ صرف شعور حاصل کرسکتے بلکہ اللہ کو پکارنے ، اس سے مانگنے اور اس سے گڑگڑانے کا طریقہ بھی سیکھ سکتے ہیں۔اللہ کو اس کے صفاتی نام سے مخاطب کرنا دراصل اسم اعظم یعنی وہ بڑا نام یا صفت ہے جو اس موقع کی مناسبت سے لازمی ہوتی ہے۔
اللہ کو مختلف صفات یا اسم اعظم سے پکارنے کی حکمت
اللہ کو مختلف صفات اور ناموں سے پکارنے کے دو مقاصد ہوتے ہیں۔ ایک مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ ہم خود کو نفسیاتی طور پر خدا کی اس صفت کے زیادہ قریب محسوس کرتے ہیں جو اس کام کے لیے ہم ضروری سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب خدا بھی اسی مناسبت سے ہماری جانب رجوع کرتے ہیں جس بنا پر ہم نے انہیں پکارا ہوتا ہے۔ یعنی اللہ کے مختلف نام یا صفات دراصل اللہ سے رجوع کرنے کے مختلف چینلز یا راستے ہیں۔ یہ چینلز دراصل اپنی جگہ ایک مکمل سسٹم یا نظام ہوتا ہے جو اس صفت کے تحت چل رہا ہوتا ہے۔ جب ہم کسی مخصوص صفت کے ذریعے اللہ کو پکارتے ہیں تو دراصل ہم اس نظام کو متحرک کررہے ہوتے ہیں۔
ہم جب بیمار ہوتے ہیں تو ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور مکان بنوانا ہو تو انجنئیر کو بلاتے ہیں۔ اسی طرح جب ہمیں خدا کے رحم کی ضرورت ہوتی ہے تو ہم خدا کی رحمت کے نظام کو متحرک کرتے ہیں، اگر ہمیں رزق کی ضرورت ہوتی ہے تو نظام ربوبیت کو تحریک دیتے ہیں وغیرہ۔چنانچہ ہم اپنی ضرورت کے تحت کسی مخصوص راستے کا انتخاب کرکے اپنی دعا یا درخواست اللہ کے حضور پیش کردیتے ہیں اور اسی کے ساتھ مخصوص عمل بھی کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر کسی کو بہت زیادہ ظلم و ستم کا سامنا ہے لیکن وہ کمزوری کی بنا پر اس ظلم کا مقابلہ نہیں کرپارہا۔ چنانچہ و اللہ کو اس کے نام القدیر، القادر ، یا المک کے ذریعے پکارتا ہے کہ کہ اے قدیر (قدرت والے) اس ظالم کے مقابلے میں میری مدد کر۔اس مخصوص نام کے ذریعے پکارنے کی بنا پر اسے ایک تو نفسیاتی سہارا ملتا ہے جس کی بنا پر وہ اللہ کی قدرت کو اپنی پشت پر محسوس کرتا ہے۔
لیکن یہ معاملہ صرف نفیسات کی حد تک محدود نہیں رہتا اور اللہ کی صفت قدرت کا اس کے کیس میں اظہار بھی ہوتا ہے۔ اور اللہ کی مشیت کے تحت طاقت و قدرت کا صفاتی نظام یا محکمہ حرکت میں آتا ہے اور ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد کی جاتی ہے۔یہ مدد ظاہر ہے اسباب کے پردوں میں پوشیدہ ہوتی ہے اس لیے بادی النطر میں محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن یہی وہ قدرت ہوتی ہے جو بڑے بڑے جابر بادشاہوں اور سربراہوں کو ہلاک کردیتی ہے۔
یہاں کوئی یہ اعتراض کرسکتا ہے کہ خدا تو ایک ہی ہے لیکن ہم کیوں اسے مختلف ناموں سے پکاررہے ہیں۔ اس کا جواب ایک تو یہ ہے کہ قرآن نے خود اللہ کو مختلف ناموں سے پکارنے کی ہدایت دی ہے۔ اور اس ہدایت کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اللہ کا مخلوق کے ساتھ معاملہ صفات کے ذریعے طے ہوتا ہے اور ہر صفت اپنی جگہ اصول و ضوابط کا ایک نظام ہے۔
ہم جانتے ہیں پاسپورٹ کے لیے محکمہ داخلہ میں درخواست جمع کرائی جاتی اور ٹیکس کے لیے ایف بی آر سے رجوع کیا جاتا ہے۔ بظاہر دو الگ الگ محکمے ہیں لیکن دونوں حکومت پاکستان ہی کے ذیلی ادارے ہیں جس کے تحت حکومت اپنے شہریوں سے رابط کرتی ہے۔ اسی طرح اللہ کی صفات بھی الگ الگ محکمے ہیں۔ ہم اپنی ضرورت کے تحت ان محکموں سے رجو ع کرسکتے ہیں ۔ یہ محکمے متعدد ہونے کے باوجود ایک ہی خدا کی صفات ہیں جنہیں ہم نے اپنی تفہیم کے لیے محکموں کی صورت میں سمجھا ہے۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s